کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مٹی

الیاس ندوی رام پوری


یہ کوئی بیس پچیس برس پہلے کی بات ہو گی، جب میں چھ، سات سال کا تھا۔اس وقت ہندی کی کسی کتاب میں ایک چھوٹی سی کہانی پڑھی تھی۔ پتہ نہیں خود کہانی میں ایسی کوئی بات تھی کہ وہ میرے ذہن کی سطح سے اسی طرح چپکی رہ گئی جس طرح چھپکلیاں در و دیوار سے چپکی رہتی ہیں، یا پھر خود میرا طرز زندگی کچھ اس طرح کا تھا کہ میں چاہ کر بھی اس کو بھلا نہ سکا باوجود اس کے کہ میں اپنے ہم جولیوں میں بھلکڑ مشہور تھا۔اور باوجود اس کے کہ میں اس کو بھول جانا بھی چاہتا تھا کیونکہ پشتینی  آبرو باختگی کے درد کی ایک کسک جو میرے رگ و پے میں لہو کے ساتھ ساتھ دوڑتی تھی، اس کہانی کے یاد آ جانے سے اس میں مزید شدت آ جاتی تھی۔

کہانی جتنی مختصر تھی اتنی ہی سادہ بھی تھی، پوری کہانی تو دلچسپ نہ تھی پر اس میں کچھ جملے اور الفاظ ضرور ایسے تھے کہ وہ پہلی بار پڑھنے پر ہی ذہن میں بیٹھ گئے تھے۔اور میں جب جب بھی اپنے دوستوں پر رعب جھاڑنے کی کوشش کرتا تو اس طرح گفتگو کرتا کہ اس کہانی کے تمام خوبصورت الفاظ اور جملے میری گفتگو میں  آ جاتے۔اس دوران میں ان کی  آنکھوں کے پاتال میں جھانکنے کی کوشش کرتا اور اس میں ڈوبتی ابھر تی ست رنگی کمانوں کی جل ترنگ کو اپنے لئے داد سمجھ کر من ہی من میں خوش ہوتا۔

میری دلچسپی کہانی سے زیادہ اس کی ایک تصویر میں تھی، ایسی تصویریں بچوں کی کتابوں میں عموماً ہوا کرتی ہیں۔بارشوں کا موسم تھا، کھیت کھلیان میں جل تھل کا سماں تھا، کالے گھنیرے بادلوں نے سورج کو اپنی اوٹ میں لیا ہوا تھا، بادلوں کے کناروں سے سورج کی کرنیں نکل کر زمین کے اس حصہ پر گر رہی تھیں جو تصویر میں نظر نہیں  آ رہا تھا، ان سنہری کرنوں نے بادلوں کی ٹکڑیوں کے کناروں کو سونے جیسا روپ دیا ہوا تھا۔ایک ادھیڑ عمر کا آدمی اور ایک جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہوا نو عمر لڑکا، دونوں اپنے کھیت کی مینڈھ باندھنے میں جٹے ہوئے تھے۔انہیں ڈر تھا کہ اگر یہ مینڈھ وقت رہتے نہ باندھی گئی تو کھیت کا سارا پانی دوسرے کھیتوں میں چلا جائے گا۔دور پگڈنڈی پر ایک لمبے قد کی عورت ان دونوں کی طرف بڑھی چلی  آ رہی تھی، جن میں سے ایک اس کا حاضر تھا اور دوسرا اس کا مستقبل، پہلا اس کا پتی دیو تھا اور دوسرا اس کا اکلوتا بیٹا، سورج۔

اس کا قد جو پہلے ہی لمبا تھا نئی نارنجی ساڑھی میں اور بھی لمبا لگ رہا تھا، اس کا داہنا ہاتھ زمین کی طرف تھا جس میں پانی کا برتن تھا اور بایاں ہاتھ آسمان کی طرف، جس سے وہ اپنے سر پر رکھی ہوئی پوٹلی کو پکڑے ہوئے تھی، اس میں شاید روٹی تھی۔ یہ بات مجھے پوری کہانی پڑھنے پرہی معلوم ہو سکی کیونکہ تصویر میں روٹیاں نظر نہیں  آ رہی تھیں۔ جب وہ عورت ان کے قریب آئی تو وہ دونوں ہاتھ منہ دھوکر اس کے پاس آئے اور اپنی اپنی چپلوں پر بیٹھ گئے۔اس نے دونوں کو ایک ایک روٹی پر سالن رکھ کر دیا۔اور وہ داہنے ہاتھ سے بڑے بڑے نوالے توڑ توڑ کر کھانے لگے۔

’’مٹی کسان کا دھن ہے۔۔ ۔۔۔۔۔دھن‘‘ راموں نے اپنے پیر کی مٹی صاف کرتے ہوئے کہا، جو ہوا سے کچھ کچھ سوکھنے لگی تھی۔اور لفظ، دھن کو ذرا بھاری  آواز میں دو بار ادا کیا۔

’’مگر۔۔ ۔۔۔پاپا ! مٹی کسان ہی کا دھن کیوں ہے۔ باقی لوگوں کا دھن کیوں نہیں ہے ؟‘‘ سورج کو دھندلا دھندلا سا یاد آیا کہ جب وہ پانچویں کلاس میں تھا تو اس نے ایک کہانی پڑھی تھی، جس میں مٹی کو کسان کا دھن بتایا گیا تھا۔اس وقت بھی اس نے ماسٹر جی سے یہی سوال پوچھا تھا مگر ماسٹر جی نے اسے جھڑک دیا تھا اور کلاس کے تمام بچے کھی کھی۔۔۔کھی کھی کر کے ہنسنے لگے تھے۔اس نے کسی کا برا نہ مانا، نہ ماسٹر جی کا اور نہ بچوں کا۔۔۔مگر دَیا کا اس طرح کھی کھی کرنا اسے پسند نہ آیا۔ اس واقعہ کو کئی سال گزر چکے تھے مگر دَیا کی کھلکھلاہٹ ابھی تک اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتی تھی۔یہاں تک کہ اس نے کئی بار سوچا کہ اس سے دوستی ختم کر دے اور  آئندہ کبھی اس کے ساتھ نہ کھیلے۔اور جہاں تک آموختہ پڑھنے کی بات ہے تو وہ اپنی چچی زاد سے پڑھ لیا کرے گا۔

’’یہ سالی جتنی بڑی ہوتی جا رہی ہے اتنی ہی گھمنڈی ہوتی جا رہی ہے۔‘‘اس کے بعد وہ جب بھی اس کو دیکھتا تو زیر لب بڑبڑاتا۔

سورج اکثر سوچا کرتا تھا کہ ماسٹر جی کے پیر کبھی مٹی میں نہیں سنتے اور نہ ہی وکیل صاحب کے پیر کبھی مٹی میں سنتے ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر صاحب کے پیروں پر اس نے کبھی مٹی دیکھی تھی، حالانکہ اکثر ان کے پاس جانا ہوتا تھا۔۔ ۔۔۔۔مگر ان کے پاس دھن تو بہت زیادہ ہے۔۔۔اگر مٹی ہی دھن ہے تو مٹی کے بغیر ان کے پاس دھن کہاں سے  آیا۔اس کا مطلب تو یہی ہوا نا کہ مٹی سب لوگوں کے لے دھن نہیں ہے۔باپو شاید ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں کہ مٹی کسان کا دھن ہے۔بلکہ کسان ہی کا دھن ہے۔اس نے نگاہ اٹھائی، راموں سوچوں کی بے انتہا گہرائیوں میں غرق تھا جیسے وہ کسان نہ ہو بلکہ کوئی بہت بڑا کہانی کار ہو اور دیر سے کسی کہانی کے پلاٹ پر غور کر رہا ہوں، یا کسی زنانہ کر دار کا سراپا اتار نے کے لیے خوبصورت الفاظ و تشبیہات تلاش کر رہا ہو۔اسے لگا جیسے اس نے اپنے باپو کو غم زدہ کر دیا ہے۔مگر اب وہ کر بھی کیا سکتا تھا، اس کا مقصد باپو کو غمزدہ کرنا نہیں تھا۔پر ایسا ہو چکا تھا۔

’’چل باتیں کم بنا۔۔۔۔اور لے یہ پی لے جلدی سے۔۔۔اور سانجھ تک اپنے باپو کے ساتھ کام کرنا۔۔۔۔کَدی کام کرتے سے کرکٹ کھیلنے بھاگ جاوے۔۔۔سن رہا ہے نا، میں کا کَہت رہی ہوں۔۔۔‘‘

ماں نے مَٹھّے کی لٹیا کا آخری قطرہ گلاس میں نچوڑا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔

’’ہاں۔۔۔سن رہا ہوں ‘‘ سورج نے مختصر سا جواب دیا۔

ماں جا چکی تھی اور بیٹا ایک بار پھر مٹی کو دھن سمجھ کر تہہ بہ تہہ جما رہا تھا۔

٭٭

 

میں نے اپنی زندگی میں کئی بار خود کو رامو کے بیٹے کی جگہ دیکھا تھا، مٹی کو دھن کی طرح سمیٹتے ہوئے اور مٹی کے دھن ہونے پر سوالات کھڑے کرتے ہوئے۔میں چھٹیوں میں جب بھی گاؤں  آتا تو اپنے ابو کے ساتھ گیلے کھیت میں گھس جاتا، میرے چھوٹے چھوٹے پیر نرم اور چکنی مٹی میں ڈوب جاتے، تلوؤں میں گدگدی محسوس ہوتی اور خنکی کی ایک لہر سارے بدن میں کرنٹ کی طرح دوڑ جاتی، کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے مکھن سے بھرے ٹب میں کھڑا ہو گیا ہوں۔تب میں سوچتا کہ مٹی اگر دھن نہ ہوتی تو اس پر مکھن کا گمان کیسے ہوتا۔میں اکثر اپنے ابو کے لیے کھانا لے کر جاتا اور خود بھی ان کے ساتھ سبز گھاس پر آلتی پالتی مار کر کھانے کے لیے بیٹھ جاتا۔کبھی کبھی روٹی پر تھوڑا سا سالن رکھ کر اسے پاپڑ کی طرح بنا لیتا اور ایک کچی سی ہر ی مرچ اپنے کھیت سے توڑ کر اس میں رکھ لیتا اور ندی کے گھاٹ پر چلا جاتا۔ندی میں جانوروں کو نہاتے ہوئے دیکھنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔

یہ گھاٹ گاؤں سے ایک میل کی دوری پر تھا اور گاؤں کے گرد کمان کی صورت بہتی ہوئی ندی کا سب سے قریبی گھاٹ تھا۔یہاں اکثر گاؤں کی بوڑھی عورتوں اور جوان لڑکیوں کی بھیڑ رہتی تھی۔وہ یہاں مٹی کھودنے  آیا کرتی تھیں، پیلی چکنی مٹی، جسے گوبر کے ساتھ ملا کر گھروں کے کچے فرش پر لیپا جاتا ہے۔جب ساری عورتیں اور لڑکیاں اپنی اپنی ٹوکری پیلی، نرم مٹی سے بھر لے تیں تو ایک دوسری کو سہارا دے کر ٹوکریاں اٹھواتیں۔ آخر میں ایک لڑکی اور ایک ٹوکری رہ جاتی جب اس کو کوئی سہارا دینے والی نہ ملتی تو وہ اپنے داہنے ہاتھ سے اپنی  آنکھوں پر چھجا سا بناتی اور اونچی  آواز میں مجھے پکارتی۔ میں دوڑ کر جاتا اور تیس چالیس کلو وزنی ٹوکری اٹھانے میں اس کی مدد کرتا۔اسے ٹوکری اٹھانے سے زیادہ اپنے دوپٹے اور کپڑوں کی فکر ستاتی تھی۔حالانکہ میں اس وقت بچہ تھا مگر پھر بھی اسے یہ ڈر ستاتا تھا کہ اس کے کھلے گریبان پر میری نظر نہ پڑ جائے۔

’’تم اتنی بھاری ٹوکریاں اتنی دور تک کیسے لے جاتی ہو، تمہاری گردن اور کمر میں جھٹکا نہیں لگتا۔۔۔؟‘‘میں اکثر یہ سوال اس آخری لڑکی سے پوچھا کرتا جو ٹوکری اٹھوانے میں میری مدد لیتی تھی۔مگر ہر لڑکی جواب میں صرف مسکراتی اور اپنے کپڑے سنبھالتی ہوئی  آگے بڑھ جاتی۔میں اونچے ٹیلے پر جا کھڑا ہوتا اور لہلہاتے کھیتوں کی مینڈھوں پر ایک قطار میں چلتے ہوئے ان لڑکیوں کو دیر تک دیکھتا رہتا۔مجھے ایسا لگتا جیسے انہیں جنت سے خاص اس لیے بھیجا گیا ہے کہ یہ اسی طرح اپنے سروں پر مٹی ڈھوتی رہیں اور قدرتی حسن میں اپنے فطری حسن کے جلوے بکھیر کر ایک نئے حسن کی قوسِ قزح بناتی رہیں۔

میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ منظر کنگ فشر کے مچھلی پکڑنے کا تھا، بلکہ یہ کچھ عجیب سا تھا دلچسپ بھی اور کریہہ بھی۔ جب وہ دیر تک فضا میں ایک جگہ پر ٹھہرا رہتا اور پھر اچانک بیس پچیس فٹ کی اونچائی سے پانی میں غوطہ لگاتا اور پھر بجلی کی سی تیزی سے دور بجلی کے تاروں پر جا بیٹھتا تو مجھے عجیب سا سرور آتا۔اتنی دیر تک میں اپنی روٹی کھانا بھی بھول جاتا اور دوسرے لمحے میں اس کی لمبی سی نوکدار سنہری چونچ کے درمیان پھڑ پھڑاتی ہوئی مچھلی دیکھ کر رنجیدہ ہو جایا کرتا۔

’’مگر میں کیا کر سکتا ہوں۔خدا نے دنیا کو اسی طرح بنایا ہے۔میں نہ تو مچھلی کو تحفظ فراہم کر سکتا ہوں اور نہ کنگ فشر کے خلاف پارلیمنٹ میں کوئی قانون پاس کروا سکتا ہوں، جس کی رو سے کنگ فشر کے شکار پر پابندی عائد کی جا سکے۔اور میں یہ سب کرنے کے لیے ابھی بہت چھوٹا بھی ہوں ‘‘

میری یہ سوچ رنجیدگی کے احساس کے مضبوط خول کو توڑ دیتی اور میں نسبتاً بہتر محسوس کرنے لگتا۔کچھ دیر یونہی سونچوں میں غرق رہتا اور پھر کولہوں کی مٹی صاف کرتے ہوئے اٹھتا اور ایک بار پھر اپنے باپ کے ساتھ بھیگے کھیت میں ننگے پاؤں گھس جاتا۔

مگر دوسرے دن جب میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑ کر گھر لے جاتا اور ماں انہیں صاف کر کے گرم توے پر بھوننے لگتی تو میرے تمام سینس صرف ایک ہی سمت میں کام کرنے لگتے۔زبان، تالو اور رخساروں کے اندرونی حصوں کے تمام غدود سے پانی کے فوارے پھوٹ نکلتے۔ اس وقت کبھی بھولے سے بھی مجھے مچھلی پر رحم نہیں  آتا۔میں نے کبھی بھی خود کو کنگ فشر کی جگہ محسوس نہیں کیا۔نہ مچھلیاں پکڑتے وقت، نہ انہیں بھونتے وقت ور نہ ہی چٹخارے لے لے کر کھاتے وقت۔یہ منظر نہ تو میرے لیے کریہہ تھا اور نہ میں اس سے رنجیدہ خاطر ہوتا تھا۔بلکہ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ گڑیا میری چھوٹی بہن جب مجھ سے کسی بات پر خفا ہو کر الگ تھلگ رہنے لگتی اور مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا تو میں اس کو ببو بھائی کے ہوٹل سے تلی ہوئی مچھلیاں لا کر کھلاتا اور وہ پھر سے پہلے کی طرح چوکڑیاں بھرنے لگتی اور میں محسوس کرتا کہ میرے من کے چمن میں  آج پھر کئی سارے نئے پھول کھلے ہیں۔

شاید کہانی میں یاد رہ جانے والی صفت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ ہماری زندگی کے کسی زاوئے کی ترجمان بن جاتی ہے۔  ’’مٹی کسان کا دھن ہے ‘‘ شاید اس کہانی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، میں نے اکثر و بیشتر اپنے  آپ کو اس کے ایک کر دار کی جگہ پر رکھ کر دیکھا ہے۔اور اسی لیے یہ کہانی  آج تک میرے ذہن کی شریانوں سے چپکی ہوئی ہے۔

سورج اس کہانی کے بارے میں کیا سوچتا تھا یہ تو نہیں معلوم، پر اتنا معلوم ہے کہ وہ اس کہانی سے خوش نہیں تھا۔رامو نے یہ کہانی اپنے باپ سے سنی تھی اور انہوں نے اپنے باپ سے۔ بے شمار برسوں تک یہ کہانی اسی طرح سینہ بسینہ چلتی رہی اور پھر پتہ نہیں کب اور کس طرح چٹان جیسے مضبوط سینوں سے نکل کر کتابوں کے کاغذی صفحات پر پھیل گئی۔

٭٭

 

’’اگر کسان مٹی کو دھن سمجھنے کی غلطی نہ کرتے تو آج ان کی زندگی مٹی کی طرح میلی نہ ہوتی بلکہ کھدر پوش کی زندگی کی طرح اجلی ہوتی، نہ ان کی قمیص پر داغ ہوتے اور نہ دھوتی پر بے شمار سلوٹیں ‘‘

’’اگر دھن نہ سمجھتے تو کیا سمجھتے۔۔۔۔؟‘‘ میرے ہم جماعت دوست نے کتاب کا ورق الٹتے ہوئے پوچھا۔

’’وہی جو فلسفی سمجھتے ہیں اور۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘

’’۔۔۔۔اور کون۔۔ ۔۔۔۔۔؟‘‘وہ میری باتوں کو مجذوب کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا اسی لیے بیچ میں بول پڑتا تھا۔

’’۔۔۔۔اور سائنسداں سمجھتے ہیں اور کون۔۔۔؟‘‘ میں نے اس کے استہزائیہ انداز کو نظر انداز کرتے ہوئے جلدی سے کہا۔

’’۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔کیا سمجھتے ہیں وہ۔۔۔۔؟‘‘ اب وہ میری باتوں میں دلچسپی لے رہا تھا۔حالانکہ اسے پتہ تھا مگر پھر بھی اس نے پوچھا۔وہ مجھے دق کرنا چاہتا تھا۔

’’زندگی کے لئے ضروری عناصر میں سے ایک عنصر۔۔ ۔۔۔۔۔۔اور کیا۔۔ ۔۔۔۔؟۔۔یار تم بھی نرے بدھو ہو۔۔ ۔۔۔پڑھتے وڑھتے تو ہو نہیں اور خالی باتیں بناتے ہو۔۔۔اس بار امتحان آنے دو، تب بتاؤں گا۔‘‘میں اس کے استہزائیہ انداز سے زچ ہو رہا تھا۔اس لیے میں نے اس کو اس کی اوقات دکھانے کی سوچی تاکہ وہ ایک حد پر رہے۔اور مجھ پر ہنسنے کا سلسلہ دراز نہ کرے۔

’’اچھا بند کرو اپنی یہ بکواس۔۔۔۔چلو بہت پڑھ لیاتم نے۔۔۔۔مجھے پتہ ہے تم کتنے پڑھتی ہو‘‘

اس نے میرے ہاتھ سے کتاب چھین لی اور زبردستی کھینچتے ہوئے چائے خانے میں لے گیا۔

گزشتہ کچھ دنوں سے میں ترقی پسند ادب کا مطالعہ کر رہا تھا اور پتہ نہیں کیوں کسانوں کے بے لباس بچوں کی دھما چوکڑی اور کھیت پر روٹی لے جاتی ہوئی ان کی جوان بہو بیٹیوں کے ننگے پیروں کی دھمک میرے ذہن کے پردوں کو مرتعش کر رہی تھی۔یہ دھمک اتنی شدید تھی کہ کبھی کبھار مجھے زلزلے جیسا گمان ہونے لگتا تھا۔جس دن سے میں نے جاپان کے زلزلے کے بارے میں سنا تھا تب سے کئی بار مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے وجود کی کھڑکیاں بج رہی ہیں اور میں اپنے  آپ میں سے نکل بھاگنے کے لئے کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں ہوں۔

’’تم بلا وجہ کنفیوژن پیدا کرتے ہو۔مجھے تو ہر چیز مٹی ہی سے لگتی ہے۔ تمام جاندار اور غیر جاندار چیزیں مٹی ہی سے وجود پذیر ہوئی ہیں۔اللہ نے انسان کو مٹی سے بنایا، مرنے کے بعد اس کو مٹی میں دفن کیا جاتا ہے اور پھر اللہ اسی مٹی سے قیامت کے دن اس کے سالم وجود کو اٹھائے گا۔جتنے خزانے ہیں سب مٹی ہی سے تو نکلتے ہیں۔ اگر مٹی نہ ہوتی تو غلہ پیدا نہ ہوتا۔کیا غلہ کہیں پتھر پر بھی پیدا ہوتا ہے۔۔کیا تم ہتھیلی پر سرسوں اگا سکتے ہو، نہیں نا۔۔تو پھر کیوں مٹی میں کیڑے نکالتے ہو۔۔۔۔‘‘  اس نے چائے خانے میں سب سے  آخری میز کرسی کا انتخاب کیا اور بیٹھتے ہی شروع ہو گیا۔

’’میں تھوڑی نکال رہا ہوں مٹی میں کیڑے، وہ تو خود ہی نکلتے ہیں مٹی سے۔۔۔۔‘‘ میرے پاس اس پر مغز تقریر کا کافی و شافی جواب نہ تھا اس لیے میں نے بحث کو طنز و مزاح کی راہ پر ڈالنا چاہا۔

’’اور دیکھنا۔۔ ۔۔۔۔۔جس دن تمہارے اندر کا یہ فلسفی مر جائے گا تو اس کو بھی اسی مٹی میں چھپایا جائے گا۔پھر قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کی زبان کو تالو سے لگا کر اس میں ایک لمبی سی میخ ٹھوک دی جائے گی۔ وہ کہے گا یہ کس گناہ کی سزا ہے۔ تو جواب ملے گا کہ تو اسی زبان کے ذریعہ بھولے بھالے لوگوں کو بے وقوف بنایا کرتا تھا۔۔ ۔۔۔یہ اسی کی سزا ہے ‘‘

مگر وہ مذاق کے موڈ میں نہ تھا۔وہ پوری طرح سنجیدہ ہو چکا تھا۔اور بحث کرنے میں تو اسے ید طولیٰ حاصل تھا، ایسی ایسی دلیلیں لاتا کہ اچھے اچھے ذہین لڑکے اس کے سامنے لاجواب رہ جاتے۔میری حالت ایسی ہو رہی تھی جیسے کتے کے سامنے ڈرپوک بلی کی ہوتی ہے۔

اچانک دروازہ کھلا اور گرم ہوا کا جھونکا میرے چہرے کو  جھلسا گیا۔

’’بیٹا، دروازہ تو بند کر دو‘‘ میں کالج کی زندگی کے خیالوں سے باہر آیا اور عینک کے اوپر سے بیٹی کی  آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔وہ تیز دھوپ میں پندرہ منٹ کا راستہ پیدل چل کر آئی تھی۔دھوپ کی شدت سے اس کی  آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔میں اپنی درخواست کا کوئی تاثر ان میں نہیں دیکھ سکا۔آخر کار میں خود ہی اٹھا اور دروازہ بھیڑ کر پھر کہانی لکھنے میں مصروف ہو گیا۔

٭٭

 

آج سے تقریباً دس سال پہلے جب مجھے اس بات کا پختہ یقین ہو چلا تھا کہ مٹی کسی قیمت پر بھی دھن نہیں بن سکتی تو میں اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر شہر آ گیا تھا، چھوڑ کر کیا آ گیا تھا بلکہ ناراض ہو کر چلا آیا تھا۔میں نے انہیں قائل کرنے کی لاکھ کوشش کی مگر انہیں اپنی مٹی سے اتنا پیار تھا کہ وہ گاؤں چھوڑنے پر کسی صورت راضی نہ ہوئے۔جب میں کہتا کہ مٹی کے بغیر بھی دھن حاصل ہو سکتا ہے تو ان کا سیدھا سا جواب تھا کہ اُس دھن میں مٹی کی خوشبو نہیں ہو سکتی، اگر تم ہماری زمینوں کی ساری مٹی اپنے ساتھ شہر لے جا سکتے ہو تو ہم تمہارے ساتھ جا سکتے ہیں۔مگر یہ ناممکن بات تھی۔اور میں اپنے من میں مٹی کی بو باس سے پاک دھن حاصل کرنے کی امید کی شمع جلائے شہر چلا آیا۔

یہاں میں نے ایک ماہر نفسیات سے پوچھا کہ جس مٹی نے گاؤں کے لوگوں کو سوائے بھوک اور پیاس کچھ نہ دیا آخر انہیں اس مٹی سے اتنا پیار کیوں ہوتا ہے کہ وہ خون دے دیتے ہیں مگر مٹی نہیں دیتے۔

’’ہوں۔۔ ۔۔۔! سوال تو آسان سا ہے پر اس کا جواب خاصہ پیچیدہ ہے۔۔۔۔در اصل اس کی جڑیں  آدمی کے ضمیر اور روح تک اتری ہوئی ہیں اور جب تک ہم اس کے ضمیر اور روح کی کار کردگی سے واقف نہیں ہو جاتے تب تک اس کا جواب ڈھونڈ پانا ناممکن ہے۔اس کا تعلق بڑی حد تک کلچر کے ساتھ نفسیاتی اور فطری وابستگیوں سے بھی ہے۔۔۔اور اس سے بھی زیادہ اس کا تعلق فلسفۂ عادت سے ہے۔۔ ۔۔۔آدمی جس خاص افتاد طبع کا عادی ہو جاتا ہے تو وہ اس کے خلاف نہیں جا سکتا۔‘‘اس نے اپنی  آنکھوں سے چشمہ اتار کر کتاب پر رکھا اور دونوں ہاتھوں کا حلقہ بناتے ہوئے ایک لمبی سی انگڑائی لی۔

مجھے پتہ تھا کہ اس کے پاس بھی اس سوال کا جواب نہیں ہو گا۔مگر پھر بھی میں نے اسے عزت دی تھی۔حالانکہ میرے پڑوسی نے جو اس کے بچپن کے دوست تھے مجھے پہلے ہی  آگاہ کر دیا تھا کہ وہ ماہر نفسیات ضرور ہے مگر اسے بھولنے کی بیماری ہے اور اس کی اس عادت سے بھی بہت سارے لوگوں کو شکایت ہے کہ وہ ہر سوال کا جواب انسانی نفسیات کی بھول بھلیوں کی اندھی گلیوں میں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک بار میں نے اس سے اپنی یادداشت کی کمزوری کے بارے میں مشورہ کیا تو وہ مجھ سے الٹے سیدھے سوال کرنے لگا۔مثلاً، تمہاری شادی کس تاریخ میں ہوئی تھی، بڑی بیٹی کی عمر کتنی ہے اور تمہیں کس طرح کی فلمیں دیکھنا پسند ہیں۔اب آپ ہی بتاؤ کہ ان سوالوں کا یادداشت کی کمزوری سے بھلا کیا تعلق۔اب وہاں اور زیادہ بیٹھنا بیکار تھا اس لیے میں وہاں سے اٹھ آیا۔اور اس ذہنی الجھن میں اس کی فیس دینا بھی بھول گیا۔

مجھے کہانیوں میں شروع ہی سے دلچسپی رہی تھی۔میری ماں کہتی ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا توا پنی پردادی سے جل پریوں کی کہانیاں بہت شوق سے سنتا تھا۔اور جب وہ اللہ کو پیاری ہو گئیں تو اپنی دادی ماں سے کہانیاں سننے کی ضد کیا کرتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔پر میری ماں نے مجھے  آج تک کوئی کہانی نہیں سنائی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ان کے پاس کام جو اتنا زیادہ تھا نا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اس لیے۔وہ صبح اندھیرے منہ اٹھ جاتی تھیں اور دیر رات تک کام میں جٹی رہتی تھیں۔میں کہانی سننے کے لالچ میں تھوڑی دیر تک جاگتا رہتا۔۔ ۔۔۔۔مگر جب مجھے یقین ہو گیا کہ ان کا کام کبھی ختم نہیں ہو گا تو میں نے دیر تک جاگنا چھوڑ دیا اور کہانی سننے کی امید توڑ دی۔

شہر آ کر میرے اس شوق کو پر لگ گئے۔جب سے مجھے ایک جانکار شخص نے بتایا تھا کہ کہانیاں لکھنے سے اتنا دھن حاصل ہوتا ہے جتنا مٹی سے نہیں ہوتا۔بس پھر کیا تھا، مٹی کی بو باس کے بغیر دھن حاصل کرنے کی میری پرانی امیدجیسے ایک دم نہال ہو گئی۔میں گاؤں والوں کو بتانا بھی چاہتا تھا کہ مٹی کے بغیر بھی دھن حاصل کیا جا سکتا ہے۔میں نے اسی وقت فیصلہ لیا اور کہانیوں کو مٹی کے نعم البدل کے طور پر چن لیا۔کہانیاں لکھنے میں نہ پیر مٹی میں سنتے تھے اور نہ کپڑے میلے ہوتے تھے۔

گاؤں کی عورتوں کے لیے سب سے مشکل کام کپڑے دھونا تھا۔ ہر دوسرے روز انہیں ایک گٹھری کپڑے دھونے پڑتے تھے۔کپڑے دھوتے دھوتے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے، ناخون ٹوٹ جاتے اور ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصہ میں درد کی شدت سے دھواں سا اٹھنے لگتا۔مجھے دھوئیں سے سخت نفرت تھی اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میری شریک سفر کی ریڑھ کی ہڈی میں بھی اسی طرح دھواں اٹھے۔میں دیہاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر جتنا زیادہ غور کرتا مجھے کورے کاغذ کو کالا کرنے کا فن اتنا ہی زیادہ خوش نما دکھائی دینے لگتا۔

مگر اب جب کہ آٹھ نو سال پر محیط رات و دن کی مسلسل محنت سے میری اپنی ہڈیوں سے دھواں اٹھنے لگا تھا، یہاں تک کہ مجھے اٹھنے بیٹھنے میں بھی تکلیف محسوس ہونے لگی تو میرا خیال پانی کی طرح بھاپ بن کر سفید بادلوں کے دوش بدوش اڑنے لگا۔اب میں اس جانکار شخص سے ملنا چاہتا تھا تاکہ اس سے پوچھ سکوں کہ اس نے مجھ سے جھوٹ کیوں کہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔مگر وہ اس کے بعد آج تک کبھی دکھائی نہیں دیا۔۔ ۔۔۔۔مجھے اڑتی اڑاتی خبر ملی تھی کہ اچانک ہارٹ اٹیک سے اس کا انتقال ہو گیا، مرنے سے پہلے اس نے عجیب و غریب وصیت کی تھی۔۔ ۔۔۔۔اس نے کہا تھا کہ مجھے کفن نہ دینا بلکہ میری کہانیوں کی ورق سے میرا تن ڈھانک دینا۔ایسی وصیت کوئی پاگل ہی کر سکتا ہے۔یا پھر وہ جو اپنے فن کی محبت میں پاگل ہو گیا ہو۔ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس کفن کے لیے پیسے ہی نہ ہوں۔اور اس نے اپنی غربت کو چھپانے کے لیے یہ وصیت کی ہو۔کبھی کبھی میں سوچتا کہ مٹی سے محبت کرنے والوں میں اور کہانی سے محبت کرنے والوں میں  آخر فرق ہی کیا رہ گیا۔وہ مٹی پر زندہ رہتے ہیں اور مٹی اوڑھ کر ابدی نیند سو جاتے ہیں۔ یہ کہانیوں کے لیے زندہ رہا اور  آخر کار کہانیاں ہی اوڑھ کر ہمیشہ کے لئے سو گیا۔

میں کافی دیر سے بیٹھا بیٹھا لکھ رہا تھا، سوچا تھوڑا سستا لوں۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے گھٹنے پکڑ کر بمشکل تمام اٹھا اور بالکنی میں جا کھڑا ہوا۔شام کے چار بج رہے تھے دھوپ کی تمازت ذرا کم ہو چکی تھی۔نیچے گلی میں پھیری والے گھومنے لگے تھے۔سامنے والی چھت پر ایک نو بیاہتا جوڑا نہایت چھچھورے انداز میں مستیاں کر رہا تھا، میری  آنکھوں میں حیا اتر آئی اور میں اپنے دکھتے ہوئے گھٹنوں کے سہارے واپس اندر آ گیا۔

بٹیا ا سکول سے لوٹی تھی تو بہت تھکی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔اس نے تیزی کے ساتھ دروازہ کھولا، بیگ ایک طرف میز پر پھینکا اور بستر پر بے سدھ گر گئی۔اسے  آئے ہوئے کچھ منٹ ہی گزرے تھے اور اب وہ گہری نیند کے ساتھ سو رہی تھی۔اس کی ماں نے بتایا کہ آج اس کے اسکول میں کوئی فنکشن تھا اسی لیے  آج وہ دیر سے  آئی ہے اور اتنی تھک گئی ہے کہ لیٹتے ہی خراٹے بھرنے لگی ہے۔

’’تو ڈریس تو کم از کم تبدیل کر لیتی۔ اب اتنی بھی نہیں تھکی ہو گی کہ ڈریس تک بھی نہ بدل پاتی۔۔ ۔۔۔۔۔اور دیکھو۔۔موزے تک بھی نہیں اتارے۔۔۔۔تم اس کو سمجھاتی کیوں نہیں ہو۔۔۔؟‘‘

میں نے بیگم سے کہا اور اس کے موزے اتارنے لگا۔

’’ارے۔۔۔۔بچے ایسے ہی کرتے ہیں۔امی کہتی ہیں کہ آپ جب اتنے چھوٹے تھے تو آپ بھی ایسی ہی حرکتیں کرتے تھے۔‘‘

’’سچ‘‘

’’تو کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں ‘‘بیگم کے لہجہ سے حقیقت عیاں تھی۔ یقیناً وہ جھوٹ نہیں کہہ رہی ہو گی۔جب میں بچپن میں اس کی طرح تھا تو کیا یہ بھی بڑی ہو کر میر ی طرح ہو جائے گی۔ضدی، وہمی، بھلکڑ اور کھوسٹ۔میرے بدن میں جھرجھری پیدا ہوئی۔

’’ یا اللہ اس کو میری طرح نہ بنانا۔اس کو خوبصورت سی زندگی دینا اور اسے مریم بتول کی پاکیزہ زندگی کے سانچے میں ڈھالنا۔‘‘

میں دل ہی دل میں اسے دعائیں دینے لگا۔ میں اس بات سے پناہ مانگتا تھا کہ کوئی میری طرح ہو جائے اور یہ تو میری اپنی لاڈلی بیٹی تھی۔

میری صحت گرنے لگی تھی، کہانیاں لکھنے میں دلچسپی جو پہلے ہی سے کم ہو چلی تھی اب بالکل ماند پڑ گئی تھی۔دس سال پہلے جس امید کی شمع کا سودا میں اپنے تن من میں سمائے شہر میں وارد ہوا تھا اب وہ سیہ پوش ہو چلی تھی۔اور ایک بار پھر مجھے اپنے کھیت کی نرم چکنی مٹی یاد آنے لگی تھی۔ ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان پتلی پتلی پگڈنڈیوں پر مٹی کی ٹوکریاں سروں پر اٹھائے لمبی قطار میں چلتی ہوئی پریوں جیسا دل فریب منظر دامنِ دل کھینچنے لگا تھا۔میں نے خود کو بہت تھامنے کی کوشش کی۔۔ ۔۔۔۔۔۔مگر تھام نہ سکا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔اور پھر جب اگلے ماہ کے پہلے سورج کی سہانی کرنیں میرے چھوٹے سے گاؤں کو رنگ و نور میں نہلانے لگیں تو میں اپنے کھیت کی ڈور پر کھڑا ا س حسین و دل فریب منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

رات اور دن ایک دوسرے کا پیچھا کرتے رہے اور وقت کی چین دھیرے دھیرے پیچھے کی طرف سرکتی رہی۔مٹی نے دھن اگلنا شروع کر دیا اور بوڑھے کسانوں کے بے رنگ خوابوں میں نقرئی رنگ ابھرنے لگا۔وہ اپنی جوان بیٹیوں کو سرخ جوڑے میں سر سے پیر تک لپٹی ہوئی، مہندی اور زیور سے  آراستہ پیروں کے ساتھ گھر کی دہلیز پار کرتے ہوئے دیکھنے لگے۔سورج نے ابھی اپنا نصف سفر ہی قطع کیا تھا کہ موسم نے ایک انگڑائی لی۔۔۔اس نے گزشتہ کئی سالوں سے ایسی انگڑائی نہیں لی تھی۔اس کے جوڑوں کے چٹخنے کی  چرچراہٹ سے کبوتروں کا دل تھرا اٹھا۔کسان کھیتوں اور چوپالوں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اپنی کٹیوں میں دبک گئے۔گھنیرے بادلوں نے باہم مل کر موٹی کالی چادر گاؤں کے  آسمان پر تان دی۔اس کالی چادر تلے پرندے بوکھلائے ہوئے بے ترتیب اڑ رہے تھے۔بگلے اور بطخیں وی شیپ میں اڑنے کی اپنی کلا بھول چکی تھیں۔ابھی شام کافی دور تھی کہ بادلوں کی گھن گرج سے ہم سب کے دل دہل گئے، گلیوں میں چھجوں کے نیچے دبکے بیٹھے کتے اچھل پڑے، سال میں بندھے جانور رسی تڑا کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔میری بیٹی اور بیوی میرے پاس آ کر کھری کھاٹ پر بیٹھ گئیں۔۔۔۔امی ابو اپنے کمرے میں تھے وہ بھی میرے پاس آ گئے۔۔ ۔۔۔ہم سب ایک دوسرے کو ابلتی ہوئی  آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔اور پھر ایک دم بادل پھٹ پڑے۔۔ ۔۔۔۔۔آسمان کی بلندیوں سے پانی اس طرح گر رہا تھا جس طرح اونچے  آبشاروں سے ڈھیر سارا پانی ایک ساتھ گرتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔مسلسل تین دن تک کوئی باہر نا جا سکا۔ گاؤں کے کچے مکانات تو تباہ ہو چکے تھے اور جو مکان پختہ تھے وہ بھی خستہ حالت میں  آ گئے تھے۔گاؤں کے لوگ مقدور بھر ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے۔چوتھے دن جب بارش تھمی اور میں گھر سے نکلا تو تباہی کا وہ منظر تھا کہ دیکھا نہ جاتا تھا۔لوگ بدحواسی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے۔ کسی کا بیٹا غائب تھا تو کسی کا باپ۔کسی کو ماں کی تلاش تھی تو کسی کو بیٹی کی فکر۔

میں کسی طرح گرتے پڑتے کھیت تک پہونچا، مگر وہاں نہ کھیت تھا نہ مٹی اور نہ دھن۔۔ ۔۔۔۔۔۔سب کچھ بہہ چکا تھا۔ ایک میل دور ہی سے ندی کی پھنکاریں سنائی دے رہی تھیں پانی اس طرح اچھلتا کودتا آگے بڑھ رہا تھا جس طرح پہاڑ سے لڑھکایا ہوا پتھر ڈھلان کی طرف بڑھتا ہے۔

میں وہیں ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔اپنے کھیت سے لپ بھر کیچڑ اٹھائی اور اپنے چہرے پر لیپ دی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔یہ شاید اپنی مٹی سے نفرت کا صلہ تھا۔۔۔میں نے دل میں سوچا اور مٹی میں سنی ہوئی  آنکھیں کھولیں، میرے چہرے میں  آنکھوں کے حلقوں میں دھنسی ہوئی سفید اور کالے رنگ کی گولیاں ہی دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔۔میرے اندر کا فلسفی مر چکا تھا۔مگر اسے مٹی میں دبانے کے لئے نہ مٹی باقی بچی تھی اور نہ میرا ہم جماعت زندہ رہا تھا۔۔۔۔خدا جانے میں کتنی دیر اسی حالت میں بیٹھا رہا۔۔۔

اس حادثہ کو کافی وقت گزر چکا ہے، زخم دھیرے دھیرے مندمل ہو رہے ہیں۔زندگی  آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہے۔۔۔میں نے خود کو سورج کے کر دار کی جگہ رکھ کر دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔۔۔اب میں قابیل کی طرح اپنے اندر کے فلسفی کی نعش اٹھائے پھر رہا ہوں۔

٭٭٭