کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ہمدرد

الیاس ندوی رام پوری


’’کووووووووو۔۔ ۔۔۔۔۔چُھک چُھک چُھک۔۔ ۔۔۔چُھک چُھک چُھک۔۔ ۔۔۔۔۔کوووووووووووووو۔۔۔۔‘‘۔اور ٹرین ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔بھیم پور کے چھوٹے سے اسٹیشن پر زندگی کھل کھلا کر ہنسنے لگی۔ پلیٹ فارم نمبر دو پر صدیوں سے کھڑے پاکھڑ کے بوڑھے درختوں پر سفید بگلے خوف زدہ ہو کر بے نشان سمتوں میں اڑنے لگے۔انگریزوں کے زمانے سے اسی ایک جگہ گھڑے دیو پیکر درختوں پر ان بگلوں کی کئی نسلیں مر کھپ چکی تھیں۔۔ ۔۔۔

انہوں نے اسٹیشن پر آنے جانے والے مسافر۔۔۔۔کلیجہ شق کر دینے والی ٹرین کی سیٹی اور جنگلی ہاتھی کی طرح چنگھاڑتے ہوئے ریلوے انجن کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔انہیں پتہ تھا کہ یہ جگہ پرامن ہے۔یہاں کبھی کوئی شکاری نہیں  آتا۔۔ ۔۔۔اور گزشتہ سو سال سے ٹرینیں اسی طرح آتی جاتی ہیں۔۔۔۔کبھی کوئی ٹرین کسی پیڑ سے نہیں ٹکرائی اور نہ کبھی کسی مسافر نے کسی درخت پر چڑھنے یا ڈھیلا پھینکنے کی کوشش کی۔۔ ۔۔۔بگلوں کی اس نئی نسل نے اپنے بزرگوں کو گھونسلوں ہی میں مرتے ہوئے دیکھا تھا۔۔ ۔۔۔یا پھر کبھی کوئی بوڑھا بگلا چارے کی تلاش میں دور کھیتوں میں نکل گیا اور پھر لوٹ کر نہیں  آیا۔۔۔۔یا پھر کوئی بے بال و پر کمزور سا بچہ آندھی و طوفان میں گھونسلے سے گرا اور کوؤں نے اپنے ننھے منے بچوں کے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے اسے سیخ پر چڑھا دیا۔۔۔۔

انہیں یہ سب پتہ تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔مگر پھر بھی اللہ جانے کیوں ایسا ہوتا تھا کہ جب بھی چیختی چنگھاڑتی کوئی ٹرین فلیٹ فارم نمبر دو پر آتی تو ایک انجانا سا خوف ان کے وجود کے تمام خلیوں میں گہرائی تک اتر جاتا اور وہ بے اختیار اپنے بے بال و پر بچوں کو گھونسلوں میں تنہا چھوڑ کر بے کراں  آسمان کی نیلی چادر تلے بے ترتیب اڑنے لگتے۔۔ ۔۔۔۔اور دوسرے لمحے میں، جب خوف کی لہر ذرا دھیمی ہوتی اور انجن کی طرح دھک دھک کرتے ہوئے ننھے دلوں کا رعشہ ذرا ذرا تھم نے لگتا تو انہیں بچوں کا خیال  آتا اور وہ گھونسلوں پر اترنے لگتے، بھوری اور پتلی ٹانگیں درختوں کی گنجی چھتوں کی طرف پھیلائے ہوئے، سفید لمبے پر نیلے  آسمان کی طرف باہم جوڑے ہوئے اور تیز عقابی نظریں بلبلاتے ہوئے بچوں پر جمائے ہوئے۔۔ ۔۔۔۔۔۔

کیلاش ورما نے بڑے دنوں بعد یہ منظر دیکھا تھا۔۔ ۔۔۔۔اس کا دل چاہا کہ یہیں کھڑا رہے اور بگلوں کے اس طرح ایک ساتھ ہوا میں پرواز کرنے اور پھر گھونسلوں پر اترنے کے منظر کو دیکھتا رہے۔۔۔کچھ دیر کے لیے وہ اپنے سارے دکھ بھول سا گیا۔یہاں تک کہ بھاری بھرکم جسم کے بوجھ تلے چرمراتی ہوئی نرم و نازک پنڈلیوں سے اٹھتی ہوئی درد کی ٹیسوں کو بھی جیسے بھول گیا۔۔ ۔۔۔۔ایک طرح سے یہ اچھا ہی ہوا کہ اسے بگلوں کے دکھوں کا علم نہ تھا، نہیں تو یہ چیز اس کے دکھوں میں مزید اضافے کا باعث بن جاتی اور اسے اپنے مسلسل بڑھتے ہوئے موٹاپے سے اور بھی زیادہ نفرت ہونے لگتی۔موٹاپا تو قابلِ نفرت ہی ہوتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔اور وہ ہمیشہ سے اس سے نفرت کرتا تھا، حتی کہ اس وقت بھی اسے موٹاپے سے نفرت تھی جب وہ موٹا نہیں تھا۔مگر جب خود اس کی بیوی اس پر تشویش کا اظہار کرتی تو اسے لگتا جیسے وہ موت کے کنوئیں میں اتر رہا ہے۔

کافی دنوں سے بارش نہیں ہوئی تھی۔۔ ۔۔۔۔فضا میں گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔جب وہ بھیم پور سے نکلا تھا تو سورج اس کے ٹھیک سر پر تھا۔۔ ۔۔۔۔مگر اب کافی نیچے اتر چکا تھا۔۔۔پھر بھی اس کی سرخ انگارے جیسی ٹکیہ کے سامنے  آنکھیں کھلی رکھ پانا مشکل تھا۔۔۔۔کاندھوں میں دھنسی ہوئی اس کی گردن اور بالوں سے بھرے سینے کے درمیان سے پسینہ کے قطرے نمودار ہو رہے تھے اور ذرا ابھار لئے ہوئے پیٹ کے ڈھلان پر تیزی سے بہتے ہوئے سفید بنیان میں جذب ہو رہے تھے۔۔۔لمبی اور اونچی شاخوں والی گنجان پاکھڑ کے نیچے  آ کر اسے ذرا راحت محسوس ہوئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔اس نے بیگ نیچے رکھا، دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں پھنسا کر ایک دو انگڑائیاں لیں اور لمبے لمبے سانس کھینچے۔۔ ۔۔۔۔۔’’ آہ۔۔۔ہا۔۔۔ یار، گاؤں کی زندگی بھی کتنی حسین ہوتی ہے ‘‘اس نے اپنے من میں کہا اور شہر کی زندگی کو لعن طعن کرنے لگا۔’’بند کمرے، تنگ گلیاں، دھول اڑاتی ہوئی بسیں اور دھواں اگلتی ہوئی فیکٹریاں۔۔۔۔جلتی ہوئی کالی سڑکیں۔۔ ۔۔۔اور ان پر رات دن دوڑتی ہوئی بے چین زندگی۔کیا عذاب کسی اور چیز کا نام ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔؟‘‘اچانک چونے جیسی کوئی سفید چیز اس کے کاندھے پر گری۔۔ ۔۔۔’’اونہوں۔۔۔۔ان بگلوں کو بھی جیسے  آدمی سے کوئی پرانی دشمنی ہو، ابھی یہاں  آ کر کھڑا ہوا ہوں اور ابھی بیٹ کر دی۔۔۔۔ ہش۔۔۔‘‘اس نے برا سا منہ بنایا اور شہر اور شہر کے لوگوں کے بارے میں اس کی سوچ ادھوری رہ گئی۔۔۔۔

خیالات کس قدر بے ترتیبی اور کتنی سرعت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، جیسے ہوا کی زد پر رکھی ہوئی کھلی کتاب کے اور اق جلدی جلدی اور بے ترتیبی کے ساتھ الٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔ آدمی کے جسم پر بیٹ کر دینے کی پرندوں کی پرانی عادت سے خفگی کی جگہ اب اس کے کانوں میں اس کی اپنی چھوٹی بہن اور اس کی سہیلیوں کی کھلکھلاہٹ رس گھول رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔کملا جو بچپن ہی میں اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی تھی اور ایک تکلیف دہ یاد اس کے دل کی تہوں میں کہیں رینگتی ہوئی چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔اور پھر بیتے دنوں کا پورا منظر اس کی  آنکھوں میں پھر گیا۔اس دن جب وہ اپنے دادا کی چوپال پر گھنی پاکھڑ کے نیچے کھیل رہا تھا کہ اچانک اس کے سر پر کوئے نے بیٹ کر دی اور اس کی بہن کی سہیلیاں کھل کھلا کر ہنس پڑیں، اس وقت اسے ان سب پر غصہ آیا تھا۔۔۔۔خاص کر اپنی بہن پر۔۔۔پر آج پتہ نہیں کیوں اس کے دل میں یہ خواہش جاگی کہ کاش اس کی بہن زندہ ہوتی اور  آج پھر وہ اسی طرح کھل کھلا کر ہنستی۔مگر آج اس پر ہنسنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ یہاں سب جلدی میں تھے کسی کو اتنی فرصت ہی نہ تھی کہ کوئی اس پر ہنسے۔اور کملا آسمان سے اتر کر نہیں  آسکتی تھی۔اس نے  آسمان کی طرف دیکھا۔نیلے  آسمان میں دور مغربی افق پر دو سفید بادل منڈلا رہے تھے۔ اسے لگا جیسے کملا انہی بادلوں کے عقب سے اسے دیکھ رہی ہے اور کھل کھلا کر ہنس رہی ہے۔مگر اس بار اسے غصہ نہیں  آیا۔حالانکہ وہ اس وقت پرندوں کی اِس ذلیل حرکت پر بھنایا ہوا تھا۔

 اِس وقت وہ اُس شہر کی طرف جا رہا تھا جہاں وہ آج سے ٹھیک تیس سال قبل بارہ تیرہ سال کی عمر میں اپنے باپ کے ساتھ آیا تھا۔ اور اب ان کی جگہ پر اسسٹینٹ منیجر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔انجن کی گڑگڑاہٹ اور بدبو دار کالے دھوئیں سے اسے جیسے نفرت سی ہو گئی تھی، ٹرین کے سفر سے وہ اسی لیے اکتا تھا کہ وہ تیز آواز کرتی ہے اور ڈھیر سارا دھواں اگلتی ہے۔پر اس کی مجبوری تھی کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ بس کے چکر میں وہ پہلے ہی ایک دو گھنٹے گنوا چکا تھا۔ بس کو نہ آنا تھا اور وہ نہ آئی۔اور اس نے مجبوراً ایک فیصلہ لیا جو سراسر غلط تھا۔

جنتا ایکسپریس میں جنرل بوگیاں بہت کم تھیں۔۔ ۔۔۔شاید چار یا چھ۔۔ ۔۔۔۔نصف انجن کے ٹھیک پیچھے اور نصف سلیپر کلاس کے  آخری ڈبے کے بعد۔۔ ۔۔۔ایسا اس وجہ سے تھا کہ لوکل ٹکلٹ سے سفر کرنے والے لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں اور انہیں چڑھنے اترنے میں  آسانی ہو۔۔ ۔۔۔اگر سارے لوکل ڈبے ایک طرف لگا دئے جائیں تو بھیڑ ایک طرف ہی جمع ہو جائے گی اور لوگ افرا تفری میں ایک دوسرے کو کچل دیں گے۔سرکار ہی عام لوگوں کی فکر نہ کرے گی تو اور کون کرے گا۔۔۔۔اسی لئے اس نے ایسا کیا تھا اور یہ کسی صورت بھی غلط نہ تھا۔

اس نے جلدی جلدی پرندوں کی اس ذلیل حرکت کے سفید نشان کو اپنے کاندھے سے صاف کیا اور انجن کے ٹھیک پیچھے والی جنرل بوگی کی طرف دوڑ گیا۔اب تک وہاں کافی بھیڑ جمع ہو چکی تھی۔چڑھنے والوں نے اتنا بھی صبر نہ کیا کہ اترنے والے اتر جاتے۔۔ ۔۔۔ایک موٹی عورت اور ایک ادھیڑ عمر کا آدمی اترنے اور چڑھنے کی کوشش میں دروازے میں پھنس گئے۔۔۔۔’’بھگوان کسی کو بھی اتنا موٹاپا نہ دے۔۔‘‘۔۔۔۔کیلاش نے اپنے  آپ پر نظر کی اور مسلسل بڑھتے ہوئے موٹاپے کے  آزار کا خیال کر کے لرز گیا۔۔ ۔۔۔

’’ ارے ! میرا بچہ‘‘ ایک عورت اپنے دو ڈھائی سال کے بچے، ایک عدد بڑی سی پوٹلی اور ایک بیگ لئے چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔بچہ بھوک پیاس، بھیجا فرائی کر دینے والی جون کی گرمی اور بے ہنگم بھیڑ کی د ھکم پیل کی وجہ سے بے حال ہو رہا تھا اور زور زور سے رو رہا تھا۔۔ ۔۔۔کیلاش کو اس پر بڑا ترس آیا۔۔۔اس نے اس کی مدد کرنی چاہی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔مگر اس وقت وہ خود مدد کا محتاج تھا۔۔۔

’’کوووووو۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘اور پھر، ٹرین ایک جھٹکے کے ساتھ چل پڑی۔۔ ۔۔۔ تازہ ہوا کا جھونکا پسینے سے شرابور ہو رہے لوگوں کی روح کی گہرائیوں تک اتر گیا۔۔ ۔۔۔۔کیلاش بڑے جتن کے بعد اپنا بیگ باتھ بیسن پر رکھنے میں کامیاب ہو سکا۔۔ ۔۔۔جہاں پہلے ہی سے دو تین بیگ رکھے ہوئے تھے۔۔ ۔۔۔اور دروازے کے پاس ہی کھڑا ہو گیا۔۔ ۔۔۔۔کھڑا کیا ہو گیا بلکہ پھنس گیا۔۔۔۔اس کے پاس یہی ایک آپشن تھا کہ جہاں پھنسا ہے وہیں پھنسا رہے۔۔ ۔۔۔اب وہ نہ اس جگہ سے  آگے بڑھ سکتا تھا اور نہ پیچھے ہٹ سکتا تھا۔۔ ۔۔۔۔اسے اپنی اس حالت پر بڑا ترس آیا۔۔ ۔۔۔اس سے بھی زیادہ جتنا اس روتے بلکتے بچہ پر آیا تھا۔۔ ۔۔۔مگر یہاں ترس سے  آگے کچھ نہ تھا۔۔۔ایک گہری خاموشی کے علاوہ۔۔ ۔۔۔اسے لگا کہ کچھ مجبوری اور کچھ انجانے میں لیا گیا فیصلہ سراسر غلط تھا۔۔ ۔۔۔’’اس سے تو یہی بہتر تھا کہ بس سے ہی چلا جاتا۔۔ ۔۔۔۔۔تھوڑا ٹائم ہی تو زیادہ لگ جاتا۔۔ ۔۔۔۔کم از کم بیٹھنے کی جگہ تو مل جاتی۔۔ ۔۔۔۔مگر کمبخت بسیں بھی تو وقت پر نہیں ملتیں۔۔اور ملتی بھی ہیں تو رو رو کر چلتی ہیں۔۔ایک گھنٹہ تو بس کے انتظار میں ہی چلا گیا۔۔۔‘‘ کیلاش کے دماغ میں جیسے  آندھیاں چل رہی تھیں۔جلد ہی وہ ان خیالات سے اکتا گیا اور خالی خالی نظروں سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔۔اسٹیشن پوری رفتار سے پیچھے کی طرف بھاگ رہا تھا۔۔۔۔وہ عورت جس پر کیلاش کو ترس آیا تھا پلیٹ فارم پر ہی رہ گئی تھی، اس کے پاس اس کا سامان رکھا ہوا تھا اور شیر خوار بچہ ماں کے سینہ سے چمٹا ہوا تھا۔۔۔’’بیچاری۔۔ ۔۔۔اس کے ساتھ اس کا آدمی بھی نہیں ہے۔۔اکیلی عورت۔۔۔ڈھیر سارا سامان اور معصوم جان۔۔۔۔کیسا ڈھیٹ ہو گا اس کا آدمی کہ اسے اکیلا چھوڑ دیا مرنے کے لیے۔۔۔۔‘‘

’’بابو جی۔۔۔۔ذرا پرے کو کھڑے رہو۔۔ ۔۔۔میری طرف کو کیوں کھسکے چلے  آ رہے ہو۔۔۔۔میں تو خود تنگ بیٹھی ہوں۔۔۔‘‘اس نے بمشکل پیچھے کی طرف دیکھا۔۔ ۔۔۔۔اتنی تنگ جگہ میں  آسانی سے ادھر ادھر دیکھ بھی تو نہیں سکتا تھا وہ۔۔یہ ایک بوڑھی عورت تھی۔۔۔جو بھیم پور سے پہلے کسی اسٹیشن سے چڑھی تھی۔۔۔’’ تو کیوں چلی  آئی ہو مرنے کے لیے۔۔ ۔۔۔‘‘گالی نما الفاظ اس کے لبوں تک آئے۔۔ ۔۔۔پراس نے کچھ سوچ کر اپنے لبوں کو سختی کے ساتھ بھینچ لیا۔یہ اس کی ماں کی عمر کی عورت تھی اور وہ اس عمر کی کسی عورت کو گالی نہیں دینا چاہتا تھا۔

’’کیا یہ بھی اکیلی ہے ؟۔۔۔‘‘ اس نے دل میں سوچا اور اسے ایک بار پھر مردوں پر غصہ آیا۔۔ ۔۔۔۔آخر یہ اتنے سخت دل کیوں ہوتے ہیں۔۔۔۔ان کے بڑھاپے کا بھی خیال نہیں کرتے۔۔۔یہاں نوجوان لڑکوں کو چڑھنا اترنا مشکل ہوتا ہے ۔۔ ۔۔۔۔اور یہ تو بیچاری عورتیں ہیں۔۔۔۔اور وہ بھی بوڑھی اور ساتھ میں لدی پھندی بھی۔۔۔نامر د کہیں کے۔۔۔‘‘اس نے تمام مردوں کو گالی دی۔۔۔

’’سوری۔۔۔معاف کرنا بھائی۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘

اس نے ایک بار پھر پیچھے دیکھنے کی کوشش کی تھی تاکہ اس ماں جیسی عورت پر ایک بار پھررحم بھری نگاہ ڈال سکے۔۔۔۔اور اس کوشش میں دوسرے  آدمی کے پیرکی انگلیاں کچل دیں۔کالے موٹے چہرے میں ابھری ہوئی دو خونی  آنکھیں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔خوف کی ایک لہر اس کے بدن میں اوپر سے نیچے تک اتر گئی۔مگر اس نے بے پروائی کا مظاہرہ کیا، جیسے اسے کسی کا کچھ ڈر نہیں۔

ٹرین تیز رفتار سے چل رہی تھی۔۔۔۔جو لوگ بیٹھے بیٹھے اونگھ رہے تھے ان کے سر ڈگڈگی کی طرح ہل رہے تھے۔۔۔۔جو کھڑے تھے وہ اپنے پیروں کو بار بار بدل رہے تھے۔۔ ۔۔۔کیلا ش اپنے ۷۲؍کلو وزن کے ساتھ داہنے پیر پر کھڑا تھا۔۔۔۔دوسرے پیر کے لیے صرف اتنی جگہ تھی کہ وہ انگلیاں ٹکا سکتا تھا۔۔۔کچھ لوگ جن میں زیادہ تر بوڑھے مرد اور عورتیں تھیں نیچے فرش پر قابل رحم حالت میں لیٹے یا بیٹھے ہوئے خراٹے بھر رہے تھے، ان کے جسم، گوشت کے بے جان پارچوں کی طرح ہل رہے تھے۔۔۔۔جن سیٹوں پر چار لوگ بیٹھ سکتے تھے ان پر آٹھ آٹھ لوگ بیٹھے تھے۔۔۔۔جبکہ اوپر والی سیٹوں پر دو دو آدمی براجمان تھے۔۔۔ایک دو تو مستی کی نیند سو رہے تھے اور باقی نیچے فرش پر بے سدھ پڑے ہوئے جسموں کے ابھرے ہوئے حصوں پر نظریں گاڑے ہوئے تھے۔۔۔جب انہیں لگتا کہ کوئی انہیں دیکھ رہا ہے تو وہ غنود گی کی حالت میں چلے جاتے اور جب انہیں محسوس ہوتا کہ دوسرے سب بھی اونگھ رہے ہیں تو ان کی نظریں ایک بار پھر ابھرے ہوئے حصوں کو چاٹنے لگ جاتیں۔پر یہ ان کی مجبوری بھی تھی۔۔ ۔۔۔۔ایسی جگہ جہاں صرف نظریں ہی گھمائی جا سکتی تھیں وہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔

 کسی کی ہمت نہیں تھی کہ ان مسٹنڈوں کو اٹھائے یا ان سے تھوڑی جگہ بنانے کو کہے اور اوپر والی سیٹ پر بیٹھ جائے۔۔۔کیلاش نے کئی بار ہمت جٹانے کی کوشش کی مگر پھر کچھ سوچ کر خاموش رہا۔۔۔۔جو لوگ جاگ رہے تھے وہ بیڑی کے کش کھینچ رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔کچھ نے گٹکا منہ میں بھر رکھا تھا اور کچھ اپنی میلی ہتھیلیوں پر چونا تمباکو مسل رہے تھے۔۔۔۔پسینے کی بدبو، گٹکے کی مہک اور بیڑی کے دھوئیں سے ڈبے کی فضا منوں ٹن بوجھل ہو رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔کیلا ش کی حالت ایسی ہو رہی تھی جیسے ابھی اس کو ابکائی  آ جائے گی۔۔ ۔۔۔۔۔اس نے پیر بدلا اور منہ پر رومال رکھ لیا۔۔ ۔۔۔۔اس وقت اس کے اختیار میں صرف اتنا ہی تھا سو اس نے کر لیا۔۔ ۔۔۔ہاں  آنکھیں بھی اس کے اختیار میں تھیں وہ ان کو جدھر چاہتا گھما سکتا تھا۔۔۔۔سو وہ انہیں گھما رہا تھا۔۔۔پر ان پر بھی پورا اختیار نہ رہا تھا کیونکہ اب وہ بھی نیند کے خمار سے بوجھل ہونے لگی تھیں۔۔۔مگر وہ سو بھی نہیں سکتا تھا ایک پیر پر کھڑے کھڑے سونا کوئی  آسان بات نہ تھی۔مگر وہ مسٹنڈہ جس نے ابھی اس کو خونی نظروں سے دیکھا تھا داہنے ہاتھ سے اوپر والی سیٹ کی زنجیر پکڑے ایسے سو رہا تھا جیسے ایئر کنڈیشنڈ روم میں نرم و گداز  بستر پر لیٹا ہوا ہو۔تب اس کو یقین ہوا کہ اس کے دادا جان ٹھیک کہتے تھے کہ نیند ایک ایسی چیز ہے جو پھانسی کے پھندے پر بھی  آسکتی ہے۔

’’کیا یہ لوگ کبھی نہاتے ہی نہیں ہیں۔۔۔۔کیا پتہ ان کے یہاں پانی کی کمی ہو۔۔۔۔یا انہیں فرصت ہی نہ ملتی ہو۔۔۔۔‘‘ اگر اُدھر دوسری طرف کونے میں اپنے بوڑھے باپ کی پھیلی ہوئی ٹانگوں پر سر رکھ کر سوتی ہوئی وہ سانولی لڑکی نظر نہ آ رہی ہوتی تو وہ یہی گمان کرتا کہ جن جن علاقوں سے یہ لوگ آ رہے ہیں وہاں پانی کی کمی ہو گی۔۔۔۔مگر اس کا چہرہ تو ایک دم صاف تھا جیسے ابھی نہا دھوکر آ رہی ہو۔۔ ۔۔۔۔اس کے کان میں پڑا ہوا سونے کا جھمکا صراحی نما گردن کی گولائی پر ادھر ادھر ڈول رہا تھا، اس نے پیر سمیٹ رکھے تھے۔۔۔اور گھٹنے بھوک سے پچکے ہوئے پیٹ میں رکھ لئے تھے۔۔۔بوڑھے باپ نے جب دیکھا کہ اوپر والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے مسٹنڈے نیند کے خمار سے سوجی ہوئی  آنکھیں باربار کھولتے ہیں اور اس کی طرف گرم نظروں سے دیکھتے ہیں تو اس نے اس کے چہرے پر ساڑی کا پلو پھیلا دیا۔۔ ۔۔۔۔

’’سونو ! اُدھر دیکھ۔۔کیا مال ہے ؟۔۔۔۔‘‘ دو نوجوان لڑکے جو بھیم پور سے اس کے ساتھ سوار ہوئے تھے، انہوں نے گیٹ پر اپنی جگہ بنائی، آس پاس کی سواریوں پر ایک نظر ڈالی اور پھر ان میں سے ایک نے دوسرے کے کان میں سرگوشی کی۔’’ چلو! ٹائم جلدی پاس ہو جائے گا‘‘ دوسرے نے اسی طرح کی سرگوشی میں جواب دیا تھا۔ کیلاش نے اس وقت کچھ خیال نہ کیا تھا۔۔ ۔۔۔۔مگر اب جب وہ بھی ایک طرح کی محویت کے عالم میں تھا اور اپنے ۷۲؍کلو وزن سے دکھتے ہوئے داہنے پیر کی تکلیف کو بھول گیا تھا۔۔۔تو اسے سمجھ میں  آیا کہ بوڑھے درختوں کی طرح اُسی ایک جگہ ٹھہرا ہوا وقت جلدی کس طرح پاس ہو سکتا ہے۔ان کا اشارہ اسی دبلے پتلے، مگر گٹھے ہوئے جسم اور سانولے اور تیکھے نقوش والے چہرے کی طرف تھا۔کیلا ش کا جی چاہا کہ ان کی خیریت پوچھے۔۔ ۔۔۔مگر دفعتاً اسے اپنے دکھتے ہوئے داہنے پیر میں مزید دکھن کا احساس ہوا اور اس کا غصہ صرف پیر بدلنے کے عمل تک محدود رہ گیا۔اسے لگا جیسے وہ اپنے جسم کی کھال میں قید ہے۔ اور اس قید سے رہائی  آسان نہیں، نہ غصہ اس دبیز کھال کو توڑ سکتا ہے اور نہ ہمدردی کا جذبہ اسے پگھلا سکتا ہے۔وہ اس کھال میں قید پیدا ہوا ہے اور اسی حالت میں مر جائے گا۔۔۔۔مگر مر جانا شاید بہتر ہو، کم از کم زندہ رہنے کے مقابلے میں۔

’’چُھک چُھک چُھک۔۔۔۔کووووووووو۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔‘‘اور ٹرین پھر ایک معمولی جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔۔۔۔یہ کوئی بڑا اسٹیشن تھا، یہاں بھیم پور اسٹیشن کے مقابلے بھیڑ زیادہ تھی۔یہاں پر بڑے بڑے پاکھڑ کے پیڑ نہیں تھے۔اسٹیشن کی عمارت جدید طرز پر بنائی گئی تھی، صفائی ستھرائی کا انتظام معقول تھا اور یہاں  آنے جانے والے لوگ بھی صاف ستھرے اور منجھے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔مگر لدی پھندی جنتا ایکس پریس کے لئے یہاں پر بھی لادنے کو بہت کچھ تھا۔یہاں بھی جنرل بوگیوں میں سفر کرنے والوں کی خاصی بھیڑ تھی۔ابھی ٹرین پوری طرح رکنے بھی نہیں پائی تھی کہ بے قابو بھیڑ جنرل بوگیوں کے دروازوں پر پل پڑی اور ایک بار پھر بھیم پور کے اسٹیشن کا منظر ابھرنے لگا۔۔ ۔۔۔۔دھکم پیل، بلبلاتے ہوئے بچے اور پیچھے چھوٹتی ہوئی عورتیں۔

کیلاش کو ایک بار پھر پچھلے اسٹیشن پر چھوٹ جانے والی عورت یاد آئی اور وہ اس کی مدد نہ کر پانے کی اپنی بے بسی پر جھنجلا کر رہ گیا۔

’’اللہ کے نام پر کچھ دے دو بابو جی۔۔ ۔۔۔۔‘‘ دو بوڑھی  آنکھیں جن کے کالے حصوں پر بھی سفیدی غالب تھی، ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر قطب نما کی سوئی کی طرح کپ کپا رہی تھیں۔اس کی بیٹھی بیٹھی  آواز نے اس کا خیال توڑ دیا۔اس کو ذہنی شاک لگا کیونکہ وہ اس مجبور عورت کے بارے میں مزید سوچنا چاہتا تھا۔وہ مدد نہ کر سکا یہ اس کے بس میں نہ تھا، پر سوچ تو سکتا تھا، یہ اس کے بس میں تھا۔

’’معاف کرو بابا۔ آگے جا کر مانگ لو‘‘ اس کے انداز میں جھنجلاہٹ نمایاں ہو رہی تھی۔ اور لکڑی کی ٹوٹی پھوٹی بیساکھیوں پر جھولتا ہوا ادھ مرا جسم دوسرے بابو کی تلاش میں  آگے کو رینگ گیا۔

کیلاش نے ایک نظر اپنے بیگ کو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ پر موجود ہے یا نہیں اور دوسری نظر بیساکھیوں پر جھولتے ہوئے اور دور جاتے ہوئے اَدھ مرے بوڑھے  آدمی کو۔اسے کوفت سی ہونے لگی، اس نے ہمدردیوں سے وابستہ تمام خیالات کو جھٹک دیا اور ایک بار پھر وہی سانولا چہرا، اُجلا اُجلا، ڈَھلا ڈھلایا، دُھلا دُھلایا، نورانی سا، کتابی سا اس کے ذہن کی اسکرین پر ابھرنے لگا۔پھر ٹرین چلنے لگی اور صراحی جیسی گردن کی گولائی پر اِدھر اُدھر لڑھکتا ہوا سونے کا جھومر اس کے من میں گدگدی پیدا کرنے لگا۔اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا اور ایک لمبی  آہ کھینچی۔پھر پتہ نہیں کہاں سے  آنکھوں کے گہرے سمندر میں حیا کے سائے اتر آئے۔ اس نے پلکیں گرا لیں، سینہ کی جیب میں رکھے ہوئے پرس کے اندر سے کملا اپنی سفید اسکول ڈریس میں مسکرا رہی تھی۔خلاف معمول اس وقت وہ اس پر نظر روک نہ سکا، اس نے نگاہ اٹھائی اور تیزی کے ساتھ پیچھے کو بھاگتے ہوئے پیڑ پودوں اور کھیتوں کو دیکھنے لگا۔اسے پتہ ہی نہ چلا کہ سینہ پر رکھا ہوا اس کا  ہاتھ کس طرح خود بخود پھسل گیا اور دل میں گھماسان مچاتی ہوئی  آہ کس طرح خود بخود مرگئی۔

بھیڑ مسافروں کے لیے ہمیشہ مسئلہ ہوتی ہے اور شاید ذمہ دار ریلوے عملے کے لئے بھی تھوڑا بہت مسئلہ ہوتی ہو گی، پر ان خوانچہ برداروں کے لیے بھیڑ کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتی۔جب بھی کوئی اسٹیشن آتا تو کئی خوانچہ بردار ایک ساتھ ڈبے میں چڑھنے کوشش کرنے لگتے۔ایسی بھیڑ میں جہاں لوگ دونوں پیروں پر کھڑے نہیں ہو سکتے تھے وہ تیر کی طرح آتے اور تیر کی طرح نکل جاتے۔ان کے ایک ہاتھ میں بڑی سی تشتری یا ٹوکری ہوتی جسے وہ لوگوں کے سروں کے اوپر اٹھائے رکھتے اور دوسرے ہاتھ سے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے  آگے بڑھتے جاتے اور گرم نمکین سموسے، پوری کچوری، مسالے دار چنے، کول ڈرنکس اور فروٹ چاٹ بانٹتے جاتے۔

 جب ٹرین ایک ہلکے جھٹکے کے ساتھ رکتی تو سونے اور اونگھنے والے لوگ بھی جاگ جاتے اور گندے ہاتھوں اور پیلے دانتوں کے ساتھ پیٹ پوجا کرنے کی فکر میں جٹ جاتے جیسے کئی دن کے بھوکے ہوں۔اتنی بھیڑ میں باتھ روم تک جانا مشکل تھا، تو ہاتھ دھونے یا کلی کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ اس ڈبے کا حال تو یہ تھا کہ باتھ روم بھی چھوٹے چھوٹے کمروں میں تبدیل ہو گئے تھے۔ ان میں بھی  آٹھ آٹھ اور دس دس لوگ بیٹھے یا کھڑے تھے، جن میں کئی عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی۔اب کوئی کچھ بھی سوچے، پر یہاں کم از کم اتنا تو آرام تھا کہ یہاں دونوں پیروں پر کھڑا ہوا جا سکتا تھا اور پھر باہر سے کسی دوسرے شخص کے  آنے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا تھا۔مگر جب کسی بچہ کو باتھ روم جانے کی ضرورت پڑ جاتی تب مشکل پیش آ جاتی تھی۔بڑی عمر کے لوگ تو خیر برداشت کئے بیٹھے رہتے تھے پر بچے تو برداشت نہیں کر سکتے تھے، ان کے لیے تو باتھ روم خالی کرنا ضروری تھا اور یہاں یہ ایک مشکل ضرور تھی۔ گیٹ پر کھڑے لوگ تو مزید مشکل میں پڑ جاتے تھے جب ہر اسٹیشن پر دو چار لوگوں کا اضافہ ہو جاتا تھا۔پتہ نہیں ریل کا ڈبہ تھا یا جہنم کا گڑھا کہ جو آتا جاتا، سماتا جاتا۔

اس اسٹیشن پر جب دو لوگ اترے اور ان کے بدلے دوسرے چار لوگ چڑھے تو کیلاش کی مشکل ایک بار اور بڑھ گئی۔۔اس کا جی چاہا کہ اپنے  آپ کو تماچے مارے۔۔ ۔۔۔۔۔۔’’۔تھوڑی دیر اور صبر کر لیتا، کیا پتہ بس آ ہی جاتی۔۔ ۔۔۔۔بس میں کم از کم بیٹھنے کو جگہ تو مل جاتی۔۔یہی تو ہوتا کہ کچھ تاخیر سے گھر پہونچ جاتا۔۔۔‘‘اسے جنتا ایکس پریس میں لوکل ٹکٹ سے سفر کرنے کا فیصلہ انتہائی احمقانہ لگا۔

’’ٹرن۔۔ٹرن۔۔۔ ٹرن۔۔ ۔۔۔۔‘‘دفعتاً اس کا موبائل جیسے چیخ اٹھا۔ لکھنؤ سے اس کے چچا تھے جو اس کی خیریت دریافت کر رہے تھے اور یہ بتانے کے لیے فون کر رہے تھے کہ وہ ٹرین سے  آئے۔ کیونکہ لکھنؤ پہونچنے والی تمام سڑکوں پر کسانوں نے دھرنا دیا ہوا ہے اور تمام راستے جام کر دئے ہیں۔بسیں سارا سارا دن جام میں پھنسی رہتی ہیں۔

’’مگر ابھی پرسوں تو میں بس سے  آیا تھا تب تو کچھ بھی نہیں تھا‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’ہاں ! مگر کل صبح سے تمام راستے بند ہیں۔‘‘

’’آپ فکر نہ کریں۔۔۔میں ٹرین ہی سے  آ رہا ہوں اور جلد ہی پہونچنے والا ہوں ‘‘اس نے چچا کو تسلی دی اور دل میں سوچا کہ اچھا ہوا جو اس نے ٹرین سے جانے کا فیصلہ لیا۔ورنہ کہیں جام میں پھنسا ہوا گرمی میں سڑ رہا ہوتا۔اور صبح کو دوست کی بیوی کے انتم سنسکار میں بھی شریک نہ ہو پاتا۔۔۔۔اب اسے یقین ہوا کہ کچھ مجبوری اور کچھ بے وقوفی میں لیا جانے والا فیصلہ غلط نہیں تھا۔اسے لگا جیسے عقل کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کونسا فیصلہ غلط ہے اور کونسا غلط نہیں ہے۔

’’کسان۔۔ ۔۔۔مانگیں۔۔۔۔دھرنے۔۔۔چکا جام۔۔ ۔۔۔اور۔۔۔ لاٹھی چارج۔۔ ۔۔۔‘‘ اسے یاد آیا کہ وہ اس طرح کی خبریں پہلے بھی سنتا رہا ہے، کبھی ٹی وی پر اور کبھی فیکٹری کے ساتھیوں کی زبانی۔’’تو کیا گاؤں کی زندگی صرف باہر سے حسین ہے اور یہ صرف شہر سے پکنک پر آنے والے لوگوں کو ہی خوبصورت لگتی ہے۔۔۔۔یہاں رہنے والے بھی شہر والوں کی طرح عذاب میں ہیں ‘‘ اس نے دل میں سوچا۔اور ایک بار پھر خیال بدل جانے پر اسے کوفت ہوئی۔اور پھر اسے یاد آیا کہ بچپن میں جب کبھی وہ اپنے باپو کے ساتھ ایک دو دن کے لیے شہر جایا کرتا تھا تو اس کو شہر کتنا خوبصورت اور حسین لگتا تھا۔ بڑی بڑی سڑکیں، ان پر دوڑتی ہوئی بڑی بڑی بسیں اور کاریں، اونچی اونچی عمارتیں اور ہرے بھر ے پارک اور پارکوں میں طرح طرح کے جھولے اور ان پر اٹکھیلیاں کرتے ہوئے خوبصورت گڑیوں جیسے بچے۔۔۔کتنا حسین اور خوبصورت لگتا تھا یہ سب اس وقت۔

ابھی چند منٹ پہلے تک وہ جس طرح کی کوفت محسوس کر رہا تھا ایک ذرا سی خبر ملنے پر ساری کوفت جیسے کافور ہو گئی۔پیر کی تکلیف ختم ہو گئی اور ٹرین میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ جیسے اجلے اجلے لگنے لگے۔خونی نظروں سے اس کو گھورنے والا آدمی بھی اب اس کو جیسے شریف اور ہمدرد لگنے لگا تھا۔ اور وہ سانولا چہرہ۔۔۔۔سونے کا جھومر۔۔پیلی ساڑی اور پیٹ میں رکھے ہوئے گھٹنے۔۔ ۔۔۔اس کی  آنکھوں کے نیلے افق پرست رنگی دھنک جگمگانے لگی۔

 ہوا کی زد پر رکھی ہوئی کھلی کتاب کا منظر اس کی  آنکھوں میں پھر گیا۔اسے لگا جیسے ہوائیں اس کے خیالات کو بھی اسی طرح الٹتی پلٹتی رہتی ہیں۔

’’تو یار ! تم نے ٹی ٹی سے بات کر کے سیٹ کیوں نہ لے لی۔۔۔کچھ پیسے ہی تو خرچ ہو جاتے۔۔ ۔۔۔کیلاش تم بھی نا۔۔۔نرے وہی ہو۔۔۔وہ کیا کہتے ہیں۔۔ہاں یاد آیا۔۔۔۔کنجوس، مکھی چوس۔۔‘‘

پندرہ جون کی نصف النہار کا سورج آگ کا لباس پہنے مغربی افق کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اور کیلاش اپنے  آفس میں بیٹھا، اپنے دوست رام گوپال کو سفر کی روداد سنا رہا تھا۔کیلاش کو رام گوپال کا یہ ریمارک پسند نہ آیا۔اسے لگا جیسے کوئی اس کو گالی دے رہا ہے۔ اسے اپنے دوست کے چہرے پر اس خونی  آنکھوں والے کی شبیہ نظر آئی۔۔

’’بات یہ نہیں ہے کہ میں کنجوس ہوں۔۔ ۔۔۔۔‘‘

’’تو پھر بات کیا ہے۔۔۔‘‘رام گوپال نے لفظوں کو چباتے ہوئے پوچھا۔

’’۔۔۔ بات یہ ہے کہ میں عام آدمی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہتا ہوں۔۔۔میں ان کی زندگی کے دکھ درد کو قریب سے دیکھنا چاہتا ہوں اور میں ان کے غم بانٹنے کی فکر رکھتا ہوں۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘

اس نے دونوں کہنیوں کو میز پر رکھا، اپنا چہر ہ رام گوپال کے قریب کیا اور اس کی طرف شوخ انگیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’۔۔عام آدمی۔۔۔۔اوہو۔۔ ۔۔۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔عام آدمی کی بات۔۔۔۔کیلاش !جب تم عام آدمی کی بات کرنے لگو گے تو پارلیمنٹ کے ممبر کیا بات کریں گے۔۔ ۔۔۔؟‘‘ وہ جیسے سنجیدہ ہو رہا تھا۔

’’۔۔ ۔۔۔ان کے لیے ہے نا ’’دہشت گردی‘‘ کا کبھی نا ختم ہونے والا موضوع۔۔۔اسامہ زندہ باد۔۔۔‘‘

’’۔۔۔مگر اسامہ تو مرگیا‘‘

’’۔۔۔اسامہ ہی تو مرگیا۔۔۔۔اس کی روح تھوڑی نا مر گئی۔۔۔ روح تو زندہ ہے۔۔ ۔۔۔۔۔امریکہ اس کا کوئی اور نام رکھ لے گا۔‘‘

۔۔۔او ر آفس کی کھڑکیوں پر پڑے ریشمی پردے بلند قہقہوں سے اٹھنے والی ارتعاش انگیز لہروں کے دباؤ سے لرزنے لگے۔

٭٭٭