کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نامرد

الیاس ندوی رام پوری


آج اسکول کے لیے خوامخواہ تاخیر ہو گئی حالانکہ گھر پر کوئی ایسا اہم کام نہ تھا جو تاخیر کی جائز وجوہات میں شامل ہو سکتا تھا۔جب کبھی خوامخواہ تاخیر ہو جاتی ہے تو مجھے سخت جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے۔میں گاڑی سے اتر کر تیزی سے استقبالیہ کی طرف بڑھی، استقبالیہ میں کئی عورتیں جو اپنے بچوں کی اسکول فیس جمع کروا رہی تھیں اس طرح محو گفتگو تھیں اور جلدی جلدی اپنے منہ کی باتیں پوری کر رہی تھیں، گویا اگر یہ موقع گزر گیا تو جیسے سب کچھ گذر جائے گا اور جو کچھ باقی بچے گا وہ بجز کچھ نہیں کے اور کچھ نہ ہو گا۔۔ ۔۔۔۔۔موضوع گفتگو شاید مردوں کی ذات تھی۔

میری  آہٹ پا کر سب خاموش ہو گئیں اور رسپشنسٹ قلم ہاتھ میں لیے لئے صنوبر کی طرح سیدھی کھڑی ہو گئی۔ میں نے استقبالیہ کاؤنٹر کے عقب میں کھڑی نادیہ کے نصف بالائی حصہ پر اور دوسری جانب صوفے پر بیٹھی ہوئی عورتوں کے چہروں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور تیز تیز قدموں سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کچھ تو دیر ہو جانے کے باعث اور کچھ اس باعث کہ میری  آمد کی  آہٹ کے احساس نے استقبالیہ پر خاموشی طاری کر دی تھی، میں ٹھیک سے نہ کچھ سن پائی اور نہ کچھ دیکھ سکی، اتنی عجلت میں جو کچھ سننے اور دیکھنے کو مل سکا وہ بس کھی کھی۔۔۔کھی کھی کی دم توڑتی ہوئی ہلکی  آوازیں اور زیر لب مسکراہٹیں تھیں۔ بعد میں نادیہ نے میرے استفسار پر ساری تفصیل بتائی۔

’’ مردوں کو تو بس ایک ہی کام آتا ہے ‘‘

نادیہ کی زبان سے یہ اور اس جیسے جملے سن کر میری  آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جب وہ ماحصل بیان کر رہی تھی تو خود اس کے ہونٹوں پر بھی کسی نقرئی خواب جیسی شرمیلی اور دبی دبی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی حالانکہ وہ ابھی نو عمر تھی اور زندگی اور زندگی کو جنم دینے والے بیشتر تجربات سے نہیں گزری تھی۔

مجھے یہ موضوع کبھی بھی پسند نہیں رہا، نہ پڑھائی کے زمانے میں جب اکثر لڑکیاں زیادہ تر مردوں کی باتیں کرتی تھیں، کھٹی میٹھی اور کڑوی کسیلی اور نہ ہی اِس وقت مجھے اس سے کچھ خاص رغبت ہے جب میں دو بچوں کی ماں ہوں اور شہر کے پاش علاقے میں اردو میڈیم اسکول کی پرنسپل بھی۔مجھے تو تمام مرد اپنے شوہر کی طرح لگتے ہیں سیدھے سادے اور کام سے کام رکھنے والے۔جو پکا دیا وہ کھا لیا اور جو کہہ دیا وہ کر لیا۔فارغ اوقات کے لئے کرکٹ اور فلمیں بہت کافی ہیں کہ وہ ان سے دل بہلائیں اور بلاوجہ کی بیزاری اور تنہائیوں کی مار سے بچے رہیں۔

’’آج پکانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے کیا پکاؤں، کوئی سبزی وبزی ہی لا دیتے۔۔۔اور ہاں کریلے تو لانا مت۔۔ ۔۔۔اور ٹنڈے بھی مت لانا۔۔۔۔آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں۔۔ ۔۔۔۔‘‘ میرے منہ کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہو پاتی ہے اور وہ ہیں کہ یہ جا اور وہ جا۔

’’ارے۔۔ ۔۔۔۔۔تیل کو کہنا تو بھول ہی گئی۔۔ ۔۔۔۔تیل۔۔ ۔۔۔۔اور ہاں۔۔ ۔۔۔گھی بھی تو بالکل ختم ہو گیا۔۔۔۔ جب آپ چلے گئے تو یاد آیا۔۔ ۔۔۔۔میں بھی کتنی بھلکڑ ہوں۔۔۔۔‘‘جب وہ بازار سے ہانپتے کانپتے  لوٹتے ہیں تو میں ان کے سامنے دوسرا سوال رکھتی ہوں اور وہ ذرا دیر میں نظروں سے غائب۔اور سکینڈ کی سوئی ابھی پورا ایک چکر بھی نہیں لگا پاتی اور تیل اور گھی حاضر۔

مجھے تو ایسے ہی مرد اچھے لگتے ہیں۔اور میں انہیں ’روبو مرد‘ کہتی ہوں۔کیونکہ وہ روبوٹ کی طرح کام کرتے ہیں اور انہیں کنٹرول کرنا زیادہ سہل ہے۔

شوہر کا خیال  آیا تو ان کے ساتھ بتائے ہوئے تمام سہانے پل بھی ایک ایک کر کے یاد آنے لگے۔اور میں ان میں جیسے کھونے لگی۔۔ ۔۔۔۔۔مگر یہ کام کا وقت تھا اور مجھے یہ گوارہ نہیں کہ کوئی میرے کام میں رخنہ اندازی کرے چاہے وہ میرے سرتاج ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔۔ یا پھر ان سے جڑی ہوئی تمام کھٹی میٹھی اور خوشگوار یادیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔میں نے سر کو ہلکی سی جنبش دی، سرتاج اور ان سے جڑی ہوئی کھٹی میٹھی یادیں ذہن کے دریچہ سے دور چوبارے پر جا پڑیں اور میں ہفتہ بھر سے رُکا ہوا کام نمٹانے میں جٹ گئی۔

٭٭٭

 

 ’’مردوں کو تو بس ایک ہی کام آتا ہے ‘‘ جب سے مجھے یہ تبصرہ سننے کو ملا ہے تب سے تمام مرد بیچارے سے دکھائی دینے لگے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔اس کے بعد سے جب بھی میں بازار جاتی ہوں،  کسی تقریب میں شرکت کرتی ہوں یا شرارتی بچوں کے باپ ان کی شکایتیں لے کر اسکول  آتے ہیں تو ان کے چہروں کو غور سے دیکھتی ہوں۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور نہاتے دھوتے تمام مردوں کے چہروں پر بیچارگی کی ایک موٹی تہہ نظر آتی ہے۔ میں اپنی نظر اور دماغ کی پلکوں پر اس موٹی تہہ کو اٹھائے گھر واپس لوٹتی ہوں۔تکان اور نقاہت کے احساس سے خود کو بوجھل محسوس کرنے لگتی ہوں۔ جیسے برسوں کی بیماری سے اٹھی ہوں اور  آج ہی غسل صحت کیا ہے۔

’’مگر کسی ایک کام کا آنا تو اچھی بات ہے بہ نسبت اس کے کہ کسی کو کوئی ایک کام بھی نہ آتا ہو۔‘‘ رات کے پچھلے پہر جب میں نے ان مردوں کے بارے میں سوچا جو بیچارے اس ایک کام کے بھی اہل نہیں، تو میری روح کے مسامات سے پسینہ چھوٹنے لگا، مجھے ان کی بیچارگی در بیچارگی پر بڑا ترس آیا۔مجھے لگا جیسے میرے سرتاج ان بے مصرف لوگوں کی بھیڑ میں اکیلے ہیں، اپنے سر پر مردانگی کی چھتری تانے ہوئے اور دل کے دامن پر مصروفیتوں کی جنتیں سجائے ہوئے۔

’’مگر بیچارہ عشق‘‘۔۔ ۔۔۔۔۔۔میری فکر بیچارگی کے پاتال میں اترنے لگی، جیسے لال چیونٹیاں اپنے بلوں کی تاریک گہرائیوں میں اترتی ہیں، دھیمے دھیمے اور قطار اندر قطار۔بیچارہ عشق !!

پچھلے دنوں جب میں نے اپنے شہر کے ایک حکیم سے پوچھا تھا کہ عشق بیچارہ کیوں ہے ؟ تو اس نے بتایا تھا کہ عشق بیچارہ اس لیے ہے کہ وہ بھیس نہیں بدلتا۔ نہ وہ یہ کرنا چاہتا ہے اور نہ کر سکنے کی سکت رکھتا ہے، کیونکہ نہ تو وہ ملا ہے، نہ زاہد اور نہ حکیم۔تب سے مجھے عشق بڑا بیچارہ بیچارہ سا دکھائی دینے لگا تھا۔اور اُس وقت پہلی بار مجھے اپنی ذات کے تعلق سے یہ خوشگوار احساس ہوا تھا کہ یہ کتنی اچھی بات ہے کہ میں نے اپنی ٹانگ عشق کے غلیظ پھندوں میں نہیں پھنسائی۔یا میرے اوپر یہ افتاد ہی نہ پڑی۔ ’بیشک اللہ جو کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے ‘۔

بیچارگی کے پاتال میں اترتی ہوئی میری فکر جب گارے جیسی لسلسی مٹی کی گداز تہہ پر جا کر اس طرح بیٹھ گئی جس طرح بڑے بڑے پنکھ اور لمبی دم والی زہریلی اسٹنگریز پانی کی گہرائیوں میں بیٹھا کرتی ہیں تو مجھے ایسے تمام مرد بڑی شدت کے ساتھ یاد آئے اور ان بیچاروں کی بیچارگی پر رونا آیا جن بیچاروں کو ’’وہ ایک کام‘‘ بھی نہیں  آتا اور اوپر سے عشق کے غلیظ پھندوں میں اپنے چاروں ہاتھ پاؤں پھنسا لیتے ہیں۔

’’ان کے لیے سب سے بہتر تعبیر کون سی ہو سکتی ہے ؟‘‘ میں نے شہر کے حکیم سے پوچھا حالانکہ میں اس کے پاس نہ جانے کا فیصلہ لے چکی تھی۔مگر یہ بات ہی کچھ ایسی تھی کہ مجھے اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔

’’سب سے بہتر تعبیر؟۔۔ ۔۔۔۔۔۔ہوں۔۔۔‘‘اس نے شہادت کی مخروطی انگلی اپنے سیاہی مائل ہونٹوں پر رکھی۔

’’بیچارے نامرد عاشق‘‘

’’یقیناً۔۔۔‘‘مجھے عجیب سی خوشی کا احساس ستانے لگا۔شاید اس لیے کہ اس نے میرے دل کی بات کہہ دی تھی۔

میں وہاں سے اٹھ آئی اور پھر کبھی اس کے پاس نہ جانے کا عہد اپنے من میں از سر نو استوار کیا۔کیونکہ اب مجھے عشق، عاشق، معشوق اور عشق کی تشریح کرنے والوں سے بیزاری ہونے لگی  تھی۔

’ ’ بیچارے نامرد عاشق۔۔ ۔۔۔۔۔۔یہ محض عشق کر سکتے ہیں مگر عشق کے حقوق ادا نہیں کر سکتے۔‘‘

میری فکر ایک بار پھر نامرد عاشقوں کے نامراد کرب سے جوجھنے لگی۔

ایک بار میری ایک دوست نے مجھے بیچاری کہہ دیا۔اب مجھے یاد نہیں رہا کہ وہ کیا پس منظر تھا۔ یقین مانئے مجھے بہت غصہ آیا اور میں اپنے  آپ کو بھی اس عاشقِ نامراد کی جگہ محسوس کرنے لگی جسے عورتوں کی نظر میں بس ’’ایک ہی کام‘‘ آتا ہے۔

عبداللہ مجھے اسی لئے بیچارہ سا لگنے لگا تھا کہ اس کے بارے میں عورتوں میں یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ اسے ’’وہ ایک کام بھی‘‘ نہیں  آتا۔اول اول یہ راز کی بات صرف ان عورتوں کی گھسر پسر میں سنی گئی جو وقت اور حالات کی مار جھیلتے جھیلتے اوّل نمبر اینٹ کی طرح پک چکی تھیں اور زندگی کے ہر تجربے سے گزرنے کی وجہ سے ان کی حیا سر برہنہ ہو گئی تھی۔ جب یہ راز کی بات پکی ہوئی عورتوں کی کانا پھوسی سے نکلی تو نوعمر اور کھلنڈری لڑکیوں کے کانوں تک جا پہونچی، انہوں نے  آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ آس پاس کے گھروں کی اونچی نیچی دیواریں پھلانگ گئیں اور نوبیاہتا دلہنوں کے کان بھر دئے۔

٭٭٭

 

’’ایک بات بتاؤں۔۔ ۔۔۔۔وہ۔۔۔آپ۔۔۔‘‘ رخسار نے اپنے خاوند کو کچھ اس طرح مخاطب کیا کہ اس کے من کی ساری کلیاں دم کے دم میں کھل کر گلاب ہو گئیں۔

’’ہاں۔۔۔ہاں۔۔ ۔۔۔۔بتاؤ۔‘‘ اس نے اشتیاق بھرے لہجے میں کہا۔

اس وقت رخسار کے گال وفور شوق سے تمتما رہے تھے۔ویسے وہ تھی بھی کچھ سیب کی طرح کی رنگت والی، موسم سرماں کی روپہلی دوپہروں میں جب وہ نہا دھو کر اپنے  آنگن میں دھوپ سینکنے بیٹھا کرتی ہے تو اس کے خدوخال سے اسی طرح شعلے بھڑکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جس طرح پت چھڑ کے موسموں میں چنار کے دیو ہیکل درختوں کے کیسری پتے شعلوں کی مانند بھڑکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ میرا بس چلے تو میں اسے دہکتے ہوئے سرخ انگارے سے یا لپکتے ہوئے شعلے سے تشبیہ دوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ ایسا کرنے سے  آگ کے پجاری برہم ہو جائیں گے، کہ نار سے ناری کو کیا نسبت؟۔

مگر عبداللہ کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا، اس نے سوچا کہ اس بار رخسار کو ’’کچھ‘‘ ہے۔۔۔۔؟ اس خوشخبری کو سننے کے لیے وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے دن ہی نہیں بلکہ لمحے گن رہا تھا۔اس کا داہنا ہاتھ بے اختیار رخسار کے پیٹ پر چلا گیا۔اور رخسار اپنی دیگر چھوٹی بہنوں کی موجودگی میں اس قدر شرمائی کہ اس کے لیے وہاں ٹھہرنا بھی مشکل ہو گیا۔

اس کے چہرے پر کئی سارے رنگ یکے بعد دیگرے چڑھے اور اتر گئے اور اپنے پیچھے ایک انجانے خوف کا کالا سایہ چھوڑ گئے۔

’’کیا میں کبھی باپ نہیں بن پاؤں گا‘‘ اسے جھرجھری  آ گئی۔

شکیل اپنے بھاری بھرکم ڈیل اور لال پیلی  آنکھوں کے ساتھ اس کے سامنے  آ کھڑا ہوا جیسے اس کے من میں کسی انتقام کا سودا سمایا ہوا ہو۔

جب دو سال تک شکیل کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تو اسے اپنے سیانے دوستوں کی تیکھی نظروں، تعلق والی سجیلی عورتوں اور کھلنڈری لڑکیوں کی خنجر جیسی زبان کا سامنا ہونے لگا۔جب وہ منہ پھیر تا یا پشت گھماتا تو اس کی سماعتوں سے بعض نسوانی اور مردانی  آوازیں ٹکراتیں، اس کے معاً بعد دوپٹہ منہ پر رکھ کر نکالی جانے والی۔۔۔۔کھی کھی۔۔۔کھی کھی۔۔ ۔۔۔ کی  آوازیں سنائی دیتیں، وہ ٹھیک سے کچھ بھی نہ سمجھ پاتا پر اسے ایک قسم کی دل  آزاری کا خیال گزرتا۔

ایک بار تو حد ہی ہو گئی، جب اس پر بھری محفل میں  آوازے کسے گئے۔

’’نامرد۔۔۔۔‘‘

یہ عبداللہ تھا جو محفل کے ایک نسبتاً تاریک گوشے سے چلایا اور کتّا بنے بنے پیچھے سے کھسک لیا۔وہ تو اچھا ہوا کہ اس کی بناؤٹی  آواز پہچانی نہ جا سکی، نہیں تو شکیل کے ایک ہی مکے میں اس کے سارے دانت باہر ہوتے۔

اب وہ تین بچوں کا باپ بن چکا تھا اور راستے اور گلیوں میں سینہ چوڑا کر کے چلتا تھا۔اب عقبی راستوں اور چور دروازوں سے  آنے جانے کی وجوہات ختم ہو چکی تھیں۔اب اس کی پشت کی جانب سے سجیلی عورتوں اور کھلنڈری لڑکیوں کی کانا پھوسی پر مبنی مبہم آوازیں بھوتوں کی طرح غائب ہو چکی تھیں۔جو صرف ڈراؤنے خوابوں میں نظر آتے ہیں یا پھر وہم و گمان کی دنیا میں۔

عبداللہ کی  آنکھوں میں چار سال پہلے والی اُس بھیگی بھیگی شام کا منظر ایسے ابھرنے لگا جیسے یہ آج کل ہی کی بات ہو۔اس کے کانوں میں سنسناہٹ دوڑنے لگی۔۔۔۔اسے خیال گزرا کہ وہ بھری بزم میں مرکزی مقام پر بیٹھا ہے۔۔۔اور ہال کے نیم تاریک گوشوں سے۔۔۔نامرد۔۔۔۔نامرد۔۔۔نامرد۔۔۔کی بے شمار آوازیں اس کے کان کے پردوں کو پھاڑے دے رہی ہیں۔اور بہت سارے لوگ کتّے بنے بنے عقبی دروازوں اور چور راستوں سے کھسک رہے ہیں۔

’’ارے۔۔۔رے۔۔رکو تو سہی۔۔۔کہاں بھاگی جا رہی ہو۔۔۔وہ بات تو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔‘‘

عبداللہ ہکلاتا رہ گیا اور رخسار ننگے پاؤں کچن کی طرف بھاگ گئی۔

٭٭٭

 

’’کیا بات ہے پچھلے کچھ دنوں سے کچھ خاموش خاموش سی لگ رہی ہو۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔؟؟‘‘ آج اسکول سے واپسی پر جب میں گھر پہونچی تو سرتاج نے میرے اندر تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔پہلے تو میں نے ٹالنا چاہا مگر پھر سرتاج کی ضد کے  آگے ہتھیار ڈال دئیے۔اور پھر انہیں ان عورتوں کی ساری گفتگو جو مجھے نادیہ نے بتائی تھی من و عن سنا دی۔

’’۔۔۔۔ہاہاہا۔۔ ۔۔۔ہاہاہا۔۔ ۔۔۔۔ تو ہماری موہنی کو اتنی سی بات نے غمزدہ کر دیا ہے ‘‘وہ عجیب سی ہنسی ہنسے۔اس سے پہلے میں نے انہیں اس طرح ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

’’تم کیا جانو کہ کونسی بات اتنی سی ہے اور کونسی اتنی سی نہیں ہے۔ تم موٹی کھال کے  آدمی جو ٹھہرے۔‘‘میں من ہی من میں دیر تک جانے کیا کیا بُدبُداتی رہی۔میں نے ان کی طرف کنکھیوں سے دیکھا وہ بدستور ہنسے جا رہے تھے۔

 ’’اور میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ مستی کے مونڈ میں  آتے میں سالن جلنے کا بہانہ کر کے ان کے پہلو سے اٹھ گئی اور کچن میں جا گھسی۔

’’سرتاج بے چارے کیسے ہو سکتے ہیں۔۔۔۔میں ان کے بارے اتنا کچھ جانتی ہوں جنتا وہ خود بھی اپنے بارے میں نہیں جانتے۔وہ تو ہر کام میں ماہر ہیں۔۔ ۔۔۔۔ہر فن مولا۔۔ ۔۔۔۔ادھر کام بتایا اور ادھر کام پورا۔تھنک دی ڈیول اینڈ ڈیول از ہئر۔اور مرد اتنے پھرتیلے کہاں ہوتے ہیں۔وہ موٹی کھال کے ضرور ہیں مگر بیچارے ہرگز نہیں ہیں۔‘‘میرے دماغ کی سوئیاں ایک بار پھر تیزی سے گھومنے لگیں۔پتہ نہیں ان میں ایسی کیا بات ہے کہ میں جب بھی ان کے بارے میں سوچتی ہوں تو سوچ کا عمل برق رفتار ہو جاتا ہے۔

٭٭٭

 

اس سے پہلے میں نے کسی بھی  آدمی کو بیچارہ محسوس نہیں کیا تھا یہاں تک کہ عبد اللہ کو بھی نہیں۔حالانکہ وہ ایک مسکین باپ کی اولاد تھا اور خود اس کی صورت سے بھی مسکینیت ایک بار ٹپکنے کے بعد تا دیر اسی طرح ٹپکتی رہتی تھی جس طرح برسات کے دنوں میں اولتی دیر تک ٹپکتی رہتی ہے۔

اس نے کبھی کوئی کام ڈھنگ سے نہ کیا، اسے باتیں بنانا بھی نہیں آتا تھا، شاطر اور چالاک ذہن کے لوگ کمائی کے راستے ڈھونڈ لیتے ہیں مگر وہ تھا کہ خرچ کرنے کے بہتر طریقے بھی نہیں ڈھونڈ پاتا تھا۔اکثر الٹی سیدھی چیزیں خرید لیتا۔اسے زیادہ ضروری اور کم ضروری چیزوں کے درمیان ترجیح دینے کا فن بھی نہیں  آتا تھا۔اور تو اور اسے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ بڑے لوگوں سے کس طرح بات کی جاتی ہے، وہ مجھ سے بھی الٹے سیدھے لہجے میں بات کرتا تھا۔مجھے کبھی کبھی اس کی بے تکی باتوں اور الٹی سیدھی حرکتوں پر غصہ بھی  آ جاتا تھا۔۔ ۔۔۔میری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ بزرگوں کی مجلسوں میں آتا جاتا رہے اور ادبی نشستوں میں اٹھتا بیٹھتا رہے۔۔ ۔۔۔۔۔خاص کر اپنے شہر کے حکیم کے پاس ضرور آیا جایا کرے۔۔ ۔۔۔۔۔۔میں نے اس کو اردو زبان و ادب کی کئی ساری ابتدائی کتابیں بھی لا کر دیں تاکہ ان کے مطالعہ سے اس کی فکر میں نکھار پیدا ہو اور اس کی زبان میں شفافیت آئے اور شیرینی پیدا ہو۔۔ ۔۔۔۔مگر وہ تو جیسے کورے گھڑے کی مانند تھا، اس نے بڑی مشکل سے دوچار خوبصورت الفاظ سیکھے جیسے خوش آمدید، تشریف رکھئے، نوش کیجئے، ملاحظہ فرمائیے اور شب بخیر وغیرہ۔۔۔میرے غریب خانے پر جب بھی کبھی  آسمانِ ادب کی بزرگ ہستیاں قدم رنجا فرماتیں اور اس کی زبان سے اس طرح کے خوبصورت الفاظ سنتیں تو خوشی کا اظہار کرتیں۔۔۔۔مگر میں اسے زیادہ دیر ان کے پاس ٹھہرنے نہ دیتی اور کام کے بہانے ادھر ادھر بھیج دیتی۔۔۔۔اس کے اندر اور بھی بہت ساری ایسی کمیاں تھیں جو اسے کمزور شہری بناتی تھیں، پر اس کے باوجود میں نے اس کو اس طرح نہیں دیکھا تھا اور اس کے چہرے پر بیچارگی کی کوئی موٹی یا پتلی تہہ مجھے کبھی نظر نہیں  آئی تھی۔حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ اس کی شادی کو قریب تین سال ہونے کو آتے ہیں اور ابھی تک رخسار کی گود ہری نہیں ہوئی۔

مگر آج شام جب وہ میرے گھر آیا تومیں نے اس کی نظریں بچا کر اس کو غور سے دیکھا۔مجھے وہ بیچاروں کا بیچارہ نظر آیا۔یہاں تک کہ میں خود بھی سوچ میں پڑگئی کہ یہ کہیں میرا وہم نہ ہو۔میں نے دوبارہ اس کے سراپا پر نظر کی، اس کی کنپٹیوں کی لو کو دیکھا جو دھوپ کی تمازت سے سرخ ہو رہی تھیں اور اس کی نظروں کو پڑھنے کی کوشش کی جن میں ابھی تک جوانی کی چمک تھی، میں نے محسوس کیا کہ بیچارگی کی ایک موٹی تہہ اس کے سارے وجود سے لپٹی ہوئی ہے۔

عبد اللہ، سائرہ بانوں کا اکلوتا بیٹا تھا، ہم دونوں پچپن کے دوست تھے، ایک ہی محلے میں پلے بڑھے اور ایک ہی اسکول میں پڑھنا لکھنا سیکھا۔سائرہ بانوں اپنے شوہر کے ساتھ کافی خوش تھی، لیکن جب اس نے عبداللہ جیسے خوبصورت لڑکے کو جنم دیا تو اس کی خوشیوں کو مانو پر لگ گئے۔دن گزرتے گئے اور وہ دونوں زندگی کی پرپیچ پگڈنڈی پر ہشاش بشاش آگے بڑھتے رہے۔پھر ایک دن جب خوشیاں دوسری بار اس کے  آنگن میں رقص کرنے کو بے تاب تھیں، اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ڈاکٹر نہ زچہ کو بچا سکے اور نہ بچے کو۔عبد الحمید کی دنیا اندھیری ہو گئی، وہ کچھ دنوں زندگی کی پر پیچ پگڈنڈی پر ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا اور بالآخر ایک دن جب سورج اپنی بھر پور جوانی کا جوبن بکھیر رہا تھا عبدالحمید ہائی وے پر ایسی حالت میں پایا گیا کہ اس کے جسم کے اکثر حصوں کو تارکول کی کالی سڑک سے کھرچ کر جمع کیا گیا۔

اب اس بھری پری دنیا میں میرے سوا عبداللہ کا اور کوئی نہ تھا۔میں نے اپنی بساط کی حد تک اسے پڑھانے کی کوشش کی مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ اس کو پڑھائی میں ذرہ برابر بھی دلچسپی نہیں ہے تو میں نے سرتاج سے کہہ کر دہرادون میں ان کے ایک بہت قریبی دوست کی فیکٹری میں چھوٹے موٹے کام پر لگوا دیا۔جب وہ ذرا ہوشیار ہو گیا اور اس نے اپنی معمولی تنخواہ سے تھوڑا بہت پس انداز کر لیا تو میں نے اس کی بچپن کی دوست رخسار کے ساتھ باندھ دیا۔اور اس طرح ایک اجڑا ہوا گھر ایک بار پھر بسنے کی شاہراہ پر چل نکلا تھا، ایسا میں سمجھ رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔ مگر عبداللہ کو جس کے سر سے کئی قیامتیں پہلے ہی گزر چکی تھیں مزید اور کئی قیامتوں کو گزرنا تھا، ایسا قدرت کا فیصلہ تھا۔

پھر کئی سارے دن یکے بعد دیگرے اس طرح گزرتے چلے گئے جس طرح لمحے گزرا کرتے ہیں۔عبد اللہ اپنے کام پر دہرادون چلا گیا اور میں رات دن بیچارگی کی فکر سے جوجھتی رہی۔اسکول سے گھر اور گھر سے اسکول  آتے جاتے جتنے بھی مرد نظر آتے میں ان کے چہروں کو اس وقت تک تکتی رہتی جب تک مجھے یہ خبر رہتی کہ یہ ابھی میرے دیکھنے سے بے خبر ہیں۔ مجھے ان کے چہروں پر بیچارگی کی موٹی تہہ نظر آتی، یہاں تک کہ میں اپنی اس عادت سے اکتا گئی اور میں نے ان کے چہروں کو دیکھنا ہی چھوڑ دیا، جب کسی مرد سے بات کرنا ناگزیر ہوتا تو زیادہ تر اپنے اور اس کے پیروں کو دیکھتی رہتی۔اور اس طرح بیچارگی کی فکر سے بچنے کی کوشش کرتی۔مگر اب یہ ساری کوشش بے کار تھی کیونکہ اب بیچارگی ان کے سارے وجود میں سما چکی تھی۔اب میری حالت اس شخص کی سی ہو گئی جس کے لیے اس دنیا میں کوئی جائے پناہ نہ رہ گئی ہو۔اب میں جس طرف بھی نظر کرتی مجھے بیچارگی کے علاوہ اور کچھ نظر نہ آتا، یہاں تک کہ میں اپنے لقموں اور پانی کے گھونٹوں میں بھی بیچارگی کو اپنے اندر بھرنے لگی۔اس وقت مجھے احساس ہوا کہ مجھے اپنی دوست کی بات کا برا نہیں ماننا چاہئے تھا۔ میں بیچاری نہ سہی۔۔ ۔۔۔پر بیچارگی کی زندہ تصویر تو بن ہی چکی ہوں۔

اسکول اور بازار سے لوٹتی تو ٹی وی کھول کر بیٹھ جاتی مگر بیچارگی تھی کہ وہ یہاں بھی پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔ٹی وی اسکرین پر ڈوبتے ابھرتے تمام مردانہ خاکے اور تصویریں بیچارگی کے باعث بے رونق معلوم ہوتی تھیں، جبکہ زنانہ تصویریں اور خاکے ہرے بھرے معلوم ہوتے تھے۔جیسے بہاریں مانگ بھر آئی ہیں اور باغ میں کوئل کوک رہی ہے۔

ادھر ایک ماہ سے تمام نیوز چینل پر ملک کے کئی بڑے شہروں میں سیریل بم بلاسٹ کی خبریں زیادہ جگہ پا رہی تھیں۔گھروں میں رکھے ہوئے رنگین ٹی وی سیٹس اپنے ہی مکینوں پر آگ برسا رہے تھے۔ مختلف شہروں سے کئی ملزموں کو پکڑا گیا تھا ان سب کے نام جانے پہچانے لگتے تھے۔ ان کے منہ کالے کپڑے سے ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دئے گئے تھے، نہ وہ بول سکتے تھے اور نہ کوئی اشارہ کر سکتے تھے۔اور ٹی وی اینکر ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کر کے بار بار چیخ چیخ رہا تھا ’’ سیریل بم دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ  کو پکڑ لیا گیا ہے اور یہ پولس کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔۔۔۔یہ جو درمیانے قد کا لڑکا ہے۔۔ ۔۔۔۔یہی ہے وہ دہشت گر اور سیریل بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ۔۔ ۔۔۔۔اس کا نام عیدو ہے۔۔۔پولس نے اسے پونے سے گرفتار کیا ہے۔۔۔معتمد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عید کے دن پیدا ہوا تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام عیدو پڑ گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔یہ وہ ہے اور یہ وہ ہے۔۔۔‘‘

نیوز چینل رات دن زہر اگل رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔اور یہ زہر ٹی وی سیٹ سے نکل کر بھاپ اگلتی ہوئی میری گرم کھوپڑی میں قطرہ قطرہ ٹپک رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔

میں اس طرح کی خبریں اس وقت سے سن رہی تھی جب میں ابھی یونیورسٹی میں ہی تھی۔ اور مجھے ایسی خبروں سے شروع ہی سے نفرت تھی۔

آج ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی جب سبھی نیوز چینلوں پر اسی طرح کی نیوز سنیں تو میں نے جھنجلاہٹ کے عالم میں ٹی وی بند کر دیا اور پلٹ کر سرتاج کو دیکھا اب وہ بھی پہلے جیسے دکھائی نہ پڑتے تھے۔مجھے لگا کہ ان کے اندر کسی چیز کی کمی بڑھ رہی ہے۔۔ ۔۔۔۔شاید مردانگی کی۔۔ ۔۔۔۔۔۔مگر نہیں۔۔ ۔۔۔۔ان کی تو ساری میڈیکل رپورٹیں اوکے ہیں۔ان میں ایسی کوئی کمی نہیں۔

پھر ایک دن جب میں اپنے گھر میں گلاب کے پودوں کو پانی دے رہی تھی مجھے اطلاع ملی کہ عبداللہ باپ بن گیا ہے۔یقین جانئے مجھے یہ سن کر دہری خوشی ہوئی ایک تو بچے کی پیدائش کی اور دوسرے اس بات کی بھی کہ اب وہ سجیلی عورتوں اور نئی نویلی دلہنوں کی کھسر پسر اور کانا پھوسی کا موضوع نہیں بنے گا۔اور اب کبھی بھی اس کے عقب سے پہلے کی طرح مردانی اور نسوانی  آوازیں نہیں  آئیں گی جو اس کے لیے دلآزاری کا باعث بنتی تھیں۔اور وہ دن بھر سویا سویا سا اور کھویا کھویا سا رہتا تھا۔

عبد اللہ کا ادھر ایک ماہ سے کوئی اتہ پتہ نہ تھا، اس کا موبائل فون بند تھا اور فیکٹری کے مالک نے بتایا تھا کہ وہ تو یہاں سے ایک ماہ کی چھٹی پرگیا ہوا ہے۔

میں دل ہی دل میں اس کے لئے خیرو عافیت کی دعا مانگنے لگی۔رخسار کا تو عجب حال تھا ایک طرف اس کے گھر میں چاندنی جگمگا رہی تھی اور دوسری طرف اس کے من کی دنیا میں تاریکی  آہستہ آہستہ پیر پسار رہی تھی۔اگر وہ اس وقت زچ خانے میں نہ ہوتی تو اس کے نام سے سینکڑوں نفل پڑھ ڈالتی، ختم خواجگان کا اہتمام کرتی اور اپنے محلے کی مولوَن سے فال کھلواتی۔

ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میرا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ میرا خیال نہ جانے کیوں اس درمیانے قد کے لڑکے کی طرف بار بارجا رہا تھا جس کے منہ پر کالا کپڑا لپٹا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے تھے۔کاش اس کا منہ کھلا ہوا ہوتا اور وہ بتا پاتا کہ شہلا آنٹی اور رخسار جانُوں ’میں  آپ کا عبداللہ نہیں ہوں ‘۔پھر اس خیال کومیں اپنی حماقت سمجھ کر جھٹک دیتی۔کچھ دیر ذہن ادھر ادھر کے کاموں میں مصروف رہتا اور اتنی دیر تک دل کو ذرا سکون رہتا اور پھر یکایک خیال کی سوئیاں کالے کپڑے پر ٹھیک ناک کے دائیں بائیں دو چھوٹے چھوٹے سوراخوں پر جم جاتیں، مجھے لگتا کہ یہ آنکھیں مجھ سے مدد کی بھیک مانگ رہی ہیں۔

پھر ایک دن جب سورج بادلوں کی اوٹ میں منہ چھپائے ہوئے تھا عبداللہ آ گیا۔۔ ۔۔۔۔اس کو دیکھ کر میری چیخ نکل گئی۔یہ وہ عبداللہ نہیں تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔اس کے کپڑے گندے تھے اور وہ سالوں کا بیمار لگ رہا تھا جیسے برسوں سے کومہ میں پڑا ہوا آدمی اچانک چلنے لگے۔

عبداللہ آ گیا تھا میرے لیے یہ بھی بہت تھا، رخسار زچخانہ کی تکلیف بھول گئی اور اس سے لپٹ کر بے تحاشہ رونے لگی۔

عبداللہ آ گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ مگر آدھا ادھورا۔۔ ۔۔۔۔۔۔وہ نو ماہ قبل جس طرح دہرادون گیا تھا اس طرح واپس نہیں  آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔پچھلے ایک ماہ میں اس نے جتنے عذاب جھیلے تھے اتنے عذاب تو کسی کو سات جنموں میں بھی نہیں جھیلنے پڑتے۔۔۔۔اسے شام کے جھٹپٹے میں راہ چلتے سے اٹھایا گیا۔۔ ۔۔۔۔اس پر دنیا بھر کے الزام لگائے گئے۔۔۔۔ذہین، شاطر، چالاک یہاں تک کہ سیریل بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ بھی بتایا گیا۔۔ ۔۔۔۔ جھوٹے کاغذات پر دستخط کرانے کے لیے دردناک اذیتیں دی گئیں۔اور جب وہ ادھ مرا ہو گیا، اور پولس کو لگا کہ یہ اب گھنٹے دو گھنٹوں کا مہمان ہے۔۔ ۔۔۔تو پولس کسٹڈی میں ملزم کی موت کے خوف سے اسے سنسان جگہ پر چھوڑ دیا۔

مجھے رخسار نے بتایا کہ وہ پورے طور پر واپس نہیں  آئے۔۔ ۔۔۔اور اس نے نظریں جھکا لیں۔۔ ۔۔۔پھر جانے کیا ہوا اس پر غشی طاری ہو گئی۔۔ ۔۔۔میں نے لپک کر اس کے بچے کو پکڑا۔۔ ۔۔۔۔ڈاکٹروں نے تو صرف اتنا ہی بتایا تھا کہ اس کے جسم پر گم چوٹیں  آئی ہیں۔اور جسم کے ہر حصہ پر وقفہ وقفہ سے اس طرح ضربیں لگائی گئی ہیں کہ اندر ہی اندر ساری نسیں ناکارہ ہو گئی ہیں۔خاص کر جسم کے خفیہ حصوں کی نسیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔

رخسار کے اوسان بحال ہوئے تو پھر سے بتانے لگی۔۔ ۔۔۔۔۔۔وہ سوچ سوچ کر بول رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔’’ اب وہ دوسرے بچے کے باپ نہیں بن پائیں گے۔‘‘اور وہ رونے لگی۔۔ ۔۔۔۔۔۔اسے لگا جیسے وہ بیوہ ہے۔دنیا کی انوکھی بیوہ۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ جس کا شوہر زندہ ہے۔۔ ۔۔۔۔مگر اس طرح کہ وہ اسے صرف دیکھ سکتی ہے اور سونگھ سکتی ہے۔۔ ۔۔۔۔اب وہ دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔ ۔۔۔۔۔اور اس نے اپنے اکلوتے بچے کو سینہ سے اس طرح چمٹا لیا جیسے کوئی اسے چھین لے گا۔

عبد اللہ آ گیا تھا، عبداللہ باپ بھی بن گیا تھا، پیٹھ پیچھے سے  آنے والی بیزار کن آوازیں بھی بند ہو چکی تھیں۔۔ ۔۔۔شکیل کے ذریعہ نامرد کہہ کر چڑھانے کا خوف بھی اس کے دل سے نکل چکا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔مگر عبد اللہ۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔عبداللہ ہمیشہ کے لیے باپ بننے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ حقیقت میں بیچارہ بن چکا تھا۔اور عورتوں میں اس کے بارے میں غلط طریقے سے مشہور ہو جانے والی بات سچ ہو گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔کہ عبداللہ ’’ اس ایک کام ‘‘کا بھی اہل نہیں۔عبداللہ کو میں نے پہلی بار سائرہ بانو اور عبدالحمید کو یاد کر کے روتے ہوئے دیکھا۔

٭٭٭