کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

امداد

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


تارا ٹوٹتے دیکھا سب نے یہ نہیں دیکھا ایک نے بھی

کس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا کس کا سہارا ٹوٹا ہے

                                                                   (آرزو لکھنوی)

         

’’یا اللہ …اب تو بارش روک دے ‘‘

’’میرے مالک… ہم پر رحم کر۔‘‘

تیز موسلا دھار بارش نے تین دن سے بجرنگ پور گاؤں پر ڈیرا جما رکھا تھا۔ کچے مکان کی ٹپکتی چھت کے نیچے مصلّا بچھائے عارف علی بارگاہ تعالیٰ میں دعا گوتھے۔ عارف علی پچاس سالک ے صحت مند کسان تھے اور ا پنی تھوڑی سی زمین میں کھیتی کر کے جیسے تیسے زندگی کا پہیا گھما رہے تھے۔محدود آمدنی کے سبب مکان کو پختہ کرانے کی قوت تو ان میں یوں بھی نہیں تھی۔ لیکن پھر بھی ہر سال برسات سے قبل ضرور سوچتے کہ اس بار خیریت سے برسات کا موسم نکل جائے تو مکان کو پختہ کرا لیں گے۔ لیکن بارش کا موسم ختم ہوتے ہی وہ دل سے کیا وعدہ بھول جاتے تھے۔

محض دو کمروں اور چھوٹے سے آنگن پر مشتمل عارف علی کا مکان گاؤں کے باہری طرف واقع تھا۔ تین دنوں سے ہو رہی بارش نے عارف علی کے مکان کا سخت امتحان لیا تھا۔ جہاں چھت بری طرح ٹپک رہی تھی وہیں دیواروں میں پانی گھس جانے سے ان کے بھر بھرا کر گرنے کا خطرہ  لاحق تھا۔ سیلن بھرے کمرے میں لکڑی کی چوکی پر جانماز بچھائے عارف علی یاد الٰہی میں مشغول تھے۔ تقریباً بارش کی رفتار سے ٹپکتی چھت کے نیچے خوفزدہ سا عارف علی کا بیٹا صدام بھی چارپائی پر بیٹھا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جانے کب یہ مکان گر پڑے۔ لیکن وہ کرے بھی تو کرے کیا۔ یہ سوچ کر ہلکان ہو رہا تھا۔

’’میرے خدا …رحم کر…اس باران رحمت کو باعث زحمت نہ بنا۔‘‘ عارف علی مغموم سے دعائیں مانگے جا رہے تھے۔ تبھی باہر سے کچھ شور کی آوازیں سنائی پڑیں تو صدام گھر سے باہر دوڑ گیا۔

’’کیا ہوا پردھان جی‘‘ گھر سے باہر نکلتے ہوئے اسے گاؤں پردھان دکھائی پڑ گئے تھے۔ ’’ارے بھائی ندی کا پانی اچانک تیزی سے چڑھنے لگا ہے اور جلد ہی پانی گھروں تک پہنچنے کا امکان ہے۔اس لیے علاقہ خالی کر کے …‘‘ ابھی پردھان کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ تیز دھماکے کی آواز نے دونوں کو چونکا دیا۔

٭

’’اے میرے رب…میرے گھر اور ہم سب کا تحفظ فرما۔‘‘ عارف علی کا دل اب اپنے خستہ حال مکان کو دیکھ کر ڈوبنے لگا تھا۔ انھوں نے دل ہی دل میں سوچا ’’اگر بارش رُکے تو چھت کی مرمت ہو سکتی ہے اور دیواروں پر پلاسٹر بھی۔ تب شاید انہدام کا خطرہ ٹل جائے۔ ‘‘ عارف علی دل ہی دل میں پھر دعا میں مشغول ہو گئے تھے۔و ہ دعاگو تھے کہ ’’کاش اللہ چھت مرمت کی مہلت دے دے۔‘‘ لیکن ہونی کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔

اچانک تیز بجلی چمکی اور بادلوں کی تیزی سے ہوئی گڑگڑاہٹ نے قہر برپا کر دیا۔ عارف علی کے مکان کی دیواریں اور چھت بھربھرا کر گر پڑی تھیں۔

تیز دھماکے کی آوا ز سن کر عارف علی کا لڑکا صدام اور پردھان تیزی سے عارف علی کے مکان کی طرف لپکے۔

’’ابّا…ابّا…اٹھو…ابّا‘‘ صدام نے دیکھا کہ عارف علی مکان کے ملبے میں بری طرح دب گئے ہیں۔ اس نے پردھان جی کی مدد سے ملبے سے نکالا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اچانک باہر سے بھی شور و غل سنائی پڑنے لگا تھا۔

’’لگتا ہے ندی کاپانی گھروں تک آگیا ہے۔‘‘ ۔کہتے ہوئے پردھان جی فوراً باہر کی طرف لپکے۔

ٹھیک تبھی پانی کی لہر نے ان کے پا جامے کو گیلا کر دیا۔اب ان کے گھٹنے گھٹنے تک پانی چڑھ چکا تھا۔

’’باڑ ھ آ گئی …جلد گاؤں خالی کرو۔‘‘  پولس کی جیپ نے جیسے ہی لاؤڈاسپیکر پر اعلان کیا۔ گاؤں میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ لوگ بے تحاشہ ادھر سے ادھر دوڑنے لگے۔

٭

’’منتری جی …کئی ضلعوں میں باڑھ سے بھاری تباہی ہوئی ہے آپ نے راحت پہنچانے کا کیا انتظام کیا ہے۔‘‘ ٹی وی چینل پر صوبے کے وزیر راحتی امور برائے قدرتی آفات سر اونچا کیے بیٹھے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھے صحافیوں کی ٹولی مسلسل سوالوں کے گولے داغ رہی تھی۔

’’دیکھئے ہم نے فوری طور پر مکان بنوانے کا کام شروع کرایا ہے اور جلد اسپتال و اسکول کی تعمیر کے لیے رقم جاری کر دی جائے گی۔‘‘ وزیر موصوف نے جواب دیا۔

’’لیکن حکومت پر الزام لگ رہے ہیں کہ وہ راحت کے کام میں دیری کر رہی ہے اور باڑھ سے متاثر ہ افراد کو کھانا اور دوائیاں وغیرہ مہیا نہیں ہو پا رہی ہیں۔‘‘ ایک صحافی نے سوال داغا تو وزیر موصوف سنجیدہ ہو گئے۔

’’یہ مرکزی حکومت بے حد نکمی ہے ہم نے ان سے ۷۰۰کروڑ روپئے کا مطالبہ کیا ہے لیکن وہ لوگ کان ہی نہیں دھر رہے ہیں۔

وزیر موصوف نے بھرائی آواز نکال کر رونے کا سا ناٹک شروع کر دیا۔

’’ہم اپنی بساط بھر ہر ممکنہ امداد فراہم کر رہے ہیں۔ جلد ہی مکانات تعمیر کرا کر باڑھ سے متاثرہ لوگوں کو رہنے کا انتظام کیا جائے گا۔ اور …‘‘

’’لیکن چار دن گزرنے کے باوجود بھی باڑھ سے متاثرہ علاقوں میں کوئی راحت کا کام کیوں شروع نہیں ہوا ہے۔‘‘ صحافی کے سوال پر وزیر موصوف کا موڈ بگڑ گیا۔  ’’کون کہتا ہے تمام ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔‘‘

’’لیکن جناب لوگ تین دنوں سے بھوکے پیاسے حالات سے جوجھ رہے ہیں اور آپ کی طرف سے کھانے کے پیکٹ تک نہیں مہیا کرائے جا رہے ہیں۔‘‘ ایک صحافی نے قدرے خفگی کے ساتھ سوال کیا تو وزیر موصوف پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’ارے ہم کو ئی روبوٹ تو نہیں ہیں کہ پلک جھپکتے سب کام ہو جائیں۔‘‘

’’لیکن سر…‘‘

’’سنئے تو سر…‘‘

صحافیوں کی آواز پر دھیان نہ دیتے ہوئے وزیر موصوف گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔

٭

ٹی وی کے دوسرے چینل پر اپوزیشن لیڈر کا بیان چل رہا تھا۔

’’یہ حکومت بدعنوانیوں میں بری طرح ملوث ہے۔ یہ لوگ متاثرہ افراد کو کھانا دوائیاں مہیا کرانے کی جگہ تعمیری کاموں کو جلد کرانے پر زور دے رہے ہیں کیونکہ انھیں اس سے بھاری کمیشن ملنے کی امید ہے۔‘‘

’’جناب…میں پچھلے کئی دن سے آپ کے آفس کے چکر لگا رہا ہوں۔‘‘  دبلے پتلے سے نوجوان نے بڑے مہذب انداز میں کاؤنٹر کلرک سے کہا۔

’’کیوں چکر لگا رہے ہو میں کیا تمہاری دعوت کر کے آیا تھا۔‘‘ کلرک نے  روکھے پن سے کہا۔تو نوجوان کی آنکھوں کی چمک مدھم پڑ گئی۔

’’میں بجرنگ پور گاؤں سے آیا ہوں۔باڑھ کی وجہ سے کئی دنوں سے بھوکا ہوں۔ اگر حکومت سے جاری ہوئی امداد مل جاتی تو …‘‘

’’ارے لو…امداد ہے تو ملے گی کیوں نہیں …گھر جاؤ وہیں پہنچے گی۔‘‘

’’جناب اگر چار سو روپئے یہیں مل جاتے تو …‘‘ نوجوان نے التجا دی۔وہ چاہتا تھا کہ اگر امداد کی چارسو روپئے کی رقم اسے یہیں مل جاتی تو وہ کچھ راشن لے کر گھر چلا جاتا۔اس نے پھر التجا کرنی چاہی۔

’’جناب…مجھے …در اصل میرے باپ کا مکان گرنے سے انتقال …‘‘

’’ارے بھائی تم گھر پہنچو توصحیح…راحت مل جائے گی۔‘‘ کلرک نے دھتکارا۔

مایوس ہو کر نوجوان لڑکھڑاتے قدموں سے گھر لوٹ گیا۔یہ عارف علی کا بیٹا صدام تھا۔

کئی دن گزر گئے کہ شاید آج راحت کی رقم مل جائے لیکن اس کا انتظار ختم نہ ہو سکا۔ پھر ایک دن

’’کوئی گھر میں ہے کیا …‘‘ اچانک دروازے کی کنڈی کھڑکی تو صدام تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ پر پہنچا۔

’’حکومت نے آپ کو امداد بھیجی ہے۔‘‘ آنے والے شخص نے رجسٹر نکالتے ہوئے کہا۔

’’یہاں دستخط کر دو۔‘‘ صدام کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔ اس نے فوراً دستخط کر دیئے۔

’’یہ لو ساٹھ روپئے ‘‘

’’لیکن سرکار نے تو چار سو روپئے کا اعلان کیا ہے بھیا۔‘‘ عارف نے نوٹ پکڑتے ہوئے کہا۔

’’ارے تو راستہ میں خرچہ بھی تو ہوتا ہے۔میرے پاس تو ساٹھ روپئے فی آدمی راحت پہنچی ہے سو تمھیں دے رہا ہوں۔ ‘‘

نوجوان کی آنکھوں کی چمک فوراً غائب ہو گئی۔

’’سنو…دوست…کچھ انعام نہ دو گے کیا۔‘‘ اس نے مدھم آواز میں صدام سے کہا۔

’’انعام‘‘ صدام حیران ہوا۔

اچانک اس کا چہرہ سخت ہو گیا اور اس نے بے حد زہریلے انداز میں کہا ’’یہ لو انعام‘‘ صدام نے مٹھی میں پکڑے ساٹھ روپئے اس شخص کے ہاتھ میں ٹھونس دیئے اور بے حد حقارت کی نگاہ ڈالتا گھر کے اندر چلا گیا۔

٭٭٭