کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مقدس جھوٹ

راجندر سنگھ بیدی


اپنے خدا پرست خاندان میں، میں سب سے چھوٹا تھا۔ جب میں چھ سال کا تھا تو اس وقت میرے باپ کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی۔ میرے باپ کو نزلے کی پرانی بیماری تھی۔ اس لیے وہ کچھ گنگنا کر بولتے تھے۔ ان کا دماغ آسانی سے خوشبو اور بدبو میں فرق محسوس نہیں کر سکتا تھا۔ کبھی کبھی ان کی باتوں پر لوگ منہ دوسری طرف کر کے ہنس دیتے تھے۔ میں ہنستا بھی تھا اور افسوس بھی کرتا تھا۔ نزلے کی وجہ سے ان کے سر اور داڑھی کے بال برف کی طرح سفید ہو گئے تھے۔

میرے والد خاندان کے تمام بچوں کو اکٹھا کر لیا کرتے اور ان کے شور سے بچنے کے لیے انہیں کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ ان کی کہانی عام طور پر ان کی زندگی کے کسی واقعے سے متعلق ہوتی تھی اور اس میں نصیحت کا پہلو ضرور ہوتا۔ کہانی عام طور پر یوں شروع ہوتی تھی۔

"جب میں چھوٹا سا تھا۔"

ان کے بچپن کی ایک کہانی ہم سب کو بہت پسند تھی۔ ہم بہت سے بچے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے پرتھوی بل کے کھلے صحن میں بیٹھ جاتے اور اپنے بزرگ کی ایک ہی کہانی، ان کی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ بار بار دہراتے۔ ایک شرط بہت ضروری تھی اور وہ یہ کہ اگر ہمارا دوست بالم کند کہانی سنائے تو اسی طرح آنکھیں مٹکا کر اور چٹکی بجا کر سنائے۔ میرے باپ کی کہانی تمام بچوں کو اسکول کے پہاڑوں کی طرح یاد تھی اور باسی روٹی کی طرح مزہ دیتی تھی۔ اگر میں اس کہانی کا ایک لفظ بھی بدل دیتا تو دوسرے بچوں کی نظر میں کوئی بہت بڑا جرم کر دیتا تھا۔ ایسے موقع پر میرے چچیرے بھائی بہن ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے۔ وہ کہانی چوہوں کے متعلق تھی اور ایک طرح ہمارے خاندان میں ایک گیت بن چکی تھی۔ یہ کہانی اس طرح تھی۔

جب بابا (میرے باپ) اور چاچا دیوا چھوٹے سے تھے تو ان کو ایک بار چوہے پکڑنے کی سوجھی۔ ان دنوں یہاں ہمارے بڑے سے دیو نما پرتھوی بل کے گھر کی جگہ ایک چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا مکان ہوا کرتا تھا جس میں چوہوں کے بڑے بڑے بل تھے۔ چوہے ہر روز پنیر کی ٹکیاں اور بابا کی مزے دار باسی روٹیاں اٹھا کر لے جاتے تھے۔ چاچے دیوے نے ایک بڑا سا پنجرہ لگایا۔ سارے چوہے پھنس گئے، مگر ایک چوہا بھاگ گیا اور سرنگ میں گھس گیا۔ اب تمہیں یہ جاننا چاہیے کہ (بچے اس موقع پر بڑے خوفزدہ ہو جاتے) سرنگ ایک بہت لمبا چوڑا بل ہوتا ہے جس میں سے گزر کر چوہے جنگل میں اور پھر اپنے مکان میں آ جاتے تھے۔ بابا نے اس سرنگ کے منہ پر ایک پنجرہ رکھ دیا اور اس کو شہتوت وغیرہ کے پتوں سے ڈھک دیا۔ آنے والی صبح کو چاچا دیوے کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ پنجرے کے پاس جائے۔ اس لیے بابا اکیلے ہی گئے۔ اکیلے (دہراتے ہوئے ) بابا اس وقت چھوٹے سے بچے ہی تو تھے!

انہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ پنجرے پر سے پتے ہٹائے تو دیکھا کہ اس میں ایک چوہا تھا۔ بھورے رنگ کا پورے قد کا!

مٹکتا ہوا اور لٹکتا ہوا۔۔۔۔ لٹکتا ہوا اور مٹکتا ہوا۔

بابا اس قدر گھبرائے۔ اس قدر گھبرائے کہ بھاگتے ہوئے جوتوں سمیت چوکے میں گھس گئے (ہمارے لیے کہانی کا یہ حصہ سب سے زیادہ حیرانی پیدا کرنے والا تھا) جوتوں سمیت بھاگتے ہوئے چوکے میں چلے گئے۔ ("چوکا" ہندوؤں کے گھروں کا باورچی خانہ ہوتا ہے، جہاں جوتوں سمیت جانا منع ہوتا ہے)

وہ بھاگتے ہوئے آئے اور چاچا دیوے کو آوازیں دینے لگے۔ "دیوے؟ او دیوے؟"

آواز دیتے دیتے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ منہ کے دونوں طرف رکھ لیے تاکہ آواز ادھر ادھر بکھرنے کی بجائے اکٹھی ہو کر چاچا دیوے تک پہنچ جائے۔ پھر اس قدر زور سے پکارے کہ ان کی آواز ایک چیخ میں بدل گئی۔ اور پھر چیخ نے کھانسی کا روپ دھار لیا۔ کھوں، کھوں۔ پھر بابا نے چوہے کو مار دیا۔ بالکل مار دیا اور جہانگیر آباد کے بھنگی سے اس کی کھال اتروا کر اسے چھت پر رکھ دیا۔ جب کھال سوکھ گئی تو انہوں نے اسے پھگو بھنگی کے ہاتھ بیچ دیا۔ پھگو نے اسے کسی اور کے ہاتھ بیچ دیا اور اس نے کسی اور۔۔۔۔ اور پھر ایک آدمی نے اس کی فر بنا دی۔ آج کل بڑی بھابی کے سویٹر پر وہی فر لگی ہوئی ہے۔

اس موقع پر بات ناقابل برداشت ہو جاتی۔ تمام بچے جھوٹ جھوٹ، بکواس، بکواس کا شور کرنے لگتے کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ موٹی جرنیل بھابی کے خوب صورت سویٹر پر ایک چوہے کی فر لگی ہو؟

آپ نے دیکھا کہ اس واقعہ میں نصیحت کی گنجائش نہیں۔ میرے باپ کی زندگی کا یہی ایک واقعہ ایسا تھا جس میں ان کی کمزوری دکھائی دیتی تھی۔ وہ خود کس قدر ڈرپوک تھے اور ہمیں ہمیشہ بہادر بننے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ بچوں کے دماغوں کے لیے اس قسم کے واقعات، سچائی، تمیز اور دوسری نصیحتوں سے بھری ہوئی مثالی کہانیوں سے کہیں زیادہ اثر ڈالتے ہیں۔ ان سے ہمیں سچائی کا پتا چلتا تھا اور ہماری سمجھ میں یہ بات آ جاتی تھی کہ ہمارے بزرگ بھی کبھی بچہ تھے، ورنہ دوسری طرح کہانیوں میں وہ بچوں کی بجائے ہمیں بوڑھے ہی نظر آتے تھے۔ جیسے پیٹ تک لمبی ڈاڑھی بچپن ہی سے ان کی ٹھوڑی سے لگی ہوئی تھی۔

بابا کی دی ہوئی آزادی کی وجہ سے ہم خاصے شرارتی ہو گئے تھے۔ آخر کار ہماری روز روز کی شرارتوں سے تنگ آ کر اور ہماری عادتوں کو سنوارنے کے لیے بزرگوں نے ہمارے لیے ایک ماسٹر مقرر کر دیا جو ہمیں چھوڑ کر باقی سب کی عزت کرتا تھا۔ ہمارے اس ماسٹر نے ایک نئی ہی چیز ایجاد کر دی۔ ہم میں سے جو لڑکا زیادہ سعادت مند ہوتا اس کو با ادب با تمیز ہونے کے سلسلہ میں ایک سرخ رنگ کا نشان دے دیا جاتا۔ اس "نئے پن" کا ہم پر بہت اچھا اثر ہوا مگر سچی بات یہ ہے کہ اس امتیازی نشان نے ہماری ذہانت کو اسی طرح غلام بنا دیا تھا جس طرح انگریز حکمران ہمارے کسی قومی بھائی کو دیوان بہادر یا خان بہادر بنا کر اس کے ہاتھ پاؤں کی آزادی چھین لیتے تھے۔ اس طرح کے عزت یافتہ لڑکوں کو ہم بڑی للچائی اور افسوس بھری نظروں سے دیکھا کرتے تھے اور اکثر "با ادب با تمیز" کے لفظوں میں سے "ادب" اور "تمیز" نکال کر بکری کے بچے کی طرح "با۔۔۔۔ با" ممیانے لگتے۔ حالانکہ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ ہماری اس حرکت میں "انگور کھٹے ہیں " والا جذبہ بہت ہوتا تھا اور سچائی اور آزادی کی کھوج کا جذبہ کم۔

بہار کے موسمی حسن نے اپنی کشش چھوڑ دی تھی اور اس کے میٹھے پن میں کڑواہٹ آ گئی تھی۔ یہ وہ دن تھے جب شہتوت کے درختوں میں کونپلیں پھوٹ رہی ہوتی ہیں اور ان میں نکلے ہوئے پھول راہ چلتے لوگوں کی نظروں کو للچا کر دیکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ چنار کے چوڑے پتے اپنی گھنی چھاؤں میں ماں کی گود کی طرح راحت بخش رہے