کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خون آلود ہاتھ

سید نصرت بخاری


آگ اور لوہے کی یہ برسات روکی جا سکتی تھی مگر چونکہ دونوں ممالک کیافواج میں کسی امیر ،وزیر یا جرنیل کا کوئی بھائی، بیٹا یا قریبی رشتے داربراہ راست شریک نہیں تھا اور نہ ہی کسی بڑے ملک کا مفاد جنگ رکنے میں تھا اسلیے جنگ کے سائے گہرے مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔

ابتدائی طور پر سرحدی علاقے اس عفریت کی زد میں آئے۔ عوام کی بےچینی دور کرنے کے لیے اس کو محدود پیمانے کی جنگ کا نام دیا دے دیا گیا۔حکومتی و عسکری عہدہ دار محدود پیمانے کی جنگ کا نام اس سکون اور اطمینان سےلیتے کہ جیسے اس انداز کی جنگ میں انسان کی بجائے کیڑے مکوڑے مرتے ہیں یایہ جنگ نہ ہو آنکھ مچولی کا کھیل ہو۔

’’جنٹل مین سرحد پر اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔اگر چہ اسدفعہ معمول سے زیادہ گولہ باری ہوئی ہے پھر بھی اس محدود جنگ کے پھیلنے کاکوئی امکان نہیں ‘‘۔ایک اعلی فوجی افسر نے پریس کانفرنس میں ایک شاطر صحافیکو تحکمانہ انداز میں جواب دیا۔لیکن جنگ تو وہ مہلک مرض ہے کہ اگر فوری طور پر اس کا سدباب نہ کیا جائے تویہ کینسرپھیلتاچلا جاتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ ناسور دونوں ملکوں کے پورے وجود میں زہر کی طرح پھیل گیا۔’’ہم خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے‘‘۔ایک طرف سے آواز آئی۔

’’ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے‘‘۔دوسری آوازبھلا کب چپ رہنے والی تھی۔

آ ہنی دیو چنگھاڑتے ہوئے آتے اور غضب ناک انداز میں زمین کی گودمیں چنگاریاں انڈیل کر گزر جاتے۔ بستیوں سے دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے۔آبادیاں برباد اورقبرستان آباد ہوتے چلے گئے۔’’ہماری بہادر فضائیہ نے کامیاب آپریشن کر کے دو شہروں کو ملانے والا پلتباہ کر دیا ہے۔شہر کے جنوبی حصے سے ابھی تک دھوئیں کے بادل اٹھ رہےہیں۔‘‘ایک فوجی افسر پریس کانفرنس کے دوران کہا۔

’’لیکن سر کہا جا رہا ہے کہ بمباری شہری آبادی پر کی گئی‘‘۔ایک صحافی نے چبھتا ہوا سوال کر دیا۔

’’اگرچہ وہ شہری آبادی والا علاقہ تھا لیکن دشمن نے وہاں بہت بڑیمقدار میں اسلحہ ذخیرہ کر رکھا تھا۔زیادہ تباہی اس اسلحہ ڈپو کے پھٹنے کیوجہ سے ہوئی ہے۔‘‘فوجی افسر نے بڑا معقول جواز پیش کیا۔

دوسری طرف بھی پریس کانفرنسوں کی رسم نبھائی جا رہی تھی۔

’’ہماری بہادر افواج نے ایک سرحدی گاؤں پر قبضہ کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے‘‘۔فوجی افسر نے دعوی کیا

’’ سنا گیا ہے کہ آپ کی بہادر افواج بری طرح انسانی حقوق کی پامالی کررہی ہیں۔نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں ،عورتوں پر تشدد کیا گیا اور بعضمقامات پر عورتوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ‘‘۔ایک بیرونیصحافی نے زہر آلود سوال کیا۔’’نو جنٹل مین نو ایسی کوئی بات نہیں۔در اصل اس علاقے میں دشمن کے جاسوسچھپے ہوئے تھے۔اب جنگ میں دشمن کو گلے تو نہیں لگایا جاتا نا۔‘‘

’’ڈیر سر خواتین کی ایک بڑی تعداد۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’میں نے کہا نا جنٹل مین کہ جنگ میں دشمن کو گلے نہیں لگا یاجاتا۔او کے تھینک یو ویری مچ‘‘۔فوجی افسر نے اسی بیرونی صحافی کی بات چھینکرپریس کانفرنس کے اختتام کا اعلان کر دیا۔انسان برڈ فلو کی زد میں آئی ہوئی مرغیوں کی طرح لاکھوں کی تعداد میں مررہے تھے بچے ،بوڑھے،بیمار،تندرست،مرد و ، زن امیر اور غریب بلا تفریق اسجہنم کا ایندھن بنائے گئے۔ بچوں پر یتیمی مسلط ہونے لگی۔ سہاگنیں بیوگیکا طوق پہننے پر مجبور ہو گئیں ’’ہائے میں بیوہ ہو گئی۔ہائے میں بیوہ ہو گئی۔میرا بچہ یتیم ہو گیا۔‘‘ایکنوجوان کور مکوری لڑکی کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔

بیٹوں کی دائمی مفارقت سے ماؤں کی آنکھوں میں سفیدی اترنے لگی۔’’میرا منتوں کا لال منوں مٹی کے نیچے چلا گیا۔میرے بڑھاپے کا اکلوتا سہاارارا۔۔۔۔‘‘ایک بوڑھی عورت کا رونا کسی سے نہیں دیکھا جا رہا تھا۔

میدان جنگ سے بھی تابوتوں کی آمد شروع ہو گئی۔رات کی تاریکیمیں فوجی اڈوں پر لاشوں سے بھرے ہوائی جہاز اترتے۔اور اندھیرے کی اوٹ میں وہاں سے فوجی گاڑیوں کے ذریعے تابوتوں کو ان کے گاؤں یا شہر پہنچا دیاجاتا۔جہاں انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ دفنا کر انکے لواحقین کو حالات کیچکی میں آٹا بننے کیلئے چھوڑ دیا جاتا۔

اتنا کچھ ہونے کے باوجود گولا باری سے امیروں وزیروں کے محل کیدیواریں کپکپائیں ا ورنہ ہی سی جرنیل کی وردی خون آشنا ہوئی۔ ایسا ہونے کاذراسا بھی امکان ہوتا تو جنگ نہ ہوتی۔لیکن چونکہ دونوں ممالک کے حکمرانطبقے کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے جان و مال کو کوئی خطرہ ہے ا ور نہ ہیانہیں بھوک پیاس کی مشقت اٹھانا ہو گی۔اسلئے طبل جنگ بجاتے وقت دونوں اطراف کسی کے ہاتھ نہیں کپکپائے۔

بد امنی اور لا قانونیت کی وجہ سے لوگوں کا جا ن و مال اور عزت وآبرو کچھ بھی محفوظ نہیں تھا۔دشمن سے تو خیر اسی قسم سلوک کی توقع تھی مگرموقع پا کر اپنوں نے بھی ایسے کاری زخم لگائے کہ اپنائیت کی قبا پرزے پرزےہو گئی۔ انسانیت سسک سسک کر دم توڑنے لگی۔ اخلاقی قدریں پا ما ل ہونےلگیں۔

’’دو سگی بہنیں پولیس اہلکاروں کی درندگی کا شکار ہو گئیں۔ اپنے بھائیکی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے آئی تھیں۔پولیس اہلکار رات بھرہوس کا نشانہبناتے رہے۔ساری رات چوکی سے عورتوں کی چیخ و پکار کی آوازیں آتیرہیں۔‘‘اخبار کی سرخی خوف و ہراس منعکس کر رہی تھی۔ان تمام حقائق سے آگاہ ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے حکومتی اور عسکریترجمان حقائق کی کڑوی گولی کے اوپر جھوٹ کی مصنوعی شیرینی کی تہ جما کر وقتیطور پر لوگوں کے ہیجان و اضطراب کوسلا دیتے۔’’ملک میں امن و امان کی صورت حال تسلی بخش ہے۔بازار میں کھانے پینے کیاشیا بکثرت دستیاب ہیں۔عوام کا مورال بلند ہے۔بعض علاقوں سے دشمن کے جاسوسپکڑے گئے ہیں۔جو بد امنی اور لاقانونیت کی افواہیں پھیلا کر عوام کو ہراساں کرنے کیکوشش کر رہے تھے‘‘۔جھوٹ کی اس شیرینی کا اثر ختم ہونے کے بعد بے اعتباری کے جھٹکوں سے لوگوں کی حالت مزید خراب ہو جاتی۔

بڑی طاقتیں دونوں کی پیٹھ ٹھونکتی رہیں کیونکہ ان کا وہ اسلحہ جسنے اگلے دو تین سالوں زائد المیعاد ہو کر ناکارہ ہو جانا تھا۔اسی صورت میں فروخت ہو سکتا تھا۔بعض مہلک بموں اور ہتھیاروں کا تجربہ کرنا بھی مقصودتھا کہ ان سے ایک وقت میں کتنے لوگوں کے جسموں سے جان کھینچی جا سکتیہے۔ایسے تجربات اپنے ملک میں بھی کئے جا سکتے تھے لیکن ا نسانی حقوق کیعلم بردار اور ماحولیاتی آلودگی کی ٹھیکیدار تنظیموں نے چیخ چیخ کر آسمانسر پر اٹھا لینا تھا۔ اس کے علاوہ ان مہلک ہتھیاروں کے تجربات پر خرچ ہونےوالا کثیر سرمایہ بچانے کے ساتھ سا تھ بموں کی کارکردگی کا عملی مظاہرہ بھیدیکھا جا سکتا تھا۔کیونکہ اس قسم کے تجربات کیلئے میدان جنگ سے بہتر اورکون سی تجربہ گاہ ہو سکتی ہے۔ بڑی طاقتوں کو اپنا ہمدرد جان کر دونوں ممالک عوام کو تباہ و برباد کرنے کیلئے عوام ہی کی خون پسینہ کی کمائی سےگولہ بارود کے پہاڑ کھڑے کرنے لگے۔

’’ہمارے دوست ملک نے اس مشکل گھڑی میں ہمیں بڑا سہارا دیا ہے۔چنددن قبل چار کروڑڈالر کے سمجھوتے کے تحت اسلحہ کی پہلی کھیپ آج وطن پہنچ گئی ہے۔جس سے فو جکی کار کردگی اور بھی بہتر ہو جائے گی۔صدر مملکت اور وزیر اعظم نے دوستوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔‘‘ایک نیوز کاسٹر ٹی وی پر خبریں پڑھ رہی تھی۔

نفرت کے کالے جادو نے دلوں سے ا نسانیت اور اخلاص کا سارا پانینچوڑ کر عقلوں کو مفلوج کر دیا۔ملکی سرمایہ پہلے ہی دفاع کے نام پر کثرتسے لٹایا جا رہا تھا۔ باقی ماندہ دولت بھی ٹینک،توپیں نگلنے لگیں۔

جنگ کی یہ اننگ لمبی ہوتی جا رہی تھی۔اقتصادی و معاشی ترقی کا پہیہالٹا چلنے لگا۔کیونکہ سرمایہ دار نے سرمایہ اور کاروبار سمیٹنا شروع کردیا۔تجارتی جہازوں نے اپنے رخ موڑ لئے کیونکہ تاجروں کو تو منافع چاہئے۔جو جنگ کی چکی میں پسنے والے نہیں دے سکتے۔ تجارتی سرگرمیاں ماند پڑنے کیوجہ سے معیشت کی کمر ٹوٹ گئی۔

بھوک اور افلاس کا دیو انسانی جانیں نگلنے لگا۔ موسم سازگار دیکھکر جرائم کا پودا بھی جڑ پکڑنے لگا۔چیزوں کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ خون سستاہو گیا۔

وہی بڑی طاقتیں جو کھبی اس کی ہم نوائی کا ساز چھیڑ کے کھبی اس کےساتھ ہم خیالی کا رقص کر کے اپنا زائد المیعاد اسلحہ فروخت کر چکی تھیں۔یہ بساط لپیٹنے کیلئے تگ و د و شروع کر دی۔’’سلامتی کونسل نے دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے‘‘۔

’’عالمی رہنماؤں نے جنگ کی طوالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے‘‘۔

جگہ جگہ جلوس نکلنے لگے۔اقوام متحدہ جس کو یہ کام پہلے کرنا چاہئےتھااس تنازع کے حل کیلئے اجلاس پر جلاس بلایا۔دنیا بھر کے صحافی اور میڈیاان پر برسنے لگے۔

’’اس جنگ سے عالمی امن کو بہت خطرات درپیش ہیں ‘‘۔

’’اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا لیکن دونوں اطراف سے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا‘‘۔

بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر دونوں ممالک نے مذاکرات کے نتائجتک عارضی طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔مذاکرات کی میز سجا دی گئی۔دونوں سربراہان آمنے سامنے بیٹھ گئے دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔دوخون آلود ہاتھ مصافحے کیلئے گرم جوشی سے ایک دوسرے کی طرف بڑھنے لگے۔

’’رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا سب سے افضل انسانکون ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا۔ وہ مومن جو اپنی جان ومال سے جہاد کرتا ہے۔تو مسلمان بھائیو آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے مجاہدکفر کی قبا چاک چاک کر رہے ہیں۔ہم بدنی طور پر تو جہاد میں شریک نہیں لیکنہمیں اس خیر کے سمندر میں اپنے حصے کا قطرہ ضرور ڈالنا چاہئے۔کیونکہ کفارکے ساتھ ان مجاہدوں کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں بلکہ وہ لوگ میری، آپ کی بلکہتمام دنیا کے مسلمانوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔و ہ ا سلام کی سر بلندی کے لیےاپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔کفر کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اپنےلہو سے چراغ جلا رہے ہیں۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی ہر ممکن امدادکریں۔اس کار خیر کا اللہ کے ہاں بڑا درجہ ہے۔کوئی بزرگ یا بھائی، ماں یابہن اس ثواب سے محروم نہ رہے۔جس کی جتنی توفیق ہے ان مجاہدوں کی امدادضرور کرے‘‘ آج ساتویں دن بھی قاری ابراہیم مسجد کے احاطے میں بیٹھے چندے کیمقدس شمع جلائے لاؤڈ اسپیکر پر لوگوں کو مجاہدین کی امداد کی ترغیب دےرہے تھے۔جس کی طرف جذبہ ایمانی سے سرشار پروانے دیوانہ وار کھنچے چلے آرہے تھے۔

’’قاری صاحب یہ میری طرف سے‘‘۔ایک بیوہ نے چھوٹی چھوٹی معصوم بالیاں قاری صاحب کی ہتھیلی پر رکھ دیں۔

’’میری بالیاں ں ں ں ں۔۔۔‘‘اس عورت کی چھوٹی سی بچی سسک رہی تھی۔

قاری ابراہیم کے سامنے رکھے صندوق میں بڑے بڑے نوٹ اب باہر جھانکنےلگے تھے۔ ایک دوسری پوٹلی میں طلائی زیورات بندھے ہوئے تھے۔پوٹلی کا پھولاہوا پیٹ سونے کی اچھی خاصی مقدار کا غماز تھا۔قاری ابراہیم کپڑے ،لحاف اوردوسری بھاری چیزیں نہیں لے رہے تھے۔ کیونکہ مجاہدین کو پیسوں کی ضرورت ہےجن سے ان لوگوں نے گولہ بارود خریدنا ہے۔ جنگ میں اسلحہ کو اہمیت دی جاتیہے باقی تمام چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔

چنانچہ جو شخص بھی مسجد میں آتا، وہ نقدی دیتا یا پھر بیوی یا بیٹیکے جہیز کیلئے رکھے ہوئے زیورات قاری صاحب کی خدمت میں پیش کر دیتا۔قاریصاحب وصول پا کر اس کا نام فضا میں بکھیر دیتے۔ اس کی بخشش اور دلی مرادوں کی بار آوری کیلئے دعا فرماتے۔ جس سے لوگوں میں جذبہ ایثار مزید بیدارہوتا اور وہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر دین کی خدمت بجا لانے کی کوشش کرتے۔

ان سات دنوں میں قاری صاحب صرف کھانا کھانے کیلئے ایک بار یعنیدوپہر کو گھر جاتے جب دوبارہ مسجد میں آتے تو ظہر،عصر،مغرب اور عشاء کینمازیں پڑھا کر جاتے۔ اس دوران انھوں نے کوئی ذاتی کام نہیں کیا۔فقطمجاہدین کیلئے امداد اکٹھی کرنے میں لگے رہے۔اس قدر محنت اور مشقت کےباوجود ان کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نظر نہیں آئے۔ بلکہ ان کی آنکھوں کیچمک مزید بڑھ گئی۔ان کے چہرے کے ورق پر جو اضطراب کی آڑی ترچھی لکیریں ہواکرتی تھیں ان کی جگہ طمانیت نے لے لی تھی۔شاید یہ دین کی خدمت کا اعجازتھا۔

دسویں روز کا سورج جب آنکھ موند کر رات کی تاریک آغوش میں چلا گیا تو قاری صاحبنے عشاء کی نما ز کے بعد خاص احباب کو وہیں روک لیا۔

’’آج رات کسی وقت میں نے نکل جانا ہے۔زیادہ تاخیر مناسب معلوم نہیں ہوتی۔آپ لوگوں کو خبر تو ہےکہ وہ لوگ کن مشکلات سے دو چار ہیں۔اور یہاں کے حالات سے بھی آپ بخوبیواقف ہیں۔ابھی تو آنے جانے کی تھوڑی بہت آزادی ہے مگر کل کا کچھ پتانہیں۔اس لئے بہتر یہی ہو گا کہ موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں یہ چیزیں اُن کے حوالے کر آؤں۔

’’قاری صاحب میرا مشورہ یہ ہے کہ ایک دو دن مزید دیکھ لیا جائےکیونکہ ابھی لوگ آ رہے ہیں اور پھر روز روز جا نا بھی تو آسان نہیں۔رہیبات حالات کی تو حالات جتنے بھی بگڑ جائیں اس قسم کی چیزیں آتی جاتی رہتیہیں ‘‘۔ایک آدمی نے اپنی رائے دی۔

’’لیکن برخوردار میں اس فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہونا چاہتاہوں۔البتہ آپ میں سے کوئی شخص یہ امانت سنبھالنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہےتو دو کیا چار دن دیکھ لیتے ہیں۔لیکن میرا مشورہ پھر بھی یہی ہے کہ معاملےکی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دیر نہ کی جائے۔‘‘

آخر کار سارے لوگ قاری صاحب سے متفق ہو گئے کیونکہ ان کی بات میں کا فی وزن تھا۔اگر واقعی کل کو حالات کوئی پیچیدہ صورت اختیار کر لیتے ہیں تو یہ جمع کیا ہوا مال اسباب مجاہدین تک نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔

قاری صاحب سورج کی آنکھ کھلنے سے پہلے نہایت خاموشی سے روانہ ہو گئے۔

پندرہ بیس دن اُن کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکاکہ کہاں ہیں اورکس حال میں ہیں۔آخر ایک دن اُن کا خط آ گیا جس میں انھوں نے اپنے سفر کیروداد اور مشکلات کا تفصیل سے ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ وہمجاہدین کے شانہ بہ شانہ اگلے مورچوں میں مصروف ہیں۔انھوں نے احباب سے اپنےلیے شہادت کی دعا کی درخواست کی تھی۔تقریباً مہینہ بھر جہاد کرنے کے بعدقاری صاحب ایک بازو پر پلستر اور سر پر زخموں کا تاج سجائے واپس آ گئے۔

’’میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک پیچھے نہیں ہٹوں گا۔لیکن ہوا یوں کہ میں زخموں کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا اور جب ہوش آیا توہسپتال میں تھا۔افسوس کہ شہادت نصیب میں نہیں تھی ورنہ گولہ تو دو چار قدمہی ادھر گرا تھا‘‘۔قاری صاحب نے ایک تیمار دار کو تفصیلات بتاتے ہوئےکہا‘‘۔

کوئی ایک سال بعد قاری صاحب جمعہ کی نماز پڑھانے کے بعدمسجد میں احباب کے جھرمٹ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص السلام علیکم کہتا ہوا قاریصاحب کے پاس آ بیٹھا۔’’مولانا آپ اس شہر میں رہتے ہیں ؟وہ کسی نے سچ کہا ہےکہ یار زندہ صحبت باقی۔میں یہاں کسی کام کے سلسلے میں آیا تھا۔ادھر سے گزررہا تھا کہ نماز کا وقت ہو گیا اور یوں ملاقات کا بہانہ بن گیا۔‘‘قاری صاحب کو اس شخص کی صورت کچھ جانی پہچانی سی لگی لیکن یہ یاد نہیں آرہا تھا کہ اس کو کہاں دیکھا ہے۔

’’معاف کیجئے گا میں نے آپ کو پہنچانا نہیں۔ قاری صاحب نے نادمسا ہو کراس سے پوچھا۔آپ نے نہیں پہچانا۔جناب میں مقصود ہوں۔ مدینہ پراپرٹی والا۔ پچھلے سال میں نے اسلام آباد میں ایک کوٹھی خریدنے میں آپ کی مدد کی تھی۔ سیڑھیاں اترتےہوئے آپ گرے تو ہسپتال بھی میں ہی لے کر گیا تھا۔

***