کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گرہن

راجندر سنگھ بیدی


روپو، شبو، کتھو اور منا۔۔۔ہولی نے اساڑھی کے کائستھوں کے چار بچے دئیے تھے اور پانچواں چند مہینوں میں جننے والی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے، سیاہ حلقے پڑنے لگے، گالوں کی ہڈیاں ابھر آئیں اور گوشت ان میں پچک گیا۔ وہ ہولی جسے پہل پہل میا پیار سے چاند رانی کہہ کر پکارا کرتی تھی اور جس کی صحت اور سندرتاکارسیلا حاسد تھا، گرے ہوئے پتے کی طرح زرد اور پژمردہ ہو چکی تھی۔ آج رات چاند گرہن تھا۔ سرشام چاند گرہن کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے ہولی کو اجازت نہ تھی کہ وہ کپڑا پھاڑ سکے۔۔۔ پیٹ میں بچے کے کان پھٹ جائیں گے، وہ سی نہ سکتی تھی۔۔۔ منہ سلا بچہ پیدا ہو گا۔ اپنے میکے خط نہ لکھ سکتی تھی۔۔۔ اس کے ٹیڑھے میڑے حروف بچے کے چہرے پر لکھے جائیں گے اور اپنے میکے خط لکھنے کا اسے بڑا چاؤتھا۔ میکے کا نام آتے ہی اس کا تمام جسم ایک نامعلوم جذبے سے کانپ اٹھتا۔ وہ میکے تھی تو اسے سسرال کا کتنا چاؤتھا۔ لیکن اب وہ سسرال سے اتنی سیر ہو چکی تھی کہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔ اس بات کا اس نے کئی مرتبہ تہیہ بھی کر لیا لیکن ہر دفعہ ناکام رہی۔ اس کا میکہ اساڑھی گاؤں سے پچیس میل کے فاصلے پر تھا۔ سمندر کے کنارے ہر پھول بندر پر شام کے وقت اسٹیمر لانچ مل جاتا تھا اور ساحل کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ دو گھنٹے کی مسافت کے بعد اس کے میکے گاؤں کے بڑے مندر کے زنگ خوردہ کلس دکھائی دینے لگتے۔ آج شام ہونے سے پہلے روٹی، چوکا برتن کے کام سے فارغ ہونا تھا میا کہتی تھی گرہن سے پہلے روٹی وغیرہ کھا لینی چاہئے ورنہ ہر حرکت پیٹ میں بچے کے جسم و تقدیر پر اثر انداز ہوتی ہے۔ گویا وہ بد زیب، فراخ نتھنوں والی ہٹیلی میااپنی بہوحمیدہ بانو کے پیٹ سے کسی اکبر اعظم کی متوقع ہے۔ چار بچوں تین مردوں، دو عورتوں، چار بھینسوں پر مشتمل بڑا کنبہ اور اکیلی ہولی۔۔۔دوپہر تک تو ہولی برتنوں کا انبار صاف کرتی رہی۔ پھر جانوروں کے لئے بنولے، کھلی اور چنے بھگونے چلی۔ حتیٰ کہ اس کے کولہے درد سے پھٹنے لگے اور بغاوت پسند بچہ پیٹ میں اپنی بضاعت مگر ہولی کو تڑپا دینے والی حرکتوں سے احتجاج کرنے لگا۔ ہولی شکست کے احساس سے چوکی پر بیٹھ گئی لیکن وہ بہت دیر تک چوکی یا فرش پر بیٹھے کے قابل نہ تھی اور پھر میا کے خیال کے مطابق چوڑی چکلی چوکی پر بہت دیر بیٹھنے سے بچے کا سر چپٹا ہو جاتا ہے۔ مونڈھا ہو تو اچھا ہے۔ کبھی کبھی ہولی میا اور کائستھوں کی آنکھ بچا کر گھاٹ پر سیدھی پڑ جاتی اور ایک شکم پر کتیا کی طرح ٹانگوں کو اچھی طرح پھیلا کر جماہی لیتی اور پھر اسی وقت کانپتے ہوئے ہاتھ سے اپنے ننھے سے دوزخ کو سہلانے لگتی۔ یہ خیال کرنے سے کہ وہ سیتل کی بیٹی ہے، وہ اپنے آپ کو روک نہ سکتی تھی۔ سیتل سارنگ دیوگرام کا ایک متمول ساہوکار تھا اور سارنگ دیوگرام کے نواح میں بیس گاؤں کے کسان اس سے بیاج پر روپیہ لیتے تھے، اس کے باوجود اسے کائستھوں کو تو بچے چاہئیں، ہولی جہنم میں جائے۔ گویا سارے گجرات میں یہ کائستھ کل ودھو کا صحیح مطلب سمجھتے تھے۔ ہر سال ڈیڑھ سال بعد وہ ایک نیا کیڑا گھر میں رینگتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور بچے کی وجہ سے کھایا پیا ہولی کے جسم پر اثر انداز نہیں ہوتا تھا۔ شاید اسے روٹی بھی اسی لئے دی جاتی تھی کہ پیٹ میں بچہ مانگتا ہے اور اسی لئے اسے حمل کے شروع میں چاٹ اور اب پھل آزادانہ دیئے جاتے تھے۔  ’’دیور ہے تو الگ پیٹ لیتا ہے۔‘‘  ہولی سوچتی تھی۔ ’’اور ساس کے کوسنے، مار پیٹ سے کہیں برے ہیں اور بڑے کائستھ جب ڈانٹنے لگتے ہیں تو پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ ان سب کو بھلا میری جان لینے کا کیا حق ہے؟ رسیلا کی بات تو دوسری ہے۔ شاستروں نے اسے پرماتما کا درجہ دیا ہے، وہ جس چھری سے مارے اس چھری کا بھلا!۔۔۔لیکن کیا شاستر کسی عورت نے بنائے ہیں؟ اور میا کی بات ہی علیحدہ ہے۔۔۔ شاستر کسی عورت نے لکھے ہوتے تو وہ اپنی ہم جنس پر اس سے بھی زیادہ پابندیاں عائد کرتی۔۔۔‘‘ ۔۔۔راہو اپنے نئے بھیس میں نہایت اطمینان سے امرت پی رہا تھا چاند اور سورج نے وشنو مہاراج کو اس کی اطلاع دی اور بھگوان نے سدرشن سے راہو کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ اس کا سراور دھڑ دونوں آسمان پر جا کر راہو اور کیتو بن گئے۔ سورج اور چاند دونوں اس کے مقروض ہیں۔ اب وہ ہر سال دو مرتبہ چاند اور سورج سے بدلہ لیتے ہیں اور ہولی سوچتی تھی، بھگوان کے کھیل بھی نیارے ہیں۔۔۔ اور راہو کی شکل کیسی عجیب ہے۔ ایک کالا سارا کش، شیر پر چڑھا ہوا دیکھ کر کتنا ڈر آتا ہے۔ رسیلا بھی تو شکل سے راہو ہی دکھائی دیتا ہے۔ منا کی پیدائش پر ابھی چالیسواں بھی نہ نہائی تھی تو آ موجود ہوا۔۔۔کیا مجھے بھی اس کا قرضہ دینا ہے؟ اس وقت ہولی کے کانوں میں ماں بیٹے کے آنے کی بھنک پڑی۔ ہولی نے دونوں ہاتھ سے پیٹ کو سنبھالا اور اٹھ کھڑی ہوئی اور جلدی سے توے کو دھیمی دھیمی آنچ پر رکھ دیا۔ اب اس میں جھکنے کی تاب نہ تھی کہ پھونکیں مار کر آگ جلا سکے۔ اس نے کوشش بھی کی لیکن اس کی آنکھیں پھٹ کر باہر آنے لگیں۔ رسیلا ایک نیا مرمت کیا ہوا چھاج ہاتھ میں لئے اندر داخل ہوا۔ اس نے جلدی سے ہاتھ دھوئے اور منہ میں کچھ بڑبڑانے لگا۔ اس کے پیچھے میا آئی اور آتے ہی بولی  ’’بہو۔۔۔اناج رکھا ہے کیا؟‘‘  ہولی ڈرتے ڈرتے بولی ’’ہاں ہاں۔۔۔رکھا ہے۔۔۔نہیں رکھا، یاد آیا بھول گئی تھی میا۔۔۔‘‘   ’’تو بیٹھی کیا کر رہی ہے، نباب جادی؟‘‘  ہولی نے رحم جویانہ نگاہوں سے رسیلے کی طرف دیکھا اور بولی ’’جی، مجھ سے اناج کی بوری ہلائی جاتی ہے کہیں؟‘‘  میا لا جواب ہو گئی۔ اور یوں بھی اسے ہولی کی نسبت اس کے پیٹ میں بچے کی زیادہ پرواہ تھی۔ شاید اسی لئے ہولی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولی۔  ’’تو نے سرمہ کیوں لگایا ہے ری؟‘‘ ۔۔۔۔رانڈ، جانتی بھی ہے آج گہن ہے جو بچہ اندھا ہو جائے تو تیری ایسی بیسوا اے پالنے چلے گی؟‘‘  ہولی چپ ہو گئی اور نظریں زمین پر گاڑے ہوئے منہ میں بڑبڑائے گئی اور سب کو ہو جائے لیکن رانڈ کی گالی اس کی برداشت سے باہر تھی۔ اسے بڑبڑاتے دیکھ کر میا اور بھی بکتی جھکتی چابیوں کا گچھا تلاش کرنے لگی۔ ایک میلے شمع دان کے قریب سرمہ پیسنے کا کھرل رکھا ہوا تھا، اس میں سے چابیوں کا گچھا نکال کر وہ بھنڈار کی طرف چلی گئی۔ رسیلے نے ایک پر ہوس نگاہ سے ہولی کی طرف دیکھا۔ اس وقت ہولی اکیلی تھی۔ رسیلے نے آہستہ سے آنچل کو چھوا۔ ہولی نے ڈرتے ڈرتے دامن جھٹک دیا اور اپنے دیور کو آوازیں دینے لگی۔ گویا دوسرے آدمی کی موجودگی چاہتی ہے۔ اس کیفیت میں مرد کو ٹھکرا دینا معمولی بات نہیں ہوتی۔ رسیلا آواز کو چباتے ہوئے بولا۔  ’’میں پوچھتا ہوں بھلا اتنی جلدی کا ہے کی تھی؟‘‘۔ ’’جلدی کیسی؟‘‘  رسیلا پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ’’یہی۔۔۔تم بھی تو کتیا ہو کتیا؟‘‘  ہولی سہم کر بولی۔  ’’تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘  ہولی نے نادانستگی میں رسیلے کو وحشی، بد چلن، ہوس راں سبھی کچھ کہہ دیا۔ چوٹ سیدھی پڑی۔ رسیلے کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔ لا جواب آدمی کا جواب چپت ہوتی ہے اور دوسرے لمحے میں انگلیوں کے نشان ہولی کے گالوں پر دکھائی دینے لگے۔ اس وقت میا ماش کی ایک ٹوکری اٹھائے ہوئے بھنڈار کی طرف سے آئی اور بہو سے بدسلوکی کرنے کی وجہ سے بیٹے کو جھڑکنے لگی۔ہولی کو رسیلے پر تو غصہ نہ آیا۔ البتہ میا کی اس عادت سے جل بھن گئی۔۔۔ ’’رانڈ، آپ مارے تو اس سے بھی جیادہ، اور جو بیٹا کچھ کہے تو ہمدردی جتاتی ہے،بڑی آئی ہے۔۔۔‘‘  ہولی سوچتی تھی کل رسیلا نے اس لئے مارا تھا کہ میں نے ا سکی بات کا جواب نہیں دیا اور آج اس لئے مارا کہ میں نے بات کا جواب دیا ہے۔ میں جانتی ہوں وہ مجھ سے کیوں ناراض ہے۔ کیوں گالیاں دیتا ہے۔ میرے کھانے پکانے، اٹھنے بیٹھنے میں اسے کیوں سلیقہ نہیں دکھائی دیتا۔۔۔۔اور میری یہ حالت ہے کہ ناک میں دم آ چکا ہے۔ مرد عورت کو مصیبت میں مبتلا کر کے آپ الگ ہو جاتے ہیں، یہ مرد۔۔۔! میا نے کچھ باسمتی، دالیں اور نمک وغیرہ رسوئی میں بکھرا دیا اور پھر ایک بھیگی ہوئی ترازو میں اسے تولنے لگی۔ ترازو گیلی تھی، یہ میا بھی دیکھ رہی تھی اور جب باس متی چال پیندے سے چمٹ گئے تو بہو مرتی کرتی پھوہڑ ہو گئی اور آپ اتنی سگھڑ کہ نئے دوپٹے سے پیندا صاف کرنے لگی۔ جب بہت میلا ہو گیا تو دوپٹے کو سر پر سے اتار کر ہولی کی طرف پھینک دیا اور بولی۔  ’’لے، دھو ڈال۔‘‘  اب ہولی نہیں جانتی بچاری کہ وہ روٹیاں پکائے یا دوپٹہ دھوئے، بولے یا نہ بولے، ہلے یا نہ ہلے، وہ کتیا یا نباب جادی۔ اس نے دوپٹہ دھونے ہی میں مصلحت سمجھی۔ اس وقت چاند، گرہن کے زمرے میں داخل ہونے والا ہی ہو گا، بچہ دھلے ہوئے کپڑے کی طرح چر مڑ سا پیدا ہو گا اور اگر ماہ دو ماہ بعد بچے کا برا سا چہرہ دیکھ کر اسے کوساجائے تو اس میں ہولی کا کیا قصور ہے؟۔۔۔لیکن قصور اور بے قصوری کی تو بات ہی علیحدہ ہے کیونکہ یہ کوئی سننے کے لئے تیار نہیں کہ اس میں ہولی کا گناہ کیا ہے، سب گناہ ہولی کا ہے۔ اسی وقت ہولی کو سارنگ دیورام یاد آ گیا، کس طرح وہ اسوج کے شروع میں دوسری عورتوں کے ساتھ گربا ناچا کرتی تھی اور بھابی کے سرپررکھے ہوئے گھڑے کے سوراخوں میں سے روشنی پھوٹ پھوٹ کر دالان کے چاروں کونوں کو منور کر دیا کرتی تھی۔ اس وقت سب عورتیں اپنے حنا بالیدہ ہاتھوں سے تالیاں بجایا کرتی تھیں اور گایا کرتی تھیں ؛ ماہندی تو اوی مالوے انیورنگ گیوگجرات رے ماہندی رنگ لاگیورے٭ اس وقت وہ ایک اچھلنے کودنے والی الہڑ چھوکری تھی، ایک بحر و قافیہ سے آزاد نظم، جو چاہتی تھی، پورا ہو جاتا تھا، گھر میں سب سے چھوٹی تھی۔ نباب جادی تو نہ تھی اور اس کی سہیلیاں۔۔۔وہ بھی اپنے اپنے قرض خواہوں کے پاس جا چکی ہوں گی۔ سارنگ دیو گرام میں گرہن کے موقع پر جی کھول کر دان پن کیا جاتا ہے۔ عورتیں اکٹھی ہو کر تردیدی گھاٹ پر اشنان کے لئے چلی جاتی ہیں، پھول، ناریل، بتاشے سمندر بہاتی ہیں۔ پانی کی ایک اچھال منہ کھولے ہوئے آتی ہے اور سب پھول پتوں کو قبول کر لیتی ہے۔ ان گناہوں کے جن کا ارتکاب لوگ گزشتہ سال کرتے رہے ہیں اشنان سے سب پاپ دھل جاتے ہیں۔ بدن اور روح پاک ہو جاتے ہیں۔ سمندر کی لہر لوگوں کے سب گناہوں کو بہا کر دور، بہت دور، ایک نامعلوم، ناقابل عبور، ناقابل پیمائش سمندر میں لے جاتی ہے۔۔۔ایک سال بعد پھر لوگوں کے بدن گناہوں سے آلودہ ہو جاتے ہیں، پھر گہنا جاتے ہیں۔ پھر دریا کی ایک لہر آتی ہے اور پھر پاک و صاف۔ جب گرہن شروع ہوتا ہے اور چاند کی نورانی عصمت پر داغ ل