کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ہمزاد

الیاس ندوی رام پوری


بلیک  ہول کے کسی نامعلوم مقام پر ’ٹپ‘ کی  آواز کے ساتھ پانی کی ایک بوند گری اور اپنی فطری رفتار کے ساتھ سپاٹ بساط پر پھسلتی چلی گئی۔بلیک ہول کی فضا میں ہلکا سا تموج پیدا ہوا اور پھر’ ھُو‘ کا عالم اپنی جگہ بحال ہو گیا۔

وقت نے ایک قدم بڑھایا اور ایک عالیشان عمارت میں داخل ہو گیا۔ یہاں ایک شخص تجربہ گاہ میں مصروفِ عمل تھا۔ان دنوں اس کے اعصاب پر کھوئے ہوؤں کی جستجو کا خمار سوار تھا۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا، اسے لگا جیسے ٹھنڈے پانی کی کوئی بوند اس کے سلگتے ہوئے بھیجے میں گری ہے۔اس نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر بلیک ہول کی لا محدود گہرائیوں میں کھو گیا۔

دوپہر بعد وہ تاریخ کی کتابوں میں کھویا ہوا تھا۔ایک ایک۔۔دو دو۔۔۔اور پھر ایک کے بعد ایک۔۔۔اور پھر کبھی کبھار یکبارگی کئی ساری کتابیں نکالتا اور بے صبری کے ساتھ ورق الٹنے پلٹنے لگتا۔اور جب بھوک اور تکان سے نڈھال ہو جاتا تو ٹھنڈے پیروں پر زور دے کر اٹھتا اور لائبریری کی  آرٹ گیلری میں پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹہلنے لگتا۔

اور پھر ایک دن جب شام کا دھندلکا ہو چلا تھا اور سرد رات اپنے پاؤں پسار رہی تھی۔۔وہ انٹرنیشنل لائبریری کے  آرکائیو سیکشن میں بیٹھا مطالعہ میں مصروف تھا۔۔ایک یخ بستہ رات کے سوا اس کے اردگرد اور کوئی نہیں تھا۔۔۔ایک ٹھنڈی اکیلی اور خاموش رات۔۔۔اس نے  آہستہ سے کتاب بند کی، میز کا سہارا لے کر کھڑا ہوا اور ایک کھوئے ہوئے نقش کے ہمزاد کی تخلیق کا عزم اپنے سینے میں پختہ کیا۔

وقت نے ایک قدم اور بڑھایا اور اکیس ویں صدی کے چوراہے پر آ کھڑا ہوا۔اس کی عقابی نظر جانے انجانے چہروں کو عبور کرتے ہوئے گزر رہی تھی۔۔۔۔ہانپتے کانپتے اور دوڑتے بھاگتے چہروں کو قطع کرتے کرتے بالآ خر ایک چہرے پر مرکوز ہو گئی۔ یہ ایک نوجوان تھا، جسے کھوئے ہوؤں کی جستجو میں دیوانے سائنسداں نے برسوں کی محنت سے کلوننگ کے ذریعہ ’نقشِ وجود‘ کا جامہ پہنایا تھا اور اسے ہمزاد کا نام دیا تھا۔ دبلا پتلا، خوش شکل، کشادہ پیشانی اور بڑی بڑی  آنکھوں والا نوعمر لڑکا، لمبے لمبے قدم رکھتا ہوا اپنی راہ چلا جا رہا تھا۔اجنبیوں کی طرح۔۔۔۔چپ چاپ۔۔۔اپنی سوچوں میں غرق۔ ایک لمحے کو اسے خیال  آیا کہ اس نے اس کو کہیں دیکھا ہے۔شاید پچھلے کسی وقت میں، اس نے صدیوں کے دو موٹے موٹے ورق الٹے اور اگلے صفحہ کے پیراگراف کو بغور پڑھنے لگا۔۔

’’تقریباً دوسو سال پہلے ایک شخص اس ویرانے میں  آیا تھا۔وہ دوسرے لوگوں سے کچھ مختلف تھا۔ اس کی سوچ بھی مختلف تھی اور اس نے زندگی کرنے کی جو خاص روش اپنائی تھی وہ بھی بظاہر مقامی تہذیب کی نمائندگی کرنے کے باوجود کچھ کچھ بلکہ بہت کچھ مختلف تھی۔ایک تو یہی بات حیرت میں ڈالنے والی تھی کہ دوسرے تمام لوگوں کے برعکس جب وہ پیدا ہوا تو وہ رویا نہیں۔۔دائی نے اس کو جھنجوڑا مگر وہ پھر بھی نہیں رویا۔۔شاید اس لیے کہ اس کو زندگی بھر جو رونا تھا۔۔۔دائی نے ایک بار پھر جھنجوڑا اور پھر اس خوف سے کہ لوگ بد شگونی نہ لیں اس کے گال پر ایک چپت لگایا اور وہ چلا اٹھا۔۔عورتوں نے نیک شگون لیا۔۔ایک جواں سال خادمہ اپنے دوپٹے کو اپنے سینے پر سنبھالتی ہوئی اس کے باپ کو خوشخبری دینے کے لیے دوڑ پڑی۔۔اور بیٹے کی خوشخبری سنانے کے صلے میں سونے کی ایک انگوٹھی پا کر خوشی سے پاگل ہو گئی۔۔۔حالانکہ اس کا رونا صرف رونا نہیں تھا بلکہ اس میں ایک طرح کا احتجاج تھا دائی کے ہاتھوں اپنی اس بے عزتی پر۔۔چونکہ وہ اس وقت ایک چوزے کے مانند تھا اور احتجاج کی صرف ایک ہی شکل تھی اور وہ یہ تھی کہ وہ روئے۔۔۔۔وہ اس وقت کیا رویا کہ پھر زندگی بھر روتا ہی رہا۔۔۔یوں تو بہت سارے لوگ روتے ہیں مگر اس کی خصوصیت یہ تھی کہ جب وہ روتا تھا تو اس کے ساتھ ایک زمانہ روتا تھا۔۔۔در و دیوار سے ہزارہا وحشتیں ٹپکتی تھیں اور بستیاں ویرانوں میں بدل جاتی تھیں۔۔

یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہلِ جہاں !

دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں ‘‘

ایک خفیف سی طنزیہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل گئی۔’’ ہوں۔۔۔!  ہو نہ ہو یہ اِسی شخص کا نقشِ ثانی ہے ؟۔۔وہی چال اور وہی رنگ ڈھنگ۔‘‘وہ زیر لب بڑبڑایا۔ٹنوں بھاری کتاب اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر دھپ سے زمین پر گری اور وہ کتاب اور غبار کو پھلانگتا ہوا اس کے تعاقب میں چل پڑا۔

ہمزاد نے جب وقت کی  آنکھوں سے نکلے ہوئے تیر اپنی ناک کی سیدھ میں  آتے ہوئے دیکھے تو اس نے  آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے قدموں کی رفتار تیز کر دی۔کچھ دور تیز تیز قدموں سے چلتا رہا اور پھر پوری طاقت سے دوڑنے لگا، کسی انجانی سی سنسان سڑک پر۔۔۔وقت کی تیز نظریں اب بھی اس کا تعاقب کر رہی تھیں۔۔اور وہ سرپٹ بھاگا جا رہا تھا۔۔۔بدحواسی کے عالم میں سنسان سڑک کے  آخری کنارے پر پتھر کے مجسمے کی کرسی سے جا ٹکرایا۔ تازہ لہو کی ایک پھوار نے مجسمے کے قدموں کو رنگ دیا اور ایک پتلی سی لکیر دیوار پر دو بالشت نیچے تک رینگ گئی۔۔۔ کچھ دیر بعد جب اس کے حواس بحال ہوئے تو اس کا داہنا ہاتھ بے اختیار اس کی پیشانی پر گیا۔پیشانی کی بائیں جانب بالوں کے پاس خون کی پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ وہ خوف سے کانپنے لگا۔۔۔اس نے ادھر ادھر دیکھا اور مجسمے کی کرسی پر جمے ہوئے خون کی لمبی لکیر دیکھ کر پھر سے بے ہوش ہو گیا۔

ابھی کوئی دس منٹ گزرے ہوں گے کہ اپنے کاندھے پر نرم و گداز ہاتھوں کا لمس محسوس کر کے  آنکھیں ملتا ہوا اٹھا۔اور دزدیدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔۔ذرا اوپر نگاہ اٹھائی تو خود کو پتھر کے مجسمے کے پاس پایا۔دونوں ہاتھوں سے اپنے خدوخال کو ٹٹولا اور پھر مجسمے کے پچاس ساٹھ سالہ بوڑھے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔۔

’’یہ تو ہو بہو میرے جیسا ہے۔۔۔یہ اپنے بچپن میں بالکل میرے جیسا رہا ہو گا۔۔۔یا پھر۔۔میں بڑھاپے میں اس کے جیسا دکھائی دینے لگوں گا۔۔یقیناً اس کے چہرے پر میری شبیہ ہے۔۔۔پر یہ ہے کون۔۔اور یہاں کیوں کھڑا ہے۔۔کب سے کھڑا ہے۔۔اور پھر یہ اکیلا کیوں ہے۔۔۔۔؟۔۔ اور ہم دونوں کے بیچ کیا رشتہ ہے ؟۔۔‘‘

اس کے ذہن میں سوالات کی بارش ہونے لگی۔اس نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔۔درد سے اس کا سر پھٹا جا رہا تھا۔

’’یہ غالب ہیں۔۔ انیسویں صدی کے مشہور شاعر، بہادر شاہ ظفر کے استاد۔۔ اور تم۔۔۔تم ان کے نقشِ ثانی ہو۔۔اس وقت تم اکیسویں صدی میں ہو۔۔۔‘‘وقت مجسمے کے پیچھے سے گھوم کر اس کے سامنے  آ کھڑا ہوا۔

’’کون غالب۔۔کیسا شاعر۔۔کون ظفر۔۔انیس، اکیس۔۔کیا ہے یہ سب۔۔ اور۔۔اور تم کون ہو۔۔اور تم میرا تعاقب کیوں کر رہے ہو۔۔؟‘‘

اس نے ہاتھ بڑھا کر مجسمے کی کرسی کی جڑ سے اپنی ٹوپی اٹھائی اور اسے سر پر منڈھتے ہوئے کھڑا ہوا۔

’’یہ دیکھو ادھر داہنی طرف‘‘

وقت نے کہرے کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی قلعہ کی برجیوں کی طرف اشارہ کیا۔اس کے لہجے میں ہمدردی اور اپنائیت تھی۔

’’اور ادھر دیکھو بائیں طرف‘‘

 اس کا سر اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر مخالف سمت میں گھما دیا۔

اس بار اس کی نگاہیں جدید طرز کی بلند عمارتوں کے عقب سے بلند ہوتی ہوئی دو میناروں پر پڑیں۔ اپنی مخروطی انگلیوں کی پشت سے  آنکھوں کو زور زور سے مسلا۔بالائی اور زیریں پلکوں کو جس حد تک پھیلا سکتا تھا پھیلا یا اور بڑے بڑے دیدے ادھر ادھر نچا نچا کر ہونقوں کی طرح دیکھنے لگا۔

’’کچھ یاد آ رہا ہے۔۔ ۔۔۔۔؟‘‘

’’نہیں۔۔کچھ نہیں۔۔مجھے کچھ یاد نہیں  آ رہا۔۔۔۔مگر گزشتہ رات میں نے خواب میں ان جیسی برجیاں، میناریں دیکھی تھیں۔۔۔اور بڑے بڑے دروازے، ہاتھی گھوڑے، نیزے، بھالے، بندوقیں اور بڑی بڑی توپیں بھی دیکھی تھیں میں نے ‘‘

’’اچھا۔۔تو بتاؤ کیا تھا تمہارا وہ خواب۔۔۔‘‘ وقت کا اشتیاق دیدنی تھا۔

’’ایک بہت بڑا سفید رنگ کا ہاتھی تھا۔‘‘ اس نے قدرے ہچکچاہٹ کے بعد کہنا شروع کیا۔

’’اس کی پیٹھ پر کجاوا کسا ہوا تھا، اس پر ریشمی پردے لٹک رہے تھے، ان پردوں میں سونے اور چاندی کے تاروں سے کڑھائی کی گئی تھی۔اس کجاوے کے اندر پچاس ساٹھ سال کا ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا، اس کے سرپر تاج تھا جس میں قیمتی ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ہاتھی جھومتا ہوا چل رہا تھا۔ اس کے اردگرد ہزاروں لوگوں کا قافلہ تھا، کچھ لوگ پیادہ پا تھے اور کچھ گھوڑوں پر۔۔‘‘

ہمزاد ابھی اپنا خواب پورا نہیں کر پایا تھا کہ ایک فرلانگ کے فاصلے پر کھڑے ایک پرانے درخت نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

’’بولو، بولو۔۔رک کیوں گئے ‘‘ وقت نے لقمہ دیا۔

’’ہاں !۔۔۔اور اس لشکر میں پردیسی ملک کے کچھ سپاہی بھی تھے جو لال رنگ کی وردی پہنے ہوئے تھے۔۔میں دور کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا کہ ہاتھی اور تمام لشکر ایک بڑے سے محراب نما دروازے میں داخل ہو گئے۔‘‘

ہمزاد کہتے کہتے رک گیا۔

’’آگے کیا ہوا۔۔۔؟‘‘

’’پھر مجھے ایک خوفناک آواز سنائی دی اور میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔ میں نے  آنکھیں کھولیں اور خود کو نرم بستر پر لیٹا ہوا پایا۔۔میں نے ادھر ادھر دیکھا، میں اکیلا تھا، کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔میں دبے پاؤں اٹھا اور اس عمارت کے عقب میں ایک پتلی سی سنسان گلی میں کود کر بھاگ نکلا۔۔ ۔۔۔۔‘‘

’’مگر آپ کون ہیں۔۔۔۔؟‘‘ ہمزاد نے متجسس نگاہوں سے دیکھا۔

’’شاہد۔۔میں شاہد ہوں تمام اگلے پچھلوں کا۔۔‘‘

’’اگلے پچھلوں کا شاہد۔۔ ۔۔۔تو۔۔ ۔۔۔ تم خضر ہو‘‘

نہیں !۔۔۔میں خضر کا بھی شاہد ہوں۔۔۔عینی شاہد!‘‘

’’ا س کا مطلب ہے کہ تم نے ان کودیکھا ہے ‘‘

’’ہاں۔۔ ۔۔۔‘‘ اس نے عرش کے دوسرے کنارے پر خیالی منظر کی بے رنگ تصویروں کو گھورتے ہوئے کہا۔

ہمزاد اس کی طرف بے تابی کے ساتھ لپکا اور اس سے پہلے کہ وہ قدم بوسی کے لیے جھکتا اس نے اپنا اگلا قدم اٹھایا اور پچھلے قدم سے دو فٹ پیچھے رکھ لیا۔ہمزاد کی جبینِ نیاز میں ہزاروں سجدے تڑپ اٹھے۔ہمزاد ہو کر اس کا رویہ بالکل جدا تھا جب وہ غالب ہو کر اس دنیا میں  آیا تھا تو اس نے صاف کہا تھا کہ خضر کی بزرگی اپنی جگہ مگر ہم انہیں راہنما بھی کریں۔۔۔۔یہ لازم تو نہیں۔

’’میں وقت ہوں۔۔ ۔۔۔۔تمام اگلے پچھلوں کا گواہ۔۔۔‘‘

’’وقت۔۔۔! تو پھر آپ میرے بارے میں بھی بہت کچھ جانتے ہوں گے ‘‘

وقت نے کچھ جواب نہ دیا، ہمزاد کا ہاتھ پکڑا اور ایک طرف کو چل دیا۔

’’یہ تو وہی جگہ ہے۔۔ جہاں کہاروں نے پالکی روک کر پانی پیا تھا۔‘‘

بابا عطار کے ٹیلے پر آم کے پرانے درخت کو دیکھ کر ہمزاد کے ذہن کے تمام خلئے ایک ایک کر کے روشن ہونے لگے۔تو کیا میں پہلے یہاں اس دنیا میں  آ چکا ہوں۔

غالب کی حویلی، لال قلعہ، قطب مینار، جامع مسجد، ہمایوں کا مقبرہ، آگرہ کا تاج محل، رام پور اور کلکتہ کی یادگار عمارتیں۔۔۔میوزیم اور لائبریریاں۔۔۔ قدیم تہذیب و تمدن کے باقیات، شاہوں اور مہاراجاؤں کی تصویریں، قرآن، تورات، انجیل اور گیتا کے قدیم نسخے، رومی، حافظ، سعدی، معری، شیفتہ، میر اور غالبِ خستہ کا بوسیدہ اور خستہ سا دیوان۔۔۔وقت نے تمام اہم مقامات کی سیر کروائی، انیسویں صدی کے تمام نوادرات کا مشاہدہ کروایا۔۔ ۔۔۔اور پھر آخر میں خود اس کے مزار کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔اب وہ پوری صورت حال سے  آگاہ ہو چکا تھا۔یہ بڑا عجیب و غریب منظر تھا کہ بیس سالہ نوجوان خود اپنی ڈیڑھ سو سال پرانی قبر کے سامنے کھڑا ہوا  تھا۔

اس کا جی چاہ رہا تھا کہ ابھی اسی لمحے اس کا وجود بکھر جائے اور وہ بھی اسی میں سما جائے یا اس کے تکیہ سے سر دے دے مارے اور۔۔۔اور زور زور سے چلائے۔۔۔۔اس کے ذہن میں  آندھی و طوفان امڈے پڑ رہے تھے۔بادلوں کی گھن گرج اور تیز ہوا کی سرسراہٹ سے کان پڑی  آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔اس کے سارے جسم پر رعشہ طاری تھا اور  آنکھوں سے دجلہ و فرات بہہ رہے تھے۔اس نے اپنی قبا کے ایک چاک کو ایک طرف سرکایا اور دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا۔عین اسی وقت ایک پچیس سالہ عورت اپنے ہاتھوں میں شمع لیے نمودار ہوئی اس کے پیچھے نو عمر لڑکے لڑکیاں تھیں، بوڑھے مرد اور عورتیں، سب کے سب مزار کے احاطہ میں داخل ہوئے۔عورت نے اپنے بائیں پیر کے سہارے پہلے داہنا سینڈل اتارا اور پھر داہنے پیر کے سہارے سے دوسرا سینڈل اتارا، باقی تمام افراد نے اس کی پیروی کی۔دھول میں اٹے ہوئے لال پتھروں پر آہستہ آہستہ، نزاکت اور احترام کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے مزار کے پاس آئی اور اس کے سرہانے دونوں بازوؤں کے پاس شمعیں رکھ دیں، پھر اسی نزاکت سے دو قدم پیچھے ہٹی اور با ادب کھڑی ہو گئی، اس کے تمام ساتھیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ہمزاد ان کے چہروں کو ٹک ٹک دیکھے جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آج کی دنیا میں شاعروں کا مستقبل زیادہ روشن ہے۔میں نے اپنی شاعری کو جہاں چھوڑا تھا اب مجھے وہیں سے ابتدا کرنی چاہئے اور جو کلام صرف اس لیے قلم زد کر دیا تھا کہ وہ اس وقت کی ذہنی سطح سے بلند تھا آج اس کو بازیاب کرنا ہو گا۔بیس پچیس لوگوں کا یہ قافلہ کچھ دیر سر جھکائے کھڑا رہا پھر کوئی  آہٹ کئے بنا دبے پاؤں احاطہ سے باہر نکل گیا۔

٭٭

 

آج ۲۷  دسمبر تھی اور مرزا غالب کا یوم پیدائش تھا۔سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر دنیا کے کئی ممالک میں رنگا رنگ تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا تھا، تعلیم گاہوں، اکادمیوں اور عام شاہراہوں پر بھیڑ امنڈ آئی تھی۔غالب کے صد انداز پر ہزارہا انداز سے روشنی ڈالی جا رہی تھی۔وقت نے ہمزاد کا ہاتھ پکڑا اور ایک نیم تاریک کمرے میں لا کر بٹھا دیا۔کمرہ جدید طرز کے فرنیچر سے سجا ہوا تھا، مغربی دیوار سے کتابوں سے بھری ہوئی لکڑی کی تین الماریاں تھیں۔عقب کی کھڑکی سے سمندر کی طرف سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی، کمرے کے ایک کونے میں ٹی وی رکھا ہوا تھا، یوم غالب کی وجہ سے تمام نیوز چینلز غالب سے متعلق دنیا بھر میں ہونے والے پروگراموں کو خصوصی کوریج کے ساتھ پیش کر رہے تھے۔کہیں سیمیناروں کا انعقاد کیا جا رہا تھا، کہیں پر ڈرامے پیش کئے جا رہے تھے اور کہیں غالب کا منتخب کلام نئی دھنوں پر گایا جا رہا تھا۔ہندوستان سے لے کر امریکہ، کنیڈا، یورپ اور سعودیہ تک دنیا بھر میں قائم اردو کی نئی بستیوں میں الگ الگ انداز سے کلام غالب کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ ہمزاد اپنے وجود کو اٹھائے انیسویں صدی کے وسط میں پہونچ چکا تھا۔حیرت، استعجاب اور مسرت کے ملے جلے اثرات کی لہریں اس کے سراپا پر اس طرح چڑھ اتر رہی تھیں جیسے ساحل کے سینے پر سرکش موجیں چڑھتی اترتی ہیں۔

وقت نے ایک بٹن دبایا اور دفعتاً مدہم مدہم سریلی  آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ہمزاد خیالوں کی دنیا سے باہر آیا، اس نے دیکھا کہ ایک سترہ اٹھارہ سال کی دوشیزہ خوش رنگ آواز میں گا رہی ہے۔۔

’’آہ کو چاہئے ایک عمر اثر ہونے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

عاشقی صبر طلب، اور تمنا بے تاب

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک‘‘

 شعر کے  آخر میں ’تک‘ کی  آواز پر وہ کچھ اس طرح لے توڑتی کہ ہمزاد اپنی جگہ ہل کر رہ جاتا۔

وہ چست کپڑے پہنے ہوئے تھی، اس کے جسم کا ہر عضو نمایاں ہو رہا تھا جو حصے خود بخود نمایاں نہیں ہو سکتے تھے ان کو وہ ادھر ادھر گھوم پھر کر اور ہل جل کر نمایاں کر رہی تھی۔

’’غمِ ہستی کا‘ اسدؔ  کس سے ہو جز مرگ ‘علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک‘‘

جب اس نے  آخری ’تک‘ پر ایک خاص انداز سے کمر اور سر کو ایک ساتھ جھٹکا دے کر چڑھی ہوئی  آواز کی تان توڑی تو ہمزاد بے اختیار اچھل پڑا اور ایک بار پھر سے اپنے پہلے دور میں پہونچ گیا۔وہ بدحواسی کے عالم میں دروازے کی طرف لپکا، مگر وہاں نہ کوئی فقیر تھا جو چمٹا لئے در در مانگتا پھر رہا ہو اور نہ ہی سامنے والی منزل میں کوئی طوائف جو پیروں میں گھنگرو باندھے گنگنا رہی ہو۔اسے اس حماقت پر ہنسی  آئی، دروازہ بند کیا اور الٹے قدم چلتا ہوا پھر صوفے پر گرگیا۔

’’انیسویں صدی میں اگر گلی کے فقیر اور کوٹھے کی طوائف نے میرے شعر کو زندہ رکھا تو آج اکیسویں صدی میں یہ نازنیں بہت کافی ہے جو مجھے اگلے دوسو سال تک زندہ رکھ سکے گی‘‘ اس نے دل میں سوچا اور مشروب کا گلاس اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔

اپنی پچھلی زندگی کا یہ شہر ہ دیکھ کر ہمزاد کو یقین ہو چلا تھا کہ یہ صحیح وقت ہے کہ اسے صحیح طور پر بلکہ مکمل طور پر سمجھا جا سکے گا۔جدید فکر اور ٹیکنالوجی نے لوگوں کو اتنا روشن دماغ بنا دیا ہے کہ اب وہ ہر سطح کی چیز قبول کرنے کے اہل ہو گئے ہیں۔

٭٭

 

ہمزاد چادر اوڑھ کر لیٹ گیا اور فکر شعر میں سر کھپانے لگا، صبح سو کر اٹھا تو اس کے کمربند میں  آٹھ دس گرہیں لگی ہوئی تھیں۔

’’تم اکیسویں صدی کے ہمزاد ہو انیسویں صدی کے غالب نہیں۔۔ ۔۔۔اکیسویں صدی اور یہ گرہیں۔۔ ۔۔۔ہی ہی ہی‘‘

اسے اپنے  آپ پر ہنسی  آنے لگی۔

 وہ ایک ایک گرہ کھولتا جاتا اور ایک ایک شعر ٹائپ کرواتا جاتا، جب پوری غزل ٹائپ ہو گئی تو اس نے بہت خوبصورت انداز میں ڈیزائن کروایا۔کل جس دوشیزہ کو اس نے اپنی غزل گاتے ہوئے سنا تھا اس کی ایک پری پیکر تصویر انٹر نیٹ سے حاصل کر کے بیک گراؤنڈ میں اس طرح لگوائی جس طرح بچے اپنی فوٹو کے بیک گراؤنڈ میں تاج محل کی تصویر لگواتے ہیں۔غزل پر غزل کچھ اس طرح کا سماں پیش کر رہی تھی جیسے  آسمان سے پریاں قطار اندر قطار اتر رہی ہوں۔

اس کام سے فارغ ہو کر اس نے دنیا بھرمیں جہاں جہاں اردو کے مداح اور قارئین موجود تھے، جتنی سائٹس اور رسائل دنیا بھر سے نکل رہے تھے سب کو میل کے ذریعہ بھجوا دی۔اور اگلے لمحے پیغامات آنے شروع ہو گئے۔

’’یہ اکیسویں صدی میں کون دوسرا غالب پیدا ہو گیا‘‘

’’واہ، واہ، کیا خوب رنگ جمایا ہے ‘‘

’’غالب کی زبان میں یہ کون غزل سرا ہے ‘‘

’’کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان ہے۔یہ تو کسی استاد ہی کا کلام ہو سکتا ہے ‘‘

اس طرح کے سینکڑوں خوبصورت پیغامات موصول ہوئے۔رسائل اور اخبارات جیسے نئی دنیا۔۔پرانی دنیا۔۔پہلی دنیا۔۔دوسری تیسری اور چوتھی دنیا۔۔۔۔اور اللہ جانے کون کونسی دنیا کے مدیروں نے بھی حوصلہ افزا جوابات ارسال کئے۔ ہمزاد کا سینہ چوڑا ہو گیا اور وہ ایک بار پھر فکر شعر میں کھو گیا۔

اشعار، غزلیں، قطعات اور قصائد ہمزاد کی کار گہہ فکر میں ڈھل ڈھل کر نکلتے رہے اور اہل سخن سے داد پاتے رہے۔ ہمزاد جیسے جیسے دن اور  رات کے سلسلے کو قطع کرتا جا رہا تھا اس کی فکر میں اسی طرح گہرائی اور معنویت اپنا رنگ و روپ نکھار رہی تھی۔ہمزاد شعری نشستوں اور مشاعروں کی روح بن گیا تھا۔

ہر سال کی طرح امسال بھی لال قلعہ کے دیوان خاص میں ایک عالمی مشاعرہ کا انعقاد ہونا طے پایا، ملک و بیرونِ ملک کے تمام مشہور و معروف شعراء کو بذریعہ ڈاک اور بذریعہ ای میل دعوت نامہ ارسال کر دیا گیا تھا۔یہ مشاعرہ چونکہ غالب کی دوسو پچاسویں سالگرہ کے موقع سے منعقد کیا جا رہا تھا خاص اس لیے بھی شعراء اور ناظرین کے دلوں میں اس کی قدر تھی۔ہمزاد کو ’غالب کا نقشِ ثانی‘ کا خطاب عطا کیا جا چکا تھا، اس لیے ہمزاد خود بھی اس مشاعرہ کو لے کر پر جوش تھا اور دیگر تمام اہل علم و قلم بھی ہمزاد کی شرکت کو باعث خیر تصور کر رہے تھے۔

سورج اور چاند کروڑوں برس کی عمر کو پہونچ چکے تھے، اور ابتدائے  آفرینش سے یکساں انداز کی مصروفیت اور لگے بندھے اصولوں کی موٹی موٹی زنجیریں ان کے پیروں میں پڑی ہوئی تھیں۔بساطِ کائنات کا ہر زرہ اپنے اپنے مخصوص چکر میں گرفتار تھا۔سورج اور چاند روز کی طرح غروب اور طلوع ہو رہے تھے مگر ہمزاد کو جس دن سے لال قلعہ کے مشاعرہ میں صدرِ مشاعرہ کی حیثیت سے دعوت نامہ ملا تھا وہ اپنے اندر بڑی تبدیلیاں محسوس کر رہا تھا۔اس کے اپنے مکان کی چھت اور ا س کے اپنے سر کی اوٹ لے کر گزرتے ہوئے سورج اور چاند کو اس نے بارہا دیکھا تھا مگر جو خاص بات اور نیا پن ان دونوں میں اس وقت محسوس ہو رہا تھا وہ ہمزاد نے  آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔اسے لگتا جیسے یہ سورج اور چاند عربوں لوگوں کی بھیڑ میں خاص اس کو اہمیت دیتے ہیں اور ہر دن اور ہر رات اس کے گھر کی چھت سے گزرتے وقت اسے سلام کرتے ہیں۔ہمزاد ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ چودھویں کا چاند اپنا نصف دائرہ قطع کرتا ہوا اس کے سر  پر آ پہونچا اور ہمزاد کا نکلتا ہوا قد بادشاہ کے سلام کا جواب دینے کے انداز میں کمان ہو گیا۔

٭٭

 

 لال قلعہ غالب کی دوسو پچاسویں سالگرہ کی تقریب کے جشن میں بقعہ نور بنا ہوا تھا۔دیوان خاص سامعین سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا، تمام مہمانانِ خصوصی اور شعرائے کرام تشریف لا چکے تھے۔ہمزاد نے صدرِ مشاعرہ کی حیثیت سے اپنی مرکزی نشست سنبھال لی تھی۔تلاوتِ  قرآن اور حمد و نعت کے بعد اناؤنسر نے شعراء کو اپنے مخصوص انداز میں یکے بعد دیگرے بلانا شروع کیا۔سامعین اتنے پر جوش تھے کہ وہ رات بھر سننے کے موڈ میں دکھائی دے رہے تھے۔ادھیڑ عمر کا اناؤنسر اپنے سابقہ تجربات اور سامعین کی نفسیات کی روشنی میں ایسے پینترے بدل بدل کر مشاعرہ کی کارروائی کو آگے بڑھا رہا تھا کہ سامعین کا جوش و خروش لمحہ بہ لمحہ اس طرح بڑھ رہا تھا جس طرح بارش کے دنوں میں سیلاب کا پانی چڑھتا ہے اور چڑھتے چڑھتے چھتوں پر چڑھ جاتا ہے۔ وہ ایک بار کسی شاعر کو آواز دیتا اور دوسری بار کسی شاعرہ کو، ایک بار ایسے شاعر یا شاعرہ کو بلاتا جو فکر و آگہی اور حکمت و موعظت کے موتی رولنے میں لاثانی سمجھی جاتی تھی تو دوسری بار کسی ایسے مزاحیہ شاعر کو کہ سامعین اس کی شکل دیکھ کر ہی قہقہے لگانے لگتے۔ہمزاد ماشاء اللہ، بہت خوب بہت خوب، کمال کر دیا، واہ بھئی واہ اور مکرر ارشاد کہہ کر داد دے رہا تھا۔

ناظم مشاعرہ نے ہمزاد کو ایسے وقت کے لیے چھوڑ رکھا تھا جب گرمیِ بزم اپنی انتہا کو پہونچ جائے۔اور بالآخر وہ گھڑی  آ ہی گئی جس کا اناؤنسر کو انتظار تھا، بلکہ تمام شعراء اور سامعین کو انتظار تھا۔اس نے بڑی بے تابی سے پہلو بدلا، غالب کے دیوان سے منتخب اشعار کی مدد سے ایک سماں باندھا۔اس نے اپنی یادداشت پر زور ڈالا اور جتنے خوبصورت اور حسین الفاظ اس کی یادداشت میں محفوظ ہو سکتے تھے وہ سب ہمزاد کی تعریف پر صرف کر دیئے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ زمین و آسمان کی قلابے ملانا بس وہی۔ہمزاد کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے باہر آسمان سے ہن برس رہا ہے۔

’’اب میں بڑے احترام کے ساتھ دعوت دے رہا ہوں حضرتِ ہمزاد کو۔۔ ۔۔۔جو منفرد لب و لہجے کے شاعر ہیں۔۔ انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔۔استاد غالب کے خاص مفکرانہ اور فلسفیانہ انداز اور اسلوب کو انہوں نے اپنی شاعری میں بہت سلیقے اور ہنر مندی کے ساتھ برتا ہے اور اسی لیے انہیں غالب کے نقشِ ثانی کا خطاب دبئی میں منعقد عالمی مشاعرہ میں دیا گیا تھا۔ہم سب کے لئے۔۔ ۔۔۔۔آنے والی نسلوں کے لیے۔۔۔اردو زبان کے لیے۔۔بلکہ ساری دنیا کے لیے بہت غنیمت ہے ان کا وجود۔۔اور قیمتی سرمایہ ہیں ان کی تخلیقی کاوشیں۔۔۔

 غزل کی  آبرو، اردو کی شان، ہر دل عزیز، سب کی پسند ’غالب کے نقشِ ثانی‘ صدرِ مشاعرہ جناب ہمزاد صاحب۔۔۔آئیں۔۔ تشریف لائیں۔۔۔اور سامعین کو اپنے خوبصورت کلام سے نوازیں۔۔ ۔۔۔‘‘

اناؤنسر کی  آواز تالیوں کی گڑگڑاہٹ میں دب کر رہ گئی، اس نے صدرِ مشاعرہ کی مرکزی نشست کی طرف مڑ کر دیکھا۔۔مگر ہمزاد تو کبھی کا ڈائس پر پہونچ چکا تھا۔

’’گھر ہمارا، جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا‘‘

ابھی تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی بازگشت کی صوتی لہریں دیوانِ خاص کی فضا میں ارتعاش پیدا کر ہی رہی تھیں کہ دفعتاً  ایک منحنی سریلی  آواز ہمزاد کے حلقوم سے نکلی اور اس سے پہلے کہ وہ شعر مکمل کر پاتا دیوان خاص ایک بار پھر تالیوں کی  آواز سے گونج اٹھا۔

’’بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا‘‘

’’تڑاتڑ۔۔تڑاتڑ، تڑاتڑ۔۔۔۔واہ۔۔ ۔۔۔واہ واہ۔۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو۔۔۔۔‘‘

سامعین جیسے ہوش کھو رہے تھے۔

’’آداب۔۔۔آداب۔۔۔نوازش۔۔۔نوازش‘‘ ہمزاد نے اتنی مسرتیں اپنی زندگی میں کبھی بھی محسوس نہیں کی تھیں۔

’’تنگیِ دل کا گلہ کیا، یہ وہ کافر دل ہے

کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا‘‘

’’تڑاتڑ۔۔تڑاتڑاتڑ۔۔۔۔واہ۔۔ ۔۔۔واہ واہ۔۔۔۔کیا بات ہے۔۔تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا۔۔۔۔‘‘

ہمزاد اب اپنی جگہ لینا چاہتا تھا مگر سامعین کی طرف سے ایک تازہ غزل کے شدید اصرار نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔

ایک تازہ غزل  آپ حضرات کی محبتوں اور عنایتوں کے حوالے کرتا ہوں۔ہمزاد نے گھوم کر پھر مائک دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔جیسے یہ اس کی نجی ملکیت ہو اور اسے خوف ہو کہ اسے کوئی چھین لے جائے گا۔

’’تپش سے میری وقفِ کش مکش‘ ہر تارِ بستر ہے

مِرا سر رنجِ بالیں ہی  مِرا تن بارِ بستر ہے ‘‘

واہ واہ اور تالیوں کی دبی دبی گڑگڑاہٹ ہلکے سر کی طرح اٹھی اور ایک آخری ہچکی لے کر دم توڑ گئی۔ہمزاد نے نظر اٹھائی اور اگلا شعر مائکروفون کے توسط سے سامعین کی سماعتوں کے حوالے کیا۔

’’سرشکِ سر بہ صحرا دادہ، نور العینِ دامن ہے

دلِ بے دست و پا اُفتادہ برخور دارِ بستر ہے ‘‘

ہمزاد نے محسوس کیا کہ سامعین کے جوش پر اوس گر رہی ہے۔مگر اس نے کلام سنانا جاری رکھا۔۔۔

’’خوشا اقبالِ رنجوری! عیادت کو تم آئے ہو

فروغِ شمعِ بالیں، طالعِ بیدارِ بستر ہے ‘‘

یہ شعر بھی پچھلے شعر کی طرح میڈِن اوَر[Maiden Over] کی طرح سروں سے گزر گیا۔

ہمزاد نے پیچھے اسٹیج پر بیٹھے اساتذۂ ادب وفن کی طرف مڑکر دیکھا۔۔ ۔۔۔وہ آپس میں گھسر پسر کر رہے تھے۔۔

’’توجہ چاہتا ہوں جناب۔۔۔‘‘

’’ارشاد۔۔ارشاد۔۔۔۔‘‘سرگوشیاں کرنے والے سٹپٹا کر رہ گیے جیسے ان کی چوری پکڑی گئی ہو۔وہ سنبھل کر بیٹھ گئے اور خجالت کے احساس سے خد و خال کا بگڑا ہوا نقشہ ’ارشاد ارشاد‘ کے غازہ میں چھپانے کی ناکام کوشش کرنے لگے۔

ہمزاد نے رخ موڑا اور سامعین کے چہروں پر سیاہ حلقوں میں جھانکا، یہاں ھُو کا عالم تھا، ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، وہ آپس میں کانا پھوسی کر رہے تھے۔ہمزاد کے رخسار، پیشانی اور گردن کی دونوں جانب کے مسامات سے شبنمی قطرے پھوٹ نکلے۔اس نے پہلو بدلا اور عرقِ پریشانی کے تین چار قطرے سینے کے بالوں کی لکیر کے سہارے ناف تک اتر آئے اور ناف کے گڑھے کو بھر دیا۔

’’بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائی‘‘

’’مصرع اٹھائیں جناب‘‘ ہمزاد اساتذہ سے مخاطب تھا۔اس کے لہجے میں یاسیت کا بانکپن نمایاں ہو رہا تھا۔

’’بہت بھاری ہے میاں۔۔۔کرین منگوانی پڑے گی‘‘

دیوانِ خاص کے ایک نیم روشن کونے سے بھدی سی  آواز ابھری اور ایک کبڑا جسم تاریک حصہ کی طرف رینگ گیا۔

ہمزاد کی  آنکھوں سے وحشت ٹپکنے لگی اور مسرتوں سے بھرے جذبات کی گرم بھٹی دم کے دم میں سرد پڑ گئی۔

’’قبر میں سوتے رہنے میں جو عزت ہے وہ قبر سے باہر آنے میں نہیں ‘‘

اس نے دل میں سوچا اور اس سے پہلے کہ یہ الفاظ آہ بن کر لبوں تک آتے وہ سوکھے پیڑ کی طرح پشت کے بل اسٹیج پر گر پڑا۔

٭٭٭