کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بدلے ہوئے پیمانے!

ڈاکٹر سلیم خان


شہباز خان روتا ہوا اپنی ماں مہر جان کے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو اور سر سے خون بہہ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر مہرجان کو بہت غصہ آیا۔ وہ سمجھ گئی یہ پڑوس کے شہزاد خان کی کارستانی ہے۔ اس کے جی میں آیا کہ شہزاد کی کھال ادھیڑ دے لیکن یہ ممکن نہ تھا۔ مہرجان نے شہباز کو پچکارنے کے بجائے اُسے ڈانٹا۔ سر سہلانے کے بجائے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے پڑوس کے مکان میں شہزاد کی امی افسری بیگم کی جانب چل پڑی۔ اس خیال سے کہ رستا ہوا خون دکھلا کر شکایت کرے گی اور شہزاد کی خوب پٹائی کروائے گی لیکن وہاں پہنچنے کے بعد اس کے قدم زمین میں دھنس گئے۔ شہزاد اپنے ہاتھوں میں دانت لیے امی سے شکایت کر رہا تھا۔ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ مہرجان کو تفصیل جاننے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ اس کا دل پسیج گیا آگے بڑھ کر اس نے شہزاد کو گلے سے لگا لیا اس کے آنسو پونچھنے لگی۔ افسری بیگم شہباز کا سر سہلانے لگیں جلدی جلدی انہوں نے اس کا سر دھویا اور ہلدی کے سفوف سے اس کی مرہم پٹی کرنے لگیں۔ اب تک مہرجان نے شہزاد کو کلی کرا کر بہلا پھسلا دیا تھا۔ منہ سے بہنے والا خون بند ہو گیا تھا۔ دونوں بچے ایک دوسرے کی امیوں کی گود میں بیٹھے ایک دوجے کو گھور رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں یہ دونوں سہیلیاں باتوں میں مشغول ہو گئیں اور بچے پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے لگے۔

          آبادیوں سے دور پہاڑوں کے درمیان خیبر نام کی ایک گمنام سی بستی تھی اس پورے علاقے میں صرف دو کشادہ مکان تھے ایک میں بختیار خان اور دوسرے میں شہریار خان رہتے تھے۔ دونوں بچپن کے دوست تھے ایک دوسرے سے متصل مکانوں میں رہتے تھے بقیہ تمام علاقہ کھیت اور باغات کا تھا جو یا تو شہریار کی ملکیت تھے یا بختیار کی۔گاؤں کے تمام مویشی ان دونوں کے درمیان تقسیم تھے اور تمام آبادی ان دونوں کی محکوم تھی۔ یہ آبادی جھگیوں میں رہتی۔ان کے کھیتوں میں کام کرتی۔ ان کے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی اور ان کے اہل خانہ کی خدمت کرتی تھی۔ جو کچھ تھا ان دونوں کا تھا باقی کسی کا کچھ بھی نہ تھا۔ اس لیے انہیں کی مرضی سبھی پر چلتی تھی۔ ان دونوں کے مزاج میں اس قدر ہم آہنگی تھی کہ فیصلہ ایک ساتھ کریں یا علیٰحدہ علیٰحدہ یکساں طور پر دونوں کو قابل قبول ہوتے تھے۔ چونکہ یہ لوگ عام لوگوں کے اور اپنے درمیان خاصہ فاصلہ رکھتے تھے اس باعث ان کے خاندانی رشتہ ناطے بھی ایک دوسرے تک محدود تھے۔

          بختیار کا بیٹا شہباز اور شہریار کا بیٹا شہزاد ہمسائیگی کے باعث دوست ضرور تھے لیکن ان میں بالکل بھی نہیں بنتی تھی۔ اس کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنا ان کی مجبوری تھی۔ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنا گویا ان کی خاندانی توہین تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے بھی تھے اور ایک دوسرے سے لڑتے بھی تھے۔ دوستی کے لیے ہم خیالی سے زیادہ ہم منصبی کو اہم سمجھا جاتا تھا ا س لیے ان دونوں کے درمیان دوستی تو تھی لیکن قدر مشترک نہیں تھی۔ بختیار اور شہریار اپنے بیٹوں کی لڑائی سے پریشان تھے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے سے منع تو کرتے تھے لیکن اصرار نہ کرتے اس لیے کہ وہ جانتے تھے اس کے معنیٰ کھیل کود بند کرنے کے ہوتے تھے اور بچوں کو کھیلنے کودنے سے منع کرنا ان سے ان کا بچپن چھین لینے کے مترادف ہے۔کسی بچے سے اس کا بچپن چھین لینا ایسا ہی ہے جیسے کسی جوان سے اس کی جوانی یا بوڑھے سے اُس کا بڑھاپا چھین لیا جائے ان دونوں کو اپنے بچوں کے بچپنے اور اپنی جوانیوں کا بے حد خیال تھا لیکن وہ بے شمار افراد جن سے ان لوگوں نے ان کی زندگیاں چھین لی تھیں ان کا ذرہ برابر خیال نہ تھا اس لیے کہ ان کے نزدیک عوام کی حیثیت احساسات و جذبات رکھنے والے انسان کی نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے بے جان سامان کی سی تھی جن کا مقصد وجود ہی گویا ان کی خدمت کرنا تھا۔

          ایک مرتبہ شہریار اپنے کسی کام سے شہر گیا وہاں ایک کھلونے کی دوکان میں اسے بڑی سی گیند نظر آئی اس نے دوکاندار سے پوچھا۔

          ’’ یہ کیا ہے؟‘‘

           دوکاندار نے بتلایا۔’’ یہ گیند ہے جس سے بچے اور بڑے کھیلتے ہیں۔ ‘‘

           اس نے پوچھا۔’’ اس سے فٹ بال کھیلتے ہیں ؟ یہ تو گول نہیں لمبوترا سا ہے۔‘‘

           دوکاندار نے بتلایا۔’’ اس سے فٹ بال نہیں رگبی کھیلا جاتا ہے۔‘‘

           شہریار نے پوچھا۔ ’’یہ رگبی کیا ہوتا ہے؟‘‘

           دوکاندار نے بتلایا۔ ’’یہ بھی فٹ بال کی طرح کھیل ہے لیکن اس میں پیروں سے مارنے کی قید نہیں اس میں گیند کو ہاتھوں سے چھینا جاتا ہے اور لاتوں سے مارا جاتا ہے۔ ہار جیت بہرحال اسی طرح سے ہوتی ہے۔ جب گیند کو اچھال کر مخالف ٹیم کے گول میں پہنچا دیا جائے گول ہو جاتا ہے اور وقت مقررہ میں جو ٹیم زیادہ مرتبہ اس گیند کو مخالف کے گول میں پہنچاتی ہے وہ کامیاب ہو جاتی ہے۔‘‘

           شہریار نے سوچا یہ اچھا ہے۔ وہ اسے شہزاد اور شہباز کے حوالے کر دے گا وہ ایک دوسرے کے بجائے گیند سے ہا تھا پائی کریں گے۔ ایک دوسرے کے بال نوچنے کے بجائے گیند چھینیں گے۔ ایک دوسرے پر لاتوں اور گھونسوں کی برسات کرنے کے بجائے گیند پر اپنا غصہ اتاریں گے۔

           بختیار کو بھی شہریار کی تجویز پسند آئی۔ اب گھر کے آنگن میں یہ دونوں بچے رگبی کھیلنے لگے۔ ایک دوسرے سے گیند چھینتے اور اپنی ٹھوکروں سے گیند کو ایک دوسرے کے پالے میں پہنچا کر ایک دوسرے کو شکست فاش سے دوچار کرنے میں لگے رہتے۔ ا س نئے کھیل نے جذبہ مسابقت میں خاصہ اضافہ کر دیا تھا۔ شہریار اور بختیار بھی کبھی کبھی ان کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے۔

          جب یہ بچے کچھ بڑے ہو گئے تو کھیل آنگن سے نکل کر میدان میں آ گیا۔ گاؤں کے بچے اس کھیل کے تماش بین بن گئے۔ پہلے تو وہ دور سے گیند کو اٹھا کر لاتے پھر وہیں سے لات مار کر اچھال دیتے۔ آہستہ آہستہ نہ جانے کب وہ بھی اس کھیل میں شامل ہو گئے۔ کچھ شہباز کی ٹیم میں تو کچھ شہزاد کی ٹیم میں تھے اور اب شہزاد اور شہباز اپنی اپنی ٹیموں کی مدد سے ایک دوسرے کو ہرانے کے درپے رہتے۔

          گاؤں کے بچوں نے جہاں شہزاد اور شہباز کے ساتھ رگبی کا کھیل سیکھا وہیں ان دونوں نے بھی گاؤں والوں سے ان کے کھیل سیکھے۔ گاؤں کے لوگ مرغوں کی لڑائی اور مینڈھوں کی لڑائی کے کھیل کھیلتے تھے۔ ایک مرغا دوسرے کے مرغے سے لڑتا اور اسے زخمی کر کے بھگا دیتا۔ اس طرح پہلا خوشی سے باؤلا ہو جاتا۔ ایک کا مینڈھا دوسرے کے مینڈھے کو زخمی کر کے بے ہوش کر دیتا اور پہلا خوشی سے جھوم اُٹھتا۔ یہ عجیب کھیل تھا جس میں لڑتا کوئی اور تھا اور جیت کسی اور کی ہوتی تھی۔زخمی کوئی اور کرتا تھا اور جشن کوئی اور مناتا تھا۔ شہزاد اور شہباز کی جیسے جیسے اس کھیل میں دلچسپی بڑھی وہ رگبی بھول گئے۔ انہوں نے مرغا اور مینڈھے پالنے شروع کر دیئے وہ انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے اور جشن فتح مناتے۔ جب کوئی مرغا زخمی ہو کر لڑنے کے قابل نہیں رہتا اسے طشتری کی زینت بنا دیا جاتا۔ جب بھی کوئی مینڈھا شکست فاش سے دوچار ہوتا اسے ذبح کر دیا جاتا اور نیا مینڈھا میدان میں لایا جاتا۔ مینڈھوں اور مرغوں کی دعوتیں اُڑاتے ہوئے یہ دونوں دوست جوان اور ان کے والدین بوڑھے ہو گئے۔

          حسب معمول ایک دن مینڈھوں کی لڑائی ہونی تھی۔ دونوں کے مینڈھے خوب فربہ اور طاقتور تھے۔ دونوں کو اپنی اپنی فتح کا یقین کامل تھا۔ اس روز لڑائی کافی دیر چلی۔ جب شہزاد کا مینڈھا شہباز کے مینڈھے کو کھدیڑتا ہوا پیچھے دھکیلتا جاتا اور اس کے ساتھی خوشی سے چلاّنے لگتے اور سیٹیاں بجانے لگتے لیکن پھر چند لمحات میں منظر بدل جاتا تھا۔ اس بار شہباز کا مینڈھا بازی اُلٹ دیتا اور اس کے کیمپ میں خوشی کے نقارے بجنے لگتے تھے۔ لڑائی چلتی رہی یہاں تک کہ دونوں مینڈھے لہولہان ہو گئے لیکن کوئی بھی میدان چھوڑنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں جانوروں کے اندر انسانوں کی روحیں سما گئی ہیں جو کسی قیمت پر ایک دوسرے سے زیر ہونے کے لیے تیار نہیں۔ بالآخر ایسا ہوا کہ اُن دونوں جانوروں نے آر پار کی ٹکر کا فیصلہ کیا۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب نہیں بلکہ ایک دوسرے سے مخالف سمت میں الٹے قدموں سے بڑھنے لگے وہ دونوں ایک دوسرے کو پیٹھ دکھانا نہیں چاہتے تھے اس لیے کہ میدان میں پیٹھ دکھانا شکست کی علامت ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے ہلاکت کے امکانات میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اس لیے وہ الٹے قدم پیچھے ہٹتے رہے دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر لگی ہوئی تھیں۔ ایک خاص فاصلہ کے بعد دونوں چند لمحات کے لیے ٹھہر گئے۔ ناظرین کی سانسیں ٹھہر گئیں اور پھر دونوں نہایت تیز رفتار سے ایک دوسرے کی جانب دوڑے ایک زوردار دھماکہ ہوا دونوں شدید زخمی ہو گئے۔ اٹھنے کی بہتری کوششوں کے باوجود ایک بھی اٹھ نہ سکا۔ وہ دونوں جانور زمین پر پڑے زخم سے کراہ رہے تھے اور ایڑیاں رگڑ رہے تھے لیکن ان کے مالکین اپنے جانوروں سے بے پرواہ ایک دوسرے پر فتح کا دعویٰ کر رہے تھے اور مخالف کی شکست کا اعلان کر رہے تھے۔

          اس جانوروں کی لڑائی میں نہ تو کسی کی جیت ہوئی اور نہ کسی کی ہار لیکن مالکین کے درمیان لڑائی کا آغاز ہو گیا۔ سخت کلامی ہا تھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔ دونوں کے حامی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ شہزاد اور شہباز ایک دوسرے سے دست گریباں تھے۔ ان کی لڑائی بھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچی نہ کوئی جیتا نہ کوئی ہارا لیکن نتیجہ کے طور پر مینڈھوں کے ساتھ بچپن کی دوستی نے دم توڑ دیا تھا۔ محبت کی جگہ نفرت نے لے لی۔ مسابقت مخاصمت میں تبدیل ہو گئی۔ اس شام کوئی جانور ذبح نہ ہوا کوئی دعوت نہیں ہوئی بلکہ عداوت ہو گئی۔

          شہباز اور شہزاد ایک دوسرے کے ہم سایہ ضرور تھے لیکن ہم نوا نہیں تھے۔ ان دونوں کی ہم سائیگی دراصل ایک مجبوری تھی۔ اس لڑائی کے بعد کھیتوں کے درمیان باڑ نمایاں ہو گئی۔ گھروں کی دیوار اونچی ہو گئی۔ محکوموں کا بٹوارہ مکمل ہو گیا۔ ایک حامی کا دوسرے کے ساتھ جانا غداری سمجھا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ یہ دشمنی حملوں میں بدل گئی۔ یہ دونوں اپنے اپنے گروہوں کی مدد سے ایک دوسرے کے مویشی ہانک لے جاتے۔ کھیتوں کو جلا دیتے۔ ایک دوسرے کو طرح طرح سے نقصان پہنچاتے۔ اس لوٹ مار میں کبھی اس کے آدمی مارے جاتے کبھی اس کے آدمی مارے جاتے۔ ہر کوئی اپنے آدمیوں کی موت کا بدلہ دوسرے کے آدمیوں سے لیتا اس طرح دونوں ایک دوسرے کے حامیوں کو ہلاک کر کے اپنی سرخروئی کو ثابت کرتے۔

          یہ سلسلہ جاری تھا کہ ایک دن اچانک ان کے علاقے میں بہت ساری گاڑیاں نمودار ہو گئیں۔ اس علاقے میں کبھی بھی اس طرح کی چیزیں نہ آئی تھیں۔ ان نو واردوں کی آمد نے شہباز اور شہزاد دونوں کو چوکنا کر دیا۔ ان لوگوں نے اپنے آدمیوں سے آنے والوں کے مقاصد کا پتہ لگایا اور انہیں پتہ چلا ان لوگوں کا اندازہ یہ ہے کہ اس علاقے میں معدنیات کی کانیں ہیں اور یہ لوگ اس تحقیق کو حتمی نتیجہ پر پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کو یہ بھی پتہ چلا کہ آنے والوں کے پاس اچھا خاصہ حفاظتی انتظام ہے۔ دستہ اور اسلحہ دونوں سے لیس ہو کر یہ لوگ اس علاقے میں داخل ہوئے ہیں اور ان کو ڈرا دھمکا کر بھگا دینا آسان کام نہیں ہے۔

          اس نئی صورت حال نے شہزاد اور شہباز کو یکساں طور پر فکر مند کر دیا۔ بیرونی خطرہ اندرونی دشمنی پر غالب آ گیا۔ کئی سال بعد دونوں دوستوں کی ملاقات ہوئی۔ دونوں نے طے کیا کہ وہ آنے والوں کے سربراہ سے گفتگو کریں گے۔ تحقیقاتی ٹیم کے ذمہ داران بھی اس کے منتظر تھے۔ ملاقات کا وقت طے ہو گیا۔ باہمی تعارف کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔

          نو واردوں نے ان دونوں کو مبارکباد دی کہ ان کے علاقے کی زمین معدنیات کے خزانوں سے بھری پڑی ہے اور حکومت اس کا استعمال کرنے کے لیے یہاں کارخانے قائم کروائے گی۔ کارخانہ اس علاقے کے لیے نئی چیز تھی۔

          شہباز نے پوچھا۔ چونکہ یہ خزانے ہمارے کھیتوں کے تلے دبے ہوئے ہیں اس لیے اس کے مالک تو ہم ہی ہوئے۔

          جواب ملا نہیں جو کچھ زمین کے نیچے ہے اس کی مالک حکومت ہے۔

          شہزاد کو اس پر تعجب ہوا۔ اس نے پوچھا کیوں ؟ اگر کھیتوں کے اوپر کی فصل ہماری ہے تو نیچے کے معدنیات بھی ہمارے ہونے چاہئیں ؟

          سرکاری عہدہ داروں نے بتایا۔ نہیں اوپر کی فصل تم نے اُگائی ہے اس لیے تمہاری ہے اندر کے خزانے تم نے نہیں رکھے اس لیے تمہارے نہیں ہیں۔

          شہباز کی سمجھ میں یہ دلیل نہیں آئی اس نے کہا۔ اگر ہم نے نہیں رکھے تو سرکار نے بھی نہیں رکھے۔ اس لیے اگر ہماری نہیں ہے تو حکومت کی کیسے ہو گئی؟

           حکومتی نمائندوں نے بتلایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ زمین بھی حکومت کی ہے۔

          دونوں دوستوں کے لیے یہ نیا انکشاف تھا ان لوگوں نے کہا۔ یہ کیا بات کر رہے ہیں آپ۔؟صدیوں سے یہ زمین ہمارے باپ دادا کی ملکیت ہے اور ہمیں وراثت میں ملی ہے۔

           یہ بات ذرا کرخت انداز میں کہی گئی اس لیے اس کا جواب بھی سخت انداز میں ملا۔ تمہارے باپ دادا نے یہ زمین خریدی تھی کیا؟ اور خریدی بھی تھی تو جس نے بیچا اس نے نہیں خریدی تھی۔ اس لیے یہ زمین نہ تمہارے باپ دادا کی تھی اور نہ تمہاری ہے۔

           شہزاد یہ جواب سن کر ٹھنڈا ہو گیا۔ اس نے لجاجت سے کہا۔ لیکن ہمیں اب تک یہ بات بتلائی کیوں نہیں گئی؟

          اس لیے نہیں بتلائی گئی کہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اب ضرورت محسوس ہوئی تو اسے گوش گذار کر دیا گیا۔

           شہزاد اور شہباز کو اچانک محسوس ہوا جیسے برسوں سے ان کے لوٹ کے مال کو دن دہاڑے کسی نے لوٹ لیا اور وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔ شہباز بولا۔ لیکن جناب ہمارا گذر بسر اور ہمارے بے شمار ملازمین کا گذر بسر ان زمینوں پر کاشتکاری سے ہوتا ہے۔ ہمارے جانور ان چراگاہوں میں پلتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں ہم سے چھن جائیں تو ہم بے یارو مددگار ہو جائیں۔

          نہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت کے نمائندے نے کہا ہم اس زمین کے بدلے تم لوگوں کے نقصان کی بھرپائی کریں گے۔ جس سے تم لوگ نئے کھیت اور چراگاہیں خرید سکو۔

          شہباز بولا۔ لیکن قیمت کون طے کرے گا؟

          حاکموں نے کہا۔ ہم طے کریں گے۔

          شہزاد بولا۔ لیکن اگر اس نئی زمین کے نیچے بھی معدنیات نکل آئیں تو؟

           تمہاری تقدیر ہی اگر خراب ہو تو ہم کیا کر سکتے ہیں ؟

          ابھی تو آپ کہہ رہے تھے ہم لوگ خوش قسمت ہیں اور ابھی آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم بدقسمت ہیں یہ کیا قصہ ہے؟

          بھئی آپ لوگ بہت بھولے ہو باتیں کہنے کی اور ہوتی ہیں اور حقائق اور ہوتے ہیں اور پھر ہم دونوں میں اگر ایک بدقسمت ہے تو دوسرا خوش قسمت بھی تو ہے حکومت اگر خوش قسمت ہے تو عوام کی حکومت ہے اب اگر عوام کی حکومت خوش قسمت ہوئی تو عوام بھی خوش قسمت ہوئی کہ نہیں ؟

          شہزاد اور شہباز کی سمجھ میں یہ لچھے دار منطق نہیں آئی ویسے بھی زمینوں کی محرومی نے ان کے دماغ کو ماؤف کر دیا تھا۔ شہباز نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ ان کارخانوں کا مالک کون ہو گا؟

          جواب ملا۔ وہ سرمایہ دار جو اس میں سرمایہ کاری کریں گے۔

           اور ان کانوں کا مالک کون ہو گا؟ شہزاد نے پوچھا۔

           ویسے تو سرکار ہو گی لیکن وہ انہیں کرایہ پر دے دے گی۔

           کیا مطلب؟ ہماری زمین ہم سے چھین کر کسی اور کو دے دی جائے گی۔

          جی ہاں کیوں کہ وہ اس کا کرایہ ادا کریں گے۔

          لیکن ہماری زمین کا کرایہ کوئی اور لے گا؟

          حکومت کے نمائندوں کو غصہ آ گیا۔ جناب شہزاد صاحب یہ بات آپ کو پہلے سمجھائی جا چکی ہے کہ یہ زمین آپ لوگوں کی نہیں سرکار کی تھی اور ہے اس کے باوجود آپ لوگوں کو معاوضہ دیا جا رہا ہے اس کے لیے آپ کو حکومت کا احسان مند ہونا چاہئے نیز یہاں پر کارخانے لگنے سے جو خوشحالی آئے گی اس کا فائدہ آپ کو بھی ہو گا۔

          ہمیں ہو گا وہ کیسے؟ ہماری فصلیں ہم سے چھن جائیں گی ہمارا تو نقصان ہو گا اور ہمارے آدمی بھی بے کار ہو جائیں گے؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو گا۔

          تمہارے آدمیوں کو کارخانے میں کام ملے گا۔

          اور ہمیں ؟ دونوں نے ایک زبان ہو کر پوچھا۔

          اور تمہیں ٹھیکا مل جائے گا۔

          کیا مطلب؟ شہزاد نے پوچھا۔

          تم لوگ زمیندار سے ٹھیکیدار ہو جاؤ گے یہ لوگ تمہاری زمین جوتنے کے بجائے اس علاقے میں تعمیراتی کام کریں گے اور جس طرح فصلیں اُگاتے تھے جنھیں تم بیچ کر انہیں مزدوری دیتے تھے اسی طرح ٹھیکے کی رقم حاصل کر کے تم انہیں مزدوری دو گے۔ تمہارا کردار وہی رہے گا اور ان کا کام بھی نہیں بدلے گا۔

          تب تو ٹھیک ہے۔ شہزاد بولا۔ لیکن کارخانہ بن جانے کے بعد ہم کیا کریں گے۔

          اس کے بعد بھی بہت سارے ٹھیکے ہوں گے جیسے آدمی فراہم کرنے کے ٹھیکے۔ مال لانے لے جانے کے ٹھیکے وغیرہ۔ وہ سب بھی ہم تمہیں کو دیں گے تمہارا اور ہمارا کام چلتا رہے گا۔

          دونوں دوستوں کے چہرے کھل گئے۔ انہوں نے کہا صاحب آپ نے تو پہلے ڈرا ہی دیا تھا پہلے کیوں نہیں بتایا۔

          سرکاری افسر مسکرائے۔انہوں نے کہا۔ اگر آپ لوگوں کو پہلے ہی یہ بات بتلا دی جاتی تو آپ لوگ خوش نہیں ہوتے اسی لیے پہلے لوگوں کو ڈرانا پڑتا ہے دباؤ بنانا پڑتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے اسے ہٹایا جاتا ہے جس سے مخاطب بے وجہ خوش ہو جاتا ہے۔

          جیسا کہ ہم دونوں خوش ہوئے ہیں۔ سب ہنسنے لگے۔

          بظاہر خیبر میں صنعتی انقلاب کی ابتداء ہو گئی لیکن فرق صرف یہ تھا کہ کل کا سرمایہ دار آج کا ٹھیکیدار تھا اور کل تک ہل چلا کر اناج اُگانے والا مزدور آج مشین چلا کر مصنوعات بنانے لگا تھا۔ بظاہر بہت کچھ بدل گیا تھا لیکن بباطن کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔ چند دنوں کے اندر پھر ان دوستوں کے اندر ٹھیکوں کے حصول کے لیے مسابقت شروع ہو گئی۔ وقتی طور سے قائم ہونے والی دوستی میں دراڑ پڑ گئی۔

          کارخانے کی تعمیر میں پانچ سال کا طویل عرصہ لگا اس بیچ سڑک بن گئی، پل بن گئے، بجلی آ گئی، بازار بن گئے اور نہ جانے کیا کیا ہو گیا۔ دور دراز کے علاقوں سے سیکڑوں لوگ یہاں آ کر بس گئے گویا ایک نامعلوم گاؤں اچھا خاصہ شہر بن گیا۔ کارخانے کا افتتاح کرنے کی غرض سے وزیر مملکت تشریف لائے اور انہوں نے اعلان کیا خیبر میں جو صنعتی ترقی کا آغاز ہوا ہے اس کے ثمرات سے عوام کو ہمکنار کرنے کی خاطر یہاں جمہوری ادارے قائم کئے جائیں گے جس میں عوام کے رائے مشورے ان کی فلاح و بہبود کے کام ہوں گے۔ وزیر موصوف کے ان الفاظ نے شہزاد اور شہباز کے کان کھڑے کر دیئے ان کو یہ محسوس ہوا کہ ان کی پشتینی سربراہی کو کئی ان سے چھین رہا ہے وہ عوام جو صدیوں سے ان کی محکومی میں جکڑے ہوئے ہیں کوئی انہیں آزاد کر رہا ہے۔یہ بات تو زمینوں کے چھن جانے سے زیادہ خطرناک تھی۔ شہباز نے اس کا نوٹس لیا اور تقریب کے خاتمہ پر وزیر موصوف کو اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ تھوڑی بہت نانا کے بعد وزیر نے دعوت قبول کر لی۔

          کھانے کے بعد گفتگو کا سلسلہ دراز ہوا شہباز نے پوچھا۔ جناب والا اس علاقے کو ہمارے باپ دادا نے بسایا وہ یہاں کے بے تاج بادشاہ رہے یہاں کی عوام نے کبھی ان کے آگے زبان نہیں کھولی لیکن آپ تو اس پورے نظام کو درہم برہم کرنے جا رہے ہیں۔

          وزیر نے پوچھا۔ آپ سے کس نے کہا۔

          آپ ہی تو کہہ رہے تھے۔ شہزاد بولا عوام کی مرضی سے۔

          وزیر ہنسنے لگے۔شہباز صاحب آپ بہت بھولے ہیں۔ ارے بھائی ہم عوام سے ان کی مرضی پوچھیں گے اور وہ آپ ہی کے حق میں رائے دیں گے۔

          وہ کیسے؟ شہباز نے پوچھا۔

          دراصل ملک میں فی الحال ہماری پارٹی کی حکومت ہے ہم آپ کو اپنا امیدوار بنائیں گے اور انتخابات جیتنے کے تمام گُر سکھلائیں گے۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ ابھی تم اپنی مرضی سے سردار ہو اس وقت ان کی مرضی سے ہوؤ گے اور تم اس علاقے کی عوام کے نمائندے بن جاؤ گے۔

          وہ تو ٹھیک ہے۔ شہباز نے پوچھا۔ لیکن اگر ان غریبوں میں سے کوئی کھڑا ہو گیا تو؟

          وزیر نے بڑے آرام سے کہا وہ ہار جائے گا۔ ہم ان میں انتشار پیدا کریں گے۔ ان کو للچائیں گے، خریدیں گے۔ ان کو آپس میں لڑائیں گے۔ ان کے خلاف پروپیگنڈا کریں گے اس سب کے لیے روپیہ چاہئے وہ تو تمہارے پاس ہے ہی۔ اس لیے انتخاب میں کامیابی تمہاری ہی ہو گی۔

          لیکن وہ جو آپ کہہ رہے تھے عوام کے مشورے سے ان کی فلاح و بہبود۔

          ارے بھئی شہباز یہ سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ عوام کو بہلانے کے لیے یہ سب کہتے رہنا پڑتا ہے۔ عوام تواسی سے پھولے نہیں سمائیں گے کہ حاکم ان کی مرضی سے منتخب ہوتا ہے اور ان کو اس سے کیا غرض کہ وہ حکومت بھی ان کی مرضی سے کرتا ہے۔ ویسے اس نظام کی خوبی یہ ہے اس میں حاکموں کی کوتاہیوں کے لیے عوام ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ انہیں منتخب کرتے ہیں۔ وزیر محترم کی باتیں سن کر شہباز کو اطمینان ہو گیا۔

          ایک سال بعد واقعی خیبر میں انتخابات کا اعلان ہو گیا وزیر موصوف نے اپنا وعدہ پورا کیا اور شہباز کو اپنی پارٹی کا ٹکٹ دے دیا لیکن حزب اختلاف کب پیچھے رہنے والا تھا اس کے آدمیوں نے پتہ لگایا شہباز کو کون شکست دے سکتا ہے۔ فطری طور پر ان کی نظر انتخاب شہزاد پر پڑی۔ یہ انتخابات چونکہ علاقائی نوعیت کے تھے اس لیے دو قومی جماعتوں کے زیر سرپرستی یہ دونوں آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے تھے ایک کا نشان رگبی کا بال تھا اور دوسرے کا نشان مینڈھا تھا۔ بچپن کا کھیل اور جوانی کی لڑائی پھر سے شروع ہو گئی تھی۔ لوگ زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ کسی اور کو جتانے یا ہرانے کی خاطر ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے۔لڑنا کسی اور کو تھا اور جیتنا کسی اور کو۔ مرنا کسی اور کو تھا اور ہارنا کسی اور کو۔ وہی پرانا کھیل ایک نئے انداز میں پھر کھیلا جا رہا تھا۔

٭٭٭