کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

صلاۃ الحاجت

الیاس ندوی رام پوری


آٹو رکشا نظر کے  آخری سرے پر جا کر داہنی طرف مڑ گیا۔

اور میرے غم اسی طرح آہستہ آہستہ پگھلنے لگے جس طرح ماضی کے دنوں میں میری شعلہ بار ہتھیلی پر آہستہ آہستہ اور دل بستہ گدگدی کے ساتھ برف پگھلا کرتی تھی۔

جس وقت میری رگوں میں گرم خون دوڑتا تھا اور میرے جسم کی  آنچ ہر وہ شخص محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتا تھا جواس جگہ بیٹھتا جہاں سے میں اٹھتا تھا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے۔یہ ماضی کے انہی دنوں کی باقی ماندہ یادداشتوں میں سے ایک ہے۔

’’بھائی صاحب‘‘ نورین دبے پاؤں چل کر آتی اور میرے عقب سے چہکتی۔

’’کیا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔؟‘‘

’’ہاتھ دکھانا ذرا۔۔۔۔‘‘

’’کیوں۔۔ ۔۔۔؟‘‘

’’دکھاؤ تو۔۔۔ایک بات ہے۔۔۔۔‘‘

اور میں بھولے پن کے ساتھ اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیتا۔مئی و جون کی سلگتی ہوئی دوپہروں میں، جب چڑیاں گھنی ٹہنیوں پر دم سادھے بیٹھی رہتی تھیں اور نومبر و دسمبر کی نیم سرد شاموں میں، جب چڑیاں درختوں پر چہچہا رہی ہوتی تھیں۔نورین کو ہر نئے موسم میں نئی شرارت سوجھا کرتی تھی۔

اور پھر اگلے لمحے اپنی ہتھیلی پر فریج سے نکالی ہوئی برف کی ڈلی کی ٹھنڈک ہتھیلی کی نسوں میں گہرائی تک اترنے کا احساس ہوتا۔۔ ۔۔۔۔۔اور پھر وہ کھلکھلا کر ہنستی۔۔ ۔۔۔۔۔اور اپنے من میں خوش ہوتی، یہ سوچ کر کہ آج اس نے مجھے ستانے کی ایک چال میں ہنر مندی دکھائی ہے۔۔ ۔۔۔مگر جب وہ مجھے پرسکون دیکھتی اور میری ہتھیلی پر تیزی کے ساتھ پگھلتی ہوئی برف کا نظارہ کرتی تو ایک بار پھر شکست خوردگی کے احساس سے اس کے من میں ڈھیر ساری چیزیں ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جاتیں اور وہ بس منہ بسور کر رہ جاتی۔

میرے من میں غموں کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے تھے اور میں دور جاتے ہوئے  آٹو رکشا کی اندھیرے اور دھند میں ڈوبتی ہوئی عقبی لال بتیوں کو غم آلود نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔یہاں تک کہ وہ نظر کے  آخری سرے پر جا کر دا  ہنی طرف مڑ گیا۔۔۔۔اور میرے من میں ریزہ ریزہ ہو کر ٹوٹتے بکھرتے غموں کے پہاڑوں کے ٹوٹنے بکھرنے کے عمل میں مزید شدت پیدا کر گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔ منظر جب ٹوٹتے ہیں تو شدتِ غم کے احساس کو نشتر چبھوتے ہیں۔اور دکھتے دلوں میں داغ لگاتے ہیں۔اردو کے ایک بڑے شاعر نے پتہ نہیں کن احساسات کے تحت آسمان کی بلندیوں پر ایک اور منظر بنانے کی تمنا کی تھی؟۔۔ ۔۔۔۔۔میں اگر ان کا ہم عصر ہوتا تو انہیں اس سے باز رکھنے کی اپنی سی کوشش ضرور کرتا۔

’’کہاں رہتے ہو؟‘‘میں ایسے مواقع پر عموماً خاموش رہتا ہوں۔۔ ۔۔۔۔ مگر آج پتہ نہیں کیوں اور کس انجانے جذبے کے تحت میں  آٹو والے سے پوچھ ہی بیٹھا تھا۔

’’نئی بستی‘‘ ڈرائیور نے اپنے سامنے ذرا اوپر کی طرف لگے ہوئے مستطیل  آئینہ میں میرے چہرے کا بغور معائنہ کرتے ہوئے جواب دیا تھا۔

’’اور اِدھر کہاں جا رہے ہو؟‘‘

’’غفور نگر۔۔ ۔۔۔۔۔اپنی پہلی بیوی کے پاس۔۔ ۔۔۔۔۔میری دو بیویاں ہیں سر جی، ایک میری اپنی پسند کی اور دوسری میرے گھر والوں کی پسند کی۔۔ ۔۔۔۔اللہ کا شکر ہے دونوں کو خوش رکھتا ہوں۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘

اس سے قبل کہ میں دو بیویوں والی بات پر حیرت کا اظہار کرتا یا اس سے متعلق کوئی تیکھا سوال کرتا اس نے میری متجسس نگاہوں کو آئینہ میں دیکھا اور خودبخود اپنی داستانِ عشق شروع کر دی۔

شاید اسے یہ خوف تھا کہ میں دو بیویوں کی بات سن کر ناگواری کا اظہار کروں گایا پھر اس سے کوئی ایسا سوال کر بیٹھوں گا جس کا جواب اس کے پاس نہیں ہو گا۔ اس لیے وہ بغیر سانس لئے شروع ہو گیا۔

’’اللہ کا شکر ہے دونوں کو خوش رکھتا ہوں ‘‘یہ جملہ اس کے خوف کی چغلی کھا رہا تھا، ہو سکتا ہے اس کو دو بیویوں کے تعلق سے سماج کی طرف سے بہت سے بے ہنگم سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔۔ ۔۔۔اس کے بعض مُنقّہ نما سر والے دوست اسے چڑھا تے ہوں اور ہر گلی کے نکڑ پر آلتی پالتی مار کر نکلتی ہوئی توند اور پچکے ہوئے پیٹوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے بعض بزرگ اس پر جملے کستے ہوں۔۔۔بے ہودہ اور غلیظ جملے۔۔ ۔۔۔شاید اس نے مجھے بھی اسی قماش کا آدمی سمجھا ہو گا۔ تبھی تو وہ خوف کی ایک انجانی کیفیت میں مبتلا ہوا۔اور اس کیفیت پر غلبہ پانے کے لیے مذکورہ جملے کا سہارا لیا۔۔۔۔تو کیا الفاظ بھی سہارا بنتے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔شاید۔’’اونہو۔۔ ۔۔۔۔۔میں بھی نا۔۔ ۔۔۔۔پتہ نہیں ہر وقت یہ الٹی سیدھی باتیں کیوں سوچتا رہتا ہوں۔۔۔۔تھو۔۔۔‘‘ میں اپنے پر جھنجھلایا اور الٹے پاؤں بھاگتی ہوئی کولتار کی سڑک پر منہ کی غلاظت پھینکی۔ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر پہلی والی پوزیشن میں سنبھل کر بیٹھا، سامنے والے  آئینہ میں ڈرائیور کو دیکھا اور اس کو زچ کرنے والا سوال داغا۔

’’تو اب کونسی والی کے پاس جا رہے ہو۔۔ ۔۔۔۔اپنی پسند والی کے پاس یا ماں باپ کی پسند والی کے پاس؟‘‘

’’اپنی والی کے پاس‘‘ اس کا اشتیاق دیدنی تھا، اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ اس وقت اس کے من میں ستارے جھل ملا رہے ہیں۔اس کا چہرا بھرا بھرا تھا، آنکھیں بڑی بڑی اور پیشانی کشادہ تھی۔۔ ۔۔۔پہلی نظر میں وہ تیس پینتیس کا لگتا تھا۔نکلتا ہوا قد، سڈول جسم اور چہرے پر ہلکی خشخشی داڑھی۔ آواز میں ترنگ تھی اور  آنکھوں میں سرور عشق کی شفق زدہ لہریں موجزن تھیں۔

اس نے ’پسند‘ کا لفظ بیچ سے غائب کر دیا۔ اور مجھے لگا جیسے دوسری والی اس کی اپنی نہ ہو۔۔ ۔۔۔۔آج پہلی بار مجھے ان تمام لڑکیوں پر ترس آیا جو اپنی پسند کے مقابلے میں ماں باپ کی پسند کو ترجیح دیتی ہیں۔

’’۔۔۔۔اچھا‘‘ میں اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکا۔ میں دوسری فکر میں الجھا ہوا تھا۔۔۔دوسروں پر ترس کھانے والی فکر میں۔۔۔اس لیے مجھے کوئی جواب نہ سوجھ سکا۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں پر رحم کھانے کے چکر میں میری اپنی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے۔اور مجھے اُن دِنوں سے رغبت ہونے لگتی ہے جن میں چنار کے دیو پیکر درخت آگ کا چولا پہن لیتے ہیں۔اور اکیلے اور تنہا دلوں کو گرم راکھ میں دبے ہوئے اپلے کی طرح سلگاتے ہیں۔

’’لو، پچاس اپنی پسند والی کو دے دینا اور پچاس ماں باپ کی پسند والی کو‘‘ میں نے پچاس پچاس کے دو نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔میں ’پسند‘ کے لفظ کو اس کی اپنی جگہ بحال کرنا نہیں بھولا تھا۔میرے ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکان تھی باوجود اس کے کہ مجھے مسخرہ پن اور مسخرے لوگ بالکل بھی پسند نہیں۔میں اپنی اِس متضاد افتادِ طبع پر ہمیشہ متعجب رہتا ہوں۔

’’سر جی، دعا کرنا میرے لیے۔۔ ۔۔۔۔۔میری چار بہنیں ہیں اور دو بیٹیاں۔۔ ۔۔۔باپ بیمار رہتے ہیں اور بڑی بیٹی معذور ہے۔ اور میں اکیلا کمانے والا ہوں۔۔ ۔۔۔۔بس یہی ایک فکر ہے کہ کسی طرح میری بہنوں کا گھر بس جائے۔۔۔ان کا حق بھی ادا کرنا ہے۔۔ ۔۔۔۔بیٹیاں تو ابھی چھوٹی ہیں ‘‘

’’کیوں !۔۔۔ کیا ہوا اس کو؟‘‘

میں نے باپ کی بیماری کو نظر انداز کرتے ہوئے خصوصی طور سے اس کی بیٹی کے بارے میں قدرے حیرت اور دکھ کے ساتھ دریافت کیا۔

’’ وہ پیدائشی نابینا ہے ‘‘اس نے دو منزلہ بس کو مہارت کے ساتھ اور ٹیک کیا اور قدرے توقف کے بعد بولا۔

’’اُف! یہ تو بہت دکھ کی بات ہے ‘‘

’’جی ؛ مگر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔جیسی اللہ کی مرضی، اس کی مرضی میں تو کوئی دخل نہیں دے سکتا نا۔۔ ۔۔۔۔‘‘

’’ہوں ‘‘ میں بس’ ہوں ‘ کر کے ہی رہ گیا۔کیونکہ میں اس وقت پیدائشی طور پر نابینا افراد کی زندگی کی مشکلات کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔جن کے لیے رنگ کچھ معنٰی نہیں رکھتے۔جن کے لئے حسن بے کیف ہے اور جو تاریکی کی ایک صورت کے سوا کسی اور صورت کو نہیں پہچانتے۔ایک لمحہ کو مجھے لگا جیسے ان کی تلخ زندگی کا زہر میرے رگ و پے میں قطرہ قطرہ اتر رہا ہے۔اور میں تلخیِ کام و دہن کی  آزمائش کے کرب سے کب کا گزر چکا ہوں۔

مگر میں تو دانا و بینا ہوں پر میری زندگی کے ساگر میں ان سے کئی گناہ زیادہ تلخی گھلی ہوئی ہے۔انہوں نے رنگوں کو نہیں دیکھا اس لئے وہ ان کے انتخاب کے  آزار سے محفوظ ہیں، انہوں نے حسن کو نہیں جانا اس لیے وہ اس کی سادگی پر فریفتہ نہیں ہوئے اور جب فریفتہ نہیں ہوئے تو اس کی پرکاری کے جال سے بھی بچ کر نکل گئے۔وہ کم از کم ان سے تو اچھے ہی ہیں جو میری طرح بینا ہیں مگر محروم تماشا ہیں۔جو چیزوں کو دیکھ اور محسوس تو کر سکتے ہیں مگر شاد کام نہیں ہو سکتے، روشنیوں کے شہر میں عدم مساوات کی تاریکیوں کے پھلنے پھولنے کے باعث۔اور اس باعث کہ ان کے ملک میں  آسمان کا غرور خاک میں ملانے والی اونچی اونچی عمارتیں ہیں مگر ان کے سائے میں چین کی نیند سوتی ہوئی بھوک کا سینہ غرور سے پھٹا جا رہا ہے۔

’’۔۔۔مگر اللہ نے اسے بے مثال خوبصورتی اور لا ثانی  آواز سے نوازا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے اس کا بے مثال حسن اور لاثانی  آواز اس کی  آنکھوں کا کفارہ ہیں۔ اس کی ماں۔۔۔میری پہلی بیوی۔۔۔۔اسے بازار اور شادی کی تقریبات میں بھیجتے ہوئے بھی ڈرتی ہے۔۔۔اسے ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ اسے نظر لگ جائے گی۔۔۔اِدھر ایک ذرا جسم گرم ہوا، ذرا چھینک آئی اور اُدھر اس نے نئے کپڑوں کی کترن جلانا شروع کیں۔نظر اتارنے کا یہ طریقہ اس نے اپنی ماں سے سیکھا تھا۔۔ ۔۔۔جب وہ کلام پاک پڑھتی ہے تو راہ گیر بھی ٹھہر جاتے ہیں۔۔۔۔ایسا لگتا ہے جیسے ساتویں  آسمان سے فرشتے قطار در قطار اتر رہے ہیں ‘‘

وہ اپنی بیٹی کی تعریف میں مگن تھا اور میں اپنی فکر میں ڈوبا ہوا تھا۔جب آٹو نے ہلکا سا جھٹکا لیا اور بریک کی ہلکی چرچراہٹ کے ساتھ انجن کی گھر گھر کم ہوئی تو میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور میں نے رسمی انداز میں اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔

’’ضرور دعا کروں گا بھائی تمہارے لئے، تم اتنے اچھے انسان ہو۔۔۔خوش اخلاق اور ملنسار۔‘‘

’’جی سر جی، ضرور دعا کیجئے گا۔اللہ حافظ‘‘

’’اللہ حافظ‘‘  میں  آٹو سے اترا اور تارکول کی ٹھنڈی سڑک کے کنارے کھڑا ہو گیا۔سڑک کے دونوں اطراف کھڑے چھوٹے بڑے درختوں نے سڑک کو دونوں طرف سے لمبی لمبی ٹہنیوں کی  آغوش میں لیا ہوا تھا۔

اس نے گیئر ڈالا اور رکشا آگے بڑھا دیا۔۔ ۔۔۔۔۔عقبی لائٹیں دھند اور اندھیرے میں  آہستہ آہستہ غائب ہو رہی تھیں اور میں ایک جگہ پر جامد کھڑا سوچ رہا تھا کہ یہ شخص جو راستہ بھر چہکتا رہا اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتا رہا اپنے من کے سمندر میں غموں کے اتنے سارے پہاڑ چھپائے ہوئے تھا۔

آدمی کے من میں سمندر سے کہیں زیادہ وسعت ہے وہ اپنے اندر سمندر سے بھی زیادہ خزانے چھپا سکتا ہے۔آٹو ڈرائیور کو دیکھ کر آج پہلی بار میرے دل میں یہ احساس جاگا۔۔۔اور میرے غم آہستہ آہستہ اسی طرح پگھلنے لگے جس طرح جوانی کے دنوں میں میری گرم ہتھیلی پر برف پگھلا کرتی تھی۔ آہستہ آہستہ اور دلگداز ٹھنڈک کے احساس کے ساتھ۔مجھے اِس وقت نورین کی برف والی شرارت شدت کے ساتھ یاد آ رہی تھی۔نورین کو میں نے  آخری بار اس وقت دیکھا تھا جب وہ اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش کے سوا ماہ بعد اپنے ماں باپ کے پاس آئی تھی، اس کی گود میں اس کا بیٹا تھا، موٹا تازہ اور گول مٹول۔اس وقت وہ بہت کمزور لگ رہی تھی۔جیسے کسی بڑی  آزمائش سے گزری ہو۔

میرا گھر ایک فرلانگ کے فاصلے پر تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔مگر مجھے کوسوں دور معلوم ہو رہا تھا۔ میرے پیر من بھر کے ہو رہے تھے، کھلے  آسمان تلے سرد ہوائیں مستی بھری چال چل رہی تھیں اور میرے دماغ میں باقی ماندہ غم کی تلچھٹ ہچکولے کھا رہی تھی۔ میں صبح اندھیرے منہ گھر سے نکلا تھا اور اب شام کا دھندلکا گہرے اندھیرے میں تبدیل ہو رہا تھا۔آج میرا کم از کم یہ دسواں انٹر ویو تھا اور نا امیدی، غم و اندوہ کے سایوں کو مزید گھنیرا کر رہی تھی۔نوکری چھوٹے ہوئے پانچ ماہ ہو چکے تھے اور اس مدت میں دسیوں انٹرویو دے چکا تھا۔۔ ۔۔۔قرض بڑھتا جا رہا تھا اور میرا بلڈ پریشر ڈاؤن ہوتا جا رہا تھا۔آج ہی گھر سے فون آیا تھا کہ امی کی طبیعت مسلسل بگڑتی جا رہی ہے ان کے علاج کے لیے نقدی کی ضرورت ہے۔۔ ۔۔۔۔ادھر گھر پر میرے تین بچوں کا کھانستے کھانستے برا حال ہو رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں جہنم کی طرف بڑھ رہا ہوں۔۔ ۔۔۔۔۔۔کاش آٹو ہی میں بیٹھے بیٹھے رات بسر ہو جاتی اور صبح ہوتے ہی گیارھویں انٹرویو کے لیے پھر کسی دور دراز کے علاقے کی طرف روانہ ہو جاتا۔۔ ۔۔۔۔تاریکی بڑھ رہی تھی اور ہوا میں طوفانی شدت آتی جا رہی تھی۔خوشحالی کے دنوں میں ایسے موسم سے اکثر لطف اندوز ہوتا تھا۔ تن من میں گدگدی کر کے گزرتی ہوئی ہوائیں مجھے ہمیشہ سے ہی اچھی لگتی تھیں۔مگر آج معاملہ بر عکس تھا، آج مجھے ان پر غصہ آ رہا تھا جیسے یہ باہر نہ چل کر میرے دماغ میں چل رہی ہوں اور ان نا گفتہ بہ حالات کے مجھ پر وارد ہونے میں کچھ نہ کچھ ان کا بھی دوش رہا ہو۔ مگر یہ مکمل سچ نہیں تھا۔

جب میں خیالات کی بھول بھلیوں سے واپس لوٹا تو اپنے  آپ کو مسجد کے صحن میں پایا، مجھے اس کا احساس ہی نہ ہوا کہ کس طرح گھر کے راستہ پر چلنے کے بجائے مسجد کے راستے پر چل نکلا تھا۔

میں نے وضو کیا اور دو رکعت صلاۃ الحاجت کی نیت باندھ لی، میرے اندرون میں  آندھی و طوفان چل رہے تھے۔آج مجھے اپنی حالت پر رونا آ رہا تھا، کشادہ مسجد میں اکیلے روشن بلب کی ملگجی روشنی اور ڈراؤنا سناٹا مجھے رونے میں مدد دے رہا تھا۔۔ ۔۔۔میں زور زور سے تلاوت کرنے لگا۔۔ ۔۔۔حالانکہ میں زیادہ تر چھوٹی سورتیں پڑھنے کو ترجیح دیتا تھا کہ اس طرح کم سے کم وقت میں فرض ادا کیا جا سکتا ہے مگر آج میں نے خلاف معمول نسبتاً طویل سورت کا انتخاب کیا۔۔ ۔۔۔۔۔شاید اس لیے کہ صلاۃ الحاجت میں فرضیت ساقط کرنے کی فکر جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ اس میں سراسر اپنی غرض ہوتی ہے۔۔۔۔اور اپنی غرض سے کیا جانے والا تقریباً ہر کام مرغوبِ خاطر ہوتا ہے۔میں زندگی میں پہلی بار صلاۃ الحاجۃ پڑھ رہا تھا اور مجھے پہلی بار یہ احساس ہو رہا تھا کہ میں  آج مکمل طور پر مسجد میں موجود ہوں، دل، دماغ اور نظر، یہاں تک کہ قوتِ تخیل بھی میرے ساتھ۔۔ ۔۔۔۔۔۔نہ جانے کس انجانی قوت کے احساس سے میرے لہجہ میں رقت آ گئی۔ مسجد کے سکوت پر سحر طاری ہونے لگا۔ مجھے لگا جیسے درو دیوار بھی مجھے سن رہے ہیں اور تنہا ئی کے احساس سے جوجھتے ہوئے واحد روشن بلب کے پاس خاموش اور بے حس و حرکت بیٹھی ہوئی گوری چھپکلی بھی مجھے بغور دیکھ رہی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔کیڑے اس کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں اور وہ ان کی طرف ذرا بھی التفات نہیں کر رہی۔۔ ۔۔۔۔۔۔حالانکہ اس کا پچکا ہوا اور دھوکنی کی طرح چلتا ہوا پیٹ بتا رہا ہے کہ وہ بھوکی بھی ہے۔۔۔۔ مجھے لگا کہ آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو رہا ہے اور خدا یہیں کہیں میرے  آس پاس موجود ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔اور پھر اچانک بوندا باندی ہونے لگی۔۔ ۔۔۔۔حالانکہ ابھی کچھ دیر قبل  آٹو سے اترتے وقت آسمان پر بادل دکھائی نہیں دئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔مجھے لگا جیسے یہ میری گریہ و زاری سے متاثر ہو کر یکجا ہو گئے ہیں اور اب ان کے من میں بھی سیلابِ گریہ جوش مار رہا ہے۔۔۔۔دفعتاً وضو خانے کی چھت موٹی موٹی بوندوں کی پیہم چوٹوں سے تڑ تڑ تڑ بجنے لگی۔۔ ۔۔۔باہر آسمان رو رہا تھا اور اندر میری  آنکھیں برس رہی تھیں۔

میں نے نگاہ اٹھائی گوری چھپکلی کو دیکھا وہ بدستور خاموش تھی، منھ دیوار کی سطح پر رکھے ہوئے اور پونچھ کو ہلکی جنبش دیتے ہوئے۔ بلب بھی اپنی جگہ پُر سکون تھا۔پھر کبوتر پھڑ پھڑانے لگے اور زور زور سے غٹر غوں۔۔غٹر غوں۔۔کرنے لگے، جیسے اپنی ماداؤں کو رجھا رہے ہوں۔۔ ۔۔۔۔میری  آواز خود بخود دھیمی ہو گئی۔۔ ۔۔۔۔ کبوتروں کی  آواز میں جادو اتر آیا۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کہیں شہنائیاں بج رہی ہیں، لوک گیت گائے جا رہے ہیں۔بارشیں گھر آنگن کو گیلا کر رہی ہیں اور نیم کی ڈالیوں پر جھولے پڑ گئے ہیں۔میں اندر سے بھیگنے لگا اور ماضی کے ان دنوں کی یادیں ذہن کے پردے پر رقص کرنے لگیں جب میرے جسم سے شرارے پھوٹا کرتے تھے اور انہیں ہر وہ شخص محسوس کرتا تھا جو اس جگہ بیٹھتا جہاں سے میں اٹھتا تھا۔وہ بھی کیا دن تھے۔۔ ۔۔۔جب ہڈیوں میں رس تھا، من میں امنگ تھی اور جسم میں خطائیں کرنے اور ان کی سزا پانے کا حوصلہ تھا۔جب فریب کھانے اور پلکوں سے نمک چننے میں مزا آتا تھا۔مجھے یاد آیا جب نورین سیانی ہو گئی تھی تو کس طرح اس کے ساتھ تنہائی میں رہنے کی سزا پائی تھی۔۔ ۔۔۔حالانکہ ہم نے خطا نہیں کی تھی، پر گھر کے بزرگ کہتے تھے کہ تنہائی میں رہنا بھی تو خطا ہے اور خطاؤں کی سزا مقرر ہے۔

’’ہم خطا کرتے ہیں تو ان کی پوری پوری سزا پاتے ہیں اور زندگی بھر ان کا بوجھ بھی ڈھوتے ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ اور یہ کبوتر خطاؤں پر خطائیں کرتے ہیں، نہ ان کی سزا پاتے ہیں اور نہ ان کا بوجھ  ڈھوتے ہیں۔ایسی ہی بہت ساری باتیں ہیں جن کے باعث انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اپنے  آپ پر پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کو ترجیح دیتے ہیں۔اور خود ان کی طرح ہونے کی خواہش میں مرے جاتے ہیں۔‘‘ میں ایک بار پھر اُس فکر کی رو میں بہنے لگا جو زیادہ کتابیں پڑھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔یا پھر زیادہ سوچنے کی وجہ سے۔مگر بڑھاپے میں پڑھنے اور سوچنے کے علاوہ اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔بڑھاپے سے میری نفرت بجا ہے۔

پھر کسی کبوتر کے دم گھٹنے کی  آواز آئی۔۔ ۔۔۔اور پھر کئی کبوتر ایک ساتھ پھڑ پھڑانے لگے۔اُڑے اور دوسری اونچی جگہوں پر جا بیٹھے جو مجھے قبلہ رو ہونے کی باعث نظر نہیں  آ رہی تھیں۔سفیدی مائل سیاہ رنگ کے چھوٹے بڑے کئی سارے پَر فضا میں تیرنے لگے۔۔ ۔۔۔۔۔۔سفید رنگ کی موٹی تازی بلی  نماز کاٹ کر گزری، اس کے جبڑوں میں کالے پروں والا کبوتر دم توڑ چکا تھا۔ بلی کے نوکیلے دانتوں سے گرم خون کے قطرے ٹپک رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔مجھ پر وحشت طاری ہو گئی اور میں نے  جلدی جلدی نماز پوری کی۔

نماز پوری کر کے میں نے چاروں طرف کا بغور معائنہ کیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔خطرے کی کوئی بات نہ تھی۔بلیاں روزانہ سیکڑوں کے حساب سے کبوتر پکڑتی ہیں۔۔ ۔۔۔۔یہ کوئی انوکھی بات نہیں اور نہ ہی یہ کوئی ایسی بات ہے کہ اس پر دکھی ہوا جائے۔۔۔۔اس سوچ نے وحشت کو اطمینان سے بدل دیا اور میں مسجد کا جائزہ لینے لگا۔

’’مسجد تو خوبصورت ہے۔۔ ۔۔۔۔کافی پیسہ خرچ کیا ہے محلہ کے لوگوں نے۔۔۔‘‘ میں مسجد کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔’’مگر یہ کیا۔۔ ۔۔۔۔؟‘‘میری نظر، محرابوں، ستونوں اور ان پر کئی گئی تزئین کاری پر جمی ہوئی تھی۔میں نے چشمہ اتارا منہ کی بھاپ کی مدد سے گلاس صاف کئے اور دوبارہ آنکھوں پر رکھا، شہادت کی انگلی سے ٹھیک ناک کے اوپر والے حصہ کو آہستگی سے دبایا اور چشمہ ٹھیک اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ ’’بتاؤ ! اتنی اچھی عمارت کو داغ لگا دیا۔۔۔کیسے اوٹ پٹانگ نقش بنائے ہیں اور بے جوڑ رنگ بھرے ہیں۔۔ ۔۔۔کوئی بھی رنگ ایک دوسرے سے میچ نہیں کر رہا۔۔ ۔۔۔۔۔۔اور یہ قالین۔۔۔لگتا ہے لنڈا بازار سے اٹھا لائے ہیں۔۔۔‘‘ میں قالین کے ایک سرے کو داہنے پیر سے کریدتے ہوئے من ہی من میں بڑبڑایا۔

’’جب اتنے پیسے خرچ کیے ہیں تو تھوڑے اور نہیں کر سکتے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔اس سے تو یہی اچھا تھا کہ چٹائیاں ہی بچھا لیتے۔۔ ۔۔۔۔‘‘ میں انتظامیہ کی نا اہلی اور بد ذوقی پر اندر ہی اندر سلگ رہا تھا۔

’’کیا کوئی قوم محض دو تین صدیوں میں اس قدر بد ذوق بھی ہو سکتی ہے۔۔۔کیا یہ انہی کی اولاد ہیں جنہوں نے تاج محل اور قصر الحمراء جیسی عمارتیں بنا کر ساری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔‘‘ جب میرا بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے تو مجھے اکثر ایسی ہی باتیں سوجھتی ہیں اور میں تاریخ کی ظلمتوں میں گم ہونے لگتا ہوں۔اور اپنی قوم کو کوسنے دیتا ہوں۔۔۔۔یہ میری فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے۔

بیزاری کے سلگتے ہوئے احساس کے ساتھ میں مسجد سے نکل  آیا اور وہیں سیڑھیوں پر گھٹنے کھڑے کر کے بیٹھ گیا۔اندر سے کبوتروں کے غٹرغوں۔۔غٹرغوں کرنے کی مستی بھری  آوازیں  آ رہی تھیں۔جس مادہ کا جوڑا سفید بلی کی بھوک کی بلی چڑھ گیا تھا اس کے گھونسلے میں دوسرا نر گھس آیا تھا۔۔۔یہ نر اکیلا تھا اور اسے مادہ کی تلاش تھی۔۔۔ابتداء ً قدرت اپنے  آپ ہی ان کے جوڑے بنایا کرتی ہے مگر جب یہ جوڑے ٹوٹ جاتے ہیں تو اُنہیں پھر سے جوڑنے کے لیے کبوتروں کو خود ہی کوشش کرنا ہوتی ہے۔۔ ۔۔۔۔نر گزشتہ کئی ماہ سے اسی کوشش میں تھا۔ اور پھر مادہ کی دکھی چونچ میں اپنی گرم چونچ داخل کر کے اس کا غم غلط کرنے کی کوششوں میں جٹ گیا۔جب کالی بلی نے اسے تنہا کیا تھا تو اس نے ہفتہ بھر سوگ منایا تھا اور دوسرے کبوتروں کو ساتھ لے کر اس کے خلاف مہم بھی چلائی تھی۔۔ ۔۔۔۔مگر اس بار اسے سفید بلی پر غصہ نہیں  آیا۔۔۔۔اسے اس کا جوڑا مل گیا تھا۔۔۔ اسے اور کیا چاہئے تھا۔

پھر کئی سارے نر اور مادہ کبوتر ایک ساتھ غٹرغوں۔۔غٹرغوں کرنے لگے۔۔ ۔۔۔۔ڈرے سہمے ننھے ننھے دلوں میں زندگی کی رمق لوٹ آئی۔۔ ۔۔۔جیسے دھماکوں اور انکاؤنٹر کے بعد ہوتا ہے۔۔ ۔۔۔جتنی دیر آپریشن چلتا ہے بس اتنی ہی دیر سراسیمگی پھیلتی ہے اور پھر زندگی اپنے پیٹرن پر لوٹ آتی ہے۔فروٹ جُوس اور بریانی کی دکانیں کھل جاتی ہیں اور لوگ کام و دہن آشنا لذتوں کے حصول کی فکر میں ڈوب جاتے ہیں۔

بیزاری اور جھنجھلاہٹ کی زیریں لہریں میرے من کے ساحل پر سر پٹخ رہی تھیں اور میں پشیمانی کے سمندر میں غرقاب ہو رہا تھا۔۔ ۔۔۔میں نے خود پر نظر کی اور اپنے اندرون کا جائزہ لیا۔ جب میں مسجد کی طرف بڑھ رہا تھا تو میری کیا حالت تھی اور اب جب مسجد میں ہوں تو مجھ پر کیسی حالت طاری ہے۔ اُس وقت بے کلی کے جذبات سے دل امنڈا آتا تھا، امید کی شمع روشن تھی، گناہگاریوں پر پچھتاوا تھا۔دل میں یادِ خدا تھی اور لبوں پر دعاؤں کا ہالہ۔۔ ۔۔۔اور اب۔۔ ۔۔۔۔اب من میں پراگندہ خیالات کا ہجوم ہے اور لبوں پر طنز، تمسخر اور بس گلہ شکوہ۔

’’یا اللہ یہ کیسی حالت میں گرفتار ہوں میں۔۔ ۔۔۔۔۔۔اس سے تو یہی بہتر ہے کہ میں زندہ ہی نہ رہوں۔۔۔یہ حالت تو کسی بھی شخص کے قتل کے جواز کے لیے کافی ہے۔۔۔میں سالہا سال سے خدا کی عبادت کر رہا ہوں مگر وہ ہنوز عبادت نہیں بنی۔‘‘میں نے دل میں سوچا اور آواز لگائی۔

’’ہے کوئی جو مجھے قتل کر کے ثوابِ دارین حاصل کرے ‘‘ابھی میں نے یہ اعلان کیا ہی تھا کہ لوگوں کی امڈتی ہوئی بھیڑمیں اپنی چشم تصور سے دیکھنے لگا۔۔۔ان کے ہاتھوں میں تیز دھار والے ہتھیار تھے۔۔ ۔۔۔۔مجھ پر خوف طاری ہو گیا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہونچ پاتے اور مجھے قتل کر کے جنت کے حقدار بنتے میں کھڑا ہوا اور زور سے چلایا۔’’میں جانتا ہوں کہ تم سب جنت کے متلاشی ہو اور اسے پانے کا آسان راستہ میرا قتل ہے۔۔ ۔۔۔پر میری ایک شرط ہے کہ جو مجھے جہنم رسید کر کے خود اپنے لئے جنت کا ٹکٹ خریدنا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود اسی طرح کی حالت میں گرفتار نہ ہو۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ہے کوئی۔۔ ۔۔۔؟‘‘پتہ نہیں میری بات میں ایسی کیا بات تھی کہ سب کے سب اپنی جگہ پر ٹھہر گئے اور پھر الٹے پاؤں واپس پلٹ گئے۔

میں مسجد کی سیڑھیوں سے اٹھا اور کالی اور بھیگی بھیگی رات میں اپنے گھر کی طرف چل دیا۔

٭٭٭