کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ

میمونہ احمد


آ پ میری بات سن رہے ہیں یا نہیں ! ثمینہ نے کہا،ہاں سن رہا ہوں کیا کہہ رہی ہو تم ؟ یہی کہ ارسلان پہلی مرتبہ پاکستان جا رہا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ وہ پورا پاکستان دیکھ کر آئے جواس کا وطن ہے،ہاں ثمینہ تم ٹھیک کہتی ہو،ہے کدھر یہ ہما را ارسلان اور تیاری مکمل کر لی یا نہیں اس نے، خورشید نے پو چھا۔ ہاں ہاں کر لی ہے میں نے دیکھ لیا ہے اس کا سامان۔میں دیکھ کے آتی ہوں اب کتنی دیر ہے اسے ڈنر کھا لے باقی تیا ری پھر بعد میں کر لے،ہاں جاؤ دیکھ آؤ۔

دروازہ کھلا تھا اور ارسلان کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا پا کستان کی مشہور جگہوں کو دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں میں عجب سی خو شی تھی ان جگہوں کو دیکھتے ہوئے  اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ابھی پہنچ جائے اور اس سرزمین کو اپنی آنکھوں سے دیکھے،ارسلان باقی بعد میں دیکھ لینا۔ارے امی آپ کب آئی مجھے معلوم ہی نہیں ہوا، کیسے معلوم ہوتا تم اتنے کھوئے ہوئے تھے ان تصویروں میں، ـامی ابھی تو میں تصویر کی نظر سے پاکستان کو دیکھ رہا ہوں جب میں اپنی نظر سے دیکھ لوں گا تب سکون ہو گا۔ ہاں بیٹا جی، تم  کیمرہ ضرور رکھ لینا اور ہر منظر کی تصویر بنا لینا۔ چلواس بہانے تمھارے ماں با پ بھی اپنے وطن کو دیکھ لیں گے۔۔

ارسلان کی سوچ اپنے ملک کے بارے میں اتنی شاندار اس لیے تھی کیوں کے اس کے ماں باپ اپنے وطن کی قدر جانتے تھے اس لیے انھوں نے ارسلان کو بھی وہی سوچ دی جس کی وجہ سے ارسلان مجبور ہو گیا کے جس وطن کی بات اس کے ماں باپ کرتے ہیں  اس کو دیکھے تو آخر کیا چیز ہے اس میں جو میرے ماں باپ کی آنکھوں اس زمین کے لیے اتنا تقدس آ جا تا ہے۔  ثمینہ اور خورشید اب پاکستان شفٹ ہونا چاہتے تھے کہ وہ اپنی باقی زندگی اپنے دیس میں گزارنا چاہتے ہیں اور اسی لیے چاہتے تھے کہ ارسلان پاکستان جائے اور اس زمین کو دیکھ کر آئے اور فیصلہ خود کرے اسے لندن رہنا ہے یا پاکستان۔۔۔۔۔

۳مارچ وہ دن تھا جب اس کا جہاز پاکستان کے ائیر پورٹ پر اتر رہا تھا آج میں پہلی مرتبہ اپنے قد م اس زمیں پر رکھوں گا جانے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے آج ہی میں آزاد ہوا ہوں اور آزادی کے بعد اپنی سرزمین کو دیکھوں گا۔جہاز کا دروازہ کھل چکا تھا اور  تمام مسافر  اتر رہے تھے ارسلان بھی اترنے لگا، اترنے کے بعد وہ کچھ اسی جگہ پر رک گیا اس نے ہوا کو محسوس کیا،

کیا بات ہے آج میں پاکستان میں ہو ں  یا اللہ تیر ا شکر  ہے جا نے کیوں ہم لوگوں کو پر دیسی بن جانا پڑتا ہے اور ایسے پردیسی جو اپنی ہی زمین کے لیے سسکتے رہتے ہیں۔خوشی اس کے چہر ے پر چھلک رہی تھی،ارسلان ائیرپورٹ سے با ہر نکلا اور ٹیکسی لے لی، ٹیکسی ڈرائیور  جو کے بہت بولتا تھا،نا م اس کا خیردین تھا اور جتنی دیر وہ ٹیکسی میں رہا ارسلان اس کی باتیں توجہ سے سنتا رہا، اس نے پاکستان کی ہر مشکل بڑی روانی سے بیان کر دی تھی ہزاروں شکوے تھے اس پاکستان سے، اتنی مہنگائی ہو گئی ہے لیڈر بھی اچھے نہیں ہے کچھ ملتا ہی نہیں پاکستان سے، یہ وہ تمام باتیں تھی جو خیر دین نے ارسلان سے کی، ہو ٹل تک کا سفر صرف شکایت سننے میں صرف ہو ا۔ارسلا ن نے خیردین کے نظریے سے پاکستان دیکھ لیا لیکن ابھی اس کا خود نظر یہ رہتا تھا۔وہ ہوٹل پہنچ گیا ہوٹل بڑا شاندار تھا ضرورت کی ہر چیز میسر تھی وہ اپنے کمرے میں پہنچ گیا سامان رکھا کیمرہ لیا اور باہر آ گیا۔ ارسلان پیدل چل رہا تھا اس نے پاکستان دیکھنا تھا ہر نظریے سے، سامنے چند بچے سکول جا رہے تھے بچوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور پوری سڑک پر لائن بنا کر دوسرے کنا رے پر پہنچ گئے،بلکل ان پرندوں کی طرح جو ایک ساتھ بلندی پر اڑتے ہیں، اس نے تصویر بنا ئی اور آگے چل پڑا،کافی سارے چھابڑی فروش تھے جو سبزیاں اور پھل بیچ رہے تھے، اور بڑی زور زور سے آوازیں لگا رہے تھے، فرق صرف اتنا تھا اپنا اپنا لہجہ تھا،ارسلان نے ان کی تصویر یں بنا ئی اور آگے بڑھ گیا اب وہ پرانے محلوں میں آ چکا تھا نام تو معلوم نہیں تھا ان محلوں کا اسے لیکن بہت بوسیدہ گلیاں تھی ان محلوں کی،وہ ایک گلی مڑتا تو دوسری میں پہنچ جاتا یوں چلتے چلتے وہ ایک ایسے گھر کے سامنے رک گیا جس کا دروازہ نہیں تھا۔اس کے سامنے ایک ٹوکری والی بوڑھی عورت  بیٹھی تھی۔

وہ اس کے پاس بیٹھ گیا او ر پوچھنے لگا آپ کیا بیچتی ہیں،بوڑھی عورت نے جواب کیا خوب دیا وہ حیران ہو گیا،بوڑھی عورت نے اتنے یقین کے ساتھ کہا کہ میں خوشی فروخت کرتی ہوں !

وہ کیسے ؟ یہ چوڑیاں جو میں نے رکھی ہیں جب خواتین پہنتی ہیں تو خوش ہوتی ہیں نا۔جی جی بالکل۔۔۔

محلے کے سب گھروں میں دروازے ہیں آپ کے گھر کا دروازہ کیوں نہیں بی اماں۔۔۔! پتر دروازے کی ضرورت تو ان کو ہوتی ہے جو ڈرتے ہیں مجھے ڈر نہیں ہے دروازے کا چکر بڑا پرانا ہے اس لیے یہ پردہ کافی ہے میرے گھر کے لیے۔

آپ کا ان چندپیسوں سے کام چل جاتا ہے ؟کیوں نہیں پتر دو وقت کی روٹی آسانی سے مل جاتی ہے، جب خواہش کم ہوتی ہے تو زندگی بڑی آسان اور مطمئن ہوتی ہے بیٹا مصیبت تو اس وقت ہوتی ہے جب انسان خواہش کو مرکز ہی بنا لے۔ ارسلان وہاں ہی بیٹھا رہا اور اس بوڑھی عورت کو دیکھتا رہا  گاہک آتے رہے جاتے رہے، شام ہو گئی  لیکن ارسلان وہاں سے نہ اُٹھا وہ اس ٹیکسی چلانے والے اور چوڑیاں بیچنے والی کا مقابلہ کر رہا تھا، اس دیس میں کتنے رنگ ہیں جو پوشیدہ ہیں،بوڑھی عورت اُٹھنے لگی اس نے دیوار کو ٹٹولا اور اپنی چھڑی ڈھونڈ لی اس کے سہارے وہ اپنے گھر میں داخل ہو گئی، ارسلان کو اب معلوم ہو ا جس بوڑھی عورت سے وہ بات کر رہا تھا وہ نا بینا تھی، جس کا احساس ارسلان کو ہو گیا ہے۔

وہ واپس ہوٹل کی طرف چل پڑا تھا اس نے آج زندگی کا بہترین سبق پڑھ لیا تھا جو پردیس میں رہتے ہوئے وہ کبھی نہ سیکھ سکا۔۔۔ہوٹل پہنچتے ہی اس نے اپنے ماں باپ کو فون کیا اور بتایا کہ پردیسی بننا بڑا مشکل ہے دیس والے، دیس والے ہی ہوتے ہیں  ابو! خورشید احمد اپنے بیٹے کی باتیں بخوبی جانتا تھا اور  اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھی ایسے ہی جب وہ اپنا دیس چھوڑ کے پردیس جابسا تھا۔۔۔فیصلہ ہو گیا تھا لندن پر پاکستان کو فوقیت مل چکی تھی۔۔۔

مٹی کی محبت بھی عجب محبت ہے انسان بھی ماٹی بن جاتا ہے۔۔۔

٭٭٭