کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خواہش کی تتلیاں

الیاس ندوی رام پوری


’’میں اپنے پاپا کا مرڈر کرنا چاہتی ہوں ‘‘ میں نے اپنی پتلیاں دا  ہنی طرف گھمائیں، نسوانی عینک کے سفید شیشوں کے پیچھے اُس کی پتلیاں بائیں طرف کو آخری حد تک مڑی ہوئی تھیں، ناک میں ننھا سا سفید پھول چمک رہا تھا، اور  آنکھوں میں میری اپنی پرچھائیں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔’’کیوں۔۔ ۔۔۔ انہوں نے ایسا کیا کیا ہے ‘‘میں نے اپنے لہجے میں بے ساختگی پیدا کرتے ہوئے پوچھا، جیسے مجھے اس کی بات پرکسی  طرح  کی حیرت  ہی نہ ہو۔’’ نہیں۔۔ ۔۔۔اس لیے نہیں کہ انہوں نے کچھ کیا ہے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں ‘‘اس بار اس کی  آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک تھی، شاید اسے یہ توقع تھی کہ میں اس کی ستائش کروں گا۔’’مگر انہوں نے تمہیں پیدا کیا اور پال پوس کر اتنا بڑا کر دیا۔۔۔۔اور اب تمہیں پڑھا لکھا رہے ہیں۔۔ ۔۔۔ کیا یہ کم ہے۔۔؟‘‘میں نے اس کی توقع کے بالکل برعکس سوال کیا۔’’یو، شٹ اپ‘‘ اس نے برا سا منہ بنایا اور پھر کوئی دوسرا جواب سوچنے لگی۔

’’۔۔۔ میں اپنے ابو کو واپس لا نا چاہتی ہوں، کیونکہ میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں ‘‘اس کے برابر والی لڑکی نے جواب دیا تھا۔میں اس سے ایک لڑکی کے فاصلے پر تھا مگر اس کی چھوٹی چھوٹی خوبصورت آنکھوں میں محبتوں کی پرچھائیاں بآسانی دیکھ سکتا تھا۔میں نے نگاہ اٹھائی، سب خاموش تھے اور ان کی  آنکھوں میں درد کی لکیریں ابھر آئی تھیں۔’’۔۔۔یار کچھ بتاؤ نا۔۔۔۔ میں کیا بولوں، میری تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں  آ رہا۔۔۔۔‘‘وہ پریشان دکھائی دے رہی تھی، شاید وہ اپنے پہلے والے جواب سے مطمئن نہیں تھی، یا اسے یہ ڈر تھا کہ دوسرے لڑکے اور لڑکیاں اس پر ہنسیں گی۔آخر اپنے باپ کے قتل کی بات سوچنا مکھی مارنے کی بات سوچنے جیسا تو نہیں۔۔ ۔۔۔ مگر مشکل یہ تھی کہ اسے ابھی تک کوئی معقول جواب بھی نہیں سوجھا تھا اور اس کی باری  آ چکی تھی۔’’تم یہ بھی کہہ سکتی ہو کہ میں اپنی جاب چھوڑنا چاہتی ہوں، کیونکہ مجھے کمپنی کا مالک  پسند نہیں ‘‘اس نے کل مجھ کو اپنی جاب چھوڑنے کے بارے میں بتایا تھا، مجھے وہی بات اچانک یا د آ گئی اور میں نے اسی کے ذہن کی بات اس کی طرف لوٹا دی۔’’او کھے۔۔۔‘‘ اس نے ذرا اتراتے ہوئے کہا۔اسے یہ جواب بہت زیادہ پسند تو نہیں  آیا تھا مگر اب اس کو قبول کر لینے کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، کیونکہ اس کے پاس وقت نہیں بچا تھا۔اور جیسے ہی میم نے اس سے پوچھا۔’’اگر تمہیں یہ اختیار دیا جائے کہ تم ماضی کی کوئی ایک چیز بدل سکوتو وہ کونسی چیز ہو گی جسے تم بدلنا چاہو گی اور کیوں۔۔؟‘‘ اس نے بنا سوچے میرے ذریعہ بتایا گیا جواب دہرا دیا۔اور ایک گہری لمبی سانس لی، جیسے اسے کسی گھٹے گھٹے ماحول سے نجات مل گئی ہو۔اس کو اپنے دل پر چھاؤں جیسی ٹھنڈک کا احساس ہوا جیسے دھوپ میں جھلستا ہوا مسافر سائے میں  آ بیٹھے۔

اب میری باری تھی، مجھے تو یاد ہی نہیں رہا تھا کہ مجھے بھی کوئی جواب دینا ہے۔ میرا تو سارا وقت سارا کے پہلے جواب کے بارے میں سوچنے ہی میں ختم ہو گیا تھا، آخر کے چند منٹ جو میرے پاس بچے تھے وہ بھی ساراکے لئے ایک معقول سا جواب سوچنے میں صرف ہو گئے۔اس وقت مجھے اپنے  آپ پر غصہ آیا کہ آخر میں یہاں سارا کے لیے  آتا ہوں یا اپنے بہتر مستقبل کے لیے۔مجھے مستقبل یا سارا میں سے کسی ایک کو چننا ہو گا۔مگر جب اس طرح کے اختیار کی بات آتی ہے تو پتہ نہیں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے کی میری قوت گویا  ماند پڑ جاتی ہے۔’’اینڈ یو، تھنویر۔۔۔۔وھاٹ  ڈو  یو تھنک۔۔۔‘‘ میں نے سر اٹھایا، میم مجھ سے مخاطب تھیں۔ میرا پورا نام تنویر احمد ہے، مگر میم مجھے صرف تھنویر کہتی ہیں، کبھی کبھی  مجھے برا بھی لگتا ہے۔ ایک تو یہ صرف آدھا نام لیتی ہیں اور وہ بھی ٹھیک سے نہیں لیتیں۔

یہ ایک بڑا سا کلاس روم تھا، جس میں تین اطراف کی دیواروں سے ملحق آٹھ دس میزیں ایک دوسری سے ملا کر لگائی گئی تھیں اور ہر میز کے پیچھے تین تین کرسیاں تھیں، چوتھی دیوار پر جو میرے داہنی طرف ایک گز کے فاصلے پر تھی بڑا سا سفید بورڈ لگا ہوا تھا۔جس پر ہماری انگریز میم ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتی رہتیں تھیں، میں بائیں طرف والی  آخری میز کے  آخری سرے پر رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھا تھا۔ میم نے اپنے داہنے طرف سے پوچھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔اس طرح میں جواب دینے کے لیے  آخری طالب علم باقی رہ گیا تھا۔ باقی سارے طلبہ چونکہ اپنے اپنے جوابات دے چکے تھے اس لیے وہ سب پرسکون تھے اور اپنی تمام تر توجہات کے ساتھ میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے میم کو اپنے سر پر کھڑے ہوئے دیکھا تو ایک دم گھبرا سا گیا۔ اتنی عجلت میں کچھ سوچنا محال تھا، کم از کم کوئی معقول سا جواب تو بہرحال نہیں سوچا جا سکتا تھا۔۔۔۔’’میں ماضی کی تمام یادوں کو بھلا دینا چاہتا ہوں، کیونکہ یہ مجھے تکلیف دیتی ہیں ‘‘عین اسی لمحے میں میری زبان پر جو کچھ آ سکا کہہ دیا۔ مجھے لگا جیسے میری روح بھاری پتھر کے نیچے  آ گئی تھی اور اب آزاد ہو گئی۔ساتھ ہی مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ میں نے سب سے زیادہ معقول جواب دیا ہے۔مجھے لگا جیسے اس میں یک گونہ ادبی لطافت آ گئی ہے۔ایسا جواب تو کسی نے بھی نہیں دیا تھا، سب نے اپنی ذات، اپنے خاندان یا پھر زیادہ سے زیادہ اپنے ملک سے جڑی ہوئی مادی اور ظاہر ی پریشانیوں کے سد باب کے متعلق سوچا تھا اور ان کی کوئی نہ کوئی ایسی وجہ بتائی تھی کہ اس کو اگر پڑے لکھے لوگوں کے درمیان اور خاص کر ادیبوں کے درمیان بیان کر دیا جائے تو وہ برافروختہ ہو جائیں اور پوری نئی نسل پر ‘‘بے ادب نسل ’’ ہونے کا لیبل لگا دیں۔

مگر ابھی تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ مجھے ایک بار پھر اپنی روح پر بھاری پتھر کا احساس ہوا۔مجھے یہ جواب اس شعر کی وجہ سے سوجھا تھا ’’یاد ماضی عذاب ہے یارب/چھین لے مجھ سے حافظہ میرا‘‘ یہ شعر میں نے بچپن میں کبھی سنا تھا اور  آج تک یاد تھا، اگر ماضی کی یادیں نہ ہوتیں تو میں  آج اتنے مختصر وقت میں اور وہ بھی ایک الجھے ہوئے دماغ کے ساتھ اتنا پرکشش جواب کیسے سوچ سکتا تھا۔ آخر ماضی کی ایک یاد ہی کی وجہ سے تو مجھے یہ جواب سوجھا تھا، دھیرے دھیرے مجھ پر اپنے جواب کی غیر معقولیت واضح ہونے لگی۔میں بھی کتنا خر دماغ ہوں، آخر میم کیا سوچیں گی میرے بارے میں اور دیگر لڑکے لڑکیاں کیا خیال کریں گی۔ مجھے لگا جیسے سب طالب علم من ہی من میں مجھ پر ہنس رہے ہیں۔میں نے دزدیدہ نگاہوں سے ان کے چہروں اور  آنکھوں کو دیکھا، مگر وہاں کچھ بھی نہیں تھا، وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے۔

میں نے اپنی نظریں واپس لوٹائیں اور سارا کی طرف دیکھا، وہ اپنے موبائل پر میسج لکھ رہی تھی۔آج بھی کلاس جلدی ختم ہو جائے گی اور یہ آج پھر اپنے دوست کے ساتھ آئس کریم کھانے جائے گی۔ شاید یہ اسی کو میسج کر رہی ہو گی۔میں نے اپنے دل میں سوچا اور چوری چھپے میسج  پڑھنے کی کوشش کی، اس کوشش میں اپنی گرد ن کو بار بار اچکایا پر کچھ دکھائی نہیں دیا، بس چند حروف بنتے بگڑتے نظر آئے۔پھر اس کے سراپا پر نظر کی، اس بار وہ ایک عام سی لڑ کی کی طرح دکھائی دے رہی تھی، اس کا وہ خوبصورت لمبوترا چہرہ جس کو نظر بھر کر دیکھنے کے لیے میں اکثر کلاس کے وقت سے دس منٹ پہلے ہی پہونچ جایا کرتا تھا، محض اس اتفاق کے بارے میں سوچ کر کہ کیا پتہ وہ آج جلدی  آ جائے اور میں دیگر طلبہ کی عدم موجود گی میں اس کو نظر بھر کر دیکھ سکوں گا، اب اس کا وہ مانوس چہرہ کچھ عجیب سا لگ رہا تھا جیسے شہر میں سوکھا پڑ گیا ہو اور اسے منہ دھونے کے لیے پانی نہ مل سکا ہو۔میں نے محسوس کیا کہ اس کی ستواں ناک کے پھول کی چمک بھی ماند پڑ گئی ہے، مگر اس نے ایسا کیا کیا تھا کہ اس کے بارے میں میرا نظریہ بدلنے لگا تھا اور اس کے بدن کی خوشبو جو مجھے دیر تک اس کے قریب بیٹھے رہنے پر آمادہ کرتی تھی پسینے جیسی بدبو میں بدل گئی تھی۔بس اس نے اپنے ایک خیال کا اظہار ہی تو کیا تھا اور وہ بھی کوئی سر عام نہیں کیا تھا بلکہ صرف مجھ سے کیا تھا۔۔۔۔سرگوشی کے انداز میں۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ وہ مجھ پر اعتماد کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ محض مذاق میں کہہ رہی ہو، یا مجھے زچ کرنا چاہتی ہو، کل کسی بات پر میں نے بھی تو اس کا مذاق اڑایا تھا۔اس نے اگر اپنے پاپا کو قتل کرنے کی بات کہہ بھی دی تو کیا ہوا، بس کہہ دینے سے وہ قتل تو نہیں ہو گئے نا۔۔ ۔۔۔ میں نے خود کو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر میرے اندر کا مسلمان نما انسان کسی قیمت پر راضی نہ ہوا، میں نے اسے اِس طرح بھی سمجھایا کہ آخر تم ایک افسانہ نگار ہو اور کسی افسانہ نگار کا اخلاقیات سے متعلق افکار کو اتنی زیادہ اہمیت دینا مناسب نہیں، اس فکر کا براہ راست اثر تمہارے فن پر بھی پڑ سکتا ہے۔اخلاقیات سے متاثر فکرو فن دیر و حرم کے لئے چھوڑ دو۔تمہارے لیے اور بہت سارے موضوعات ہیں، جیسے حورو قصور، طاؤس و رباب، بادہ و ساغر، تیشہ و فرہاد اور شیشہ و آہن۔۔۔اور۔۔۔۔اور لمس کی خوشبو، بدن کی جمالیات۔۔۔ اگتے سورج کا کرب اور۔۔۔اور ڈھلتے چاند کی پراسراریات۔۔۔۔تمہارے لیے تو ہزاروں موضوعات ہیں۔تم اس آباد خرابے میں اخلاقیات کی بات کر کے  آخر کیا حاصل کر لو گے۔۔۔۔میں سوچ سوچ کر نئے نئے موضوعات بتانے لگا۔مگر وہ نہیں مانا اور اس کا طنطنہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بلند سے بلند تر ہوتا گیا۔مجھے اس کے مسلمان نما ہونے پر پہلی بار خوشگوار ی کا احساس ہوا، اگر یہ مسلمان ہوتا تو کیا ہوتا، اچھا ہی ہے کہ یہ مسلمان نما ہے۔

مجھے امریکن انگلش اسپیکنگ سینٹر جوائن کئے ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا، سارا بھی میرے ساتھ ہی  آئی تھی، شروع کے کچھ دن تو یونہی گزر گئے، شروع شروع میں وہ خاموش خاموش اور الگ تھلگ رہتی تھی، مگر جب وہ ایک دن میرے پاس والی کرسی پر بیٹھی تو میں نے اس کے ساتھ پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔ اور اب ہمارے درمیان اس ایک لڑکے کے سوا اور کوئی نہیں تھا جو ہر دوسرے تیسرے روز اس کو آئس کریم کھلانے  آیا کرتا اور باہر گیٹ پر کھڑا اس کے نکلنے کا انتظار کرتا رہتا۔میرے اندر کا مسلمان نما انسان کبھی سو جاتا اور کبھی جاگ جاتا، جب وہ سویا ہوا ہوتا تو میں سارا کے بدن کی خوشبو میں بڑی جاذبیت محسوس کرتا اور جب وہ جاگتا ہوا ہوتا تو مجھے یہ خوشبو پسینے کی بدبو کی طرح محسوس ہوتی۔جب وہ سویا ہوا ہوتا تو مجھے اس لڑکے پر رشک آتا، آخر وہ اتنی خوبصورت لڑکی کو آئس کریم کھلا تا ہے۔۔۔یہ کوئی کم اہم بات نہیں۔۔۔ ذرا اس کے دل سے پوچھو، اسے تو اس کے پہلو میں جنت کا گماں گزرتا ہو گا۔اور جب وہ بیدار ہوتا تو مجھے اس پر غصہ آتا اور پھر ترس بھی۔ مجھے لگتا جیسے بھولاپن اس کے چہرے سے ٹپک رہا ہے، آخر جو لڑکی اپنے پاپا کے بارے میں اتنے جارحانہ خیالات رکھتی ہے وہ اس بھولے بھالے لڑکے کو کہاں تک خاطر میں لاتی ہو گی۔جتنی دیر آئس کریم کی ٹھنڈک اس کو اپنی  آنتوں میں محسوس ہوتی ہو گی بس اتنی ہی دیر تک وہ اس کے بارے میں اچھا سوچتی ہو گی۔

’’کلاس از ڈس مس‘‘ میم کی  آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی اور میں اپنے خیالات سے باہر آیا۔ سارا نے اپنا پرس سنبھالا اور میری طرف دیکھے بنا تیز تیز قدموں سے باہر نکل گئی۔مجھے لگا کہ مجھے اس کے ساتھ جرح نہیں کرنی چاہئے تھی، وہ روز مجھے ہیلو کر کے جاتی تھی اور  آج مجھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔آخر مجھے کیا مل گیا اس کے جواب پر غیر قیاسی سوال قائم کر کے۔وہ اپنے باپ کو کوئی مارنے تھوڑی نا جا رہی تھی۔وہ بس ایک بات تھی جو اس کی زبان پر آ گئی اور اس نے بے سوچے سمجھے اگل دی۔۔ ۔۔۔اس عمر میں ایسا اکثر ہوتا ہے۔۔۔اور اکثر لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔۔ ۔۔۔میرا جی چاہا کہ دوڑ کر اس کے پیچھے جاؤں اور اس سے معذرت کروں۔۔ ۔۔۔مگر پھر میں کچھ سوچ کر رک گیا۔۔۔۔ اپنی چاہت کے لیے اتنا گرنا بھی اچھا نہیں۔۔ ۔۔۔پھر مجھ میں اور اس بھولے بھالے لڑکے میں فرق ہی کیا رہ جائے گا اور اس پر غصہ کرنے یا ترس کھانے کا کیا جواز پیدا ہو گا۔۔۔۔میرے اٹھتے ہوئے قدموں میں جیسے بریک لگ گئے۔پھر مجھے یہ ڈر بھی تھا کہ اس طرح تو میں اس لڑکے کی نظر میں  آ جاؤں گا اور وہ مجھ سے نفرت کرنے لگے گا۔۔۔۔میں نے اس کے پیچھے جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

دن بھر کا تھکا ماندہ آفتاب آسمان کے مشرقی کناروں کی اوٹ میں ڈوب رہا تھا ٹھنڈ میں شدت پیدا ہوتی جا رہی تھی اور میں اپنے دماغ میں بے سدھ خیالات کی دہکتی ہوئی جہنم لیے اپنے مکان کا زینہ چڑھ رہا تھا۔کہ دفعتاً اپنے بیٹے کے رونے کی  آواز سنی اور میں بھاگنے کے سے انداز میں زینہ چڑھنے لگا۔ابھی میں گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ میرے بیٹے نے اپنے پڑوسی بچوں کے خلاف شکایات کا پٹارا کھول دیا۔کس نے، کہاں، کب، کس طرح اور کیوں اسے مارا تھا۔۔۔۔ ایک ایک بات تفصیل سے بتانے لگا۔ میرا دل بیٹھنے لگا۔ میں اس کے  آنسو پونچھتا جاتا اور اپنے پڑوسیوں کے عذاب سے چھٹکارا پانے کے متبادل پر غور کرتا جاتا۔اتنے میں بیگم نے مٹھائی کا ڈبہ میرے سامنے رکھا اور بتایا کہ ہمارے اوپر فورتھ فلور پر جو آنٹی رہتی ہیں انہوں نے بھیجا ہے ’’کس خوشی میں ‘‘میں نے مختصراً پوچھا۔’’کل رات ان کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے۔‘‘لڑکی کے نام سے میرا ذہن ایک بار پھر سارا کی طرف منتقل ہو گیا۔ آخر وہ کیوں اپنے پاپا کو مارنا چاہتی ہے۔ اس کے رہن سہن اور لباس سے تو بالکل نہیں لگتا تھا کہ اس کے پاپا نے اس کے لیے کچھ نہیں کیا ہو گا۔ وہ شہر کے پوش علاقے میں رہتی  ہے، اس علاقے میں اپنا ذاتی گھر ہونے کا مطلب  تو یہی ہے کہ وہ کم از کم مڈل کلاس کی ضرور ہو گی، اس کے پاس مہنگا ترین بلیک بیری موبائل دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی غریب گھر کی لڑکی ہے اور اس کے باپ نے اس کے لیے کچھ نہیں کیا ہو گا۔میں نے اس وقت سے لے کر اب تک تمام ظاہر ی اسباب پر غور کیا مگر مجھے کہیں سے بھی یہ سراغ لگانے میں مدد نہ ملی کہ وہ اپنے پاپا سے اتنی نفرت آخر کس وجہ سے کرتی ہے۔اور جو وجہ اس نے بتائی ہے وہ اتنی معقول نظر نہیں  آتی، اب میں اس کے من میں جھانک کر تو نہیں دیکھ سکتا تھا اور ویسے بھی مجھے ان باتوں سے الجھن ہوتی ہے، اس لیے میں نے اس خیال کو جھٹک دیا اور مٹھائی کے ڈبے سے ایک گلاب جامن نکال کر کھانے لگا۔بے خیالی میں گلاب جامن کا رس میرے منہ کے بائیں کنارے سے بہہ نکلا۔’’یہ لڑکیاں روزانہ کیوں نہیں پیدا ہوتیں ‘‘ میں نے منہ سے ٹپکتا ہوا رس صاف کیا اور بیگم سے مضحکہ کرنے لگا۔’’کیوں ‘‘ بیگم نے مجھے چمکتی  آنکھوں سے دیکھا۔’’ کم از کم اسی بہانے روز روز مٹھائی کھانے مل جایا کرے گی‘‘ مجھے اگروال کی مٹھائیاں بچپن ہی سے بہت پسند تھیں، آج جب کئی دنوں بعد مجھے اگروال سوئیٹ کی گلاب جامن کھانے مل رہی تھیں تو اس کے من پسند ذائقہ سے مجھ پر ایسا سحر طاری ہوا کہ قوت ذائقہ کے علاوہ میری باقی تمام قوتیں جیسے سلیپنگ موڈ میں چلی گئیں۔ مجھے جب اس چیز کا احساس ہوا کہ اس وقت میری قوت ذائقہ کے علاوہ اور کوئی قوت کام نہیں کر رہی ہے تو مجھے یک گونہ کوفت ہوئی، کیا میں اتنا گر گیا کہ میری فکر محض کھانے پینے کی چیزوں کے اطراف ہی گردش کرتی رہے۔ جیسے مکھیاں حلوائی اور قصائی کی دکان کے اطراف منڈلاتی رہتی ہیں۔ کہاں مکھیاں، حقیر اور ذلیل مخلوق اور کہاں میں، اشرف المخلوقات، پڑھا لکھا آدمی۔مجھے اپنے اندر سے بھی اسی طرح بدبو آنے لگی جس طرح ابھی کچھ دیر پہلے سارا کے وجود سے پسینے جیسی بدبو آ رہی تھی۔مگر پھر ایک دم خیال  آیا کہ چلو اچھا ہی ہوا کہ اس بہانے بے معنیٰ افکار سے کچھ دیر کے لیے نجات تو ملی۔ ’’اونہوں۔۔۔۔ میرے ہیں۔۔۔۔میں کھاؤں گا سب‘‘ میں نے دوسرے گلاب جامن کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ میرا بیٹا ایک دم چیخ اٹھا۔ ’’ہٹ۔۔۔۔ ماردوں گا تمہیں۔۔۔امی لائی ہیں میرے لیے۔۔۔آپ نے تھوڑی لا کر دئے ہیں کوئی۔۔۔۔‘‘ میں نے جس سرعت سے ہاتھ آگے بڑھایا تھا اسی سرعت سے واپس کھینچ لیا۔ کتنی عجیب بات ہے، یہ ابھی بھی اپنے ہم عمر بچوں سے مار کھا کر آیا ہے۔۔۔۔ابھی تو اس کی سبکیاں بھی ختم نہیں ہوئیں اور مجھے کس ڈھٹائی کے ساتھ مارنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ آج پہلی دفعہ مجھے خوف کی اس نفسیات کا صحیح علم ہوا جو اپنے اور غیروں سے متعلق ہوتی ہیں اور اسی کے ساتھ گیارہ بیبیوں والی حدیث میں اس بی بی کا اپنے شوہر سے متعلق ریمارک بھی یاد آیا، جس میں وہ کہتی ہے کہ میرا شوہر جب گھر میں ہوتا ہے تو شیر ہوتا ہے اور جب باہر ہوتا ہے تو گیدڑ ہوتا ہے۔ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ چلو عارضی طورپر ہی سہی کم از کم مجھے ان تکلیف دہ فکروں اور الجھنوں سے نجات تو ملی، مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ اس قدر عارضی ہوں گی، ان سے زیادہ تو برساتی کیڑوں کی زندگی ہوتی ہے۔ایک بار پھر میرا دماغ پھرکی کی مانند گھومنے لگا اور سارا ایک بار پھر میرے دماغ کی کھڑکی پر آ کھڑی ہوئی۔۔۔آخر سارا ایسا کیوں سوچتی ہے ؟ شاید اس کی سوچ کے پیچھے صدیوں کا کرب ہے جو عمل اور رد عمل کے فطری قانون کے تحت عورتوں کے وجود سے غبار کی طرح لپٹا رہتا ہے اور پھر انتہائی طویل عمل[لانگ پروسس] کے بعد کسی سارا کی زبان پر آ جاتا ہے۔’’مگر یہ خواہش کے بے لگا م ہونے کا نتیجہ بھی تو ہو سکتا ہے۔‘‘میرے اندر کے مسلمان نما آدمی نے لقمہ دیا۔ کیا ساری لڑکیاں اسی طرح سوچتی ہیں ؟ مگر وہ لڑکی جس نے اپنے باپ کے زندہ ہونے کی تمنا کی تھی۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے باپ سے بہت محبت کرتی ہے۔۔۔۔کتنی معصوم اور بھولی دکھائی دے رہی تھی وہ اس وقت۔۔ ۔۔۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اسے اپنے باپ کا پیار نہیں مل سکا تھا۔وہ تو اسے دودھ پیتا ہوا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ جب اس کی ماں اسے دودھ پلاتی تھی تو اس کے باپ کو شدت سے یاد کرتی تھی اور پھر یہی یاد دودھ کے راستہ اس کے دل و دماغ میں راسخ ہو گئی۔۔ ۔۔۔اگر پرانی یادیں نا ہوتیں، تو یہ لڑکی اپنے باپ کے دوبارہ لوٹ آنے کی تمنا کیسے کر پاتی۔۔۔۔ ایک بار پھر مجھے اپنے جواب کی غیر معقولیت سمجھ میں  آئی۔۔ ۔۔۔اب وہ روٹی کھائے یا دودھ پئے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے اس کے باپ کی یاد تو اس کے دل و دماغ میں بس چکی ہے۔۔۔اب وہ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے اپنے باپ کو یاد کرتی ہے اور ان کے واپس لوٹ آنے کی تمنا کرتی ہے تاکہ وہ ان سے اپنے حصہ کا پیار حاصل کر سکے۔۔ ۔۔۔۔تو کیا اس کے پیچھے بھی خود غرضی چھپی ہوئی ہے ؟۔۔۔۔یا پھر یہ بات ہے کہ مردہ آدمی سے محبت کرنے کے لئے کچھ کرنا نہیں پڑتا جبکہ زندہ آدمی سے محبت کے لیے اس کے حقوق ادا کرنے پڑتے ہیں، اسے وقت دینا ہوتا ہے اور اس کے لئے پیسہ خرچ کرنا ہوتا ہے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی کڑوی کسیلی باتیں بھی سنی پڑتی ہیں۔۔۔آخر مجھے اپنے نانا نانی اور دادا دادی سے اتنی محبت کیوں نہیں جتنی محبت اس لڑکی کو اپنے مرحوم باپ سے ہے۔۔۔۔؟اسی لیے نا کہ وہ با حیات ہیں او رمیں ان کی خدمت کرتے کرتے تھک جاتا ہوں تو محبت ٹیس بن کر میری رگ و پے کے مسامات سے نکلتی ہے اور دھوئیں کی طرح اڑ جاتی ہے۔۔۔۔محبت تو شاید ایک برہنہ شے ہے اور ہم اِسی برہنگی سے پیار کرتے ہیں۔۔۔برہنگی جسے کفن کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ڈھانپ سکتی۔۔۔تو پھر کیا ہے یہ سب۔۔۔؟پتہ نہیں۔۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔انسانی نفسیات کو آج تک کس نے جانا ہے۔۔۔۔

مجھے ایک باپ کی اس عجیب و غریب درگت پر ہنسی بھی  آئی اور رونا بھی  آیا۔ جیسے اسے کسی اندھے کنویں میں الٹا لٹکا دیا گیا ہو۔ ایک خواہش ہے جو زندہ باپ کو مارنا چاہتی ہے اور ایک تمنا ہے جو مردہ باپ کو زندہ کرنا چاہتی ہے۔مجھے لگا کہ ہر باپ ایک خواہش اور ایک تمنا کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔شاید یہ اس وجہ سے ہے کہ میں خود ایک باپ ہوں، اگر میں باپ نہ ہوتا تو مجھے نہ رونا آتا اور نہ ہنسی  آتی۔۔ ۔۔۔۔ مجھے  پہلی بار اپنے باپ ہونے سے کراہت محسوس ہوئی۔۔ ۔۔۔۔مگر۔۔۔۔اللہ گواہ ہے اس میں میری خواہش کو کچھ دخل نہیں۔۔ ۔۔۔۔پھر بھی ہم خواہی نہ خواہی باپ بن ہی جاتے ہیں۔۔ ۔۔۔

اس کے علاوہ باقی تمام طالب علموں کو جواب دینے کے لیے مغزماری کرنی پڑی تھی۔۔۔۔مگر اس لڑکی کو تو جیسے کچھ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔۔۔۔اس نے منہ کھولا، اپنے لب لعل بدخشاں کو جنبش دی اور انتہائی  آسانی اور سرعت کے ساتھ اپنے ذہن کی بات اگل دی۔اس کی ماں نے اس کے باپ کی محبت اسے گھٹی میں ڈال کر جو پلا دی تھی۔میں نے کل رات پیدا ہونے والی بچی کے بارے میں سوچا۔۔۔۔وہ کس پر جائے گی؟ سارا پر۔۔۔؟ یا اس دوسری لڑکی پر جو اپنے باپ سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔۔ ۔۔۔؟کاش !وہ سارا جیسی نہ ہو۔۔۔ میں اپنے بیٹے کو ساری گلاب جامن پر قبضہ جماتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔یہ ابھی صرف تین سال کا ہے۔۔۔اور مجھے۔۔۔اپنے باپ کو مارنے کی بات کہہ رہا ہے۔۔۔اور وہ بھی میرے منہ پر۔۔۔یہ ابھی سے ایسی زبان بولتا ہے تو جب یہ سارا کے برابر ہو جائے گا تو کیسی زبان بولے گا۔۔۔مجھے یہ سوچ کر ہی جھرجھری  آ گئی۔اور سارا کے جسم کی مہک خوشگوار محسوس ہونے لگی۔

’’اوہ! دو بج گئے۔۔۔۔چلو اب سو جاؤ جلدی سے ‘‘ بیگم نے گھڑی کی طرف دیکھا۔۔۔ اور لائٹ آف کر دی۔۔۔میں کچھ دیر دَم سادھے بیٹھا رہا اور پھرنا چاہتے ہوئے بھی لحاف میں گھس گیا۔

’’پتہ ہے۔۔ ۔۔۔میں نے  آج ایک منت مانی ہے۔۔۔اگر اس بار ہمارے یہاں بیٹی ہو گی تو میں باغوں والی مسجد میں جو شاہجہاں نے اپنے زمانے میں خاص اپنی نگرانی میں بنوا ئی تھی اور اب سالوں سے ویران پڑی ہے، سو گرام دیسی گھی کا چراغ جلاؤں گی۔۔۔۔‘‘ بیگم نے میری طرف کروٹ لی اور سرگوشی کے انداز میں کہا۔’’ تو کیا اس طرح ویران مسجد آباد ہو جائے گی۔۔۔؟اور اصلی دیسی گھی کہاں سے لاؤ گی۔۔؟‘‘میں نے لحاف اپنے منہ تک کھینچ لیا۔اور ایک ساتھ کئی سارے سوالات کر ڈالے ’’ آپ تو ہمیشہ انٹوٹی باتیں کرتے ہیں، میں تو منت والی بات۔۔۔‘‘ابھی وہ اپنی بات مکمل بھی نہیں کر پائی تھی کہ سارا بنا اجازت میرے ذہن کے دریچے میں پھر گھس آئی۔۔۔اسی پسینے والی بدبو کے ساتھ۔۔۔جب سے میں نے اس کی زبان سے یہ کلمہ سنا تھا تب سے اس کے چہرے کی ملائمت، معصومیت اور مسکراہٹ سب کچھ بھول گیا تھا بلکہ یہ سب کچھ جیسے نحوست میں بدل گیا تھا۔۔۔۔مجھے ہر وقت ایسا لگتا جیسے شہر میں پانی کی قلت ہے اور یہ اسی لیے منہ نہیں دھو پاتی۔۔۔’’میں اپنے پاپا کا مرڈر کرنا چاہتی ہوں ‘‘یہ کلمہ ایک بار پھر میرے دماغ میں ہتھوڑے مارنے لگا۔۔۔میں کانپ گیا اور مجھے باپ بننے کا خیال انتہائی احمقانہ اور کریہہ معلوم ہوا۔۔۔۔شاید میرا پہلا اور دوسرا تجربہ غلط تھا۔۔۔ اس وقت مجھے اپنی گردن کے عقبی حصہ پر نیلے پروں والی تتلیاں منڈلاتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔اندھیری رات کے  آخری پہر میں جب ہنگامے پاؤں پسارے سو رہے ہوتے ہیں اور سناٹے ایک رقص شرر کے لیے بے تاب ہو رہے ہوتے ہیں تو میرے دماغ کے تمام خلئے بیدار ہو جاتے ہیں اور سوچنے کا عمل حیرت انگیز حد تک بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔میں نے دوسری طرف کروٹ لی اور الجھتی ہوئی فکر کو بے لگام چھوڑ دیا۔۔۔اور دیر تک اللہ جانے کیا کیا سوچتا رہا۔۔۔۔کبھی سارا کو اپنے من کے ساحل پر برہنہ پا ٹہلتے ہوئے دیکھتا اور اس کے گداز قدموں کی دھمک اپنے سینے کی چوکھٹ پر محسوس کرتا، کبھی نو زائدہ بچی کو لمبی اور پرسکون نیند سوتے ہوئے دیکھتا اور اس کو اسی طرح پرسکون نیند سوتے رہنے کی دعا دیتا، کبھی اپنے بیٹے کو اپنے ہم جولیوں کے خلاف شکایات کا پٹارا کھولتے ہوئے دیکھتا اور ایسے ناہنجار پڑوسیوں سے نجات پانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتا اور کبھی بیگم کی منت اپنے ان گنت چہروں کے ساتھ میرے سامنے  آ کھڑی ہوتی۔۔۔۔مگر سارا افکار کے اس ہجوم میں گویا مرکزی کر دار تھی۔۔۔ایک بار میں اس کے ساتھ بتائے ہوئے خوشگوار لمحات کے بارے میں سوچتا اور دوسری بار اس کی کریہہ آواز میرے ذہن کے دریچہ کے عقب سے ابھرتی۔۔۔’’میں اپنے پاپا کا مرڈر کرنا چاہتی ہوں ‘‘میں شدت الم سے  آنکھیں موند لیتا۔اور ایک بار پھر باپ نہ بننے کے اپنے قول و قرار کو اپنے سینے میں پختہ کرتا۔دفعتاً اوپر والے کمرے سے نوزائدہ بچی کے رونے کی  آواز آئی اور میری  آنکھ کھل گئی۔مجھے احساس ہی نہ ہوا کہ میں کس وقت نیند کی  آغوش میں چلا گیا تھا، بیگم نے اپنی منت کے بارے میں یقیناً اور بھی بہت کچھ کہا ہو گا۔۔۔پتہ نہیں یہ سب خواب تھا یا میں عالم بیداری میں سوچ رہا تھا۔۔۔یقیناً خواب ہی ہو گا۔ پر خواب اس طرح منطقی اور با ترتیب تو نہیں ہوتے۔۔۔میں نے بہت کوشش کی مگر یہ پتہ لگانے میں کامیاب نہ ہو سکا کہ خواب اور بیداری کی حد فاصل کیا تھی، کہیں ایسا تو نہیں کہ بیگم کی وہ منت والی بات بھی خواب ہی  ہو۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگا کہ اس بچی کی  آواز میں اس لڑکی کی  آواز کی سی کشش ہے جو اپنے باپ سے بے انتہا پیار کرتی ہے۔۔۔مجھے اس کی ماں پر غصہ آیا کہ وہ اتنی پیاری بچی کو دودھ نہیں دے رہی اور رونے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔میرا جی چاہا کہ دوڑ کر جاؤں اور بچی کو گود میں اٹھا لوں۔۔۔

ٹھنڈ اپنے شباب پر تھی، لحاف سے باہر منہ نکالتے ہوئے بھی جیسے ڈر لگتا تھا۔۔۔۔میں نے اندر ہی اندر کروٹ بدلی اور اس جیسی خوبصورت بچی کا باپ بننے کی خواہش میرے جسم کے ہر بن مو سے ابھری، میں نے اپنے جسم پر ہاتھ پھیرا، میں اوپر سے نیچے تک اس خواہش کے گرم احساس سے جل رہا تھا۔۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھایا اور بیگم کی سوئی سوئی سی چاندنی جیسی منت کو مور پنکھ سے جھلنے لگا۔

٭٭٭