کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چیونٹیوں کی بستی

الیاس ندوی رام پوری


عربی تحریر  : جمال ابو حمدان

میں بچہ ضرور تھا مگر بد بخت و نالائق نہیں تھا، میں نے نہ آنسو جمع کئے اور نہ دل کے ٹکڑے، اور نہ ہی مجھے کبھی ان کے ساتھ کھیلنے میں دلچسپی رہی جیسا کہ دوسرے تمام لڑکے کیا کرتے تھے۔اس کے برعکس میں شروع ہی سے نہایت متواضع اور سنجیدہ قسم کا لڑکا تھا، دوسروں سے الگ تھلگ اور اپنی ہی دھن میں مگن رہنے والا۔

اس کے باوجود جلا وطنی کے وقت میں بھی دیگر لڑکوں کے ساتھ تھا گو کہ میں ان کی طرح مجرم نہیں تھا۔

 اس وقت جب میں نوخیز عمر کا لڑکا تھا اور ابھی ابھی سن شعور کو پہونچا تھا ایک کتاب میرے مطالعہ میں  آئی، یہ کتاب چیونٹیوں کے دیس سے متعلق تھی، اس کو میرے والد نے والدہ کے اصرار پر خاص میرے لیے کہیں سے حاصل کیا تھا۔

یہ کتاب مجھے ذرا بھی پسند نہ آئی، اب میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ میں اس کا کیا کروں، کیونکہ ناپسندیدہ چیزوں کے متعلق میں ہمیشہ ہی سے اسی طرح کی حیرانی سے دوچار ہوتا ہوں جبکہ اپنی پسندیدہ چیزوں کے متعلق مجھے ایسی کسی حیرانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

یہ کتاب میرے پاس تھی اور دو موسم، موسم گرما اور موسم بہار اسی طرح گزر گئے، یہاں تک کہ موسم سرما بھی  آ پہونچا۔اسی موسم سرما کی ایک رات میں نے اپنی والدہ کو انگیٹھی سلگا تے ہوئے دیکھا، میں دوڑا دوڑا گیا اور کتاب لا کر انگیٹھی میں ڈال دی۔میں دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ میں نے  آگ سلگانے میں اپنی ماں کی مدد کی ہے۔دفعتاً میری ماں کی کڑک دار آواز سنائی دی، وہ مجھے سخت سست کہہ رہی تھیں، ماں کی  آواز سن کر والد صاحب بھی دوسرے کمرے سے دوڑے دوڑے  آئے اور حقیقت حال جاننے کے لیے استفسار کرنے لگے۔ماں نے سارا ماجرہ کہہ سنایا۔اور وہ مجھ پر برسنے لگے :’’تجھے اس کے علاوہ اور کوئی کتاب نہیں ملی تھی، یہ سب سے اچھی کتاب تھی، اس کی اہمیت ہر مقام اور ہر زمانے میں مسلم رہی ہے، ہم تیرے لیے جو کتابیں لاتے ہیں صحیح بات یہ ہے کہ تو ان کا مستحق ہی نہیں ہے ‘‘۔

وہ میرے کمرے میں گئے، میری تمام کتابوں کو اکٹھا کیا اور ان سب کو بھی  آگ میں جھونک دیا۔آگ کے شعلے بھڑک اٹھے، آگ نے اپنے دانت سردی کے چہرے میں گاڑ دئیے۔میں بہت خوش ہوا کیونکہ سردی مجھے بالکل بھی پسند نہیں۔

دونوں بالکل خاموش کھڑے  آگ کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔اور پھر مجھ سے کہنے لگے : ’’تجھے کتابیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہونچا سکتیں، تو جو کچھ بھی سیکھ سکے گا صرف نفسِ زندگی ہی سے سیکھ سکے گا‘‘۔

انہوں نے میری تعلیم و تربیت کا جو مناسب راستہ تلاش کیا تھا اس میں ایک واقعہ نے ان کی مدد کی۔ہوا یوں کہ اگلے ہی دن والد صاحب کے ایک دوست انتقال کر گئے۔انہوں نے والدہ سے کہا:اس کو ذرا صاف ستھرے کپڑے پہنا دو، مجھے اپنے ایک عزیز کی تعزیت کے لئے جانا ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس کو بھی ساتھ لیتا جاؤں ‘‘

والد صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور میت والے گھر کی طرف چل دئیے۔

ہم گھر میں داخل ہوئے، یہاں بہت سارے لوگ جمع تھے، ہم بھی خاموشی کے ساتھ روہانسے اور بجھے بجھے چہروں کے سامنے بیٹھ گئے۔ گھر میں روشنی بہت کم تھی اور لوگ غم میں ڈوبے ہوئے اپنے منہ لٹکائے بیٹھے تھے اس لیے ان کے چہرے صاف دکھائی نہیں دے رہے تھے۔

میں یہ نہیں معلوم کرپا رہا تھا کہ ان میں مردہ کون ہے، جس سے مجھے زندگی کی حقیقت جاننا ہے اور جس خاص مقصد کے تحت والد صاحب مجھے یہاں لے کر آئے ہیں، اس لئے میں لوگوں کے چہروں کو جھانک جھانک کر دیکھنے لگا تاکہ میت کا پتہ لگا سکوں۔مگر میں اپنی کوشش میں ناکام رہا۔

’’ میت کہاں ہے ؟‘‘میں نے والد صاحب کے کان میں سرگوشی کی۔

’’جنازہ کے موجودگی میں تمیز سے رہو‘‘ انہوں نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔

میں خاموش ہو گیا۔تاہم میت کو تلاش کرنے کی اپنی سی کوشش جاری رکھی۔

 میں اسی ادھیڑ بن میں لگا ہوا تھا کہ قریب سے کسی کے کھنکھارنے کی  آواز آئی، جیسے وہ کچھ کہنے کی کوشش میں اپنا گلا صاف کر رہا ہو۔اور پھر اس نے نہایت سنجیدگی اور مفکرانہ انداز میں کہنا شروع کیا:’’ہمیشہ رہنے والی ذات اللہ کی ذات ہے اور یہ دنیا تو بس ایک گزرگاہ ہے جو انسان کو اس کی  آخری قیام گاہ تک چھوڑتی ہے۔اس دنیا میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس گزرگاہ سے بحسن و خوبی گزر جائیں۔ اگر ہم اللہ کی مخلوق سے سیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کی کوشش کریں تو دنیا و آخرت کی سعادت اپنے دامن میں سمیٹ سکتے ہیں۔اللہ کی سب سے چھوٹی مخلوق چیونٹی ہے اگر ہم اسی سے سیکھنے کی کوشش کریں تو ہمیں بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔چیونٹیاں اپنی بستی میں کس طرح زندگی گزارتی ہیں اور کس طرح نشاط و استقلال کے ساتھ اپنی زندگی کو منظم کرتی رہتی ہیں، ان کی زندگی میں ہم سب کے لئے عبرت کا بہت کچھ سامان موجود ہے ‘‘

مجھ سے رہا نہ گیا، میں اپنے والد کے پہلو سے اٹھا اور مکان کے درمیان میں کھڑا ہو کر بلند آواز میں بولنا شروع کیا:ہمیں چونٹی سے کچھ بھی سیکھنے کی ضرورت نہیں، وہ برائیوں کا پلندہ ہوتی ہے، اس میں کچھ بھی بھلائی نہیں ہوتی۔

اس کی سرگرمیاں بے معنیٰ ہوتی ہیں، مجھے چیونٹی بالکل بھی پسند نہیں۔وہ گرمیوں کے پورے موسم میں اپنے قد و قامت سے بڑی جسامت کے دانے اٹھائے پھرتی ہے اور انہیں ذخیرہ کرتی رہتی ہے تاکہ سردیوں میں  آرام سے بیٹھ کر کھا سکے۔یہ کیسی کسلمندی اور سستی ہے۔میں جھینگر کو اس سے بہتر سمجھتا ہوں جو گرمیوں میں گاتا رہتا ہے اور سردیوں میں بھوکا رہ کر صبر و سکون کا مظاہرہ کرتا ہے ‘‘۔

ابتدا میں لوگوں کو بڑی حیرانی ہوئی، وہ سوچنے لگے کہ ایک چھوٹا سا بچہ اور اس قدر جرأت ؟۔ مگر جب میں نے  آگے کہنا شروع کیا ’’تم چیونٹی سے کیوں سیکھنا چاہتے ہو، شاید اس لئے کہ تم بھی اسی جیسے ہو۔چیونٹی کی واحد خصوصیت یہ ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ذخیرہ کرنا چاہتی ہے تاکہ اس کو کھا کھا کر بڑے پیمانے پر چیونٹیاں مر سکیں ‘‘

اس جملے سے لوگ برافروختہ ہو گئے اور غصے کے تلخ گھونٹ پی کر رہ گئے۔میرے والد اپنی جگہ سے اٹھے اور میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔وہ کہہ رہے تھے :’’اللہ تیرا بھلا کرے !تو نے ہمیں رسوا کر دیا‘‘

 وہ مجھے باہر کھینچ لائے اور میت کو دیکھنے کی میری  آرزو سینے میں ہی دم توڑ گئی۔

گھر پہونچ کر انہوں نے والدہ کو ساری کہانی سنائی اور میری اصلاح و تربیت کے سلسلہ میں تقریباً مایوس ہو گئے، وہ کہہ رہے تھے میں نفس زندگی سے بھی کچھ حاصل نہیں کر سکتا اور آج کے بعد پھر کبھی کسی جنازہ میں شرکت کے لئے اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے۔

میں نے ایک اہم کتاب جلا کر بہت بڑا جرم کیا تھا اور میت والے گھر اپنے والد کی رسوائی بھی کی تھی، مجھے اس کی سزا یہ ملی کہ میں کتابوں سے بھی محروم کر دیا گیا اور نفس زندگی سے زندگی کی حقیقتوں کو جاننے سے بھی، اب میں موت کے متعلق نہ کتابوں سے کچھ جان سکتا تھا اور نہ ہی معاشرے سے کچھ سیکھ سکتا تھا اس لیے موت کے بارے میں میری جانکاری ناتمام ہی رہ گئی۔

ایک دن جب میں کتابوں سے محرومی اور تعزیتی تقریبات میں شرکت پر پابندی کے متعلق غور کر رہا تھا تو مجھے خیال  آیا کہ میں اس طرح زیادہ دنوں تک نہیں رہ سکتا ہوں۔

 میں بستر پر پڑا ہوا جی بہلانے اور زندگی کرنے کا کوئی دوسرا راستہ تلاشنے کی فکر میں ڈوبا ہوا تھا کہ والدین کی سرگوشیاں سنائی دیں، والدہ کہہ رہی تھیں :

’’ذمہ داری  آپ پر ہی عائد ہوتی ہے، آپ ہی اس کو زندگی کا پہلا سبق سکھا نے کے لیے میت والے گھر لے گئے۔غلط ! بالکل غلط!! موت تو زندگی کی انتہا ہے نہ کہ ابتدا۔تو پھر آپ زندگی کا سبق سکھانے کی ابتدا موت سے کیسے کر سکتے ہیں ‘‘۔

 ’’میں بھی کیا کر سکتا ہوں، میرے دوست و احباب تو صرف مرتے ہیں، البتہ تمہاری سہیلیاں بچے پیدا کرتی ہیں۔تم ہی اس کو اپنے ساتھ لے جایا کرو تاکہ وہ ابتدائے زندگی کا مشاہدہ کر سکے ‘‘والد صاحب نے جواب میں عرض کیا۔

صبح ہوتے ہی والدہ نے مجھے خوش رنگ کپڑے پہنائے، میرے بال سنوارے اور نہایت نرمی کے ساتھ کہا:’’بیٹا ! آج تم میرے ساتھ چلنا، آج میری ایک دوست ایک پیارے سے بچے کو جنم دینے والی ہے، ہم اس کے لیے برکت کی دعا کریں گے اور تمہارا جی بھی خوش ہو جائے گا۔

میں خوشی خوشی ان کے ساتھ ہولیا۔ میں نے سوچا کہ بچے کی ولادت اور ولادت کے بارے میں گفتگو مجھے اچھی لگے گی اور اس سے میرے دل کو آسودگی حاصل ہو گی۔

ہم گھر میں داخل ہوئے اور دیگر عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر انتظار کرنے لگے، ایک عورت درد زہ کی تکلیف سے کراہ رہی تھی اور دوسری عورتیں اس کو گھیرے ہوئے تھیں اور ڈر اور خوف کے عالم میں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں، کچھ دیر میں بچہ پیدا ہوا، اس کا جسم خمیدہ اور سر لٹکا ہوا تھا۔ اچانک وہ زور زور سے رونے لگا۔وہاں پر موجود د دوسری تمام عورتیں خوش ہو رہی تھیں اور گھر والوں کو مبارکباد دے رہی تھی۔

 ’’یہ رو کیوں رہا ہے ‘‘ میں نے والدہ کے کان میں سرگوشی کی۔

’’یہ اس طرح اپنے پیدا ہونے اور دنیا میں  آنے کا اعلان کر رہا ہے ‘‘

 ’’روکر؟‘‘ میں نے دل میں کہا اور اسی وقت سے بچوں کے لیے میرے دل میں نفرت بیٹھ گئی۔

 ماں سمجھانے لگی: ’’ یہ اس لئے رو رہا ہے کہ وہ پیٹ کی  آرام دہ زندگی سے نکل کر دنیا کی تکلیف دہ زندگی میں  آیا ہے ‘‘ یہ سن کر مجھے اس ماں سے بھی نفرت ہو گئی جس نے اسے پیدا کیا تھا۔

 ’’ تو  بھی تو پیدائش کے وقت اسی طرح رو رہا تھا‘‘ ماں کی یہ بات سن کر مجھے اپنے  آپ سے بھی نفرت ہو گئی۔ میں بچے کے بارے میں سوچنا چھوڑ کر عورتوں کے چہروں کو گھورنے لگا۔

جب بچہ کو دودھ پلا دیا گیا اور وہ سو گیا تو عورتیں  آپس میں گپ شپ کرنے لگ گئیں۔میں خاموشی کے ساتھ ان کی باتیں سنتا رہا۔ ان میں سے ایک نے کہا:’’ہائے یہ بدبخت زندگی، جسے ہم سخت محنت اور تکلیف کے ساتھ گزارتے ہیں، پھر حمل کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اور پھر ولادت کی تکلیف سر پڑ جاتی ہے ‘‘

ایک عورت کو ہنسی  آ گئی اور کہنے لگی: ’’اگر ہم چیونٹیوں کی بستی میں رہ رہی ہوتیں تو ہماری زندگی کسی قدر آسان ہوتی‘‘

چیونٹیوں کا نا م سن مجھے پھر تاؤ آ گیا، میں اپنی والدہ کی گود سے کود کر بیچ مکان میں  آ کھڑا ہوا اور زور زور سے بولنے لگا: ’’تم چیونٹیوں کی طرح کیوں بننا چاہتی ہو؟۔تم انہیں کی طرح ہو، کام میں جتی رہتی ہو، مرد تمہارے پاس آتے ہیں، بیٹھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔چیونٹی تو بے وقوف ہے اس کی واحد خصوصیت یہ ہے کہ وہ انڈے دیتی ہے ‘‘

سب عورتیں مجھے گھورنے لگیں، میری ماں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔’’ تو نے یہاں بھی ہمیں ذلیل کر دیا‘‘ اور مجھے گھر سے باہر لے  آئیں۔

گھر آ کر والد صاحب کوسا را قصہ کہہ سنایا۔وہ افسوس میں پڑ گئے ’’ اس کا کیا کیا جائے ؟ لگتا ہے کہ یہ نفس زندگی سے بھی کچھ نہیں سیکھ سکتا، نہ ولادت سے کچھ سیکھ سکتا ہے اور نہ موت سے ‘‘۔

’’میرے بارے میں آپ کو فکر کرنے اور غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، میں اپنے  آپ کو خود سنبھال لوں گا‘‘

یہ کہہ کر میں گھر سے نکل کھڑا ہوا اور شہر کے مضافاتی میدان میں پہونچ گیا۔

یہاں میں نے عجیب و غریب منظر دیکھا۔شہر کے بڑے لوگوں نے ان تمام بچوں کو میدان میں جمع کر رکھا تھا جو پتھر کے  آنسو اور دل کے ٹکڑوں سے کھیلا کرتے تھے۔

ان کے ہاتھ پیر ایک باریک ریشمی ڈوری سے ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دئے گئے تھے، میں ان کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا۔ایک عمر دراز شخص آگے بڑھا اور قریب کے بچے کے ساتھ میرے ہاتھ پیر بھی باندھ دئے۔تھوڑی دیر بعد ایک معمر آدمی کی  آواز ابھری۔’’انہیں کہاں بھیجا جائے ‘‘

’’ چیونٹیوں کی بستی!!  شاید یہ حقیقی زندگی سے کچھ سبق حاصل کر سکیں ‘‘بڑے  آدمی کی طرف سے جواب ملا۔

میرے اعصاب پر خوف طاری ہو گیا، میں نے خود کو چھڑانے کی ناکام سی کوشش کی، میرے دل میں گھر واپس لوٹ جانے کی خواہش جاگی۔

مگر میں کچھ بھی نہ کر سکا اور خود کو حالات کے حوالے کر دیا۔میں سوچنے لگا کہ کاش! میں چیونٹیوں والی کتاب نہ جلاتا تو آج اپنے ماں باپ کے درمیان ایک نیک بخت بچے کی طرح خوش ہوتا۔

ڈوری کے ہلکے سے جھٹکے نے مجھے ان خیالات سے باہر نکال دیا اور میں بھی دیگر بچوں کے ساتھ حرکت کرنے لگا۔

ایک رات اور ایک دن مسلسل سفر کرتے رہے اور اگلے دن نصف النہار کے بعد چونٹیوں کی بستی پہونچ گئے۔جو آدمی ہماری نگرانی پر مامور تھے انہوں نے تصدیق کی کہ یہی چیونٹیوں کا ملک ہے۔

مجھے یہ جان کر بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی کہ چیونٹیوں کی اس بستی میں ہم نے جتنی چیونٹیاں بھی دیکھیں وہ شکل و شباہت میں تقریباً ہماری طرح ہی تھیں۔بالکل ہماری طرح کاندھوں پر رکھے ہوئے سر اور ان کی جڑوں سے لٹکے ہوئے ہاتھ۔اور پیر جن کو وہ باری باری  آگے پیچھے بلا کسی توقف کے رکھ رہی تھیں۔البتہ وہ ہمارے شہر کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت تھیں، ان کے چہرے مسرت و شادمانی سے دمک رہے تھے، ان کے چہرے کہیں سے کہیں تک بھی ہمارے لوگوں کے چہروں کی طرح بجھے بجھے اور نحوست زدہ نہیں تھے۔

ہم سب ان کے سامنے سے گزر گئے اور انہوں نے ہماری طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔

چیونٹیوں کا شہر نہایت خوبصورت تھا، میں نے اس سے پہلے ایسا شہر کبھی نہ دیکھا تھا۔صحیح بات تو یہ ہے کہ میں نے اپنے شہر کے علاوہ اور کوئی شہر دیکھا ہی نہیں تھا۔مجھے اپنے شہر اور چیونٹیوں کے شہر میں کچھ خاص فرق نظر نہ آیا۔

ایک لمحے کے لئے میں نے سوچا۔چیونٹیاں ہماری طرح کیسے ہو سکتی ہیں۔میں ان کے بارے میں اب تک یہی سوچتا رہا تھا کہ وہ کالے، بھورے یا پھر سفید رنگ کے معمولی کیڑے ہیں جو زمین پر رینگتے پھرتے ہیں۔اور اپنی جسامت سے بھاری دانے اٹھائے اپنے بلوں کی جانب رواں دواں رہتے ہیں۔

میں نے سوچا!! کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چیونٹیوں کی طرح بننے کی ہماری شدید خواہش ہمیں چیونٹیوں کے مثل بنا دیتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہماری طرح بننے کی چیونٹیوں کی شدید آرزو ان کو ہماری طرح بنا دیتی ہے۔مجھے ان پر بڑا تعجب ہوا جو دوسروں کی طرح بن گئے ہیں۔اس وقت ایک بار پھر میرے اندورن میں یہ احساس جاگا کہ کاش! میں چیونٹیوں کی دنیا سے متعلق وہ کتاب نہ جلاتا، کم از کم ان کی دنیا کے تمام راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھنے تک ایسا نہ کرتا۔

پہلی رات ہم نے اپنی اس خواب گاہ میں گزاری جو خاص ہمارے لیے تیار کی گئی تھی۔

اگلے روز ہمیں کئی ساری ٹکڑیوں میں تقسیم کیا گیا اور چیونٹیوں کے مختلف خاندانوں میں بھیج دیا گیا تاکہ ہم حقیقی زندگی سے کچھ سبق حاصل کر سکیں۔

میں ذرا الگ قسم کا لڑکا تھا اس لیے مجھے دوسروں سے مختلف مقام پر بھیجا گیا۔میری جلا وطنی کے اسباب دوسروں سے قطعی مختلف تھے کیونکہ میں نہ کبھی  آنسوؤں سے کھیلا اور نہ ہی دل کے ٹکڑے جمع کئے۔

ہر چند کہ میرے لئے یہ ضروری تھا کہ میں چیونٹیوں سے کتاب جلا دینے والی بات کو چھپاتا۔لیکن ایک رات، جب مجھ پر ہذیان گوئی کا دورہ پڑا، ایک چھوٹی چیونٹی کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر ڈالا۔میں اپنی اس حرکت پر شرمسار تھا اور سبقت لسانی پر بہت نادم بھی، میں تقریباً روہانسا سا ہو گیا۔مگر یہ کیا ؟میں نے دیکھا کہ ننھی چیونٹی بے تحاشا ہنسے جا رہی ہے، اس نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا: ’’تم نے اچھا ہی کیا، یہ ایک غیر متعلق کتاب ہے جو ہماری زندگی کی درست ترجمانی نہیں کرتی اور نہ ہی یہ ہمارے لیے قابل اعتناء ہے۔‘‘

تب میری جان میں جان آئی۔

اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف کھینچا اور کہا چلو ! میں تمہیں اپنی مملکت کی سیر کراتی ہوں۔

میں نے نوٹ کیا کہ ان کی پوری مملکت ایک شہر کی مانند ہے۔

شہر ایک محلے کی مانند۔

 محلہ ایک گھر کی طرح۔

اور گھر سارا کا سارا ایک کمرہ ہے جو چیونٹیوں سے ٹھسا ٹھس بھرا ہوا ہے۔

اور اب مجھے بقیہ ساری زندگی اسی کمرے میں گزارنی ہے۔

اس کمرے میں جو چیونٹیوں کی کل کائنات تھی کوئی دروازہ نہیں تھا، نہ کوئی اندر آ سکتا تھا اور نہ کوئی باہر جا سکتا تھا۔

حتیٰ کہ کھڑکیاں بھی نہیں تھیں، نہ کوئی باہر دیکھ سکتا تھا اور نہ کوئی اندر جھانک سکتا تھا۔

چیونٹیوں کے قد و قامت کو دیکھتے ہوئے اس کمرے کی چھت قدرے بلند ہی تھی اور چونکہ چیونٹیاں کبھی نظر اٹھا کر دیکھتی ہی نہیں اس لیے انہیں چھت کے ہونے یا نہ ہونے کا گمان ہی نہیں ہوتا تھا۔

اس کی زمین کشادہ اور مسطح تھی، اس میں نشیب و فراز بھی نہیں تھا اور نہ ہی اس میں چوٹیاں اور وادیاں تھیں، نیز اس کے کچھ متعین حدود بھی نہ تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے کہ یہاں سطح زمین بھی نہیں ہے۔

اب تو اس کے  آثار و نشان بھی مٹنے لگے تھے، سخت اور اونچی دیواروں کے علاوہ اس کا وجود ہی مٹتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔دیواروں کے درمیان کی دوریاں اتنی زیادہ تھیں کہ آنکھوں کو دکھائی نہ دیتی تھیں۔ایسا گمان گزرتا تھا کہ اس کی دیواریں ہیں ہی نہیں۔

 جب میں اس عجیب و غریب مملکت کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگا تو میں اپنی دوست چیونٹی سے اس کی مملکت کے حدود اربعہ کے متعلق پوچھ بیٹھا۔

 ’’ارے ! تم یہ کیا لے کر بیٹھ گئے، دور دراز کی حدود کے بارے میں کیوں سوچتے ہو۔تم ہماری اندر کی دنیا کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے۔ہم نے اپنی پوری مملکت کو کئی چھوٹے چھوٹے ممالک میں بانٹ رکھا ہے۔اور ان میں سے ہر ملک کی حد ہر چیونٹی کی اپنی جلد ہوتی ہے۔‘‘وہ خوشگوار انداز میں مسکرا رہی تھی۔

’’چیونٹیاں تو ایک دوسرے کے پیچھے اس طرح چلتی ہیں جیسے وہ سب کی سب ایک ہی جلد میں قید ہوں ‘‘میں نے چیونٹی کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔

بعد میں مجھے اپنے اس طرح اچانک بول پڑنے پر ندامت ہوئی۔یہ میری عجیب سی عادت بن گئی ہے کہ میں پہلے کوئی کام کر ڈالتا ہوں اور پھر پشیمان ہوتا ہوں۔

لیکن میری دوست چیونٹی نے اس پر کچھ رد عمل ظاہر نہیں کیا۔وہ خاموش بیٹھی رہی، اس نے بچوں کا رسالہ اٹھایا اور اسے کھول کر پڑھنے لگی، میں اس کی  آواز ہلکی ہونے کے باوجود سن سکتا تھا۔

’’ہر متنفس جتنا زیادہ چھوٹا ہوتا ہے اس کا دل اتنا ہی زیادہ دھڑکتا ہے۔اگر مکھی کا دل ایک منٹ میں ہزار مرتبہ دھڑکتا ہے تو ایک بڑی مچھلی کا دل ایک منٹ میں صرف پانچ بار ہی دھڑکتا ہے۔جبکہ ایک حقیر کیڑے کے پانچ دل ہوتے ہوں گے۔

یہاں میں اس کی بات کاٹ کر بولا:’’ پھر تو ڈائنا سور کا دل بہت بڑا ہونے کی وجہ سے کبھی دھڑکا ہی نہیں ہو گایا زندگی میں ایک ہی بار دھڑکا ہو گا اور شاید اسی لئے وہ ہمیشہ کے لئے دنیا سے ختم ہو گیا‘‘

میں خاموش ہو گیا کیونکہ اب اس نے رسالہ ایک طرف رکھ دیا تھا اور مجھے تیکھی نظروں سے گھور رہی تھی۔میں نے دل ہی دل میں سوال کیا۔اور خود چیونٹی کا دل ایک منٹ میں کتنی بار دھڑکتا ہے وہ تو مکھی سے بھی چھوٹی ہوتی ہے۔اور اسی کے ساتھ مجھے چیونٹیوں پر بڑا ترس آیا کیونکہ ان کا دل بہت زور زور سے بھی دھڑکتا ہو گا اور دوسروں سے کئی گنا زیادہ بھی۔

اگلے دن میں اور میری معصوم دوست چیونٹیوں کے دیس کی سیر کر رہے تھے کہ اچانک وہ رک گئی اور مجھ سے پوچھنے لگی:’’کیا تم ہماری بستی کے بڑے شخص سے ملنا پسند کرو گے ‘‘

چونٹیوں کی بستی میں یہ پہلی محسوس حقیقت تھی جس نے مجھے تقریباً چونکادیا تھا کہ یہاں بھی چھوٹے اور بڑے کا فرق موجود ہے۔

میں نے جلدی سے کہا: ’’ نہیں !! میں بڑوں کو پسند نہیں کرتا، میں ان سے نفرت کرتا ہوں ‘‘

اور پھر میں نے اپنی پوری  آپ بیتی سنائی کہ کس طرح میرے والد مجھے میت والے گھر لے کر گئے تھے تاکہ میں اس مُردے سے زندگی کے بارے میں کچھ جان سکوں جسے اپنی موت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔اور کس طرح میری والدہ مجھے ولادت والے گھر لے کر گئیں تاکہ میں اس نومولود سے زندگی کی حقیقت معلوم کر سکوں جو خود دنیا میں  آتے وقت زندگی کی مشکلات سے گھبرا کر روتا ہے۔

 ’’ میں بڑوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ میں اپنی ضد پر قائم تھا۔

اس نے مجھے تیکھی نظروں سے دیکھا اور میں ایک بار پھر اپنے کہے پر پشیمان ہوا۔

لیکن جب سے میں نے اس کے دل کی تیز اور شدید دھڑکنوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا تھا، مجھے اس سے ایک طرح کی انسیت سی ہو چلی تھی، اس لئے میں نے اپنی ضد چھوڑی اور اس کے ساتھ ہولیا۔اور سب سے بڑی چیونٹی کے پاس پہونچ گیا۔پہلے تو وہ مجھے عجیب و غریب نظروں سے دیکھتی رہی، پھر اس نے کہا:’’سنو بیٹا‘‘ مگر میں نے کچھ بھی نہیں سنا کیونکہ میں اس کے چہرے پر نظریں گاڑے ہوئے تھا اور اس کے لسلسے اور مانوس چہرے کے ارتسامات پر غور کر رہا تھا۔

جب اس نے دیکھا کہ میں اس کی طرف سے بے پروا ہوں تو اس نے تقریباً ڈانٹتے ہوئے کہا ’’سنو!‘‘میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔یہ پتہ لگانے کے لیے کہ میں اس کی باتوں کا کیا اثر لیتا ہوں وہ میرے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا بغور معائنہ کرتی رہی۔

اس نے کہنا شروع کیا:’’گرچہ تم نے دل کے ٹکڑے جمع نہیں کئے اور نہ تم کبھی ان سے کھیل نے میں مشغول رہے تاہم تم نے خود کو جلا وطن کیے جانے والے بچوں کے ساتھ باندھ لیا اور اس طرح تم حقیقی زندگی کے میدان میں اتر گئے۔اور چونکہ حقیقت مصائب سے پر ہوتی ہے اس لیے ہمیں  آزاد زندگی گزارنے کے مواقع دستیاب نہیں ہوتے۔

حقیقت تو دھوکہ ہے، فریب ہے۔حقیقت تو سراب کی طرح ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جو مصائب و آلام سے بھری ہوئی زندگی سے مختلف کوئی چیز ہوتی ہے۔

البتہ خیال ایک ایسی چیز ہے جسے جھوٹ نہیں کہا جا سکتا۔صرف وہی ایک سچائی ہے۔کیونکہ جھوٹ کا اثبات کسی دوسری چیز کے ساتھ تقابل کے ذریعہ ہی ممکن ہوتا ہے اور خیال کا تقابل کسی دوسری چیز کے ساتھ کیا ہی نہیں جا سکتا۔لہذا خیال ہی ایک ایسی چیز ہے جو قائم بالذات ہے، اپنے  آپ پر منحصر ہے اور اپنی ذات میں پوری طرح مکمل بھی ہے۔بس ایک بار تم نے جرات کی اور اپنی حدود سے تجاوز کر گئے، جب تم نے چیونٹیوں سے متعلق کتاب کو محض اس لئے جلا ڈالا تاکہ تم آگ بھڑکا سکو اور کسی طرح سردی سے نجات پا سکو۔ پھر اس کے بعد تم پر بزدلی طاری ہو گئی اور تم ایسا ہی کچھ اور کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔اس کے بعد تمہاری مثال اس قرض دار کی سی ہو گئی جو ساری زندگی اس کی ادائیگی کرتا رہتا ہے۔‘‘

میں اس کو مستقل تکے جا رہا تھا، جس قدر میری گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا اسی قدر اس کی انمول باتوں سے مرعوب سا ہوتا جا رہا تھا۔یہاں تک اس نے کہا:’’تمہاری مشکل یہ ہے کہ تم حقیقت میں اتر گئے ہو، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تم خود سے غافل ہو گئے، تمہارے والدین نے تمہاری تعلیم و تربیت میں سخت ٹھوکر کھائی ہے۔اور جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو انہیں اپنی غلطیوں کا بخوبی احساس ہو جائے گا‘‘۔

واپس لوٹ کر جانے کے خیال نے مجھ پر کپکپی طاری کر دی، لیکن میں اپنے  آپ میں اتنی ہمت نہیں جٹا پایا کہ میں چیونٹیوں کی سردار سے تکرار کر سکتا، شاید اس لئے کہ میری چیونٹی دوست میری اندرونی کیفیات سے کسی قسم کا تاثر لئے بغیر میرے گھبرائے ہوئے چہرے پر اپنی نظریں گاڑے ہوئے تھی۔

میں اپنے تفکرات کی گہرائیوں سے اس وقت واپس لوٹا جب اس نے کہا:’’اب تم جا سکتے ہو۔۔۔جاؤ! اور جلاوطن کئے جانے والے بچوں میں شامل ہو جاؤ، جو اپنے وطن واپس جا رہے ہیں۔ان کو واپس ان کے وطن لوٹانے کی ساری تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں بس تمہارا ہی انتظار ہے۔ابھی تمہارا بچپنا ہے اور اس عمر میں نہ تو تم اپنے والدین کے ساتھ رہ کر کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہو اور نہ ہی ہمارے ساتھ رہنے سے تمہیں کچھ نفع پہونچ سکتا ہے۔یہی نہیں بلکہ تمہارا بقیہ بچپن بھی تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہونچا سکے گا۔تاہم تم نے بخوشی ان بچوں کے ساتھ رہنا قبول کیا ہے، اس لیے تم انہیں کے ساتھ رہو۔‘‘میں نے سخت اضطراب کے عالم میں پہلو بدلا اور اس سے پوچھنا چاہا کہ تمہاری ان حکمت و دانائی کی باتوں کی سمجھ پیدا ہونے کے لئے کتنی عمر درکار ہوتی ہے۔مگر اسی وقت میری دوست چیونٹی نے تیز نظروں سے  مجھے دیکھا اور پھر میرے کان میں  آہستہ سے کہا:’’کیا تم ابھی تک یہ نہیں جان سکے کہ یہ مردہ ہے اگر یہ زندہ ہوتی تو اس طرح بے سری باتیں نہ کرتی‘‘

اس کی بات سے میرے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔۔۔۔ رد عمل کے طور پر میں نے کہا:’’ زندگی عمر کی قاتل ہے، وہ اس کو قطع کرتی رہتی ہے۔عمر کو اگر کوئی چیز باقی رکھتی اور اسے محفوظ کرتی ہے تو وہ صرف اور صرف موت ہے۔چلو یہاں سے چلیں ‘‘۔

اور ہم وہاں سے چلے  آئے۔

اس کے بعد میری دوست مجھے ایک وسیع و عریض میدان میں لے گئی جہاں ہماری خاطر بڑے پیمانے پر الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔

اور ہم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، میں اس کو الوداع بھی نہ کہہ سکا، کیونکہ ٹھیک اسی وقت ہم دونوں نے اپنی طویل رفاقت کے باوجود یہ محسوس کیا کہ ہمارے دلوں کے دھڑکنے کا انداز ایک دوسرے سے بالکل جدا ہے، میرے پہلو میں تو ایک آدم زاد بچے کا دل ہے، جو بہت کم دھڑکتا ہے اور بہت سست بھی ہے۔

میں اس سے جدا ہوا اور اپنے شہر کے بچوں میں شامل ہو گیا جو اپنے ملک واپس جانے کے لئے ایک بہت بڑے اجتماع کی شکل میں تیار تھے۔چیونٹیوں کی دنیا کی ایک جماعت بھی وہاں موجود تھی۔

الوداعی تقریبات میں کی جانے والی مختصر سی تقریر سننے کے بعد ہم لوگوں نے صف بندی کی۔اور چیونٹیوں کی بستی اپنے عقب میں چھوڑ کر اپنے ملک کی طرف چل دئیے۔

چیونٹیوں کی بستی میں داخل ہوتے وقت جو گھبراہٹ اور کیفیت محسوس کرتا رہا تھا اس کے بالکل برعکس اب میں صاف طور پر یہ محسوس کر رہا تھا کہ ہمارے شہر اور چیونٹیوں کے شہر کے درمیان دراصل کوئی مسافت ہے ہی نہیں، ان کے درمیان نہ کوئی راستہ ہے اور نہ کسی طرح کی حد بندی، میں نے محسوس کیا کہ یہ تو وہی میدان ہے جہاں ہمارا استقبال کیا گیا تھا۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہم ایک بار اس کو الوداعی تقریبات کے لئے خاص سمجھے لیتے ہیں تو ہمیں وہاں سے الوداع کہا جاتا ہے اور دوسری مرتبہ ہم اسے استقبال کے استعمال میں لاتے ہیں تو وہاں ہمارا استقبال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ سفر کے برعکس اس بار ہمارے ہاتھ پیر کھلے رکھے گئے تھے، ہمیں جو چیز آپس میں منظم و متحد رکھے ہوئے تھی وہ الفت و محبت کی ڈور تھی اور اپنے وطن لوٹنے کا اشتیاق ہمیں کشاں کشاں وطن کی طرف لئے جا رہا تھا۔جہاں ہمارے استقبال کے لیے اسی طرح کے ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

جیسے جیسے ہم اپنے شہر اور اپنے اہل و عیال سے قریب ہوتے گئے ہمارے دلوں کی دھڑکنوں میں اسی شدت سے اضافہ ہوتا گیا، یہاں تک کہ ہم اپنی پیٹھوں پر لدے ہوئے بھاری بوجھ کو بھی بھول گئے۔حالانکہ ہم میں سے ہر کوئی اپنی جسامت سے زیادہ بڑے اور اپنے وزن سے زیادہ بھاری گیہوں کے دانے اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے تھا۔جنہیں ہم چیونٹیوں کے ملک سے اپنے وطن لا رہے تھے۔

پورا شہر ہمارے استقبال کے لئے  آیا ہوا تھا، ان کے درمیان میں نے اپنے والدین کو بھی دیکھا، میری خوشی کی انتہا نہ رہی، اگر میرے اوپر بھاری بوجھ نہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھوں کو لہرا کر انہیں  آگاہ کرتا اور اگر میں چیونٹیوں کے ساتھ طویل رفاقت کی وجہ سے اپنی زبان بھول نہ گیا ہوتا تو میں انہیں پکارنے کی کوشش کرتا۔

وہ ہمیں اچک اچک کر دیکھ رہے تھے تاہم مجھے نہیں لگتا کہ انہوں نے مجھے پہچان لیا ہو۔کیونکہ ہم سب ایک جیسے ہی دکھائی دے رہے تھے، ہم میں سے کسی کی اپنی الگ سے کچھ شناخت باقی نہ بچی تھی۔

 شاید یہی وہ بات تھی جس نے شہر کے لوگوں مغالطہ میں ڈال دیا تھا، ہمیں نہیں لگا کہ ان میں سے کسی نے بھی ہمارے تعلق سے کوئی خاص تاثرات ظاہر کئے ہوں۔ہم ان کے پاس پہونچ چکے تھے اور وہ ہمارے سامنے حیران و ششدر کھڑے تھے۔

 ہم میدان کے درمیان تک پہونچ گیے۔

ہمیں بڑی حیرانی ہو رہی تھی۔جب ہم نے ان کے جسم اور چہرے بشرے کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ وہ بالکل ہو بہو ویسے ہی ہیں جیسے ہماری جلاوطنی کے وقت تھے، کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا، لگتا تھا کہ ان پر زمانہ سرے سے گزرا ہی نہیں ہے، اور وہ وقت کے اسی لمحے میں کھڑے ہیں۔جبکہ ہمارا حال یہ تھا کہ ہم پر بڑھاپا طاری ہو چکا تھا کیونکہ چیونٹیوں کے ملک میں ہمارے اوپر کافی سختیاں گزری تھیں۔اس لئے ہمارا جسم دوہرا ہو گیا تھا، یہاں تک کہ ہمارے ہاتھ پاؤں کے محاذات آ گئے تھے اور اب ہم اپنے چاروں ہاتھ پاؤں کے سہارے  آگے بڑھتے تھے۔اور اسی وجہ سے ہم اپنی مستطیل پیٹھوں پر جواب ذرا سا ابھار لیے ہوئے زمین کی سطح پر آ چکی تھیں اپنے وجود سے بھاری وزن لاد نے کے قابل ہو سکے تھے۔

جب ہم نے اپنے منہ اٹھا کر ان لوگوں کو دیکھنے کی کوشش کی جبکہ ایسا کرنا ہماری چھوٹی سی سخت گردنوں کے لئے بہت دشوار تھا، تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ہمیں عجیب و غریب نظروں سے گھور رہے ہیں۔

ہمیں ان کی  آنکھوں میں اپنے واسطے ذرا بھی اشتیاق اور خوشی دکھائی نہیں دی۔

ہم ان سے بے پروا ہو کر اپنی پیٹھوں سے بوجھ اتارنے میں مشغول ہو گئے۔پھر ہم نے اس کو میدان کے درمیان میں اکٹھا کر دیا۔

پھر ہم ان سے سلام  و کلام کرنے کے لئے ان کی طرف بڑھے۔مگر وہ گھبراہٹ کے عالم میں پیچھے کی طرف لوٹنے لگے اور ہمارے اور اپنے درمیان کچھ فاصلہ بنا کر رک گئے۔پھر ان میں سے کسی نے پکار کر کہا:’’تم نے چیونٹیوں کی صحبت کس طرح برداشت کر لی، وہ تو نہایت کریہہ الصورت اور تکلیف دہ کیڑا ہے۔اگر ہم انہیں برداشت کرتے رہیں اور انہیں کچھ بھی کرنے کے لیے  آزاد چھوڑ دیں تو وہ ہمارے خوبصورت شہر کو تباہ و برباد کر ڈالیں جس کی ہم ایک لمبے زمانے سے نگہداشت کرتے  آ رہے ہیں ‘‘۔

جیسے ہی اس نے اپنی بات مکمل کی تمام لوگوں نے تیز دھار ہتھیار نکال لئے، جو ہم نے اس سے پہلے اپنے شہرمیں کبھی نہیں دیکھے تھے اور ان سے ہماری گردنیں مارنے لگے۔

جن کے پاس ہتھیار نہیں تھے تو جو چیز بھی ان کے ہاتھ لگی وہ اسی کولے کر ہم پر ٹوٹ پڑے اور ہمیں پیروں تلے روندنے لگے۔یہاں تک کہ ہمارا پوری طرح صفایا کر دیا۔

جب میں اپنی زندگی کی  آخری سانسیں لے رہا تھا، اس وقت میں نے اپنے والدین کو دیکھا اور ان کو ملامت کی۔مگر انہوں نے اس کی کچھ بھی پروا نہیں کی بلکہ انہوں نے مجھے پہچانا بھی نہیں۔

میں نے بیچ میدان میں جمع غلے کی ڈھیر کی طرف دیکھا، میں نے محسوس کیا کہ میدان خالی کیا جا چکا ہے۔لوگ آپس میں چھینا جھپٹی کر رہے ہیں اور غلہ اٹھا اٹھا کر بھاگ رہے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ اپنی زندگی کے ان آخری لمحات میں مجھے کیوں وہ کتاب یاد آ گئی جو چونٹیوں کی دنیا سے متعلق تھی، مجھے اس کے جلانے پر بے حد افسوس ہوا، یہاں تک کہ مجھے لگا کہ یہ میرے لئے جانکاہ صدمہ بن جائے گا۔

مگر عین اسی وقت میں نے سنا کہ ہمارے شہر کے لوگ نہایت سریلی  آواز میں گا رہے ہیں اور گیہوں کے دانے اٹھائے لئے جا رہے ہیں تاکہ وہ ان بڑے بڑے گوداموں میں جمع کر سکیں جن کی تیاری میں انہوں نے گرمیوں کا پورا موسم لگا دیا تھا۔میں نے یہ بھی محسوس کہ وہ ہماری جلاوطنی کے پورے زمانے میں جھینگر کا گانا سیکھنے کی مشق کرتے رہے تھے، تبھی تو وہ آج اتنا اچھا گا رہے تھے۔

میں ان کے گانے پر اپنے کان لگائے ہوئے تھا۔اور وہ گیہوں کے دانے اٹھائے ہوئے مستی میں گاتے چلے جا رہے تھے۔اس سے میری روح کو سکون سا مل گیا اور میں اپنے جی میں کچھ دیر کے لیے خوش ہو گیا۔

٭٭٭