کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

زلزلہ

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

کچھ باغباں ہیں برق و شر ر سے ملے ہوئے

                                                                   (ساغر صدیقی)

         

’’دھڑ…دھڑ…‘‘

مسلسل دروازہ پیٹے جانے سے اکبر کی نیند ٹوٹ گئی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔

’’یا خدا رحم…اتنی رات کون آگیا‘‘ اکبر نے گھڑی دیکھی رات کا ایک بجا تھا۔‘‘ اس وقت کون ہو سکتا ہے ‘‘ اس نے سوچا اور بستر سے اتر کر دروازہ تک آیا۔

’’کون ہے ‘‘  اس نے آواز لگائی۔

’’جلدی دروازہ کھولو۔‘‘ اکبر نے آواز پہچان لی۔’’فراز بھائی کیا ہوا‘‘  اکبر نے دروازہ کھولتے ہوئے اپنے چچا زاد بھائی فراز سے دریافت کیا۔

’’جلدی سب لوگ باہر نکلو ‘‘ فراز بھائی اپنے دو سال کے بچے کو سینے سے چپٹائے اندر آئے۔

’’لیکن کیوں ‘‘ اکبر نے حیران ہو کر پوچھا۔

’’زلزلہ آنے والا ہے۔‘‘

’’کیا‘‘

’’ہاں رات دو بجے خطرناک زلزلہ آنے والا ہے۔ ‘‘

’’ارے لیکن یہ کیسے پتہ کہ زلزلہ آنے والا ہے۔ ‘‘

’’مساجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اذانیں دی جا رہی ہیں اور اعلان ہو رہا ہے۔ جلدی کرو دونوں بچوں کو لو اور باہر نکلو۔‘‘ فراز بھائی عجلت میں تھے۔

تبھی اکبر نے لاؤڈ اسپیکر کی آواز سنی جس پر رات دو بجے زلزلہ آنے اور ہوشیار رہنے کی تاکید کے ساتھ کھلے میدان میں جمع ہو کر دعائیں کرنے کی اپیل کی جا رہی تھی۔اکبر کے موبائل کی گھنٹی بھی بج اٹھی۔

’’ہیلو اکبر بھائی آپ لوگ فوراً بچوں اور بھابھی کو لے کر مکان سے باہر نکل جائیں۔ ‘‘ یہ اکبر کی بہن نرگس تھی جوکہ اپنے خاوند کے کہنے پر اکبر کو باخبر کر رہی تھی۔

’’لیکن یہ خبر ملی کہاں سے ہے ‘‘ اکبر حیران تھا۔

’’باہر نکل کر دیکھئے بھائی جان پورا شہر جاگ رہا ہے اور سب ایک دوسرے کو مطلع کر رہے ہیں۔‘‘

تبھی ایک ساتھ کئی لاؤڈ اسپیکروں پر زلزلہ آنے کی اطلاع پھر سنائی پڑی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ ابھی وہ کچھ سوچتا تبھی کئی موٹر سائیکلوں کے دوڑنے کی آوازیں اسے سنائی پڑیں۔ کئی نوجوان پر جوش انداز میں زلزلہ آنے کی اطلاع دیتے گھوم رہے تھے۔

’’فراز بھائی کچھ نہیں ہونے والا۔ابھی تک کوئی ایسی تکنیک ایجاد نہیں ہوئی ہے جو کہ زلزلہ آنے کی پیشگی اطلاع فراہم کر سکے۔ ضرور یہ کسی کی شرارت ہے۔‘‘ اکبر نے فراز بھائی کو سمجھایا لیکن وہ مطمئن نہ ہوئے اور جلدی سے میدان کی طرف نکل گئے۔

’’امی یہ کسی نے افواہ اڑائی ہے سب لوگ آرام کرو۔ کچھ نہیں ہونے والا۔‘‘

اکبر نے اپنی ماں اور بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی جو کہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ بیوی تو مطمئن ہو جا سوئی لیکن اماں کی نیند اچاٹ ہو چکی تھی انھوں نے صحن میں بیٹھ کر ہی قرآن کی تلاوت شروع کر دی۔ اکبر کے موبائل کی گھنٹی بار بار بج رہی تھی لوگ اس سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ تھا۔ اکبر نے انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن سب بے سود۔ اس نے موبائل بند کر لینے میں ہی عافیت جانی اور بستر پر دراز ہو گیا۔ تبھی اسے دور کہیں سے با جماعت کلمہ کا ورد کرنے کی آوازیں سنائی پڑیں۔ لیکن تھکا ہارا اکبر جلد نیند کے آغوش میں چلا گیا۔

زلزلہ آنے کی خبر جنگل میں آگ لگنے کے مترادف سارے شہر میں تیزی کے ساتھ پھیلی تھی۔ ہر طرف افراتفری کا ماحول تھا۔ مرد و زن، بوڑھے اور بچے کھلے میدانوں میں جمع تھے۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے خوف سے اپنی ماؤں کے کلیجے سے چپکے تھے تو سہمے ہوئے نوعمر طلباء اپنے باپ کی بانہہ تھامے ہوئے تھے۔ بزرگ یاد الٰہی میں مصروف تھے تو تمام ہی لوگ دل ہی دل میں خطرہ ٹلنے کی دعائیں کر رہے تھے۔

اللہ اللہ کر کے دو بجے کا وقت گزر گیا۔ ابھی لوگوں نے راحت کی سانس لی ہی تھی کہ مساجد سے ایک مرتبہ پھر اعلان ہوا۔ ساتھ ہی موبائل پر میسج بھی پہنچنے لگے۔

’’ہشیار رہو دینی بھائیو ،تین بجے زلزلہ آنے والا ہے۔‘‘

نارمل ہوتا ماحول اچانک پھر سے کشیدہ ہو گیا۔ با جماعت کلمہ کا ورد دوبارہ شروع ہو چکا تھا۔ نیندیں پوری طرح غائب ہو چکی تھیں۔

ملی جلی آبادی والے محلہ میں چند لوگ ایک چبوترے پر بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ زلزلہ کی خبروں سے یہ بھی خوف زدہ تھے لیکن دانشور طبقے سے تعلق رکھنے کے سبب اوپر سے خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ٹوپی اوڑھے ہوئے شخص نے کہا ’’لگتا ہے یہ محض افواہ ہے اور بابری مسجد مقدمہ کے فیصلے کی وجہ سے یہ افواہیں اڑائی گئی ہیں۔‘‘

’’اور نہیں تو کیا بھلا زلزلہ کی پیشین گوئی ممکن ہے کیا۔‘‘ دوسرا شخص بھی بولے بغیر نہ رہ سکا۔

’’مجھے تو لگتا ہے یہ آر ایس ایس کی کوئی نئی چال ہے۔ انھوں نے تو ایک مرتبہ مورتیوں کو بھی دودھ پلا دیا تھا اور بعد میں سب سائنس کا چمتکار ثابت ہوا تھا۔‘‘

پہلے والے شخص نے کہا تو لانگ کی دھوتی میں پالتی مارے شخص نے بڑے رازدارانہ انداز میں کہا ’’مجھے تو یہ آئی ایس آئی کی شرارت لگتی ہے۔‘‘

’’تم ہندوؤں کو ہر بات میں آئی ایس آئی ہی کیوں نظر آتی ہے۔‘‘  پہلے شخص کو بات ناگوار لگی تھی۔

’’کیوں کیا یہ سی آئی اے اور موساد کی حرکت نہیں ہو سکتی۔‘‘ خاموشی سے سن رہے تیسرے شخص نے بھی بحث میں حصہ لیا۔

’’کچھ بھی ہو زلزلہ نہیں آنے والا یہ سب شرارتی عناصر کی طرف سے پھیلائی گئی افواہیں ہیں ‘‘ ۔چوتھے شخص نے بھی رائے کا اظہار کیا۔ اس کی بات سے تقریباً سبھی متفق لگے۔

’’لیکن مجھے تو یہ بازارواد کا کھیل نظر آتا ہے۔ نئے دور کی ایسٹ انڈین کمپنیوں کا بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے کہ وہ کب کیا کر گزریں۔ ‘‘ پوری بحث سننے کے بعد پانچویں شخص نے فیصلے نما رائے کا اظہار کیا جس کے بعد طویل خاموشی چھا گئی۔

تین بج چکے تھے زلزلہ کونہ آنا تھا نہ وہ آیا۔ لوگ حواس درست کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے کہ یکایک موبائل فون کی گھنٹیاں پھر بجنے لگیں۔میسج کے ذریعہ اطلاع ملی تھی کہ زلزلہ اب چار بجے آئے گا۔ ایک بار پھر مسلم علاقوں میں لوگ سجدے میں گر پڑے تھے تو ہندوؤں میں مندر کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔

شہر کا سب سے بڑا بزنس کامپلیکس ’’راشی ٹاور ‘‘  رات کے تین بجے بھی روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ اس کے شاندار میٹنگ ہال میں چند سوٹیڈ بوٹیڈ نوجوان پارٹی میں مگن تھے۔ ان کے چہروں پر فتح کی چمک صاف محسوس ہو رہی تھی۔ سرور کی محفل میں تیز میوزک نے زیادہ مستی بھر دی تھی۔

’’کیلاش ڈیئر…آج تم نے مجھے مالامال کر دیا اس لیے میں تمھیں کمپنی کانیا سی۔ای۔او بناتا ہوں۔‘‘ اے ون موبائل کمپنی کے مالک گھنشیام داس نشے میں پوری طرح ڈوب چکے تھے۔آج ان کی کمپنی کو ریکارڈ آمدنی ہوئی تھی۔ زلزلے کی خبروں کی وجہ سے کمپنی کے موبائل فون سے بات چیت اور ایس ایم ایس میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہوا تھا۔ اسی لیے گھنشیام داس نے اپنے خاص لوگوں کو اتنی رات گئے خاص دعوت دی تھی۔ کیلاش کے چہرے پر کامیابی کا نشہ تھا اور نظریں گھنشیام داس کی خوبصورت سکریٹری پر جمی تھیں جو کہ خود اسے بے حد دلچسپی سے نہار رہی تھی۔

’’چیئرس‘‘ گھنشیام داس نے پوری وودکا کی بوتل ایک ہی گھونٹ میں خالی کر دی تھی اس کا سر گھومنے لگا تھا۔اچانک وہ نڈھال ہو کر گر پڑا۔ وہ بے سدھ ہو چکا تھا۔

’’آؤ ڈیئر …چلیں ‘‘ سکریٹری نے بڑی ادا کے ساتھ کیلاش کا ہاتھ تھاما اور قاتل مسکراہٹ کا ایسا وار کیا کہ کیلاش کانپ کر رہ گیا۔

’’رکو…ابھی چلتے ہیں۔‘‘ کیلاش نے کہا اور اپنا موبائل نکال کر کوئی میسج ٹائپ کرنے لگا۔

’’کیا کر رہے ہو ڈیئر…اب چلو بھی ‘‘ سکریٹری نے بیتابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیلاش کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔

’’آج کی کامیابی کا یہ آخری میسج مس ٹینا ساہنی کے نام ‘‘ ۔کیلاش نے سکریٹری ٹینا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا اور میسج سینڈ کر دیا۔ تبھی ٹینا کے موبائل کی اسکرین پر نیا میسج آنے کی رِنگ بجی۔

’’اوہ نو…جلدی نیچے چلوکیلاش …بھوکمپ آنے والا ہے۔‘‘ ٹینا اچانک بدحواس ہو گئی اور اس نے جیسے ہی بھاگنے کی کوشش کی۔کیلاش نے بازو پکڑ کر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔’’کہاں جا رہی ہو ڈارلنگ‘‘

’’مذاق چھوڑو کیلاش جلدی باہر چلو ورنہ ہم سب مارے جائیں گے۔‘‘

کیلاش نے اچانک زور دار قہقہہ لگایا۔ ’’فکر نہ کرو ڈارلنگ۔بھوکمپ میرے کہے بغیر نہیں آ سکتا۔ کیوں کہ یہ بھوکمپ میرے موبائل سے ہو کر ہی تو باہر نکلا ہے۔‘‘  کیلاش کی معنی خیز مسکراہٹ بھی ٹینا کو مطمئن نہ کر سکی تھی۔ لیکن ٹینا کی آغوش میں کیلاش پوری طرح سکون محسوس کر رہا تھا۔

پوری رات جاگنے کی وجہ سے چوک میں جمع تمام مرد و زن کی آنکھیں نیند کی وجہ سے بوجھل تھیں۔ لیکن موت اور زلزلہ کا خوف تھا کہ انھیں جاگنے پر مجبور کر رہا تھا۔ موبائل پر نئی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔میسج دھڑادھڑ ٹرانسفر کیے جا رہے تھے کہ چار بجے یقیناً زلزلہ آنے والا ہے۔مندروں میں گھنٹیاں بجنے کی آوازیں پھر آنے لگی تھیں۔ مساجد سے اذان کی آوازیں پھر آنی شروع ہو چکی تھیں۔ خوف و ہراس کے نیچے ایک بار پھر شہریوں کے دلوں کو اپنے شکنجے میں لے چکے تھے۔

دھیرے دھیرے خوف کے بادل چھٹنے لگے صبح کے پانچ بج چکے تھے۔زلزلہ نہیں آیا تھا۔ مساجد سے فجر کی نماز کے لیے اذانیں شروع ہو گئی تھیں۔ لوگ اظہار تشکر کے لیے مساجد کا رخ کر رہے تھے۔

فجر کی نماز کے بعد جب دل مطمئن ہو گئے تو لوگ گھروں میں واپس آ گئے۔ نیند سے بوجھل آنکھوں نے بھی اب ہتھیار ڈال دیئے تھے اور شہر کی تمام مخلوق خواب غفلت میں مبتلا ہو چکی تھی۔

زمین میں ہوئی ہلکی تھر تھراہٹ نے اچانک اکبر کو بیدار کر دیا۔گھڑی پر نگاہ پڑی تو صبح کے سات بج کر پانچ منٹ ہوئے تھے۔ابھی وہ بستر سے اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ زمین ایک مرتبہ پھر تیزی کے ساتھ تھرتھرائی۔ اس نے چھت کی طرف دیکھاتو سیلنگ فین بری طرح ڈول رہا تھا۔ تبھی اسے لگا کہ جیسے اس کا پلنگ کپکپا رہا ہے۔

’’باہر نکلو زلزلہ آگیا ہے۔‘‘ چیختے ہوئے اکبر اپنے بچوں کو اٹھا کر تیزی سے باہر کی طرف بھاگا۔

باہر ایک دم سناٹا تھا۔ وہ خالی میدان میں جا کر زور  سے چیخا۔

گھر میں رکھے برتن گرنے لگے۔ لیمپ اور دیواروں پر لٹکی تصاویر ہلنے لگیں۔کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔یہاں تک کہ دیواروں کا پلستر تک اکھڑ گیا۔

باہر نکل آؤ زلزلہ آگیا ہے۔‘‘ لیکن اس وقت اس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔

زلزلے کا انتظار کرتی مخلوق خدا بس کچھ دیر پہلے ہی تو سوئی تھی اس لیے اکبر کی آواز ان کے کانوں تک نہیں پہنچ سکی تھی۔ہاں چند بزرگوں نے ضرور اس کی آواز سنی لیکن وہ بھی رات بھر کی تھکان کے سبب گھروں سے باہر نکلنے کی ہمت نہ کر سکے۔پھر اکبر کو محسوس ہوا کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ زلزلہ گزر چکا ہے۔اس کا دماغ سن سن کر رہا تھا۔ اسے ایک پرانی بھیڑیئے کی کہانی یاد آ رہی تھی۔کسی گاؤں میں ایک شخص گاؤں کے لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے رات میں چلانے لگتا تھا ’’بھیڑیا آیا…بچاؤ…بھیڑیا آیا۔‘‘

لیکن جب گاؤں والے اس کے پاس پہنچتے تو وہ قہقہے لگا کر ان کا مذاق اڑاتا تھا۔ لیکن ایک دن سچ مچ اس کے گھر بھیڑیا آگیا اور اس کے بچے کو گلے سے اٹھا منھ میں دبا لیا تو وہ چیخنے لگا ’’بھیڑیا آگیا۔بچاؤ ‘‘ لیکن اس وقت کوئی بھی اسکی بات سننے کا روادار نہیں ہوا۔

اکبر نے شہر کا جائزہ لینے کا خیال کیا کیونکہ اسے اخبار کے لیے خبریں بھی جٹانی تھیں۔اس نے اپنی موٹر سائیکل نکالی اور شہر کی سڑکوں پر گردش کرنے لگا۔ اس نے ملی اطلاعات پر غور کیا تو حیران رہ گیا۔زلزلہ بہ خیر و عافیت گزر گیا تھا سوائے اس کے کہ کئی موبائل کمپنیوں کے اونچے اونچے ٹاور زمیں دوز ہو گئے تھے اور ان کی چپیٹ میں آ کر نہ صرف کچھ افراد زخمی ہوئے تھے بلکہ مکانات کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے موبائل آن کیا۔

’’کیا خبر ہے جناب‘‘ اکبر نے دریافت کیا۔ دوسری طرف سے پولس انسپکٹر یونس خاں کی آواز ابھری۔

’’زلزلہ کی وجہ سے ایک بڑا حادثہ ہوا ہے۔شہر کا بزنس کامپلیکس ’’راشی ٹاور ‘‘  پوری طرح زمیں دوز ہو گیا ہے‘‘

’’اوہ‘‘

’’اور اے ون موبائل کمپنی کے مالک گھنشیام داس اور ان کے چند ملازمین کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔‘‘

٭٭٭