کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سُومنگلی

کاویری


 ’’آہ ! او ماں ! آہ‘‘ بخار سے سگیا بے چین ہے۔ بدن کے درد سے کہیں زیادہ درد اس کے دل میں ہے۔ کیوں کہ اپنے پن کے دو لفظ کسی سے نہیں ملے۔ اس بھری دنیا میں اس کا اپنا کہلانے والا ہے بھی کون؟ کوئی تو نہیں۔ صرف منگلی کتیا ہی ہے جسے وہ اپنا کہہ سکتی ہے۔ اپنی مزدوری کا آدھا حصہ منگلی کو ہی کھلاتی ہے اور آدھے سے اپنا گزارا کرتی ہے۔ جو پیار اسے انسان نہیں دے پایا، وہ پیار اس جانور سے ملا ہے۔

 ’’کوں .... کوں .... کوں .... کوں ‘‘ منگلی سگیا کے بستر سے لگی بیٹھی تھی۔ سگیا کو اٹھتے دیکھ وہ بھی اُٹھ بیٹھی۔ سگیا اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ آمنگلی! تجھے میں کیا کہوں ؟ بہن، بیٹی، ماں یا دادی؟ تو ہی تو میرے لیے سب کچھ ہے۔ جب سے اس جھونپڑی میں آئی ہوں ، تم بھی اسی دن سے ساتھ دے رہی ہو۔ ساتھ دینے کی وجہ بھی تھی۔ ڈراؤنیکالی رات، موسلا دھار بارش اور دل دہلا دینے والی کڑکتی بجلی۔ ڈر کے مارے جان نکلی جا رہی تھی۔ اس وقت تو ہمدرد سہیلی کی طرح جھونپڑی کے باہر بھیگ رہی تھی۔ اس وقت ہم دونوں کو ایک ساتھی کی ضرورت تھی۔ جو کالی ڈراؤنیرات کا سہارا بن سکے۔ لیکن ایسا ہمدرد کہاں ہے جو تمھیں چھوڑ دوں۔؟ آ.... آ.... اور نزدیک آ۔‘‘

سگیا کو اپنی کہانی معلوم نہیں۔ کس نے اسے جنم دیا اور کس نے پالا۔ کچھ بھی تو نہیں جانتی وہ۔ جب سے ہوش سنبھالا تبھی سے اس کی کہانی کی شروعات ہوتی ہے۔ جب وہ آٹھ یا نو سال کی تھی، اپنے کو ٹھیکیدار کی رکھیل ہی سمجھا تھا۔ ٹھیکیدار کے حوالے اسے کس نے کیا تھا یاد نہیں۔ ٹھیکیدار کے مزدوروں کے بیچ وہ بھی کام کرتی۔ دن بھر محنت کرتی تھی اور رات میں کھانا کھانے کے بعد بے کھٹکے سوجاتی تھی۔ سونے کے لیے بھلا غالیچا لگا کمرہ کہاں نصیب ہوتا؟ بس کھلے آسمان کے نیچے ہی اپنی گدڑی بچھا کر سوجاتی۔ جب بلڈنگ تیار ہو جاتی تو گھر کا کچھ سکھ محسوس کر لیتی۔ بعد میں تو ان کے جھولے بے رحمی سے باہر پھینک دیے جاتے۔ سگیا کو یہ سب اچھا نہیں لگتا۔ مر مر کر گھر تیار کرو۔ پر حرامزادے تھوڑے دن بھی چین نہیں لینے دیتے۔ پھینکو پھینکو، سامان باہر نکالو۔ مکان الاٹمنٹ ہو گیا۔ پر اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ موا الاؤٹمنٹاور فیلاؤٹمنٹکیا ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے یہ تو بس ہماری گدڑی اور گٹھری کو باہر پھینکنے کا ایک بہانہ ہے۔ بے چاری حسرت بھری نظر سے دیکھتی ہی رہ جاتی۔ سگیا جب با رہ سال کی تھی، تبھی اسے عورت بنا دیا گیا تھا۔ اسے یاد ہے وہ کالی منحوس رات، اپنی ٹولی کے بیچ وہ بے خبر سوئی ہوئی تھی۔ اچانک اس کے جسم پر کچھ وزن سا محسوس ہوا اور اس پر ایک راکشش نما سایہ سوار تھا۔ وہ چیختی رہی، سبکتی رہی، بھگوان کا واسطہ دیتی رہی۔ پر اس کی چیخ پکار رات کے اندھیرے میں غائب ہو گئی اور اس وحشی درندے نے، بھوکے بھیڑیے ٹھیکے دار نے اپنی من مانی کر کے ہی اسے چھوڑا۔ درد کے مارے وہ بے ہوش ہو گئی۔ اس کے سارے کپڑے خون سے تر تھے۔ اس کے جسم کا پور پور پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی ایک بڑھیا اس کی خدمت کرتی نظر آئی۔ وہ بڑھیا کوئی اور نہیں ساتھ میں کام کرنے والی دکھنا کی ماں تھی۔ اسے قریب پا کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔ اس کی گود میں سرچھپا کر کئی گھنٹے تک اپنی بربادی کا ماتم مناتی رہی۔ روتے روتے اس کی بڑی بڑی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک اٹھی تھیں۔ دکھنا کی ماں نے ڈھارس دیتے ہوئے کہا تھا ’’چپ بیٹی، چپ رہ۔ یہ تو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ پر تو بڑی ابھاگن ہے ری جو اس چھوٹی سی عمر میں ہی سب کچھ جھیلنا پڑا۔ اب ایک دم چپ ہو جا ورنہ اس بھوت کو معلوم ہو گیا تو تیری چمڑی ادھیڑ کر رکھ دے گا۔ ہاں ہم غریبوں کا جنم ہی اسی لیے ہوا ہے۔ ہماری محنت سے عمارتیں بنتی ہیں اور اس انعام کے بدلے ہمارے جسم کو روندا جاتا ہے۔

سگیا کو دوا دارو کے بل پر جلد ہی اچھا کر دیا گیا۔ سارا خرچ اسی کمینے ٹھیکیدار نے اٹھایا تھا۔ لیکن اس دن کے بعد سے تو سگیا پر ظلم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی جو ٹھیکیدار کے خلاف آواز اٹھاتا۔ سگیا دن پر دن ٹوٹتی جا رہی تھی۔ بکھرتی جا رہی تھی۔ پر کس سے کہے اپنا دکھ۔ اگر کام چھوڑتی ہے یا ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو بھوکوں مرنے کی نوبت آ جاتی ہے۔ یہ پاپی پیٹ جو نہ کروائے۔ ہاں دکھنا کبھی اپنائیت بھرے ہمدردی کے دو لفظ کہہ جاتا ہے۔ وہ موقع پا کر دکھنا کو اپنا دکھ سنا دیتی۔ دکھنا بھی بھلا کیا کرسکتا تھا۔؟ اسے معلوم تھا کہ جب تک ٹھیکیدار اسے پوری طرح نچوڑ نہیں لے گا، چھوڑے گا نہیں۔ سگیا دکھنا کو ہمت بھی دلاتی۔ لیکن اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ٹھیکیدار کے ساتھ الجھے۔ وہ جانتا تھا کہ اس بھیڑیے کے پنجے سے کسی کو چھڑانا آسان کام نہیں ہے۔ سگیا ہار مان کر خاموش رہ جاتی۔ چودہ سال کی عمر میں وہ ماں بن گئی۔ جب بچہ پیدا ہوا تو بدنامی کے ڈر سے ٹھیکیدار کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے دکھنا کو ڈانٹ پھٹکار کر سگیا کے ساتھ سگائی کروا دی۔ دکھنا نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور ہو کر تیار ہو گیا۔

دکھنا کے ساتھ سگیا کی گرہستی کی گاڑی بڑے مزے سے دوڑتی جا رہی تھی۔ پر بد نصیب کی خوش نصیبی شاید بھگوان کو بھی نہیں سہاتی۔ اچانک ہی سگیا کے سرپر پہاڑ گر پڑا۔ ایک دن دکھنا راج مستری کو چار منزلہ بلڈنگ پر اینٹ اور گارا دے رہا تھا۔ اچانک توازن کھو جانے سے اس کا پیر پھسل گیا۔ دھم کی آواز نے سبھی کو متوجہ کر لیا۔ چاروں طرف سے لوگ دوڑ پڑے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر آگ کی طرف پھیل گئی۔ ٹوکری پٹک کر سگیا بھی دوڑی۔ پیٹھ پر باندھا بچہ نہ جانے کب گرگیا۔ اسے بھی ہوش نہیں۔ وہ تو دکھنا کی ماں کی مہربانی سے بچہ بچ گیا۔ سگیا پتھرائی آنکھوں سے پل بھر دُکھنا کے خون سے لت پت بے جان جسم کو دیکھتی رہی۔پھر پچھاڑ کھا کر گر پڑی ہائے سوامی!تم بھی مجھے چھوڑ چلے، مت جاسوامی۔ مجھ سے مت روٹھ۔ میں کس کے سہارے جیوں گی!۔آ.... ہ .... ہ!‘‘ بہت مشکل سے سگیا کو سنبھالا گیا تھا۔ پھر کب کیا ہوا کچھ پتہ نہیں۔ وہ تو دو دن تک بے ہوش پڑی رہی۔ جب بھی تھوڑا ہوش آتا۔ اس کے ہونٹ پھڑپھڑا اٹھتے  ’’مت جا.... مجھے بھی ساتھ لے چل۔‘‘ کچھ دنوں بعد سگیا اور اس کا بچہ دونوں ٹھیک ہو گئے۔ پر سگیا کے لیے اب چاروں طرف اندھیرا تھا۔ وہ جائے تو کدھر جائے۔ اگر چہ اس کے بیٹے کا اصلی باپ زندہ تھا۔ پھر بھی دنیا کی نظروں میں وہ بنا باپ کا ہی بچہ تھا۔ سب جانتے ہوئے بھی پتا کا بھر پور پیار دُکھنا نے ہی اس بچے کو دیا تھا۔ سگیا کو اس نے اس بارے میں کبھی بھول سے بھی ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ وہ بے چاری خود ہی احسانوں سے دبی رہتی۔ دونوں کا پیار بھگوان کو بھی نہیں بھایا۔ دکھنا کو ہمیشہ کے لیے اس سے چھین لیا۔ سگیا ایک پل کے لیے اسے نہیں بھولتی۔ بنا اسے کھانا کھلائے وہ خود کبھی نہیں کھاتی تھی۔ اب تو ایک نوالہ بھی منہ میں ڈالنا اس کے لیے دو بھر تھا۔ تھالی میں ہاتھ ڈالتے ہی پھپھکنے لگتی۔ پھر بھی اس کے لیے نہ سہی، اس معصوم کے لیے تو جینا ہی تھا۔ ہر پل دکھنا یاد آتا۔ مرد آخر مرد ہی ہوتا ہے۔ ان کا آپسی پریم دیکھ کر مزدور بھی جلتے تھے۔دکھنا کی ماں کو کئی بار لوگ چھیڑتے  ’’ارے جا جا بڑی پوتے والی بنی پھرتی ہے جیسے سچ مچ یہ دکھنا کا بیٹا ہو۔‘‘

بڑھیا بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتی۔  ’’ارے جا....جا....! بڑ ا آیا ہے دودھ دھویا بننے، کسی کو کچھ کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانکا ہوتا۔ تو کس کا پاپ ہے مجھے پتہ ہے۔‘‘ پھر اپنے آپ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔ وہ پھر کہنے لگتی ’’ہم غریبوں کی یہی زندگی ہے، جینے والا بنا دوسروں کو گرائے کچھ اوپر نہیں اُٹھ سکتا رے۔‘‘

سگیا کو ایک ایک بات یاد آنے لگتی تو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹپ ٹپ آنسو ٹپکا نے لگتی۔

دکھنا نے بچے کا نام سکھ دیو رکھا تھا۔ ایک دن سکھ دیوکو بہت تیز بخار آگیا۔ سگیا کے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ سب سے پیسے مانگ کر تھک گئی۔ کہیں بھی بات نہ بنی۔ آخر میں خیال آیا اسی راکھشش ٹھیکیدار کا جو فی الحال اس کی مدد کرسکتا تھا۔ آخر بیٹا تو اسی کا ہے۔ ضرور مدد کرے گا۔ ممتا کی مورتی ماں اس بھیڑیئے کے سامنے اپنا آنچل پھیلا کر گڑ گڑا رہی تھی ’’بابو سکھ دیو کو بہت زور کا بخار ہو گیا ہے۔ ذرا چھوکر دیکھ لو بابو۔ اگر اسے فوراً ڈاکٹر کے پاس نہ لے گئی تو کچھ بھی ہوسکتا۔ بس دو حاضری کے روپے دے دو بابو۔ بڑی مہربانی ہو گی۔‘‘

ٹھیکیدار مونچھ پر تاؤدیتے ہوئے بولا۔  ’’آ پہلے اِدھر تو آ میری بلبل! مجھے یقین تھا کہ تم خود ایک دن میرے پاس آؤگی۔ مجھے بلانا نہیں پڑے گا۔‘‘

 ’’بابو اسے فوراً اسپتال لے جانا ہے۔ دکھیا پر رحم کرو۔‘‘ وہ بولی۔ لیکن وہ ہوس کا پجاری اپنے ہی نشے میں چور اس کی کچھ نہ سن سکا۔ بچے کو گود سے چھین کر الگ ہٹا دیا۔ سگیا گڑگڑاتی رہ گئی۔ ’’بابو ایسا ظلم مت کرو آخر تمھارا ہی تو بیٹا ہے۔ پہلے اس کی جان بچاؤ۔‘‘

 ’’ہوں .... ہوں ....‘‘ میرا بیٹا۔ چھنال، رنڈی ، ایسی بات منہ سے نکالی تو گلا گھونٹ دوں گا۔ سو مرد کے پاس رہ کر مجھے بدنام کرتی ہے۔ خبردار جو دنیا کی گندگی کو میرے منہ پر پھینکنے کی کوشش کی۔ سگیابت کی طرح اپنے دم توڑ تے بچے کو دیکھتی رہی۔ پھر ایک ہلکی سی امید لیے اپنے آپ کو حالات کے حوالے کر دیا۔ کوئی ماں اپنے بچے کو بچانے کے لیے اس سے بڑی قربانی اور کیا دے سکتی ہے؟ ایک طرف اس کے جسم سے کھیل ہو رہا تھا۔ دوسری طرف اس کا بچہ بے جان سا پڑا تھا۔ سگیا اپنی زندگی سے تنگ آ گئی تھی۔ کیسی بے بس ماں تھی وہ۔ اپنی ہوس بجھا کر اس راکھشش نے ایک نیا پیسہ دینا تو دور، اسے فوراً اپنی نظروں سے دور ہو جانے کو کہا۔ اپنی بد نصیبی پر سبکتی بچّے کو چھاتی سے چپکائے کوڑا پھنکوانے والے ٹھیکیدار کے پاس بھاگی بھاگی گئی۔ پر ہر ٹھیکیدار اسے ایک جیسا لگا۔

اس کی جوانی کو گھورتی ہوئی دو خونخوار آنکھیں اسے ہر جگہ ملیں۔ ایک پل گنوائے بغیر وہ پاس کی ڈسپنسری کی طرف بھاگی اور جا کر ڈاکٹر کے پیر پر بچے کو رکھ دیا۔

آنسوؤں کے پھیلاؤکو بڑی مش