کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

راجہ کا محل

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


تبصرہ کیا پوچھتے ہو آج کے حالات پر

آج سر اپنا ہتھیلی پر لیے پھرتا ہوں میں

                                                                                      (جگن ناتھ آزاد)

 

کہرے کی چادر میں لپٹا یہ ایک اور نیا سویرا تھا۔ بھارت پور ضلع کا بہت بڑا اور تاریخی شہر۔ جس کے شاہراہ پر سیکڑوں لوگ دور کسی کے انتظار میں نظریں گڑائے  تھے۔

’’وہ دیکھو…وہ دیکھو…‘‘  اچانک بھیڑ میں ہلچل پیدا ہوئی۔’’وہ آ گئے …‘‘  بھیڑ میں سے کچھ آوازیں نمودار ہوئیں۔ کچھ میں تجسس تھا۔کچھ میں خوف اور کچھ میں جانے کیوں مسکراہٹ کی آمیز ش تھی۔

سب نے دیکھا اور وہ بس دیکھتے ہی رہ گئے۔

یہ بہت سے فیل سواروں کا غول تھا جو کہ دھیرے دھیرے بھیڑ کے قریب آتا جا رہا تھا۔

’’وہ آ گئے …وہ آ گئے…وہ آ گئے‘‘  اچانک بھیڑ میں سے کچھ کمزور دل لوگ گھروں کی طرف دوڑ گئے۔تو کچھ فیل سواروں کی آگوانی کرنے لگے۔

فیل سواروں کے ہاتھوں میں جھنڈے تھے اور کچھ کھدائی کا سامان بھی۔ وہ چنگھاڑتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے تو جیسے زمین کانپ اٹھی۔ فلک شگاف چنگھاڑ نے ماحول پر خوف طاری کر دیا تھا۔ فیل سواروں نے مست چال کے ساتھ چلتے ہوئے سرجو ندی کے کنارے ڈیرا جما لیا۔شہر بھر میں فیل سواروں کی آمد کی ہی چرچا تھی۔ کسی کو یہ فکر نہیں تھی کہ وہ کیوں آئے ہیں لیکن انھیں اس بات میں دلچسپی تھی کہ وہ کیا کرنے آئے ہیں ؟فیل سوار جب بازار سے گزر رہے تھے تو کچھ کمزور دل لوگوں کو فیلوں کے پاؤں کی دھمک ہتھوڑوں کی چوٹ کی مانند محسوس ہو رہی تھی لیکن شہر کا ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو کہ اسی دھمک کو ڈھولک کی تھاپ کی طرح محسوس کر رہا تھا۔

شہر کی ایک مشہور بیٹھک میں بزرگوں کی ٹولی بھی فیل سواروں کی آمد پر گفتگو کر رہی تھی۔ بزرگوں کی ٹولی کا سردار ’’کبیر ‘‘  بے حد متفکر نظر آ رہا تھا۔ ’’آخر یہ لوگ یہاں کیا کرنے والے ہیں۔‘‘  کبیر نے جھنجلائے لہجے میں کہا۔

’’وہ اپنے راجہ کا نیا محل تعمیر کریں گے‘‘ ایک بزرگ نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا۔

’’لیکن جس راجہ کی بادشاہت سارے جہاں پر ہو اسے یہیں اپنا محل بنانے کی ضد کیوں ہے ‘‘ ۔کبیر نے کہا تو کئی بزرگوں کے چہرے پر ناگواری کے سائے پھیل گئے۔

’’ارے بھیا جہاں تم پیدا ہوئے تھے وہیں تمھارا گھر ہے نہ ‘‘ ایک دیگر بزرگ نے بڑے پتے کی بات کہی تھی۔

’’ یہ فیل سوار تو شہر بھر میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔جو ان کے خلاف کچھ بولتا ہے اسے یہ جبراً خاموش کرا دیتے ہیں۔ اس طرح تو راجہ کا محل تعمیر ہو یا نہ ہو لیکن شہر میں بدامنی ضرور پھیل جائے گی۔ اور اس کا خمیازہ ہم سب بھگتیں گے۔ ‘‘ کبیر کی بات سے کئی بزرگ متفق تھے۔

کبیر تقریباً ۶۰سال کا ایسا مرد تھا جس کے بازوؤں نے کبھی شیر کی گردن مروڑی تھی اور اب بھی خاصے مضبوط جسم کا مالک تھا۔لمبے قد چہرے پر داڑھی چھوٹی اور اندر کو دھنسی آنکھیں۔ گول چہرے والے کبیر کی زندگی شان سے گزری تھی۔کسرتی جسم اس کا شوق رہا تھا۔ وہ بلا کا ذہین بھی تھا اور اس عمر میں بھی اس کی ذہانت قابل دید تھی۔ لوگ بیٹھک میں اس سے مشورے طلب کرتے تھے۔ اب بھی لوگ اس سے مشورہ طلب کر رہے تھے۔

’’فیل سوار بہت طاقت ور ہیں ہم کریں بھی تو کیا؟‘‘

’’فیل سواروں کے بابت میں نے شہر انتظامیہ سے بھی بات کی تھی۔‘‘ کبیر نے اطلاع دی۔‘‘ لیکن شہر انتظامیہ نے کوئی بات سنی تک نہیں۔ ایسا  لگتا ہے کہ وہ تو خود فیل سواروں کو تعاون کر رہے ہیں۔‘‘ کبیر بے حد غصے میں تھا۔بنا کسی نتیجے پر پہنچے بیٹھک برخاست ہو گئی تھی۔

فیل سواروں نے گلی اور محلوں میں اپنی آمدو رفت تیز کر دی تھی۔ وہ لوگوں کے پاس جا کر انھیں اپنے راجہ کے محل کی تعمیر میں تعاون کے لیے اکسا رہے تھے۔وقت مقر رہ پر سرجو کے کنارے جمع ہونے کی تاکید کر رہے تھے۔ وہ اپنے راجہ کے بلوان ہونے کا بھی پورا یقین دلا رہے تھے۔ ان کے منصوبے تو خفیہ تھے ہی ان کی حکمت عملی کو لے کر شہریوں میں بڑی تشویش تھی۔    

فیل سواروں کے غول کے غول تاریخی شہر کی فضا کو خوف زدہ کرنے کے لیے روز ہی وارد ہو رہے تھے۔ روز بہ روز فیل سواروں کی چنگھاڑ میں تیزی آتی جا رہی تھی۔ شہریوں پر محل کی تعمیر میں تعاون کرنے کی اپیلیں اب احکام میں بدلنے لگی تھیں۔وقت مقر رہ اب بہت قریب تھا۔ شہر میں فیل سواروں کا آتنک چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ انھوں نے شہر کی تمام طاقت اور طاقتور اشیا کو سحر زدہ کر دیا ہے۔ کوئی بھی ان کے خلاف کچھ بولنے کو تیار نہ تھا۔

لیکن شہر بھر میں ایک شخص تھا جو کہ مسلسل فیل سواروں کے ذریعہ پھیل رہی بد امنی پر فکرمند تھا۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس کا پیارا شہر مصیبتوں میں گھرتا جا رہا ہے۔ اس کی نظروں کے سامنے دو مختلف نظارے گھوم رہے تھے ایک میں وہ فیل سواروں کو چنگھاڑتے اور مغرور انداز میں زمین پھاڑتے دیکھ رہا تھا تو دوسری طرف ان کمزور لوگوں کا گروہ تھا جو کہ فیل سواروں کے خلاف غم و غصہ تو دکھا رہا تھا لیکن اندر سے خود کو بے آسرا سمجھ رہا تھا۔ کبیر کو محسوس ہوا کہ اگر یہی حال رہا تو چنگاری سلگ کر شہر کو تباہ کر ڈالے گی۔  لیکن وہ کرے تو کیا کرے۔

کبیر نے راجہ کے حضور درخواست گزاری کہ اب وہ ہی کچھ کر سکتا تھا۔ لیکن اسے سکون نہ ملا۔تب اس نے اپنی بزرگ ٹولی کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ انھوں نے کبیر کی بات سے اتفاق جتاتے ہوئے شہر کو فوج کے حوالے کر دیا۔ شہر پر فوج کی تعیناتی کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے کمانڈر کو احکام دیئے تھے کہ وہ پرانے راجہ کے محل کا تحفظ کرنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ فیل سواروں کی غلط حرکات کو روکنا ہے مگر تب جب کہ تمھیں یقین ہو جائے کہ محل کے تحفظ کے لیے ا ب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا۔ شرط سے بندھا فوج کا کمانڈر تاریخی شہر کا گھیرا ڈال کر بیٹھ گیا اور  کبیر مطمئن ہو کر اپنی بیٹھک میں بیٹھ کر حقہ گڑگڑانے لگا۔

وقت مقر رہ پر دریائے سرجو کے کنارے تمام فیل سواروں کا جم گھٹ لگا تھا۔ پتہ نہیں یہ فیل سواروں کے آتنک کا خوف تھا یا پھر بلوان راجہ سے عقیدت کہ بڑی تعداد میں شہری بھی محل تعمیر کی تقریب میں پہنچ گئے تھے۔ شہر انتظامیہ آج بڑی حرکت میں نظر آ رہا تھا۔ کوئی جگہ نہ تھی جہاں پولس کے سپاہی موجود نہ تھے۔ خبر نویسوں کی بھی بڑی فوج جٹی تھی۔ کبیر بھی اپنی بزرگوں کی ٹولی کے ساتھ موجود تھا۔

فیل سواروں کے سرداروں نے اتنا بڑا مجمع دیکھا تو ان کا جوش دوگنا ہو گیا۔ انھوں نے اپنی چنگھاڑ کی فریکوئنسی (Frequency)اتنی زیادہ کر دی کہ آسمان میں شگاف پڑنے کا خطرہ لاحق ہونے لگا تھا۔

فیل سواروں کے ایک سردار نے اپنے بلوان راجہ کی شان میں قصیدے پڑھنے شروع کر دیئے۔جذباتی انداز میں اس نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آج کل ان کا راجہ بہت رنجیدہ ہے کیونکہ اس کے محل کی جگہ دوسرے راجہ نے اپنا محل بنوا دیا ہے۔ ہمیں واپس راجہ کا محل وہیں تعمیر کرنا ہے تاکہ ہمارا بلوان راجہ خوش ہو جائے اور ہمارے گناہ کبیرہ بخش دے۔

فیل سواروں نے دیکھا کہ شہریوں میں بھی جوش آنے لگا ہے۔ انھوں نے فلک شگاف نعرہ لگایا۔ ’’ہمیں آدیش کرو…راجہ کا محل کہاں بنانا ہے۔ ‘‘

لوہا گرم دیکھ فیل سواروں کے سردار نے آخری چوٹ کر دی۔

’’وہاں …‘‘ انگلی کے اشارے سے اس نے سامنے بنے قدیمی محل کی طرف اشارہ کیا۔‘‘ محل وہیں بنانا ہے غلامی کی نشانی کو مٹانا ہے۔ ‘‘

فیل سواروں کے ساتھ پورے مجمعے کی نگاہیں قدیمی محل کی طرف اٹھ گئیں۔

’’ارے…یہ تو دوسرے راجہ کا قدیمی محل ہے۔یہ گرے گا تو شہر میں آگ لگ جائے گی۔‘‘

کبیر نے چلا کر کہا لیکن بھیڑ کے جوشیلے نعروں میں اسکی آواز دب کر رہی گئی۔ اس نے قدرے تیز آواز میں کہا ’’سردار ہم تمھیں اس سے بھی اچھی جگہ دے سکتے ہیں جہاں پر راجہ کا عالی شان محل بن سکے اور وہ زیادہ حسین لگے گا۔‘‘

فیل سواروں کے سردار نے قدرے خفگی سے کہا ’’نہیں ہمارے بلوان راجہ کو تبھی اصلی خوشی ملے گی جب کہ غلامی کی یہ نشانی مٹے گی اور اس کی جگہ بلوان راجہ کا عالی شان محل تعمیر ہو گا۔‘‘

’’لیکن اس جگہ ہی کیوں …یہ محل گرا تو دوسرا راجہ ہم سے خفا ہو جائے گا۔‘‘  کبیر نے دریافت کیا تو بھیڑ میں کھسر پھسر ہونے لگی۔

’’اس لیے کہ ہمارا بلوان راجہ اسی جگہ پیدا ہوا تھا۔ کیا تم اپنی جائے پیدائش کو کسی کو دے سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔ اس لیے ابھی غلامی کی نشانی کو مٹانے اور بے مثال محل کی تعمیر کرنے کا آغاز کرنا ہے۔‘‘ سردار نے پر جوش انداز میں مزید کہا ن’’اور تم دوسرے راجہ سے بالکل خوف مت کھاؤ کیونکہ ہمارا راجہ اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ ‘‘

’’پھر تمہارا بلوان راجہ خود ہی نیا محل کیوں نہیں تعمیر کر لیتا۔ ہم غریبوں کو کیوں ناحق اس امتحان میں مبتلا کر رہا ہے۔ ‘‘ کبیر کی بات خود اس کے ساتھیوں کو بھی پسند نہیں آئی تھی۔

’’خاموش گستاخ…راجہ کی خوشی کا خیال رکھنا پرجا کا اہم فریضہ ہے اور تم تو خودپر جتنا رشک کرو کم ہے کہ اس عظیم کار خیر کے لیے تمہارا انتخاب کیا گیا ہے۔‘‘

کبیر کو محسوس ہوا کہ اب اس کی باتوں سے بھلا کیا ہونے والا ہے۔ فیل سواروں نے سردار کی طرف دیکھا تو اس نے محتاط اشارہ دے کر آگے بڑھنے کا حکم دے دیا۔ تمام فیل سواروں نے اپنے کھدائی کے اوزار نکالے اور قدیمی محل کی طرف دوڑ پڑے۔ کبیر اور اس کی بزرگ ٹولی کو احسا س ہو گیا کہ اب راجہ کا قدیمی محل نیست و نابود  ہو کر رہے گا۔ وہ انتہائی بے چارگی کی حالت میں کھڑا تھا اچانک اس نے دیکھا کہ    خبر نویسوں کو کئی فیل سواروں نے اپنے نرغے میں لے لیا ہے اور و ہ اپنی چنگھاڑ سے انھیں ڈرانے دھمکانے میں لگے ہیں۔ اس نے انتظامیہ کو تلاش کیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پوری انتظامیہ خواب خرگوش میں بدمست تھی اور وہ پورے معاملے سے انجان بنی ہوئی تھی۔

کبیر نے مایوسی کے ساتھ قدیمی محل کی طرف دیکھا۔فیل سواروں نے راجہ کے قدیم محل کو مسمار کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا ایک ستون منہدم ہو چکا تھا اور دوسرا عنقریب زمیں بوس ہونے والا تھا۔ اس کی نگاہ نے ایسا منظر بھی دیکھا کہ پولس کے لوگ فیل سواروں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ بہت سے شہری  بھی فیل سواروں کے تعاون کے لیے پہنچ گئے تھے۔ اچانک کبیر کو وزیر اعظم کے ذریعہ بھیجی گئی فوج کی یاد آئی۔ ’’ارے وہ کمانڈر کہاں ہے ‘‘ کبیر نے پوچھاتوپتہ لگا کہ ایک نوجوان شہری نے پوری فوج کو شہر کے باہر تعینات دیکھا تھا اور وہ اب بھی وہیں ہے۔

کبیر تقریباً دوڑتے ہوئے فوج کے کمانڈر کے پاس پہنچا۔ اسے حالات سے آگاہ کیا تو کمانڈر فوراً حرکت میں آگیا اور اس نے قدیمی محل اور جلسہ گاہ کا محاصرہ کرلیا۔ بزرگ ٹولی کے دم میں دم آیا کہ اب شاید حالات قابو میں آ جائیں۔ لیکن یہ کیا، فوج تو کھڑی تماشہ دیکھ رہی تھی۔ فیل سوار چاروں طرف دوڑ رہے تھے اور اپنے ہاتھ میں موجود کدال ،پھاوڑے اور ہتھوڑوں سے قدیمی محل کی دیواریں توڑنے میں لگے تھے۔

کبیر کمانڈر سے چلا کر بولا’’کمانڈر کیا تم بھی فیل سواروں سے ملے ہوئے ہو۔روکتے کیوں نہیں انھیں۔‘‘

’’نہیں ہم ابھی کچھ نہیں کر سکتے ‘‘ ۔کمانڈر نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا جہاں چیل اور کوؤں کی اڑان کے سوا اسے کچھ نظر نہیں آیا۔

’’کمانڈر …’’کبیر گرجا‘‘ راجہ کا قدیمی محل منہدم ہونے والا ہے۔اگر یہ ہوا نہ رکی توعذاب نازل ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔آخر تمہیں کس کا انتظار ہے۔‘‘

’’ہمیں ابابیلوں کے لشکر کا انتظار ہے ‘‘ کمانڈر نے اطمینان سے کہا۔

’’کیا‘‘ کبیر کی آنکھیں حیرت سے پھٹ پڑی تھیں۔

’’ہاں …ہم ابابیلوں کے لشکر کا انتظار کریں گے۔ ‘‘ تمہیں پتہ نہیں ہے۔

ہمیں حکم ملا ہے کہ ہم تبھی حرکت میں آئیں جب کہ ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا۔‘‘

’’لیکن یہ بیسویں صدی ہے کمانڈر…اب ابابیلوں کے لشکر کہاں سے آئیں گے ‘‘ ۔کبیر بے بسی کے ساتھ کبھی کمانڈر سے مخاطب ہوتا تو کبھی گرد و پیش کا جائزہ لینے لگتا تھا۔ اور اس کے دیکھتے ہی دیکھتے دوسرا ستون بھی منہدم ہو گیا تھا۔ فیل سواروں کے سردار نے جشن منایا تھا اور وہ ٹھہاکے پر ٹھہاکے لگاتا جار ہا تھا۔ کبیر کا صبر اب جوا ب دیتا جا رہا تھا۔اس نے پھر کمانڈر سے کہا۔

’’کمانڈر اب تو حرکت میں آ جائیے۔ آپ تو خود طاقت ور ہیں آپ کو بھلا ابابیلوں کے لشکر کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

’’ارے کیا تم نہیں جانتے کہ ماضی میں جب ایک عظیم محل پر فیل سواروں نے حملہ کیا تھا تو ابابیلوں کے لشکر نے ہی اس کا تحفظ کیا تھا۔‘‘ فوج کے کمانڈر نے نہایت فلسفیانہ انداز میں کبیر سے کہا‘‘ مجھے یقین ہے دوست کہ آج بھی ابابیلوں کا لشکر ضرور آئے گا۔‘‘

کبیر التجا کرتے کرتے تھک چکا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح کمانڈر کو سمجھائے کہ جب ابابیلوں کے لشکر آئے تھے تب عظیم مرتبہ متقی اور پرہیزگار صحابہؓ موجود تھے لیکن آج جب کہ انسان بھی انسان کہلانے کا حقدار نہیں تو غیبی مدد کیوں کر ملے گی۔

’’پریشان نہ ہو بزرگوار۔‘‘  کمانڈر نے جیسے اس کے خیالات کو پڑھ لیا تھا۔

’’جب ماضی میں لشکر آیا تھا تو اب بھی ضرور آئے گا۔ہمیں اس کا انتظار کرنا ہے۔‘‘

کمانڈر نے ایک اچٹتی سی نگاہ قدیم محل منہدم کرتے فیل سواروں پر ڈالی اور پھر آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔

کمانڈ ر کے دو ٹوک انداز نے کبیر کو بے حد مایوس کر دیا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ سب کوئی بڑی سازش ہے۔دو را جاؤں کے محل کی آپسی رنجش برسوں کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کر رہی ہے اور ساتھ میں انسانیت کو بھی۔

’’لیکن اس سازش کو ناکام کیسے کریں۔ ‘‘ اس نے سوچا

کبیر کے دل و دماغ پر ہتھوڑے برس رہے تھے اسے محسوس ہوا کہ جیسے شہر کی طرف سے آگ کا گولا اٹھ کر آسمان کی طرف جا رہا ہے۔

’’اوہ…لگتا ہے عذاب نازل ہو چکا ہے۔‘‘ کبیر نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں اب دھوئیں اور آگ کے گولے کے سوا کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ ابھی وہ کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ اسے فیل سواروں کے تیزی کے ساتھ چنگھاڑنے کی آوازیں سنائی پڑیں۔ محل کا تیسرا اور آخری ستون بھی ختم ہو چکا تھا۔

’’راجہ کا قدیمی محل منہدم ہو گیا۔ عذاب بھی نازل ہو چکا …اور …اب وہی ہو گا جس کا خدشہ تھا۔‘‘ کبیر بڑ بڑایا۔

اچانک اس نے کمانڈر کو آواز دی۔’’کمانڈر تم کب تک ابابیلوں کے لشکر کا انتظار کرو گے۔دیکھو سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا۔‘‘ کبیر نے قدیمی محل کی جگہ مٹی اور اینٹوں کے ڈھیر کو دیکھا اور گھٹنوں کے درمیان منھ چھپا کر پھپھک پڑا۔

’’ہاں …شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے لشکر کا انتظار کیا کیوں کہ یہ مرے لیے حکم تھا لیکن اب میں فیل سواروں کو روکتا ہوں۔‘‘ اور اب کمانڈر اور اس کی فوج اینٹ مٹی کے ڈھیر پر لال تنبو بناتے فیل سواروں کی طرح کوچ کر گئی۔

کبیر نے منھ اوپر اٹھایا۔ فیل سواروں کے سردار رقص کر رہے تھے ان کے پیروں کی دھمک فیل سواروں کو ڈھولک کی تھاپ کا لطف دے رہی تھی۔وہ ناچ کود کے درمیان اپنے بلوان راجہ کا گڑ گان بھی کر رہے تھے۔کبیر بھرے من سے اٹھا اور اپنی بزرگ ٹولی کے ساتھ شہر کی طرف چل دیا۔

بوجھل قدموں سے شہر کی طرف لوٹتے کبیر نے دیکھا کہ سارا شہر جل رہا ہے۔ سڑکوں پر جلی کٹی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ شہری آپس میں دست و گریباں ہیں۔ کشت و خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔

بزرگ ٹولی کے لوگوں نے شہریوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ دو را جاؤں کے محل کی رنجش میں وہ کیوں کشت و خون کی ندیاں بہا رہے ہیں۔ آپس میں کیوں دست و گریباں ہیں۔بزرگوں کی ٹولی یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر یہ  لوگ کیوں ایسا کر رہے ہیں۔

کبیر جانتا تھا کہ یہ ایسا کیوں کر رہے ہیں وہ جانتا تھا کہ یہ دونوں را جاؤں کے ایسے عقیدت مند ہیں جو کہ اپنے اپنے راجہ سے لاشوں کی گنتی بتا کر اس کی قربت اور خوشنودی کا مطالبہ کرنے والے ہیں لیکن کبیر کو یہ بھی پتہ تھا کہ یہ ان کی ناکام کوشش ہے۔ کیونکہ نرم دل راجہ نازک بدن سے بہتا خون نہیں دیکھ سکتے۔

٭٭٭