کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

موت کی تمنا

الیاس ندوی رام پوری


عین اُس وقت جب وہ لذتیں کشید کر رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ایک رال اس کے بھدے کالے نچلے ہونٹ سے ٹپکی اور برہنہ جلد پر گر پڑی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اُس وقت اس نے تمنا کی ’کاش لذتوں کا اختتام نہ ہوتا‘۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اس نے سوچا موت لذتوں کی قاتل ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اس نے نگاہ اٹھائی اور  آسمان کو دیکھنا چاہا مگر نگاہ چھت سے ٹکرا گئی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔پر باطن کی نگاہ کانکریٹ کی موٹی چھت سے جس پر نیل ملے چونے کی دبیز تہہ جمی ہوئی تھی اس طرح پار نکل گئی جس طرح دھوپ شیشے کے پار نکل جاتی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اب وہ دل کی نگاہوں سے  آسمان دیکھ رہا تھا اور  آسمان کی بلندیوں میں کہیں چھپا ہوا موت کا خالق اسے نظر آ نے لگا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اس نے تمنا کی اور پھر تمنا دعا بن کر اس کے موٹے بھدے لبوں کے درمیان سے ابھری۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔دعا جس میں خواہش کی  آگ میں جلتے ہوئے ہر موئے بدن کی سسکاریاں شامل تھیں، گہرے اندھیرے اور سناٹے میں تن تنہا ساتویں  آسمان کی بلندیوں کی طرف پرواز کر گئی۔

’’ اے موت کے خالق !تو نے موت کو کیوں پیدا کیا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔زندگی کی پیدائش کے بعد موت کی تخلیق کی کیا تُک بنتی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔آخر کیا جواز بنتا ہے کہ موت زندگی کی رنگینیوں کے درمیان بنا کسی طے شدہ پروگرام اور پیشگی اطلاع کے  آئینہ کی دکان میں  آوارہ بیل کی طرح در آئے اور پھر سب کچھ یک لخت ختم ہو جائے۔یہاں تک کہ شیشہ کا ایک ٹکڑا بھی نہ بچے جس میں  آدھا ادھورا چہرہ دیکھا جا سکے اور ایک آدھا ادھورا بانس بھی باقی نہ رہے جس سے ٹوٹی پھوٹی بانسری بنائی جا سکے۔اور دل و نگاہ کے تاروں میں ارتعاش پیدا کیا جا سکے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اے موت کے خالق! مجھے موت نہ دینا کہ مبادا لذتوں کا تار ٹوٹ جائے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اے زندگی اور موت کے خالق!جب تو نے لذتوں کے تار میں ارتعاش پیدا کیا ہے تو اسے مزید مرتعش کر اور آدمی کے سر سے موت کا کھٹکا ہٹا دے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔تا کہ وہ بے کراں وسعتوں میں بنا کسی خوف کے اُڑے اور ہمیشہ اُڑتا رہے اور موت کے ڈر سے اس کا رنگ کبھی بھی زرد نہ ہو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اے زندگی اور موت کے خالق!۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ زیر لب بدبداتا رہا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اس کی نگاہ کا تل ابھی تک نیل ملے چونے کی دبیز تہہ پر جما ہوا تھا۔

پھر دل کی نگاہ کا چراغ بجھ گیا اور موت کا خالق بصیرتوں سے اوجھل ہو گیا۔اب اس کی نگاہ کی حد پر بارہ فٹ اونچی کانکریٹ کی چھت تھی، جس کے بالکل درمیان میں بجلی کا پنکھا دھیمی رفتار سے چل رہا تھا۔اس کا کشادہ بیڈ روم جدید زمانے کے تمام ضروری ساز و سامان سے  آراستہ تھا۔اور آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے حسین رات تھی۔وہ گزشتہ بیس سالوں سے اسی رات کی جستجو میں سرگرداں تھا۔اسے لگا کہ اس کی زندگی اَن گنت لمحات کی چین ہے اور اس کا ہر لمحہ اِس چین کو دھیرے دھیرے سرکاتا ہے یہاں تک کہ وہ لمحہ اچانک آدمی کی ٹانگوں کے درمیان آ کھڑا ہوتا ہے جس کا اسے بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔آج اسے اپنی زندگی کے تمام لمحات میں رس بھرا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ان میں بھی جو اسے اس وقت کڑوے کسیلے لگے تھے جب ان میں سے ہر ایک لمحۂ  موجود تھا اور ماضی کی گرد میں گم نہیں ہوا تھا۔

پھر ایک ساتھ کئی ساری جوشیلی بوندیں گریں اور لذتوں کا تار ٹوٹ گیا۔ اسے لگا جیسے کسی نے جلتے توے پر پانی ڈال دیا اور وہ ایک طرح کی اضطرابی کیفیت کے بعد ٹھنڈا پڑ گیا۔جیسے طاق پر رکھا ہوا چراغ آخری سانس لینے سے پہلے بھڑکتا ہے اور اپنے پیچھے دھوئیں کی مضطرب اور سیمابی لکیر چھوڑ جاتا ہے۔

پھر وہ اٹھ بیٹھا اور اوندھے منہ لیٹ گیا۔ابھی اس کی بے ترتیب سانسیں اپنے معمول پر بھی نہیں  آئی تھیں کہ اس کے دماغ میں غم روزگار کی فکروں کے درمیان مہابھارت چھڑ گئی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

’’اس سے تو یہی بہتر ہے کہ آدمی ساری زندگی لذتیں کشید کرتا رہے ‘ ‘اس نے سلگتے ہوئے دماغ سے سوچا اور نیند کی راہوں میں چراغاں کرنے کی کوششوں میں جٹ گیا۔مگر نیند کسی کی خواہشوں کا احترام کہاں کرتی ہے اور کسی کے چراغاں کرنے کی کچھ پرواہ کب کرتی ہے۔اسے تو اپنے وقتوں اور اپنے راستوں کی فکر ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔پھر وہ سوچ کی  آگ میں جلنے لگا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

’’مگر موت فکرِ  غمِ روز گار کی بھی تو قاتل ہے۔‘‘اس نے دل میں سوچا۔ اور اس بار اسے لگا کہ موت اپنے اندر کچھ نہ کچھ تُک تو ضرور رکھتی ہے۔موت ناقابل برداشت درد کے واسطے پین کلر ٹیبلیٹ کی طرح ہے۔

ہوائیں اپنی رفتار سے چلتی رہیں، موسم اپنے انداز اور حساب سے تبدیل ہوتے رہے، آفتاب اور چاند آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔آفتاب نکلتا تو چاند کہیں دور کسی اوٹ کے پیچھے چھپ جاتا اور جب چاند نکلتا تو آفتاب دور کہیں نظر نہ آنے والی جگہ پر جا چھپتا۔آفتاب اور چاند کی  آنکھ مچولی کے درمیان سے وقت دھیرے دھیرے سرکتا رہا جس طرح چاندنی رات دھیرے دھیرے سرکتی ہے۔در و دیوار سے، چھتوں سے اور پھر کھیت کھلیانوں سے۔یہاں تک کہ آفتاب کی سنہری کرنیں زمین کے ایک حصہ کو منور کرنے لگتی ہیں اور لذتیں کشید کرنے والے خمار آلود آنکھیں مسلتے ہوئے اور انگڑائیاں لیتے ہوئے خواب گاہوں سے نکلتے ہیں۔اور پھر معمول کے مطابق اپنے اپنے کاموں میں کولھو کے بیل کی طرح جٹ جاتے ہیں تاکہ لذتوں کی کشود میں مئے انگبیں کی لاگ کا احساس پیدا ہو اور اگلی رات کو پچھلی رات سے زیادہ حسین اور لذت انگیز بنایا جا سکے۔

پھر وہ دھیرے دھیرے غیر محسوس طریقہ سے بڑھاپے کی طرف بڑھنے لگا جیسے سایہ غیر محسوس طریقہ سے در و دیوار پر چڑھتا اور اترتا ہے۔ اسے لگا جیسے اس کی مٹھی سے ریت کھسک رہی ہے۔ اور اس کے بدن سے کوئی چیز آہستہ آہستہ نکل رہی ہے۔ جیسے کوئی شمع کے بدن سے ڈور نکال لے اور شمع کو پتہ ہی نہ چلے کہ اس کی متاع گم ہو گئی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اور پھر اس کی جگہ خلا رہ جائے، باریک اور لمبا۔پھر اسے لگا جیسے اس کے اندر خلا وسیع ہو رہا ہے اور بھوک بڑھ رہی ہے۔ اس کے خالی خولی جسم میں  آوارہ ہوائیں دندناتی پھر رہی ہیں اور اس کی ہوس کو دو آتشہ بنا رہی ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔بینائی روز بروز بوڑھی ہو رہی ہے اور شوقِ نظارہ دن بہ دن جوان ہو رہا ہے۔اس کی  آنکھوں کے  آگے اندھیر چھانے لگا اور اس کے ہاتھ پیر کپکپانے لگے۔

اس عجیب طرح کی کیفیت سے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں گزرا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ جب وہ جوان تھا تو طاقت اور بھوک ایک ساتھ بڑھتی تھیں مگر اب ایسا نہیں تھا۔اب جسم رکھنے والی چیزیں روز بروز کمزور ہوتی جا رہی تھیں اور جسم نہ رکھنے والی چیزیں زور پکڑتی جاتی تھیں۔بدن گھل رہا تھا اور روح طاقت پکڑ رہی تھی، اعضا سست پڑ رہے تھے اور خواہشیں فربہ ہو رہی تھیں۔ اس کے من میں موت کی تمنا جاگ اٹھی اور وہ اپنی اس خواہش کی  آگ میں جلنے لگا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔بالکل اسی طرح جس طرح وہ اس سے قبل زندگی اور زندگی کی پنڈلیوں سے لذتیں کشید کرنے کی خواہشوں کی  آگ میں جل رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ مگر موت کی خواہش کی  آگ میں جلنا اس کے لئے موت کی تمہید نہ بن سکا۔

ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اسے کسی چیز کے واقع ہونے سے پہلے ہی اس کا ادراک کر لیا۔اس نے وقت سے پہلے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ بہت پہلے  آنے والی المیہ زندگی کے بھاری قدموں کی دھمک محسوس کر لی تھی۔اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اور لمبی لمبی سانسیں کھینچنے لگا۔

’’ یار! تم تو نرے وہی ہو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔وہ کیا کہتے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟؟‘‘

’’بدھو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ہاں !بدھو‘‘ اس کے ایک چاپلوس مزاج دوست نے لقمہ دیاتو اسے یاد آیا۔

اس وقت جب اس نے اپنے جگری دوست سے محض روا روی میں یہ جملہ کہا تھا تب اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ جملہ اس قدر منحوس ہے کہ اس کا دوست اسے ہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ کر پردیس چلا جائے گیا۔مگر اس نے اپنے جانے کی وجہ نہیں بتائی تھی۔ شروع شروع میں اس کے خط اور فون آتے رہے۔پھر یہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا اور اسے لگا جیسے وہ اکیلا ہوتا جا رہا ہے۔پھر اس نے اپنے اسی طرح کے منحوس جملوں اور رویوں کا جائزہ لیا تو اسے سمجھ آئی کہ اسی باعث اس کے اہلِ خانہ اور اس کے اپنے درمیان دوریوں کے پودے پنپ رہے ہیں۔یہ جان کر اسے اور بھی اکیلے پن کا احساس ہوا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

ماں جس کے پہلو سے اس نے جنم لیا تھا، بیوی جس کے پہلو میں وہ سویا کرتا تھا، بیٹی جسے دیکھ کر وہ جیتا تھا اور بیٹا جسے اس نے بڑھاپے کا آخری اور واحد سہارا سمجھ کر اللہ سے مانگا تھا وہ سب اس سے شاکی رہنے لگے اور اس سے کھنچے کھنچے رہتے تھے جیسے وہ زمین پر نہ چل کر ان کے سینوں پر چل رہا ہو۔بجلی کے پنکھے کی رفتار کم کرنے کے لئے اسے ہزار بار سوچنا پڑتا۔ٹی وی کا چینل بدلنے کے لیے اسے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا پھر جب سب اپنے اپنے کام سے چلے جاتے تو وہ دیر تک سوچتا رہتا اور پھر اپنی ساری قوت جمع کر کے اٹھتا، وہ سوچتا کہ یہ سب میری ہی ملکیت ہے، یہ میری اپنی کمائی ہے، وہ اپنی ہتھیلی کی پشت پر ابھری ہوئی کالی نسوں کے جال کو چھوتا اور پھر کانپتے ہاتھوں سے بٹن دباتا، اسکرین پر اس کا من پسند چینل چلنے لگتا، پنکھے کی رفتار دھیمی کرتا اور اسے ذرا ذرا راحت کا احساس ہوتا۔ان میں سے کسی کی موجودگی میں وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔اسے تنہائیاں اچھی لگنے لگتیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔مگر جب یہ زیادہ دیر ٹھہر جاتیں، گھر کے سارے افراد دعوتوں میں چلے جاتے تو یہ تنہائیاں اسے بے سہارا جان کر پاگل کتوں کی طرح لپٹ جاتیں اور اس کے سارے بدن کو لہولہان کر دیتیں۔اس کے لیے گھر کے معنیٰ یکسر بدل جاتے اور اسے لگتا کہ الفاظ اپنے مدلولات پر دلالت نہیں کرتے۔ تب اسے احساس ہوتا کہ قیس نے گھر کیوں نہیں بنایا اور رشی گپھاؤں میں رہنا کیوں پسند کرتے تھے۔اسے اپنے ہی گھر میں قید ہونے کا احساس ہوتا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔کبھی کبھی وہ سوچتا کہ شاید یہ گھر اس کا اپنا نہ ہو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔وہ چوری چھپے الماری سے کاغذات نکالتا اور بے تابی سے دیکھنے لگتا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ان پر آج بھی اس کا نام اسی طرح لکھا ہوا تھا۔وہ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے نام کے ایک ایک حرف کو چھوتا جیسے وہ اپنے شیر خوار بیٹے اور بیٹی کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔پھر وہ کاغذات کو اپنے سینہ سے چمٹا لیتا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔یہ ساری جائداد میری ہے اور یہ گھر آج بھی میری ملکیت ہے۔نمکین پانی کے کئی قطرے یکے بعد دیگرے اس کی  آنکھوں کے تٹ سے اتر کر سوکھے اور پوپلے رخساروں کی گہری کھائی جیسی جھریوں میں جذب ہو جاتے۔

پھر ایک دن اس نے اپنے سراپا پر غور کیا اسے لگا کہ ایک ایک کر کے ساری چیزیں اس سے دور بھاگی جا رہی ہیں۔جیسے دھواں شمع سے دور بھاگتا ہے اور جس طرح بوئے گل چمن سے چوری چھپے نکلتی ہے۔اسے لگا کہ بینائی  آنکھوں کا ساتھ چھوڑ رہی ہے، دماغ یادداشت کو پکڑے رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہا، زبان قوت گویائی کھو رہی ہے، قوت سماعت کان کے پردوں کی گرفت سے  آزادی چاہتی ہے۔ہڈیوں نے گوشت چھوڑ دیا اور دانت گوشت پوست کی سرخ زمین چھوڑ کر مٹی اور پتھروں والی زمین میں کہیں دفن ہو کر پودوں کی تازہ غذا کا حصہ بن چکے ہیں۔دماغ کو شکایت ہے کہ اب کوئی اس کی نہیں سنتا۔ وہ دس بار حکم دیتا ہے تو ہاتھ ایک بار ہی ہلتے ہیں۔سو بار چلاتا ہے تو پیر ایک آدھ بار آہستہ سے  آگے بڑھتے ہیں۔اسے لگا جیسے اب کوئی چیز اس کے قابو میں نہیں، سوائے ایک روح کے اور سوائے ایک سانس کے جو جسم میں روح کی موجودگی کی واحد علامت ہے۔مولوی صاحب تو کہتے ہیں کہ ایسا قیامت میں ہو گا جہاں تمام اعضا آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ بلکہ اس کے خلاف گواہی بھی دیں گے۔ مگر ابھی تو قیامت نہیں  آئی۔ پھر میرے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔وہ سوچتا رہا یہاں تک کہ اس کے دماغ کی نسیں دھواں دینے لگیں۔

اب وہ زندگی سے عاری  آ چکا تھا اور موت کی تمنا کرتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اسے کیا معلوم تھا کہ لذتوں کے نشہ میں کی جانے والی دعا قبول کی جاچکی ہے اور اب اسے موت نہیں مل سکتی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔یا اتنی جلدی اور  آسانی سے نہیں مل سکتی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ اس کا اپنا انتخاب ہے۔ اب وہ رات دن اس بد گھڑی پر روتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔پھر اسے ہر اس چیز سے نفرت ہونے لگی جو اس بد گھڑی کے وارد ہونے کا سبب بنی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔بے موسم اور بے سبب بارش۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔نشیب کی طرف بہتا ہوا اور پہاڑوں کی چوٹیوں سے گرتا ہوا پانی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔دھان کی ادھ پکی ہوئی بالیوں کے سروں پر سرکتی ہوئی ہوائیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔بے لگام خواہشوں کے دراز تر سلسلے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ربر اور ریشم جیسے ملائم اور گداز جسم، ان کے نشیب و فراز۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ سفید دانت اور مسکراتے ہونٹ۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ کالے لمبے بال، بالوں میں گندھی ہوئی لٹیں اور لٹوں میں الجھائے گئے بیلے کے سفید ننھے پھولوں کے گچھے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ململ کے کپڑے، ان کے گوٹے د۱ر کنارے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ کامدار ساڑھیاں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ سفید دوپٹے اور کالے برقعے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ مرغ مسلم اور گرم مسالے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ تازہ پھل اور خشک میوہ جات۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔شباب آور گولیاں، گرم اور میٹھے دودھ کے ساتھ کھائے جانے والے گیروے اور پیلے رنگ کے کیپسول، خالص شہد سے تیار کی گئی معجونیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر اور حکیموں کے نسخے اور ماہرین نفسیات کے شہوت آمیز اور لطف انگیز مشورے۔۔ ۔۔۔۔۔۔بغل اور گردن کے مسامات سے پھوٹتا ہوا بدبو دار پسینہ اور جوشیلی بوندیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔خواہش کی  آگ میں جلتے ہوئے نرخرے اور نرخروں میں پھنس کر چلتی ہوئی سانسیں۔

 پر اب نفرت سے کیا ہو سکتا تھا بد گھڑی تو آ چکی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

کاش وہ لازوال زندگی کی تمنا کرنے سے پہلے ہی مر چکا ہوتا۔

بڑے بوڑھے کہتے تھے اسے راجا گدھ کی عمر لگ گئی ہے اب یہ ڈھائی سو برس تک زندہ رہے گا، یا اس سے بھی زیادہ یا پھر ہو سکتا ہے کہ اسے موت ہی نہ آئے، جیسا کہ خضر علیہ السلام کو موت نہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔کچھوے کی رفتار سے  آتا ہوا بڑھاپا اس کی زندگی کو دن بدن صبر آزما بنا رہا تھا۔ دور دراز کے شہروں اور ملکوں تک اس کے بارے میں عجیب و غریب خبریں پھیل گئی تھیں۔ ہر دوسرے تیسرے روز بڑی بڑی کاریں اور بسیں اس کی حویلی نما مکان کے دروازے پر آ کر رکتیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ کچھ لوگ جو پردیس سے  آتے تھے وہ اس کی طویل عمر کا راز جاننا چاہتے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ کئی بار ان کے ساتھ ان تحقیقاتی ٹیموں کے سربراہ بھی ہوتے تھے جو کچھووں اور گِدھوں پر کام کر رہے تھے اور وقتاً فوقتاً اخبارات میں ان کی پیشین گوئیاں شائع ہوتی تھیں کہ انہوں نے طویل عمر کا راز جان لیا ہے اور  آنے والی چند صدیوں تک انسان اس لائق ہو جائے گا کہ وہ خود کو امر بنا سکے گا۔ موت اور زندگی اختیاری چیزیں بن جائیں گی۔جو بازار میں  آٹے اور دال کے بھاؤ بیچی اور خریدی جا سکیں گی۔

ایک بار اس نے اِس طرح کی خبر پڑھی تو گھبرا گیا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔صبر آزما زندگی کی مشکلات سے جوجھتا ہوا یہ شخص بدحواسی کے عالم میں  آرام کرسی سے اٹھ بیٹھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

’’پھر تو بہت برا ہو گا، ہر شخص بذات خود ایک جہنم بن جائے گا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ دنیا کو پیدا کرنے والے کا کام ختم ہو جائے گایا بہت کم ہو جائے گا۔جب لوگ مریں گے نہیں تو پیدا بھی نہیں ہوں گے۔تخلیق ٹھٹر کر رہ جائے گی۔ اور صدائے ’ کن ‘ہمالیہ کے دراز تر سلسلوں کی گہرائی اور اونچائیوں کے درمیان صدائے بازگشت کی طرح بھٹکتی پھرے گی۔جس کے باعث یہ دنیا مزید ہولناک اور ڈراؤنی ہو جائے گی۔لوگوں کے دل دہشت سے پھٹ جائیں گے اور مائیں ایسے بچوں کو جنم دیں گی جن کے دلوں میں سوراخ ہوں گے اور دماغوں میں انجان وحشتوں کا بسیرا ہو گا۔

 زندگی اور موت سرکار کی سرپرستی میں چلی جائے گی۔ ہر سال پارلیمنٹ میں ایک بل پاس کرایا جائے گا کہ اس سال اتنے لوگوں کو موت دینا ہے اور اتنے نئے لوگوں کو پیدا کرنا ہے۔ پھر تو انسان بولر مرغی کے بچوں کی طرح ہو جائے گا۔ کھپت زیادہ ہوئی تو زیادہ بچے پیدا کر لئے، کھپت کم ہوئی تو کم پیدا کر لئے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔یا باقی رہ جانے والوں کا گلا روند دیا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔پھر اگر کسی سال لوگ زیادہ پیدا کر لئے تو حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو تشویش ہو گی۔ سروے کرایا جائے گا اور پھر رپورٹ تیار کی جائے گی۔ گذشتہ برس ایک کروڑ افراد کی تیار ی پر دس ارب روپئے کی لاگت آئی تھی اور ان کو ایک ہزار سال تک زندہ رکھنے کے لئے لاکھوں ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ جبکہ ہم اتنے سارے لوگوں کو نوکریاں بھی نہیں دے سکتے۔ پتہ نہیں یہ بل کس طرح پاس کر لیا گیا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ گذشتہ سرکار کی یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ اور نئی سرکار کے سامنے یہ بہت بڑی چنوتی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اس کا بس ایک ہی علاج ہے کہ ان تمام افراد کو مشین میں ڈال کر ان کا گلا روند دیا جائے، ان سے حاصل ہونے والے خون کو بلڈ بینک بھیج دیا جائے، گوشت قصائی کو اور ہڈیاں کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو بیچ دی جائیں۔ اس طرح ہمیں نہ صرف یہ کہ لاگت واپس مل جائے گی بلکہ مزید اربوں ڈالر کا منافع بھی ہو گا اور ہاں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ان کے اعضائے رئیسہ جیسے  آنکھیں، گردے اور دل وغیرہ سے بھی اچھا منافع کما یا جا سکتا ہے۔

اور پھر آناً فاناً رپورٹ تیار کر لی جائے گی۔میڈیا سے لے کر پارلیمنٹ تک بحث کا ایک سلسلہ شروع ہو گا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ پھر سارے ملک سے اس کی تائید میں  آوازیں اٹھیں گی۔ تحریکیں چلائی جائیں گی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اور پھر نئی سرکار میں بل پاس کر لیا جائے گا۔‘‘

اس کی گنجی کھوپڑی چٹخنے لگی اور ہاتھ پیروں میں رعشہ طاری ہونے لگا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اس نے کپڑے پھاڑ دئیے اور انجانی راہوں پر سرپٹ دوڑ گیا۔ کھیت کھلیان اور  آبادیوں سے گزر تا رہا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اور جب تھک کر چور ہو گیا تو ایک بوڑھے برگد کے نیچے بے سدھ گر پڑا۔

کچھ دیر بعد اسے ہوش آیا تو اسے پتہ چلا کہ بوڑھے، بچوں اور جوانوں کی ایک بھیڑ اس کو گھیرے ہوئے ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اس پر پھر سے گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔۔ ۔۔۔۔ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھتا رہا۔۔ ۔۔۔۔۔ اور پھر جدھر کو سینگ سمائے ادھر ہی کو بے تحاشہ بھاگنے لگا۔ اس کے ارد گرد جمع بھیڑ بھی اس کے پیچھے دوڑی، بچے غل غپاڑہ کرتے اور ڈھیلے پتھر پھینکتے اس کے پیچھے تھے اور سب سے پیچھے بڑے بوڑھے بندوقیں اور لاٹھیاں لئے گرتے پڑتے دوڑ رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔بچوں نے راستہ کاٹا اور اگلے گاؤں کو مڑنے والی سڑک کے کنارے پر اسے جالیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔بڑے بوڑھے بھی ہانپتے کانپتے پہونچے۔۔ ۔۔۔۔۔۔اور پھر بے سوچے سمجھے اسے مارنے پر تل گئے۔حالانکہ ان میں سے کئی بزرگوں کو پتہ تھا کہ بے وقت کسی کو موت نہیں  آ سکتی۔

’’ارے، ارے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اس بے چارے کو کیوں مار رہے ہو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔آخر اس بوڑھے  آدمی نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ؟‘‘ راہ گیر نے لوگوں سے سوال کیا۔

’’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اسے موت کیوں نہیں  آتی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟‘‘

’’موت نہیں  آتی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟ یہ تو پہلے ہی سے ادھ مرا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اور یہی کوئی دن دودن کا مہمان ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘

’’نہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔یہ اتنی جلدی نہیں مر سکتا، اسے کچھووں اور گِدھوں کی عمر لگ گئی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘

’’اچھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ہاں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر لوگ بھی یہی بتاتے ہیں اور خود اس کے پڑوسیوں کا بھی یہی خیال ہے ‘‘ایک معمر آدمی نے چترائی سے جواب دیا۔

’’مگر ایسا کر کے تم کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟‘‘

 ’’ ہم بھی اس کی طرح لازوال زندگی پانا چاہتے ہیں۔‘‘

’’مگر کیوں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟ زندگی تو تکلیف دہ ہے جبکہ موت آرام ہی  آرام ہے۔تو تم آرام کے بدلے تکلیف کیوں خریدنا چاہتے ہو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟‘‘

’’ہمیں موت سے ڈر لگتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ موت آتی ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ہاں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔بالکل صحیح بات ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ایک دفعہ میں نے ایک آدمی کا گلا روندا تھا تو وہ بہت تڑپ تڑپ کر مرا تھا‘‘ ایک آدمی جو ذرا فاصلے پر بندوق لئے کھڑا تھا اونچی  آواز میں چلایا۔

’’اور کہتے ہیں کہ موت کے بعد دوزخ میں جانا پڑتا ہے۔ اُدھر آگ ہی  آگ ہے۔ اور اُدھر کسی کو موت بھی نہیں دی جاتی۔‘‘ایک شخص نے جس کے ہاتھ پیروں میں رعشہ آ گیا تھا اپنی سانس پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

’’ہاں ! ہم ایسی موت نہیں چاہتے جس کے بعد دوزخ ہو اور نہ ایسی زندگی چاہتے ہیں جس کے بعد موت ہو۔‘‘پھر کئی  آدمی ایک ساتھ بولنے لگے۔ بچے ابھی تک اس شخص کا تماشہ بنائے ہوئے تھے۔

’’مگر خدا نے از خود زندگی کو دو روپ دئے ہیں، ایک وہ جسے موت قطع کرتی ہے اور ایک وہ جسے موت قطع نہیں کر سکتی۔دنیا کی زندگی میں موت ہے اور آخرت کی زندگی میں موت نہیں ہے۔اور انسان کو زندگی کے دونوں روپ عطا کئے گئے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔تو پھر تم جلدی کیوں کر رہے ہو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔تمہیں موت کے بعد لازوال زندگی خود بخود مل جائے گی۔‘‘

’’نہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ہم اس ترتیب پر راضی نہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ہم اس ترتیب کو الٹنا چاہتے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ہمیں وہ زندگی پہلے چاہئے جس کی  آنکھوں میں موت کی پرچھائیں نہیں۔‘‘

راہ گیر کا ذہن زندگی، موت اور انسان کی  آرزوؤں کے کھیل کے گورکھ دھندوں میں الجھ گیا۔ اس نے اپنی پیشانی سے پسینہ کے قطرے صاف کئے اور  آگے بڑھ گیا۔

’’تعجب ہے ! یہ لوگ اس کو مارنا چاہتے ہیں جسے ابھی موت نہیں  آسکتی۔یہ ایسی زندگی کا بد انجام اپنی  آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جس کے دروازے پر موت کا پہرہ نہیں اور پھر بھی اسی زندگی کی تمنا میں مرے جا رہے ہیں۔‘‘

ایک سرکاری نمائندہ کو معلوم ہوا تو اس نے پولیس کے ذریعہ اس کو لوگوں سے  آزاد کرایا اور کچھووں اور گِدھوں پر ریسرچ کرنے والی بدیسی ٹیم کے ہاتھ ان گنت ڈالر کے عوض بیچ دیا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔جہاں اسے بڑی بڑی مشینوں پر رات دن چڑھایا اور اتارا جانے لگا اور بالشت بھر لمبی اور انگلی کے پور ایسی موٹی سوئیاں اس کے جسم میں چبھوئی جانے لگیں۔

 جب ریشم جیسے سنہرے بالوں والی لڑکیاں انگلی کے پور ایسی موٹی سوئیاں لئے اس کی طرف آتیں تو اس کا سارا جسم تھر تھر کانپنے لگتا۔مٹیالے رنگ کے ٹیپ سے چپکے ہوئے ہونٹ اندر ہی اندر کانپ کر رہ جاتے۔وہ چیخنے کی کوشش کرتا مگر اس کی  آواز سختی کے ساتھ بند لبوں کی اندرونی دیواروں سے ٹکرا کر واپس پلٹ جاتی اور اس کے اندرون میں صدائے بازگشت کا ایسا شور بپا ہو جاتا جیسے ہمالیہ کی بلند چوٹیوں کے درمیان صدائے ’کن‘ کے ٹکرانے سے پیدا ہوتا ہے۔جیسے پانی بھرے بادلوں کے  آپس میں ٹکرانے سے بجلی کا کڑکا پیدا ہوتا ہے اور  آہوانِ صحرا میں اور زمین کے سیکڑوں فٹ نیچے چیونٹیوں کی بستی میں افرا تفری مچ جاتی ہے۔ وہ ہاتھ پیر مارنا چاہتا مگر مشینوں کی مضبوط گرفت اس کو ایسا کرنے سے باز رکھتی، پھر اس کی  آنکھیں ابلے ہوئے انڈے کی طرح باہر کی طرف نکل  آتیں۔اس وقت اسے شدت کے ساتھ وہ لمحہ یاد آتا جب اس نے موت سے نفرت کی تھی اور ہمیشہ کی زندگی کی تمنا اس کے لبوں سے دعا بن کر ابھری تھی اور بے کراں  آسمان کی وسعتوں میں کہیں گم ہو گئی تھی۔

آزمائش کی اس درد انگیز گھڑی میں اس کے لیے زندگی اور موت کے معانی یکسر تبدیل ہو گئے۔بلکہ اسے دنیا کی ہر شئی کا روپ بالکل عجیب طرح کا لگنے لگا، ایسا جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں لگا تھا۔موت اسے رحمت کے فرشتے جیسی لگی اور ریشم جیسے بالوں والی لڑکیاں چڑیلوں جیسی نظر آئیں۔اس نے اپنے خیال میں زمین کی سطح پر ہاتھ پھیرا، یہاں مٹی پتھر اور پانی کے سوا کچھ نہ تھا۔

٭٭٭