کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا

محمد حمید شاہد


اِسے قریب نظری کا شاخسانہ کہیے یا کچھ اور کہ بعض کہانیاں لکھنے والے کے آس پاس کلبلا رہی ہوتی ہیں مگر وہ اِن ہی جیسی کسی کہانی کو پا لینے کے لیے ماضی کی دھُول میں دفن ہو جانے والے قِصّوں کو کھوجنے میں جُتا رہتا ہے۔ تو یُوں ہے کہ جِن دنوں مجھے پُرانی کہانیوں کا ہَوکا لگا ہوا تھا، مارکیز کا ننھّا مُنَا نیا ناول میرے ہاتھ لگ گیا۔ پہلی بار نہیں، دوسری بار۔ اگر میرے سامنے مارکیز کا یہ مختصر ناول دُوسری بار نہ آتا تو شاید میں اپنے پاس مکر مار کر پڑی ہوئی اِس جنس میں لتھڑی ہوئی کہانی کو یوں لکھنے نہ بیٹھ گیا ہوتا۔

مارکیز کے ناول کو دُوسری بار پڑھنے سے میری مراد میمن کے اس اُردو ترجمے سے ہے جو مجھے ترجمے کا معیار آنکنے کے لیے موصول ہوا تھا۔ یہ وہی ناول ہے جس کی خبر آنے کے بعد میں انگریزی کتابوں کی دکانوں کے کئی پھیرے لگا آیا تھا۔ پھر جوں ہی اِس کتاب کا انگریزی نسخہ دستیاب ہوا تو میں نے اسے ایک ہی ہلّے میں پڑھ ڈالا تھا۔ میں نے اپنے تئیں اِس ناول کو پڑھ کر جو نتیجہ نکالا وہ مُصنِّف کے حق میں جاتا تھا نہ اس کتاب کے حق میں۔ خدا لگتی کہوں گا میرا فیصلہ تھا ایک بڑے لکھنے والے نے بُڑھاپے میں جنس کے سستے وسیلے سے اس ننھّی مُنّی کتاب میں جھک ماری تھی۔

ممکن ہے یہی سبب ہو کہ جب میمن کا ’’ اپنی بیسواؤں کی یادیں‘‘ کے عنوان سے چھپا ہوا ترجمہ ملا تو میں خود کو اُسے فوری طور پر پڑھنے کے لیے تیار نہ کر پایا اور پیپر بیک میں چھپا یہ مختصر سا ناول کہیں رکھ کر بھول گیا۔ گزشتہ دنوں کسی اور کتاب کی تلاش میں، جب کہ میں بہت زیادہ اُکتا چکا تھا، یہ ناول اچانک سامنے آ گیا۔ میں نے اپنی مطلوبہ کتاب کی تلاش کو معطل کر کے اُکتاہٹ کو پَرے دھکیلنا چاہا۔ اِسی ناول کو تھامے تھامے اپنے بیڈ تک پہنچا، جِسم کو پشت کے بَل بستر پر دھپ سے گِرنے دیا اور اسے یوں ہی یہاں وہاں سے دیکھنے لگا۔ جب میری نگاہ مارکیز کے ہاں بے باکی سے در آنے والے اُن ننگے لفظوں پر پڑی جنہیں مترجم نے ایسے دلچسپ الفاظ میں ڈھال لیا تھا جو فوری طور پر فحش نہیں لگتے تھے، تو میں نے ناول کو ڈَھنگ سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ناول کو اِس طرح پڑھنے کے دو غیر متوقع نتائج نکلے۔ ایک یہ کہ میں جسے مارکیز کی کھاتے میں جھک مارنا سمجھ بیٹھا تھا اُس میں سے میرے لیے معنی کی ایک مختلف جہت نکل آئی اور دوسرا یہ کہ مجھے اپنا کنّی کاٹ کر نِکل جانے اور پھر بھول جانے والا ایک کردار شکیل رہ رہ کر یاد آنے لگا۔ ایک ناول جس کے مرکزی کردار نے اپنی نوے وِیں سالگرہ کی رات ایک با کرہ کے ساتھ گزارنے کا اہتمام کیا، میرے لیے اِس میں سے زندگی کے کیا معنی برآمد ہوئے، میں ٹھیک ٹھیک بتانے سے قاصر ہوں۔ ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ بار دگر پڑھنے پر نہ صرف اِس ناول کا جنس کا رسیا مرکزی کردار میرے لیے ایک سطح پر قابلِ اِعتنا ہوا، میں اپنے ایک متروک کردار شکیل کے بارے میں بھی ڈَھنگ سے سوچنے پر مجبور ہوا۔۔۔ اور یہ کوئی کم اَہم بات نہیں تھی۔

شکیل اور مارکیز کے ناول کے مرکزی کردار میں کوئی خاص مشابہت نہیں ہے۔ بتا چکا ہوں کہ وہ نوّے برس کا ہے جب کہ میرا شکیل بھر پور جوانی لیے ہوے ہے۔ وہ مرد مجرد اپنی مثالی بدصورتی کی وجہ سے خاکہ اُڑانے والوں کا مرغوب، جب کہ جس شکیل کی میں بات کر رہا ہوں وہ محض نام کا شکیل نہیں ہے اور یہ شادی شدہ اور بال بچے دار ہے۔ تاہم ایک بات دونوں میں مشترک ہے کہ دونوں جنس زَدہ ہیں اور شکیل تو اِسی جنس زدگی کی وجہ سے دوستوں میں تضحیک کا سامان ہو گیا ہے۔ ایک مُدّت کے بعد شکیل جیسے کردار کی طرف لوٹنے کا سبب مارکیز کے ناول کے بوڑھے کی وہ جنسی خر مستیاں ہیں جنہیں ناول میں بہت سہولت سے لکھ لیا گیا ہے، مگر ہمارے ہاں ایسی حرکتوں کو لکھنا چوں کہ فحاشی کے زمرہ میں آتا ہے، لہذا مجھے شکیل کو لکھنے کے لیے بار بار مارکیز کی طرف دیکھنا پڑرہا ہے۔ ہاں تو میں مارکیز کے بوڑھے کی خر مستیوں کا ذِکر کر رہا تھا اور بتانا چاہ رہا تھا کہ اس بوڑھے کی ہوس کاریوں کے باب میں جہاں اس کی اُجڈ لارنڈھی والی ملازمہ کا ذِکر آتا ہے، وہی عقب سے جانے کا، وہیں مجھے اس وقت کے شکیل کا، اس کریانہ اسٹور کے مالک کا شکار بننا یاد آیا جس کے پاس اس شہر میں آ کر وہ پہلے پہل ملازم ہوا تھا۔ جہاں ناول کے مرکزی کردار نے اپنے پچاس سال کی عمر کو پہنچنے پر اُن پانچ سو چودہ عورتوں کا ذِکر کیا ہے جن سے اُس کا جنسی تعلق قائم ہوا، اور اِس گنتی میں وہ بعد ازاں مسلسل اِضافہ کیے جا رہا تھا، تو میرے دھیان میں شکیل کی زندگی میں آنے والی وہ چٹ پٹی لڑکیاں آ گئیں جن کی وجہ سے وہ شہر بھر میں جنسی بلے کے طور پر مشہور ہو ا۔ تاہم جس لڑکی کی وجہ سے شکیل کو نظروں سے گرا ہوا اور بعد میں اُسے شہر چھوڑتے ہوے دکھایا جانا ہے وہ بہ ظاہر ان چٹ پٹی لڑکیوں جیسی نہ تھی۔

 اوہ ٹھہرے صاحب ! مارکیز کے بوڑھے بدصورت کردار طرح قابلِ قبول ہو جانے والے جواں سال شکیل کی کہانی کو یوں شروع نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ میں اِسے آغاز دے چکا ہوں۔ اس کردار کو عجلت میں یا یہاں وہاں سے ٹکڑوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اِسے ڈھنگ سے لکھنے سے پہلے مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو میں اپنی اِس خفت سے آگاہ کرتا چلوں جو مجھے کسی جنس مارے آدمی سے مل کر اور اُس کی لذّت میں لتھڑی ہوئی باتیں سن کر لاحق ہو جایا کرتی ہے۔ اِسی خفت کا شاخسانہ ہے کہ مجھے اپنا حوالہ جنس مارے کرداروں سے بھی کَھلنے لگتا ہے۔ شکیل جیسا کِردار میری دست رس میں رہا مگر اِسی خفت نے ہمارے درمیان بہت سے رخنے رکھ دیئے تھے۔ حتی کہ میں نے یہ بھی بھلا دیا کہ شروع میں یہ کردار ایسا نہ تھا۔ یہ تو بہت بعد میں ہوا تھا کہ وہ نہ صرف لوگوں کی تضحیک کا سامان بنا میری نظروں سے بھی گر گیا تھا۔ لیجئے اَب مارکیز کے بوڑھے نے مجھے بہلا پھسلا کر اس مردود کہانی کے قریب کر ہی دیا ہے تو میں اسے شکیل سے اپنی پہلی ملاقات سے شروع کرنا چاہوں گا۔

 شکیل سے میری پہلی ملاقات کسی تقریب میں ہوئی تھی۔ وہ وہاں دوسرے شاعروں کی طرح اپنی غزل سنانے آیا تھا۔ صاف اور گورا رنگ جو ناک کی پھُنگی، کانوں کی لوؤں اور چمک لیے نرم نرم گالوں سے قدرے شہابی ہو گیا تھا۔ مجھے اس کا ٹھہر ٹھہر کر شعر پڑھنا اور پڑھے ہوے مصرعے کو ایک اَدا سے دُہرانا اَچھا لگا تھا۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ پہاڑیا ہے تو اور بھی اَچھا لگا کہ وہ اس کے باوجود نہ صرف ہر مصرع میں ٹھیک ٹھیک لفظ باندھنے کا اہتمام کر لایا تھا ان کی ادائیگی میں بھی کوئی غلطی نہیں کر رہا تھا۔ جو غزل اُس نے وہاں سنائی اس نے خوب سلیقے سے کہی تھی۔ اس کی فنی مہارت کا میں یوں قائل ہو گیا تھا کہ ساری غزل ایک روندی ہوئی بحر میں مگر بہت عمدگی سے کہی گئی تھی۔ ا س میں ایک دو غیر شاعرانہ اور کھردرے لفظوں کو اِتنا ملائم بنا کر رواں مصرعوں میں پیوست کر دیا گیا تھا کہ اَب وہ غزل کے ہی الفاظ لگتے تھے۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ وہ لگ بھگ ہر شعر کے مصرع اُولی میں اپنے خیال کی کچھ اِس طرح تجسیم کر رہا تھا کہ ہر بار لہجہ کے نئے پن کا اِحساس ہوتا اور ایک ایسا مُقدمہ بھی بنتا تھا جس کی طرف سننے والے کا متوجہ ہونا لازم ہو جاتا۔

 جب وہ شعر مکمل کر کے سانس لیتا تو بات بھی مکمل ہو جاتی۔

 ذَرا گماں باندھیے کہ ایک نوخیز شاعر ہے۔ آپ اُس سے بالکل نئے لہجے کی غزل سُن رہے ہیں۔ ایک ایسا لہجہ، جس میں عصر موجود کا تناظر اُس کی اپنی لفظیات کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ اس غزل میں اِس کا اِہتمام بھی ہے کہ کوئی لفظ فن پارے کے مجموعی مزاج میں اَجنبی نہیں لگتا۔ سلیقہ ایسا کہ ہر لفظ کی اَدائیگی کا مخرج ضرورتِ شعری کی وجہ سے کہیں بھی بدلا نہیں گیا۔ ہر لفظ ٹھیک اپنی نشست پر، اور وہ بھی یوں کہ ایک لفظ کی صوتیات اَگلے لفظ کو ٹہوکا دینے کی بہ جائے اس میں سما کر اُس کی اپنی صوتیات میں منقلب ہو جاتیں۔ سچ پوچھیے تو ایسی باریکی سے غزل کہنے والے کا گمان ہی باندھا جا سکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ میرے سامنے تھا اور پورے قرینے سے غزل کہہ رہا تھا۔

 لہذا میں اس کے قریب ہو گیا۔ اتنا قریب کہ ہم دونوں کے درمیان سے سارا حجاب اُٹھ گیا۔

 جب وہ اسی شہر میں رہ کر خُوب خُوب داد، بے پناہ حسد اور بہت ساری نفرت اور تضحیک سمیٹ چکا تو بھی میں اُس کے قریب رہا۔ پہلے پہل شکیل کے بارے میں شہر کے شاعروں نے یہ شوشا چھوڑا، ہو نہ ہو اُسے کوئی لکھ کر دیتا ہے۔ جب لوگ تجسس سے پوچھنے لگے کہ وہ کون ہے جو اُسے لکھ کر دیتا ہو گا تو ایک ایسے بزرگ شاعر کا نام چلا دیا گیا جو کہنے کو شعر خوب سلیقے سے کہتے اور عادت ایسی پائی تھی کہ خُوش شکل لونڈوں میں اُٹھنے بیٹھنے کو اِس گئے گزرے زمانے میں بھی چلن کیے ہوے تھے۔ کسی کو ایسی باتوں پریوں یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ حضرت زُبان کے روایتی اِستعمال تک محدود رہتے تھے اور اچھا اور پکا مصرعہ کہنے کے باوجود خیال کو نیا بنا لینے پر قادر نہ تھے۔ ایسا کیوں کر ہو سکتا تھا کہ کوئی خود تو فنی طور پر بے عیب مگر بوسیدگی کا اِحساس جگانے والا مصرعہ کہنے کو وتیرہ کیے ہو اور اپنے لونڈے کو حرفِ تازہ سے فیض یاب کرے۔ جب شکیل ایک سے بڑھ کر ایک تازہ غزل لا نے لگا تو اُس کے خلاف فضا باندھنے والوں کی جیبھیں خود بخود اپنے اپنے تالو سے بندھ گئیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اُس نے اپنے جیسے شاعروں سے آگے نکل کر حاسدین کا گروہ پیدا کر لیا تھا۔ جو لوگ شعر میں اُسے مات نہیں دے سکتے تھے، ا