کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

برف کا گھونسلا

محمد حمید شاہد


وہ غُصے میں جلی بھُنی بیٹھی تھی۔

اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی، میں نے گھر کے اندر قدم رکھا، اُدھر وہ مجھے پر برس بڑی۔

بچیاں جو مجھے دیکھ کر کھِل اُٹھی تھیں اور میری جانب لپکنا ہی چاہتی تھیں، اِس متوقع حملے میں عدم مداخلت کے خیال سے، جہاں تھیں وہیں ٹھہری رہیں۔

’’اِس سے بہتر تھا ہم اُسی دور افتادہ مَقام پر پڑے رہتے کم از کم آپ شام کو تو وقت پر گھر پلٹ آیا کرتے تھے۔‘‘

بچیاں مسکراتی رہیں۔۔۔ وہ پیچو تاب کھاتی رہی۔۔۔ اور میں اپنے حق میں وہ دلیل جو مسلسل کئی روز سے دہرا رہا تھا، ایک مرتبہ پھر دہرانے سے ہچکچا رہا تھا۔

جس وقت مجھے مری میں تعینات کیا گیا تھا وہ بہت خُوش تھی۔ اسے ہنی مون والے دن یاد آ رہے تھے جن کے سحر سے وہ ابھی تک نہ نکلی تھی۔ وہی گہرے بادلوں کا زمین پر اُترنا، ٹھنڈی ہواؤں کا بدن چوم کر گزرنا، گیلی سڑک پر پھسل کر گرنا، چوٹ لگنا اور چوٹ سہلانے کے لیے ہیئر ڈرائر کا اِستعمال کرنا۔ محض ایک گرم بالٹی پانی کا ملنا اور دونوں کا نہانے کو اکٹھے باتھ روم میں گھس جانا کہ کہیں ایک کو ٹھنڈے پانی سے نہ نہانا پڑے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مال روڈ پر چہل قدمی کرنا۔ پہروں Lintottsمیں یا پھر پوسٹ آفس کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آتے جاتے لوگوں کا نظارہ بھی وہ نہ بھول پائی تھی۔

مگر اب اکتاہٹ اُس کے بدن کے خلیے خلیے میں اتر رہی تھی۔ میں جانتا تھا، ایسا کیوں تھا۔ مگر میں کیا کرتا؟ سیزن ختم ہونے کو تھا، لیکن لوگ تھے جو پھر بھی جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔ دفتر سرکاری مہمانوں سے بھرا رہتا تو گھر دوستوں اور عزیزو اقارب سے۔۔۔ جو بھی آتا اس خواہش کے ساتھ آتا کہ ایک تو اس کے قیامو طعام کا بندوبست کیا جائے گا اور دوسرا اسے گھمانے پھرانے لے جایا جائے گا۔ اور یوں نہ چاہتے ہوے بھی، میں گھر وقت پر نہ پلٹ سکتا تھا۔ جب کہ وہ بے چاری صبح صبح مہمانوں کے بستر سنبھالتی، صفائیاں کرتی، پانی گرم کر کے باتھ روم میں رکھتی، ناشتہ تیار کرتی، دن بھر کبھی کھانا پکاتی، دستر خوان پر سجاتی، تو کبھی چائے اور سموسوں سے مہمانوں کی تواضع کرتی۔ اُن کے بچوں کے منھ صاف کرتی، اپنی بچیوں کو سمجھاتی بجھاتی، مہمانوں کے جوٹھے برتن دھوتی، پھر جب شام کے دراز سائے چھتنار درختوں سے اُتر کر رات کے روپ میں ڈھلنا شروع ہو جاتے تو وہ بستر بچھا دیتی اور مہمانوں کی واپسی کا بیٹھے بیٹھے انتظار کرتی کہ وہ سیر سے پلٹیں تو اُسے بھی کمر سیدھی کرنے کو موقع ملے۔۔۔ ایسے میں اس کی اکتاہٹ اور چڑچڑا پن بجا تھا۔

اسے ہول آ رہے تھے کہ ہواؤں میں یخ بستگی بڑھ گئی تھی اور یہ سن سن کر، کہ یہاں کی برفانی سردیاں تو ناقابل برداشت حد تک سرد ہوتی ہیں، بہت زیادہ متفکر تھی۔

’’دیکھے ہیں لحاف آپ نے، جگہ جگہ سے روشن دان بن گئے ہیں۔۔۔ اوڑھو نہ اوڑھو ایک برابر۔۔۔ دسمبر ہے کہ بھاگا چلا آ رہا ہے۔۔۔ اِن کا کچھ کرو جی، ان کا۔۔۔‘‘

اُن دنوں مری میں بنے بنائے لحاف نہیں ملتے تھے اور نہ ہی دھنیا یا ایسا فرد ملتا جو ان کو ادھیڑ کر روئی نکالتا، اسے دھنکتا اور پھر لحاف بھر کر سی دیتا۔ پھر ہمارے پاس اتنے لحاف بھی نہ تھے جو اپنے اور مہمانوں کے لیے انہیں اِستعمال کرتے اور یہ میں اس مقصد کے لیے پنڈی دے آتا۔

’’لکڑیوں کا بندوبست کرو جی۔۔۔ خشک لکڑیاں نہ ہوں گی تو ان ننھی جانوں کو سردی سے کیسے بچاؤ گے ؟۔۔۔ دیکھو ساتھ والوں نے لوہے کی انگیٹھی بنوائی ہے، بارہ سو میں۔ اس کے اوپر پائپ لگوا کر روشن دان سے ایک سرا باہر نکال دیا ہے کہ دھواں کمرے میں نہ بھر جائے۔ میرے مانو تو ویسی ہی بنوا لو کہ برفیلی راتوں میں لکڑیاں نہیں جلائیں گے تو کمرا گرم نہیں ہو گا۔۔۔‘‘

وہ ٹھیک کہتی تھی۔۔۔ مگر بارہ سو روپئے !۔۔۔ مہمانوں نے بجٹ اس قدر متاثر کر دیا تھا کہ انگیٹھی بنوانے کی تجویز کو میں نے سنا اَن سنا کر دیا۔ رات ایسی بے شمار تجاویز کے ساتھ شروع ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا کہ نہ میں اس کے بدن کے گداز پن کو محسوس کر سکتا، نہ وہ میرے بازو پر سر رکھتی، نہ ہی میرے سینے کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی۔۔۔ وہ بولتے بولتے تھک جاتی اور میں ’ہاں، ہوں‘ کرتا رہتا۔ وہ غصے سے پہلو بدل کر سو جاتی اور میں دیر تک اس کے بدن کی جاگتی مہک سونگھتا سونگھتا بدن توڑ بیٹھتا۔۔۔ پھر نہ جانے کب مجھے نیند آتی تو صبح ہونے تک رات کی ساری تجاویز اور باتیں بھول چکا ہوتا۔

ابھی پو نہ پھٹی ہوتی کہ میری آنکھ چڑیوں کی چہکار سے کھلتی۔ میں نے ایسی چڑیا میدانی علاقے میں نہ دیکھی تھی۔ لمبوترا سا بدن، دل کش رنگت، سر پر سیاہ کلغی، گردن گانی سے مزین، لمبی دُم، مٹکتی آنکھیں۔۔۔ میری آنکھ کھلتی تو وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ میرے بستر پر ہی پھدک رہی ہوتی۔

’’یقیناً انہیں بھوک لگی ہو گی۔۔۔ راتیں بھی تو لمبی ہو رہی ہیں‘‘

میں سوچتا اور اٹھ کر کچن سے ان کے لیے چو گا تیار کر کے کمرے میں ہی ایک طرف رکھ چھوڑتا۔ کچن کا ایک دروازہ صحن میں کھلتا تھا اور دوسرا اسی سونے والے کمرے میں۔۔۔ اور میری بیگم اس پر گھر بنانے والے کو داد دیتی کہ یوں وہ کچن میں رہتے ہوے بھی بچیوں اور گاہے گاہے مجھ پر نظر رکھ سکتی تھی۔ کچن کے دونوں دروازوں والی دیواریں جہاں چھت سے جا ملتیں، بالکل وہیں اس چڑیا نے ایک گھونسلا بنا رکھا تھا۔ ادھر میدانی علاقوں میں، میں نے ایسا گھونسلا بھی نہیں دیکھا۔ گندھی ہوئی مٹی، جو چڑیا اپنی چونچ میں بھر کر لاتی رہی تھی، اس کے چھوٹے چھوٹے دانوں کو ایک ترتیب سے باہم چپکا کر، اس نے ایک مضبوط سا گھر چھت اور دیواروں کے سنگم پر بنا لیا تھا۔

ابھی صبح صادق کا وقت ہوتا اور ثوبیہ دونوں بچیوں کو بازوؤں میں سمیٹے خواب کے مزے لے رہی ہوتی کہ چڑیا اپنے ننھے منے بچوں کے ساتھ چوں چوں کرتے ہوے میرے سرہانے آ بیٹھتی۔ میں مسکرا کر آنکھیں کھول دیتا۔ یوں یہ چڑیا میری محسن بھی تھی کہ جب سے میں اس گھر میں آیا تھا میری فجر کی ایک بھی نماز قضا نہ ہوئی تھی۔ ایک دن بھی میں نے سیر کا ناغہ نہ کیا تھا۔ فجر کی نماز اور صبح کی سیر اور وہ بھی مری جیسے پر فضا مَقام پر، یہ وہ دو عوامل تھے کہ جن کے لیے میں اپنی حیات کے عناصر منتشر ہونے تک مری میں رہ سکتا تھا۔

پھر یوں ہوا کہ پتوں نے رنگ بدلنے شروع کر دئیے۔ قرمزی، جامنی کلیجی، پیلے، سرخ۔۔۔ غرض عجب عجب رنگ تھے جو ان پر آ رہے تھے۔ جب یہی رنگ شاخوں سے ٹوٹ کر قدموں تلے چر مر کرنے اور یخ بستہ ہواؤں کے سنگ اِدھر اُدھر ڈولنے لگے تو مہمانوں کی آمد میں بھی وقفے پڑنے شرو ع ہو گئے۔

اگرچہ اب وہ میرے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے نکل سکتی تھی، مال پر شاپنگ کر سکتی تھی، میری مصروفیات بھی کم ہو گئی تھیں اور میں اس کے لیے وقت نکال سکتا تھا۔ لہٰذا مزاجوں سے چڑچڑا پن نکل رہا تھا اور زندگی معمول پر آ رہی تھی۔ مگر برا یہ ہوا کہ دونوں بچیاں یکے بعد دیگرے بیمار پڑ گئیں۔۔۔

اور یہ اُس وقت ہوا، جب پہلی برف پڑ چکی تھی۔ برف پڑنے کا عمل بچیوں کے لیے بالکل نیا تھا۔ خود میں بھی مسحور ہو رہا تھا۔ ثوبیہ کی خُوشی تو دیدنی تھی۔ وہ بچیوں کے ساتھ برف پر دوڑتی، ہنستی، ان کے پھسل پھسل کر گرنے پر قہقہے لگاتی ہوئی خود پھسلتی اور چیخیں مارتی۔ وہ اس قدر خُوش تھی کہ خُوشی اس کے سارے بدن سے چھلک رہی تھی۔ ہنستے ہنستے آنکھوں سے آنسو امنڈ آتے، بدن ہلکورے کھانے لگتا اور سرخ ناک رگڑ رگڑ کر مزید سرخ کر لیتی۔ اور مجھے یوں لگ رہا تھا مری کا حسن ثوبیہ کے حسن کی آمیزش سے مکمل ہو گیا تھا۔۔۔ مگر برا ہو، یخ بستہ ہواؤں کا کہ دونوں بچیاں یکے بعد دیگرے بیمار پڑ گئیں۔

اس سے پہلے کہ ثوبیہ پر پھر چڑچڑے پن کا دورہ پڑتا، میں لوہے کی انگیٹھی بنوا لایا۔ لکڑیوں کا بندوبست کیا، لحاف پنڈی سے بھروا لایا۔ مگر کمرا تھا کہ رات کے کسی پہر پھر بھی گرم ہونے کا نام نہ لیتا تھا۔ بچیاں شروع ہی سے علیحدہ بستر پر سونے کی عادی تھیں مگر اب وہ بھی ہمارے بستر میں گھس آتی تھیں اور یوں ہم پہلو بہ پہلو ایک دوسرے سے لپٹ کر سو جاتے اور رات بھر پہلو بدلنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا کہ پہلو بدلنے سے یوں لگتا، جیسے برف کے یخ بستر پر ننگا بدن دھر دیا ہو۔

یہ وہ دن تھے جب کئی کئی فٹ برف پڑ چکی تھی۔ شاخساروں سے پتے ٹوٹ کر کب کے برف تلے دب چکے تھے۔ حد نظر تک دودھ جیسی سفیدی تھی۔ مکانوں کی ڈھلوان چھتوں پر، آنگنوں میں، پتھروں اور گھاس پر، درختوں کی ننگی شاخوں پر۔۔۔ اور سارا منظر یوں لگتا تھا، جیسے مر مر میں تراشا گیا ہو۔۔۔ ایسے میں مجھے اس چڑیا اور اس کے بچوں پر رحم آ رہا تھا جو مجھے اپنے گیتوں سے ہر سحر اسی طرح جگاتی آ رہی تھی۔ حالاں کہ اس ٹھٹھرے ہوے ماحول سے ان کے ساتھ بھرا مار کر اڑنے والے سبھی پرندے ہجرت کر گئے تھے۔

بچیاں سارا سارا دن کمرے کے اندر گھسے رہنے پر مجبور ہو گئیں۔ ثوبیہ انگیٹھی میں لکڑیاں ٹکڑے کر کے گھسیڑتی رہتی، پھکنی سے آگ دہکاتی اور بچیوں کو کھینچ کھینچ کر آگ کے پاس بٹھاتی رہتی۔ اگرچہ دھواں پائپ کے ذریعے باہر پھینکنے کا بندوبست تھا مگر پھر بھی کمرے میں دھواں بھر جاتا اور اسے نکالنے کے لیے وہ دروازے کھول دیتی۔ ادھر کمرے سے دھواں نکلتا، ٹھنڈی مرطوب ہوائیں اندر آ گھستیں۔ پھر انگیٹھی دہکتی اور کمرا گرم کیا جاتا۔

 پھر یوں ہوا کہ مصروفیات کے اسی سلسلے میں سے ایک کالی صبح طلوع ہو گئی۔۔۔

وہی کہ جسے میں ابھی تک بھلا نہیں سکا۔

مجھے مری چھوڑ دینا پڑی۔ نہ چھوڑتا تو راتوں کو یوں ہی ہڑبڑا کر اٹھتا رہتا، سانس گھٹتی رہتی۔ وہ خواب مسلسل دیکھتا رہتا کہ مری نے برف کا سفید کفن لپیٹ رکھا ہے اور اس کفن میں ثوبیہ بچیوں کو بازوؤں میں لپیٹے سو رہی ہے۔۔۔ یہ تھا وہ خواب، جو اس کالی صبح کے بعد آنے والی کئی راتوں کو میں نے مسلسل دیکھا تھا، ہڑبڑا کر اٹھا تھا اور سانسیں گھٹتی ہوئی محسوس کی تھیں۔۔۔ اور پھر۔۔۔ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے مری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

اس کالی صبح کو میں حسب معمول بہت پہلے جاگ چکا تھا۔ چڑیا اپنے بچوں کے ساتھ چو گا چگ کر اپنے گھونسلے میں جا چکی تھی اور مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ ثوبیہ کیوں نہیں اٹھ رہی؟ جب بچیاں بھی اٹھ گئیں اور ننھّی مُنّی ناکوں کو رگڑ رگڑ کر انہیں سرخ تر کرنے لگیں تو ثوبیہ نے پہلو بدلا۔ کہنے لگی:

’’میرا بدن ٹوٹ رہا ہے۔۔۔‘‘

میں نے تشویش سے اسے چھوا، جسم بخار میں تپ رہا تھا۔۔۔ کہا:

’’تمہیں تو بخار ہے۔۔۔‘‘

وہ اٹھ کھڑی ہوئی، کپڑے دُرُست کئے، دوپٹے سے ناک کو رگڑتے ہوے شوں شڑاک کی آواز نکالی اور کہنے لگی:

’’بس معمولی سا ہے، اللہ کرے بچیاں ٹھیک ہو جائیں‘‘

جب میں ناشتہ کر چکا اور دفتر جانے کے لیے باہر نکل کھڑا ہوا تو وہ دوڑتے دوڑتے میرے پیچھے آئی، میں رکا، پلٹ کر پوچھا:

’’خیریت تو ہے نا؟‘‘

کہنے لگی:

’’وہ کچن کے صحن والا دروازہ ہے نا، اس کے اوپر والے روشندان کا ایک شیشہ، جب سے ہم آئے ہیں، ٹوٹا ہوا ہے۔ پہلے تو خیریت رہی مگر اب رات بھر ایسی ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں کہ کمرا ٹھنڈا ٹھار ہو جاتا ہے۔ آج ہو سکے تو وہاں شیشہ لگوا دیں۔۔۔‘‘

میں نے اس کی جانب دیکھا، بخار سے اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔

’’کیوں نہیں، کیوں نہیں، شیشہ آج ہی لگ جائے گا۔۔۔‘‘

میں نے اس کے چہرے کو انگلی کی پوروں سے چھوتے ہوے کہا اور آگے بڑھ گیا۔

اگلی صبح مری کی وہ پہلی صبح تھی جب میں فجر کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکا تھا۔ پھر جب میں ہڑبڑا کر اٹھا تو صبح کا اجالا کمرے کے اندر کونے کھدروں تک گھس آیا تھا۔ میں جلدی سے بستر سے نیچے اترا۔ ثوبیہ بچیوں کو بازوؤں میں لیے ویسے ہی سوئی ہوئی تھی۔ اِدھر اُدھر دیکھا چڑیا اور اس کے بچے نظر نہ آ رہے تھے۔

’’خدا کرے سب ٹھیک ہو‘‘

میں بڑبڑاتا لپک کر کچن تک گیا۔ گھونسلے سے بھی کوئی آواز نہ آ رہی تھی۔ دفعتاً نگاہ اس روشن دان پر پڑی جس میں کل ہی نیا شیشہ لگوایا گیا تھا۔ اس پر باہر کی جانب برف کے گالے جمے ہوے تھے۔ دل زور زور سے دھڑک اٹھا کچن کا دروازہ کھول کر جَھٹ باہر نکلا۔ مری سفید دوشالہ اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔ نظریں پھسلتے پھسلتے کچن کی دہلیز کے پاس ابھری ہوئی سطح پر ٹھہر گئیں۔ میں وہیں دو زانو بیٹھ گیا اور انگلیوں سے برف کی ڈھیری کھرچنے لگا۔۔۔ اور جب میں برف کھرچ چکا تو مجھے لگا، مری نے دوشالہ نہیں سفید کفن لپیٹ رکھا تھا اسی کفن میں چڑیا کے پر کھلے ہوے تھے اور دو ننھے منے بچے اس کے پروں تلے دبے کب کے اپنی ماں کی طرح زندگی کی سانسیں ہار چکے تھے۔

میرا سر گھومنے لگا۔ وہی انگلی کہ جس سے اگلی صبح میں نے ثوبیہ کے تپتے چہرے کو چھوا تھا اور جس سے ابھی ابھی برف تلے سے تین بے جان لاشوں کو برآمد کیا تھا، میرے چھاتی میں گھسی چلی جاتی تھی۔۔۔ اندر بہت ہی اندر۔۔۔ میں تیزی سی کمرے میں بھاگا۔ ثوبیہ اسی طرح بچیوں کو بازوؤں میں لیے سو رہی تھی۔۔۔ اور۔۔۔ جب میں اسے دیوانہ وار زور زور سے جھنجھوڑ رہا تھا تو میری آنکھیں ابل پڑی تھیں اور حلق ہچکیوں سے بھر گیا تھا۔