کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آب حیات

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


تہذیب نو کے عہد میں انسانیت کے ساتھ

انساں نے کیا سلوک کیا دیکھتے چلیں

                                                                                      (حفیظ میرٹھی)

 

          زندگی کبھی کبھی کتنی خوشنما محسوس ہونے لگتی ہے۔جب انسان جو سوچے اور وہ ہو جائے تو ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ قابل رشک انسان کون ہو گا۔ عادل صدیقی بھی ایک ایسا ہی خوش قسمت انسان تھا اس نے بہت جلد اپنے خوابوں کی تعبیر پالی تھی۔ عادل نے اپنے جوش، اپنے جذبہ اور شوق کی آمیزش سے خلائی سائنس میں ڈگری حاصل کر لی تھی اور اب اس کا محض ایک خواب تھا کہ وہ خلاء میں پرواز کرے اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے سیارہ کی کھوج کرے۔

بچپن سے عادل نے ایلینس (Aliens)کی پرکشش اور پر اسرار کہانیاں پڑھی اور سنی تھیں۔ اس لیے ان سے ملنے کا بھی انھیں بڑا اشتیاق تھا۔ جانے کیوں اسے بڑا یقین تھا کہ وہ ایک دن ضرور کسی دوسرے سیارہ پر پہنچے گا۔اور وہاں کی مخلوق سے رابطہ   کر کے ان تمام مِتھکوں کو توڑ دے گا جو کہ ایلینس کی موجودگی کو سراب مانتے تھے۔ اور آج اسے وہ موقع اپنے بالکل سامنے کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔عادل کو ناسا(NASA)نے خلا میں جانے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ وہ بے انتہا خوش ا ور مطمئن تھا۔

’’ابا…امی…کہاں ہو سب…‘‘ عادل کی مسرور آواز پر سبھی اس کے پاس دو ڑ پڑے۔

’’کیا ہوا…میاں …کیوں چیخ رہے ہو…‘‘ ابّا سدا کے بیزار لہجے میں گویا ہوئے۔وہ عادل کے خلا ئی سائنس کے شوق سے بہت بیزار رہتے تھے اور ہمیشہ کلپنا چاولا کے شٹل کرافٹ کے ایکسیڈینٹ کا رونا روکر عادل کو ہمیشہ مایوس کر تے رہتے تھے۔

ہمیشہ کی طرح ابا کی کرخت آواز پر دھیان نہ دیتے ہوئے عادل امی سے لپٹ گیا اور انھیں خوش خبری سنائی۔ پھر تو سبھی اچھل پڑے لیکن انجانے خوف نے انھیں اندر ہی اندر ہلا کر رکھ دیا تھا۔ بیٹے کی خوشی کا خیال کر کے سب نے دلوں کو سمجھا لیا تھا۔ لیکن ابّا اب بھی عادل کو خلا میں نہ جانے کے لیے منا رہے تھے۔ اچانک اخبار اور ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں نے جب عادل کو آ گھیرا تو سب نے خوشی خوشی انٹرویو دینے شروع کر دیئے۔

عادل کو زمین سے روانہ ہوئے تقریباً ۸گھنٹے ہو چکے تھے اور وہ اب خلا میں چکر لگا رہا تھا۔ دھیرے دھیرے عادل کا خلائی طیارہ اپنی منزل ’’مشن ٹو مارش‘‘ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ عادل دل ہی دل میں بے حد خوش تھا اسے خلا کے نادر نظارے کرنے کا موقع جو مل گیا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ خلا سے زمین بھی کتنی خوبصورت دکھائی دے رہی ہے۔ اور ہندوستان کیسا لگ رہا تھا ؟عادل نے بھی دل میں سوچا کہ راکیش شرمانے کہا تھا ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ اور یقیناً وہ بھی کچھ ایسا ہی کہتا۔ ابھی وہ اور کچھ سوچ پاتا کہ اچانک طیارے کا رخ تبدیل ہو گیا۔زمین سے طیارے کا رشتہ منقطع ہو گیا تھا اور طیارہ بہت تیز رفتار سے ایک چمک دار گولے کی طرف بڑھ رہا تھا۔عادل گھبرا اٹھا اس نے اور اس کی ٹیم کے تمام لوگوں نے زمین سے رابطہ بحال کرنے اور واپس اپنی راہ پر طیارہ کو لوٹانے کی کوشش کی لیکن سب بیکار ہو گئیں۔عادل کا طیارہ دھند اور غبار کے بادلوں کو چیرتا چمکدار گولے میں سما گیا تھا۔

٭

عادل نے اپنے چہرے پر کسی جاندار چیز کا لمس محسوس کیا تو اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔آنکھیں کھولتے ہی اس کی حیرت کی کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔

’’ت…تم…کون ہو‘‘ ۔عادل نے سامنے کھڑی ایک بے حد حسین دوشیزہ سے پوچھا جو کہ اس پر جھکی ہوئی تھی اور عادل کے زندہ ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ اسے چھو کر لے رہی تھی۔

دوشیزہ کے لب بدبدائے۔لیکن عادل نہ سمجھ سکا کہ اس حسین و جمیل دوشیزہ نے کیا کہا۔

عادل نے پھر پوچھا ’’تم کون ہو لڑکی‘‘

اچانک لڑکی نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک آلہ نکال کر اس کے کچھ بٹن دبائے اور اس کے ہیڈ فون کو کانوں سے لگا لیا۔

’’اوہ…ڈیر…تم زمین (Earth)سے آئے ہو۔‘‘ دوشیزہ نے بڑی مدہوش کر دینے والی آواز میں کہا جسے عادل نے صاف  طور پر سنا۔

’’کیا مطلب ہے تمہارا …اور یہ جگہ کون سی ہے ‘‘ عادل نے دوشیزہ سے ایک اور سوال کر دیا۔

’’مائی ڈیر …یہ زمین سے دس کروڑ پرکاش ورش دور…کوثر سیارہ ہے۔ اور تم یقیناً زمین کے واسی ہو۔‘‘ دوشیزہ کی گھنگھرو بجاتی آواز پھر عادل کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’لیکن میں یہاں کیسے آ پہنچا…‘‘ عادل چونکا۔

’’تم تو مارش پر جا رہے تھے نہ۔‘‘ دوشیزہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

’’ہاں … لیکن تمھیں یہ سب کیسے پتا۔‘‘ عادل حیران تھا۔

دوشیزہ پھر ہنسی۔’’ہمارا سیارہ ترقی کے معاملے میں زمین سے سیکڑوں سال آگے ہے۔‘‘

’’اوہ…‘‘ عادل نے گرد و پیش کا جائزہ لیا۔ یقیناً یہاں کی ترقی بہت آگے تھی۔  اس نے دیکھا کہ آسمان میں ہیلی کوپٹر اور ہوائی جہاز ایسے اڑ رہے تھے جیسے دہلی کی سڑکوں پر کاریں دوڑتی ہیں ،۔ چاروں طرف ہریالی تھی اور اونچی  اونچی بلڈنگوں کی جگہ بہت دور دور بنگلہ نما مکان تھے۔ عادل نے یہ بھی محسوس کیا کہ یہ ہریالی کچھ مصنوعی سی لگ رہی ہے اور دہلی جیسی بھیڑ بھاڑ بھی یہاں نہیں ہے۔

’’یہاں کی ہریالی مصنوعی سی کیوں لگ رہی ہے‘‘ عادل نے دوشیزہ سے پوچھا۔

دوشیزہ نے بڑی سرد آہ بھری اور درد بھری آوا زمیں کہا۔’’دراصل ہمارے سیارہ کی مخلوق نے ترقی تو بہت کی لیکن ترقی کی دوڑ میں اس نے قدرت کو بالکل ہی فراموش کر دیا تھا۔ جس کے سبب یہاں کی زندگی بھی مصنوعی سی بن کر رہ گئی ہے۔‘‘

اچانک دوشیزہ نے کہا۔’’تمہارا نام عادل صدیقی ہے اور تم زمین کے ایک ملک ہندوستان سے آئے ہو۔‘‘ دوشیزہ کی معلومات پر عادل کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔دوشیزہ نے پھر اپنا تعارف کرایا۔’’میرا نام عدینہ ہے اور میں اس سیارے کی راجکماری ہوں۔ تم اب ہمارے شاہی مہمان ہو ‘‘ عدینہ نے کہا۔’’اب ہم شاہی محل چلتے ہیں ‘‘ عدینہ نے کہا اور اپنے ایک ہاتھ سے عادل کا بازو تھاما اور دوسرے ہا تھ پر لگی خوبصورت گھڑی کے ایک بٹن کو دبا دیا۔ اگلے ہی پل دونوں شاہی محل کے مہمان خانے میں تھے۔

’’تم یہاں آرام کرو۔میں تمہارے لیے کھانا بھجواتی ہوں۔ ‘‘  عدینہ جانے لگی تو عادل نے کہا’’ سنئے…میں نہانا چاہتا ہوں۔ ‘‘  عدینہ نے باتھ روم کی طرف اشارہ کیا اور بولی ’’مجھے افسوس ہے کہ آپ کو یہاں پانی کی جگہ گرین کیمیکل سے نہانا پڑے گا۔‘‘ عدینہ کی بات سے عادل بڑا حیران تھا۔ وہ خوبصورت باتھ روم میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ وہاں چند بٹنوں کے علاوہ نہ کہیں ٹونٹی تھی اور نہ ہی شاور ۔وہ جیسے ہی کپڑے اتار کر آگے بڑھا اچانک اسے اپنے اوپر نرم و نازک پانی جیسی کوئی چیز گرنے کا احساس ہوا اس کا رنگ ہرا تھا۔

عادل نے ایک دم خود کو فریش محسوس کیا۔گرین کیمیکل خود بہ خود نکلنا بند ہو چکا تھا۔ عادل نے صفائی کے لیے تولیا کے بارے میں سوچا تو اچانک اسے ہلکی گرم ہوا جسم پر پڑتی ہوئی محسوس ہوئی اور چند سیکنڈ میں ہی وہ سوکھ چکا تھا۔

عادل باتھ روم سے باہر نکلا تو عدینہ اس کے انتظار میں صوفے پر دراز تھی۔ اسے آتا دیکھ کر وہ کھڑی ہو گئی۔

عادل نے پہلی مرتبہ عدینہ کو غور سے دیکھا۔ درمیانہ قد، لب جیسے گلاب کی پنکھڑی، ستواں ناک، پرکشش نقشہ اور ہرنی جیسی آنکھیں ،چہرے کا رنگ سرخ سپید،بالکل کسی حور کی طرح تھی عدینہ۔ لمبے گاؤن نما کپڑے جس پر بے حد باریک کام تھا جو کہ چاندی جیسی چمک بکھیر رہا تھا۔لباس نے عدینہ کی خوبصورتی کو دوبالا کر دیا تھا۔ لیکن عادل نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے پر شادابی نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ اتنے حسین پیکر میں یہ نقص کیوں رہ گیا۔

عادل بھی تقریباً ۲۶برس کا خوش رو نوجوان تھا۔ لمبا قد چوڑی پیشانی ،مضبوط بازو اور ہلکی سانولی رنگت اسے جاذب پیکر عطا کرتے تھے۔ دونوں نے ساتھ کھانا کھایا اور پھر کچھ دیر آرام کرنے کی نصیحت کر کے عدینہ چلی گئی۔

عادل نرم بستر پر  لیٹ گیا۔ اس کے دماغ میں بہت سے سوال گھوم رہے تھے ’’آخر اس سیارہ نے اتنی ترقی کی لیکن سب کچھ نقلی سا کیوں لگ رہا ہے۔کہیں کوئی تازگی کا احساس نہیں۔‘‘ عادل سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ عادل سوچوں میں گم کب سوگیا اسے پتہ ہی نہ لگا۔

عادل جب جاگا تو اسے شدید پیاس لگی۔ اس نے کمرے میں چاروں طرف نگاہ دوڑائی کہ کہیں پانی رکھا ہو لیکن اسے کہیں پانی دکھائی نہ دیا۔ ابھی وہ عدینہ کو بلانے کے بارے میں سوچ ہی  رہا تھا کہ اچانک عدینہ کمرے میں داخل ہوئی۔

’’لگتا ہے آپ کو پیاس لگی ہے۔‘‘ عدینہ نے پوچھا۔

’’ہاں کیا ایک گلاس پانی مل سکتا ہے۔‘‘

’’نہیں مائی ڈیئر ایک گلاس تو چھوڑو ایک بوند بھی نہیں مل سکتا۔ ‘‘ عدینہ نے مایوسی سے کہا۔’’لو یہ گلابی شربت ہے یہ تمہاری پیاس بجھا دے گا۔‘‘ عدینہ نے ایک گلابی شربت سے بھرا گلاس عادل کے ہاتھ میں دے دیا۔

عادل ایک ہی گھونٹ میں پورا گلاس خالی کر گیا۔ لیکن اس کی پیاس نہیں بجھی۔ اس نے ایک ایک کر کے کئی گلاس شربت پیا مگر اس کی پیاس پوری طرح نہیں بجھی۔

’’پلیزمجھے ایک گلاس پانی دو۔‘‘ عادل نے عدینہ سے وِنتی کی۔

’’کاش کہ میں تمہارے لیے پانی لا سکتی۔‘‘ عدینہ نے عادل کا  ہاتھ پکڑ کر بڑے مایوس انداز میں کہا۔

’’کیا تمہارے سیارے پر پانی نہیں ہے۔‘‘ عادل نے پوچھا۔پانی کی طلب سے اس کا برا حال تھا اور اس کا گلا ابھی بھی خشک ہو رہا تھا۔

’’ہمارا سیارہ بھی تمہاری زمین کی طرح کبھی بڑا ہرابھرا تھا۔یہاں جھیلیں ،تالاب اور ندیاں بھی تھیں اور سمندر بھی۔ زمین کی طرح یہاں بھی حسین موسم ہوتے تھے۔ لیکن ہمارے بزرگوں کی غلطی کا خمیازہ ہماری نسل کو بھگتنا پڑ ر ہا ہے۔ ‘‘ عدینہ کی بات ختم ہوئی لیکن عادل کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔

’’کیا غلطی کی تمہارے بزرگوں نے ‘‘ عادل نے دریافت کیا۔

’’ہمارے بزرگوں نے ترقی کے ایسے ایسے خواب دیکھے کہ ہمارا سیارہ ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ گیا کہ تمام آکاش گنگاؤں میں ہمارے برابر ترقی یافتہ کوئی سیارہ نہیں ہے۔یہاں تک کہ ہمارے سیارے کی مخلوق اتنی ترقی یافتہ ہو چکی ہے کہ وہ اب دور دراز کے سیاروں پر جا کر رہائش اختیار کرنے لگی ہے۔ تمہاری زمین پر بھی ہمارے بہت سے سائنسداں جا چکے ہیں۔اور تم لوگ انھیں ایلینس بلاتے ہو ‘‘ ۔عدینہ کی باتوں کاعادل پر بڑا اثر ہوا۔

’’لیکن تمہارے اتنے ترقی یافتہ ہونے پر یہ بات سوالیہ نشان نہیں لگاتی کہ تم اپنے مہمان کو ایک گلاس پانی بھی مہیا نہیں کر سکتیں۔ حالانکہ تم نے بڑی بڑی سہولیات میری مہمان نوازی میں مہیا کی ہیں۔‘‘

عادل کے دل کی بات عدینہ کے دل کو چبھی تھی۔وہ دل برداشتہ ہو کر بولی۔

’’کیا تمہیں واقعی پانی کی اتنی زیادہ ضرورت ہے۔ ‘‘

’’ہاں …تم نہیں سمجھتی لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر جلد مجھے پانی نہ ملا تو میں اپنی تمام تر توانائی کھو بیٹھوں گا۔‘‘ عادل بیقراری کے عالم میں بولا۔

’’ٹھیک ہے میرے ساتھ آؤ ‘‘ عدینہ نے عادل کی کلائی پکڑی اور اپنی گھڑی کاگرین بٹن دبایا۔

اگلے ہی پل وہ دونوں ایک اسٹیڈیم میں تھے جہاں کافی تماشائی جمع تھے۔ بیچ اسٹیڈیم میں گول گھیرے میں دوڑنے کا میدان بنایا گیا تھا جس میں تقریباً ۱۰۰سے بھی زائد لوگ دوڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔

’’یہ کیا جگہ ہے اور مجھے یہاں کیوں لائی ہو‘‘

’’یہ ہمارے سیارہ کا وسیع وعریض اسٹیڈیم ہے جس میں ہر سال آج ہی کے دن ایک خاص قسم کامقابلہ ہوتا ہے اور اسے جیتنے والے شخص کو ملتا ہے وہ سامنے رکھا انعام۔‘‘ عدینہ نے اپنے سامنے رکھے ایک شیشے کے جار کی طرف اشارہ کیا۔

’’اس میں کیا ہے‘‘ عادل نے پوچھا

’’آب حیات‘‘

’’کیا‘

’’ہاں اس جار میں آب حیات ہے ‘‘ عدینہ نے عادل کو معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا۔‘‘ کیا تم اسے حاصل کرنا چاہو گے۔

عدینہ کے چیلنج پر عادل کی مردانگی میں ابال آگیا۔

’’کیوں نہیں ڈیئر۔‘‘ عادل نے اچانک کچھ یاد کرتے ہوئے کہا ’’لیکن پانی…‘‘

’’ہمارے سیارے پر ہر سہولت اور ہر اشیاء موجود ہے جو کسی بھی آکاش گنگا میں پائی جاتی ہو گی۔ لیکن ہمارے بزرگوں نے ترقی کی اندھی خواہش میں نہ صرف کنکریٹ کے جنگل کھڑے کیے بلکہ تالاب پاٹ ڈالے ،ہرے بھرے پیڑ کاٹ ڈالے اور یہاں تک قدرت کے ساتھ دشمنی کی کہ سیارے کی آب و ہوا آلودہ ہو گئی پانی سوکھ گیا۔  ندی نالے ختم ہو گئے۔یہاں کی مخلوق پانی کی قلت سے تِل تِل کر مرنے لگی۔اور دیکھتے دیکھتے کنکریٹ کے جنگل سوٗنے ہوتے گئے۔ ‘‘ عدینہ شایدماضی کو سامنے دیکھ رہی تھی اس لیے اس کی آنکھوں میں سے چند قطرے بہہ گئے۔ لیکن شاید وہ بھی آنسو نہیں تھے کوئی نیلا کیمیکل ہی تھا۔

عادل کو اچانک یاد آیا کہ خود اس کے شہر میں بھی توپانی کی قلت ہونے لگی تھی۔ اس کے باوجود اسے نالیوں میں بہانے میں لوگ جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ اس کا شہر بھی تو کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے کہیں اس کا سیارہ بھی تو اس سیارہ کی طرح پانی سے محروم نہ ہو جائے گا۔

دوڑ شروع ہونے کی سیٹی بج چکی تھی۔ عادل بھی میدان میں اتر چکا تھا۔ تمام دیگر امیدوار اس کی جسمانی قوت کو دیکھ کر ہراساں ہو رہے تھے۔سیارہ کے دیگر امیدواروں کے جسم ظاہری طور پر تو طاقت ور لگ رہے تھے لیکن حرکات سے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ انسان نہیں کوئی مصنوعی روبوٹ ہیں۔ عادل نے دوڑشروع کی یہ تقریباً پانچ میل فاصلے کے برابر کی دوڑ تھی۔

عادل نے جب زمین سے مارش سیارہ کا سفر شروع کیا تھا اس سے قبل ہی اسے بڑی سخت ٹریننگ دی گئی تھی۔اسی ٹریننگ کی بنیاد پر عادل دوڑ میں شریک ہوا تھا۔ پانچ میل کی مسافت طے کرنے کے درمیان بہت سی رکاوٹیں بھی حائل تھیں۔ جن سے پار پانے میں عادل کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا وہ اب دوڑ کے آخری مرحلہ میں تھا۔لیکن طویل مسافت اور پیاس کی شدت نے اسے بے چین کر دیا تھا۔اس کے قدم لڑکھڑانے لگے تھے۔

عدینہ عادل کو مسلسل جوش دلا رہی تھی۔ عادل جب مشکل سے پانچ میٹر کے فاصلے پر تھا تو اسے لگا کہ وہ اب اور نہیں دوڑ سکے گا۔تبھی عدینہ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’دوڑو عادل …اب تم جیت چکے ہو …آب حیات تمہاری پہنچ میں آچکا ہے۔‘‘

عادل نے اپنی تمام تر قوت کو جمع کیا اور وہ پانچ میل کی لائن کراس کرتے ہی گر پڑا۔

عادل جیت چکا تھا لیکن اس کی تمام تر توانائی صرف ہو چکی تھی۔ عدینہ نے اسے اٹھایا اور ’’آب حیات ‘‘ کا جار اسے سونپ دیا۔

’’پانی…پلیز مجھے پانی چاہیے۔‘‘ عادل نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے عدینہ سے کہا۔

عدینہ نے جار کا منھ کھولا اور اسے عادل کے منھ میں دے دیا عادل جی بھر کے سیراب ہوا۔ اسے لگا کہ آب حیات نے اسے دوسری زندگی دے دی ہے۔

’’عدینہ یہ آب حیات کون سا کیمیکل ہے۔‘‘

’’یہ تمہاری زمین کا پانی ہے عادل جسے ایلینس تمہاری زمین سے لے کر آتے ہیں۔کیوں کہ ہمارے سیارے پر پانی ختم ہو چکا ہے۔جسے پانی کی خواہش ہوتی ہے اسے اس سخت مقابلے سے گزرنا پڑتا ہے جس میں کئی لوگ اپنی جان تک گنوا دیتے ہیں۔ ‘‘

عادل عدینہ کامنھ تکتا رہ گیا۔ اس نے سوچا ’’تو کیا وہ اتنی سخت مشقت محض ایک جارپانی کے لیے کر رہا تھا۔‘‘ اسے پھر دھیان آیا کہ اگر زمین کے لوگ بھی پانی کو یوں ہی ضائع کرتے رہے اور قدرت سے مذاق بند نہ کیا تو خود ان کا سیارہ بھی پانی جیسی نعمت سے محروم ہو جائے گا۔‘‘

’’نہیں نہیں وہ زمین کے لوگوں کو اس سیارے کے حوالے سے خبردار کرے گا۔‘‘ عادل نے سوچا۔

’’عادل اگر تم اپنے سیارہ کے لوگوں کو بیدا رکردوگے تو ہمارے ایلینس وہاں سے پانی نہیں لا پائیں گے۔‘‘ عدینہ نے عادل کے خیالات کو پڑھ لیا تھا۔ اس نے مزید کہا ’’اس لیے اب تم واپس نہیں جاپاؤ گے زمین پر۔‘‘

’’نہیں عدینہ پلیز مجھے واپس جانے دو۔ ورنہ تمہارے سیارے کی طرح میری پیاری زمین بھی پانی سے محروم ہو جائے گی۔ ‘‘ عادل کے گڑگڑانے کا بھی عدینہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ عدینہ نے عادل کی کلائی پکڑی اور واپسی کا ریڈ بٹن دبا دیا۔

 

٭٭٭