کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بَرشَور

محمد حمید شاہد


’’اُس نے اپنی بیوی کے نام پر بیٹی کا نام رکھا۔۔۔۔۔

اور بیٹی کے نام پر مسجد بنا ڈالی۔۔۔۔

چھی چھی چھی‘‘

جب عبدالباری کاکڑ کی چھی چھی میرے کانوں میں پڑی، میں فضل مراد رودینی کی طرف متوجہ تھا اور یہ جان ہی نہ پایا، وہ افسوس کر رہا تھا، اس پر نفرین بھیج رہا تھا یا اس کا تمسخر اڑاتی اپنی ہنسی دبا رہا تھا۔

 رودینی چال ڈھال اور لہجے کا پکا بلوچ تھا۔ بات کرتے ہوے آدھا جملہ منھ ہی میں گھما کر نگل لیا کرتا یا یوں ہونٹ سکیڑ لیتا کہ اَدھ کہی بات بھی گرفت میں نہ آتی تھی لہذا اس کی بات سمجھنے کے لیے صرف اس کی طرف متوجہ رہنا پڑتا تھا۔

 رودینی یہاں بلوچستان سے اس کمیٹی کا ممبر تھا جس نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر لگ بھگ سارے صوبے کے قحط کی سی کیفیت سے دوچار علاقوں کا دورہ کر کے متاثرین کی بحالی کے لیے موزوں حکمت عملی تجویز کرنا تھی۔ ہم اسلام آباد سے تین آئے تھے، نور نشان خان ہماری کمیٹی کا کنوینئر تھا۔ وہ تھا توچار سدے کا پٹھان، مگر اسلام آباد میں مستقل قیام اور وفاقی دار الحکومت کے سب سے بڑے کلب کی ممبر شپ نے اسے بڑے رکھ رکھاؤ والا بنا دیا تھا۔ وہ ہر فرد کو پورا پورا پروٹوکول دینے کا قائل تھا اور دیتا بھی تھا۔ اس کا ایسا کرنا شروع شروع میں اچھا لگتا، مگر جب وہ بدلے میں ایسے ہی پروٹوکول کا متمنی نظر آنے لگتا تو بہت کوفت ہوتی۔ عمر اور مرتبے میں وہ ہم سب سے بڑا تھا، لہذا سب اس کی خواہش کا جیسے تیسے احترام کر لیا کرتے، تاہم ہوا یوں کہ جونہی ہماری فلائیٹ کوئٹہ پہنچی اسے ایسا کمال کا پروٹو کول ملا کہ وہ ہمارے بادل ناخواستہ والی عزت افزائی سے بے نیاز ہو گیا۔

 اِسلام آباد سے کمیٹی کا تیسرا ممبر عابد وسیم تھا، بلا کا ہنسوڑ۔ وقفے وقفے سے اُسے کوئی نہ کوئی پُر لطف بات یاد آ جایا کرتی تھی، جسے وہ بڑے اِہتمام سے شروع کرتا مگر کنوینئر کے چہرے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہی سب کچھ بھول جایا کرتا تھا۔ کوئٹہ آنے اور کنوینئر کے پروٹو کول سمیٹنے کی مصروفیت نے اُس کی زبان کی گرہ کھول دی تھی، اَب اُسے کوئی شگفتہ بات یاد آتی تو وہ مجھے کہنی مار کر ایک طرف لے جاتا، اپنی کہتا اور اِتنا منھ کھول کر ہنستا کہ اُس کے منھ کے اندر تالو کے عقب میں لٹکتا کتا کھؤں کھؤں پر جھولنے لگتا تھا۔

 کنوینئر ضرورت پڑنے پر بلوچستان سے کسی اور آفیسر کو کمیٹی کا غیر مستقل ممبر بنا نے کا اختیار رکھتا تھا۔ کوئٹہ اِئیر پورٹ پر ہمیں ریسیو کرنے والوں میں عبدالباری کاکڑ، صحبت خان پانیزئی اور غوث بخش لشاری بھی موجود تھے، اور تینوں نے ہوٹل پہنچنے سے لے کر اگلی صبح پہلی میٹنگ تک وہ پر لطف پروٹوکول دیا تھا کہ کنوینئر نے پہلی ہی میٹنگ میں انہیں بطور کو آپٹڈ ممبر بٹھا لیا تھا۔

برشور کا لفظ میں نے کاکڑ کی زبان سے سنا تھا۔ اس کی باتوں سے میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ پشین بازار سے آگے اُوپر پہاڑوں کے اندر اس گاؤں کا نام تھا جو خشک سالی سے شدید متاثر ہوا تھا۔ ہمارے پاس جو رپورٹس تھیں ان کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی کی تین تحصیلوں، کہ جن کے رقبے نہری تھے، کو چھوڑ کر سارا ہی بلوچستان متاثرہ تھا لہذا کمیٹی کے دیگر ممبران اس کی باتوں پر بہت زیادہ توجہ نہ دے رہے تھے۔۔۔ مگر برشور نام کا صوتی تاثر ایسا تھا کہ میرے اندر کہیں گہرائی تک اتر گیا۔

تاج محمد ترین کے بیوی کے نام پر بیٹی کا نام رکھنے اور بیٹی کے نام سے ایک وسیع اور عالیشان مسجد تعمیر کرنے کی بات اس نے غالباً چوتھے روز تب بتائی تھی جب کمیٹی مختلف علاقوں کے مشاہدے کے لیے نکلنا چاہتی تھی۔ اس نے اصرار کیا تھا کہ پہلے ہمیں برشور چلنا چاہیئے مگر رودینی نے اسے سختی سے ٹوک دیا ;کیوں کہ اس نے سارا شیڈول پہلے سے بنا کر مختلف علاقوں کے مَقامی افسران کو تقسیم کر رکھا تھا۔ ویسے بھی رودینی کمیٹی کا مستقل ممبر تھا، بے شک اب کاکڑ کنوینئر کا چہیتا ہو گیا تھا، مگر دورے کے انتظامی معاملات کے حوالے سے رودینی کا استحقاق ایسا تھا کہ جس کا احترام بہ ہر حال ہمیں کرنا تھا اور کرنا بھی پڑا۔ کاکڑ کے برشور کے لیے اصرار نے رودینی کو کچھ ایسا بدمزہ کیا کہ وہ دورے کے آخر تک کاکڑ اور کنوینئر سے کھچا کھچا رہا تاہم عابد وسیم ایک اور سامع میسر آنے پر خُوش تھا۔

تربت ہم فوکر سے گئے۔ نوشکی اور خاران جیسے علاقوں کا زمینی سفر تھکا دینے والا تھا۔ واپسی پر اس حصے کی اُجڑی ہوئی وسعت ہمارے دلوں میں دُکھ اور بے بسی بن کر گھُس چکی تھی۔ نصیرآباد کے نہری علاقے حوصلہ دیتے رہے جبکہ باقی ضلعوں میں وہی سنسان تباہی سنسنا رہی تھی۔ سب علاقے یوں اُجڑے ہوے تھے جیسے ہر جگہ کوئی بھوت پھر گیا تھا۔ زیارت قدرے سرسبز تھا مگر آسمان کی ناراضی یہاں بھی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ چمن بس نام کا چمن رہ گیا، اِدھر اُدھر دھول اُڑتی تھی۔ لورا، ٹِٹی کلی، مہول، پونگہ، قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ کی ساری کاریزیں سوکھ چکی تھیں، خضدار، درہ مولا، لندھاوا، کچھی کے میدان، درہ بولان، ڈھاڈرا ور سبی جیسے علاقوں سے ہم لگ بھگ گاڑیاں بھگاتے ہوے گزر گئے مگر اِن کے اُجاڑپن نے پھر بھی ہمیں آ لیا تھا۔ اِس دوران ہم کئی بار کوئٹہ آئے اور سستا کر پھر نکل کھڑے ہوئے۔ ہر بار کا کڑ نے کہا :

 ’’آپ برشور دیکھ لیتے تو جتنی تباہی آپ دیکھ آئے ہیں، وہ سب کم تر لگتی۔‘‘

جو تباہی ہم دیکھ آئے تھے اس سے زیادہ کا تصور ہمارے لیے ممکن ہی نہ تھا مگر کاکڑ کا کہنا تھا:

 ’’برشور کی بلندیوں سے دکھ شور مچاتا اترتا ہے اور سیدھا دلوں میں گھس جاتا ہے۔‘‘

جب وہ اِس طرح بات کر رہا ہوتا تورودینی اور لاشاری کے چہروں پر اُکتاہٹ سی آ جاتی۔ یوں جیسے کاکٹر ایسے معاملے کو اُٹھا رہا ہو جو کمیٹی کے ٹی او آر سے باہر کا ہو۔ کاکٹر اور پانیزئی دونوں کوئٹہ میں مقیم تھے اور اُن کی دل چسپی ایسے علاقوں میں زیادہ تھی جہاں سیب، بادام، انار، اخروٹ اور انگور کے باغات بہ کثرت تھے۔ کئی برس کی خشک سالی کے باعث اِن باغات سے بارہ سے بائیس لاکھ سالانہ کمانے والے بھی کنگال ہو کر یوں اجڑے تھے کہ یقین نہ آتا تھا۔ جب ہماری ٹیم پٹھان کوٹ کی کاریز کا خشک ہوتا منبع دیکھ کر نکلی تو ایک سفید پوش یک دم عین سڑک کے بیچ ہمارا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا; یوں کہ ڈرائیور بہ مشکل گاڑی روک پایا تھا۔ مجھے اس کے اس طرح سڑک پر آ جانے پر شدید غصہ آیا اور شاید زبان سے کوئی نازیبا جملہ بھی نکل گیا تھا۔ کاکڑ نے سنا تو بتا یا کہ وہ کلی سگر کا عبداللہ جان تھا، چار ہزار درختوں والے کالا کلو سیبوں کے باغ کا مالک۔ اس کا باغ سات برس پہلے پہلی بار سترہ لاکھ میں بکا تھا۔ جب سے آسمان سے رحمت برسنا بند ہوئی، اس نے باغ بچانے کے لیے ہر سال نیا بور لگایا مگر پانی اتنا نیچے چلا گیا کہ ہر سال آٹھ دس لاکھ اسی پر اُٹھ جاتے۔ پانی ہر بار نکلا ضرور مگر اتنا کہ دو چار مہینے پائپ کا منھ بھرا ہوا ہوتا پھر کم ہوتا چلا جاتا حتی کہ ڈوبتی نبض کی طرح جَھٹکے کھاتے کھاتے ختم ہو جاتا۔ زمین کی گہرائی میں پانی تلاش کرتے کرتے کنگال ہونے والا شخص پشتو میں ہمارے کنوینئر کو کچھ کہہ رہا تھا۔ جب وہ بات کر چکا تو کنوینئر نے جیب سے پرس نکالا، پانچ سو کا نوٹ الگ کیا اور اس کی کھلی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ سیبوں کے باغ کا مالک مٹھی بھینچ کر تیزی سے سڑک سے اترا، اور لورالائی کی سمت بھاگ کھڑا ہوا۔ کاکڑ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوے بتایا کہ وہ ہمیں امدادی سامان تقسیم کرنے والی ٹیم سمجھ بیٹھا تھا۔ لورا، قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ میں باغوں کے ایسے ہی مالک آٹے کے لیے امداد مانگتے پائے گئے۔ کا کٹر کا اصرار تھا:

’’ بر شور کے تاج محمد ترین، کہ جس نے بیٹی کے نام سے مسجد بنائی تھی، کا قصہ بھی اتنا ہی تکلیف دہ تھا۔۔۔ اور شاید اس سے بھی زیادہ۔‘‘

 جب ہم سفر کر کر کے اُکتا چکے تو رودینی نے بتایا کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ابھی ہمیں سراواں کے پہاڑی اور جھلاواں کے میدانی علاقے دیکھنے تھے۔ اِس پروگرام میں برشور نہ آتا تھا۔ رودینی کوشش کر کے اِس طرف نکلنے کی گنجائش نکال سکتا تھا مگر یوں لگتا تھا جیسے وہی نہ چاہتا تھا۔۔۔ اور اب یہ بات کاکڑ کو مشتعل کیے دیتی تھی; تاہم اس کا بس ہی نہ چل رہا تھا۔

 اگلے روز جب ہم نیچائی اور مستونگ سے گزر کر نوشکی کی طرف جا رہے تھے تو وہ ہمیں اس صحرا نما علاقے کی طرف لے گیا جہاں جگہ جگہ جانوروں کے ڈھانچے پڑے ہوے تھے۔ رودینی نے ایک جگہ گاڑیاں رکوا لیں وہ نیچے اُترا، اُنگلیاں سیدھی کر کے زمین میں دبائیں اور مٹھی میں مٹی بھر کر اپنے قدموں پر گھوما، یوں کہ اُس کی مٹھی کھل کر چاروں طرف مٹی پھینکتی چلی گئی۔ پھر وہ تقریباً چیختے ہوے کہنے لگا:

 ’’کاکڑ تمہیں ان لوگوں کا دُکھ بڑا نظر آتا ہے جن کے باغ اجڑ گئے، جنہوں نے بہت کچھ دیکھا اور اَب بھوک دیکھ کر بوکھلائے پھرتے ہیں۔ دیکھو، ذرا اِن لوگوں کا دُکھ دیکھو۔ اِنہوں نے بھوک کی گود میں جنم لیا ہے۔۔۔ اِنہوں نے بھوک کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں ہے۔‘‘

وہ بھاگتا ہوا تھوڑا سا دُور گیا، جھکا اور ایک ڈھانچے سے ہڈی کو جَھٹکا دے کر الگ کر کے پلٹا، اُسے کاکڑ کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوے کہا :

 ’’یہ ہڈیاں اِنہی بھیڑ بکریوں کی ہیں جن کے تھنوں سے یہاں والے بھوک دوہتے رہے ہیں، اس خشک سالی کے ہلے میں تمہیں جتنی ہڈیاں زمین کے اوپر نظر آ رہی ہیں نا، اتنی ہی زمین میں دفنا دی گئی ہیں۔ جانتے ہو کس لیے ؟‘‘

اُس نے ایک لمحے کے لیے بھی نگاہیں کاکڑ کے چہرے سے الگ نہ کی تھیں۔ کا کڑ اس اچانک سوال پر بوکھلا سا گیا تھا۔ اسے کچھ سوجھ نہ رہا تھا۔ رودینی نے اس کے چہرے سے نظریں الگ کیں اور انہیں اپنے قدموں والی زمین پر گاڑ کر کہا:

 ’’ تم جو باغوں کے اُجڑنے کا قصہ بار بار لے بیٹھتے ہو تم کیا جانو کہ زمین میں دبائی گئی ہڈیاں صرف بھیڑ بکریوں کی نہیں ہیں۔۔۔ تیرے میرے جیسے انسانوں کی بھی ہیں۔۔۔ ان انسانوں کی، جنہوں نے بھوک کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔۔۔ اور۔۔۔ جو بھوک ہی سے مر گئے ہیں۔‘‘

 یہ کہتے ہوے وہ زمین پر بیٹھ گیا تھا۔

 ہم کوئٹہ سے کراچی کو نکلنے والی سڑک پر سفر کر رہے تھے۔ مستونگ کے بعد قلات آیا قلات سے مسلسل تین گھنٹے سفر کرنے کے بعد خضدار۔ پڑنگ آباد، سوراپ، کھڈکوچہ، باغبانہ، زہری، وڈھ، توتک، مغلئی، ہر کہیں وہی دل جکڑنے والی ویرانی تھی۔ ہمیں آگے جانا تھا مگر آگے جا نہ سکے۔ سب چپ تھے۔ ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوے، مسلسل باہر پھیلی ویرانی کو اپنی آنکھوں میں سمیٹ چکے تھے۔ اِسی دوران نہ جانے کب رودینی نے کہا تھا:

 ’’ واپس پلٹتے ہیں۔۔۔ آ۔۔۔ آگے بھی یہی کچھ ہے۔‘‘

 ایسا کہتے ہوے اس کا گلا رندھا گیا تھا۔ کسی نے کوئی جواب نہ دیا مگر سب نے گویا رودینی کی تجویز مان لی تھی۔

کوئٹہ پہنچنے پر بھی سب چپ رہے۔ ہمارے پاس ایک پورا دن بچ گیا تھا۔ کاکڑ اب برشور کا نام تک نہ لے رہا تھا۔ ہم سب کے بیچ اتنی خاموشی حائل ہو گئی تھی کہ ایک دوسرے سے بات کرنا از حد دشوار ہو رہا تھا اور ہم محسوس کرنے لگے تھے کہ ایک لمحہ مزید اسی جگہ پر یوں گم صم بیٹھے رہنے سے ہمارے سینے پھٹ جائیں گے لہذا کاکڑ اور لاشاری کو اپنے اپنے گھر اور باقیوں کو ہوٹل میں اپنے اپنے کمروں کے لیے اٹھ جانا چاہئے۔

 تقریباسب اُ ٹھ چکے تھے، کنوینئر، کاکڑ، لشاری، پانیزئی اور عابد وسیم گھٹنوں پر ہاتھ رکھے کھڑے ہونے کے عمل میں تھے میں پوری طرح کمر سیدھی کر چکا تھا بس ایک رودینی اپنی نشست سے ہلا تک نہیں تھا۔ ہمیں یوں اُٹھتے دیکھا تو کہا:

 ’’ میری تجویز ہے کہ کل برشور چلتے ہیں۔‘‘

 ہم سب نے پہلے رودینی کو اور پھر کاکڑ کو دیکھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ آن کی آن میں سارا سناٹا شور مچاتا ہمارے اندر سے بہتا دور ہوتا چلا گیا۔ ہم دن بھر کے تھکے ہوے تھے اور ہمیں آرام کے لیے جدا ہونا تھا مگر ہم کہیں نہیں جا رہے تھے۔

 کاکڑ نے ہمیں بتایا کہ تاج محمد ترین اس کے بچپن کا دوست تھا۔ دونوں کوئٹہ کے پبلک سکول میں اکٹھے پڑھتے رہے تھے اور تب دونوں کی کئی خُوشگوار شامیں ہنہ جھیل پر یوں گزری تھیں کہ اسے ابھی تک یاد آتی تھیں۔

 اس نے یہ بھی بتایا کہ کیسے اسے کلی سر خانزئی کے میر ثنا اللہ ترین کی بیٹی اچھی لگی اور کیسے اُس نے ایک شام اس کے گھر کے باہر کلاشنکوف سے مسلسل فائرنگ کر کے اپنی محبت کا اعلان کیا۔ کن مشکلوں سے کلی سر خانزئی والے رشتہ دینے پر آمادہ ہوے۔ کیسے اُس کی بیوی ایک بیٹی جنم دیتے ہوے مر گئی اور کیسے اُس نے عین جنازہ گاہ میں اِعلان کیا کہ اُس نے اپنی بیٹی کا نام اپنی بیوی کے نام پر نور جان رکھ دیا ہے۔

 کاکڑ جو بغیر سانس لیے بولے جا رہا تھا یہاں پہنچ کر دم لینے کو رکا تو ہمارا تجسس اِتنا بڑھا کہ ہم اُس کے بولنے کا بے چینی سے اِنتظار کر رہے تھے تاہم حوصلہ مجتمع کرنے کے لیے جتنا وقت اُسے چاہیئے تھا وہ اُس نے لے لیا اور پھر بتا یا :

 ’’ اسی برس اس کا باغ گیارہ لاکھ میں کراچی کے ایک بیوپاری نے خریدا۔

 ایک سال درختوں پر زیادہ پھل لگتے اور اس سے اگلے سال کم۔‘‘

 اس نے ہمیں یہ بات ایسے لہجے میں بتائی جیسے ہمیں پہلے سے معلوم ہو پھر اس پر اضافہ کیا :

 ’’ اس کی قسمت دیکھئے کہ ہر سال اس کا باغ پہلے سے بھی زیادہ قیمت دیتا بس فرق یہ تھا کہ کم پھل والے سال میں باغ پچھلے سال سے ہزاروں میں اوپر جاتا اور بھاری پھل والے سال لاکھوں کا اضافہ دیتا۔ انہی برسوں میں اس نے اپنے لیے اور اپنی بیٹی کے رہنے کے لیے قلعہ بنایا۔ آپ نے دیکھا ہی ہے کہ یہاں ہرتمن کا میر اور صاحب حیثیت فرد قلعہ بنا کر رہتا ہے۔ وہ جدی حیثیت والا تھا، بندوق، تلوار، خنجر کمان، گھوڑا اور قلعہ مُدّتوں اس خاندان کی دل چسپیوں کا سامان رہے تھے۔۔۔ مگر اس نے قلعہ نئے سرے سے بنوایا، گھوڑے کی جگہ پجارو آ گئی۔ میں نے اس کے پاس بڑھیا سے بڑھیا کلاشنکوف دیکھی۔۔۔ وہ بڑا شوقین مزاج ہے اس سلسلے میں۔‘‘

ایک مرتبہ وہ پھر چپ ہو گیا۔ شاید اسے اپنی کہی ہوئی بات کی تصحیح کی ضرورت پڑ گئی تھی، منھ ہی منھ میں بڑبڑایا:

 ’’ شوقین مزاج ہے کہاں ؟، کبھی تھا۔‘‘

گلا صاف کرنے کو تھوڑا سا کھانسا اور اپنی بات کو آگے بڑھا تے ہوے کہا:

 ’’ جس سال قلعہ مکمل ہوا اُسی برس اُس نے بیٹی کے نام سے مسجد بنوانی شروع کی۔ ہم نے کبھی نہ سنا تھا کہ کسی نے اپنی ہی بیوی کا نام یوں سر عام لیا ہو۔۔۔ اُس نے قبرستان میں سب کے سامنے لیا تھا۔ اس سارے علاقے میں آج تک گھر کی کسی خاتون کے نام پر کسی نے مسجد کا نام بھی نہیں رکھا تھا۔۔۔ مگر۔۔۔ اس نے رکھا۔۔۔ جب رکھ دیا تو لوگ تعجب کا اظہار کرتے تھے۔۔۔ تاہم جب عالیشان مسجد مکمل ہو گئی تو سب اُس کی بیٹی نور کی قسمت پر رشک کرتے تھے۔‘‘

کاکڑ نے اِدھر اُدھر خالی نظروں سے دیکھا، لمبی سانس لی تو ’آہ، نکل گئی کہا:

 ’’ بدقسمت‘‘

 اور پھر بولتا چلا گیا:

 ’’ جس برس مسجد نور مکمل ہوئی تھی نا، اس سے اگلے برس بارش کی ایک بوند نہ پڑی تھی اور اس سے اگلے سات سال بھی خالی چلے گئے۔          پہلے پہل اس کے ہاں پانی کی کمی نہ تھی اس کے باغ کی سیرابی کے لیے آٹھ ٹیوب ویل تھے پانچ نیچے، تین اوپر۔۔۔ مگر جوں جوں زمین کے اندر پانی کی سطح گرتی چلی گئی توں توں وہ بوکھلا کر جو سمجھ آیا، یا جس نے جو صلاح دی کرتا چلا گیا۔ مسلسل خشک سالی نے اس کا سب کچھ نگل لیا۔ ایک ایک کر کے ٹیوب ویل خشک ہوتے رہے۔ وہ سوکھتے باغ کو بچانے کے لیے ہر برس دو تین نئے بور لگواتا رہا مگر زمین کا پیٹ بانجھ عورت کے رحم کی طرح خالی نکلتا۔ اس کے پاس جو جمع جتھا تھا اسی میں اٹھ گیا پھر وہ مقروض ہوتا چلا گیا۔۔۔ مگر وہ باغ نہ بچا پایا۔‘‘

اگلے روز جب ہم خد خانزئی، میاں خانزئی، طور مرغہ، کڑی درگئی اور کِلی سرخانزئی کے علاقوں سے گزرے تو حد نظر تک درختوں کے کٹے تنے نظر آئے، صاف پتہ چل رہا تھا کہ یہاں کبھی سیبوں کے باغ تھے، گھروں پر پڑے تالے مکینوں کی نقل مکانی کا نوحہ سناتے تھے۔ یوں لگتا تھا ایک عذاب الہی تھا جو پوری بستی کو روند کر نکل گیا تھا۔ بند خُوشدل خان خشک پڑا تھا، پانیزئی نے بتایا کہ ہمارے بزرگوں میں سے بھی کسی نے اس بند کو پہلے خشک ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ گاڑی تِرائی سے اُوپر نکلی تو پانیزئی نے اِطلاع دی :

 ’’ ہم برشور کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔‘‘

کاکڑ نے خشمناک آنکھوں سے پانیزئی کو دیکھا جیسے اس نے یہ اطلاع قبل از وقت دے دی تھی یا جیسے یہ اطلاع یوں نہیں دی جانی چاہئے تھی۔ تاہم وہ چپ رہا حتی کہ مسجد کے مینار نظر آنے لگے۔ اُس نے ڈرائیور کو رکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی رک گئی ہم سب اس کے پیچھے پیچھے سڑک پر اُتر آئے۔ اُس نے اوپر پہاڑیوں کی تنی چھاتیوں کی سمت اُنگلی اُٹھائی اور کہا:

 ’’ آسمان سے ایک بوند بھی ٹپکے۔۔۔ اُن دو چوٹیوں کے بیچ سے پھسلتی نیچے دامن میں آ جاتی ہے۔‘‘

 اُس کی انگلی پہاڑی کی ناف تک چلی آئی تھی، وہاں تک، جہاں زمین ہموار کر کے اُوپر تلے کئی تختے بنا دیئے گئے تھے۔ انہی تختوں پر سیدھی قطاروں میں سیاہ لمبوترے نقطے سے نظر آتے تھے جو نیچے دامن تک چلے گئے تھے۔ کاکڑ نے بتایا تھا کہ وہ درختوں کے باقی رہ جانے والے ٹھنٹھ تھے۔ اُس نے یہ بھی بتایا تھا کہ جب باغ آباد تھا تو پوری وادی میں زمین کے ایک چپے پر بھی نگاہ نہ پڑتی تھی مگر ہم نے جدھر دیکھا اُدھر جہنم کے شعلوں جیسی مٹی ہی نظر آتی تھی۔

اسی جہنم کے بغلی حصے میں گاؤں کی آبادی تھی۔ گھروں کا سلسلہ جہاں ختم ہوتا تھا وہیں وہ مسجد تھی جس کا ہم مسلسل ذکر سنتے آئے تھے۔ مسجد واقعی عالیشان تھی۔ میں نے اندازہ لگایا اس آبادی کے گھروں میں بسنے والے سارے مرد، عورتیں اور بچے بھی اس کے صحن میں جمع ہو جاتے تب بھی اس کا تین چوتھائی حصہ دوسری بستیوں سے آنے والے نمازیوں کے لیے بچ رہتا اور دوسری آبادیوں والے آ جاتے تو بھی شاید سارا صحن نہ بھر پاتا۔

 ’’وہ نور مسجد ہے نا۔‘‘

مجھے پوچھنے کی ضرورت نہ تھی مگر میں نے پوچھ لیا۔ اس بار پانیزئی بولا:

 ’’ یقیناً‘‘۔۔۔

 ’’اتنی بڑی‘‘

میرا اگلا سوال تھا۔

 کاکڑ بولا :

 ’’ تب وہ کہتا تھا، مجھے جنت میں اتنا ہی بڑا گھر چاہیئے۔‘‘

ہم چلتے چلتے نیچے تک آ گئے تھے، اتنے میں ڈرائیور اوپر سے گاڑی گھما کر لے آیا۔ اب ہم اُس راستے پر تھے جو باغ کی چاردیواری کے ساتھ ساتھ آبادی تک چلتا تھا۔ کاکڑ نے بتایا :

 ’’اب یہ باغ ترین کا نہیں ہے۔‘‘۔۔۔

 ’’ کیا مطلب‘‘

کنوینئر نے پوچھا:

 ’’ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ یہ باغ تاج محمد ترین کا ہے ؟۔‘‘

 ’’ یہ باغ ترین ہی کا تھا مگر اِسے تباہی سے بچانے کے لیے اس نے زر گل سے جو قرض اٹھایا تھا اس میں یہ باغ، وہ قلعہ اور اس کا سارا اسباب بک چکا ہے۔۔۔ اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ابھی اسے آدھے سے زیادہ قرض دینا ہے۔‘‘

زرگل کے بارے میں ہمیں پہلے ہی بتایا جا چکا تھا کہ وہ سرحد کے اِدھر اُدھر آتا جاتا رہتا اور خوب کماتا تھا۔ سارے علاقے میں پے منٹ کے نام کے حیلے سے سود پر قرض دیتا تھا۔

زر گل کا نام آیا تو کاکڑ نے بتایاکہ کل جب وہ ہوٹل سے اپنے گھر گیا تھا تو ترین وہاں اس کا پہلے سے منتظر تھا اور اس نے بتایا تھا کہ قرض کی واپسی کے لیے زرگل بہت دباؤ ڈال رہا تھا۔ زرگل کے لمبے ہاتھ تھے۔ اخروٹ آباد کے چند تلنگے ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے۔ اس کا دباؤ کوئی بھی برداشت نہ کر پاتا تھا لہذا ترین کا یوں پریشان ہونا بجا تھا۔ کاکڑ نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوے اضافہ کیا تھا:

’’ میں اس کی کتنی مدد کر سکتا تھا۔۔۔ چالیس پچاس ہزار حد سے حد ایک لاکھ۔۔۔ جتنا اس نے اٹھایا تھا، اسے ہم جیسے سفید پوشوں کی مدد سے نہیں اتارا جا سکتا تھا۔‘‘

گاڑی عین مسجد کے سامنے رک گئی تھی کہ پچیس تیس آدمی مسجد سے نکل رہے تھے۔ کاکڑ یک دم گاڑی سے اترا، لمبے لمبے قدم اٹھاتا لوگوں کے وسط میں سر نیوڑھائے کھڑے اس شخص کے پاس پہنچا، جس کے بارے میں پانیزئی نے بتا یا کہ وہ ترین تھا۔

 ابھی ہم گاڑیوں سے اتر ہی رہے تھے کہ ہمیں دھاڑیں مار مار کر رونے کی آواز سنائی دی۔ دیکھا تو ترین کا کڑکی چھاتی سے لگا ’’ہائے نور، ہائے نور‘‘ کہتا پچھاڑیں کھا رہا تھا۔ اس سے دگنی عمر والے تسبیح اُٹھائے دودھ جیسی سفید ریش والے معزز نظر آنے والے شخص نے اس کے کندھے پر اپنی تسبیح والا ہاتھ رکھا اور کہا:

’’ترین کیوں تماشا بناتے ہو تم نے پچھلے سات سالوں میں جتنی پے منٹ مانگی میں نے دی۔۔۔ میں نے دی نا؟۔۔۔ دیکھو میں نے تمہاری بیٹی سے اتنے شریف لوگوں کے سامنے نکاح کیا ہے۔۔۔ اب باقی قرض میں خدا رسولؐ کے نام پر تمہیں معاف کرتا ہوں۔‘‘

 ترین چپ ہونے کے بہ جائے اور شدت سے چیخا:

’’خدا رسولؐ کے نام پر۔۔۔ ؟‘‘

پھر وہ ’’ ہائے نور‘‘ کہتا مسجد کی سمت بڑھا اور ایک ستون کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ کر یوں جھنجھوڑنے لگا جیسے پوری مسجد کو کھسکا کر کہیں لے جانا چاہتا ہو، حتی کہ وہ نڈھال ہو گیا۔ بے بسی سے سر ستون کے ساتھ ٹکرایا اور کہا:

 ’’ کاش میں تمہیں بیچ کر نور، اپنی نور کو بکنے سے بچا لیتا۔‘‘

 ’’کیا کفر بکتے ہو‘‘

زرگل چیخا۔ اس کا ہاتھ فضا میں یوں ناچا کہ موٹے دانوں والی لمبی تسبیح دائرہ بناتی دائیں بائیں جھولنے لگی۔ اس کے ساتھ کھڑے ہٹے کٹے دو آدمیوں نے اشارہ پا کر اسے مسجد کے ستون سے زبردستی الگ کیا اور کھینچتے ہوے قلعے میں لے چلے ;مگر وہ مسلسل کہہ رہا تھا :

 ’’کاش میں تمہیں بیچ سکتا نور‘‘۔۔۔

آواز دور ہوتی جا رہی تھی، ہم گاڑی میں بیٹھے تو ایک دفعہ پھر ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہے تھے۔ ہم جلد ہی برشور کی حدود سے نکل آئے مگر برشور ہمارا پیچھا کرتا رہا۔