کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سورگ میں سور

محمد حمید شاہد


 جب سے تھوتھنیوں والے آئے ہیں، دکھ موت کی اَذِیّت سے بھی شدید اور سفاک ہو گئے ہیں۔

تاہم ایک زمانہ تھا۔۔۔ اور وہ زمانہ بھی کیا خوب تھا کہ ہم دُکھ کے شدید تجربے سے زندگی کی لذّت کشید کیا کرتے۔ اس لذّت کا لپکا اور چسکا ایسا تھا کہ خالی بکھیوں کے بھاڑمیں بھوک کے بھڑبھونجے چھولے تڑتڑاتے بھنتے رہتے مگر ہم حیات افروز لطف سے سرشار ہوتے تھے۔ بجا کہ ہم بے بسی کے مقابل رہتے تھے لیکن ہمیں اپنی بے بسی کا اس شّدت سے احساس نہیں ہوتا تھا۔ ہمت بندھی رہتی اور ہم موت کا مقابلہ بھرپور زندگی کے دلنواز حوصلے سے کرتے تھے۔

وہ پھِڑکی والا سال بھلا کوئی کیسے بھول پائے گا کہ جس میں بیتلیں، کجلیاں، کموریاں اور ناچیاں ایک ایک کر کے موت کی اوڑھ لے رہی تھیں، بہ ظاہر قدرے سخت جان نظر آنے والی بربری نسل کی ٹیڈی ٹھگنیاں بھی اسی موت کی وادی میں کودنے کے بہانے تلاش کرنے لگی تھیں۔۔۔ تب جس طرح ہم نے اپنے ڈوبتے دلوں پر قابو پایا تھا وہ کچھ ہم ہی جانتے تھے۔اسی برس چھوٹی پتلی دُم اور بڑے حوانے والی وہ سرخ بیتل، کہ جسے ہم سب رتی کہتے تھے، پِھڑکی سے پَھڑک گئی تھی اور کچھ ہی گھنٹوں کے اندر اندر موٹے سینگوں والی چِتری، لٹکے ہوے کانوں والی بھوری اور تکون جیسے تھنوں والی لنگڑی پل کی پل میں بے سُدھ ہو گئی تھیں۔ تب ہم پے در پے صدمات کے کَلَکتے تیل میں تَلتے تھے مگر ہماری روحوں پر حیاتی اپنے من موہنے پھولوں کی کلیاں بناتی تھی۔ ایسے میں آوازوں کا میلہ سا لگ جاتا۔۔۔ اوئے فضلو! دیکھ اس نمانی کا پِنڈا گرم ہے اسے اُدھر لے جا۔۔۔ اوئے شریفے وہاں چتری ماں کو کیوں ٹوہے جاتا ہے ادھر آ اور اس بگّی کے کھُروں کو دیکھ، ان کے اندر ورم آ گئے ہیں۔ میرو، نظاماں، خیرا، شوقی، ناماں، چھونی۔۔۔ ہم سب بھاگ بھاگ کر ایک ایک کے پاس پہنچتے تھے، ہر ایک کا منھ کھول کھول کر دیکھتے، بدن ٹٹولتے، حوانے ٹوہ کر اندازے لگاتے، ٹانگیں دہری کر کے کھروں کو کریدتے، دُمیں اُٹھاتے اور اُنگلیاں گھسیڑ گھسیڑ کر موت کی اُن علامتوں کو بھی تلاش کر لیا کرتے تھے جو بہ ظاہر نظر نہ آتی تھیں۔۔۔

 پِھڑکی کی نشانیاں ہمیں کبھی نہ ملتیں۔۔۔ اِس موذی مرض کی علامتیں ہیں بھی کیا، ہم کبھی نہ جان پائے۔۔۔ جب تک اندازے اس طرف جاتے پھِڑکی اپنا وار چل چکی ہوتی اور ہم پھڑکنے والی کو چھوڑ دوسریوں کو بچانے میں لگ جاتے تھے۔ جس کا تھوڑا سا جثہ گرم ہوتا، جس کے اُٹھے کان ڈھلکنے لگتے یا پھر جو دانتوں کو باہم پیس رہی ہوتی، ہم اُسے الگ کر دیا کرتے تھے۔اُس برس ہمیں پھِڑکی کی موتوں نے لتاڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔ مگر ہم اُس برس بھی اتنے بے بس نہیں ہوے تھے جتنا کہ بعد میں تھو تھنیوں والوں کے سبب ہو گئے تھے۔

پہلے بے بسی ضرور تھی لیکن ہمت ہی ٹوٹ جائے ایسی لاچاری اور بے کسی نہ تھی۔ نہ پھِڑکی والے سال نہ ہی آنے والے برسوں میں۔۔۔ ہم کوئی نہ کوئی سبیل کر ہی لیا کرتے تھے۔ جب بکریوں میں سے کسی کی چال بگڑ جاتی اور اگلے دن پہلے سے بھی زیادہ لنگڑانے لگتی، کوئی اپنے کھُر زمین پر جَھٹک جَھٹک کر مارتی یا کسی کا بدن ڈھلکنے لگتا، کسی کے منھ میں سفید سفید چھالے نکل آتے یا تھنوں کے سفید دانے پھٹ کر سرخ ہو جاتے، کسی کے منھ سے جھاگ اور رالیں بہنے لگتیں یا کسی کے حوانے کے غدود سوج جاتے، دودھ کم نکلتا یا پھر دودھ کی پھٹکیاں بن جاتیں، منھ اور آنکھوں کی جھلیاں زرد ہونے لگتیں یا پھر ناک منھ اور پیچھے سے لیس دار مادہ نکلنے لگتا، کسی کا پھل گر جاتا یا اُن میں سے کسی کا پہلا میمنا اگلی ٹانگوں کے بہ جائے پہلے پیچھا نکالنے لگتا، کوئی سوئے کی پِیڑوں سے چیخے جاتی یا جھلی پھٹ جاتی اور ہم ترکیبیں کر کر کے پھل چھوڑنے میں مدد دے رہے ہوتے یا تروہنے والی کی زندگی بڑھانے کے کیکھن کر رہے ہوتے تو ہمیں دُکھ، موت اور زندگی دونوں کے مقابل کرتا تھا۔مرنے والیاں مر جاتیں۔۔۔ جنہیں زندہ رہنا ہوتا تھا اُنہیں ہم بچا لیتے تھے۔ اکثر بہت زیادہ نقصان ہو جاتا۔۔۔ اتنا زیادہ کہ ہماری کمریں ٹوٹ جاتیں مگر یہی تو ہماری زندگی تھی۔۔۔ ہمیں یاد رہتا تھا کہ کس سال پِھڑکی کا حملہ ہوا تھا، کب منھ کھُرآیا، گل گھوٹو اور ماتا نے کب پھیرا ڈالا تھا، ُچاندنی سے چشمک کب ہوئی تھی، سنگ رھنی کے سبب کس کس نے چر نا چگنا چھوڑدیا تھا، کسے خارش ہوئی تھی، کون نمونئے سے مری تھی، کِس کے پھیپھڑوں میں کِرم پَڑگئے تھے اور ناک مکّھی نے کسے اوندھایا تھا۔

سردیوں کی یخ بستہ راتیں ہوتیں یا گرمیوں کی کھڑی دوپہریں، ہم ایک ایک لمحے کو۔۔۔ ایک ایک واقعے کو۔۔۔ اور ہرایک متاثر ہونے والی یا مر جا نے والی کو یاد کرتے تھے۔۔۔ اور اسی موت کے کھیل میں سے زندگی کا چہچہا برآمد ہو جایا کر تا تھا۔

یہ ٹھیک سے بتانا تو بہت مشکل ہے کہ بکریوں کے یہ اَجڑ اور ہم کب سے ساتھ ساتھ تھے تاہم چٹے دودھ جیسی اجلی داڑھی اور نورانی چہرے والے بابا جی، جنہیں ہمیشہ بکریوں کے اجڑ کے درمیاں لرزتے ہاتھوں میں اپنی کمر جیسا خم لیتی لاٹھی کے ساتھ ہی دیکھا گیا تھا، نے بتایا تھا کہ ہمارے گاؤں سورگ کی زمین اور ہمارے بدنوں کی مٹی کے اجزاء کا مطالبہ ہی یہی تھا کہ ہم اس پاک فریضے میں مشغول رہتے۔ بابا جی کا وجود اور ان کی باتیں ہمیں ایمان جیسی لگا کرتی تھیں لیکن جب انہوں نے یہ بتایا تھا تو اس وقت تک ہم خاصے ہوشمند ہو چکے تھے لہذا ہمیں پاک فریضے کے لفظوں نے چونکا دیا تھا اور ہم میں سے کئی ایک نے دہرایا تھا۔۔۔:

 ’’ بابا جی پاک فریضہ؟۔۔۔‘‘

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے صرف اتنا کہا تھا:

 ’’اُچیاں شاناں والے کے صدقے یہ دھندا پاک فریضہ ہی تو ہے‘‘

 پھر اُن کی آنکھیں محبت کے پانیوں سے بھر گئی تھیں۔انہوں نے دونوں ہاتھوں میں نہاں عقیدت کی کپکپاہٹ اور لرزتی اُنگلیوں کی ساری پوروں کو باہم ملا کر خیال ہی خیال میں بوسہ لیتے ہونٹوں پر تھراتی سسکاری کو چھو لیا اور ہم سے یوں بے نیاز ہو گئے کہ اُن کی چھاتی کے اندر گونجتی آواز ہم تک پہنچنے لگی تھی۔

بابا جی کے چل بسنے کے بعد ہم مونگ پھلی کی کاشت کی طرف راغب ہو گئے۔

یہ لگ بھگ وہی برس بنتا ہے جب اُدھر کی ایک بڑی بادشاہی میں ایک مونگ پھلی والے کو حکمرانی مل گئی تھی۔ یہ بات ہمیں شہر سے آنے والے بیوپاریوں نے بتائی تھی۔ اُنہوں نے ہمیں اُدھار بیج دیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ مونگ پھلی تو سونے کی ڈلی ہوتی ہے۔ اُس سال ہم نے بے دلی سے تھوڑا سا بیج زمین میں دبا دیا تھا اور باقی بھون کر مزے لے لے کر گڑکے ساتھ کھا گئے تھے۔۔۔ تاہم جب فصل تیار ہوئی اور کھڑی فصل کا سودا کرنے بیوپاری پہنچ گئے تو ہمیں مونگ پھلی واقعی سونے کی ڈلی جیسی لگنے لگی تھی۔

سورگ کی زمین کی دو روپ تھے۔۔۔ اوپر کے جنوب مشرقی حصّے کی ساری زمین ریتلی تھی، ہم اُسے اُتاڑ کہتے۔ اُتاڑ کی زمین ایسی ریتلی بھی نہ تھی کہ مٹھی میں بھریں تو ذرّے پھسلنے لگیں۔۔۔ ریتلی میرا کہہ لیں۔۔۔ مگر اُسے میرا یوں نہیں کہا جا سکتا تھا کہ بارش کا جھبڑا پڑتا تو پانی سیدھا اُس کے اندر اُتر جاتا، اوپری تہوں میں ٹھہرتا ہی نہیں تھا۔ کئی دھوپیں جو لگاتار پڑ جاتیں تو وتر کا نشان تک نہ ملتا۔نیچے شمال مغربی حّصے کی زمین رکڑ تھی۔۔۔ رکڑ بھی نہیں، شاید پتھریلی کہنا مناسب ہو گا۔۔۔ پتھریلی اور کھردری۔ اس پر بھی پانی نہ ٹھہرتا، فوراً پھسل کر گاؤں کو دو لخت کر تے نمیلی کَس میں جا پڑتا تھا۔ اس حّصے کے ڈھلوانی علاقوں میں کہیں کہیں ایسے ٹکڑے تھے جن میں وَتر ٹھہر جاتا تھا اور زمیں بیج بھی قبول کر لیتی تھی۔ایسے قطعات اتنا اناج اور چارا اُگا ہی لیتے تھے کہ گاؤں والوں کے معدوں میں بھڑکتی آگ کے شعلے بجھتے تو نہ تھے تا ہم مدھم ضرور پڑ جاتے۔۔۔ اور لہاریاں بھی بھوکی نہ رہتی تھیں۔

سارے اُتاڑ میں بکریاں خوب چرتی تھیں۔ یہاں ہر نسل اور ہر مزاج کی بکریوں کی بھوک مٹانے اور اُن کے بدنوں کو فربہ بنانے کا سامان موجود تھا۔ اپنے کھروں کو درختوں کے تنوں پر جما کر اوپر کی شاخوں سے رزق نوچنے والیوں کے لیے لذت بھرے پتوں والے مختلف النوع درختوں کے جھنڈ تھے، تھوڑا سا گردن کو خم دے کر چرے جانے اور آگے ہی آگے بڑھے جانے والیوں کے لیے جھاڑیاں اور بیلیں تھیں۔ بچھی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نرمو شیریں گھاس بھی ہر کہیں تھی کہ جسے بربریاں شوق سے کھاتیں اور اپنی نسل تیزی سے بڑھاتی تھیں۔۔۔۔۔۔ مگر جس تیزی سے تھوتھنیوں والے پلیدوں نے نسل بڑھائی تھی اُس نے سورگ والوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔

اُتاڑسے پرے اُدھر جہاں ہموار زمین پر سرکاری رکھ تھی، تھوتھنیوں والے وہاں سے غول در غول آتے تھے اور ہماری زمینوں پر تباہی مچا کر واپس رکھ میں جا چھپتے تھے۔ جب تک بکریاں ہمارے التفات کا محور رہیں، تباہی مچا کر چھپ جانے والوں کی تعداد بھی محدود رہی۔۔۔ یا پھر۔۔۔ شاید اُن کا پھیرا ہی اِدھر کم کم لگتا ہو گا۔ تا ہم ہم احتیاط بھی تو کیا کر تے تھے۔۔۔ بیری، کنیر اور کیکر کے درختوں کی خاردار ٹہنیوں کے چھاپوں کی کِھتیاں جوڑ کر ہم بکریوں کے باڑوں کو چاروں طرف سے محفوظ بنا لیا کرتے تھے۔ جب کبھی تھوتھنیوں والے ادھر آ نکلتے اور اپنی تھو تھنیوں کو ان چھاپوں پر مارتے تو کانٹوں کی چبھن اُنہیں اُلٹا بھاگنے پر مجبور کر دیتی تھی۔۔۔ لیکن جب ہمیں مونگ پھلی کی فصل نے لگ بھگ بکریوں سے غافل ہی کر دیا تو وہ اندر تک گھس آتے۔ اُن کی تعداد اِس قدر بڑھ چکی تھی کہ ناچار ہم سورگ والوں کو اُنہیں بھگانے کے لیے پالتو کتوں کی تعداد بڑھا دینا پڑی تھی۔

یوں نہیں تھا کہ پہلے سورگ والے کتے نہیں رکھتے تھے۔۔۔ گاؤں کے مستقل مکینوں پر ہی کیا موقوف، وہاں مختصر عرصے کے لیے آنے والے خانہ بدوشوں کی جھونپڑیوں میں بھی کتے ہوتے تھے۔خانہ بدوشوں کے پاس عموماً گدی نسل کے کتے ہوتے جبکہ سورگ والوں میں سے جنہیں خرگوش کا شکار مرغوب تھا وہ جہازی اور تازی رکھا کرتے تھے۔ایک دو شوقین مزاجوں کے پاس السیشن تھے جبکہ گاؤں کے کھوجیوں کے پاس پوائنٹر تھا۔۔۔ تاہم باقی سب گھروں میں وہ عام نسل کے کتے تھے جو اجنبیوں کو دیکھ کر اُچھل اُچھل کر بھونکتے تھے یا پھر بکریوں کو شام پڑنے پر دوڑ دوڑ کر اکٹھا کرتے تھے۔

سورگ والوں نے کتوں کی تعداد بڑھائی ضرور تھی مگر یہ تعداد کبھی کافی نہ ہو پاتی تھی کہ لائن لگانے والا یہ بے شرم جانور بڑھتا بھی بڑی سرعت سے تھا۔ ہر اڑھائی مہینے کے بعد ان کی حرام زادیوں کی بکھّیاں بھر جاتیں اور سال بعد پتہ چلتا کہ پچھلے برس کے مقابلے اس بار تین گنا زائد آئے اور مونگ پھلی کے کھیتوں کو کھود کر پلٹ گئے۔

شروع شروع میں اپنے ایمانوں کو بچانے کے لیے ہم اِس پلید نسل کا نام بھی زبان پر نہ لاتے تھے۔انہیں مارنے کو جی بھی نہ چاہتا کہ انہیں دیکھتے ہی کراہت ہونے لگتی تھی مگر جب یہ بہت زیادہ زیاں کرنے لگے تو ہم نے بندوقیں اُٹھا لیں۔ خوب منصوبہ بندی کر کے ان کا شکار کرتے۔۔۔ اور پھر جب سرکار نے کسی سرکاری مصلحت کے تحت اسلحہ رکھنے پر پابندی لگا دی تو ہمیں شکاری کتوں کی تعداد بڑھا دینا پڑی۔

ہم ان کتوں کو لے کر شکار پر نکلتے تو ہمارے ہاتھوں میں کلہاڑیاں، برچھیاں اور بلم بھی ہوتے۔ کتے انہیں دوڑ دوڑ کر گھیرتے اور ہماری جانب دھکیلتے جاتے۔۔۔ ہم اُن پر حملہ آور ہو جاتے اور اُن کی تکا بوٹی کر دیتے تھے۔ تاہم یہ ایسا موذی تھا کہ ہم میں سے کسی نہ کسی کو ہر بار ضرور زخمی کر دیتا تھا۔

ہم ان کا شکار کھیلتے تھے مگر ان کی تعداد روز بروز بڑھتی جاتی تھی۔ جس تیزی سے وہ بڑھ رہے تھے اس کے مقابلے میں ہمارے ہاتھ لگنے والوں کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر تھا۔لہذا تشویش ہمارے بدنوں کے خُون کا حصہ ہو گئی تھی۔

تھوتھنیوں والوں کی بڑھتی تعداد ہمیں مونگ پھلی کی کاشت سے نہ روک پائی کہ اس فصل کے طفیل بھوک ہماری بکھیوں سے نکل کر اُنہیں فربہ بنا گئی تھی۔ بیوپاری کھڑی فصل کا اتنا عمدہ بھاؤ لگاتے اور نقد رقم سے ہماری جھولیاں بھر دیتے کہ ہمارے دیدے حیرت سے باہر کو اُبلنے لگتے تھے۔ یہ حیرت تب بھی کم ہونے میں نہ آئی جب ہمیں یہ پتہ چلا تھا کہ بیوپاری تو ادھر شہر میں کارخانے والوں سے کہ جو اس کا تیل نکالتے تھے یا اسے مزے مزے کے کھانوں کا حصہ بناتے تھے، ہمیں دیئے جانے والے بھاؤ سے کئی گنا کماتے تھے۔۔۔ کہ۔۔۔ کوئی اور جنس ہمیں اتنا بھاؤ نہ دیتی تھی۔۔۔ شاید اسی بھاؤ کی لشک نے ہمیں بکریوں سے بِدکا دیا تھا۔

دھیرے دھیرے سارے اُتاڑ پر مونگ پھلی ہی کاشت ہونے لگی۔یہ علاقہ اس کی کاشت برداشت کے لیے خوب موزوں نکلا۔ اس فصل کو نسبتاً لمبا اور گرم موسم چاہئے، تو وہ اس علاقے والوں کا ازلی مقّدر تھا۔ کم از کم جتنی بارش اس فصل کی طلب تھی اتنی خشک سالی کے موسم میں بھی ہوہی جایا کرتی تھی۔ زمین بھاری ہو تو بہت سا پھل وہی دبائے رکھتی ہے، سارا اُتاڑ ریتلا میرا تھا، اُدھر پودے پر ہاتھ رکھا جاتا اِدھر ہلکی پھلکی زمین پھلیوں کے گچھے اُگل دیتی۔ ہم سردیوں کے خاتمے سے پہلے پہلے ہل چلا کر مونگ پھلی کی کاشت کے لیے وتر محفوظ کر لیا کر تے تھے۔ انگریزی حساب سے تیسرے مہینے کے آدھے میں اس کی گریاں بوئی جاتیں۔ یہ بوائی کبھی کبھار چوتھے کے آدھے تک چلتی تھی۔ جب پھلیاں بننے پر آتیں تو ہم ان کے بچاؤ کے لیے جنگلی چوہوں کے بِل ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان میں زہر کی گولیاں ڈالا کر تے۔ چوہے اور سہہ پھلیوں کے خاص دشمن تھے مگر ہمیں شہر والے بیوپاریوں نے سائنو گیس، کہ جسے ہم پہلے پہل سینو گیس کہتے تو شہر والے ہنسا کرتے تھے، اور زہر کی گولیاں لا دی تھیں یہ ان کے تدارک کے لیے خوب موثر تھیں اور ہم خُوش تھے کہ ہم نے تقریباً ان پر قابو پا ہی لیا تھا۔۔۔ مگر تھوتھنیوں والوں نے ہمارے سارے حوصلے چھین لیے تھے۔ ایک ایک بکری کو بیماری سے۔۔۔ بگھیاڑوں سے۔۔۔ اور موت کے منھ سے بچانے والے ہم سب بے بس ہو چکے تھے۔ کبھی ہم مستقل دکھوں سے مقابل ہونے میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔۔۔ اور اب بے بسی کی فرصت ساری مصروفیت پر غلبہ پا گئی تھی۔

مونگ پھلی کی کاشت بہ جائے خود زیادہ مصروفیت کا مشغلہ نہ نکلا۔ پہلے برس جب اُتاڑ کو ہموار کرنا پڑا تھا، اپنے اپنے نام کھتوئے گئے خسروں کے حسا ب سے کھیتوں کے گرد حدیں بنائی تھیں۔ کھیتوں کے اندر آ جانے والے کیکروں، بیریوں، جھڑبیریوں اور کنیروں کو کاٹ کاٹ کر بالن بنا نے کے لیے اُن کے ٹوٹے ٹوٹے کئے تھے۔ ہل چلا کر کھبل اور مروا کو جڑوں سے اکھیڑا گیا اور گھاڑا ایک جگہ اکٹھا کیا تھا۔۔۔ بس وہ پہلا برس ہی شدید مصروفیت والا نکلا۔ یہی پہلا برس بکریوں کے پیٹ بھر کر چرنے کا آخر ی سال بن گیا تھا۔ وہ درختوں سے اترنے والے سبز پتوں سے لدی چھانگوں پر منھ مارتے ہوے یا اُکھڑی ہوئی نرم نرم جھاڑیوں کو جبڑوں میں چباتے اور ڈھیروں کی صورت پڑے گھاڑے کو چرتے ہوے ہمیں اس بات کا احساس تک نہ دلا پائی تھیں کہ آنے والے برسوں میں ان کی بکھیاں خالی بھبھان رہیں گی حتیٰ کہ وہ خود بھی نہ رہیں گی۔تاہم ہمارے پیٹ چربیلے ہونے شروع ہو گئے اور عجب طرح کی فرصت نے ہمارے وجودوں میں کاہلی کا بے لذّت پانی بھر دیا تھا۔

مونگ پھلی کی کاشت کے بعد سے لے کر زمین رنگ پھلیاں بننے تک ہم فارغ رہنے لگے۔ پھلیاں بنتیں تو ہم بِلوں کو تلاش کر کے اُن میں زہریلی دوا ڈالتے۔ یہ بھی کوئی ایسی مصروفیت نہ نکلی تھی کہ ہمارے وجودوں میں زندگی کی ہمک بھر دیتی لہذا بہت جلد اُوب جایا کرتے، کھاٹیں لمبی کرتے اور اب تک پکّے ہو چکے گھروں کے دبیز سایوں میں دراز ہو جاتے۔

ہمیں کسالت نے جکڑے رکھا۔۔۔ اور تھوتھنیوں والے اس قدر بڑھ گئے کہ کتوں کی خاطرخواہ تعداد بڑھا دینا پڑی۔

اور اب یہ ہو چکا ہے کہ کتے بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔۔۔ بہت زیادہ اور بہت قوی۔۔۔ اتنے زیادہ کہ ہمارے حصے کا رزق بھی کھا جاتے ہیں۔۔۔ اور اتنے قوی کہ اُن کی زنجیریں ہماری ہتھیلیوں کو چھیل کر ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں۔یہ کتے ہمارے کھیت اجاڑنے والوں کے عادی ہو گئے ہیں۔۔۔ عادی، خوفزدہ یا پھر ان ہی جیسے۔۔۔ ممکن ہے ان پلیدوں کے بار بار بدن تان کر کھڑا ہو جانے کے سبب کوئی سہم ان کے دلوں میں سما گیا ہو۔ معاملہ کچھ بھی ہو، صورت احوال یہ ہے کہ تھو تھنیوں والوں کو غراہٹوں کی ا وٹ میسر آ گئی ہے۔ کتے دور کھڑے فقط غرائے جاتے ہیں۔ ہم سے زخمی ہتھیلیوں میں بلم، برچھیاں اور کلہاڑیاں تھامی ہی نہیں جا رہیں لہذا ہم خوف اور اندیشوں سے کانپے جاتے ہیں۔۔۔ اور کچھ یوں دکھنے لگا ہے کہ جیسے اس بار تھو تھنیوں والے، انہی کتوں کی غراہٹوں کی محافظت میں ہمارے سارے کھیت کھود کر ہی پلٹیں گے۔