کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!!

میمونہ احمد


مدنی پارک میں صبح صبح خوب چہل پہل ہوتی ہے،اور پھر یہ سردیوں کے دن ہیں تو بزرگ  اور نوجوان  خوب بھا گ رہے ہوتے ہیں جن میں  بزرگ نوجوانوں سے بازی لے جاتے ہیں، مدنی پارک میں اساتذہ  کی تعداد بھی کافی ہوتی ہے  اور ان بزرگوں کی جو سرکاری ملازمت کی مدت پوری کر چکے ہوتے ہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ مدنی پارک ان کا وہ ٹھکانہ ہیں جہاں وہ اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں اور دوسروں کے ماضی کی سنتے ہیں،

سلیمان اور اس کے والد خلیل احمد دونوں اس پارک  میں روز آتے ہیں اور دونوں با پ بیٹا اکھٹے بھاگتے ہیں لیکن ہمیشہ سلیمان کے والد خلیل احمد اس سے بازی لے جاتے ہیں۔(یہ پھر سلیمان جان بوجھ کر ہار جاتا ہے) دیکھا بیٹا سیلمان ہم بزرگوں میں آج بھی کتنا دم ہے،جی ابو، اب ہم لوگوں میں واقعی اتنا دم نہیں کہ تھوڑی دور  بھاگ سکیں۔خلیل احمد اپنے بیٹے کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے بیٹا اپنی صحت کا خیال رکھا کرو، ہمیشہ میری فکر میں ہی رہتے ہو۔۔۔ابو جی اب چھوڑیے ایک اور چکر پورا کرنا ہے ابھی اس پارک  کا اور وہ  دیکھے آپ کاسورج بھی نکل رہا جلدی کریں آفس والوں نے مجھے آج تو نکال دینا ہے،

ٹھیک ہے بیٹا!

سلیمان ایک چکر پورا کرنے کے بعد اپنے آفس کو چل پڑا جبکہ خلیل احمد پارک میں ہی رہا  اس کا شاپر شاکر کیفے پر رکھا تھا جس کو وہ اُٹھانے چل دیا،ابھی پارک میں رونق کم تھی چند ہی لوگ تھے لیکن اب آہستہ آہستہ آتے جا رہے تھے،شاکر  شاکر ؟  یار وہ میرا شاپر تو دے دو۔۔۔! یہ رہی آپ کی امانت  لے لیجیے،شکریہ بیٹا جیتے رہو اللہ خوب ترقی دے جگ جگ جیو۔ شاکر نے کو ئی الفا ظ تو نہیں کہے لیکن اس کی آنکھیں خلیل احمد کا شکریہ ادا کر رہی تھی، جنھیں خلیل احمد نے بخوبی پڑھ لیا، شاکر بیٹا تیری آنکھیں بولنے لگی ہے،

انکل جی آنکھیں تو بولتی ہی ہیں پڑھنے والوں کی کمی ہے آپ کے شہر میں !

بیٹا لگتا ہے تجھ پر ہم بزرگوں کا اثر ہو گیا ہے،  ہاں انکل شائد میں  خود بوڑھا ہو گیا ہوں !

اچھا بیٹا میں ذرا  ان پرندوں کو باجرہ ڈال آؤں، مدنی پارک میں تقریباً تمام بزرگوں کا  یہ معمول ہے کہ وہ پرندوں کو اور کتوں کی خوراک ضرور لے کر آتے ہیں (یہ بھی شائد ایک مصروفیت ہی ہے) خلیل احمد اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ چکے تھے، کوے چڑیا  فاختہ  سب  خلیل احمد کو دیکھ کر  بینچ کے پاس  آ گئے تھے،خلیل احمد کافی دیر تک  دانہ ڈالتے رہے اور پرندے کھا تے رہے، جب خلیل احمد کا  شاپر خالی ہو گیا تو  وہ اس بینچ پر بیٹھ گئے اور ان پرندوں کو  دیکھتے رہے اور ایک اطمینان ان کے چہرے پر پھیل گیا۔۔۔  خلیل احمد کے دوست احباب  سب  آنے لگے تھے اور دروازے سے ہی خلیل خلیل پکارتے ، خلیل احمد نے کھڑے ہو کر انھیں بتایا  کے اس طرف آ جا ؤ۔ حاکم علی خلیل احمد کا بہت پرانا دوست ہے دونوں نے اکٹھے ایک سکول سے میڑک کیا، اور سرکاری ملازمت جیسے ہی ختم ہوئی انھوں نے اپنے ڈیرے  اس مدنی پارک میں ڈال لیے، ہاں بھی حاکم علی تو نے آج دیر کر دی، ہاں یا ر میرا کتا بیمار ہو گیا تھا  اس کے لیے دوائی  لایا اس کو دی پھر تیرے پا س آ گیا۔ اوہ خیر تے ہے مجھے لگتا ہے سردی لگ گئی ہے اس کو، ہاں یار خلیل مجھے بھی یہی لگتا ہے اللہ میرے کتے پر مہربانی کرے گا جلدی ٹھیک ہو جائے گا، حاکم علی نے رونی صورت بنا کر  کہا، یار حاکم تو آج بھی چھوٹی باتوں کے لیے پریشان ہو جاتا ہے، یار خلیل میں چھوٹی باتوں کو ہی تو زندگی سمجھتاہوں، اب اس کتے کو میں نے پال پو س کر بڑا کیا ہے اپنی اولاد کی طرح اس کی دیکھ بھا ل کی ہے،اب اولاد تو نصیب میں نہیں تھی تو سوچا  کہ میں اس کتے کو پال لیتا ہوں،آج جب میں اکیلے آ رہا تھا تو میں نے اپنے کتے کی کمی کو بہت محسو س کیا۔۔۔۔اللہ نا کرئے کے اسے کچھ ہو جائے۔۔۔

چل فکر نہ کر تیرا کتا جلدی ٹھیک ہو جا گے گا۔۔

تو اپنی سنا  تیرا بیٹا نہیں آیا آج ؟ آیا تھا یار مجھے چھوڑ کے پھر ہی تو آفس گیا ہے۔ ہاں یار میں بھول گیا،پریشانی میں یا د ہی نہیں رہا۔ اللہ زندگی لمبی کرئے تیرے پتر کی بڑا نصیبوں والا ہے تو نے اس کی پرورش بھی تو خوب کی ہے۔۔ یار پرورش تو والدین کرتے ہی ہیں اب یہ اولاد کی سوچ ہوتی ہے کہ وہ نیکی اختیار کرے یا بدی۔۔ درست کہتا ہے تو ۔

چل کیفے پے چلتے ہیں چائے  لیتے ہیں۔ ہاں یار چل !

 مدنی پارک کی رونق عروج پر پہنچ گئی تھی  خلیل احمد اور  حاکم علی دونوں اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ شاکر اپنے کیفے  پر مصروف تھا۔۔ سلیمان شام کو روز کی طرح ۶بجے گھر آتا تھا آج بھی آ گیا۔وہ اور اس کے ابو دو ہی مکین تھے اس  سلیمان منزل کے، کیونکہ سلیمان کی امی کافی عرصہ پہلے وفات پا چکی تھی اس لیے یہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے تھے۔ دوپہر کو خلیل احمد کھانا بناتے تھے۔ شام کو اور صبح کو سلیمان خود بناتا تھا۔ بس تم ٹھیک ٹھاک ہی بناتے ہو کھا نا سلیمان۔ میرے ہاتھ میں جو ذائقہ ہے وہ تمھارے پاس کہاں خلیل احمد نے  اونچی آواز میں کہا جو کہ سلیمان نے بہت آسانی سے سن لی تھی۔ ابو جی  میں بھی تو اچھا کھانا بنا لیتا ہوں  آپ سے تو میں بھی اچھا بناتا ہوں۔ ارے یار تجھے کیا پتا ذائقہ کہتے کس کو ہے،کبھی ذرا باجرے کی روٹی کھانا تم اور ساتھ میں میرا بنا یا ہوا ساگ واہ مزا آ جائے گا تجھے، چلیں تو پھر کسی دن آپ بنا لینا نا پھر مل کر کھا ئیں گے، حاکم انکل کو بھی بلا لیجیے گا، ارے حاکم  کیا یا د کرا دیا تم نے یا ر مجھے اس کے پا س لے چلو بڑا پریشان تھا آج  وہ، ہاں ہاں کیوں نہیں ویسے خیریت ہے؟

ہاں بیٹا خیریت ہے ! بس حاکم علی کا کتا بیمار تھا چلو دیکھ آتا ہوں وہ کیساہے۔ٹھیک ہے ابو جی چلیں۔ دونوں پیدل ہی چلتے ہیں کیونکہ ایک دو گلی چھوڑ کے ہی تو حاکم علی کا گھر آ جا تا ہے۔ حاکم علی  اوئے حاکم علی کدھر ہے تو؟

 سامنے برآمدے میں ہی وہ افسردہ سانظر آ جا تا ہے۔

کیا ہوا ہے حاکم علی تیرا کتا کدھر ہے اب اس کی طبیعت کیسی ہے، حاکم علی کی آنکھوں میں آنسو تھے،یار ہمارے بڑے کہتے تھے  کتے بڑے وفادار ہوتے ہیں  لیکن یہ کیا یار  میرا کتا تو بڑا بے وفا نکلا!!!!

 مجھے چھوڑ گیا  وہ دیکھ کیسے زندگی کے بغیر پڑا ہے۔

٭٭٭