کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پانی کی گڑیا

میمونہ احمد


حمیدہ  حمیدہ   وہ  حمیدہ  کی گردان پڑھتے   ہوئے جلد ی جلدی دروازے سے داخل ہو تی ہو ئی سیدھی حمیدہ کے گھر کے صحن میں پہنچ گئی، کیا ہوا شبنم ؟خیریت  ! تم بڑی جلد ی میں آئی ہو، سب ٹھیک ہے نا ! ہاں ری حمیدہ سب ٹھیک ہے لیکن تم نے دیکھا وہ  اپنی رانیا ہے نا انھوں نے نیا گھر بنو الیا ہے،قسم سے کیا بتاؤں  اتنا پیارا گھر بنوا لیا ہے ان لوگوں نے ! جب اللہ کسی کے دن پھیرتا ہے تو اس کی روشنی ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے، ہاں بالکل  شبنم تم ٹھیک کہتی ہو، میں نے کل دیکھا تھا  جا کے میں تو رانیا  کو مبارک باد بھی دے کے آئی تھی،اچھا  مجھے ابھی بتا دیا ہوتا تو اکٹھے  چلے جاتے اور میں بھی مبارک باد دے آتی، ہاں تو پھر کیا ہو ا میں پھر تمھارے ساتھ چل پڑوں گی یہ تو رہا ساتھ  والی گلی میں ان کا گھر ۔ ٹھیک ہے پھر، لیکن ایک با ت ہے رانیا نے جتنی غربت دیکھی اور صبر کیا اللہ نے اس کا اجر دنیا ہی میں دے دیا ہے۔ہاں بات تو شبنم تمھاری ٹھیک ہے، مجھے یا د ہے جب وہ اس محلے میں شادی کرا کے آئی تھی تو اس کا خاوند صرف ایک درزی تھا  پھر کتنی محنت کی دونوں میاں بیوی نے اب دیکھو ایک فیکٹری بنا لی اور اس کی بیٹی دیکھی تم نے شبنم اپنی ما ں جیسی ہی  سمجھ دار ابھی  نو سال کی ہی تو ہے لیکن ایمان سے بہت سمجھ دار ہے، شبنم نے بھی اس کی ہا ں میں ہا ں ملائی،اچھا  حمیدہ اب جا تی ہوں بس تمہیں یہی بتانے آئی تھی،بچے آ گئے ہوں گے  سارے سکول سے ،تالا دیکھے گے تو پریشان ہو جائیں گے، اچھا ٹھیک ہے جا و۔

 رانیا جو  تیرا  سال پہلے  اس  سلطانیہ محلے میں بیاہ  کر آئی تھی وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی، پھر اس کے ماں با پ نے اس کی شادی بھی اپنے جیسے خاندان میں ہی کر دی تھی،قربان علی  جو ایک درزی تھا کپڑے سیتا تھا اور کپڑے سی کر ہی روز مرہ  کی ضروریات پورا کر لیا کرتا تھا، لیکن اب رانیا کی ذمہ داری بھی اسی پر تھی تو وہ زیا دہ کا م کر تا تھا تاکے اپنی بیو ی  کی ذمہ داری بھی پوری کرسکے، اتفاق ایسا ہوا کے رانیا بھی کپڑے سینے میں ماہر تھی اور اپنے میکے میں مشہور تھی اس حوالے سے، لیکن ایک خواہش تھی اس کے دل میں جو وہ کبھی اپنی زبان پر نہ لا ئی تھی لیکن کبھی وہ خواہش بڑی شدت سے جا گتی تھی لیکن وہ اس خواہش کا گلا دبا دیتی تھی یہ خواہش اس کے بچپن  سے ہی اس کے ساتھ بڑی ہو گی تھی لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہ کبھی اس خواہش کو لفظ نہیں دیتی تھی، (جانے کیا ہو)

 ایک دن جب قربان علی گھر آیا تو اس نے قربان علی سے بات کی کے وہ بھی دن میں فارغ ہو تی ہے وہ  بھی کپڑے سی لیا کرئے گی،قربان علی کہنے لگا رانیا بڑی محنت ہو تی ہے اس میں اور تم گھر کا بھی کا م کر تی ہو اور پھر اگر کپڑے سینا تم نے شروع کر دئیے تو تم بیمار ہو جا و گی، نہیں ہوتی میں بیمار اس بہانے مصروف بھی رہوں گی اور آپ کے کام بھی آ جا ؤں گی،چلو جیسے تمھاری مرضی لیکن اپنی صحت سے زیادہ کام نہ کرنا۔ٹھیک ہے  وہ جواب دیتی ہے !

کام کرتے کر تے دونوں میاں بیوی کو پورے تین سال ہو گئے ان تین سالوں میں دونوں نے خوب محنت کی شا ئد اس کی وجہ سے ان کی دوکان ڈبل ہو گئی تھی اور خوب مشہور ہوتی جا ری ہے ان تین سالوں میں ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہو چکی تھی جس کا نا م دونوں نے خوب سوچ بچار کر کے چاندنی رکھ دیا۔ان کا خاندان مکمل ہو گیا تھا وہ دونوں اپنے رب کے بہت شکر گزار تھے اور رہتے تھے، لیکن اپنی چاندنی کے لیے انھوں نے اور  زیادہ محنت کرنا شروع کر دی وہ چا ہتے تھے کے ان کی چاندنی ضرور پڑھ لکھ جائے، وہ اگر پڑھے لکھے نہیں ہیں تو کیا ہے ان کی بیٹی تو ضرور ہو گی، قربان علی ایک اچھا انسان ہے، جو اپنے رشتوں کو بہت احترام کر تا ہے اسی طرح وہ اپنی بیوی کے حقوق بھی اسی طرح خیال رکھتا ہے جیسے اس کی بیوی اس کا  خیال رکھتی ہے۔

رانیا اپنی بیٹی کے لیے سکول دیکھنے جانے والی ہے کیوں کہ آج اس کی بیٹی پورے چھ سال کی ہو گئی ہے وہ سوچ رہی تھی حمیدہ یا شبنم کی طرف چلی جائے کیوں کہ ان کے بچے بھی اچھے سکولوں میں پڑھتے ہیں وہ ابھی یہ سوچ رہی تھی کہ حمیدہ اور شبنم دونوں گھر میں داخل ہوئی اور اسلام کر نے کے باد گھر کی مبارک باد دی، خیر مبارک حمیدہ اور شبنم، میں ابھی یہ ہی سوچ رہی تھی کے تم لوگوں کی طر ف ہو آؤں،چلو تم دونوں آ گئی ہو یہ اور بھی اچھا ہوا ہے۔

کیا با ت ہے رانیا، حمیدہ مجھے چاندنی کا داخلہ کرانا ہے کسی اچھے سے سکول سے  تم بتا و کون سے سکول میں کرا دوں ؟ ارے یہ میری بیٹیاں جس سکول میں پڑھتی ہیں اس میں داخل کرا دو !  ہاں یہ ٹھیک رہے گا، چلو میری ایک پریشانی تو کم ہو گی،اب کتابیں کاپیاں کل لے آؤں گی چاندنی کے ابو کے ساتھ جا کے ! انشاء اللہ۔ہماری ضرورت پڑے تو رانیا ہمیں بلا لینا ہم بھی تمھارے ساتھ چل پڑے گے، بہت شکریہ آپ لوگ تو ہمیشہ ہمارے کا م آتے ہیں، ارے رانیا یہ کیا بات ہو ئی تم بھی تو ہمارا ساتھ دیتی ہے، نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہوتا ہے اور تمھارے کرم جیسے ہیں ویسا ہی پھل تم پا رہی ہو۔ارے حمیدہ تم تو بہت تعریف کر رہی ہو حالانکہ تعریف کے قابل تو صرف اللہ پاک کی ذات ہے ہم لوگوں کو وہ نیکی کے قابل سمجھتا ہے تو کر نے کی توفیق دے دیتا ہے بھلا اس میں ہمارا کیا کمال۔!

بات تو ٹھیک ہے تمھاری،اب ہم لو گ جاتے ہیں پھر کبھی چکر لگائے گے۔ضرور ضرور آنا ! رانیا نے خوشدلی سے جواب دیا۔

رانیا اور قربان علی کی بیٹی اب پورے نو سال کی ہو گئی ہے اور آج وہ اپنی ما ں یعنی کے رانیا سے ضد کر رہی ہے کہ اسے بازار جانا ہے جانے سے نے کیا بازار میں دیکھا جو آج وہ اتنا ضد کر رہی تھی امی چلیں نا ابو امی سے کہیے کے مجھے بازار لے کر چلیں اگر آج بازار نہیں گئے تو وہ چیز جو میں نے پسند کی ہے وہ کو ئی اور لے جائے، ارے رانیا لے جا و نے ہماری لاڈلی کو کتنے عرصے بعد تو کسی چیز کے لیے ضد کر رہی ہے،ٹھیک ہے جا تی ہوں رانیا نے قربان علی کی طرف خفگی سے دیکھا !

چلو چاندنی بیٹا اب کتنی دیر لگا رہی ہو تم ساری دوکانیں تم نے چھا ن ماری ہیں ا ب تک نہیں ملی تمھاری پسندیدہ چیز تو پھر کبھی آ کرے لے لینا۔ نہیں امی مجھے آج ہی لینی ہے کل سکول سے آتے ہوئے ہی تو یہی کہیں کسی دوکان پر دیکھی تھی۔ آپ یہاں اس کر سی پر بیٹھ جاؤ میں وہ سامنے والی دوکان پر دیکھتی ہوں ٹھیک ہے، تھوڑی دیر بعد چاندنی کی خوشی بھری آواز سنائی دیتی ہے،امی جلدی سے آؤؤ دیکھو مجھے مل گئی ہے، کیا مل گئی ہے؟ وہ بہت عجلت میں اُٹھتی ہے اور چاندنی کے پاس پہنچ جاتی ہے چاندنی اپنی ما ں کا ہا تھ پکڑ کر  شیشے  والی الماری کے سامنے لے جا تی ہے،رانیا جب شیشے کے اندر رکھی ہو ئی اس سبز آنکھوں والی گڑیا کو دیکھتی ہے جس کے سنہری بال ہوتے ہیں جس کو ایک کانچ کے شوپیس کے اندر پانی میں رکھا تھا۔ وہ پانی کی گڑیا جس کی خواہش کبھی اس نے بچپن میں کی تھی جو خواہش کبھی پوری نہیں ہو ئی جو اس کے ساتھ ساتھ بڑی ہو تی گئی آج اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا یہ وہی  ویسی ہی پانی کی گڑیا تھی جس کے بارے میں گڑیا والا کہتا تھا۔!

پانی کی گڑیا نہ چلتی ہے نہ پھرتی

پانی کے گھر میں رہتی ہے

کانچ کے دروازوں  سے بنا

اس کا پانی کا گھر

پانی کی گڑیا۔۔۔۔

یا اللہ یہ ما جرا کیسا ہے جس گڑیا کے بارے میں اس گڑیا والے نے بتا یا تھے کہ اس جیسی گڑیا دنیا میں اب نہیں بنائے گا کیوں کہ اس گڑیا کو بنا نے والا اس کو بنا نے کے بعد چل بسا تھا یہ وہ خاص وجہ تھی اس گڑیا کی جس کی وجہ سے رانیا کے دل سے اس گڑیا کا خیال جاتا ہی نہیں تھا۔ آج اپنی بیٹی کے لیے وہ پانی کی گڑیا خرید کر جا رہی تھی کیوں کہ اس کی بیٹی کی تو یہ دو دن کی خواہش تھی لیکن وہ تو ایک زمانے سے یہ خواہش لیے بیٹھے تھی۔

 ٭٭٭