کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پھُلوا

رتن کمار سانبھرایا


رامیشور کے ہاتھ میں کاغذ کا ایک پُرزہ ہے۔ وہ کالونی کی گلی گلی چھانتا پھر رہا ہے۔ دوپہر سے اسے پنڈت ماتا پرساد کا مکان نہیں ملا۔ سارا گاؤں پنڈت جی کی دہائی دیتا تھا۔ شہر بونے ہو گئے تھے۔ ایسے بونے کوئی جانتا نہیں ہے۔ جس سے پوچھو وہی پلاٹ نمبر پوچھتا ہے ان کا۔ پلاٹ نمبر نہ ہوا، پنڈت جی کی پتری ہو گئی۔ کام ہوتا ہی نہیں ہے اس کے بغیر۔

جس سسری بات کا رامیشور ٹیٹوا دبائے تھا وہی بات اس کے سر چڑھ کر بیٹھ گئی تھی۔ شہر آ کر شہری ہو جانا چاہیے۔ رات نکلتے دیر لگتی ہے۔ پھلوا بھی اسی کالونی میں رہتی ہے۔ اس کے لڑکے کا پورا پتہ ہے رامیشور کی جیب میں۔ اس نے جیب سے دوسرا پرزہ نکال لیا۔ ایک نوجوان نے رامیشور کو سر سے پیر تک تاکا۔ شخصیت کے نام پر 43-42 کے درمیان عمر، درمیانی کاٹھی، گیہواں رنگ، نچی کھچی کالی سفید داڑھی مونچھیں ، کانوں میں سونے کی بھاری بالیاں ، دو لاندھی دھوتی اور کرتا، سرپر چھینک کا کلفی دار صافہ ، صافے کا کنارا اس کی کمر کے حصے کو چھوتا تھا۔ رامیشور کو فکر اور پریشانی میں ڈوبا دیکھ کر نوجوان نے اس سے پوچھا۔ ’’رادھا موہن صاحب کے گھر جانا ہے تمھیں۔؟‘‘

 ’’جی بابو صاحب۔‘‘ رامیشور کے لہجے میں فکر، اداسی اور عاجزی تھی۔ اس نے بغل میں دبائے بیگ کو ہاتھ میں لے لیا تھا۔

 ’’کچھ لگتے ہوئے ان کے؟‘‘

 ’’لگتا تو نہیں ہوں ، اس کے گاؤں کا ہوں۔‘‘ رامیشور نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔

نوجوان اسکوٹر اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا۔ ’’وہ چوتھی گلی میں رہتے ہیں۔ بادل آ جائیں گے، اسکوٹر پر بیٹھے۔ میں چھور آتا ہوں تمھیں۔‘‘

رامیشور کا سر بھنا گیا، پنڈت جی کو کوئی نہیں جانتا۔ پھلوا کے لڑکے کو پور پور جانتا ہے۔ اسکوٹر والا اسے ایک کنگورے دار عالیشان کوٹھی کے سامنے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ رامیشور کر حیرت نے جھنجھوڑا۔ پھلوا کی کوٹھی یہ ہے؟ اس نے ہولے ہولے دروازہ بجایا۔ باہر برآمدے میں بیٹھی ایک بڑھیا وہاں آ گئی تھی۔ موٹا جسم، گورے چہرے پر پڑی جھریوں سے چمک پھوٹ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں پر چشمہ تھا اور دھلی ہوئی صاف ساڑی پہنے تھی۔ اس نے ساڑی کو سر پر لیتے ہوئے دروازہ کھولا۔ پھلوا تھی وہ۔ نہ رامیشور پھلوا کو پہچان پایا، نہ پھلوا رامیشور کو پہچان پائی۔ دونوں ایک دوسرے کو اجنبیت سے ٹکر ٹکر دیکھتے رہے۔ پھلوا نے ناک کے سرے تک چشمہ لا کر دیکھا لیکن وہ اسے پہچان نہیں پائی۔

رامیشور نے آنکھیں سکیڑیں  ’’پھلوا؟‘‘

 ’’کون! رامیشور۔‘‘

 ’’ہاں بھابھی۔‘‘

پھلوا نے ماتھے پر تھپکی ماری۔ ’’ہائے رام! گاؤں سے آئی تو مٹیار تھے۔ بوڑھے ہو گئے ہو پندرہ سال میں ہی اندر آئیے نا۔‘‘

پھلوا پھولی نہیں سما رہی تھی۔ اس کے گھر گاؤں کے زمیندار کے کنور آئے تھے۔ وہ بری گھڑی تھی، پھلوا کا پتی زمیندار کے ایک سر پھرے بیل کو سدھا رہا تھا۔ نکیل ڈھیلی پاتے ہی اس غصیل بیل نے اس کے پیٹ میں سینگ ڈال دی۔ وہ تڑپا، پھڑپھڑایا۔ پھلوا کی مانگ اجڑ گئی تھی۔ پھلوا کا بیٹا رادھا موہن دس ایک سال کا تھا تب چاکری پھلوا کو اس کے عوض مل گئی تھی جیسے ساہوکار کو ساہوکاری مل جاتی ہے۔ زمیندار کو زمینداری۔ دو پیٹ تھے۔ وہ زمیندار کے گھر گھاس چھیلتی۔ پانی بھرتی۔ مویشیوں کا پانی چا رہ کرتی۔ باہر بید کی کرسیاں اور میز پڑی تھیں۔ پھلوا ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس نے دوسرے کرسی کی طرف اشا رہ کیا۔ ’’ بیٹھئے گا رامیشور جی۔‘‘

رامیشور کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ سفید رنگ کے جھبریلے سے دو کتے اندر سے آئے۔ انھوں نے رامیشور کو سونگھا اور اس کے منہ کی طرف دیکھ کر سوں سوں کرنے لگے۔ اس نے پاؤں اوپر اٹھا لیے اور ڈر سے گٹھری ہو گیا۔ پھلوا نے کتوں کو ڈپٹا۔ ’’ہمپی، مینو، اندر جاؤ۔ یہ تو رامیشور جی ہیں۔ گاؤں کے زمیندار مہمان ہیں اپنے۔‘‘

دونوں کتے زمیندار بچوں کی طرح وہاں سے چلے گئے۔ رامیشور کا وہم یقین میں بدل گیا تھا۔ پھلوا کرایہ دار نہیں ، مالکن ہے کوٹھی کی، ذات کا گھمنڈی رامیشور حسد سے سلگنے لگا تھا۔

پھلوا رامیشور کی طرف دیکھ کر اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے سامنے کے کمرے کا جالی دار کواڑ کھولا اور رامشیور کو اندر لے گئی۔ کوٹھی میں دس با رہ کمرے ہیں۔ دیواروں پر سٹمپر ہے۔ سنگ مرمر بچھا ہے۔ فرش دیکھ کر رامیشور کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اس کی گھر والی کانسے کی تھال بھی صاف نہیں کرتی ہے ایسے تو۔ پھلوا کے خاندان میں پانچ افراد ہیں۔ پھلوا، اس کا بیٹا رادھا موہن، بہو رانی، ایک پوتا اور ایک پوتی۔

پھلوا بہت خوش تھی۔ ہوا میں تیرنے لگی تھی۔ وہ کوٹھی کی ایک ایک چیز رامیشور کو دکھائے گی۔ ایسی چیزیں جو گاؤں کے زمینداروں اور بنئے بامنوں کے بھی گھروں میں شاید ہی ہوں۔ وہ رامیشور کو لاؤنجمیں لے گئی۔ وہاں ڈائٹنگ سیٹ پڑا تھا۔ سفید سنمائیکا کے ٹیبل پر رامیشور نے جھک کر دیکھا، ٹیبل کے اندر بھی۔ ناک تک سرک آیا چشمہ ٹھیک کر کے پھلوا نے اسے بتایا۔  ’’رامیشور جی شام کو ہم سب یہیں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ مہمان بھی یہیں کھانا کھاتے ہیں۔ آج رات تم بھی یہیں بیٹھ کر کھانا کھاؤگے۔‘‘

رامیشور کو سوئی سی چبھی۔ اس کے یہاں تو مہمانوں کے لیے چٹائی بچھتی ہے۔ پھلوا کے دل میں ایک ایسا جوش تھا جو بخار کی طرح بڑھ بھی رہا تھا اور پھیل بھی رہا تھا۔ وہاں رکھے فریج کو اس نے کھولا۔ فریج میں پانی کی ٹھنڈی بوتلیں ، کولڈ ڈرنکس، آم، سیب، سنترے وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ ایلمونیم کے باکس کے چوکوروں میں برف کے ٹکڑے تھے۔ پھلوا نے نکال کر رامیشور سے کہا۔ ’’ان خانوں کو پانی سے بھر دیتے ہیں۔ پانی برف بن جاتا ہے۔ ہم تو دودھ کی قلفی بھی فریج میں ہی جماتے ہیں۔‘‘

پاس ہی مکسی رکھی تھی۔ رامیشور کی تجسس بھری آنکھیں جب اس پر ٹکی رہیں تو پھلوا نے اسے بتایا  ’’یہ مکسی ہے رامیشور جی، اس میں آم، سنترے، انگور، گاجر اور ٹماٹر کا رس نکالتے ہیں۔ چورما بھی آنکھ کے سرمہ کی طرح ہی مہین ہو جاتا ہے اس میں۔‘‘

پھلوا رامیشور کو رسوئی میں لے آئی۔ سنگ مرمر سے بنی رسوئی قیمتی برتنوں سے بھری پڑی تھی۔ رسوئی کو دیکھ کر رامیشور کی آنکھیں وہیں کی وہیں گڑی رہ گئیں۔ گیس تھی، پھلوا نے لائیٹر اٹھایا اور بٹن چالو کر کے چولھا جلا دیا۔ رامیشور کے ہاں چولھا پھونکتے اس کی گھر والی کی آنکھیں بہنے لگتی ہیں۔ پھلوا کا چولھا پلک جھپکتے ہی جل اٹھاتھا۔ پھلوا نے گیس بند کر دی تھی۔ وہاں نل لگا ہوا تھا۔ اس نے نل کھولا تو جھرجھرپانی بہنے لگا۔ پھلوا نے بتایا کہ  ’’چوبیس گھنٹے پانی آتا ہے ہمارے نل میں۔‘‘

سولہ سترہ سال پہلے کی بات رامیشور کو یاد آ گئی تھی۔ پھلوا کی ذات کو زمیندار کے کنویں پر چڑھنا منع تھا۔ وہاں جس کنویں سے پانی لاتی تھی وہ آدھا کوس دور تھا اس کے گھر سے۔ رامیشور کنویں پر نہا رہا تھا۔ پھلوا کنویں کے پکے گھر کے نیچے کھڑی تھی مٹکا لیے۔ وہاں رامیشور کو بار بار ہاتھ جوڑ رہی تھی۔  ’’آج مجھے گاؤں جانا ہے رامیشور جی دو بالٹی پانی انڈیل دو مٹکے میں۔‘‘

پھلوا کا بار بار رامیشور کہنا رامیشور کو کاٹ گیا تھا۔ اس نے غصہ سے مٹکے پر تھوک دیا تھا۔ پھلوا نے مٹکا وہیں چھوڑ دیا اور روتی آنکھیں لیے گھر آئی تھی۔ یکایک پھلوا کی آنکھیں بھی گیلی ہو گئی تھیں۔ مانو اسے بھی وہ واقعہ یا د آگیاہو۔ جیسے دو ہاتھ ایک ہی وقت گلک میں پڑے ہوں۔ وقت تاجر ہے رامیشور آج بھی اسی کنویں سے پانی بھرتا ہے۔ پھلوا کی رسوئی میں بھی نل ہے۔

رامیشور کو ساتھ لے کر وہ ایک کمرے میں آ گئی۔ وہاں اس کی پوتی پڑھ رہی تھی۔اسٹائل میں کٹے بال، اسکرٹ بلاؤزمیں بیٹھی سولہ سال کی لڑکی رامیشور کی آنکھوں کی کرکری بن گئی۔ پھلوا کی پوتی کے جوڑ کی ایک بھی لڑکی نہیں ہے اس گاؤں میں۔ نکلتے قد کی یہ لڑکی کتنی خوبصورت ہے۔ لڑکی نے پڑھائی چھوڑ کر رامیشور کو نمسکار کیا اور پھر سے پڑھائی میں لگ گئی۔ وہ غصہ ہوا۔ اسے دیکھ کر پھلوا کی پوتی کھڑی نہیں ہوئی۔ دوسرے کمرے میں پھلوا کا پوتا بھی پڑھ رہا تھا۔ اپنی دادی ماں کے ساتھ رامیشور کو دیکھ کر اس نے نمسکار کیا اور اپنے کام میں جٹ گیا۔

پھلوا رامیشور کو اب اپنے کمرے میں لے گئی۔ اس بڑے کمرے میں دو پنکھے لگے تھے۔ کولر بھی تھا، دو پلنگ پڑے تھے۔ کولر آن کر کے وہ رامیشور سے بولی۔ ’’میں تو کبھی کبھار ہی چلاتی ہوں۔ جسم چپچپا ہو جاتا ہے۔‘‘ کولر بند کر دیا تھا پھلوا نے۔

پھلوا کی بات سن کر رامیشور غصہ سے اُبل پڑا۔ اس کا منہ نوچ لوں۔ کیسے چونچ چلا رہی ہے پھلوا کی بچی۔ کھیت میں تو ہر اوبڑ کھابڑ جگہ لیٹ کر سوجاتی تھی۔ آج کولر سے جسم چپچپاتا ہے۔ پھلوا نے جب رامیشور کو ہلایا تو وہ چونک پڑا۔ وہ اسے مہمانوں والے کمرے میں لے آئی۔ کمرے کی کشادگی دیکھ کر رامیشور کا روم روم سلگ اُٹھا۔ وہ کمرہ کیا تھا بڑا سا ایک ہال تھا۔ اس میں دو ڈبل بیڈ تھے۔ ان پر دل پر موہ لینے والے بستر بچھے تھے۔ ایسے صاف ستھرے کہ انگلی لگے تو میلے ہو جائیں۔ ایک طرف کلرٹی وی رکھا تھا۔ پڑھنے کی میز تھی۔ دو تین کرسیاں پڑی تھیں۔ اندر ہی باتھ روم تھا۔ پھلوا بولی ’’رات کو تم یہیں سوؤگے۔ یہ کلر ٹی وی ہے۔ تمھیں بھائے تو چلا لینا۔‘‘

پھلوا کی کوٹھی میں بے گنتی چیزیں تھیں جو قیمتی اور عجوبہ تھیں۔ وہ ان سبھی چیزوں کے بارے میں آج نہیں بتائے گی رامیشور کو۔ وہ ایک دو دن یہیں روکے گی اسے۔ شہر بھی دکھا لائے گی گاڑی میں بٹھا کر۔ وہ چھت کی سیڑھیوں کے پاس آئی تھی۔ اس نے رامیشور سے کہا ’’رامیشور جی آؤچھت پر چلتے ہیں ! وہ ٹک ٹک سیڑھیاں چڑھتی ہوئی چھت پر پہنچ گئی تھی۔ پھلوا بھول گئی تھی کہ اس کا بوڑھا جسم زیادہ چلنے پھرنے سے اس کی پنڈلیاں درد کرنے لگتی ہیں۔ چار سو گز کی کوٹھی پر چھت تھی۔ رامیشور کی آنکھیں مچمچاگئیں۔ یہ تو چھت کیا میدان ہے۔ اس کی حویلی کا جتنا آنگن ، پھلوا کے گھر کی اتنی چھت۔ رامیشور نے ماتھا پیٹا۔ وقت وقت کی بات ہے۔ برسات میں ایک دن طوفان آگیا تھا۔ پھلوا کی کھپریل اڑ کر بکھر گئی تھی۔ تب اس نے ہی پچاس پولے گن کر دیے تھے اسے کہ وہ اپنی کھپریل سدھار لے گی۔

پھلوا رامیشور کو ساتھ لے کر اب ڈرائنگ روم میں آ گئی تھی۔ اسے ڈرائنگ روم کہنا نہیں آتا ہے۔ وہ اسے بیٹھک ہی کہتی ہے۔ جیسے گاؤں میں کہتے ہیں۔ گاؤں میں مہمانوں اور آئے گئے کے لیے ہوتی ہے بیٹھک۔ ڈرائنگ روم میں صوفہ سیٹ پڑا تھا۔ بیچ میں گرینائٹ کی سینٹر ٹیبل رکھی تھی۔ اسٹول پر فون رکھا تھا۔ دیواروں پر لکڑی کی زندہ جیسی تصویریں ٹنگی تھیں۔ تین طرف کی دیواروں میں تین الماریاں تھیں جن پر کانچ کے فریم جڑے تھے۔ ان میں طرح طرح کی خوبصورت مورتیاں رکھی تھیں۔ آمنے سامنے پینٹنگ کے بورڈ لگے تھے۔ فرش پر قیمتی مخملی قالین بچھی تھی۔ پھلوا بولی ’’رامشیور جی یہ اپنی بیٹھک ہے۔‘‘ اس نے صوفے کی طرف اشارہ کر کے اس سے کہا  ’’بیٹھئے رامیشور جی۔‘‘

رامیشور جب صوفے پر بیٹھا، چھ انچ نیچے دھنس گیا تھا۔

دکھوں سے جھُلسی پھلوا کے بدن پر پھپھولے پڑ گئے تھے۔ آج وہ اتنی بڑی کوٹھی میں بہت سکھی اور سکون سے تھی۔ اسے ماضی یاد آگیاتھا۔ پھلوا کے کچے گھر کی کھپریل پر پھوس نہیں ہوتا تھا۔ سورج سارے دن اس کے گھر میں رہتا تھا۔ برسات باہر بھی ہوتی تھی اور گھر میں بھی۔ پانی نکالتے اس کے ہاتھ ٹوٹنے لگتے تھے۔ بے درد جاڑا دن رات گھر میں گھسا رہتا تھا۔ پھلوا نے چشمہ سرکا کر ڈرائینگ روم کو دھیان سے دیکھا۔ خوشی سے بوکھلا اٹھی وہ۔ اس کی آنکھوں میں پانی اتر گیا تھا۔ اس نے انگلیوں سے آنکھیں پونچھ کر رامیشور سے پوچھا ’’ رامیشور جی کتنے بچے ہیں تمھارے؟‘‘

رامیشور نے بتایا ’’تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں۔ اب تو بڑے لڑکے کو بھی لڑکا ہو گیا ہے پھلوا!‘‘

پھلوا سوچنے لگی ، دو ایک دن میں جب رامیشور جی گاؤں میں جائیں گے تو اس کے تھیلے میں کھلونے رکھوا دوں گی۔ ایسے کھلونے پڑے ہیں ، جو چابی بھرتے ہی دوڑتے ہیں ، بولتے ہیں۔ گاؤں دوڑے گا دیکھنے، پھلوا نے بھیجے ہیں ایسے بھاگتے دوڑتے باتیں کرتے کھلونے۔ بچوں کی ایک بگھی بھی پڑی ہے مچان پر اسے بھی وہ رامیشور کو دے دے گی۔ پوتا کھیل لے گا۔

صوفے پر بیٹھا رامیشور بار بار اچک رہا تھا۔ مانو اس کے نیچے کچھ سلگ رہا ہو۔ اس نے سوکھا منہ چلایا اور جیب سے بیڑی ماچس نکال لی۔ بیڑی جلا کر اس نے تیلی قالین پر پٹک دی اور اس کے اوپر اپنی جوتی رکھ دی۔ اس نے بیڑی پی کر جلتا ٹوٹا وہیں پٹک دیاتھا۔ اسے معلوم تھا کہ پھونکی ہوئی بیڑی سگریٹ تیلی میز پر رکھی ایش ٹرے میں ڈالتے ہیں۔ لیکن اس نے جلن میں جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ پھلوا چونکی تھی۔ ’’رامیشور جی بیڑی سلگ رہی ہے قالین جل گئی ہو شاید۔‘‘

رامیشور نے گردن ہلائی ’’نہیں پھلوا بھابھی، جوتی سے رگڑ دیا ہے میں نے اسے۔‘‘ پھلوا اٹھی اس نے ٹوٹا اُٹھا کر ایش ٹرے میں پٹک دیا تھا۔ ’’بولی اچھا نہیں لگتا ہے۔‘‘ پھلوا نے آواز لگائی ’’کنور۔‘‘

پچیس چھبیس سال کی ایک عورت وہاں آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ بدن چھریرا تھا۔ رنگ سانولا تھا۔ منہ پر چیچک کے داغ ضرور تھے لیکن چہرہ بہتے پانی کی طرح صاف تھا۔ اس کی لال ساڑی پر ہری بوندیں تھیں۔ وہ ساڑی کا پلو ماتھے تک سرکا کر پھلوا کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ پھلوا نے اس سے کہا ’’دو بڑھیا کافی بنانا اور برفی۔ نمکین اور گوند کے لڈو ساتھ لے آنا۔‘‘

کنور لوٹ گئی تھی۔ رامیشور نے صافہ ہٹا کر سر کھجلایا تو کئی دنوں سے اَن دھلے اس کے سر سے خشکی اڑنے لگی تھی۔ اس نے دوبارہ صافہ سر پر رکھ لیا تھا۔ وہ سنجیدہ ہوتا چلا گیا تھا۔ پھلوا چالاک نکلی۔ اس نے سوپاپڑبیل لیے لیکن رادھا موہن کے ہاتھ سے کتاب نہیں چھوٹنے دی ورنہ اس کی ہتھیلی تلے ہمارا ہل ہوتا۔

پھلوا نے چونگا اٹھایا اور نمبر گھما کر بولی،  ’’ہیلو، کون، رادھا موہن؟‘‘

 ’’ہاں ماں۔‘‘

 ’’بیٹے رامیشور جی آئے ہیں۔ جلدی آ جانا گھر پر۔‘‘ پھلوا نے فون رکھ دیا تھا۔ رامیشور کی تیوری چڑھ گئی تھی۔ ’’باؤلیسی پھلوا میں اتنا سیانا پن آگیا ہے، فون بھی کر لیتی ہے۔‘‘

کنور دو گلاس پانی رکھ گئی۔ وہ کافی، برفی اور گوند کے لڈو لے آئی تھی۔ کھڑی رہ کر اس نے پھلوا کے دوسرے کسی حکم کا انتظار کیا اور لوٹ آئی۔ کنور کی طرف دیکھ کر رامیشور پھلوا سے مخاطب ہوا،  ’’بہو ہے تیری؟‘‘

پھلوا نے بتایا،  ’’نہیں رامیشور جی بہو نہیں۔ نوکرانی ہے اپنی۔ کنور نام ہے اس کا۔ ہم نے تو آج تک بے چاری سے پوچھا نہیں کہ کس ذات کی ہے۔ خود ہی کہتی ہے راجپوت گاؤں میں چھتیس ذاتیں ہیں۔ شہر میں دو ہی ذات ہوتی ہیں۔ امیر اور غریب۔ ایک دن کنور گیٹ کے سامنے آنکھوں میں آنسو بھرے سبک رہی تھی۔جب میں وہاں گئی تو یہ میرے پاؤں پر گر پڑی۔ سسکیاں اور سبکیاں روک نہیں پا رہی تھیں اس کی۔ ’’اماں جی بھیک نہیں مانگوں گی، نوکرانی رکھ لو مجھے۔‘‘

پھلوا نے آنکھوں سے چشمہ اتار کر اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ کہنے لگی ’’رامیشور جی رحم آگیا مجھے اور میں نے اسے رکھ لیا۔ پانچ چھ سال کا ایک لڑکا بھی ہے اس کے ساتھ۔ آج اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اندر سورہا ہو گا‘‘ پھلوا نے دکھ بھرے اپنے گلے کو کھنکار کر کہا۔ ’’آدمی کتنے بے درد ہوتے ہیں رامیشور جی، کنور اَن پڑھ ہے۔ اس کا پڑھا لکھا آدمی افسر بنا کہ کنور اس کے من سے اتر گئی۔ اس نے کسی پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کر لی ہے۔ بے چاری کنور نہ کورٹ جانتی ہے نہ کچہری جانتی ہے۔‘‘

پھلوا نے آنکھوں پر چشمہ پھر چڑھا لیا اور ایک آہ بھری۔ ’’عورت کا بھروسہ! کنور روز مانگ بھرتی ہے اور روز روتی ہے۔ اب تو کنور میری بیٹی سی ہے۔‘‘

رامیشور شرما شرمندگی سے نیچے دھنستا چلا گیا تھا۔ اتنی بڑی ذات کی عورت پھلوا جیسی چھوٹی ذات کے گھر نوکرانی اور وہ بھی اس پھلوا کے گھر جو خود بے ہودہ جیسی بے کیف زندگی جیتی تھی۔ دوسرے ہی پل اس نے سینے پر رکھا پتھر خود سر کا دیا ’’آڑے وقت آدمی بے سہارا ہو جاتا ہے۔ ایک وقت راجہ ہریش چندر نے بھی نیچی ذات کے گھر پانی بھرا تھا۔‘‘

کافی، برفی نمکین اور لڈو سب رامیشور کے سامنے رکھے تھے۔ اس کا دل بار بار للچا رہا تھا۔ کھا پی کر چٹ کر جا، کیا دھرا ہے ذات پات جیسی چھوٹی باتوں میں ؟ اس کا دھرم آڑے آ گیا تھا۔ اس نے دو تین لمبی سانسیں لیں اور پوچھا ’’پھلوا، پنڈت ماتا پرساد جی کی کوٹھی بھی تو اسی کالونی میں ہے نا؟‘‘

 ’’ہاں ان کا مکان یہاں سے دو تین گلی آگے ہے۔ تم کچھ کھاپی لو۔‘‘

رامیشور نے بہانہ بنایا ’’کیا بتاؤں بھابھی، میں نے داڑھ نکلوائی تھی کل،درد سے دہرا ہوا جا رہا ہوں۔‘‘

 ’’میں نے بھیا کو فون کر دیا ہے وہ آتے ہی ہوں گے۔ ان سے مل لینا وہ بڑے افسر ہیں۔ کوئی کام ہو تو بتا دینا بے جھجک۔‘‘

رامیشور کے گال پر جیسے طمانچہ سا پڑا۔ ان کی عاجزی کرتے پھلوا کا منہ بسورا رہتا تھا۔ آج وہ اسی پھلوا کے بیٹے سے اپنے بیٹے کی نوکری کی سفارش کرے گا۔ ارے چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جائے گا۔ رامیشور سنگھ۔

صوفے پر بیٹھا رامیشور جب بار بار اچکنے لگا تو پھلوا نے آواز لگائی۔

 ’’کنور۔‘‘

 ’’کنور دوڑی دوڑی آئی۔  ’’حکم اما جی۔‘‘ وہ کھڑی ہو کر پھلوا کی طرف دیکھنے لگی تھی۔

 ’’بہو رانی کو بھیجنا۔رامیشور جی سے مل لے گی۔‘‘

سنتی گوری چٹی تھی۔ بدن چھریرا تھا۔ گلابی رنگ کا سوٹ اس کے بدن پر خوب سج رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں سونے کے کڑے، کانوں میں سونے کے ٹاپس، گلے میں سونے کا منگل سوتر تھا۔ اس کے بالوں میں سونے کی کلپ کھنسی تھی۔ چھتیس سینتیس کی عمر میں بھی وہ پچیس کی لگتی تھی۔ پھلوا نے اس سے رامیشور کا تعارف کرایا۔ ’’بہو رانی یہ رامیشور جی ہیں ، اپنے گاؤں کے زمیندار۔‘‘

سنتی نے رامیشور کو نمسکار کیا۔ تھوڑی دیر وہ کھڑی رہی اور پھر لوٹ گئی۔ رامیشور دانت گھسنے لگا تھا۔ اس کی آنکھیں چڑھ کر سرخ ہو گئی تھیں۔ وہ تو سوچ کر بیٹھا تھا کہ بہو گز بھر گھونگھٹ میں آ کر اس کے پاؤں چھوئے گی، آئی ہے جیسے گاؤں کی چھوری ہو۔ نہ عزت، نہ احترام، اگر ایسی بے ہودگی گاؤں میں ہوتی تو اس کا جھونٹا پکڑ کر کھینچتا اور....

پھلوا نے رامیشور کے دل کی بات پکڑ لی۔ ’’رامیشور جی، پڑھی لکھی میم صاحب ہے، اسے گھونگھٹ کرنا نہیں آتا۔‘‘ وہ ہلکی سی ہنسی،  ’’بھاگوں والی ہے۔ بیاہ ہوا اور رادھا موہن کے ساتھ شہر آ گئی۔ تمھاری حویلی تو اس نے دیکھی تک نہیں۔‘‘

رامیشور اُٹھ کھڑا ہوا تھا ’’پھلوا پنڈت جی کا پلاٹ نمبر بتا دے۔ میں چلا جاتا ہوں۔‘‘

پھلوا اٹھی اور الماری سے فولڈنگ چھاتا نکال لیا۔ چھاتا بغل میں دبا کر کہنے لگی ’’نہیں رامیشور جی اچھا نہیں لگتا ہے میں چھوڑ کر آؤں گی تمھیں۔‘‘

گیٹ سے باہر نکل کر وہ دس پندرہ قدم ہی چلے ہوں گے کہ ایک ماروتی کار کوٹھی کے سامنے آ کر رُک گئی تھی۔ پھلوا نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ رادھا موہن کار سے اتر رہے تھے۔ اس کے پاؤں وہیں ٹھٹک گئے اور رامیشور سے کہنے لگی  ’’واپس چلو بھیا آ گئے ہیں۔ ان سے مل لو پہلے۔‘‘

رامیشور نے آگے کی طرف قدم بھرتے ہوئے کہا ، ’’پھلوا ، بادل بول رہے ہیں برسات آئے گی جلدی کر تو۔‘‘

ایسا نہیں کہ وہ آج بھی رامیشور سے ڈرتی تھی یا اس کے احسانوں سے دبی ہوئی تھی۔ وہ مہمانوں کو بھگوان ماننے والی عورت تھی۔ پھر اپنی شہرت دکھانے کا بہت ہی سنہرا موقع ہاتھ لگا تھا اس کے۔ پھلوا نے من میں اُٹھے غصہ کو وہیں دبا دیا تھا۔

پنڈت ماتا پرساد کا مکان آگیا تھا۔ کولتار کے دو ڈرم سیدھے کر کے گیٹ بنایا ہوا تھا۔ گیٹ محض آڑ تھی۔ گیٹ کے پاس ہی لیٹرین اور باتھ روم تھے۔ لیٹرین کے دروازے پر بوری کا پردہ جھول رہا تھا۔ باتھ روم میں فرش نہیں تھا۔ دو کمرے تھے۔ سٹا ہوا گیرج تھا۔ گیرج ہی میں رسوئی تھی۔ رسوئی میں تھوڑے سے برتن تھے۔ پنڈت ماتا پرساد کی پوتی بتی والے اسٹو پر وہاں روٹیاں سینک رہی تھی۔ پھلوا کی کوٹھی دیکھ کر رامیشور کی آنکھیں غصہ اور نفرت سے سکڑی ہوئی تھیں۔ پنڈت جی کا مکان دیکھ کر اس کی آنکھیں حسرت اور تعجب سے پھیل گئی تھیں۔ یہ تعجب افسوس اور خدمت کے جذبے سے بھرا ہوا تھا۔

پنڈت ماتا پرساد کی بیوہ اور پھلوا کے بیچ گاؤں میں چاہے کتنی ہی دوریاں تھیں ، ایک دوسرے سے کپڑے بچا کر چلتی تھیں ، لیکن شہر آ کر وہ دونوں دانت کاٹی روٹی کھانے لگی تھیں۔ پرتی کے مکان پر بھی پھلوا اپنے گھر جیسا حق سمجھتی تھی۔ پنڈتائن کا پورا مکان دکھا کر وہ اسے ایک کمرے میں لے گئی۔ کمرے میں دو چار پائیاں ، وہ کرسیاں اور ایک اسٹول پڑے تھے۔ پھلوا چارپائی پر بیٹھ گئی اور کرسی کی طرف ہاتھ کر کے بولی، ’’بیٹھئے رامیشور جی۔‘‘

پرتی ، اس کی بہو اور پوتی، باہر گئی تھیں۔ وہ لوٹ آئی تھیں۔ صرف کھانسی کی آواز سن کر پنڈتائن یہاں آ گئی تھی۔ اس کی بہو اور پوتی دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی۔ اس کے بھورے گھنگھریالے بال سفید اور مٹ میلے سے ہو گئے تھے۔ اس کی پلکوں پر سفید ی آ گئی تھی۔ سفید ساڑی اور سفید بلاؤزمیں لپٹی سفیدی کا پُتلا سی لگ رہی تھی۔ رامیشور اٹھا اور اس کے پاؤں چھوئے۔ پنڈتائن نہیں پہچان پائی کہ وہ کون ہے؟ رامیشور کھڑا ہو گیا اور ہاتھ جوڑ دیے۔ ’’دادی میں ہوں رامیشور۔ آپ کا پوتا۔‘‘

 ’’ہوں ....‘‘ اس نے چشمے کے اندر آنکھیں جھپکائیں۔

 ’’نہیں پہچانا، زمیندار بلکار سنگھ کا بیٹا، رامیشور۔‘‘

پنڈتائن ایک دُکھ سے بھری آہ بھری،  ’’اوہ! رامیشور۔‘‘

وہ دس با رہ سال بعد اس سے مل رہی تھی۔ رامیشور کو دیکھ کر اس کا ماتھا ٹھنک گیا۔ پھلوا کو پا کر وہ گد گد ہو گئی۔ ایک ہفتہ بعد ملی ہے پھلوا اس سے۔

وہ اسے پھلوا انھیں پھول ونتی کہتی تھی۔ تاکید کی ’دیکھ پھول ونتی ، تو نے ہی ایک دن کہا تھا نا، تو مجھ سے ایک سال بڑی ہے۔ جب بڑی ہے تو پائنتی بیٹھ کر مجھے پاپ کا حصہ دار بنائے گی۔‘‘

رامیشور نے صافہ اتار کر سر کھجلایا اور پھر اسے سر پر رکھ لیا۔ رامیشور جیسے بھنور میں پھنسا کوئی تنکا۔ پنڈتائن پائنتانے اور پھلوا سرہانے۔ دہلیز کی اینٹ ، چوبارے مناسب اور نامناسب کے کے بیچ حسد اور نفرت اپنی جلن پیدا کر رہے تھے جیسے اَدھ پکے پھوڑے میں پیپ اور خون۔

پرتی کی پوتی تین کپ چائے لے آئی تھی۔ اس نے اسٹول پر ٹرے رکھی اور لوٹ گئی۔ بھوک سے بے حال رامیشور نے کپ اٹھا لیا اور گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔ پھلوا نے کپ اٹھایا اور پنڈتائن کے کپ میں انڈیلنے لگی ’’دن بھر میں دس چائے ہو جاتی ہے پرتی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ ما ر مار کر باتیں کرنے لگیں۔ رامیشور گال پر ہاتھ رکھے ان کی باتیں سنتا رہا۔ جیسے سانپ سیڑھی کا کھیل دیکھ رہا ہو۔

پھلوا نے کپ رکھ دیا اور اٹھتے ہوئے اپنا چھاتا سنبھالا۔ رامیشور سے بولی ’’ رامیشور جی صبح کوٹھی پر آ جانا۔ اتنے میں تمھاری داڑھ کا درد بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ دیسی گھی کا حلوہ بنواؤں گی کنور سے۔‘‘

پنڈتائن نے دو تین بار کھاٹ تھپک کر پھلوا کی طرف ایک اشا رہ کر دیا تھا۔ پھلوا سمجھ کر بولی۔ ’’پَرتی پوتی کو بھیج دے میرے ساتھ، چھوڑ ا ٓئے گی مجھے۔‘‘

رامیشور نے اپنی کرسی پنڈتائن کے نزدیک سرکالی۔ اعتماد اور اُمید بھرے لہجے میں بولا  ’’دادی، گاؤں میں کیا دھرا ہے، موج میں ہو یہاں۔‘‘

 ’’ہاں ٹھیک ہوں۔‘‘

 ’’دادی، دادا نظر نہیں آ رہے ہیں۔‘‘

 ’’دو سال ہو گئے ان کا دیہانت ہوئے۔‘‘ پنڈتائن کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔

وہ دونوں کچھ دیر تک نیچے دیکھتے رہے جیسے سوگ میں ڈوبے ہوں۔

پنڈتائن نے آنکھیں پونچھ کر اس سے پوچھا  ’’کس کام سے آیا تھا رامیشور تو؟‘‘

رامیشور نے پنڈتائن کے پاؤں دبانے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو اس نے اپنے پاؤں سکیڑ لیے۔

وہ کھسیا کر بولا۔ دادی آپ کا پوتا ہے نا دیپ سنگھ۔ اس نے پانچ چھ سال پہلے میٹرک پاس کر لی تھی۔ اب مارا مارا پھر رہا ہے۔‘‘ وہ تھوڑا رُک کر بولا۔دادی سوبیگھا زمین تھی میرے باپ کے نام، ہم پانچ بھائیوں میں بٹ گئی۔ بیس بیس بیگھا۔ زمینداری نہیں رہی اب۔ دیپ سنگھ کو کہیں نوکری پر لگوا دو۔‘‘

پنڈتائن نے چشمہ اتار کر کھاٹ پر رکھ دیا اور چوندھیائی آنکھیں مچمچانے لگیں۔

 ’’پھول ونتی کی کوٹھی پر گیا تھا تو؟‘‘

رامیشور نے سوکھا تھوک نگلا۔ ’’دادی، پھلوا چاہے سونے کی ہو جائے، رہے گی اسی ذات کی۔ میں نے تو اس کے گھر کا پانی تک نہیں پیا۔ دھرم خراب ہونے سے مر جانا اچھا سمجھتا ہے رامیشور۔‘‘

پنڈتائن نے اسے ڈپٹا ’’تو تو کنویں کا مینڈک ہی رہا رامیسریا۔ اب تو رتبہ اور پیسے کا زمانہ ہے۔ ذات پات کا نہیں۔ ایس پی ہے ایس پی۔ ایک بات بتاؤں تجھے، جا کر میم صاحب کے پاؤں پکڑ لے اور تب تک مت چھوڑنا جب تک وہ ہاں نہ کہہ دے۔‘‘ پنڈتائن نے ایک ٹھنڈی سانس لی ’’ پاؤں چھوؤں بہورانی کے، میرے بیٹے کو تو اسی نے دوسری زندگی دی ہے۔‘‘

رامیشور کے جسم پر جیسے کسی نے تیزاب انڈیل دیا تھا۔ جس عورت کو وہ دروپدی سا بے آبرو کرنے کی سوچ رہا تھا۔ اسی کے پاؤں پکڑ لیے۔ پنڈتائن نے یہ کیسی بات کہہ دی۔ اگر دوسرا ہوتا تو گلے پر انگوٹھا رکھ دیتا۔

پنڈتائن کی پوتی تھالی لے آئی تھی۔ پنڈتائن کی بات سے رامیشور کا جی ایسا اترا ہوا تھا کہ آلو کی سوکھی سبزی اور چپڑے پھلکے بھی بھرپیٹ نہیں کھا سکتا تھا وہ۔

پنڈتائن فکر میں تھی۔ لڑکا باہر ٹور پر گیا تھا۔ دو کمرے ہیں۔ ان کے بیچ میں دیوار ہے لیکن گیٹ ہے۔ گیٹ پر پردہ ہے۔ کواڑ نہیں ہے۔ پردہ تو شرم ہوتا ہے۔ جوان لڑکیاں ہیں۔ زمیندار اور جانور کا کیا بھروسہ؟ اس کی نیت کب خراب ہو جائے؟ اس نے چشمہ پہنا اور اٹھتے ہوئے کہا ’’رامیشور ہار تھک رہا ہو گا تو،بستر لگا دیا ہے تیرے لیے۔ آ میرے ساتھ۔‘‘

چارپائی پر پڑے بستر کو دیکھ کر رامیشور کے تن من میں آگ لگ گئی تھی۔ یہ تو وہی بستر تھا جو پھلوا کے ایک کمرے میں پڑا تھا۔ رامیشور نے بے بس سی سانس بھری۔ دوسری ذات کی گائے بھینس بکری جب برہمن کے گھر آ جاتی ہے تو برہمن بن جاتی ہے۔ رات نکال رامیشور۔

ایک کونے میں بکری کھڑی تھی۔ گیٹ کے پاس کتا بندھا تھا۔ پنڈتائن کتے کی زنجیر کو ایک گانٹھ مار کر کہنے لگی ’’رامیشور ، کتا بیمار ہے، کھانسے گا ضرور، اندر کی کنڈی لگا کر چپ چاپ سوجا تو تو۔‘‘

بکری کی مینگینوں اور پیشاب کی بدبو سارے گیرج میں بھری ہوئی تھی۔ کتے کی کھوں کھوں الگ۔ رامیشور کی نیند کوسوں دور بھاگ گئی تھی۔ اسے رہ رہ کر پھلوا کی کوٹھی یاد آنے لگی۔ وہ آنکھیں میچے، کروٹ بدلتا لیکن نیند نہیں آتی تھی۔ ایکا ایکی کتے کی کھانسی بڑھ گئی اور وہ الٹی کرنے لگا تھا۔ بدبو سے رامیشور کے نتھنے پھٹنے لگے۔ متلی آ گئی اسے۔ وہ چار پائی پر اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس نے بتی جلا کر گھڑی دیکھی۔ پونے با رہ بجے تھے۔ اپنا بیگ لے کر وہ باہر نکل آیا تھا۔آکاش میں بجلی چمک رہی تھی اور بوندیں گرنے لگی تھیں۔ اس کے قدم اپنے آپ ہی پھلوا کی کوٹھی کی طرف بڑھنے لگے تھے۔

رامیشور نے جب پھلوا کی کوٹھی کے گیٹ پر ہاتھ رکھا تو گیٹ کے باہر آوا رہ کتے اور کوٹھی کے اندر پالتو کتے بھونکنے لگے تھے۔