کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شک

اقبال سلیم


چاچا جی…چاچا جی…!آواز کچھ مانوس معلوم ہوتی تھی۔میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو ٹھٹھک کر رہ گیا۔ سامنے الطاف کا لڑکا مختار کھڑا تھا۔

 ’’کیا ہے …؟‘‘  میں نے رکھائی سے پوچھا۔

 ’’ابا بلاتے ہیں …‘‘  وہ سہم کر بولا۔

 ’’تجھ سے غلطی ہوئی ہے ، کسی  اور کے لیے کہا ہو گا۔‘‘

 ’’نہیں جی!انھوں نے آپ ہی کے لیے کہا تھا، کہتے تھے کہ افضل کے ابا کو بلا لاؤ۔‘‘

مجھے سخت حیرت ہوئی، گھڑی میں رات کے گیارہ بج رہے تھے اتنی رات گئے میرے ایک دشمن کو مجھ سے کیا کام آ پڑا تھا جس سے برسوں سے میری بول چال بند تھی جو غالباً اپنی زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہا تھا، میں شش و پنج کے عالم میں کھڑا مختار کو تک رہا تھا۔ کوئی گیارہ بارہ برس کی عمر ہو گی۔ متین چہرہ، جھکی جھکی آنکھیں …مگر نہیں …کیا وہ حقیقتاً الطاف کا لڑکا تھا۔ وہ تو بلاشبہ میرا عکس تھا۔ وہی ناک نقشہ، وہی گھنگریالے بال  اور سانولا رنگ۔

 ’’اچھا تو جا…‘‘ میں نے ٹالنے کو کہا، میں کچھ دیر بعد آؤں گا۔

وہ الٹے پاؤں لوٹ گیا تو میں اندر آ کر بستر پر گر پڑا…جاؤں یا نہ جاؤں …؟ میں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا ایک شکی المزاج دوست کے دشمن بن جانے کے بعد اس سے کوئی تعلق رکھنا دانش مندی نہیں تھی۔

گرما کی چھٹیاں تھیں ساجدہ  اور بچے گاؤں گئے ہوئے تھے گھر میں سناٹا تھا۔ میں نے پڑے پڑے تپائی پرسے پیکٹ اٹھا کر ایک سگریٹ جلایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھوئیں کے مرغولے یادوں کے کارواں بن گئے۔

مجھے تیرہ برس قبل کا وہ دن یاد آ رہا تھا جب الطاف سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ سٹی مارکیٹ جاتے ہوئے بس کنڈکٹر سے اس کی تکرار ہو گئی اس کے پاس سو کا نوٹ تھا۔ کنڈکٹر کے پاس ریزگاری نہیں تھی۔ میں اس کے پہلو میں ہی بیٹھا تھا۔ جیب سے ڈیڑھ روپیہ نکال کر کنڈکٹر کو دے دیا تو اس نے شکر گذار نگاہوں سے مجھے دیکھا پھر باتیں چھڑ گئیں۔ اس نے بتایا ’’میں حیدرآباد کا ہوں گلبرگہ میں ایک دفتر میں کام کر رہا تھا کہ دو ماہ ہوئے میرا تبادلہ یہاں ہو گیا۔ میں ایک معقول مکان کے لیے پریشان ہوں  اور ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہ رہا ہوں۔‘‘  اس نے مزید بتایا کہ  ’’مکان مل جائے تو اپنی بیوی کولے آؤں۔‘‘

نیکی کے لیے ہر کوئی تیار ہو جاتا ہے بشرطیکہ اس میں اس کا کچھ جاتا آتا نہ ہو۔میرے مکان کی بغل میں ایک چھوٹا سا مکان خالی پڑا تھامیں نے اسے وہ مکان دلانے کا وعدہ کیا پھر ایک ہفتے بعد دونوں اپنے مختصر سے سامان کے ساتھ مکان میں آ گئے۔ اس کی بیوی نسیم کو دیکھ کر مجھے اس پر رشک آیا وہ بلاشبہ سینکٹروں میں ایک  اور حیدرآبادی حسن کا نفیس نمونہ تھی۔ لیکن یہ جان کر مجھے دکھ ہوا کہ قدرت کی طرف سے اتنا سب کچھ پانے کے باوجود وہ اپنی ازدواجی زندگی کی حقیقی مسرتوں سے محروم ہیں۔ شادی کو دس برس گذر جانے کے باوجود اس کی بیوی کی گود خالی ہی تھی اولاد سے محرومی کا احساس دونوں کے درمیان خلیج میں بدل گیا تھا جو اکثر الطاف کی باتوں سے جھلکتی تھی۔ ایک بار تو اس نے نسیم کو طلاق تک دینے کی سوچ لی تھی پھر ارادہ عقد ثانی کے منصوبے میں بدل گیا تھا۔ نسیم ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ باطنی حسن سے بھی مالامال تھی۔ سادگی پسند، نرم گو اور خوش اخلاق۔ اپنے شوہر کی طرح جلد گھل مل جانے والی۔ وہ جلد ہی ہم لوگوں سے اس طرح مانوس ہو گئے جیسے پرانی جان پہچان ہو۔ لیکن نسیم کی ساری خصوصیات شوہر کی روح کے زخموں کا مرہم نہ بن سکیں۔ چنانچہ ایک دن الطاف نے مجھے بتایا ’’میں دوسری شادی کی سوچ رہا ہوں مجھے یقین ہو گیا ہے کہ نسیم کبھی ماں نہیں بن سکے گی۔‘‘

 ’’لیکن قدرت کی اس نا انصافی کا بدلہ بے گناہ بیوی سے نہیں لیا جا سکتا۔‘‘ مجھے نسیم پر ترس آیا۔ ’’یہ سراسر زیادتی ہو گی۔‘‘

 ’’یہ ظلم یا زیادتی کی باتوں کا وقت نہیں۔‘‘ اس نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے ہر حال میں ایک بچہ چاہئے جو میرے خاندان کا چراغ جلائے رکھ سکے۔میں اس کے لیے سب کچھ کر گذرنے کو تیار ہوں۔‘‘

لیکن الطاف کو کچھ کر گذرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ خدا کی شان کچھ ہی عرصے بعد ایک رات نسیم کی طبیعت بگڑی۔ لیڈی ڈاکٹر نے معائنے کے بعد یہ خوش خبری سنائی کہ اس کا اب تیسرا مہینہ  شروع ہو رہا ہے۔‘‘

قدرت کی اس غیر متوقع فیاضی پر جہاں نسیم کی آنکھوں سے شکر کے دریا بہہ نکلے وہاں الطاف کی دنیا ہی بدل گئی اسے اب بات بات پر خدا یاد آنے لگا تھا۔ وہ سب کچھ بھول کر نسیم کی دیکھ بھال میں لگ گیا۔ جوں جوں نئے مہمان کی آمد کے دن قریب آ رہے تھے توں توں اس کے جوش و خروش میں اضافہ ہوتا گیا۔ اتفاق سے انہی دنوں ساجدہ بھی امید سے تھی  اور یہ بھی اتفاق تھا کہ گھرکے قریب ہی ایک اسپتال میں نسیم  اور ساجدہ کو با الترتیب چار دن کے وقفے سے داخل کیا گیا۔

جس رات زچگیاں ہوئیں اتفاق سے ہم میں سے کوئی بھی اپنی بیویوں کے پاس موجود نہ تھا۔ الیکشن قریب تھے اس لیے میں کمشنر کے ساتھ دورے پرتھا۔ چلتے وقت میں الطاف سے ساجدہ کا بھی خیال رکھنے کو کہہ گیا تھا۔ دونوں زچگیاں آدھی رات کو چند گھنٹوں کے وقفے سے ہوئیں جبکہ غیر ذمہ دار ڈاکٹر نے دوسرے دن کا وقت دیا تھا چنانچہ الطاف صبح آنے کے ارادے سے رات نو بجے ہی اسپتال سے گھر لوٹ آیا تھا صبح جب وہ اسپتال پہنچا تو پتہ چلا کہ جہاں اس کے حصے میں پھول آئے ہیں وہاں میرے حصے میں کانٹے ہی کانٹے آئے ہیں۔ نسیم نے آپریشن کے ذریعے اپنے پہلے  اور آخری بچے کو جنم دیا تھا جب کہ ساجدہ کے ایک خوبصورت مگر مردہ بچہ پیدا ہوا تھا۔ شام ہوتے ہوتے میں بھی پہنچ گیا۔ اگرچہ یہ میری تیسری اولاد نرینہ مگر مجھے ایسا ہی لگا جیسے یہ میری پہلی اولاد ہو۔غم و اندوہ سے ہم دونوں کا برا حال تھا۔ میں الطاف کو مبارک باد تک نہ دے سکا چند دن بعد جب حالات کچھ سنبھلے توہم دونوں ان کے گھر گئے۔ مبارک باد دی ساجدہ نے جوں ہی نسیم کے ہاتھوں سے اس کے بچے کو لیا میری طرف دیکھتے ہوئے اس کے منہ سے بے اختیار نکلا  ’’ارے یہ تو بالکل آپ پرگیا ہے۔‘‘

فوراً ہی میں نے محسوس کیا کہ ان دونوں کے چہرے بجھ سے گئے ہیں۔ چند لمحوں بعد الطاف اٹھا  اور جھک کر بچے کو بغور دیکھتے رہنے کے بعد ایک کھسیانی سی ہنسی ہنس کر بولا ’’ہاں !تھوڑا بہت …‘‘  پھر فوراً ہی ماحول پر کڑوی کسیلی خموشی چھا گئی۔

ساجدہ نے غلط نہیں کہا تھا، بچے کے نقوش  اور رنگ بڑی حد تک مجھ سے ملتے تھے جبکہ اس کے  اور اس کے ماں باپ کے درمیان کوئی بات مشترک نہ تھی وہ دونوں ہی گورے چٹے  اور خوبصورت تھے اس کے برعکس ہم دونوں سانولے تھے۔ پھر ہم جلد ہی سنبھل گئے  اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد لوٹ آئے۔

اس دن کے بعد میں نے محسوس کیا کہ الطاف کے رویے میں ایک طرح کا روکھاپن ابھر آیا ہے پھر آگے چل کر یہ روکھاپن ہمارے درمیان ایک دراڑ میں بدل گیا۔ دونوں کا ہمارے ہاں آنا جانا بند ہو گیا۔

ایک عرصہ گذر گیا۔ ایک رات میں دیر گئے تنہا گھر لوٹ رہا تھا کہ ایک سنسان موڑ پر مجھے الطاف نظر آیا۔ جو ایک درخت کے نیچے کھڑا سگریٹ پھونک رہا تھا۔سگریٹ پھینک کر اس نے آواز دی ’’ٹھہرو…!‘‘

میں قریب پہنچ کر رکا تو اس نے نفرت و حقارت سے پر لہجے میں کہا ’’مجھے تم سے ہر گز ایسی امید نہ تھی میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ تم دوستی کا حق اس طرح ادا کرو گے۔‘‘

 ’’میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا!‘‘ میں نے متعجب ہو کر کہا ’’آخر تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘

 ’’تم مجھے بے وقوف بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکو گے …‘‘  وہ غرایا ’’نسیم کے پیٹ سے جنم لینے والا بچہ میرا ہرگزنہیں ہے۔‘‘

 ’’تو پھر کس کاہے …؟‘‘

 ’’تمہارا  اور صرف تمہارا…تم اپنی بیوی کا وہ جملہ یاد کرو جب اس نے بچے کو دیکھتے ہی کہا تھا۔ اس نے کہا تھا ’’ارے بچہ بالکل آپ پر گیا ہے۔‘‘ اس سے پہلے میرا خیال اس طرف نہیں گیا تھا۔ تم نے اپنے دوست کی پیٹھ پر چھرا گھونپ کر اچھا نہیں کیا۔ یہ سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے۔ بچہ نسیم سے تمہارے نا جائز تعلقات کا نتیجہ ہے۔‘‘

وہ ایک بجلی تھی جو مجھ پر گری تھی۔میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ’’ہوش میں آؤ…‘‘  میں نے دانت پیس کر کہا ’’شک سے تمہاری عقل پر پتھر پڑ گئے ہیں۔ آخر تم کس ثبوت کی بنیاد پر مجھ پر یہ الزام لگا رہے ہو؟بس یہی ناکہ بچے کی شکل مجھ سے ملتی ہے ؟‘‘

 ’’ہاں !ایک ثبوت تو تمہاری بیوی کا وہ جملہ ہے۔ دوسری نسیم یہاں آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد حاملہ ہوئی تھی۔ جبکہ وہ دس برس سے اس گھڑی کو ترس رہی تھی۔ اس کے ماں بننے کے آثار معدوم ہو چکے تھے۔ تیسرے اس کا حسن کسی کی نیت بگاڑنے کو کافی ہے  اور پھر وہ سادہ مزاج  اور بھولی ہے۔ اس کا کسی کے جھانسے میں آ جانا ناممکن نہیں  اور تم …!ایک شریف بدمعاش! تم نے نیک شریف  اور خانہ دار عورت کو بہکا کر اچھا نہیں کیا…‘‘ وہ سانپ کی طرح پھنکارا ’’میں بھلوں کے لیے بھلا مگر بروں کے لیے بہت برا ہی ثابت ہو سکتا ہوں۔ لہٰذا میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔ میں جانتا ہوں کہ تمہاری سزا کیا ہو سکتی ہے۔ میں تم سے انتقام ضرور لوں گا۔‘‘

یہ سن کر مجھ میں ضبط کی تاب نہ رہی اس کے دل میں شک کا جو بیج بویا گیا تھا اس سے پھوٹی ہوئی شاخوں نے اس کے سارے وجود کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ میں نے بھنا کر اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا تھا پھر ہم دست گریباں ہو گئے۔ وہ غصے میں دیوانہ ہو رہا تھا موقع پاکر مجھے زمیں پر گرا دیا  اور دونوں ہاتھوں سے گلا گھونٹنے لگا۔ اس وقت کہیں قریب ہی کسی کار کی ہیڈ لائٹس دکھائی نہ دے جاتیں تو میرے مر مٹنے میں کوئی کسر باقی نہ رہتی وہ مجھے چھوڑ کر اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ کچھ دیر بعد میرے حواس بجا ہوئے تو اٹھا  اور خاموشی سے گھر چلا آیا۔ مگر میں نے اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا  اور نہ ہی کوئی انتقامی کاروائی کی۔ میں جانتا تھا کہ شک نے اسے اندھا کر دیا ہے  اور شک کا علاج آج تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ جب اسے حقیقت کا علم ہو گا تو وہ میرے پیروں پر آ گرے گا۔ اس واقعہ کے چند دن بعد اس نے گھر بدل دیا  اور کچھ فاصلے پر ایک دوسری گلی میں گھر لے کر رہنے لگا۔ کبھی کبھی ہمارا آمنا سامنا ہوتا تھا مگر اب ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھے۔ اسے گھر بدلے دو برس ہی ہوئے تھے کہ ایک دن نسیم دودھ گرم کرنے کے دوران اسٹو پھٹ جانے سے جل کر اسپتال میں علاج کے دوران چل بسی۔ تب بھی میں اس کے گھر تعزیت کے لیے نہیں گیا۔

اس بات کو کوئی دس برس گذر گئے ابھی چند ماہ قبل ساجدہ نے بتایا تھا کہ الطاف بیمار رہنے لگا ہے ایک بوڑھی عورت اس کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ میں پھر بھی اسے دیکھنے نہیں گیا۔ ایک نادان  اور شکی المزاج آدمی سے اچھے سلوک کی امید خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن آج…! واقعی عجب بات ہوئی تھی برسوں بعد میرے دشمن نے مجھے یاد کیا تھا آخر سخت کشمکش کے بعد میں نے ضمیر انسانیت کی بنیاد پر اس کے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ کچھ دیر بعد میں اس کے گھر میں داخل ہوا وہ ایک تنگ  اور بوسیدہ کمرہ تھا بے ترتیب کتابیں  اور صفائی کو ترستی ہوئی چیزیں …ایک گوشے میں پلنگ بچھا تھا جس پر الطاف آنکھیں بند کئے ہڈیوں کے بنجر کی شکل میں پڑا تھامیں پہلی نظر میں اسے پہچان نہ سکا ایک طرف اس کا لڑکا مختار چٹائی پر پڑے پڑے سو گیا تھا۔ آہٹ پاکر الطاف نے آنکھیں کھول دیں  اور ہاتھ کے اشارے سے قریب پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا  اور نحیف آواز میں بولا ’’میں تمہارا ہی منتظر تھا، تمہیں یقیناً حیرت ہو گی کہ اتنی رات گئے مجھے تم سے کیا کام ہو سکتا ہے ؟‘‘

میرا دل دھڑکنے لگا۔ آخر وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔ ’’کیسے ہو…؟‘‘  میں اتنا ہی کہہ سکا۔

 ’’جیسا بھی ہوں تمہارے سامنے ہوں۔ یوں کہو کہ چند گھنٹے یا چند دن کا مہمان ہوں۔

 ’’فکر نہ کرو جلد اچھے ہو جاؤ گے۔‘‘ مجھے  اور کچھ نہ سوجھا تو رسمی جملے دہرا دئے۔ ’’سب مریض ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔‘‘

 ’’سب فضول ہے۔ مجھے یقین ہو چکا ہے کہ میں اب مزید عرصہ زندہ نہ رہ سکوں گا۔ میرا سینہ اس وقت رازوں کا مدفن ہو رہا ہے  اور پھٹ پڑنے کو بیتاب ہے۔ اب جبکہ میرا وقت قریب ہے میں تمہیں ساری باتیں بتا دینا چاہتا ہوں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو میری بے قرار روح ہمیشہ بھٹکتی رہے گی۔ذرا تپائی پرسے پانی کا گلاس اٹھا دو…‘‘ پانی پی کراس نے پھر کہا،صادق میرے دوست! ساری باتیں سن چکنے کے بعد وعدہ کرو کہ مجھے معاف کر دو گے۔

 میرا دل دھڑکنے لگا ’’اگر اس کا تعلق اس دن میری جان لینے کے معاملے سے ہے تو یقین کرو کہ میں کبھی کا تمہیں معاف کر چکا۔ ہم دونوں کے سوا کوئی تیسرا اس بات سے واقف نہیں۔‘‘

 ’’ٹھیک ہے …‘‘ اس نے آہ بھرکے کہا ’’مگر مجھے کچھ  اور بھی کہنا ہے۔ میں صرف تم پریہ راز افشاں کر رہا ہوں کہ نسیم اتفاقاً نہیں جلی تھی۔ میں نے کیروسین ڈال کر اسے جلایا تھا۔‘‘  میں چونک پڑا  اور حیرت سے اس کے منہ کو تکنے لگا۔

 ’’چونکو نہیں …تمہاری بیوی نے مختار کو دیکھ کر کہا تھا کہ  ’’ارے بچہ بالکل آپ پرگیا ہے۔یہ ایک جملہ نہیں تھا خنجر کی کاٹ تھی جس نے میرا کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا پھر شک کے زہر نے مجھے مار دیا۔مجھے یقین ہو گیا کہ بچہ میرا نہیں تمہارے  اور نسیم کے نا جائز تعلقات کا پھل ہے۔پھر میری نیند حرام ہو گئی۔ تم میری نظر میں آستین کے سانپ تھے۔ دراصل نسیم ایک غریب خاندان کی تھی۔ میں نے شادی کر کے اسے بھرپور محبت دی۔ مگر اس کی اس بے وفائی سے میرا دل ٹوٹ گیا۔ میں تم دونوں سے انتقام لینا چاہتا تھا۔ اس دن تم پر حملہ اس کی ایک کڑی تھی۔ دوسری طرف جب بھی میں مختار کو دیکھتا تو مختار کے روپ میں تم میرا منہ چڑاتے نظر آتے۔ آخر ایک دن ایک جھگڑے کے دوران مشتعل ہو کر میں نے نسیم کو جلا کر لوگوں کو اسٹو پھٹنے کی من گھڑت کہانی سنائی تھی مگر موت کی دہلیز پر کھڑی ہوئی اس وفا کی دیوی نے میرا دفاع کرتے ہوئے پولیس کو وہی بیان دیا جو میں نے دیا تھا مگر پھر بھی میرے اندر کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ بچ نہیں سکے گی تو موت سے چند منٹ پہلے اس نے بچے کا راز مجھ پر ظاہر کر دیا۔ اس نے اپنی اکھڑی ہوئی سانسوں کے درمیان بتایا کہ  ’’دراصل ساجدہ کا نہیں میرا بچہ مرا تھا۔ میں نے تمہارے سخت رد عمل کے خوف سے کہ کہیں تم دوسری شادی نہ کر لو ایک زبردست حماقت کر ڈالی۔ میں نے اپنی چار سونے کی چوڑیاں نرس کو رشوت میں دے کر اپنے مردہ بچے کوکسی کے زندہ بچے سے بدل لیا۔ یہ سب کچھ راتوں رات ہو گیا، مگر مجھے دوسرے دن معلوم ہوا کہ نرس نے جو بچہ مجھے لا دیا وہ ساجدہ کا تھا یعنی مردہ بچہ ساجدہ کے حوالے کیا گیا تھا۔

اتنا کہہ کر الطاف چند لمحوں کے لیے رکا  اور ایک آہ بھر کر بولا ’’نسیم نے اپنے اس عمل سے بظاہر خود کو محفوظ سمجھ لیا تھا حالانکہ ایک مصیبت سے بچنے کے لیے اس نے ایک زبردست حماقت کر ڈالی تھی جس کے انجام سے وہ لاعلم تھی…یہ لڑکا مختار…!‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے سوئے ہوئے بچے کی طرف اشارہ کیا‘‘ دراصل میرا نہیں تمہارا بچہ ہے۔‘‘

میں سکتے کے عالم میں بیٹھا اپنے دل کی دھڑکنیں سن رہا تھا میرا سارا جسم پسینے میں ڈوبتا جا رہا تھا۔

 ’’میرے دوست!‘‘ الطاف کی آواز مجھے کہیں دور سے آتی ہوئی لگی جس میں پچھتاوے کا کرب تھا  ’’یقیناً میں تمہارا گنہ گار ہوں  اور اپنی بیوی کا بھی…لیکن اس نے مرنے سے پہلے مجھے معاف کر دیا تھا اب تم بھی میرے مرنے سے پہلے مجھے معاف کر دو۔‘‘  پھر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ میرا منہ جیسے سل گیا تھا۔

 ’’میرے دوست!‘‘ اس نے دوسرے ہاتھ سے میرا بازو تھپتھپایا ’’معلوم نہیں موت کا فرشتہ کب مجھے لینے آ جائے میں نے اسی لیے تمہیں بلوایا تھا۔میں مر جاؤں تو میرے آخری سفر کا انتظام کرنے کے بعد مختار  کو اپنے ساتھ گھر لے جانا وہ تمہاری امانت ہے جسے لوٹا رہا ہوں تیرہ برس بعد ہی سہی۔ خدا حافظ۔‘‘

میں اٹھا  اور بوجھل قدموں سے گھر چلا آیا۔ ساری رات کروٹیں بدلتے کٹی صبح کو دودھ والا دودھ لایا  تو گمبھیر لہجے میں بولا ’’بھائی صاحب!آپ کے دوست الطاف صاحب جو عرصے سے بیمار تھے۔ رات اللہ کو پیارے ہو گئے۔‘‘

٭٭٭