کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

جیت کا غم

الیاس ندوی رام پوری


دارالعلوم میدان پور میں سالانہ انعامی مقابلوں کی گہما گہمی تھی، چھوٹے بڑے لڑکے اپنی اپنی کتابیں سینے سے لگائے اِدھر ُادھر آ جا رہے تھے۔ہاسٹل سے مسجد، مسجد سے درسگاہ اور درسگاہ سے بازار تک آنے جانے والے تمام راستے مصروف تھے۔درسگاہ، ہاسٹل، مسجد اور بیس پچیس دکانوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا بازار، بمشکل تمام ایک کلو میٹر کے احاطہ میں رہے ہوں گے، جنہیں مختلف قسم کی سبزیوں کے ہرے بھرے کھیت ایک دوسرے سے الگ کرتے تھے۔ ان کے درمیان سے تارکول کی میلی اور پتلی سی سڑک شہر تک جاتی تھی۔مسجد گو عالیشان نہ تھی پر صاف ستھری اور پرکشش ضرور تھی، درسگاہ اور ہاسٹل سہہ منزلہ تھے۔ اتر پردیش کے ایک مصروف ترین شہر کے مضافات میں شہر کے ہنگاموں سے دور اس چھوٹے سے دارالعلوم میں کم و بیش پانچ سو طلبہ زیر تعلیم تھے۔ جن کو ساٹھ ستر کے قریب اساتذہ اور نوکر چاکر پر مشتمل اسٹاف کنٹرول کرتا تھا۔

بارشوں کا گزرتا ہوا موسم تھا، در و دیوار پربھی سبزہ اگ آیا تھا۔ہاسٹل کے پچھواڑے چھوٹے سے تالاب نے بھی سبز رنگ کا لباس پہن لیا تھا۔گاؤں کے عاشق مزاج لڑکے پھولے نہ سما رہے تھے کہ پیار و محبت کو پال پوس کر جوانی کی منڈھیر چڑھانے کا یہ صحیح وقت تھا۔ ہر چیز سے سوندھی سوندھی مہک اٹھ رہی تھی۔

 بارشیں مجھے بچپن ہی سے پسند تھیں، میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ اگر بارشیں نہ ہوتیں تو دنیا کیسی لگتی، شاید روکھی روٹی کی طرح اور شاید بے نمک سالن کی طرح۔مگر دوسرے لڑکوں کا معاملہ ذرا مختلف تھا، یہی بارش جب کلاس کے وقت ہوتی اور اساتذہ کا راستہ روک لیتی تو ان کے چہرے کھل اٹھتے اور وہ کلاس روم کے سنجیدہ ماحول کو قحبہ خانے کے نشیلے ماحول سے بدل دیتے۔لیکن اگر یہی بارش شام تک ہوتی رہتی تو ان کے منہ لٹک جاتے۔۔ ۔۔۔آج تمام لڑکے خوش تھے کیونکہ بارش ان کے من مطابق ہوئی تھی۔۔ ۔۔۔دوپہر تک تیز بارش ہوتی رہی۔۔۔کئی اساتذہ اپنے اپنے گھروں میں قید ہو گئے۔۔ ۔۔۔۔۔مگر دوپہر ہوتے ہوتے اچھی خاصی دھوپ ہو چکی تھی اور شام آتے  آتے اپنے ساتھ ایسا موسم لے  آئی کہ ان کی پنڈلیوں کی رگوں میں گرم خون کا بہاؤ تیز ہو گیا۔۔ ۔۔۔بعد نمازِ عصر۔کھیلوں کی دنیا کے بازیگر میدان میں اتر گئے۔میں اپنے کمرے کی بالکنی میں کرسی پر بیٹھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ دفعتاً ایک منحنی  آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔’’آپ کو ناظم صاحب بلا رہے ہیں۔۔‘‘میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔یہ ایک چھوٹی عمر کا لڑکا تھا جو ناظم صاحب کا پیغام مجھ تک پہونچا کر اپنے راستے چلا گیا تھا۔

’’۔۔ تمہیں بیت بازی کی ٹیم اے کا قائد چنا گیا ہے۔۔۔۔‘‘ابھی میں ان کے کمرے میں داخل ہی ہوا تھا اور ٹھیک سے بیٹھنے بھی نہیں پایا تھا کہ ناظم صاحب کمالِ اطمینان اور خوش گوار مسرت کے ساتھ گویا ہوئے۔۔۔۔جیسے اپنی زندگی میں پہلی بار کوئی نیک کام کیا ہو۔اور جنت کے استحقاق کا تمام تر دارومدار اکیلے اسی ایک کام پر ہو۔

میں کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔۔ ۔۔۔اپنے اندر اور باہر دونوں اطراف میں نظر کی۔ میں کہیں سے کہیں تک بھی اس اعزاز کا مستحق نہیں تھا۔۔۔۔مجھے شعر سے کچھ خاص تعلقِ خاطر نہ تھا اور نہ ہی دارالعلوم میں شعر گوئی یا شعر فہمی کے لئے جانا جاتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔’’یہ ناظم صاحب کا میرے متعلق حسنِ ظن ہو سکتا ہے۔۔۔یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بدرجۂ مجبوری قرعۂ فال میرے نام نکال لیا ہو۔۔۔۔‘‘میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔۔۔۔کیونکہ ایک میں ہی تھا جو کسی مقابلے میں شریک نہیں تھا۔باقی لڑکے جو ذہین اور محنتی تھے کئی طرح کے مقابلوں میں شرکت کر رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔مثلاً: تقریر، تحریر، تجوید، حفظِ قرآن، نعت خوانی، کرکٹ، بیٹ منٹن، فٹ بال، لانگ جمپ، ہائی جمپ اور دوڑ وغیرہ۔۔۔ایک ایک لڑکے نے چار تا آٹھ چیزوں میں حصہ لے رکھا تھا۔بس ایک میں ہی تھا جو ایک ذہین اور محنتی طالب علم سمجھا جانے کے باوجود کسی مقابلے میں شریک نہیں تھا۔۔۔۔تو ناظم صاحب کا یہ حق بنتا تھا کہ وہ مجھے کسی نہ کسی مقابلہ کے لیے از خود نامزد کر دیں۔

 اپنی اس غیر مترقبہ نامزدگی کے لیے انکار کا ایک لفظ’ نہیں ‘ میرے منہ تک آیا اور ناظم صاحب کے احترام سے بند خشک ہونٹوں میں دب کر ٹوٹ گیا۔۔ ۔۔۔اور پھر۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ میری خاموشی کو جس میں انکار کے ہزاروں انداز پوشیدہ تھے رضامندی کی زندہ علامت تصور کر لیا گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس سے پہلے کہ میں اس ٹوٹی بکھری ’نہیں ‘کے غبار کو مجتمع کر پاتا قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے سوکھ گئے۔۔ ۔۔۔۔

 عجیب قسم کا خلجان میرے رگ و پے میں دوڑ گیا۔۔ ۔۔۔’’۔پھنس گیا دلدل میں خر  ؍ آدھا اِدھر، آدھا اُدھر‘‘۔۔ ۔۔۔۔میں زیر لب بڑبڑایا۔

اور اگلے لمحے جب میری نظر ایک ہنستے مسکراتے چہرے پر پڑی تو یہ خلجان اپنی انتہا کو پہونچ گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔یہ میرا جگری دوست تھا جسے ٹیم بی کا قائد بنایا گیا تھا، گرچہ وہ میرا ہم عمر اور ہم جماعت تھا مگر خاص اس میدان میں میرا اس سے کوئی میل نہ تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔وہ نہ صرف شعر فہمی میں دَرّاک تھا بلکہ شعر گوئی پر ہاتھ صاف کرنا بھی اپنا پیدائشی حق سمجھتا تھا۔۔۔۔ شعر و شاعری سے نابلد مجھ جیسے سیکڑوں لڑکے اس کے فی البدیہہ کہے گئے اشعار پر سر دھنا کرتے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔ہاسٹل سے کلاس روم تک اور چائے خانے سے باتھ روم تک ہم جہاں بھی اسے دیکھتے ہمیشہ گنگناتے ہوئے دیکھتے۔فکر میں الجھا ہوا۔۔۔۔اور کھویا کھویا سا۔۔ ۔۔۔۔وہ اپنی اسی شانِ بے نیازی کے ساتھ مسکرا رہا تھا جسے میں گزشتہ پانچ سالوں سے جانتا تھا۔۔۔۔میں نے بھی مسکرانے کی کوشش کی مگر دفعتاً ایک خیال میرے دماغ میں بجلی کی سی سرعت کے ساتھ کوند گیا۔

۔’’جب اس کو ٹیم بی کی قیادت کے لیے نامزد کیا گیا ہو گا تو شاید خود اسی نے میرا نام پیش کیا ہو گا۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘میں نے دل میں سوچا۔۔ ۔۔۔۔۔’’تاکہ آسانی سے جیت سکے۔۔۔۔‘‘پانچ سال کی بے داغ رفاقت میں پہلی بار مجھے اس کی موقع پرستی پر غصہ آیا۔۔ ۔۔۔پھر اس خیال کو شیطانی وسوسہ سمجھ کر جلد ہی دماغ کے تاریک خلیوں سے کھینچا اور دارالعلوم کے پچھواڑے گندے تالاب میں پھینک دیا۔۔ ۔۔۔ وہ یقیناً ایک مخلص دوست تھا۔

۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔××۔۔ ۔۔۔۔۔

طلبہ کے چوبیس گھنٹے اس طرح تقسیم کر دئے گئے تھے کہ انہیں سر اٹھانے کی فرصت نہ ملتی تھی۔ اگر کسی دن آموختہ دہرانے سے رہ جاتا اور ٹائم ختم ہونے لگتا تو وہ اپنے سونے کے وقت سے گھنٹے دو گھنٹے مستعار لے لیتے اور عام دنوں کے مقابلے اس دن دیر رات تک جاگتے رہتے، یہ جاگنا پڑھائی کے نام پر ہوتا مگر جب وہ پڑھائی سے فارغ ہوتے تو انہیں لگتا کہ مستعار لیا ہوا یہ وقت پڑھائی میں کم اور باتوں میں زیادہ گزرا ہے، تب انہیں احساس ہوتا کہ اس سے تو بہتر یہی تھا کہ وہ سو جاتے۔سونے کا کم از کم یہی ایک بڑا فائدہ ہے کہ اس سے جسم کو آرام ملتا ہے اور ذہن کو سکون۔صبح میں انہیں وقت پر ہی اٹھنا ہوتا تھا۔ وہ سونے کے وقت کو مؤخر کر سکتے تھے، یہ ان کے اختیار میں تھا مگر اٹھنے کے وقت کو مؤخر نہیں کر سکتے تھے، یہ ان کے اختیار میں نہیں تھا۔

پھر جب دن پوری طرح نکل  آتا اور ان میں سے کسی کو لگتا کہ کم سونے کی وجہ سے جسم درد سے دکھ رہا ہے اور دماغ بوجھل ہو رہا ہے تو وہ تعلیم کے اوقات سے کم و بیش اتنے ہی گھنٹے چرا لیتا، ایک خوبصورت سا عذر تلاش کرتا اور کلاس چھوڑ چھاڑ چادر اوڑھ کر مزے سے سو رہتا۔بعض وہ لڑکے جو کلاس چھوڑنے کی ہمت نہ کر پاتے وہ جسم اور دماغ کے  آرام کے لیے ایک دوسری راہ نکالتے، وہ نیند سے بوجھل ادھ کھلی  آنکھوں کے ساتھ کلاس میں داخل ہوتے، سب سے  آخری نشست کا انتخاب کرتے اور بیٹھنے کے بجائے بے جان جسم کے ساتھ بینچ پر دھپ سے گر جاتے اور پھر آنکھیں اس طرح موند لیتے جیسے اب قیامت ہی کو اٹھیں گے، مگر ہلکی سی  آہٹ پر چونک پڑتے، نیند سے بوجھل پلکوں کو زبردستی اٹھاتے اور بغل والے لڑکے کی کتاب پر جھک جاتے۔۔۔جیسے وہ صرف پڑھنے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔مگر جب ماحول ذرا پرسکون ہوتا تو پھر نیند کی گہری وادی میں اتر جاتے۔

اور جب کلا س ختم ہو جاتی تو چادر اوڑھ کر سویا ہوا لڑکا جاگتا اور کلاس چھوٹ جانے پر افسوس کرتا۔۔ ۔۔۔۔۔جسم اور دماغ کے  آرام کے لیے دوسری راہ نکالنے والا لڑکا اس کی طرف نیند کی کمی کے باعث سوجھی ہوئی  آنکھوں سے دیکھتا، مسکراتا اور کہتا۔

’’ چل یا ر!اب افسوس کرنے سے کیا ہو گا، تو مجھ سے تو بہتر ہی ہے، میں تو نہ ٹھیک سے سو سکا اور نہ ٹھیک سے درس ہی سن سکا۔تو کم از کم سو تو لیا۔ چل۔۔۔۔چل کر چائے وائے پیتے ہیں۔‘‘

دس منٹ بعد دونوں چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔دماغ کی شریانوں پر جمی ہوئی افسوس کی گہری برفیلی چادر چائے کی گرمی سے پگھلنے لگی اور وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگے۔ اور عصر کا وقت آتے  آتے وہ اس قابل ہو گئے کہ کھیل میں اچھا مظاہرہ کر سکیں۔

شام کے وقت جب انگارے کی مانند دہکتا ہوا سورج سہہ منزلہ ہاسٹل کے عقب میں روپوش ہو رہا تھا، ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان کرکٹ کے میدان کو ہاسٹل کی عمارت کے سایوں نے پوری طرح ڈھانپ لیا تھا تو چادر اوڑھ کر سونے والے نے لگاتار تین چھکے لگائے، آخری شاٹ پر آسمان میں اڑتی ہوئی گیند کو چمکتی نظروں سے دیکھا، وہ بیٹ پر سہارا لگائے کھڑا تھا اور عین اسی لمحے میں جب گیند ہاسٹل کی سہہ منزلہ عمار ت کے اوپر ڈوبتے سورج کا تعاقب کر رہی تھی اس نے داہنے ہاتھ کو چوما، گیند کو مستی بھری فلائنگ کس کی اور دل میں کہا کہ چادر اوڑھ کر سونا کچھ ایسا غلط نہیں۔

۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔××۔۔ ۔۔۔۔۔

جن لڑکوں نے گزشتہ سال کے مقابلوں میں اچھی کار کردگی کا مظاہرہ کیا تھا ان کی چال دور ہی سے پہچانی جاتی تھی، ان کا پھولا ہوا سینہ، کھلتی ہوئی بانچھیں اور اچکتی ہوئی ایڑیاں چغلی کھاتی تھیں کہ یہ سالِ گزشتہ کے تیس مار خاں ہیں۔ان کی  آنکھوں میں گزشتہ سال کی فتوحات کی سرمستی کے نشے کے باقیات ابھی تک محو نہیں ہوئے تھے اور سالِ رواں کے مقابلوں میں میدان مارنے کے سنہرے خوابوں کی شفق زدہ لہریں  آنکھوں کے ساحل تک چڑھ آئی تھیں۔

جو لڑکے نئے تھے یا پہلی بار حصہ لے رہے تھے وہ شش وپنج میں مبتلا تھے اور ان کی  آنکھوں میں ڈوبتی ابھرتی امید و بیم کی لکیریں صاف بتاتی تھیں کہ اس وقت ان پر کیا گزر رہی ہے۔میری اپنی حالت بھی قریب قریب انہیں جیسی تھی، میں گرچہ اس سے قبل بھی مختلف  مقابلوں میں حصہ لے چکا تھا۔۔۔۔مگر کبھی کوئی انعام حاصل نہیں کیا تھا، اس لیے مجھ میں اور ان لڑکوں میں بڑی حد تک مماثلت تھی۔۔ ۔۔۔۔۔اور بیت بازی کے مقابلے میں تو میرا یہ پہلا موقع ہی تھا۔۔ ۔۔۔۔اور اس پر طرفہ یہ کہ میں قائد بھی بنا دیا گیا تھا۔۔۔میرے پیٹ میں اینٹھن ہونا فطری بات تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔جب میں ٹیم کی کار کردگی کو بہتر بنانے کے لیے دیگر ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتا تو مجھے لگتا کہ میں ان کے سامنے کوتاہ قد ہوں اور دفعتاً میرے پیٹ میں زور زور سے مروڑیں اٹھنے لگتیں۔۔ ۔۔۔میں غیر مرئی انداز سے لمبی لمبی سانسیں لیتا اور پیٹ میں ڈھیر ساری ہوا جمع کر لیتا اور پھر ناک کے ذریعہ اسی طرح آہستہ آہستہ ساری ہوا باہر پھینکتا۔۔۔ناپسندیدہ اضطراب کو چھپانے کے لیے یہ عمل مجھے ہمیشہ کارگر محسوس ہوا تھا۔

میری ٹیم کل پندرہ لڑکوں پر مشتمل تھی۔۔۔۔بظاہر ایسی کوئی بات نہ تھی جس سے پتہ چل پاتا کہ ان کے من میں کیا چل رہا ہے، مگر میں از خود سوچا کرتا کہ یہ لڑکے میری قیادت سے بہت زیادہ خوش نہیں ہیں۔۔۔۔یہ سوچ میرے دل کے مرکزی مقام پر کنڈلی مارکر بیٹھ گئی تھی۔

’’ناخوش ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں۔۔ ۔۔۔میری بلا سے۔۔۔۔میں ان کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنا دماغ کیوں پکاؤں ‘‘

اس بے سبب سوچ کی کلفتوں سے نجات پانے کا فی الوقت میرے پاس یہی ایک راستہ تھا کہ میں انہیں خاطر میں نہ لاؤں۔۔ ۔۔۔اور میں نے وہی کیا۔

٭٭

 

’’۔۔ ۔۔۔۔ مگر تم جیت نہیں پاؤ گے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اتنا تو طے ہے۔‘‘ اس کے بعد ہم دونوں جب بھی ناظم صاحب کے پاس ہوتے تو ناظم صاحب یہ بات ضرور کہتے۔۔۔۔اور میں اس کو محض دل لگی سمجھ کر خاموش رہتا یا بے معنیٰ سی مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر طاری کر لیتا۔ مگر جب وہ آتے جاتے بار بار یہ جملہ دہرانے لگے تو میرا من ان کی طرف سے بھی میلا ہونے لگا، اسی پتلی سی میلی سڑک کی طرح جو سالہا سال سے اپنی جگہ پڑی ہوئی تھی، اکیلی اور کرم خوردہ، جس پر نہ بڑی بڑی بسیں چلتی تھیں اور نہ کبھی بلڈوزر چلائے گئے تھے۔اس کی کھال جگہ جگہ سے ادھڑ گئی تھی۔

کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا کہ ان دونوں استاد، شاگردوں نے میرے خلاف ساز باز کر لی ہے۔۔۔۔مگر جب ان کی کرم فرمائیوں پر نظر جاتی تو میں اس خیال کو سختی کے ساتھ جھٹک دیتا۔ ایک بار تو میری گردن اتنی زور سے ہل گئی کہ ناظم صاحب مجھے تشویش زدہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ اور میں اس طرح گردن کھجانے لگا جیسے چیونٹی نے کاٹ لیا ہو۔۔۔۔مگر میرے اندرون میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔

پندرہ اگست کی وہ شام جب دو ٹیموں کو آمنے سامنے  آنا تھا اور ہار جیت کا قطعی فیصلہ ہونا تھا۔ جیسے جیسے قریب آتی جاتی تھی میرا اضطراب اسی قدر بڑھتا جاتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اس شام کے  آنے تک ابھی پانچ مزید اضطراب انگیز شاموں کو میرے سر سے گزرنا تھا۔

یہ پانچ اگست کی بھیگی بھیگی شام تھی۔ باہر تا حد نگاہ گہری تاریکی پھیلی ہوئی تھی، سڑک کے کنارے بنی کھائیوں میں بارش کا گدلا پانی بھرا ہوا تھا جن میں ہرے پیلے سینکڑوں مینڈک ایک آہنگ کے ساتھ ٹرٹرا رہے تھے اور دور کسی درخت سے جھینگر کی ڈوبتی ابھرتی تیز سیٹی جیسی  آواز دور دور تک پھیلی ہوئی گہری تاریکی پر انجانے خوف کی چادر تان رہی تھی۔ باہر کا ماحول سڑک کی طرف کھلنے والی دو چھوٹی چھوٹی کھڑیوں کی راہ سے کمرے میں گھس آیا تھا۔ہمارے سروں کے پانچ فٹ اوپر بجلی کا پنکھا دھیمی رفتار سے چل رہا تھا۔ میں نے کتاب سے نگاہ اٹھائی اور سامنے دوسرے تخت پر خاموش مطالعہ میں گم بی ٹیم کے قائد کو دیکھا۔۔ ۔۔۔دیوانِ غالب، کلیات اقبال، کلیم عاجز کا دیوان ’’ وہ جو شاعر کا سبب ہوا‘‘ اور دیگر کئی ساری کتابیں بے ترتیبی کے ساتھ اس کے سامنے بکھری پڑی تھیں۔

اس کے داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا ہوا قلم ایک بار کا پی پر تیزی کے ساتھ دوڑنے لگتا اور دوسری بار اس کے بے داغ سفید دانتوں کے درمیان ٹھہر جاتا اور دیر تک ٹھہرا رہتا۔ جب قلم کاپی پر پھسل رہا ہوتا تو میرے دل میں شک اپنے چھ پاؤوں کے ساتھ جوں کی طرح رینگ جاتا اور میں سوچتا کہ بی ٹیم کو ہرانا کوئی اتنا آسان نہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔اور جب قلم کا عقبی حصہ دانتوں کے درمیان دیر تک پھنسا رہ جاتا تو شک رفع ہو جاتا اور یقین دل کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتا اور میں سوچتا کہ بی ٹیم کے خلاف جیتنا کوئی ایسا مشکل نہیں۔۔ ۔۔۔۔۔’’آہ !  یہ حالت کس قدر قاتل ہے کہ ہم ایک چیز کو قبول کرتے ہیں اور پھر معاً بعد اس کو رد کر دیتے ہیں۔۔۔۔قبول کرنے کی بھی ہزاروں وجوہات ہیں اور رد کرنے کی بھی لاکھوں توجیہات۔۔۔۔اے کاش! زندگی اتنی پیچیدہ نہ ہوتی۔۔۔۔‘‘میں نے دل میں سوچا اور ایک بار پھر قدوری کے مشکل مقامات کو حل کرنے میں جسم و جان گھلانے لگا۔

گزشتہ ایک سال سے میں نے کوئی چیز اسے تحفتاً نہیں دی تھی، سوائے اُس ایک عدد مار کر پین کے جواس وقت اس کے دانتوں کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔ شاید یہ اس بھیگی بھیگی شام کا اثر تھا کہ میرا دل اس کے لئے نم ہو رہا تھا اور اس کے تعلق سے کوئی منفی خیال دل کے کسی گوشے میں کہیں پر بھی موجود نہ تھا۔ اور اس سے پہلے کہ قلم دانتوں سے نکل کر کورے کاغذ پر دوڑنا شروع کرتا میں نے ایک نیت کی۔۔۔

 ’’ اگر جیت میری ہوئی۔ اور یقیناً ہو گی (ان شاء اللہ)  تو میں اپنا انعام اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس شخص کو بطور تحفہ دے دوں گا۔‘‘ گزشتہ کئی دنوں سے یہ خیال میرے ذہن کے افق پر چکوروں کی طرح چکر کاٹ رہا تھا۔۔ ۔۔۔پر اب اس کو دل کی گہرائیوں میں کہیں مناسب جگہ دینے کا صحیح وقت آ چکا تھا۔

’’تم چاہے جتنی بھی محنت کر لو اور جو چاہے کر لو۔۔ ۔۔۔۔ مگر اتنا یاد رکھو کہ جو جیتے گا۔۔ ۔۔۔۔۔ وہ ہوں۔۔ ۔۔۔۔میں۔۔ ۔۔۔۔ اور جو ہارے گا۔۔ ۔۔۔وہ ہو۔۔ ۔۔۔۔۔۔تم۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔‘‘میں نے  آسمان کی طرف اٹھی ہوئی اپنی نگاہ اور سینہ پر رکھا ہوا ہاتھ دونوں ایک ساتھ نیچے گرائے اور ٹیم بی کے قائد کو مخاطب کرتے ہوئے ذرا جذباتی انداز میں کہا۔

’’ہار بھی گیا تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ آپ ہی سے تو ہاروں گا کوئی غیر سے تھوڑی نہ ہاروں گا۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘ اس نے کمالِ اطمینان سے جواب دیا، مجھے لگا کہ یہ اپنے قول میں صادق ہے۔ اور پچھلے دو ہفتوں سے منفی خیالات کے جتنے بوم میرے دل کی بوڑھی اور خستہ حال عمارت میں گھونسلے بنا رہے تھے دم کے دم میں اس طرح غائب ہو گئے جس طرح صبح ہوتے ہی چمگادڑیں فضا سے غائب ہو جاتی ہیں۔

اس کے بعد پھر کبھی میرے دل میں شک نہیں  آیا اور ہم دونوں اور ہماری ٹیمیں تندہی کے ساتھ بیت بازی کی تیاریوں میں مصرف رہیں۔ان آخری دنوں میں ہم دونوں کو ایک ساتھ مل بیٹھنے کا بہت کم موقع ملا تھا۔یہاں تک کہ گیارہ دسمبر کی وہ شام آ گئی اور میرے سرپر بیک وقت کئی ساری قیامتیں برپا کرتی ہوئی گزر گئی۔ یقین ہار گیا اور شک جیت گیا۔میرے نا چاہتے ہوئے بھی ناظم صاحب کی بات سچ ہو گئی۔اور ٹیم بی کا قائد ایک ایسے شخص سے جیت گیا جس کی شکست اس کو خود اپنی شکست لگ رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔

٭٭

 

رات دوسرے پہر میں داخل ہو چکی تھی، میں نے نوشتۂ  تقدیر پڑھ لیا تھا، ہار جیت کے ان فیصلہ کن لمحات میں میں نے ٹیم بی کے قائد کی طرف دیکھا، خوشیوں کی ایک لہر اس کے لبوں تک آئی، اس کی  آنکھوں میں مسرتوں کے چند حسین منظر یکے بعد دیگر ابھرے اور پھر یکایک غائب ہو گئے اور پھر وہ تھا اور ایک احساسِ ندامت۔۔ ۔۔۔۔۔۔

میں نے نظریں ہٹا لیں اور سامعین کی بھیڑ کے درمیان راستہ بناتے ہوئے سر جھکائے تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے کمرے میں  آیا اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا۔ اندوہِ شکست کے  آنسو میری روح کی گہرائیوں میں کسی نامعلوم مقام پر ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ میرے اندر ون میں حمد کا خوگر انسان کسی نامعلوم سبب سے جاگ اٹھا اور اپنے رب کے حضور شکوہ و شکایات کا پٹارا کھول کر بیٹھ گیا۔

’’یا اللہ! ایک ذرا سی عزت ہی تو مانگی تھی، کوئی خدائی تھوڑی نا مانگی تھی۔۔ ۔۔۔میری  آرزو بس اتنی سی تھی کہ اس سال کے  آخر میں جو ہماری دوستی کا آخری سال ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔پھر اس کے بعد کیا پتہ کون کہاں جائے۔۔۔میں ایک تحفہ اس کو دے سکوں تا کہ وہ جہاں بھی رہے میری ایک یاد گار اس کے پاس محفوظ رہے۔۔ ۔۔۔۔۔یا اللہ ! ایک ذرا سی عزت بھی تجھ سے نہ دی گئی۔۔۔۔یا اللہ ! کیوں کیا تو نے ایسا۔۔ ۔۔۔۔تو تو سہارے جہان کا مالک ہے ہر چیز پر تیری قدرت ہے۔۔ ۔۔۔تو جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔پھر یہ کیا ہے کہ تو نے ایک کی سن لی اور دوسرے کی نہیں سنی۔۔ ۔۔۔۔۔۔تو بیک وقت دونوں کی بھی سن سکتا تھا۔۔ ۔۔۔۔اے کاش! تیری خدائی میں کوئی ایسا قانون بھی ہوتا کہ ہم دونوں ہی جیت جاتے۔۔ ۔۔۔مگر اے وائے رے محرومیِ قسمت کہ ایسا نہیں ہے۔۔۔۔‘‘

۔۔ ۔۔۔اور پھر پتہ نہیں کب اور کس طرح نیند کی باہوں میں جھول گیا۔۔ ۔۔۔۔۔

 نیند آئی تو خواب بھی قطار باندھے چلے  آئے۔غم و اندوہ کے کالے سائے بند پلکوں تلے رقص کر رہے تھے کہ اچانک تاریک سڑک کے  آخری سرے پر ایک نسوانی ہیولیٰ حرکت کرتا ہوا محسوس ہوا، میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔وہ دھیرے دھیرے  آگے بڑھ رہا تھا۔۔یہاں تک کہ اس کے نقوش واضح ہو گئے۔۔۔ یہ حمیرا تھی، اپنے معصوم چہرے کے ساتھ، انہیں جادو بھری جاذبیت والی  آنکھوں کے ساتھ جنہیں میں اچھی طرح پہچانتا تھا، اپنے میانہ قد کے ساتھ اور کھلتے ہوئے رنگ کے ساتھ۔۔۔۔

حمیرا میری بچپن کی دوست تھی، ہم دونوں اس وقت سے بہت پہلے جب لوگ محبت کے مفہوم سے  آشنا ہوتے ہیں کسی جانے انجانے راستے پر چل نکلے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم دونوں کے خیالات ایک دوسرے سے اس قدر ہم آہنگ ہو گئے کہ میں بعض اوقات سوچنے لگتا کہ میں اپنا آپ کھوتا جا رہا ہوں، اکثر ایسا ہوتا کہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ کے بعد مجھے یہ خیال دیر تک ستاتا رہتا کہ میں اپنی گفتگو میں حمیرا کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہوں اور میں نے اپنی فکر کھودی ہے اور میں محض نقل چی بندر بنتا جا رہا ہوں۔ ہر بات حمیرا کی اور ہر خیال حمیرہ کا۔۔۔۔ حمیرا حمیرا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ مجھے اپنے  آپ پر غصہ آتا اور جی چاہتا کہ میں اس ناخواندہ لڑکی کا منہ نوچ لوں کہ اس کے حسن کو داغ لگ جائے اور میں اس سے مرعوب ہونا اور خود پر اس کو ترجیح دینا چھوڑ دوں۔ مگر اس وقت مجھے اس کی ہمدردیوں کی ضرورت تھی تاکہ میں ان جاں گسل لمحات کے بوجھ کو سہار سکوں۔اس سے قبل بھی میں اس کی ہمدردیوں سے حوصلہ پاتا رہا ہوں اور وقت کے خلاف جنگ جیتتا رہا ہوں۔ اگر اس کی مسلسل بے تکان مسکراہٹ نہ ہوتی، اگر اس کی جھیل جیسی  آنکھوں کا حسین منظر میری نگاہوں میں نہ ہوتا تو میں کبھی کا ٹوٹ کر بکھر چکا ہوتا۔آسمانِ پیر سے مسلسل اترتی ہوئی  آفتیں مجھے اسی طرح گھلا دیتیں جس طرح یہ بارشیں مٹی کے ڈھیلے کو گھلا دیتی ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔اس سوچ کا آنا تھا کہ مجھے ان مسلسل ہونے والی بارشوں سے بھی کوفت ہونے لگی۔

حمیرا کے لمس کے احساس سے غم و اندوہ کے بادل چھٹنے لگے اور میں خود کو بہتر محسوس کرنے لگا۔۔ ۔۔۔۔کہ اچانک اپنے قریب کسی کے رونے کی  آواز سے نیند ٹوٹ گئی۔ پہلے تو مجھے اس پر وہم کا گماں گزرا۔میں نے سوچا کہ شاید یہ بھی خواب ہی کا ایک حصہ ہے۔۔۔اور میں ابھی تک خواب ہی میں ہوں۔۔۔’’ہوں خواب میں ہنوز جو جاگا ہوں خواب میں ‘‘۔۔۔۔میری یہ بھی ایک بری عادت ہے کہ مجھے بات بات پر اشعار یاد آتے ہیں اور میں تسکینِ دل کی خاطر جمع متکلم کے تمام صیغوں کو واحد متکلم میں بدل دیتا ہوں۔

 جب آواز زیادہ تیز ہوئی اور اس میں سبکیاں شامل ہو گئیں تو میں نے گھبرا کر چادر ایک طرف پھینک دی۔۔ ۔۔۔اور۔۔۔۔ میں ایک دم جیسے سکتے میں  آ گیا۔۔ ۔۔۔۔ یہ افضل تھا۔۔ ۔۔۔۔ میرا جگری دوست۔۔۔ ٹیم بی کا قائد۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی  آنکھیں مسل رہا تھا اور سبکیاں لے لے کر رو رہا تھا۔

 اس اچانک افتاد نے حمیرا کو میرے خیال سے جدا کر دیا۔ اور میں اس کی ہمدردیوں سے محروم ہو گیا۔ مجھے لگا جیسے میرے اندر کوئی چیز ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی ہے۔ ایک بار پھر مجھے اپنے اس یارِ غار پر غصہ آیا۔ جی میں  آیا کہ اس سے صاف صاف کہہ دوں کہ یہاں کیوں  آئے ہو، چلے جاؤ یہاں سے، مجھے تمہاری ہمدردیوں کی ضرورت نہیں۔ مجھے لگا کہ یہ یقیناً بہت بڑا بہر و پیا ہے۔اس مختصر سی مدت میں اس کے متعلق یہ دوسرا انکشاف تھا، پہلے میں نے اسے محض ایک موقع پرست کی حیثیت سے جانا تھا، جب اس نے میرا نام قیادت کے لیے پیش کیا تھا۔حیرت کی بات یہ تھی اس کے متعلق جو باتیں میں پانچ سال کی دیرینہ رفاقت میں نہ جان سکا وہ محض ایک ہفتہ کے اندر معلوم کر چکا تھا۔مجھے لگا کہ یہ مجھ سے ہمدردی جتانے نہیں  آیا بلکہ یہ محسوس کرانے  آیا ہے کہ میں اس سے ہار گیا ہوں۔ اس کی مصنوعی ہمدردیوں کی وجہ سے میں حمیرا کی حقیقی ہمدردیوں سے بھی محروم ہو گیا۔ شاید اسے یہ پسند ہی نہیں کہ کوئی میرے ساتھ ہمدردی کرے۔

’’اوں۔۔اوں۔۔اوں۔۔ ۔۔۔۔ریاض بھائی! آپ۔۔۔۔ہار۔۔۔گئے۔۔اوں اوں۔۔ ۔۔۔۔‘‘

اس کے رونے کے سُر تان سین کی بانسری کے سروں کی طرح بلند ہو رہے تھے اور میرے غمزدہ دل کی شہ رگ کاٹ رہے تھے۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں جلدی سے اٹھ بیٹھا۔

’’۔۔ ۔۔۔۔تو آپ جیتے ہی کیوں تھے ‘‘ میں نے اپنے اور خود اس کے غموں کو ہنسی میں اڑانا چاہا۔ اور اس کی  آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔ آنکھوں کے ساگر میں جوار بھاٹے کے تیور دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ دریا اتنی  آسانی سے اترنے والا نہیں۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور تقریباً کھینچنے کے انداز میں چائے خانے کی طرف لے گیا۔

 مجھے پتہ تھا کہ یہ چائے کا رسیا ہے، ایک کپ چائے کے لئے تو یہ اپنی موت کے غم کو بھی بھلا سکتا ہے، اپنے دوست کے خلاف جیت جانے کا غم تو کچھ بھی نہیں۔ مکمل خاموشی کے ساتھ ہم دونوں نے ایک ایک کپ گرم گرم چائے اپنے اپنے حلق میں جلدی جلدی اتاری اور تارکول کی پتلی سی میلی سڑک پر کچھ دیر تک یونہی ہوا خوری کرتے رہے اور جب طبیعت ذرا بحال ہوئی تو اپنے اپنے کمروں میں جا کر لیٹ گئے۔ میں نے نگاہ اٹھا کر گھڑی کو دیکھا، ساڑھے بارہ بج رہے تھے، دارالعلوم کی فضا پر کاٹ کھانے والا سکوت چھایا ہوا تھا۔ آسمان پر بادل گھنیرے ہو رہے تھے اور میرے کمرے کے سامنے باتھ رو م کی دیوار پر بیٹھی کالی بلی کی  آنکھیں انگارہ جیسی چمک رہی تھیں۔

٭٭

 

’’ریاض بھائی!۔۔۔ یہ آپ کے لیے ہے۔۔ ۔۔۔۔‘‘ یہ بھی تعجب خیز بات ہے کہ اس نے مجھے کبھی بھی میرے منہ پر دوست نہیں کہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اور شاید میں نے بھی اسے کبھی دوست کہہ کر نہیں پکارا تھا۔۔ ۔۔۔۔یہاں تک کہ ہم خط وکتابت میں بھی دوست کے لفظ سے غیر شعوری طور پر احتراز کرتے تھے۔جبکہ ہم ایک دوسرے کے بغیر نہ کھا سکتے تھے اور نہ کھیل سکتے تھے۔

ایک ماہ بعد جب فاتح ٹیم کو انعام سے نوازا گیا تو وہ سارا انعام میرے پاس لیے چلا آیا۔۔۔۔یہ ایک پیکٹ تھا، اس میں کئی کتابیں خاص طور پر میرے لیے بہت اہم تھیں اور ساتھ میں ایک خوبصورت شیلڈ بھی تھی۔

’’کیوں۔۔۔یہ تو تمہیں ملا ہے۔۔انعام کسی کو دینے کے لئے تھوڑی نا ہوتا ہے وہ تو یادگار بنانے کے لیے ہوتا ہے۔۔۔؟‘‘میں نے ایک نگاہِ غلط انداز پیکٹ پر ڈالی، خوشنما رنگین کور پر میرا چہرہ اتر آیا۔۔۔جس پر یاس کی گہری دراڑیں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔اور ایک بار پھر میرا من اندر سے میلا ہو گیا۔’’کیا اس کا دل ابھی نہیں بھرا۔ یہ بار بار مجھے کیوں یاد دلانا چاہتا ہے کہ میں اس سے ہار گیا ہوں ‘‘ میری  آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

’’میں نے نیت کی تھی کہ اگر میں جیت گیا تو میرا سارا انعام آپ کے لیے ہو گا‘‘

اس سے پہلے کہ میں اپنی  آنکھوں میں اترتے ہوئے خون کا کوئی رد عمل ظاہر کرتا اس نے سرتاپا گدا گروں جیسا روپ اختیار کر لیا۔میں نے ایک بار پھر اس کی  آنکھیں پڑھنے کی کوشش کی۔۔ ۔۔۔وہاں استدعا کے سوا کچھ نہ تھا جو اپنے ایک ہزار ہاتھ باہم جوڑے پلکاروں کے تٹ پر با ادب کھڑی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔میں دم بخود رہ گیا۔۔۔اور نہ جانے کتنی دیر تک اس منظر کو تکتا رہا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔پھر نہ جانے کب اور کس طرح گرم پانی کی باریک جھلی  آنکھوں کی پتلیوں پر چھا گئی اور وہ منظر کہیں گم ہو گیا۔۔ ۔۔۔۔۔

٭٭٭