کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

رُکی ہوئی زندگی

محمد حمید شاہد


وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا ندیدہ ہو کر۔

          عاطف اُسے دیکھ رہا تھا ہک دک۔ کراہت کا گولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اُس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا یوں کہ اُسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دھیان اِدھر اُدھر بہکانا اور بہلانا پڑتا۔

وہ بھوکا تھا۔

شاید بہت ہی بھوکا، کہ سالن کی رکابی اور روٹیوں کی چنگیر پر پوری طرح اوندھا ہو گیا تھا۔

جتنی دیر وہ چپڑ چیک چپڑ چپاک کر کے کھاتا رہا عاطف اُس کے پراگندہ بالوں کے نیچے اور پیچھے چھپ جانے والے چہرے کو ڈھنگ سے دیکھنے کے جتن کرتا رہا اور اُن معصوم لکیروں کو تلاش کرتا رہا جو کبھی تھیں  اَب کہیں نہیں تھیں۔ وقت کی سفاکی نے سب کچھ مِٹا کر ایک نئی تحریر لکھ دی تھی۔

ایسی تحریر جو پورے بدن میں اِضمحلال بھر رہی تھی۔

 وہ پوری طرح جھکا ہوا تھا۔

اور اُس کے جبڑوں اور ہونٹوں کے باہم ٹکرانے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔

 وہ بہاول پور سے عاطف کے ہاں پہنچا تھا۔ کیوں ؟ یہ اُس نے نہیں بتایا تھا۔

 شاید اس کا ابھی موقع بھی نہیں آیا تھا کہ وہ تو دفتر سے گھر واپسی پر اُسے گیٹ پر ہی مل گیا تھا۔

عاطف جس دفتر میں کام کرتا تھا وہاں کوئی اور اصول ضابطہ ہو نہ ہو چھٹی وقت پرمِل جایا کرتی۔ وہ سیدھا گھر پہنچتا کہ شائستہ اُس کی منتظر رہتی تھی۔

          شروع شروع میں عاطف کو یقین تھا کہ یہ سچ مچ کا اِنتظار تھا اَندر سے اُٹھتی تاہنگ والا تبھی تو اُسے سیدھا گھر آنے کی عادت ہو گئی تھی مگر بعد اَزاں یہ ہوا کہ سب کچھ اُس کے معمولات کا حصہ ہو گیا۔

 شائستہ کو بھی پہلے پہل اِنتظار میں لطف آتا تھا۔ کھٹا میٹھا لطف۔

 اگرچہ اوجھ جیسے وجود نے پہلے ہی دن اُس کے اَندر کراہت کی ایسی گولی سی رکھ دی تھی جو اُسے دیکھتے ہی خود بخود دھواں چھوڑنے لگتی مگر کہیں نہ کہیں سے لذت کی مہک بھی اٹھتی رہتی۔ دوسرے بدن کو چھو لینے کی لذت یا پھر اُسے دیکھنے اور دیکھے چلے جانے کی لذّت۔

 وہ جیسا بھی تھا، اُس پر نظر ڈالتا تھا۔ ایک تار نہ سہی، جھجک جھجک کر سہی اور لُکنت زدہ لفظوں سے اتنی پھسلن بنا ہی لیتا کہ وہ اُس پر کوشش کر کے ہی سہی پہروں پھسل سکتی تھی اور دُور تک، بہت دُور تک جا سکتی تھی۔

 مگر رفتہ رفتہ عجب اُفتاد آن پڑی کہ پہر سُکڑنے لگے۔

 اور یُوں لگتا تھا کہ وہ دونوں لذّت کے زور سے جتنی دُور جا سکتے تھے  جا چکے، کہ اَب تو بدن میں کساوٹ اُترنے لگتی اور شائستہ کو کوفت ہوتی تھی۔

 جب اُس نے آ ہی جانا ہوتا تو اِنتظار کیوں ؟ اور اضطراب کیسا؟؟

 غیر مانے  عادت نہ مانے۔ عادت نہ کہیں بدن کہہ لیں۔

 عادت کی ڈوری میں بندھا بدن دُکھتا تھا۔ دُکھتا تھا اور ٹوٹتا تھا۔

اس ٹوٹتے بدن کو پھر بھی اِنتظار کی گرہ دی جاتی رہی حتّی کہ عادت معمول ہو گئی۔

 دونوں میں ہمت نہ تھی کہ وہ معمول کے اِس دائرے کو توڑ ڈالیں۔

یوں نہیں تھا کہ عاطف گھر آتا تو پھر باہر نکلتا ہی نہیں تھا۔ لاہور ایسا شہر تھا جو کئی کئی گھنٹوں کے لیے مصروف رکھ سکتا تھا۔ بے تکلف دوستوں سے ملتا۔ اِحباب کی مہذب مجالس میں بیٹھتا  یا پھر اُس سے ملتا جو سارے فاصلے ختم کر ڈالنے کے ہنر جانتی تھی۔

 وہ فاصلے یوں ختم کرتی تھی، جیسے کہ وہ ہوتے ہی نہیں تھے۔

 پہلے وہ اُن موضوعات کو چھیڑتی جو عاطف کی کم زوری تھے یا پھر عاطف جن پر سہولت اور رغبت سے کچھ کہہ سکتا تھا۔ وہ اپنی بات کہہ رہا ہوتا تو وہ چپکے سے اپنے جذبوں کے دھاگے کا سرا، اُس کی چلتی بات کے ساتھ باندھ دیتی اور پھر گِرہ پر گِرہ دیے چلی جاتی۔

 یہ جذبے اُس فتنے کی خیزش سے بندھے ہوتے جو عاطف کو گھر پلٹنے تک برف کا تودہ بنا دیا کرتے تھے۔

اکثر یوں ہوتا کہ عاطف گھر لوٹتا تو شائستہ کا بدن خفگی کے تناؤ کی لہریں چھوڑ رہا ہوتا۔

 بدن کی کوسوں کے اُوپر ہی اُوپر تیرتی یہ لہریں ایسے لمس کی تھپکی مانگتی تھیں جو عاطف کے اَندر رُوبی نے باتوں کے کھانچے میں کہیں یخ بستہ کر دی تھی۔

 جب کہ شائستہ غصے سے کھولتی تھی۔ کھولتی تھی اور کچھ نہ بولتی تھی۔

 کہ وہ پہل کر کے بولے چلے جانے کی عادی نہیں ہوئی تھی۔

 عاطف کبھی کبھی چاہتا کہ وہ اُس پر برس پڑے  لڑے جھگڑے اور جو کچھ اُس کے بدن کی سطح مرتفع پر لہریں سی چھوڑ رہا تھا اُسے چیختے چنگھاڑتے لفظوں میں ڈال دے۔ یوں کہ عاطف کے لیے اپنی بات کہنے کی گنجائش پیدا ہو۔

 وہ بات جس سے خیزش کی تانت بندھی ہوتی ہے۔

 مگر اس کا بدن سمندر کی بھوکی بپھری لہروں کی طرح اُوپر نیچے ہوتا رہتا اور ایسا شور چھوڑتا جو ماحول کا حصہ ہو کر سکوت میں ڈَھل جاتا ہے یا پھر ایسا شور جواَپنی دہشت سے پَرے دھکیل دیتا ہے اور سماعتوں کو بند کر دیتا ہے۔

 وہ سننا چاہتا مگر کچھ بھی سُن نہ پاتا تھا کہ ایک سکوت تنا ہوا تھا۔ گاڑھا گمبھیر اور گھمس والا سکوت۔ یا پھر شاید ایک دہشت کا تناؤ تھا دل کھینچ لینے والی دہشت کا طالح تناؤ۔

معمول کبھی کبھار ٹوٹ بھی جاتا تھا۔ ایسے کہ جیسے کوئی بے دھیانی میں ایک ہاتھ دُوسرے ہاتھ کی طرف لے جاتا ہے۔ دائیں ہاتھ کی اُنگلیاں بائیں کی اُنگلیوں میں بٹھاتا ہے  ہتھیلیوں کو سامنے کر کے دونوں کہنیوں کوتان لیتا ہے اور پھر عین انگلیوں اور ہتھیلیوں کے جوڑ سے چٹخارے نکال دیتا ہے۔

احباب کے دائرے میں وہ ایک مثالی جوڑا جانے جاتے تھے۔ جب کبھی تقاریب میں اُنہیں اکٹھے شریک ہونا پڑتا تو وہ ایک دوسرے کے آس پاس ہی رہتے۔

 شاید اُس فاصلے کو پرے دھکیلنے کے لیے  جو دونوں کے بیچ تھا۔

 وہ ایک دوسرے کو احتیاطاً دیکھ لیا کرتے  کھسیانے ہوتے  ہنس دیتے اور لوگ اُن کا یوں مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھنا حسرت اور لطف سے دیکھا کرتے تھے۔

مگر کچھ تو تھا جو دونوں کے بیچ تھا اور کچھ اَیسا بھی تھا جو دونوں کے بیچ نہیں تھا۔

مرد اپنی عورت سے چھپ چھپا کر باہر جو کچھ کرتا ہے  عورت اُسے جان لیا کرتی ہے۔

 شاید اِس لیے کہ باہر کی ساری کارگزاری وہ بے خبری میں اپنے تن پر لکھ لایا کرتا ہے، یوں کہ وہ خود تو اُس تحریر سے بے خبر ہوتا ہے مگر عورت اُسے پڑھ لیتی ہے۔ ایک ایک لفظ کو۔ ایک ایک شوشے اور نقطے کو اور اُن وقفوں کو بھی جو اِن لفظوں اور سطروں کے بیچ پڑتے ہیں۔

 شائستہ نے عاطف کے بدن کے اوراق پر لکھے متن کو جب پڑھا تھا تو وہ رُوبی کی خُوشبو تک سے آگاہ ہو گئی تھی۔

اس کی جگہ کوئی بھی اور ہوتی تو وہ بِپھر جاتی مگر وہ ایسی عورتوں میں سے تھی ہی نہیں  جو کسی بھی بات کو خود ہی آغاز دے لیا کرتی ہیں۔

اُسے تو خود آغاز چاہیے تھا۔ بھیگا ہوا آغاز۔

 ایسا کہ جس کا اَنجام بھی بھیگا ہوا ہو۔

 عاطف کے پاس اَیسے الفاظ کہاں تھے جو پہل قدمی کا ہنر جانتے ہوں کہ ایسے اَلفاظ تو ہر بار اُس کے بدن کی جھولی میں رُوبی ڈالا کرتی تھی۔

اور وہ اسی کا عادی تھا۔

 اِس عادت نے شائستہ کے بدن میں کسمساہٹ بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رکھ دی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی شاور لیتی تو پانی کی پھوار تلے سے نکلنا جیسے بھول ہی جاتی حتیٰ کہ اُسے یوں لگنے لگتا جیسے جسم کے اُوپر ایک جِھلی سی نمودار ہو گئی ہو۔ وہ لرزتے ہاتھوں کی لمبی پوروں سے اُس جِھلی کو چھوتی تو لمس بدن کے اُوپر ہی اُوپر تیرتا رہتا۔ اِدھر سے اُوب کر باہر نکلتی تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر آئینے میں خود کو دیکھے جاتی۔ پورا کمرا، اِمپورٹیڈ باڈی لوشنز اور پرفیومز سے مہکنے لگتا۔ اِسی مہک میں کپڑوں کی سرسراہٹیں جاگتیں، ویکسنگ اور پفنگ کے بعد بلش آن اور کاسمیٹکس کے اِنتخاب میں ایک مُدّت گزر جاتی۔ جب وہ اپنے اطمینان کی آخری حد تک سنور چکی ہوتی تو وہ آئینے میں خود کو پہلو بدل بدل کر دیکھتی۔ دیکھتی اور دیکھے چلے جاتی حتیٰ کہ آئینہ وہ منظر دکھانے لگتا تھا جِس میں وہ نہیں ہوتی تھی۔

اِسی اَثنا میں کام کاج میں ہاتھ بٹانے والی آ جاتی تو اُسے کئی کام سوجھ جاتے۔ جلدی جلدی ٹشو پیپرز سے چہرے پر جمی میک اَپ کی تہیں اُتار دیتی۔ جب ٹشو پیپرز کا ڈھیر لگ جاتا تو اُس کی مصروفیت کا ڈھنگ بدل جاتا۔ گھر کو خوب چمکایا لشکایا جاتا۔ صاف ستھری چادروں کو پھر سے بدلا جاتا۔ اِدھر اُدھر دیواروں پر چھینٹے ڈھونڈ ڈھونڈ کر صاف کیے جاتے۔

 یہاں تک کہ وہ نڈھال ہو جا تی۔

ایک اِنتظار کے لیے موزوں حد تک نڈھال۔

 پھر وہ آ جاتا تو اُس کے بدن پر لہریں سی اُٹھتیں۔

لہریں اُٹھتی رہتیں اور اُس کا بدن ٹوٹ جاتا، اُن لفظوں کی چاہ میں جو آگے بڑھ کر اُس کی ساری تھکن چُوس سکتے تھے۔

 مگر عاطف تو خود پہل قدمی والے الفاظ کہیں سے مُستَعار لینے کا عادی تھا۔

 رُوبی سے اور رُوبی سے پہلے ایک اور لڑکی تھی فرحانہ اُس سے۔

 وہ بھی تو رُوبی جیسی ہی تھی۔

 شائستہ بہت بعد میں اُس کی زندگی میں آئی۔ تب جب دونوں نے اُس کا بدن اوجھ جیسا بنا دیا تھا۔

کچوکوں سے بیدار ہونے والا۔

 یوں جیسے اس کا بدن نہ ہو مٹی میں مٹی ہو کر اور مکر مار کر پڑرہنے والا وہ لسلسا کیڑا ہو جسے پھل سنگھی اپنی لمبی چونچ کے ٹھونگوں سے جگاتی ہے۔

جب بہاولپور سے آنے والا میلا کچیلا شخص اُسے دروازے پر ملا تب تک شائستہ کا ساتھ ہوتے ہوے بھی کچوکوں سے بیدار ہونے کی عادت کو ساتواں برس لگ چکا تھا۔

اِس سارے عرصے میں وہ دو سے تین ہو چکے تھے۔ ڈیڑھ برس پہلے ہی اُن کے ہاں ننھے فرخ نے جنم لیا تھا جو اَب پوری طرح شائستہ کو اپنی جانب متوجہ کیے رکھتا۔

 بہ ظاہر گھر مکمل تھا۔ مکمل اور پرسکون دکھنے والا۔

 سب کچھ ایک ڈَھنگ سے ہوتا نظر آتا تھا۔

 مگر وقت کی ڈِھینگلی کے سرے سے بندھا معمولات کا بوکا جو پانی باہر پھینکتا تھا وہ دونوں کی زبانوں پر پڑتے ہی کھولتا رصاص ہو جاتا تھا آبلے بنا دینے والا۔

ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

 یہ سوال دونوں کے سامنے آتا رہا مگر وہ اِس کا صحیح صحیح ادراک کر سکنے اور اِس پر قابو پا لینے کی صلاحیت نہ رکھتے تھے۔ وہ تو شاید اِس ساری صورتحال کے مقابل ہونے کو تیار ہی نہ تھے۔ تب ہی تو عاطف کے ہوتے ہوے بھی شائستہ ننھے فرخ ہی سے مصروف رہے چلے جانے کو ترجیح دیا کرتی۔

 وہ جانتا تھا کہ وہ کیوں فرخ کو گھٹنوں پر اوندھا کیے مالش کیے جاتی ہے ؟ کس لیے اُس کے پاؤں کے تلو وں پر گال رگڑ رہی ہے ؟ اُس کے پیٹ پر منھ رکھ کر پھوکڑے مارتی ہے تو کیوں ؟ اُس سے باتوں میں مگن رہنا لاڈ سے ہونٹوں میں لوچ ڈال لینا اور وہ کہے جانا جس میں کوئی ربط نہ ہو عاطف کی سماعت سے ٹکرا کر مربوط ہو جاتا مگر عاطف تو صرف اپنے اوجھ بدن پر کچوے چاہتا تھا لہذا ننھے وجود کی نازک جلد پر نرم نرم چکنے ہاتھوں کا یوں پھسلنا اُسے گیلے ہونٹوں کی لرزش دبا کر بوسے دینا ہونٹ جما کر اور پٹاخ کی آواز پیدا کرتے ہوئے  ماتھے پر، ہونٹوں، گردن، ناف اور رانوں پر، حتیٰ کہ دائیں یا بائیں پاؤں کے انگوٹھے کے گرد ہونٹوں کو رکھ کر گھما لینا سب کچھ رائیگاں چلا جا رہا تھا۔

تاہم فرخ اِس پیار کی بوچھاڑ سے کھل کھل ہنستا غوں غوں کرتا اور زور زور سے اپنے پاؤں مارنے لگتا تھا۔

جس روز بہاولپور سے اُن کے ہاں مہمان آیا اس روز شائستہ پروگرام بنائے بیٹھی تھی کہ عاطف کے آتے ہی وہ ننھے فرخ کو نیم گرم پانی سے نہلائے گی کہ وہ اُسے قدرے مَیلا مَیلا لگ رہا تھا مگر جب وہ مہمان ڈرائنگ روم میں داخل ہوتا نظر آیا جو اَز حد مَیلا تھا تو وہ اپنا پروگرام بھول چکی تھی۔

 اُس کے وجود میں لسلسلے وجود کی پہلے سے موجود کراہت کے ساتھ عجب طرح کی باسی گِھن بھی گھُس بیٹھی تھی۔

 عاطف اپنے مہمان کو بٹھا کر ذرا فاصلے پر کھڑی شائستہ کے پاس آیا بوکھلایا ہوا۔

 جب اُسے کچھ کہنا ہوتا اور شائستہ کسی دوسری کیفیت کو چہرے پر سجائے ہوتی تو وہ یوں ہی بوکھلا جایا کرتا تھا۔

 شائستہ کچھ سننے کے مُوڈ میں نہ تھی۔ اُس نے مہمان کے سلام کا بھی کوئی نوٹس نہ لیا تھا کہ اِس نئے وجود سے اُمنڈتی گھِن کو اپنے بدن میں موجود کراہت کے پہلو میں بٹھا چکی تھی، حتیٰ کہ سب کچھ نفرت میں ڈَھل کر اُس کے چہرے سے چھلکنے لگا۔ شائستہ کے لیے اپنے اِن شدید جذبوں کے ساتھ وہاں رُکنا ممکن نہ رہا تو وہ اپنے قدموں پر گھومی اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔ اِسی اثنا میں عاطف کچن میں خود کو معمول پر لاتا رہا۔ اگرچہ وہ مہمان کے لیے پانی لینے آیا تھا مگر ریفریجریٹر سے بوتل نکالنے کے بہانے اُسے پوری طرح کھول رکھا تھا۔ یوں کہ اُس کاسینہ اور چہرہ دونوں یخ جھونکوں کے سامنے رہیں۔

 اُسے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ کب شائستہ اُس کے عقب میں آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ وہ تو تب بدحواس ہو کر ایک طرف ہو گیا جب اُس نے اپنے دائیں ہاتھ سے اُس کے بائیں کندھے کو قصداً ذرا زور سے دبا کر اُسے ایک جانب دھکیلا تھا۔

 وہ وہیں کھڑا دیکھتا رہا جہاں بوکھلا کر پہنچا تھا۔ شائستہ نے پانی کی بوتل نکالتے ہی قدرے جَھٹکے سے ریفریجریٹر کا دروازہ بند کیا تھا۔

 پھر اُس نے سینک کے کونے میں پڑا وہ گلاس نکالا جو دونوں کے اِستعمال میں نہیں آتا تھا اور اس چنگیر کی جانب لپکی جس میں پہلے سے روٹیاں لپٹی ہوئی پڑی تھیں۔ شائستہ بچ جانے والی روٹیوں کو اِسی چنگیر میں رکھتی تھی کہ صفائی والی ماسی آتی تو لے جایا کرتی۔

رکابی میں سالن بھی پہلے سے موجود تھا شوربا جس کی سطح پر ایک جھلی سی بن گئی تھی۔ شوربے کے بیچ میں پڑا ہوا اکلوتا آلو اپنی رنگت بدل کر گہرا بھورا ہو گیا تھا۔ یقیناً ماسی آج نہیں آئی تھی۔ اُس نے اپنے یقین کے استحکام کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کوئی اور نشانی تلاش کر لیتا شائستہ نے اُسے پھر چونکا دیا۔ وہ ایک ٹرے میں پانی کی بوتل گلاس چنگیر اور رکابی رکھ کر اُس کی سمت بڑھانے کے بعد لفظوں کو چبا چبا کر کہہ رہی تھی۔

 ’’جب وہ کھانا کھا چکیں تو اصرار کر کے انہیں روک نہ لیجئے گا۔‘‘

 اُس نے اُسے نہیں روکا تھا مگر وہ خود ہی رُک گیا تھا۔

شائستہ سارا وقت اپنے بیڈ روم میں اُوندھی پڑی رہی اور بہت دیر بعد جب عاطف کمرے میں آ کر آنے والے مہمان کی بابت اُسے بتا رہا تھا تو اس کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں۔ اُسے کچھ بھی سنائی نہ دے رہا تھا۔ ’’ضرورت مند‘‘۔ ’’پرانا کلاس فیلو‘‘ اور ’’مدد‘‘ جیسے الفاظ اُس کے کانوں میں پڑے تھے۔ ایک میلے کچیلے شخص کی اوقات کے لیے یہ کافی تھے لہذا اُس نے اپنی سماعتوں کو بند کر لیا پہلو بدل کر لیٹ گئی اور سارے بدن کو موج در موج اُچھل جانے دیا۔

اَگلے روز ناشتے تک وہ نہیں اُٹھا تھا۔ دفتر کے لیے تیار ہونے کے بعد اور ناشتے کے لیے بیٹھنے سے پہلے  عاطف نے ڈرائنگ روم میں جھانکا۔ وہ وہیں صوفے پر عین اُسی رُخ لیٹا ہوا تھا، رات اصرار کر کے جس رخ لیٹ گیا تھا۔ مہمانوں کے لیے بیڈ روم اوپر تھا مگر وہ وہیں صوفے پر لیٹنا چاہتا تھا۔ لیٹ گیا اور اَب اُٹھنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ عاطف نے دل ہی دل میں اسے وہی گالی دی جو اُسے بچپن میں دیا کرتا تھا اور ناشتے میں مگن ہو گیا۔

جب وہ دفتر کے لیے نکلنے لگا تو عاطف میں ہمت نہ تھی کہ وہ شائستہ کو مہمان کے حوالے سے کوئی ہدایت دیتا یا فرمائش کرتا۔ کوٹ کی جیبوں کو ٹٹول کر اپنا چرمی پرس نکالا اُس میں سے اپنا وزیٹنگ کارڈ الگ کیا اور اُس میز پر رکھ دیا جس کے قریب پڑے صوفے پر وہ یوں بے خبر سو رہا تھا کہ سارا ڈرائنگ رُوم اُس کے خراٹوں سے گونجتا تھا۔

 بے اِختیار وہی گالی عاطف کے ہونٹوں پر پھر سے گدگدی کرنے لگی۔

 اُس کے ہونٹ بے اختیار پھیلتے چلے گئے۔ وہ منھ ہی منھ میں بڑبڑایا اور باہر نکل گیا۔

دفتر میں وقفے وقفے سے اُسے مہمان کا خیال آتا رہا۔

 رات اُس نے جو دلچسپ باتیں کی تھیں  اُنہیں یاد کرتا تو مسکرانے لگتا۔ شائستہ کے روّیے کے باعث اُسے جو خفت اُٹھانی پڑی تھی وہ اُسے ملول کرتی تھی لہذا اُس نے اپنے تئیں طے بھی کر لیا تھا کہ وہ اُس کی کیا مدد کرے گا۔

 جب بھی ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی اُسے گماں گزرتا کہ گھر سے کال ہو گی حتیٰ کہ اُسے تشویش ہونے لگی۔ پھر وہ چاہنے لگا کہ خود فون کر کے مہمان کی بابت پتا کرے۔ اُس نے دو بار نمبر گھمایا بھی مگر اِس خیال سے کہ فون شائستہ اُٹھائے گی اُس نے اِرادہ ملتوی کر دیا۔ تیسری بار وہ گھر کا نمبر ملاتے ملاتے نہ جانے کیوں رُوبی کو ڈائل کر بیٹھا۔

 وہ تو جیسے اُسی کے فون کی منتظر تھی۔

 پہلے تو باتوں میں اُلجھا لیا پھر جذبوں کی ڈوری سے اُسے یوں باندھا کہ وہ دفتر سے غائب ہو کر سیدھا اُس کے پاس پہنچ گیا۔ حتیٰ کہ چھٹی کا وقت ہو گیا۔

جب وہ گھر میں داخل ہو رہا تھا تو نہ جانے کیوں اُسے یقین سا ہو چلا تھا کہ مہمان جا چکا ہو گا مگر وہ تو وہیں تھا۔

اُس نے مدھم مدھم آواز کو سنا تو اُسے یقین نہ آتا تھا۔

شوخ سی آواز مسلسل بولنے کی۔ تھوڑے تھوڑے وقفے دے کر۔ اور الفاظ یوں شباہت بناتے تھے کہ جیسے انہیں اَدا کرنے والے ہونٹ لوچ دار ہو گئے ہوں۔ باتوں کے وقفوں میں قہقہے اُمنڈتے تھے۔ شائستہ کے شیریں حلقوم سے۔ اس جھلی کو توڑتے ہوے جو ایسے قہقہوں سے الگ رہنے کے سبب اُس کی آواز کے اوپر بن گئی تھی۔

یہی قہقہے سننے کی اُسے حسرت رہی تھی۔ اُسے اَچنبھا ہوا کہ شائستہ ایسے رسیلے قہقہے اُچھال سکتی تھی اور اُچھال رہی تھی۔

وہ تقریباً بھاگتا ہوا ڈرائنگ روم کے دروازے تک پہنچا اور اُسے لگا کہ جیسے سارا ڈرائنگ روم مہمان کی دھیمی، مسلسل باتوں سے اور شائستہ کے بے اختیار قہقہوں سے کناروں تک بھر چکا تھا اور اَب چھلکنے کو تھا۔

مہمان نے اپنے گیلے کھچڑی بالوں کو سلیقے سے یوں پیچھے سنوارا ہوا تھا کہ کنپٹیوں کی سفیدی دب گئی تھی اور اُس کی آنکھوں میں چمک تھی جو اُس کے سارے چہرے پر ظاہر ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ جبڑوں کی مسلسل نمایاں نظر آنے والی ہڈیاں بھی اِسی چمک میں کہیں معدوم ہو گئی تھیں۔

جو شخص بول رہا تھا اس کے بدن پر عاطف کا پسندیدہ لباس تھا جو اگرچہ اُس پر چست نہ بیٹھا تھا مگر اُسے با رعب بنا گیا تھا۔

دھُلا دھُلایا صاف ستھرا شخص اُس شخص سے بالکل مختلف ہو گیا تھا جسے وہ صبح صوفے پر خراٹے بھرتا چھوڑ گیا تھا۔

 وہ مسلسل بول رہا تھا اور اُس کے ہونٹ ایک طرف دائرہ سا بنا رہے تھے۔

 وہ عاطف کی نظر آنے تک بولتا رہا۔

شائستہ کے قہقہے اُچھلتے رہے۔

عاطف کے نظر آنے پر بھی وہ کسی رخنے کے بغیر اُچھلتے رہے  حالاں کہ بولنے والا شخص خاموش ہو چکا تھا۔ عاطف کو لگا شائستہ قہقہے نہیں اُچھال رہی تھی ننھا فرخ اُس کے گھٹنوں پر اُوندھا پڑا کلکاریاں مار رہا تھا جب کہ نرم ملائم جلد پر مخروطی اُنگلیاں پھسل رہی تھیں اور پھسلے ہی جاتی تھیں۔