کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک پتہ…تنہا تنہا

اقبال سلیم


قریب کی مسجد سے اذان کی آواز سن کراس کی آنکھ کھل گئی اس نے کراہ کر کروٹ بدلنے کی کوشش کی مگر اس کی پیٹھ جیسے تختہ ہو گئی تھی اس کے زرد اور ستے ہوئے چہرے پر خون کی ایک بوند تک نہیں تھی، زندگی میں رونما ہونے والے تلاطم کا خمیازہ اس کے چہرے  اور ماتھے پر تہہ بہ تہہ جھریوں  اور شکنوں  اور اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کی شکل میں نقش ہو کر رہ گیا تھا۔ سرہانے تپائی پر پڑے ہوئے ڈبل روٹی کے بے شمار سوکھے ریزوں  اور لڑھکے ہوئے گلاس کی تہہ میں دودھ  اور شکر کے من و سلویٰ کی رمق کو کالی چیونٹیاں دیوانوں کی طرح چاٹ رہی تھیں۔ وہ دوپہر کو ڈبل روٹی کے چند ٹکڑے حلق سے اتار کر لیٹی اب مغرب کی اذاں سن کر بھی اٹھ نہ پائی تھی۔ مغرب کو مانگی جانے والی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ اس نے پڑے ہی پڑے سر پر پلو درست کر کے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے : ’’اے میرے اللہ! اب موت کے سوا میں تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گی۔ بس اب مجھے اٹھا لے۔ مزید دکھ سہنے کی اب مجھ میں سکت نہیں۔ یہ صدمے ، یہ دکھ کے انبار!آخر میرے کس گناہ کی سزا ہیں میرے مولا…!‘‘

دعا  اور شکوے کے دو بول کے سو اللہ سے مانگنے کے لیے اس کے پاس رہا ہی کیا تھا!اس کی ویران صحرا جیسی آنکھوں سے دو لرزتی کانپتی بوندیں ابل کر اس کی کنپٹیوں کے کناروں پر ڈھلک گئی۔

اب کمرے میں کاجل سا بھرنے لگا تھا، صبح گئی دونوں چڑیاں چھت کے سوراخ میں لوٹ کر ایک دوسرے کو جگ بیتی سنا رہی تھیں۔ وہ کالے رنگ کی تتلی بھی کھڑکی کی راہ اندر داخل ہو کراس کے گرد چند چکر لگانے کے بعد مطمئن سی ہو کر ایک کونے میں دیوار سے چمٹ کر سو چکی تھی۔ کھڑکی سے آتے ہوئے ہوا  کے جھونکے لمحہ بہ لمحہ سرد ہوتے چلے جا رہے تھے اس نے گردن موڑ کر تپائی پر رکھے ہوئے چراغ کو حسرت سے دیکھا۔ خود اس کی زندگی اس چراغ سے کیا کم تھی۔ وہ بجھ چکا ہے یہ ابھی پھڑپھڑا رہا ہے۔

بجلی صبح ہی سے بند تھی اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اٹھ کر چراغ جلا دے۔  ’’چنی نہیں آئی…! اس نے ایک آہ بھر کر سوچا ’’وہ ہوتی تو چراغ جلا دیتی۔ پوتا ستا رہا ہو گا۔ گٹھری کی طرح دن بھر کمر پر لادے پھرتی ہے بے چاری!دو گھڑی کو بھی اس کے پاس آ بیٹھے تو اس کی بہو کا پارہ چڑھنے لگتا ہے۔ ا س کے طنز کے زہر میں بجھے ہوئے اپنے سینے میں اس طرح سمو لیتی ہے جیسے وہ اس کا سینہ نہ ہو نرم نرم دلدل ہو اس دلدل سے کبھی آواز نکلتے اس نے کبھی نہیں سنی تھی۔

 ’’ہم کیا کسی کے بکاؤ غلام ہیں !کسی کا دیا کھاتے  اور جوٹھا پیتے ہیں !جو دن بھر اس کنجوس بڑھیا کے پنڈے سے لگے بیٹھے ہیں ایک چھوکری کو رکھنے کہو تو دم نکلتا ہے۔ کاہے کو رکھیں گے ماں ! یہاں تو بندھوا  نوکر جو ہیں بغل میں …‘‘

بہو سچ کہتی ہے۔ چنی تو اس کے کرایہ دار ہے اس کی کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی کسی بندھوا نوکر ہی کی طرح اس کی خدمت کرتی ہے۔ چنی نہ ہوتی تو وہ اب تک بستر پر پڑی ایڑیاں رگڑ رگڑ  کر مر  چکی ہوتی۔ دو برس ہوئے اس نے اپنا آدھا گھر  اسے کرایہ پر اٹھا  دیا تھا  اور خود آدھے گھر میں سمٹ کر رہنے گی تھی۔

چنی اپنی بہو بیٹے  اور سال بھرکے پوتے کے ساتھ اس گھر میں رہ رہی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ بیاہ کے تیسرے ہی برس اس کے سہاگ کو گھن لگ گیا تھا۔ مرد کے مرتے اس پر زمین تنگ ہو گئی تھی۔ ساس اٹھتے بیٹھتے اسے طعنے دیتی تھی کہ وہ منحوس ہے۔ آتے ہی میرے لال کو کھا گئی۔‘‘  ایک دن تنگ آ کر اس نے گھر چھوڑ دیا۔ سوتیلی ماں  اور زن مرید باپ نے اسے وداع کر کے پھر پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ اس نے کسی کا ہاتھ تھامنے کی بجائے اپنے پاؤں پر آپ کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔ ایک جھونپڑا کرایے پرلے کر ایک کارخانے میں بیڑیاں بنانے لگی  اور اپنا سب کچھ اپنے بچے پر تج دیا۔ بھرپور جوانی ہوس کے تیروں کے آگے سینہ سپر ہو گئی تو ساری یلغار اپنی موت آپ مر گئی۔ یہ آپ بیتی سن کر اسے چنی کے روپ میں خود اپنی روح نظر آئی تھی وہ اس کے لیے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ محسوس کرنے لگی تھی۔ چنی نے کبھی اسے یہ احساس نہ ہونے دیا تھا کہ وہ غیر قوم کی ہے وہ ذات و مذہب کے فرق کے احساس کے بغیر قدم قدم پر اسے سہارا دیتی  اور اس کا درد بانٹتی آ رہی تھی۔

چند ماہ قبل جب اس کے گردے جواب دے گئے  اور وہ بستر سے لگ گئی تو چنی نے بہو کے طنز کے تیروں کی پرواہ کئے بغیر اس کی تیمار داری کرتے ہوئے اس کے لیے ایک نور میں ڈھلا ہوا پیکر بن گئی تھی۔

 ’’اللہ سلامت رکھے۔‘‘  چنی کے لیے اس کے دل سے دعا نکلی ’’ہاں ایک ہی توہے چنی۔ میری ماں ، بہن، بیٹی  اور سہیلی…اس نے غیر قوم کی بے آسرا  اور بے بس عورت کے لیے سارے رشتے تج دیئے ہیں۔ اللہ اسے سلامت رکھے۔‘‘ دفعتاً دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔ چنی آ گئی تھی۔ اس نے چراغ جلایا تو کمرے میں ہلکا ہلکا  اجالا پھیل گیا۔

 ’’ماں جی!مجھے ذرا دیرہو گئی کیا کروں پوتا صبح سے رو رہا تھا۔ نظر ہو گئی ہے۔ ابھی ابھی مسجد لے گئی تھی…دم کروانے۔ اب سو گیا ہے تو آ گئی ہوں …تم ابھی تک ایسے ہی پڑی ہو… ہے رام … رات ہونے کو آئی۔‘‘

اس نے اسے سہارا دے کر دیوار کے سہارے بٹھا دیا۔ ’’روٹی سینک دوں۔‘‘

وہ محبت و مروت کے یہ رس گھولنے والے بول سنتی  اور مسحور ہوتی رہی ’’مجھ سے کچھ بھی نہ کھایا جائے گا چنی! ڈبل روٹی کھاتے کھاتے جی اوب گیا ہے۔ اب مجھے قئے ہو جائے گی۔‘‘

 ’’تو کیا بھوکی سوؤ گی…ہے رام!دوپہر کے بچے ہوئے ٹکڑ ے سینک دیتی ہوں۔ دودھ سے کھالو صبح آ کر کھچڑی بنا دوں گی  اور پودینے کی چٹنی بھی بنا دوں گی ساتھ میں … نہیں تو بھوکی سوؤ گی تو اور کمزور ہو جاؤ گی…رام کرے جلد اچھی ہو جاؤ۔‘‘

 ’’اللہ تجھے خوش رکھے چنی!جتنا سکھ تو نے دیا ہے اس سے دگنا سکھ تجھے اللہ دے۔‘‘

 ’’اور گولیاں …!‘‘ … ’’کھالوں گی۔ مجھے ذرا سہارا دے۔ میں اٹھوں گی۔‘‘

چنی کے سہارے باتھ روم سے لوٹ کر بستر پر بیٹھنے کی کوشش میں وہ گرتے گرتے بچی، اس کے منہ سے ایک آہ نکل گئی: ’’آہ !چنی!اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میرا وقت پورا ہو چکا ہے۔ میں زیادہ دیر نہیں جیوں گی۔‘‘

 ’’ماں جی!…‘‘ چنی کا دل بھر آیا۔کیوں بد فال منہ سے نکالتی ہو۔ گولیاں برابر کھایا کرو گی تو جلد اچھی ہو جاؤ گی…بھگوان کرے یاد کرو ڈاکٹر نے کیا کہا تھا۔ اچھا تم بیٹھو۔ میں ابھی روٹی سینک دیتی ہوں گولیاں کھلا دوں گی۔‘‘

وہ روٹی  اور گولیاں کھلا کر  اور تسلی دے کر باہر سے دروازہ بھیڑ کر چلی گئی تو وہ بھی بستر پر دراز ہو گئی۔ گھڑی نے بارہ بجائے تو وہ چونک پڑی ماحول پر گہرا سناٹا مسلط تھا۔ چھت کے سوراخ میں چڑیوں کی جگ بیتی بھی ختم ہو چکی تھی اس نے ہاتھ جھلا کر چراغ گل کر دیا تو رہے سہے اجالوں کو اندھیروں نے نگل لیا۔ اب اس کی ویران آنکھیں اس اندھیرے کوتک رہی تھیں دیکھتے ہی دیکھتے ان اندھیری خلاؤں میں یادوں کی جگ مگ کرتی کہکشاں سی سجتی چلی گئی۔ افق پر تیس برس پہلے کا زمانہ چاند کی طرح ابھر آیا۔

تیس برس پہلے کی دنیا تو ایسی نہیں تھی اس میں کانٹے نہیں تھے ، مسائل کے اژدہے نہیں تھے ، بس امن و سکون کے مہکتے چمن تھے۔ لیکن کون جانتا تھا کہ یہ مہ و سال، یہ مہکتے چمن کبھی نہ ختم ہونے والی خزاں کی چاپ سن رہے ہیں۔ ایک وقت آئے جب اس کا وجود اس خزاں رسیدہ چمن کے ایک درخت کے آخری پتے کی طرح ہو جائے گا۔ زرد اور لرزاں ایک پتہ…تنہا تنہا۔‘‘  یادیں تو سکھیاں ہوتی ہیں۔ جو تنہائی کے اندھیروں میں کچھ دیر کے لیے چراغ جلا جاتی ہیں۔ دفعتاً یادوں کا ایسہی ایک چراغ جلا  اور ممتاز کا سراپا کسی شہاب ثاقب کی طرح ٹوٹ کر اس کے ذہن سے آ ٹکرایا۔ اسے اپنی سہاگ رات یاد آئی جب ممتاز نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کراس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا تھا: ’’ریحانہ! میں آج خود کو دنیا کی سب سے خوش نصیب ہستی تصور کر رہا ہوں۔ تمہارے چہرے سے پھوٹتا ہوا نور میری روح کی گہرائیوں تک میں اجالا کئے دے رہا ہے۔ میں اس چمن کی اس بہار کو دیکھ رہا ہوں جس کا مجھے جنم جنم سے انتظار تھا۔‘‘ …ممتاز نے غلط نہیں کہا تھا اگلے ہی برس سلطانہ نے ان کی محبت کی یادگار کی شکل میں جنم لیا  مگر ممتاز کو شاید معلوم نہ تھا کہ بہار سدا بہار نہیں رہتی۔ زندگی کی خوشیاں تو کسی رائے کے مسافروں کی طرح ہوتی ہیں جو ملتی ہیں  اور بچھڑتی ہیں۔خوشی کی دولت تو خدا کے ہاں روز ازل بندوں کوتل کر ملتی ہے  اور اسے ہیرے جواہرات کی طرح صندوقوں میں بند کر کے رکھا نہیں جا سکتا۔ آخر وہی ہوا ایک دن اس بہار کو خزاں نے نگل لیا۔ شادی کو پانچ ہی برس ہوئے تھے کہ ایک شام لوگ سفید چادر میں ڈھکا ہوا ممتاز کا بے جان جسم برآمدے میں لا کر رکھ گئے۔ دفتر سے اسکوٹر پر گھر آتے ہوئے ایک تیز رفتار ٹرک نے اسے موت کا نوالہ بنا دیا تھا۔ لوگ خاموش کھڑے اسے تک رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ منہ سے کچھ بولے ، روئے ، چیخیں مارے ، مگر شاید اس کی قوت گویائی سلب ہو چکی تھی۔ آنکھوں کے کنوؤں میں آنسو نام کی کوئی بوند نہ تھی۔ پھر وہ کسی کٹی ہوئی شاخ کی طرح ممتاز کے روح سے خالی جسم پر گر پڑی تھی۔

اب وہ سلطانہ کے ساتھ اتنی بڑی دنیا میں تنہا رہ گئی۔ سلطانہ اس کی  اور ممتاز کی محبت کی چار سالہ یاد گار…اسے ممتاز سے ایک گھرکے سوا کچھ نہ ملا تھا۔ ممتاز کے حاتمی مزاج کا اس کے بھائیوں نے خوب فائدہ اٹھایا تھا۔ وہ جونکوں کی طرح اس وقت تک اسے چوستے رہے تھے جب تک کہ اسے قبر میں اتارا نہیں گیا۔ وہ آئے  اور مگرمچھ کے آنسو بہا کر چلے گئے۔ پھر کبھی پلٹ کر نہ پوچھا کہ اس کے پسماندگان پرکیا گذر رہی ہے …وہ مایوس  اور مجبور ہو کر ایک اسکول میں پڑھانے لگی پھر اس کی ذات کسی سیارے ہی کی طرح متحرک ہو گئی  اور اس وقت تک نہ ٹھہری جب تک کہ سلطانہ نے ڈاکٹر بن کر اپنا ذاتی کلینک نہیں کھول لیا۔ اب اسے اس کی شادی کی فکر نے آ گھیرا۔ بڑی تلاش و  جستجو کے بعد اس نے اس کے لیے ایک سافٹ ویئر انجینئر ظہیر کا انتخاب کیا۔

وقت کی ہوا زندگی کے  اوراق الٹتی رہی دن بظاہر سکون سے گذرتے رہے پھر سلطانہ کی آنکھوں میں ابھرنے والے اداسی کے سائے اسے کھٹکنے لگے۔ ایک دن اس کے اصرار پر اس نے بتایا کہ ظہیر انتہائی خودغرض  اور حریص ہے وہ اس پر نہ صرف مزید جہیز لانے کے لیے مظالم ڈھا رہا ہے بلکہ یہ دباؤ بھی ڈال رہا ہے کہ ہر ماہ اپنی بے سہارا ماں کو دی جانے والی ایک ہزار کی رقم بند کر دے۔

یہ سن کر اس کے سارے وجود میں کانٹے سے بھر گئے اس نے اپنے سینے پر صبر کی سل رکھتے ہوئے بیٹی کو مشورہ دیا کہ وہ ظہیر کی بات مان جائے مگر مزید جہیز !اس مطالبے کی تکمیل کے لیے اسے کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا۔ اپنی عمر بھر کی پونجی اس نے سلطانہ کو بنانے  اور سنوارنے پر صرف کر دی تھی۔

ایک شام ظہیر تنہا اس کے ہاں آیا، وہ کافی پریشان معلوم ہوتا تھا اس نے بتایا کہ سلطانہ اسٹو پھٹ جانے سے بری طرح جھلس گئی ہے۔ وہ اسے اسپتال میں داخل کر آیا ہے۔

اسپتال میں سلطانہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ اس نے تنہائی میں اسے بمشکل اتنا ہی بتایا کہ ایک جھگڑے کے دوران ظہیر نے اسے مٹی کا تیل چھڑک کر جلایا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ پولیس کے سامنے کوئی بیان دے وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔ اس نے نیم دیوانگی کے عالم میں پولیس کو سلطانہ کا بیان سنایا  اور یہ بھی کہا کہ گھر میں کوئی اسٹو نہیں تھا۔ یہ سراسر جہیز ہراسانی کا کیس ہے۔ مگر کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ اتفاقی حادثہ بتا کر کیس بند کر دیا گیا۔

وہ دربدر فریاد کرتی  اور بھٹکتی رہی۔ اس نے محلے کے کارپوریٹر  اور ممبر اسمبلی تک سے مدد کی بھیک مانگی۔ کسی کے بتانے پر وہ انسداد جہیز مظالم کمیٹی کے آگے بھی پیش ہوئی  اور بیان دیا تو اسے بتایا گیا کہ وہ اپنا بیان سرکاری زبان کنٹری میں ترجمہ کر کے لائے اس سلسلے میں اسے کمیٹی کی اس مسلمان خاتون ممبر سے رجوع ہونے کو کہا گیا جو نہ صرف اردو جانتی تھی بلکہ اس کا کنٹری میں ترجمہ بھی کر سکتی تھی۔ مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ یہ وہی لوگ تھے …سیاسی بھکاری۔ جنہوں نے عوام کے ووٹوں کی خیرات کے بل پر خود کو زندہ رکھا  اور اقتدار چاہا تھا۔ آج اسی اقتدار کے نشے میں انہی لوگوں کو پہچان نہیں پا رہے تھے جنہوں نے انہیں ووٹوں کی بھیک دی تھی۔

جب اسے یقین ہو گیا کہ اسے انصاف کہیں نہیں مل سکتا تو اس کی کمر ٹوٹ گئی  اور اس کی صحت متاثر ہونے لگی۔ اب وہ اتنی بڑی دنیا میں تنہا رہ گئی تھی…خزاں رسیدہ درخت کے آخری پتے کی طرح …یکتا و تنہا…

پھر اسے گردوں کی خرابی کے مرض نے آ لیا۔ ڈاکٹر نے بتایا  کہ اس کے دونوں گردے جواب دے رہے ہیں تو اسے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ وہ چاہتی بھی یہی تھی کہ کسی بہانے اللہ اسے اس دنیا سے اٹھا لے۔ اب وہ چھ ماہ سے بستر سے لگ کر رہ گئی تھی۔ اس کی بیماری کی خبر اس کے دونوں دیوروں تلک پہنچی جو اپنے بھائی کے مرتے آخر شب کے ستاروں کی طرح غائب ہو گئے تھے۔ایک دن اس کی عیادت کو آئے ، مزاج پرسی کی افسوس کا اظہار کیا  اور چلتے چلتے زور دے کر یہ بھی کہا کہ، اب جبکہ اس کا کوئی وارث نہیں ہے لہٰذا اپنے وصیت نامے میں یہ مکان ان کے نام کر دے۔

یہ ابن الوقتی کی انتہا تھی، اس کا جی چاہا کہ ان کے منہ پر تھوک دے مگر ضبط کیا  اور چپ ہو رہی۔

دفعتاً اس کی آنکھوں تلے سجی ہوئی یادوں کی کہکشاں دھندلا گئی۔ بستر پر پڑے پڑے اسے اپنے اندر ایک جوار بھاٹا سا اٹھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا  اور جسم پسینے میں ڈوبنے لگا۔ پھر اس کا دم اندر ہی اندر کوئی گھونٹنے لگا۔ سانس تیز تیز چلنے لگی۔ اس نے اپنی ساری قوت یکجا کر کے چنی کو آواز دینی چاہی مگر آواز حلق ہی میں گھٹ کر رہ گئی۔ اب اس کی سانس جیسے رکنے لگی  اور آنکھیں حلقوں سے باہر نکلی پڑ رہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا ذہن تاریکیوں کے سمندر میں ڈوب گیا۔

اگلی صبح چنی نے دروازہ کھولا تو وہ معمول کی طرح اپنے بستر پر خاموش پڑی تھی  اور آنکھیں چھت کو تک رہی تھیں۔ اس نے قریب آ کر اسے جھنجھوڑا ’’ماں جی! اجالا ہو گیا ہے۔ اٹھ کر منھ ہاتھ دھولو، لگن میں پانی لاتی ہوں۔ کھچڑی بنا دوں گی۔ پودینہ لیتی آئی ہوں۔‘‘  مگر اس کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی وہ اسی طرح پڑی خاموش چھت کو تکتی رہی تو چنی نے گھبرا کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جو برف کی طرح سرد تھا  اور سینہ کسی ٹھہرے ہوئے سمندر کی طرح خاموش  اور پر سکون… چنی کی چیخ نکل گئی۔ مغرب کو مانگی ہوئی دعا قبول ہو چکی تھی۔ خزاں رسیدہ درخت کا آخری پتہ بھی ٹوٹ کر نیچے گر گیا تھا۔

اب اس کے گرد بھیڑ اکٹھی ہونے لگی لو گ افسوس کے بول کے درمیان اس کے گن گا رہے تھے۔ اس کے آخری دیدار کو آنے والوں میں ایک وکیل صاحب بھی تھے۔ وہ چند لمحوں تک خاموش کھڑے اسے خراج عقیدت پیش کرتے رہنے کے بعد آنکھیں صاف کرتے ہوئے لوگوں کی طرف مڑے  ’’آپ میں شریمتی چنما عرف چنی کون خاتون ہیں ؟‘‘

چنی نے چونک کر ان کی طرف حیرت سے دیکھا  اور ساڑی کے پلو سے آنکھیں خشک کرتے ہوئے جواب دیا ’’میرا ہی نام چنی ہے۔‘‘

وکیل صاحب نے اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھا ’’مرحومہ ریحانہ بیگم نے اپنا وصیت نامہ عرصہ ہوا میرے پاس محفوظ کیا تھا۔ انھوں نے اپنے کفن دفن کی ذمہ داری مجھے سونپی ہے۔ بنک میں ان کی پچاس ہزار روپئے کی رقم جمع ہے۔ تدفین کے اخراجات سے جو رقم باقی بچے ان کی خواہش کے مطابق ساری کی ساری اس یتیم خانے کودی جائے گی جہاں انھوں نے پرورش پائی تھی۔ اب رہا ان کا یہ گھر تو وہ سارے کا سارا اپنی با ہمت، حوصلہ مند، بے غرض  اور دردمند منہ بولی بہن شریمتی چنما عرف چنی کے نام کر دیا ہے۔ وہ اب قانونی طور پراس کی واحد وارث ہیں۔‘‘

مجمع پر سناٹا چھا گیا۔ اس سناٹے میں صرف چنی کی لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی ہوئی سسکیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جو اپنے منہ میں پلو ٹھونسے کسی بچے ہی کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔ وکیل صاحب اس کی طرف پر تحسین و شفقت آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے زیر لب یہ شعر پڑھ رہے تھے :

وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے

مرے بتکدے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

٭٭٭