کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آنر کلنگ

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


خود اپنی پستیٔ اخلاق کو نہ دیکھ سکا

جو آج اوج ثریا پہ ڈالتا ہے کمند!

                                                                   (ابوالمجاہد زاہدؔ)

 

ارشد خاں اور بختاور خاں اکبر پور گاؤں کے سابقہ زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں بھائی قد  و قامت کے اعتبار سے جہاں مساوی تھے وہیں مزاج اور اخلاق کے معاملے میں دونوں میں کوئی مطابقت نہیں تھی۔ جہاں ارشد خاں بے حد نرم گفتار اور مخلص انسان بطور مشہور تھے وہیں بختاور اپنے بداخلاق اور بد مزاج انداز کے لیے مشہور تھے۔اسی طرح ان کی بیویاں بھی مزاج اخلاق کے معاملے میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ارشد خان کی بیوی شاہین بیگم خوش اخلاق ،نرم دل اور بے حد  محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ ارشد خاں اور شاہین بیگم کی اکلوتی اولاد منیرا تھی جو کہ  انٹر میڈیٹ کی طالبہ تھی اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی۔ جب کہ بختاور خاں کی شادی چند ماہ قبل ہی ہوئی تھی ان کی بیوی طاہرہ بلا کی منہ پھٹ اور حسد رکھنے والی عورت تھی۔ وہ بظاہر تو سبھی سے بہت اخلاق سے پیش آتی لیکن اندر ہی اندر حسد میں گھلتی رہتی تھی۔باتوں کا ہنر وہ خوب جانتی تھی۔ بختاور خاں اس کی شوخ اداؤں اور لچھے دار باتوں میں کچھ اس قدر کھوئے ہوئے تھے کہ انھیں اس کی بدکلامی بھی شیریں معلوم ہوتی تھی۔

منیرا طاہرہ کی باتوں سے بہت لطف اندوز ہوتی تھی اس کا جب دل کرتا بختاور خاں کے گھر پہنچ جاتی جو کہ گاؤں سے شہر جانے والے راستہ پر واقع تھا اور منیرا کے اسکول کے راستے میں ہی پڑتا تھا۔

’’طاہرہ چچی…طاہرہ چچی…ارے کہاں ہو بھئی۔‘‘ منیرا آج اسکول سے آتے ہوئے بختاور خاں کے گھر چلی آئی تھی۔ بختاور خاں تو کھیتوں پر گئے ہوئے تھے۔ منیرا اس سے بہت ڈرتی تھی اس لیے وہ چچا کی عدم موجودگی میں ہی طاہرہ سے ملنے آتی تھی۔

’’کہاں چھپی ہو چچی‘‘

’’آئی …بنو…ابھی آئی۔‘‘ طاہرہ کی عجلت بھری آواز پر منیرا چونکی۔وہ آواز کی سمت میں مزید آگے بڑھی اور سیدھے طاہرہ کے کمرے میں داخل ہو گئی۔ تبھی کوئی بھاگتے ہوئے اس کے کمرے کے پچھلے دروازے سے نکلا۔ جب کہ طاہرہ اپنے است ویست کپڑے درست کرتی جلدی سے دروازہ پر آئی۔

’’چچی یہ ابھی کون بھاگا ہے۔‘‘

’کک…کوئی نہیں بنو…یہاں تو کوئی بھی نہیں۔‘‘ طاہرہ گھبرا گئی۔اسے کاٹو تو خون نہیں۔

’’ارے یہ تو کلو سیفی کا لڑکا تھا نہ ملّن‘‘ منیرا نے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے کہا تو طاہرہ خوف زدہ ہو گئی۔

’’نہیں بیٹا…یہاں کوئی نہیں تھا…تمھیں دھوکہ ہوا ہے۔‘‘

’’مگر چچی…میں نے …‘‘

’’اچھا یہ بتاؤ تمہار اس وقت کیسے آنا ہوا۔ ‘‘ طاہرہ نے فوراً بات بدلی۔

’’وہ میں آپ سے ایک ساڑی لینے آئی تھی۔‘‘ منیرا نادان فوراً طاہرہ کی باتوں میں الجھ گئی۔

’’ہاں …آؤ…دیتی ہوں نا‘‘ ۔ طاہرہ فورا ً تیار ہو گئی۔

منیرا کو بڑی حیرانی ہوئی۔چچی آج ایک دم کیسے ساڑی دینے تیار ہو گئیں۔ ورنہ تو وہ بہت کہنے پر بھی کچھ دینے کو تیار نہ ہوتی تھیں۔

’’کیا واقعی آپ…مجھے …یہ فریشر پارٹی میں پہننی ہے۔‘‘ منیرا نے حیران ہوتے ہوئے بتایا۔

’’لے لو بنّو رانی …جو پسند آئے لے جاؤ۔ طاہرہ نے خلاف توقع اس کے لیے پوری الماری کھول دی۔

منیرا نے فوراً موقع کا فائدہ اٹھانا غنیمت جانا اور ایک نیلے رنگ کی ساڑی منتخب کر لی۔دراصل منیرا اور طاہرہ کی عمروں میں زیادہ فرق نہ تھا اور قد کاٹھی بھی تقریباً ایک ہی تھی۔

’’یہ لو اور جلدی گھر جاؤ تمہاری امی تمہاری راہ دیکھ رہی ہوں گی۔ ‘‘ طاہرہ نے اسے جلدی ٹالنے کی کوشش کی۔منیرا بھی خوشی خوشی جلد طاہرہ کے گھر سے نکل گئی۔

’’آ جاؤ …ملن ڈیر…آفت جا چکی۔‘‘

’’شکر ہے بلا ٹلی …آ ج تو مر ہی گئے تھے جانم۔‘‘ ملن نے طاہرہ کو بانہوں میں بھر لیا۔

٭

منیرا آج جب کالج سے واپس لوٹی تو طاہرہ اس کی امّی شاہین بیگم کے پاس بیٹھی باتوں میں مشغول تھی۔

’’سلام طاہرہ چچی‘‘ ۔منیرا نے شرارتی انداز میں سلام کیا تو طاہرہ کا موڈ آف ہو گیا۔ اسے لگا کہ منیرا اس پر طنز کر رہی ہے۔ طاہرہ کا موڈ آف ہوتا دیکھ شاہین بیگم نے منیرا کو جھڑک دیا۔

’’چلو اوپر جاؤ …تمیز نہیں تمہیں منیرا…بڑوں سے ایسے کلام کرتے ہیں۔‘‘

’’اب اوپر جاؤ اور چائے بنا کر لاؤ چچی کے لیے۔‘‘

طاہرہ کے سامنے اپنی انسلٹ سے منیرا بھی خفا ہو گئی اور پیر پٹختی ہوئی اندر چلی گئی۔

’’دیکھا بھابھی …منیرا کے بھی اب پر نکلنے لگے ہیں۔ اسے ذرا قید کر کے رکھیے کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔ ‘‘ طاہرہ نے بھڑاس نکالی۔

طاہرہ کے کہنے پر شاہین بیگم کو بڑی شرمندگی محسوس ہوئی۔ انھیں طاہرہ کی بات بے حد ناگوار گزری تھی لیکن وہ خاموش رہیں۔ سچ تو یہ تھا کہ وہ بھی منیرا کی جوانی سے متفکر ہونے لگی تھیں۔ انھیں منیرا پر تو بڑا اعتماد تھا لیکن وہ زمانے سے بہت ڈرتی تھیں۔ اب طاہرہ کی باتوں نے اور ان کے دل میں پھانس چبھو دی تھی۔

اور پھر وہ دن آہی گیا جس سے شاہین بیگم خوف کھاتی تھیں۔

گاؤں کے کئی لوگوں نے کالج سے لوٹتی منیرا کی بختاور خاں کے مکان کے قریب ملن سے باتیں کرتے دیکھا تھا اور اس کی شکایت بہ ذریعہ طاہرہ ارشد خاں کے گوش گزار ہوئی تھی۔

’’ارے تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے طاہرہ…منیرا بہت اچھی لڑکی ہے۔‘‘ ارشد خاں نے طاہرہ کو ٹالتے ہوئے کہا۔ لیکن طاہرہ کہاں ماننے والی تھی۔

’’آپ غفلت برت رہے ہیں بھائی صاحب۔ اس کا انجام بہت برا ہو سکتا ہے۔ ‘‘ طاہرہ نے پر شکوہ انداز میں کہا اور پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔

’’میں منیرا کو سمجھا دوں گا۔ تم پریشان نہ ہو۔‘‘ ارشد خاں کے یہ جملے طاہرہ نے سنے ہی نہیں۔

’’منیرا …بیٹی…تم ملن سے کیا بات کر رہی تھیں۔‘‘ شاہین بیگم نے منیرا سے پیار سے پوچھا تو وہ چونکے بغیر نہ رہ سکی۔

’’امی وہ بختاور چچا کے گھر میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا تو میں نے اسے منع کیا کہ بختاور چچا نہیں ہیں۔ ‘‘ منیرا نے بڑی معصومیت سے کہا۔

’’بس…‘‘

’’ہاں اور پھر وہ وہاں سے بھاگ گیا۔‘‘

’’چلو ٹھیک ہے بیٹا…لیکن اب تم اس کے منھ مت لگنا…زمانہ بہت خراب ہے بیٹی…‘‘ ماں نے بیٹی کو سمجھانا چاہا لیکن منیرا کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ شاید وہ ابھی ایسی باتیں سمجھنے کی اہل نہیں ہوئی تھی۔

اور پھر ایک دن منیرا کالج سے گھر آتے وقت غائب ہو گئی تھی۔ ارشد خاں اور شاہین بیگم بیٹی کی جدائی اور زمانے میں ہوئی فضیحت سے بے خد غمزدہ تھے۔

’’بھائی صاحب منیرا نے تو ہمیں منھ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا۔‘‘ طاہرہ زہر اگلنے ارشد خاں کے گھر آ دھمکی۔ جانے کیوں اسے منیرا سے بلا کا بیر ہو گیا تھا۔

’’میں نے تو آپ کو خبردار بھی کیا لیکن آپ نے ایک نہ سنی میری۔‘‘ طاہرہ ہاتھ نچا نچا کر ارشد خاں کو غیر ت دلا رہی تھی۔

’’ضرور وہ ملن کو بھگا لے گئی ہے۔‘‘ طاہرہ نے جیسے بم پھوڑا ہو۔

’’نہیں …نہیں یہ نہیں ہو سکتا ‘‘ ۔ارشد خاں چیخ پڑے۔

’’کیا کمی چھوڑی تھی ہم نے منیرا کی پرورش میں جو اس نے ہمیں یہ دن دکھایا۔‘‘

شاہین بیگم بہت آبدیدہ ہو رہی تھیں۔

’’ارے نہیں بیگم منیرا تو بچی ہے اس کا کوئی قصور نہیں ہے وہ تو اس حرامزادے ملن نے اسے بہکادیا ہو گا۔‘‘ ارشد خاں بھی شاہین بیگم کی طرح غمزد ہ تھے لیکن انھیں بیٹی پر بہت بھروسہ تھا۔

’’لود یکھو تو صحیح…اپنی لونڈیا تو سنبھلی نہیں۔دوسرے کو گالی دیتے ہیں۔‘‘  طاہرہ نے ناک بھوں سکوڑی۔

تبھی ارشد خاں کے سامنے بختاور نے منیرا کو لا پٹکا۔

’’لو بھائی جان یہ رہی منیرا…اس کو ملن کی گاڑی سے خود اترتے دیکھا ہے میں نے۔‘‘

ارشد خاں کو کاٹو تو خون نہیں۔وہ بختاور کی بات پر کچھ بولنا چاہتے تھے لیکن ان کے لب جیسے سِل گئے تھے۔وہ بدبدا کر رہ گئے۔

’’اس  لڑکی نے تو سارے خاندان کی ناک کٹوا دی۔ ‘‘ طاہرہ نے شوہر کو مزید غصہ دلا دیا۔

’’نہیں چچا جان میں نے کچھ نہیں کیا۔ میں تو جیسے کالج سے گھر کی طرف نکلی تو اچانک قریب آئی گاڑی کا دروازہ کھلا اور پتہ نہیں مجھے کسی نے اندر کھینچ لیا۔پھر کسی نے میرے منھ پر رومال رکھ دیا اور میں بے ہوش ہو…گئی۔‘‘ منیرا نے صفائی دینے کی کوشش کی۔

’’خاموش ‘‘ بختاور خاں خونی آنکھوں سے منیرا کو گھور رہے تھے۔

٭

’’بھائی صاحب رات کو چودھری نے برادری کی پنچایت بلائی ہے‘‘ بختاور خاں کی اطلاع پر ارشد خاں کادل مزید دھڑ ک اٹھا۔

’’کس لیے‘‘ ارشد خاں جان بوجھ کر انجان بن رہے تھے۔

’’منیرا کو سزا دینے کے لیے۔‘‘

’’لیکن منیرا بچی ہے اگر اسے کسی نے ورغلا بھی دیا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے۔‘‘ ارشد خاں نے مری آواز میں صدائے احتجاج بلند کرنی چاہی۔

’’چودھری کا کہنا ہے کہ برادری کی عزت کے لیے منیرا کو سزا دینی ہی ہو گی۔ ‘‘

بختاور کی باتوں نے ارشد خاں پر سکتہ طاری کر دیا تھا۔ وہ خاموش بیٹھے خلا میں گھور رہے تھے۔بختاور خاں بھی بظاہر پریشان سے تھے۔ لیکن طاہرہ -اس کی طرف تو کسی کا دھیان نہیں تھا جو کہ چپکے چپکے مسکرا رہی تھی۔اس کے لبوں پر بڑی زہریلی مسکراہٹ تھی۔ جسے کوئی بھی محسوس نہیں کر سکا۔

٭

’’تو بس فیصلہ ہو گیا ارشد خاں۔‘‘ چودھری نے کھاٹ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ تو ارشد خاں کا جسم تھرتھرا گیا۔

’’رحم چودھری …رحم…بچی نادان ہے …میں اسے سمجھا دوں گا۔‘‘

’’نہیں چودھری اور برادری کا فیصلہ کبھی نہیں بدلتا۔‘‘

’’چودھری میں اپنی بیٹی کو لے کر اس گاؤں سے چلا جاؤں گا۔اس کی شادی کر دوں گا اور تمام واسطے تعلق ختم کر لوں گا…مگر اتنی بڑی سزا مت دو چودھری۔‘‘

’’نہیں ارشد خاں …اگر آج منیرا کو چھوڑا گیا تو برادری کی تمام لڑکیوں کے سر بے حیائی سے کھل جائیں گے اور سب کی سب غیر برادری کے لڑکوں سے جا ملیں گی۔تب ہم کسے منھ دکھانے لائق رہ جائیں گے۔‘‘

چودھری پر ارشد خاں کے مسلسل بہتے آنسوؤں کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔‘‘  ’’چپ چاپ گھر میں ہی معاملہ نپٹا دو…ورنہ ہمیں ہی کچھ کرنا ہو گا۔‘‘ حکم دے کر چودھری اور دیگر لوگ اٹھ کر چلے گئے۔

ارشد خاں پتھرائی آنکھوں سے دروازہ کو دیکھتے ہی رہ گئے۔

’’کیا انھیں خود ہی اپنی بیٹی کا گلا گھونٹنا ہو گا۔‘‘

ارشد خاں نے سوچا تو ان کی سبکی نکل گئی۔

’’نہیں نہیں وہ بھلا اپنی نازوں پلی اکلوتی اولاد کو اتنی سی بات کے لیے کیسے مار سکتے ہیں۔‘‘ ارشد خاں سوچتے سوچتے اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔

گھر پر شاہین بیگم ان کی منتظر تھیں۔بے صبری سے دروازہ پر ہی برادری کی پنچایت کا حال معلوم کرنے لگیں۔ ارشد خاں خاموش رہے۔

’’آپ کچھ بولتے کیوں نہیں۔‘‘

ارشد خاں کے خشک ہوئے آنسو ایک مرتبہ پھر بہہ نکلے۔

انھوں نے روتے ہوئے چودھری کا حکم شاہین بیگم کے گوش گزار کر دیا۔

’’نہیں …یہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ شاہین بیگم پچھاڑ کھا کر گر پڑیں۔

ارشد خاں نے بمشکل تمام انھیں سنبھالا۔

’’چلو بیگم سامان باندھو…ہم لوگ اسی وقت گاؤں چھوڑ دیں گے۔‘‘

ابھی وہ تیاری کر ہی رہے تھے کہ طاہرہ اور بختاور خاں آ دھمکے۔

’’بھائی صاحب بھاگنے سے بدنامی کا داغ نہیں دھل سکتا۔‘‘ طاہرہ نے کہا تو ارشد خاں آبدیدہ ہو کر بولے۔

’’تو تم ہی بتاؤ میں کیا کروں۔‘‘ ارشد خاں کی چیخ سن کر منیرا اچانک کمرے سے نکل کر باہر آ گئی۔

’’کیا ہوا ابا…آپ کیوں رو رہے ہیں۔‘‘ وہ باپ کو چپ کرانے لگی۔

تبھی طاہرہ نے بختاور خاں کی طرف دیکھا۔آنکھوں آنکھوں میں اشارے ہوئے۔

بجلی کی سی تیزی سے بختاور خاں نے منیرا کو دبوچ لیا اور اسے لے کے برابر کے کمرے میں بند ہو گیا۔ اندر سے منیرا کی گھٹی گھٹی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔

ارشد خاں اور شاہین بیگم نے بری طرح دروازہ پیٹ ڈالا۔

’’چھوڑ دے ظالم …میری پھول سی بچی کو …شاہین بیگم چیختی رہ گئیں۔ لیکن وحشی چچا کا دل نہ پسیجا اس کے ہاتھ کی پکڑ منیرا کے گلے پر سخت ہوتی گئی۔

دھیرے دھیرے منیرا کی آوازیں آنی بند ہو گئیں اور سکوت چھا گیا۔

پھر دروازہ کھلا اور وحشی چچا باہر آیا۔ اس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ دروازہ کھلتے ہی منیرا کے ماں باپ اندر دوڑے۔

’’جلاد تو نے میری بیٹی کو مار ڈالا‘‘ شاہین کی آواز پر منیرا نے بے حد مری سی آواز نکالی۔’’امی …ابا‘‘

’’میری بیٹی…‘‘

’’بڑی سخت جان ہے یہ تو ‘‘ طاہر ہ نے اپنے خاوند کو دیکھا جس پر وحشت سوار تھی۔

اس نے طاہرہ کی آنکھوں کی طرف دیکھا اور وہ اس کی جادوگری میں ایسا بدمست تھا کہ اچھے برے کا خیال نہ کر سکتا تھا۔

اس نے لاٹھی اٹھائی اور اسے منیرا کی گردن پر ٹھیک اس جگہ ٹکا دیا جہاں سے سانس کی نلی گزرتی تھی۔

’’گ…گوں …گو‘‘ منیرا کا دم گھٹنے لگا اور وہ بے دم ہو کر لڑھک گئی۔ ارشد خاں نے اس کی پلکیں بند کر دیں۔

’’خبر دار کسی سے مت کہنا کہ منیرا کے ساتھ کیا ہوا۔ اسے صبح تک دفنانے کا انتظام کرنا ہے …چلو طاہرہ‘‘ ارشد خاں دھمکا کر واپس جانے لگا۔

’’ارے او جلّاد سن…میں سب کو چیخ چیخ کر بتاؤں گی کہ میری بیٹی کا قتل تم دونوں نے کیا ہے۔ ‘‘

’’او…و‘‘ طاہرہ نے مڑ کر دیکھا۔اس کی آنکھیں سوچنے والے انداز میں گھومیں۔چندلمحے کو اسے لگا کہ جیسے اس کا جسم کانپ گیا لیکن وہ جلد نارمل ہو گئی اور خاوند کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گئی۔

صبح فجر کی نماز کے بعد منیرا کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔

ارشد خاں اور شاہین بیگم غمزدہ سے گھر کے باہر آنگن میں بیٹھے تھے کئی رشتہ دار بھی مغموم سے ان کے پاس موجود تھے تبھی پولس کی جیپ ان کے قریب آ کر کی۔

’’ارشد خاں اور شاہین بیگم کو اپنی بیٹی کو عزت کی خاطر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے۔ ‘‘

’’لیکن یہ تو غلط ہے …‘‘ گاؤں کے پردھان نے مزاحمت کی۔

’’پردھان جی یہ آنر کلنگ کا معاملہ ہے۔خود ان کے بھائی بھابی گواہ ہیں کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو گلا گھونٹ کر مار ڈالا ہے۔ ‘‘

٭٭٭