کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو

میمونہ احمد


یہ جو احسا س  ہے نا دنیا کا بنا یا ہوا اچھوتا گہر ا بہترین  لفظ ہے احساس ہے تو سب کچھ ہے احساس نہیں تو کچھ بھی نہیں،یہی احسا س ہے جو انسان کو دلوں میں رہنے پر مجبور کرتا ہے، درست کہتے ہیں نفسیا ت دان کے احساس لفظ کی تشریح بہت وقت لیتی ہے۔اسی طرح احساس کو مان لینا بھی ایک بہت بڑی بات ہے ہم لو گ زندہ ہیں محسوس کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں جو ہماری زندگی سے جوڑی ہو تی ہیں ان کا مقام ہماری زندگی میں بہت زیا دہ ہو تا ہے،جیسے کسی لکھاری کے لیے اس کی پہلی تحریر، کسی کی پہلی اجرت،  اور جیسے کسی کی ادھوری خواہش جب پوری ہوتی ہے وہ لمحہ انسان کو ہمیشہ یا د رہتا ہے،اور بڑی بات یہ ہے وہ لو گ ان خوشیوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں  اور زندگی میں بارہا اس کا تذکرہ کر کے خوشی حاصل کر تے ہیں۔

میں بھی آج اسی لیے اس جو تا مارکیٹ میں پہنچا ہوں شاہ زیب کیونکہ میرا بھی احساس جڑا ہی کسی ایسی ہی چھوٹی سی چیز سے تمھیں یا د ہو گا میرے والد نے مجھے جو تے دلوائے تھے ہاں یہ وہی جو تے ہیں جو میرے والد نے بڑی مشکل سے دلوائے تھے کل میں وہ جوتے مرمت کروانے نکلا تھا کہ کسی نے وہ تھیلا ہی اُٹھا لیا اب سوچتا ہوں یہاں سے پتہ کروں کہ جوتے چو ر کہاں جوتے  فروخت کرتے ہیں، چلو پھر پوچھ لیتے ہیں کسی سے شاہ نواز،  پرانے لوگ بہت ساری پرانی باتیں یا د رکھتے ہیں یہ پھر وہ باتیں نئے لوگوں کے لیے بالکل  ہو تی ہیں۔ بزرگو ! ذرا آپ بتا سکتے ہیں کہ جوتے چور کہاں اپنے جوتے فروخت کرتے ہیں ؟

بزرگ نے بڑی غور سے دونو ں کی شکل دیکھی اور کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد بتا یا کے اس مارکیٹ سے آگے تنگ گلی ہے اس سے آگے ہی ملے گا غفورا چور جو سب جانتا ہے کہ کس چور نے کب مال جمع کرایا۔بہت شکریہ بزرگو !

 یار ایک با ت سمجھ نہیں آتی یہ چو ر جب چوری کرتے ہیں تو صرف چیزیں چوری نہیں کرتے بلکہ احساس چوری کرتے ہیں اور احساس کی چوری  بہت تکلیف  دیتی ہیں جیسے کہ اب تمہیں ہو رہی ہے، ہاں شاہ زیب تم ٹھیک کہتے ہو  یہ احسا س کی چوری ہو ئی،جو واقعی تکلیف دے رہی ہے،بات کرتے کرتے وہ  دونوں تنگ گلی سے باہر آچکے تھے اور اب وہ غفورا چور کو ڈھونڈ رہے تھے،پو چھتے پو چھتے وہ غفورا چور کی دوکان تک پہنچ گئے، دوکان  میں ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر تقریباً  پندرہ سال ہے شاہ نواز نے بچے سے پوچھا کہ غفورا  چور کدھر ہے ؟ بچے نے کہا بلاتا ہوں وہ اندر کی طرف گیا اور ایک پکی عمر کے شخص کے ساتھ باہر نکلا یہ رہا استا د غفورا، اسلام علیکم غفورا صاحب میرا نا م شاہ نواز ہے اور میں اپنے بوسیدہ جوتوں کی تلاش میں نکلا ہوں مارکیٹ میں ایک بزرگ نے آپ کے بارے میں بتایا تھا کہ آ پ  جوتے چوروں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ہاں جی ہاں جی اس بستی کا بچہ بچہ مجھے جانتا ہے کہ غفورا چور کتنا کام کا آدمی ہے، خدا پا ک کی قسم میں نے تو کبھی چوری نہیں کی بستی کے سارے لوگ جانتے ہیں غفورا چور نہیں ہے۔ شاہ نواز نے شاہ زیب کی طرف دیکھا اور پھر غفورا چور کی طرف۔ لیکن آپ کو غفورا چو ر کیوں کہا جا تا ہے ؟ شاہ نواز نے پوچھا ! غفورا چور اس لیے کہ اس بستی میں پیدا ہوا ہوں  یہاں  پر سارے چور ہیں ایک دن بچپن میں دوکان سے سودا لینے گیا تو دوکاندار نے مجھے غفورا چو ر کہہ دیا  پھر کیا تھا بستی کے سارے لوگ مجھے غفورا چور غفورا چور کہنے لگے۔ یہ تو بڑی کا م کی بات بتائی آپ نے غفورا صاحب ! شاہ نواز صاحب بتائیے کہ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں، جی بالکل مجھے لگتا ہے اس بستی میں آپ ہی ہیں جو میری مدد کرسکتے ہیں ! شاہ نواز مسئلہ تو بتا یے۔ میں بتا تا ہوں شاہ زیب نے جلدی میں کہا۔ ہاں چلو آپ ہی بتا دو، شاہ نواز کے والد نے کئی سال پہلے جوتے خرید کے دیئے تھے،جو شاہ نواز کو بہت عزیز تھے۔

کل ان کی مر مت کرانے نکلا تھا کہ ایک چو ر وہ تھیلا ہی لے ک بھا گ گیا۔ میرے با پ سے میری بہت ساری یا دیں جوڑی ہیں اور وہ جوتے بھی انھی میں سے ایک ہے ٖغفورا صاحب اگر آپ میری مدد کریں گے تو میں آپ کو مشکور رہوں گا۔ شاہ نواز نے بھی کہا۔ کیوں نہیں شاہ نواز صاحب ضر ور  میں مدد کروں گا اب ان جوتوں کا حلیہ بیان کر و، ٹھیک ہے بیان کر تا ہوں، شاہ نواز نے سوچتے ہوئے بتا یا ۔دیکھنے میں وہ جو تے بہت بو سیدہ ہیں ایک جو تے کی ایڑی نہیں ہے اور سامنے سے بھی کچھ خراب حالت ہے ان جوتوں کی۔شاہ نواز لگتا ہے چور نے تھیلے کے دھوکے میں جوتے چوری کر لیے ورنہ تو کو ئی چور ایسے جوتے چوری نہ کرئے۔ ہاں جی آپ درست کہتے ہیں جناب اسی لیے تو آیا ہوں کہ وہ کسی کے کا م نہیں آئے گے سوائے میرے، کیونکہ میرا رشتہ ہے ان جوتو ں سے،وہ  جوتے مجھے میری اوقات اور میرے باپ کی تکلیف مجھے یا د دلاتے رہتے تھے۔آج جب  بلندیوں تک پہنچا ہوں تو یا د رکھتا ہوں وہ بوسیدہ جوتے میرے مقدر میں تھے، میرا با پ مجھے ان بلندیوں تک دیکھنا چاہتا تھا، اور وہ جوتے پہلی کڑی  رہے ہیں میری بلند ی کی۔۔۔۔

آہ،ٹھیک ہے شاہ نواز صاحب آپ رکیے ذرا کل  کالا  بولتا جا رہا تھا  اور کوستا جا رہا تھا کسی امیر آدمی کو  شا ئد آپ کے جو تے اس کے پا س ہو ں، تقریباً دس منٹ کے بعد غفورا چور دوبارہ ان کے سامنے تھا اور کالا اور شاپر دونوں بھی، ہاں بھئی کالے ذرا شاپر دکھا دے ان کے جوتے ہیں یہ۔ کالے نے شاپر دکھا یا تو وہی بوسیدہ جوتے جن کا حلیہ ابھی کچھ دیر پہلے شاہ نواز نے بیان کیا تھا سامنے تھے۔ ہاں ہاں یہی ہیں وہ جو تے۔ کالے نے شاپر ہا تھ میں دے دیا، اس کے چہر ے پر ما یوسی تھی کے یہ جو تے مہنگے نہ تھے جن کو وہ فروخت کر لیتا، وہ جا نے لگا تو شاہ نواز نے آواز  دی کالے، کالا  پلٹ آیا اور  پوچھنے لگا کیوں روکا ہے مجھے شاہ نواز نے دس ہزار روپے اس کو تھما دئیے، اور کہا آج اگر  یہ جو تے نہ ملتے تو شاید   ہمیشہ اسے اس بات کی کمی محسو س ہوتی۔ شاہ نواز نے غفورا چور کا شکر یہ ادا کیا، غفورا چور نے کہا صاحب شکریہ تو مجھے آپ کا کر نا چاہیے آج پہلی مرتبہ کسی نے مجھے غفورا چور کے بجائے  صرف غفورا کہا تھا، ورنہ ہمیشہ یوں لگتا تھا میں بھی اس بستی میں ایک چور ہوں،حالانکہ میں یہ بات جانتا ہوں کہ اس بستی کے چور صرف جوتا چوری کرتے ہیں۔وہ زندگی نہیں چھینتے  کسی۔۔ شاہ نواز حیرت سے اس کا منہ تک رہا تھا، کیونکہ غفورا چور اتنی بڑی بات کتنی آسانی سے کہہ گیا تھا اس بات کا اندازہ اسے بھی نہیں تھا۔ اچھا غفورا صاحب ہمیں اجازت دیجیے پھر کبھی ضرور چکر لگاؤں گا آپ کی طرف،ضرور شاہ نواز صاحب ضرور آئیے گا، شاہ زیب جو ابھی تک چپ تھا،

کافی دیر چپ رہنے کے بعد بولا یا ر یہ بھی عجیب رنگ ہے آج مجھے یہاں آ کرے لگا  کہ میں احسا س  کے شہر میں  آ پہنچا ہوں۔  میر ی بھی وہی سو چ ہے جو دنیا کے باقی لوگوں کی تھی۔ عام سی سوچ کا مالک تھا میں بھی،مجھے حیرت  ہے میں سوچتا تھا چور انسان نہیں ہوتے محسوس نہیں کرتے، یا پھر وہ زندہ ہیں نہیں ہوتے جو لوگوں کو احساس سے محروم کرتے ہیں۔ ہاں تم درست کہتے ہوشازیب۔ لیکن وہ محروم ہوتے ہیں، جس طرح محروم کرنا تکلیف دیتا ہے اسی طرح محروم ہونا بھی تکلیف دیتا ہے۔

٭٭٭