کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پچھتاوے

اقبال سلیم


اس نے پہلی بار نازیہ کو دیکھا تو اس کے ذہن میں کسی کنول ہی کی تصویر ابھری تھی لیکن اسے کنول سے کوئی رغبت تھی نہ شاعری سے۔ چنانچہ یہ کنول اسے کچھ متاثر نہ کر سکی۔ ہلکا سانولا رنگ، سرو قد، کمر کے بوسے لیتے ہوئے سیاہ بال، ستواں ناک اور لمبی لمبی پلکوں کے درمیان اس کی آنکھیں کسی درخت کی جھکی ہوئی ٹہنیوں تلے کسی جھیل کی طرح لگتی تھیں۔ بیس برس خیرہ کن امریکی تہذیب اور حسن کے درمیان رہتے ہوئے اسے قمیض شلوار میں لپٹی لپٹائی یہ ہندوستانی کنول کچھ متاثر نہ کر سکی۔

اس شام وہ اسپتال سے گھر لوٹا تو ڈیڈی نے گھر آئے مہمانوں سے اس کا تعارف کرایا:’’ان سے ملو احمد!یہ میرے عزیز دوست ڈاکٹر حمید اور بھابی ریحانہ اور یہ ان کی اکلوتی صاحبزادی نازیہ حمید ہیں۔آپ لوگ ہندوستان سے اپنے بھابی کے یہاں فلوریڈا تشریف لائے تھے۔ ہندوستان لوٹتے ہوئے کچھ عرصہ ہمارے یہاں قیام کریں گے۔‘‘

اس نے نہایت تپاک سے مصافحہ کیا لیکن نازیہ کی طرف سے ہاتھ کی بجائے آداب کے الفاظ سننے کو ملے تو اسے اس ہندوستانی کنول سے گھن سی محسوس ہوئی تھی…’’نئی نئی ہے …‘‘ اس نے خود سے کہا ’’ذہن پر سے قدامت پسندی کی دھول صاف ہونے میں کچھ دیر لگے گی۔‘‘

پھر جب تمام لوگ ایک کمرے میں یکجا ہو  کر ماضی کی یادوں میں کھو گئے تو ڈیڈی نے اسے اشارہ کیا کہ نازیہ کو باہر ٹہلا لائے۔‘‘

لان پر چہل قدمی کے دوران میں اسے خود ہی گفتگو چھیڑنی پڑی ’’آپ کو امریکہ پسند آیا؟‘‘

خصوصاً فلوریڈا(Florida)   کے حسن سے میں مسحور ہو کر رہ گئی ہوں :

گر فردوس بر روئے زمیں است

 ہمیں است، ہمیں است، ہمیں است

’’معاف کرنا مجھے فارسی نہیں آتی۔‘‘ ا س نے منہ بنا کر کہا۔ لیکن شکاگو(Chicago)   بھی کچھ کم خوبصورت نہیں ہے۔ نومبر اور مارچ کے درمیان میں یہاں تقریباً۳۰انچ برف پڑتی ہے تو منظر دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت سیرس ٹاور (Sears Tower)   شکاگو ہی میں ہے اس کے علاوہ بوٹانیکل گارڈنس (Botanical Gardens) ، بکنگھم فاؤنٹین(Buckingham Fountains)   میں سیاحوں کے لیے بڑی کشش ہے۔ اچھا تو یہاں کی تہذیب کے متعلق آپ کا خیال ہے ؟‘‘

’’معاف کرنا…کچھ اچھا خیال نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بے شک ہم سے بہت آگے ہیں لیکن اخلاقی قدروں میں وہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ مجھے تو ہول آتا ہے جب میں دیکھی ہوں کہ یہاں کی نئی نسل کی آزاد خیالی اور خر مستی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ہر چیز کی انتہا تباہی کے دہانے پر ختم ہوتی ہے۔ یہاں تو شام ہوتے ہی شریفوں کے لیے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔

’’آپ نئی ہیں …‘‘ اس نے نازیہ کے لکچر سے اکتا کر طنزاً کہا ’’رفتہ رفتہ اس کی عادی ہو جائیں گی۔ تاریکی سے روشنی میں آتے ایسے ہی سب کی آنکھیں چکا چوند ہو جاتی ہیں اور روشنی برداشت نہیں کرتیں مگر…کیا آپ ابھی زیر تعلیم ہیں ؟‘‘

’’جی نہیں …نازیہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔’’میں نے بنگلور یونیورسٹی سے دو سال ہوئے اردو اور انگریزی میں الگ الگ ایم اے کیا ہے اور وہیں ایک کالج میں پڑھا رہی ہوں ، فرصت کے اوقات میں اخبارات اور رسائل کے لیے مضامین لکھتی ہوں۔ میرا ارادہ ریسرچ کرنے کاہے مقالے (Thesis)   کا انتخاب بھی ہو چکا ہے مگر ڈیڈی راضی نہیں ہیں۔‘‘

’’ادب سے کیا ہوتا ہے ؟‘‘ اس نے قدرے تحقیر کے انداز میں کہا ’’کوئی میڈیکل یا ٹیکنیکل کورس کیا ہوتا۔‘‘

’’آپ بھولتے ہیں کہ سائنس کی طرح ادب بھی علم کی ایک شاخ ہے …‘‘ نازیہ کے ماتھے پر ناگواری کی ایک شکن ابھری۔ سائنس جہاں زندگی کو کھوجتی ہے وہاں ادب زندگی کو مہکاتا ہے ، جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے اگر انسان کو جینے کا سلیقہ نہ ہو تو وہ انسان کہلانے کا حق دار نہیں۔ ادب سے بڑھ کر ہماری تہذیب کا پاسبان ہوتا ہے۔ آج افلاس اور بھوک نے انسان کو یقین و اعتماد کی قوت سے محروم کر رکھا ہے۔ تعلیم بس روزی اور روٹی سے جڑ کر رہ گئی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے طب کے پیشے ہی کو لیجئے۔ کیا وہ خدمت کی بجائے تجارت نہیں بن گیا ہے !ہم ایک غلط نظرئیے کا شکار ہو کر اندھا دھند اس تعلیم کی طرف دوڑے جا رہے ہیں جو ہمارے پیٹ اور بنک بیلنس زیادہ سے زیادہ بھر سکے عیش و آرام کا سامان مہیا کر سکے اس دھن میں ہم آداب زندگی و معاشرت اور فرائض کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔لہٰذا ادب یکتا و تنہا ہو کر رہ گیا ہے۔ میں نے اپنی روح کی آسودگی کے لیے ادب کا انتخاب کیا تھا اس پر کسی کا دباؤ نہیں تھا۔‘‘نازیہ کے لہجے میں یقین و اعتماد کی چاشنی اور گفتگو میں وقار کی جھلک نمایاں تھی وہ عام لڑکیوں کی طرح جذباتی یا غیر سنجیدہ تھی نہ کسی احساس کمتری کا شکار۔ وہ اندر ہی اندراس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

اگلے دن اسے معلوم ہوا کہ نازیہ کو ٹہلا لانے سے ڈیڈی کا کیا مطلب تھا!انھوں نے ڈاکٹر حمید کو فلوریڈا سے کیوں بلوایا تھا دراصل انھوں نے نازیہ کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا اور اس سے ملنے کے خواہش مند تھے جب ملے تو پہلی ہی نظر میں اسے بہو بنانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ اس نے احتجاج کیا کہ اس کی پسند اور رائے کو اہمیت نہیں دی گئی آخر اس ہندوستانی کنول میں کون سے ہیرے جڑے ہوئے ہیں ؟وگرنہ یہاں کی ہند نژاد لڑکیوں میں کئی ایسی ہیں جنہیں مس یونیورس Miss Universe   کے امیدواروں کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے مگر ممی اور ڈیڈی کے آگے اس کی ایک نہ چلی انہیں اس کار نیک کی تکمیل کے لیے بس ایک مناسب گھڑی کا انتظار تھا۔پھر وہ ڈیڈی کے حکم پر گھومنے جانے لگے۔ اس سے ان کا مطلب انہیں ایک دوسرے کے زیادہ سے زیادہ قریب لانا تھا۔ جس میں وہ کامیاب رہے۔ وہ آہستہ آہستہ نازیہ سے مانوس اور قریب ہوتا گیا۔ نازیہ کی باتیں اس کی دانست میں خشک ہونے کے باوجود وزن دار اور صداقت کی خوشبو سے مہکی ہوئی ہوتی تھیں جن کے آگے اس کا ہر اعتراض دب کر رہ جاتا تھا۔ وہ ادب آرٹ اور ثقافت پر بے تکان بولتی تو وہ خود کو ایک طفل مکتب تصور کرنے لگتا تھا۔

انہی دنوں اس کی زندگی کی پرسکون جھیل کی سطح پر رعنا ایک پتھر کی طرح آ گری اور تلاطم مچا گئی۔ ایک دن اسپتال میں اس کے ساتھی ڈاکٹر آنند نے رعنا کو اس سے ملایا۔ ڈاکٹر مس رعنا خان… آپ نے آج ہی چارج لیا ہے۔ ہندوستان میں میری کالج فیلو رہ چکی ہیں۔ میری طرح آپ کا تعلق بھی حیدرآباد سے ہے۔

وہ مسحور  و مبہوت سنگ مرمر کے زندہ اور حسین مجسمے کو دیکھتا رہ گیا۔ رعنا حقیقتاً نہایت خوبصورت اور حیدرآبادی حسن کا نفیس نمونہ تھی اور مشرق و مغرب کا حسین سنگم تھی۔ اس کا باپ ہندوستانی اور ماں کا تعلق فرانس سے تھا۔ تیکھے نقوش اور جنسی کشش سے بھرپور جسم…وہ ایک انجانی کشش کے تحت اس کے قریب کھینچتا چلا گیا۔ رعنا اسے خوابوں کی شہزادی لگی تھی۔ دونوں ملتے رہے۔ ان کی ملاقاتیں اسپتال کے کمروں سے نکل کر ہوٹلوں اور سمندر کے کناروں تک پہنچ گئی۔

ایک دن رعنا نے اس کے سینے پر سر رکھے رکھے فلمی انداز میں کہا:’’احمد ڈیر…تم میرے اور صرف میرے ہو کوئی طاقت تمہیں مجھ سے نہیں چھین سکتی…‘‘ اس غیر متوقع بے باکانہ اعتراف پروہ حیران رہ گیا مگر ایک تیز ہوتے ہوئے نشے میں وہ سب کچھ بھول گیا اس نے رعنا کو بتایا کہ خود اس کی حالت اس سے الگ نہیں۔ وہ جلد ہی اسے ہمیشہ کے لیے اپنا لے گا۔

اب اس کا زیادہ تر وقت رعنا کے ساتھ گذرنے لگا اور نازیہ کا وجود اس مسافر کی طرح رہ گیا جو زندگی کے سفر میں چند گھڑیوں کے لیے ملتا ہے اور بچھڑ جاتا ہے۔ نازیہ اسے کہیں گھما لانے کو کہتی تو وہ موسم کی خرابی،کبھی کسی ایمرجنسی آپریشن کا بہانہ کر دیتا اس طرح وہ اس سے دور ہوتا چلا گیا۔

ایک دن اسی بات پر ڈیڈی سے اس کی تکرار بھی ہو گئی۔ جہاندیدہ ڈیڈی سے اس کے مزاج کا یہ انقلاب چھپا نہ رہ سکا انھوں نے اس کے بدلے ہوئے تیور پر تشویش کا اظہار کیا تو وہ پھٹ پڑا۔ ڈیڈی!اپنی اولاد کی خواہشات کا قتل عام آپ کو ہر گز زیب نہیں دیتا۔ آپ تجربہ کار اور فراخ دل ہیں اور میں بھی بچہ نہیں ہوں۔ اپنا بھلا برا خوب جانتا ہوں …پھر اس نے ممی کی طرف دیکھا: ’’ممی!اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ صرف لڑکی پسند کی گئی ہے اور پسند بدلی بھی جا سکتی ہے۔ آپ کی پسند سے میری پسند اہم ہے۔ میں نے جو لڑکی پسند کی ہے اس کے آگے آپ کی پسند کی لڑکی خاک کے ذرے کے برابر بھی نہیں ہے آپ اسے دیکھیں گی تو اپنے انتخاب پر پچھتائیں گی۔

ڈیڈی نے ایک آہ بھری…اسے کہتے ہیں سعادت مندی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ چلو ایک یہ بھی سہی۔ زندگی بھر جسے آنکھ کانور اور دل کا سرور سمجھا کون جانتا تھا کہ وہ ایک دن آستین کا سانپ ثابت ہو گا۔

ڈاکٹر حمید باہر سے آ رہے تھے انھوں نے سن لیا ڈیڈی کو سمجھا بجھا کر  اندر لے گئے اور نصیحت کی ’’اولاد کی خواہشات کا احترام بزرگوں پر فرض ہے ورنہ ان کی زندگی جہنم بن جائے گی۔‘‘

لیکن اس رات پھر ڈیڈی سے اس کا ٹکراؤ ہو گیا۔ ڈاکٹر حمید نے ان ناخوشگوار حالات اور غیر یقینی صورت حال بھانپ کر کل ہی ہندوستان لوٹ جانے کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ ڈیڈی نے یہ دیکھ کر اسے آخری بار سمجھایا مگر سیدھی انگلیوں سے گھی نکلتے نہ دیکھا تو آپے سے باہر ہو گئے :’’تم نادان اور بد اخلاق لڑکے …تمہاری بساط ہی کیا ہے !کھوٹے کھرے کا فرق ایک اندھی جوانی کیا جانے !تم کیا جانو، تمہارے باپ کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے کن منزلوں سے گذرنا پڑا۔ اس نے اپنے کپڑے آپ دھوئے ہیں۔ اپنا کھانا آپ بنایا ہے ، میلوں پیدل چل کر تعلیم حاصل کی ہے تم پھولوں کے گہوارے میں پلے بڑھے۔تم نے دیکھا ہی کیا ہے ؟ایک خوبصورت چوکٹھا دیکھا اور پھسل گئے ، ہیرے کی پرکھ تو جوہری ہی بہتر جانتا ہے۔‘‘

’’لیکن آپ میری پسند کو چیلنج نہیں کر سکتے۔‘‘…اس نے بھی اپنا ترکش سنبھال لیا۔’’آپ نے بے شک ایک دنیا دیکھی ہے کاش آپ نے اس کے بدلے ہوئے تیور بھی دیکھے ہوتے ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ اس وقت ایک صدی پہلے کے تاریک ہندوستان سے بول رہے ہوں۔ آپ کی باتوں سے تو قدامت پسندی کی بو آتی ہے۔ تنگ نظری کی بو۔ حق و انصاف کے خون کی بو۔ میں پھر کہتا ہوں کہ کوئی طاقت مجھے اپنے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتی۔‘‘

’’تو تم مجھے میرے دوستوں میں ذلیل کرنے اور بے موت مارنے پرتل گئے ہو۔ لیکن میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ نکل جاؤ یہاں سے۔ میں تمہاری صورت دیکھنا نہیں چاہتا۔‘‘

’’میں خود اپنی صورت دکھانا نہیں چاہتا۔‘‘ اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور اپنے کمرے میں آ کر چند کپڑے ایک سوٹ کیس میں ڈالے اور باہر نکل گیا۔ ممی کی سسکیوں کی آوازیں دور تک اس کا پیچھا کرتی رہیں۔ باہر آ کراس نے گھڑی دیکھی۔ رات کا ایک بج رہا تھا چند لمحے سوچتے رہنے کے بعد اس نے اپنی لنکن  کا رخ رعنا کے کوارٹر کی طرف موڑ دیا۔

کوارٹر کے قریب پہنچ کر اس نے گاڑی روک دی اور تذبذب کے عالم میں باہر کھڑی ڈاکٹر آنند کی سرخ امپالا کو تکنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ گاڑی سے اتر کر دروازے پر پہنچ کر دستک دی۔ کچھ دیر بعد اندر بجلی جلی اور دروازہ کھلا اور ایک دوسرے کے آگے پیچھے رعنا اور ڈاکٹر آنند شب خوابی کے لباس میں نمودار ہوئے ساتھ ہی شراب کی تیز بو کا ایک بھبکا اس کی ناک سے ٹکرایا۔ دونوں کے چہرے پر حیرت اور الجھن کے آثار تھے اور آنکھوں میں خمار…

’’ڈاکٹر آنند…!‘‘اس کا لہجہ بڑا کڑوا کسیلا تھا ’’تم اتنی رات گئے یہاں ؟۔؟؟‘‘

ڈاکٹر آنند نے ایک نظر رعنا کی طرف دیکھا وہ بوکھلایا ہوا تھا۔ بولا:’’میں دراصل ایک مریض کے ایمرجنسی آپریشن کے سلسلے میں تبادلہ خیال کرنے آیا تھا۔‘‘

’’تبادلہ خیال آدھی رات کو شب خوابی کے لباس میں نہیں کیا جاتا ڈاکٹر!‘‘ اس کے لہجے میں طنز تھا ’’کیا اس کے لیے تمہیں اسپتال میں چند منٹ نہیں مل سکتے تھے ؟۔؟؟‘‘

’’ڈونٹ بی سلی احمد…!‘‘ رعنا نے احتجاج کیا ’’ہم بس اچھے دوست ہیں اور تم ہماری دوستی کو غلط رنگ دینے کی کوشش نہیں کرو گے یہ سراسر خلاف تہذیب اور توہین آمیز ہے۔ تم بظاہر آزاد خیال ہو لیکن تمہارے اندر سے مشرق بول رہا ہے۔ سمجھے …!‘‘ اس نے کندھے اچکائے۔’’خیر چلو… اندر چلو… آج سردی بہت ہے۔‘‘

’’ہاں مشرق بول رہا ہے …‘‘ اس کے جبڑے کس گئے۔ ’’مشرق…جس کی مٹی سے میں ڈھلا ہوں۔ یہ میری غلطی تھی کہ میں اس حقیقت کو بھول بیٹھا تھا۔‘‘ اس نے ایک ملامت بھری نظر دونوں پر ڈالی اور الٹے پاؤں لوٹ آیا۔ اب اس کی گاڑی ہوٹل کی طرف جا رہی تھی۔

ہوٹل پہنچ کروہ ایک کمرے میں کٹے ہوئے درخت کی طرح بستر پر گر گیا۔ پھر گالیوں کا ایک طوفان اس کے منہ سے ابل پڑا۔’’ہرجائی…فاحشہ…بے وفا!‘‘

اس رات اسے نیند بالکل نہیں آئی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی کچھ دیر پہلے کے واقعات خواب ہوں اس کے کانوں میں ڈیڈی کے الفاظ گونج رہے تھے ’’تم نادان اور بد اخلاق لڑکے۔ تمہیں بساط ہی کیا ہے !کھرے کھوٹے کا فرق اندھی جوانی کیا جانے !ایک خوبصورت چوکٹھا دیکھا اور پھسل گئے …ہیرے کی پرکھ تو جوہری ہی بہتر جانتا ہے۔‘‘

پھر اس کی نگاہوں میں ایک کنول ابھری’’…نازیہ!…‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ دیکھتے ہی دیکھتے نازیہ کا سراپا ایک نور میں ڈھل گیا وہ سانس روکے اسے تکتا رہا۔ اسے ایک ایک کر کے نازیہ کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد وہ چونک کر اٹھ بیٹھا اور سوٹ کیس اٹھا کر باہر نکل گیا اب وہ گھرکی طرف جا رہا تھا۔ کہر اور سردی سے بے نیاز وہ گاڑی چلاتا رہا۔ گھر میں صرف ممی ملیں۔ انھوں نے بتایا کہ نازیہ اپنے والدین کے ساتھ ابھی کچھ دیر ہوئی ہندوستان کے لیے نکل گئی ہے اور اس کے ڈیڈی انہیں رخصت کرنے ان کے ہمراہ ایئرپورٹ گئے ہیں۔‘‘

وہ اپنا دھڑکتا ہوا دل سنبھالے الٹے پاؤں کار کی طرف آیا۔ اب اس کی تیز رفتار کار ایئرپورٹ کی طرف جا رہی تھی۔ ایئر پورٹ پہنچ کراس نے کار پارک کی اور دروازہ مقفل کرنا بھول کر تقریباً دوڑتا ہوا گیلری میں پہنچ کر ڈیڈی سے ٹکرا گیا۔

’’ڈیڈی…‘‘ اس کی سانس پھول رہی تھی۔ آنکھوں میں ندامت اورپچھتاوے کا ایک طوفان امنڈ رہا تھا۔ اس نے سر جھکائے خاموش کھڑے ڈیڈی کو جھنجھوڑا… ’’نازیہ کہاں ہے ؟‘‘

جواب نہ پا کر اس کی بے چین نگاہیں گیلری کا ایک چکرل گاکر ناکام و نامراد لوٹ آئیں۔’’نازیہ کہاں ہے ڈیڈی؟‘‘اس نے اپنا سوال دہرایا۔ مگر ڈیڈی اب بھی خاموش تھے ان کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں اور چہرے پر کرب کے گہرے سائے۔

’’وقت گذر چکا بیٹے !‘‘ آخرکار ان کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی انھوں نے ایک سرد آہ بھرکر رندھے گلے سے جواب دیا ’’ہاں وقت گذر چکا۔‘‘انھوں نے آہستہ سے اس کے شانے پر تھپکی دی ’’اب پچھتانا لاحاصل ہے گذرا ہوا وقت لوٹ کر نہیں آتا۔‘‘

پھر انھوں نے رن وے (Run Way)   کی طرف اشارہ کیا جہاں برٹش ایئرویز(British Airways)  کا دیو ہیکل طیارہ نازیہ کو لیے رن وے کا ایک چکر لگانے کے بعد فضا میں بلند ہو رہا تھا۔

اس نے پھر کچھ نہیں پوچھا ایک کرسی پر ڈھیر ہو  کر آنکھیں بند کر لیں۔ کئی منٹ گذر گئے پھر وہ خود کو سنبھال کر اٹھ کھڑا ہوا اور تھکے تھکے قدموں سے چلتا ہوا کار تک پہنچا تو حیرت کی ایک چیخ اس کے منہ سے نکل گئی… ’’نازیہ…!‘‘

کار کی اگلی سیٹ پر نیم دراز نازیہ کسی رسالے پر جھکی ہوئی تھی… ’’آپ تو ہندوستان کے لیے نکل گئی تھیں !…‘‘ اس نے بے تابی سے پوچھا۔

’’نہیں …‘‘ وہ سنبھل کر ہو بیٹھی حیا کی ایک لہر اس کے چہرے پر ابھر آئی۔’’نہیں …‘‘ وہ رک رک کر بول رہی تھی’’ہم یہاں پہنچے تو گھر سے چچی جان کا موبائل پر پیغام ملا کہ ’’برخوردار ابھی ابھی آپ لوگوں کی تلاش میں نکلے ہیں غالباً ان کی عقل ٹھکانے آ گئی ہے لہٰذا پروگرام منسوخ کر دیں۔‘‘

’’لیکن ڈیڈی…!‘‘ …’’چچا جان نے جھوٹ بولا تھا‘‘ نازیہ نے بات کاٹی’’ انھوں نے ڈیڈی اور ممی کو پچھلے دروازے سے کار کی طرف روانہ کر کے مجھے حکم دیا کہ جب صاحبزادے میرے پاس آنے لگیں تو تم نظر بچا کر دوسری طرف سے اس کی کار کے پاس چلی جانا اور انہیں لے کر ہی واپس آنا ہم اب گھر جا رہے ہیں۔‘‘

وہ گھوم کر دوسری طرف سے اس کے پہلو میں آ بیٹھا اور نازیہ کا ہاتھ تھام لیا ’’نازیہ! ڈیڈی نے ٹھیک کہا تھا ہیرے کی پرکھ تو جوہری ہی بہتر جانتا ہے۔‘‘

٭٭٭