کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اسٹینڈ کا فنڈا

الیاس ندوی رام پوری


 زاہد خان، فلمی نام زاہد کپور، خلاف معمول اندھیرے منہ اٹھ بیٹھا، قد آدم آئینہ میں سراپا درست کیا اور تیز تیز قدموں سے زینہ اتر گیا۔

پانچ منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد وہ دلآور خان عرف ببلو بھائی کے نیم مردہ چہرے کو بڑے اشتیاق کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔

’’ماموں جان، ابھی کیسے ہیں  آپ۔۔۔؟

’’اللہ کا کرم ہے۔۔ ۔۔۔۔‘‘ انہوں نے بستر مرگ سے اٹھنے کی کوشش کی۔

کپور بجلی کی سی سرعت سے صوفے سے اٹھا اور ماموں کو دوبارہ اُسی پوزیشن میں لٹا کر اپنی جگہ آ بیٹھا۔

’’ماموں ’’بجلی ‘‘ دیکھی  آپ نے۔۔ ۔۔۔۔؟‘‘  اس کے لہجے میں بلا کا اشتیاق تھا۔

انہوں نے ایک بار پھر اٹھنے کی ناکام کوشش کی تھی مگر ان کے کمزور بدن نے دماغ کا ساتھ نہ دیا۔اور ان کا اٹھا ہوا سر پھر تکئے سے جا لگا۔

’’کپور۔۔۔۔ آگ لگانا سیکھ۔۔۔۔آگ لگانا۔۔۔تیری بجلی تو اچھی ہے، بڑے تیکھے نقوش ہیں اس کے۔۔۔۔ ایکٹنگ بھی خوب ہے پر ’بجلی ‘میں  آگ لگانے کی شکتی نہیں۔۔کچھ مرچ مسالہ ڈال نا اس میں کہ آگ لگے اور فلم سپر ہٹ ہو جائے۔۔۔اس زمانے کا اسٹینڈ یہی ہے، فلمیں اپنی فنی بنیادوں پر کامیاب نہیں ہوتیں۔۔۔باہر سے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔‘‘

انہوں نے گزشتہ رات ’بجلی‘ کو ایک کامیاب ہدایت کار کی کڑی تنقیدی نظر سے دیکھا تھا اور کپور کو مزید رہنما ہدایات دینے کے یے بلا بھیجا تھا۔کپور کو بھی ان کے خیالات جاننے کا بے صبری سے انتظار تھا اس لیے وہ اندھیرے منہ ان کے پاس آ پہونچا تھا۔

کپور نے کچھ بھی نہ سمجھتے ہوئے سر کھجایا اور ماموں کو مزید زحمت نہ دینے کے ارادے سے موضوع بدل کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔اس کے چہرے کی شگفتگی اداسی میں بدل گئی۔

’’ گڑیا اپنی شادی کو لے کر بہت ایکسائی ٹیڈ ہے۔۔ ۔۔۔ داماد اچھا مل گیا آپ کو۔۔۔۔‘‘

’’ سب اوپر والے کا کرم ہے۔۔ ۔۔۔۔موہن شرما بہت نیک اور محنتی لڑکا ہے۔۔۔۔ امریکہ میں اس کا ایکسپورٹ امپورٹ کا بزنس ہے۔خوبرو بھی ہے، ذہین بھی، دولت مند بھی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ فرماں بردار بھی بہت ہے۔۔ ۔۔۔۔ بستر مرگ پر پڑے ہوئے ایک بیمار آدمی کو اس کے علاوہ اور کیا چاہئے کہ اس کی نازوں کی پالی ہوئی بیٹی سدا سکھی رہے۔‘‘وہ نحیف آواز میں رک رک کر بول رہے تھے۔

ان کی عمر ابھی کچھ زیادہ نہیں تھی مگر جان لیوا بیماری نے انہیں بستر مرگ پر ڈال دیا تھا۔نزہت عرف گڑیا کا نام یا خیال  آتے ہی ان کے بدن میں جانے کہاں سے طاقت آ جاتی تھی۔ گڑیا ان کی اکلوتی اولاد تھی، نازوں کی پالی ہوئی۔جب کوئی اس کا ذکر کر بیٹھتا تو وہ اپنی بیماری بھول جاتے۔اور اس کی بڑی بڑی  آنکھوں اور کشادہ پیشانی کا ذکر کرنے لگ جاتے۔کبھی کبھار تو وہ حد ہی کر دیتے۔ گڑیا کی پیدائش سے جوانی تک پوری کہانی انہیں ازبر تھی اور جب ایک بار اس کہانی کو شروع کر دیتے تو پھر گڑیا کی جوانی اور شادی تک پہونچ کر ہی دم لیتے۔گڑیا اگر ایسے کسی موقع پر موجود ہوتی تو چپکے سے کھسک لیتی یا پھر تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق کہہ دیتی ’ ’ اب بس بھی کرو ڈیڈی۔۔ ۔۔۔۔۔ آپ ہر ایک کے سامنے میری کہانی لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔۔ ۔۔۔ لوگ کیا سوچتے ہوں گے  آپ کے بارے میں۔‘‘

’’یہی نا کہ میں سٹھیا گیا ہوں۔۔۔۔‘‘  وہ ہنس دیتے اور خاموش ہو جاتے۔

’’جی جی بڑے نصیبوں والے ہیں  آپ۔۔ ۔۔۔آپ جلد اچھے ہو جائیں گے۔۔ ۔۔۔فکر نہ کریں۔۔۔۔ ‘‘کپور کو معلوم تھا کہ ماموں اب اچھے ہونے والے نہیں پھر بھی اس نے ان کا دل رکھنے کے لیے کہا۔کثرت شراب نوشی نے جگر کے دن تمام کر دئے تھے۔

اچھا میں چلتا ہوں۔۔ ۔۔۔پھر آؤں گا فرصت میں۔ مجھے  آج سفر پر جانا ہے۔۔اللہ حافظ۔۔۔‘‘

’’جاؤ، پھلو پھولو۔۔ ۔۔۔۔۔ اللہ حافظ۔‘‘

زاہد کپور جتنی تیزی کے ساتھ اپنے گھر سے نکلا تھا اتنی ہی تیزی کے ساتھ ماموں کے گھر سے بھی نکلا۔

اور چند منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد وہ ایک بار پھر قد آدم آئینہ کے سامنے کھڑ ا تھا۔

’’خوبرو تو میں بھی ہوں، ذہانت میں کچھ خاص کمی نہیں اور فرما بردار تو ہوں ہی۔۔ ۔۔۔۔۔لیکن اگر گڑیا کو وہ ہا تھی ہی پسند آیاتو میں کیا کروں۔۔۔۔بے وقوف لڑکی۔‘‘ اس نے زور سے پیر پٹخے اور بیرون ملک سفر کی تیاریوں میں جٹ گیا۔

زاہد کپور فلم انڈسٹری میں نووارد نہیں تھا۔۔۔۔ماڈلنگ اور پھر ایکٹنگ میں وہ جانا پہچانا چہرہ تھا تاہم فلمی ہدایت کار کی حیثیت سے ’ بجلی‘ اس کی پہلی فلم تھی۔

’’۔۔ ۔۔۔۔۔کچھ مرچ مسالہ ڈال نہ اس میں ‘‘

دیکھنے کو تو وہ سفر کی تیاریوں میں جٹا ہوا تھا پر اس کا دماغ ماموں کے اس جملے پر اٹکا ہوا تھا۔۔ ۔۔۔۔اسے سمجھ ہی نہیں  آ رہی تھی کہ وہ اس کے کیا معنیٰ نکالے۔ایک بار اسے اپنے  آپ پر غصہ آیا کہ وہ اتنے سالوں سے ماموں کی رہنمائی میں کام کر رہا ہے اور ابھی تک وہ ان کی ذو معنیٰ باتوں کو پوری طرح سمجھ پانے سے قاصر ہے۔جنجھلاہٹ اور غصہ کے عالم میں اس نے گڑیا کی تصویر پر قلم چلا دیا۔گڑیا کے ہونٹ دو حصوں میں بٹ گئے۔

’’مگر یہ ماموں بھی نا۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ہر وقت پہیلیاں بجھاتے رہتے ہیں۔۔۔ صاف صاف بات کرنے میں کیا ان کی۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘ اچانک اسے بستر مرگ پر پڑے ہوئے ماموں سے ہمدردی پیدا ہوئی اور وہ لبوں پر آئی ہوئی بھدی گالی کو پی گیا۔

وہ بجلی کے تعلق سے خوبصورت الفاظ سننے کا مشتاق تھا۔۔۔۔مگر خلاف توقع اسے نقد بھرے الفاظ سننے کو ملے۔۔ ۔۔۔دوسرے یہ کہ وہ ابھی تک شرما کو گڑیا کے شوہر کی حیثیت سے برداشت کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں کر پایا تھا۔اس لیے اس کا دماغ چکرایا ہوا تھا۔

زاہد بیٹا، اتنے لمبے سفر پر جا رہا ہے۔۔ ۔۔۔لے یہ گرم گرم پکوڑے کھا لے اور تھوڑی دیر آرام کر لے۔۔ ۔۔۔۔ شام میں  آٹھ بجے تو فلائٹ ہے تیری۔۔۔۔ پانج بج گئے تیاری کرتے کرتے۔۔۔ اب بہت ہو گئی تیاری۔۔۔۔یہ پکوڑے کھا لے اور سوجا تھوڑی دیر۔۔‘‘

اور وہ اچھا ماں کہتے ہوئے بستر پر چلا گیا۔

’’کیا مطلب ہو سکتا ہے ماموں جان کا۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘ پچھلے کئی گھنٹوں سے ماموں جان کے کمینٹس اس کو بے چین کیے ہوئے تھے اور اب بستر پربھی نیند اس کی  آنکھوں سے کافی دور تھی۔۔ ۔۔۔۔۔ جب کسی کا ذہن ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہا ہو تو نیند اس کے پاس کیسے  آسکتی ہے بھلا۔

’’اسٹوری، ایکشن، میوزک، گانے، ایکٹنگ۔۔۔۔سبھی کچھ تو اچھا ہے، سیکس بھی ہے، سسپینس بھی ہے اور  آئٹم سانگ بھی ہے۔۔۔ ایک چھوڑ دو دو آئٹم سانگ ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ اب آخر ایسی کیا کمی رہ گئی ہے بجلی میں کہ اس میں بقول ماموں کے کرنٹ نہیں ہے۔‘‘

’’ اور بجلی۔۔ ۔۔۔۔ کیا کمال کی اداکاری کی ہے اس نے۔۔ ۔۔۔۔ مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا

۔۔ ۔۔۔۔اچھا ہی ہوا کہ گڑیا شادی کر کے امریکہ چلی گئی اور اس کی جگہ بجلی کو لینے کا فیصلہ لیا گیا۔‘‘بجلی پہلی بار کسی بڑی فلم میں ایکٹنگ کر رہی تھی۔

ماں کے ہاتھ کے گرم گرم پکوڑے کھا کر اسے عجیب سی خوشی کا احساس ہوا۔۔۔۔’’ کتنی اچھی ہیں میری ماں۔ کتنا خیال رکھتی ہیں میرا۔‘‘وہ زیر لب بڑبڑایا۔

ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتے ہوئے ذہن کی رفتار ذرا دھیمی ہوئی تو نیند کی دیوی  آ دھمکی اور اسے اپنی نرم کشادہ باہوں میں بھر لیا۔

’’ نہیں چلے گی۔۔۔۔ نہیں چلے گی۔۔ ۔۔۔۔۔بیجاپور میں بجلی نہیں چلے گی۔۔۔۔‘‘

ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا اور بجلی کی سی سرعت سے بالکنی کی طرف لپکا۔

 اس کے بنگلے کے ٹھیک سامنے مین چوک پر لوگوں کا ہجوم تھا، ان کے ہاتھوں میں طرح طرح کے پلے کارڈ تھے اور منہ میں عجیب و غریب سلوگنز۔۔ ۔۔۔۔۔۔ سب لوگ زور زور سے ہاتھ ہلا رہے تھے اور بلند آواز سے نعرے لگا رہے تھے۔

ایک کھدر پوش نیتا مائک ہاتھ میں لئے اعلان کر رہا تھا۔ توہین آمیز فلمیں مزید برداشت نہیں کی جائیں گی۔اس کے اردگرد کچھ مذہبی لوگ اس کی تائید کر رہے تھے۔

اسی اثنا میں ایک نوجوان نے نعرہ لگایا۔

’’ نہیں چلے گی۔۔۔۔ نہیں چلے گی۔۔۔۔‘‘ اور ہجوم میں شامل تمام لوگ چلا نے لگے۔’’۔۔۔بیجاپور میں بجلی نہیں چلے گی۔۔ ۔۔۔بیجاپور میں بجلی نہیں چلے گی۔۔۔۔‘‘ درودیورا لرز گئے اور بجلی سپلائی کے تار جھنجھنا اٹھے۔

 ایک نوجوان لوگوں کے گول دائرے کے بیچ آیا۔ اس کے ہاتھ میں ’بجلی‘ کا بڑا سا پوسٹر تھا۔ نوجوان بہت پرجوش معلوم ہو رہا تھا اس نے ایک ہاتھ سے پوسٹر اوپر اٹھایا اور دوسرے

ہاتھ سے لائٹر جلا کر پوسٹر کے ایک کونے کو آگ لگا دی۔ جیسے ہی پوسٹر کو آگ لگی لوگوں کا جوش و خروش دونا ہو گیا اور وہ زور زور سے چیخنے چلانے لگے۔اس کے بدن میں جھرجھری پیدا ہوئی، جلد ہی اس نے خطرے کی بو محسوس کر لی۔۔۔۔اور پلک جھپکنے کے وقت میں وہ کسی محفوظ مقام پر روپوش ہو چکا تھا۔

’’ٹرن، ٹرن۔۔۔ ٹرن، ٹرن ‘‘ عین اسی لمحے فون سنسان کمرے میں پوری طاقت سے چیخ اٹھا۔ اس نے گھبرا کر آنکھ کھولی اور غنودگی کے عالم میں رسیور اٹھایا۔

’’سمجھ گیا۔۔ ۔۔۔۔پوری طرح سمجھ گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ ارے، ارے۔۔ ۔۔۔یہ کیا بک رہے ہو۔۔۔ سو رہے ہو کیا۔۔ ۔۔۔۔۔یا بجلی کے پیار میں دیوانے ہو گئے ہو۔‘‘

’’اوہو ! تم ہو۔۔ ۔۔۔۔۔آخر تمہیں فرصت مل ہی گئی اس موٹے سے۔۔۔خوب ستاتا ہو گانا تمہیں وہ۔۔ ۔۔۔تمہاری شادی کیا ہوئی کہ تم تو دنیا جہان سے غافل ہو گئیں۔‘‘

شادی ہوتے ہی موہن شرما کو جانے کیا ہوا کہ وہ محض تین چار ماہ کے اندر ہی پھول کر کپا ہو گئے۔اور وہ اسی باعث نزہت کپور کو جو اب نزہت شرما کے نام سے پہچانی جاتی تھی اکثر چڑھایا کرتا تھا۔

’’ان کی بات چھوڑو۔۔ ۔۔۔۔۔ یہ بتاؤ، یہ تم کیا بک رہے تھے، سمجھ گیا سمجھ گیا۔‘‘

’’ارے۔ کچھ نہیں۔۔۔ میں سمجھا کہ تمہارے ڈیڈی کا فون ہے ‘‘ پھر ادھر ادھر کی بات کر کے جلدی سے رسیور رکھا اور فریش ہونے کے لیے باتھ روم کی طرف دوڑ پڑا۔ اس نے ایک بار پھر اپنا سراپا قد آدم آئینے میں دیکھا وہ ڈرا ہوا سا لگ رہا تھا۔

’’اوہ، شٹ۔۔ ۔۔۔ کتنا بھیانک خواب تھا۔۔ ۔۔۔یقیناً میں تو ڈر ہی گیا تھا۔‘‘ وہ اپنے  آپ سے مخاطب تھا۔مگر معاً بعد اس کے چہرے پر اطمینان کی پرچھائیاں نمایاں ہو گئیں۔جیسے اسے کچھ مل گیا یا کوئی انوکھا آئیڈیا اس کے دماغ میں  آیا ہو۔

’’اب سمجھا میں ترے رخسار پہ تل کا مطلب‘‘ اس کے من میں عجیب سی سرمستی سما رہی تھی۔

اس نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اپنے تمام فلمی معاونین کو خاص ہدایات دیں اور امریکہ کے لیے روانہ ہو گیا۔

اور خدا کی شان میں چند نازیبا کلمات پر مبنی کلپس کا اضافہ کر دیا گیا۔

 اس کی ہدایت کے مطابق اس کے غائبانے میں بجلی رلیز ہوئی اور دیکھتے دیکھتے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں چوراہوں پر وہی منظر ابھر آیا جو اس نے خواب میں دیکھا تھا۔جیسے خواب خود جاگ اٹھا ہو اور رونمائی کے شوق میں خواب کا چوغہ اتار کر لباسِ حقیقت زیب تن کر لیا ہو۔

’’ نہیں چلے گی۔۔۔۔ نہیں چلے گی۔۔ ۔۔۔۔۔بیجاپور میں بجلی نہیں چلے گی۔۔۔۔‘‘

لوگ حکومت سے فلم ہٹانے کی مانگ کر رہے تھے۔ ایک دو سنیما میں توڑ پھوڑ کے واقعات بھی ہوئے تھے۔لوگوں کا الزام تھا کہ’ بجلی‘ میں مبینہ طور پر مذہب مخالف کلپس شامل کی گئی ہیں۔ اس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔خدا کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے۔

حکومت کی نظر آنے والے انتخابات پر تھی۔ اس لیے اس نے فلم پر پابندی بھی نہیں لگائی اور احتجاج کرنے والوں کی ہم نوا بھی بنی رہی۔

وہ ابھی تک امریکہ میں ہی تھا اور میڈیا کی اپڈیٹس کے ذریعہ پل پل بدلتے حالات پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے تھا مگر اس بار اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے بجائے خوشیوں کے سائے رقصاں تھے۔

ادھر احتجاج کی گھن گرج جاری تھی اور ادھر فلم نے باکس آفس پر دھمال مچا رکھا تا۔

باکس آفس پر بجلی کی کامیابی اور پہلے ہفتہ کی کروڑوں کی کمائی دیکھ کر اس کی  آنکھوں سے خوشیوں کے  آنسو چھلک اٹھے۔ اور وہ احساس تشکر کے زیر اثر خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا۔

’’اے خدا تو کتنا مہربان ہے۔۔ ۔۔۔یقیناً تو دلوں کا حال جانتا ہے۔۔ ۔۔۔۔ تجھے معلوم ہے کہ میرے دل میں تیرے لیے کتنی عزت ہے۔۔ ۔۔۔ اے دلوں کا حال جاننے والے خدا مجھے معاف کر دے۔۔۔‘‘

مگر یہ کیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔یکایک ایک حسرت اس کے دل کی گہرائیوں سے کہیں سے نمودار ہوئی اور اس کی  آنکھوں میں جھلملاتے ستاروں کے عقب سے نمکین پانی پھوٹنے لگا۔وہ اداس ہو گیا۔

وہ جن کی ہدایات و رہنمائی نے اسے شہرتوں کی بلندیوں تک پہونچایا تھا اس کی شہرتیں دیکھ کر خوش ہونے کے لیے اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔

’’ اے کاش ! ماموں کچھ اور جئے ہوتے۔ کم از کم میں انہیں یہ تو بتا پاتا کہ میں نے ان کا اشارہ سمجھنے میں غلطی نہیں کی تھی۔‘‘

اس نے سجدے سے سر اٹھایا اور  آرام کرسی پر جا بیٹھا۔

٭٭٭