کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

رہینِ ستم ہائے روزگار

الیاس ندوی رام پوری


’’دنیا وی عذاب کی دو ہی بڑی قسمیں ہیں۔ایک نوکر ہونا اور دوسرے کرائے دار ہونا۔‘‘

گزرے وقت میں جب کسی انسان کی  آزمائش مطلوب ہوتی تھی تو اسے میدانِ جہاد میں پکارا جاتا تھا۔مگر بعد کے دور میں جب شرعی جہاد مفقود ہو گیا تو اِسی پر اکتفا کیا جانے لگا کہ اسے نوکر یا پھر کرایہ دار بنا یا جانے لگا۔اگر کسی کی سخت آزمائش درکار ہوئی تو اسے بیک وقت نوکر اور کرایہ دار بنا دیا جاتا۔اب آخر لوگوں میں اتنا حوصلہ بھی کہاں کہ انہیں پیغمبروں جیسے حالات سے  آزمایا جائے کہ اب نہ کوئی خلیلؑ ہے اور نہ کوئی اسماعیلؑ۔

فیض بھی ایک ایسا ہی شخص تھا جس کو اللہ نے ایسی ہی ایک آزمائش کے لئے چن لیا تھا۔اسی لئے اس کی یہ سوچ بن گئی تھی کہ اس کی یہ دونوں حیثیتیں کسی عذاب سے کم نہیں۔حالانکہ وہ اس بات سے واقف تھا کہ آزمائشیں عذاب کی مختلف شکلیں نہیں، وہ تو انسان کے درجات بلند کرتی ہیں۔

فیض ایک غیر سرکاری ادارے میں ملازم تھا اور کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔اب وہ عمر کی اس منزل پر تھا کہ زندگی کی کُنھ سے مکمل واقفیت کی قسم کھا سکتا تھا۔مگر جب زندگی ہر بار ایک الگ رنگ و روپ میں اچانک اس کے سامنے  آ کر کھڑی ہوتی تو اسے لگتا کہ وہ ابلۂ محض ہے اور وہ ابھی اس کی ابجد سے بھی واقف نہیں، کُنھ تو بڑی چیز ہے۔اس وقت اسے محسوس ہوتا کہ زندگی اسے بھوت بن کر لپٹ گئی ہے اور جیتے جی اس سے چھٹکارا ملنے والا نہیں۔اسے لگتا کہ وہ اپنے علم اور تجربات میں جتنا زیادہ پختہ ہوتا جا رہا ہے اور زندگی سے لڑنے کی اس کی قوت و صلاحیت میں جس قدر اضافہ ہو رہا ہے زندگی بھی اسی اعتبار سے اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہے اور اس کو مات دینے کے نئے نئے پینترے  آزما رہی ہے۔

کچھ ایسا ہی اس بار بھی ہوا جب وہ نوکری کے منہ پر لات مار کر گھر پہونچا اور اس نے زندگی کو ایک نئے لباس میں دیکھا۔ نیلے، ارغوانی رنگ کے چست اور باریک لباس میں۔

آدمی کی اوسط عمر اگر تین برابر حصوں میں تقسیم کی جائے تو حاصلِ تقسیم بیس نکلتا ہے۔یعنی زندگی بیس بیس سال پر مشتمل تین برابر حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ پہلا ایک تا بیس۔دوسرا بیس تا چالیس اور تیسرا چالیس تا ساٹھ۔ان میں سب زیادہ قیمتی درمیانی حصہ ہے۔یہ گویا حاصلِ زندگی ہے۔ زندگی کے اس وسطی دور میں  آدمی کی عقل پختہ ہوتی ہے، جسم میں طاقت ہوتی ہے اور وہ عزائم سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس نے زندگی کے یہی بیس سال نوکری پر نچھاور کر دئے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ کسی کے لیے جان دینے سے زیادہ اہم ہے۔اس کے باوجود اسے کبھی یہ خیال نہیں گزرا کہ اس نے ادارے پر کوئی احسان کیا ہے بلکہ الٹا یہ خیال سائے کی طرح اس کے ساتھ لگا رہا کہ بھائی نے نوکری دے کر اس پر اور اس کے پورے خاندان پر احسان کیا ہے۔ یہ وہ چھوٹی سی نوکری ہی تھی جس کے بوتے پر وہ زندگی کے ناقابلِ شکست بھوت سے جنگ لڑ رہا تھا، ایک پورے خاندان کی زندگیاں اس چھوٹی سی نوکری کی نوک پر رکھی ہوئی تھیں۔ اگر وہ نوک ذرا بھی ہلتی تو خاندان کے تمام افراد کے جسم لہو لہان ہو جاتے۔اس نے بچپن میں سنا تھا کہ دنیا ایک مافوق الفطرت بیل کے سینگ پر ٹکی ہوئی ہے۔ جب وہ سینگ ہلاتا ہے تو زمین لرز جاتی ہے اور لوگ زلزلے کے جھٹکے محسوس کرتے ہیں۔اسے اپنا خاندان بھی نوکری کے سینگ پر ٹکا ہوا محسوس ہوتا۔جب کبھی اس سے کوئی غلطی ہو جاتی، وہ آفس پہنچنے میں دیر کر دیتا تو وہ بڑی پریشانی محسوس کرتا جیسے اس کے پھیپڑوں کا نظام فیل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔اسے لگتا جیسے ابھی بیل کو کھجلی لگے گی، وہ مضطرب ہو کر کھجائے گا، سینگ ہلیں گے اور سینکڑوں بے گناہ لوگ زلزلوں میں مارے جائیں گے۔وہ سہم کر رہ جاتا۔

جب وہ گھر کا بڑا فرد تھا تو اس کا فرض تھا کہ زندگی کی جس گاڑی میں وہ جتا ہوا ہے اس پر اپنے پورے خاندان کو سوار کرے کیونکہ بچپن میں وہ بھی ایک ایسی ہی بنا پہیّوں کی گاڑی میں سوار تھا جس میں اس کے ماں باپ جتے ہوئے تھے اور پھر بڑھاپے میں اس کو ایک بار پھر ایسی گاڑی میں سوار ہونا ہے جس میں اس کے بچے جتے ہوئے ہوں گے۔زندگی کی گاڑی میں گھر والوں کو سوار کرنا قرض اتارنے جیسا عمل تھا اور قرض اتارنا ضروری تھا۔ اور یہ نوکری ہی تھی جو اسے اس لائق بنا رہی تھی کہ وہ قرض اتار پائے۔ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا ہے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا کہ لوگ ایک دوسرے کا قرض اتارنے کے لیے زندگی کی اس گاڑی میں جتتے اور سوار ہوتے رہیں گے۔ اور زندگی کی یہ گاڑی اسی طرح لشتم پشتم آگے بڑھتی رہے گی۔یہاں تک کہ قیامت واقع ہو گی اور وہ اپنے تمام تر لاؤ لشکر کے ساتھ گدلے پانی میں ڈوب جائے گی۔

’’فیض‘‘  احساسات سے عاری، سرد اور لے دار، بھائی کی  آواز اس کے کانوں سے ٹکراتی۔

’’ جی سر‘‘ اور ساتھ ہی اس کے لبوں سے مضطرب، ردیف آواز ابھرتی۔

عبدالغفور محلے میں با اثر آدمی تھے، کئی شہروں میں ان کا بزنس پھیلا ہوا تھا، بیسیوں  آدمی ان کے یہاں ملازم تھے۔ وہ ان میں انتہائی محبوب تھے اور اسی لیے سب انہیں بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔پہلے اِکا دُکا چاپلوس قسم کے ملازموں نے انہیں بھائی کہنا شروع کیا اور پھر رفتہ رفتہ سارے ملازم بھائی کہنے لگے۔یہاں تک کہ اب وہ محلے میں بھی اسی نام سے جانے جاتے تھے۔

جب بھائی اسے  آواز دیتے تو وہ بنا ایک سیکنڈ کی تاخیر کے ’’جی سر‘‘ کہتا اور بجلی کی سی سرعت کے ساتھ ان کے سامنے جا کھڑا ہوتا۔جیسے وہ کوئی انسان نہ ہو بلکہ روبوٹ ہو۔بھائی کے علاوہ دنیا کے کسی بھی انسان کی  آواز میں اتنی کشش نہیں تھی۔دوسرا کوئی بھی اسے پکارتا تو وہ اپنی سہولت سے اس کا جواب دیتا مگر بھائی کی  آواز کے ساتھ ایسا کوئی  آپشن نہیں تھا۔بھائی کی  آواز ڈوبنے سے پہلے اس کی  آواز فضا میں بکھر جاتی تھی۔اور اس سے پہلے کہ اس کی  آواز بھائی کی سماعتوں سے ٹکرائے وہ مجسم وجود کے ساتھ ان کے سامنے جا کھڑا ہوتا۔ماں باپ جنہوں نے اپنے خون اور پسینے سے اس کو پال پوس کر بڑا کیا تھا اس نے ان کی  آواز میں بھی اتنی کشش محسوس نہیں کی تھی۔جب کہ ان کی  آواز محبت اور اپنائیت کے گرم جذبات سے بھری ہوتی تھی۔جس طرح بکری کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں۔جب وہ جنگل سے لوٹتی ہے۔وہ اس کے لیے کبھی بھی مضطرب نہیں ہوا اور اس نے ان کی  آواز ڈوبنے کبھی کچھ پروا نہیں کی۔

’’بیٹا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔فیض۔۔۔۔‘‘  ایک تھرتھراتی ہوئی  آواز گھر کے ایک گوشے سے ابھرتی۔

’’فیض۔۔۔بیٹا۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘  آواز پھر سے ابھرتی۔

’’۔۔ ۔۔۔۔۔ارے فیض بیٹا۔۔ ۔۔۔ نہیں ہے کیا۔۔؟کب سے  آواز دے رہا ہوں۔۔‘‘  آواز گھر کی امس زدہ فضا میں تھرتھراتی رہتی اور وہ بدستور بچوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مگن رہتا۔اور اپنے کانوں کے پردوں کے ارتعاش کو نظرانداز کرتا رہتا۔

’’فیض۔۔ ۔۔۔سنتے کیوں نہیں۔ تمہارے ابو کب سے چلا رہے ہیں ‘‘ دفعتاً عقب سے اس کی امی کی کڑک دار آواز گونجتی۔

’’جی ابو! آیا ابھی۔۔۔ وہ۔۔۔۔‘‘   وہ عذر کرنا چاہتا مگر خاموش ہو جاتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عذرِ گناہ بد تر از گناہ۔

کتنا فرق تھا بھائی کی اور اس کے والد عبدالرحمان کی  آواز میں۔اور مزے کی بات تو یہ تھی کہ یہ فرق اس نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا تھا۔بھائی کی  آواز پر لبیک کہنے پر اگر ذرا سی تاخیر ہو جاتی تو وہ انہیں سوری کہنا نہ بھولتا۔اگر اس تاخیر پر بھائی کی ابروؤں میں ذرا سا خم آ جاتا تو وہ عذرخواہی پر اتر آتا۔وہ نہ صرف ان کے اشاروں کو سمجھتا تھا بلکہ وہ ان کے مزاج اور نفسیات سے بھی پوری طرح واقف ہو چکا تھا۔ بھائی کے ابروؤں کے بے شمار زاویے اس کے ذہن کے پردے پر نقش ہو چکے تھے اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ کونسا زاویہ کونسے خاص اشارے کے لئے خاص ہے۔

’’جی سر‘‘ یہ وہ چار حرفی مختصر جملہ تھا جو اس نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ بولا تھا۔ یہ جملہ اس کی زبان پر کچھ اس طرح چڑھ گیا تھا کہ کئی بار چھوٹے بچوں اور معمولی لوگوں کے لیے بھی بے اختیار اسی جملے کا استعمال کر جاتا اور معاً بعد اسے اپنی حماقت پر ہنسی  آ جاتی۔’’چلو اس منحوس جملے سے تو نجات ملی‘‘ اس نے سوچا، سگرٹ سلگایا اور دل میں یہ عہد کیا کہ وہ آئندہ کسی خاں کے لیے بھی ’’جی سر ‘‘ نہیں بولے گا۔چاہے وہ کسی منسٹر سے ہی مخاطب کیوں نہ ہو۔

’’نوکری کی زندگی دراصل غلامی کے زندگی کا نیا ایڈیشن ہے۔ اس کے سوا کچھ اور نہیں۔‘‘ کالی سڑک پر تیز دوڑتی ہوئی گاڑی اسے گھر کی طرف اڑائے لئے جاری تھی۔

اس نے سگرٹ کا ایک کش لیا، ساتھ ہی گاڑی کی رفتار تیز کی۔ وہ جلد از جلد گھر پہونچ جانا چاہتا تھا۔سگرٹ کا دھواں دھیرے دھیرے تیز رفتار گاڑی کے اندر کے گرم ماحول میں تحلیل ہو رہا تھا اور اس کے دماغ کی چمنی سے بلند ہوتا ہواخیالات کا دھواں سوچ کے تاروں میں ارتعاش پیدا کر رہا تھا۔

’’نوکری میں انسان کی صلاحیتیں محدود ہو جاتی ہیں، کیونکہ اسے محدود کام ملا ہوتا ہے۔اس کے خیالات سکڑ جاتے ہیں کیونکہ اس کے تجربات محدود ہو جاتے ہیں۔یہ بھی کوئی زندگی ہے۔نہ لذت نہ حسرتِ لذت۔آخر ایسی زندگی میں کیا خاک لذت ہو سکتی ہے جس کا بیشتر حصہ ’’جی سر۔۔۔۔جی سر‘‘ کرتے گزر جائے۔انسان کا اپنا بزنس ہوتا ہے تو آدمی کم از کم اپنی مرضی کا مالک تو ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے کہیں بھی  آ، جا سکتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے کام کر سکتا ہے اور اپنی مرضی سے  آرام کر سکتا ہے۔ ایک تو خدا نے ہی پورا اختیار کب دیا تھا اور جو دیا تھا وہ بھائیوں نے چھین لیا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔‘‘ اس کے ذہن کے دریچے میں جمع خیالات کا بے ترتیب دھواں بے صوتی مگر با معنیٰ لفظوں میں ڈھلتا رہا۔ خود کلامی اس کی عادت نہیں تھی مگر اس وقت وہ جس طرح کی ذہنی کیفیت سے دوچار تھا وہ اسے خود کلامی پر اکسائے جا رہی تھی۔

’’ٹررررن۔۔ ۔۔۔۔۔۔ٹرررررن۔۔ ۔۔۔۔۔۔ٹررررن۔۔ ۔۔۔‘‘اچانک فون بج اٹھا۔

’’ہیلو۔۔ ۔۔۔۔‘‘

’’کیا میں فیض صاحب سے بات کر رہا ہوں۔۔‘‘  دوسری طرف کوئی اجنبی تھا۔

’’جی سر۔۔ ۔۔۔۔۔۔بول رہا ہوں۔۔ بتائیں کیا کام ہے ‘‘

’’اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ سے جاننا چاہ رہا تھا کہ آپ جاب کرتے ہیں۔۔۔یا پھر کوئی بزنس وزنس ہے  آپ کا۔۔ ۔۔۔دراصل  آپ کو ایل  آئی سی کی نئی پالیسی کے بارے میں بتانا چاہ رہا تھا۔۔ ۔۔۔‘‘ اجنبی  آواز میں بلا کا اعتماد تھا۔مگر بولنے والا کسی انجانے خوف کی وجہ سے جلدی جلدی بول رہا تھا۔شاید اسے خوف تھا کہ فون ڈسکنکٹ نہ کر دیا جائے۔ابھی اس کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسے اپنا عہد یاد آ گیا۔’’ وہ آئندہ کسی خاں کے لیے بھی ’’جی سر‘‘ نہیں بولے گا‘‘۔اس پر ایک دم سے جھنجلاہٹ طاری ہو گئی۔اس نے چند ناشائستہ الفاظ کہے اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔

’’آج مالکن آئی تھی، کرایہ بڑھانے کہہ رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔کہہ رہی تھی کہ اگلے ماہ سے پانچ سو بڑھا کر دینا‘‘ اس کی بیوی نے ڈرائی فروٹ کی ٹرے اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔

وہ دل برداشتہ ہو گیا۔ملازمت کی دنیا ایک الگ دنیا تھی اور گھر کی دنیا ایک الگ دنیا۔وہاں الگ طرح کے مسائل تھے اور یہاں بالکل دوسری طرح کی الجھنیں۔وہ آج رات آرام سے سونا چاہتا تھا۔ آج اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا رسک لیا تھا۔ آج وہ ایسا ہی کچھ محسوس کر رہا تھا جیسا کوئی گدھا اپنا بوجھ گرانے کے بعد محسوس کرتا ہے۔آخر اس نے بھی تو اپنے سر سے ایک بوجھ اتار پھینکا تھا جسے وہ گزشتہ بیس سالوں سے ڈھو رہا تھا۔اس نے بیس سال کی عمر میں بھائی کے یہاں نوکری شروع کی تھی اور اتفاق سے  آج اس کی چالیسویں سالگرہ تھی۔ وہ سالگرہ منانے کا عادہ نہیں تھا۔ مگر جب راستے میں اسے سالگرہ کا خیال  آیا تو اس نے خود سے مخاطب ہو کر کہا تھا۔’’فیض ! زندگی میں پہلی بار آج ہم تمہیں سالگرہ کا خاص تحفہ دے رہے ہیں۔لو؛ آج تمہیں ملازمت کی بھاری  آہنی زنجیروں سے  آزاد کرتے ہیں۔جاؤ پھلو پھولو۔۔۔خوش رہو۔۔۔ آباد رہو‘‘ اسے یاد آیا کہ اپنے  آپ کو اس طرح مخاطب کرنے کے بعد وہ عجیب طرح کی ترنگ سے بھر گیا تھا، اس کی رگوں میں خون کی گردش تیز ہو گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔ اسی ترنگ کے زور کے زیر اثر اس نے سگریٹ کے باقی ماندہ ٹکڑے کو ایک دم فلمی انداز میں چٹکی بجاتے ہوئے باہر پھینکا تھا۔ جلتا ہوا سگریٹ سفیدے کے موٹے تنے سے ٹکرایا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اسے اپنے اس مصنوعی ایکشن پر خوشگوار حیرت ہوئی تھی مگر پھر دوسرے لمحے اسے یہ خیال ستانے لگا تھا کہ کہیں سوکھے پتوں میں  آگ نہ لگ جائے۔ سفیدے کے سوکھے پتے کروسین کی طرح بھک سے جل اٹھتے ہیں۔وہ یقیناً ڈر گیا تھا۔

’’اور کیا کہہ رہی تھی۔۔۔‘‘ اس نے خود کو خیالات کے تیز دھارے کی ضرب سے بچانے کی کوشش میں سوال کیا۔

’’۔۔ ۔۔۔۔۔اور کہہ رہی تھی۔۔بچوں کو دروازوں اور دیواروں پر پینسل اور کلر چلانے سے روکا کرو۔‘‘

’’میں تو ہر وقت ڈانٹی رہتی ہوں۔ عاجز آ گئی میں تو۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ تم نے بچے ہی ایسے پیدا کئے ہیں، ساری دنیا سے نرالے۔‘‘

وہ اس آخری بات پر ہنس دیا۔۔ ۔۔۔۔مگر یہ ہنسی زیادہ دیر نہ رہ سکی کیونکہ وہ ایک بار پھر خیالات کی تیز رو کی پیہم ضربوں کا شکار ہو چکا تھا۔

’’تنخواہ کچھوے کی رفتار سے بڑھتی ہے اور کرایہ پیٹرول کی قیمتوں کی رفتار سے۔۔۔یہ کیسی بوالعجبی ہے۔۔۔۔جو چیز وہ دنیا سے لیتا ہے اس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے اور جو کچھ وہ دنیا کو دیتا ہے وہ کوڑیوں کے مول جاتی ہے۔آخر دنیا اس قدر نیرنگی کیوں واقع ہوئی ہے۔وہ جتنا زیادہ سوچتا اتنا ہی اور الجھتا جاتا۔۔ ۔۔۔۔۔۔اُدھر ملازمت میں کام ایڈوانس میں کرنا ہوتا ہے اور محنتانہ بعد میں ملتا ہے اور اِدھر گھر کا کرایہ پیشگی دینا ہوتا ہے اور اس سے استفادہ کا موقع بعد میں حاصل ہوتا ہے۔اُدھر بھائی یہ دلیل دیتے ہیں کہ کیا پتہ آپ پیسے لے کر بھاگ جاؤ اور اِدھر بھی یہی دلیل کام کرتی ہے کہ کیا پتہ آپ کرایہ دئے بغیر گھر خالی کر کے راتوں رات بھاگ جاؤ۔کیسی ہے یہ دنیا۔۔چت بھی اس کی پٹ بھی اس کی۔۔۔نوکر ہونا ایک طرح کا عذاب ہے اور کرائے دار ہونا دوسری طرح کا عذاب۔۔ ۔۔۔سچ مچ؛ ایسی زندگی عذاب سے کم نہیں۔‘‘

’’۔۔۔اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ رہی تھی۔۔ ۔۔۔مجھے تو اس موٹی کی صورت سے ہی نفرت ہو گئی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔اور کہہ رہی تھی کہ آپ کے بچے زیادہ ہیں۔۔۔ہم زیادہ بچوں والوں کو کرائے پر نہیں رکھتے، تمہیں اپنی طرف کا ہونے کی وجہ سے رکھ لیا۔۔۔مگر تم نے اس کی بھی پرواہ نہیں کی۔۔۔۔برباد کر کے رکھ دیا سارا گھر۔۔۔ابھی تو رنگ و روغن کروایا تھا۔۔۔۔ اپنی چیز ہو تو درد بھی ہو۔۔ ۔۔۔ مالِ مفت دلِ بے رحم۔۔ ۔۔۔ پتہ نہیں کیا کیا بک رہی تھی۔۔۔دل تو چاہ رہا تھا کہ ترکی بہ ترکی جواب دوں۔۔۔کیا ہم مفت رہ رہے ہیں یہاں۔اور ان کا منہ ہے ایسا کہ یہ کسی کو مفت میں رکھ لیں گے۔۔ موٹی کہیں کی۔۔‘‘  بیوی اپنی رو میں بولے جا رہی تھی اور وہ اپنے خیالات کی منجھداروں سے لڑ رہا تھا۔

’’سر! آج مجھے چھٹی چاہئے۔۔‘‘  اس کے ذہن کے پردے پر ماضی کی سرگزشت فلم کی طرح چلنے لگی۔

’’کیوں۔۔ابھی پچھلے ہفتہ ہی تو چھٹی کی تھی تم نے۔۔‘‘

اسے جب بھی کسی کام سے چھٹی لینی ہوتی تو وہ عجیب سے مخمصے میں گرفتار ہو جاتا، گھنٹوں تک چھٹی لینے یا نہ لینے کی تشویش میں مبتلا رہتا، موقع و محل کی نزاکتوں پر غور کرتا، بھائی کا موڈ پہچاننے کی کوشش کرتا۔ مگر وہ ایک انجانے خوف سے ڈر جاتا، بھائی کے کالے موٹے ہونٹوں سے نکلنے والی ایک زہریلی ’’کیوں ‘‘اس کے کانوں میں مدھو مکھی کی طرح بھنبھنانے لگ جاتی۔اور وہ چھٹی مانگے کے خیال کو ترک کرنے کی کوشش کرتا، کئی طرح کے متبادلات پر غور کرتا کہ چھٹی کئے بغیر ہی کسی طرح کام نکل جائے مگر جب اسے لگتا کہ چھٹی کے بغیر چارہ نہیں تو وہ ایک بار پھر خود کو اس کے لیے تیار کرتا، اپنی پوری طاقت جمع کرتا، سانس روکتا اور دبے دبے لفظوں اور سہمے ہوئے لہجے میں ایک جملہ بھائی کی سماعتوں کی طرف اچھال دیتا۔

’’سر!  آج مجھے چھٹی چاہئے۔۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔۔۔‘‘ بھائی کی بجھی بجھی اور روکھی پھیکی  آواز اس کے رگ و ریشے میں تازگی کی لہر دوڑا دیتی۔کبھی کبھار جب اسے اتنی  آسانی سے چھٹی مل جاتی تو اسے لگتا جیسے کوئی بہت بھاری بوجھ اس کے سر سے اتر گیا ہے۔اور وہ خوامخواہ پریشانی میں مبتلا تھا۔

’’نازش۔۔ ۔۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔۔گندی بات، چلو ادھر آؤ۔‘‘اس نے خفگی کے انداز میں بیٹے کو پکارا۔ اس طرح اس کے ذہن کے پردے پر چلتی ہوئی فلم تھوڑی دیر کے لیے رک گئی۔نازش دروازے پر پڑوسی بچوں سے لڑ رہا تھا۔بچوں کے لڑنے جھگڑنے کی  آواز نے اسے چونکا دیا تھا۔

جب وہ گھر میں ہوتا تو بیوی بچوں کو ہدایات دیتا رہتا۔ ایسا کر لو، ویسا کر لو، تو تم نے ان کو منع کر دیا ہوتا کہ ہم شادی میں شرکت نہیں کر سکتے۔کبھی ماں باپ سے مخاطب ہوتا۔ کھانا وقت پر کھایا کریں، زیادہ دیر ٹی وی کے سامنے نہ بیٹھا کریں۔ جب وہ گھر پر ہوتا تو ہدایات دیتا اور ان پر عمل کروانے کی کوشش کرتا اور جب آفس میں ہوتا تو ہدایات سنتا اور ان کے مطابق عمل کرتا۔کس قدر متضاد شخصیتوں کا مالک تھا وہ۔ وہ ان دونوں میں فرق رکھنے کی شعوری کوشش کرتا اور اس کوشش میں اس کی رگِ جاں کے تمام تاروں میں ارتعاش پیدا ہو جا تا اور اس کی حالت ایسی ہو جاتی جیسے اسے نچوڑ دیا گیا ہو۔کبھی کبھی اس کا الٹ ہو جا تا تو آفس میں اپنے ساتھیوں پر ہدایات جاری کرنے لگ جاتا، بھائی کو مشورے دینے لگ جاتا۔ سر! ایسا کر لیں، سر! ویسا نہ کریں۔ اس کے بر عکس جب گھر پراس سے کام کے لیے کہا جاتا تو وہ روبوٹ بن جاتا اور گدھوں کی طرح کام میں جٹ جاتا، اس پر ہدایات سننے اور ان پر عمل کرنے والی حالت طاری رہتی اور اس میں اسے سکون سا محسوس ہوتا مگر جب اسے خیال  آتا کہ وہ آفس میں نہیں گھر میں ہے تو وہ جھلا اٹھتا۔اسے لگتا کہ وہ آج گھر میں بھی نوکر کی حیثیت میں ہے۔

اسے گھر آئے ہوئے  آٹھ دس منٹ ہی ہوئے تھے، ابھی وہ خیالات کے شدید دباؤ سے باہر نہیں نکلا تھا، بلکہ بیوی کی زبانی مالکن کی شکایات سن کر اس کے ذہنی تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

’’ استعفیٰ دینے کے باوجود بھی نوکری کا خیال میرے ذہن پر کیوں چھایا ہوا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔نہیں اب ایسا نہیں ہونا چاہئیے اب تو میں نوکری کے جنجال سے باہر آ گیا ہوں۔۔‘‘

اسے ایک دم جیسے جھٹکا لگا، وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، ایک دو گھونٹ پانی لیا۔۔۔پھر دوبارہ اسی پوزیشن میں چلا گیا اور کچھ دیر صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے  آنکھیں موندے بیٹھا رہا۔۔جب قدرے افاقہ ہوا تو نوکری کے منہ پر لات مارنے کے اپنے فیصلے سے ماں باپ اور بیوی بچوں کو آگاہ کرنے کا عزم اپنے دل میں پختہ کیا۔پھر اس نے  آنکھیں کھول دیں۔۔ ۔۔۔مگر اس بار دنیا کا ایک الگ روپ اس کے سامنے تھا۔۔۔۔تعجب ہے دنیا اتنی جلدی اپنا چولا بدل لیتی ہے۔

 نیلم دوسرے کمرے سے نمودار ہوئی، اس نے نیلے اور ارغوانی رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ہونٹوں پر شوخ رنگ کی لپ اسٹک، آنکھوں میں کاجل، بغل میں پرس اور پیروں میں چوٹی کے رنگ سے میچ کرتی ہوئی اونچی ہلز کی جوتیاں۔ کپڑے اتنے زیادہ باریک اور چست تھے کہ ایک ذرا سی غیر محتاط حرکت سے پھٹ سکتے تھے۔اس نے نیلم کا یہ حُلیہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ عید اور شادی بیاہ کے موقع پر بھی نہیں۔اس نے نگاہ ہٹالی۔غیرت کی ایک اوڑھنی اس کی  آنکھوں پر چھا گئی۔

وہ نیلم کو اور اس کے حلیے کو نظر انداز کرنا چاہتا تھا پر پتہ نہیں کیوں اس کا ذہن بیک اینڈ میں چلا گیا۔

’’پاپا۔۔ ۔۔۔ میں جاب کرنا چاہتی ہوں۔ یہاں گھر پر تنہا پڑے پڑے میرا دم گھٹتا ہے۔میری سہیلی کہہ رہی تھی کہ کال سینٹر میں مجھے  آسانی سے جاب مل جائے گی۔‘‘

’’بیٹا ! جیسی تمہاری مرضی۔۔۔۔مگر جس منحوس چیز سے میں چھٹکا را پانا چاہتا ہوں تم اسی کو حاصل کرنا چاہتی ہو۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔میں اپنے بیس سال کے تجربے کی روشنی میں بات کر رہا ہوں۔۔ ۔۔۔۔۔۔تم سمجھ رہی ہو نا۔۔۔نوکری کرنے سے اچھا ہے کہ آدمی کولہو کے بیل کی جگہ جُت جائے۔۔۔۔کتنی عجیب بات ہے جس بوجھ کو میں مرد ہو کر اتار پھینکنا چاہتا ہوں اسی بوجھ کو تم لڑکی ہو کر اٹھانا چاہتی ہو۔۔۔۔جب نوکری ایک آدمی کو گدھا بنا سکتی ہے تو ایک عورت کو کیا بنائے گی۔۔ ۔۔۔۔تم سمجھ رہی ہو نا۔۔۔نیلم ؛ میری پیاری بچی!  اب تم بچی نہیں ہو۔‘‘

’’ہوں۔۔ ۔۔۔۔پاپا۔۔ ۔۔۔آپ تو ایسی ہی اوکھڑی باتیں لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔میری کئی سہیلیاں جاب کر رہی ہیں۔۔ ۔۔۔۔۔ کتنا اچھا پہنتی اور کھاتی ہیں وہ۔۔ ہر ہفتے پکنک پر جاتی ہیں۔۔ ۔۔۔کتنی خوش لگ رہی تھی شاہینہ میری دوست۔۔۔۔ آپ نے تو دیکھا ہی ہو گا اسے۔ ایک ماہ پہلے  آئی تھی اپنے گھر۔۔ ۔۔۔۔۔جو سونے کے کنڈل وہ پہنے ہوئے تھی وہ اس نے نوکری کے پیسوں ہی سے خریدے تھے۔‘‘

وہ جلد ہی بیک اینڈ کے تاریک خیالی گڑھے سے ابھر آیا۔ اور نظریں نیچی رکھتے ہوئے پوچھا۔

’’کہاں کی تیاری ہے  آج۔۔ ۔۔۔۔‘‘

’’ پاپا میں نے بتا یا تھا نا آپ کو۔۔ ۔۔۔۔آج سے میں نے نوکری جوائن کر لی ہے۔۔۔ نائٹ شفٹ ہے۔۔۔صبح چھے بجے کمپنی کی گاڑی یہیں گلی کے موڑ پر ڈراپ کر جائے گی۔‘‘ اس کا لہجہ سپاٹ تھا، آنکھیں جذبات سے عاری تھیں۔

’’۔۔ ۔۔۔۔۔۔اچھا ! میں چلتی ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلے دن ہی لیٹ ہو جاؤں۔۔ ۔۔۔اللہ حافظ پاپا۔۔ ۔۔۔۔۔اللہ حافظ ممی۔۔ ۔۔۔اور۔۔۔ رجّو!۔۔ ۔۔۔۔۔۔پریشان مت کرنا ممی کو۔۔۔سمجھی۔‘‘ اس نے چھوٹی رجو کے موٹے گال پر چٹکی لی اور کھٹ کھٹ کرتی ہوئی باہر نکل گئی۔

 وہ ہونقوں کی طرح اس کی پیٹھ پر بکھرے گیلے بالوں کو تکتا رہ گیا۔

٭٭٭