کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دور بین

ڈاکٹر سلیم خان


بحر ظلمات کے ساحل پر واقع وادی نور میں ایک نہایت ہی خلیق اور جری قوم آباد تھی۔ چونکہ بظاہر یہ متضاد صفات کسی ایک گروہ میں نہیں پائی جاتیں اس لیے یہ لوگ ’’دن کے شہسوار اور راتوں میں عبادت گذار‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن یہ ماضی بعید کی داستانِ پارینہ ہے۔ گردش لیل و نہار نے آہستہ آہستہ راتوں کو عیش و طرب کا شکار اور دن کو خوابوں کی نذر کر دیا تھا۔ جدید تکنیک نے ناچ اور رنگ کا سامان ہر گھر میں فراہم کر دیا ہے اب یہ لوگ رقص و نغمہ کی محفلوں میں جانے کے بجائے اپنے گھر ہی میں اہل و عیال کے ساتھ لہو و لعب میں غرق رہتے۔ ویسے اس دور تنزل میں بھی مشرق میں واقع کوہ نور کے عقب سے نمودار ہونے والے سورج کا استقبال اذان کے ساتھ کیا جاتا۔ لیکن نماز سے فارغ ہونے کے بعد زمین میں پھیلنے کے بجائے انہیں بستروں کا رخ کرنا پڑتا۔ یہ دراصل بے جا شب بیداری کا کفارہ تھا جس نے انہیں آہ و سحر گاہی سے محروم کر دیا تھا۔ دن کا بیشتر حصہ آرام میں صرف کرنے کے بعد جب شام میں یہ تر و تازہ ہوتے تو سورج کو بحر ظلمات میں غروب ہوتا ہوا پاتے۔ مغرب کا بحر ظلمات سورج کو نگل کر شیطان مردود کو اپنی رعنائیوں کے ساتھ اُگل دیتا جو اس قوم کو اپنی آغوش میں لیے کر دنیا کی رنگینیوں میں مست کر دیتا تھا۔ یہ قوم اپنی بہترین صلاحیتوں اور عظیم قدرتی وسائل کے باوجود ذلت و مسکنت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے اندوہناک واقعات ان کے لیے وقتی بیداری تو پیدا کرتے لیکن اس کے اثرات جلد ہی زائل ہو جاتے اور پھر ایک بار یہ لوگ اپنے معمولات میں لگ جاتے۔

          روز و شب کے سلسلے میں ایک صبح اچانک اذان اک نئے انداز میں اُبھری۔ وہ لوگ جن کے کانوں پر یہ آواز گراں گذرتی تھی انہوں نے بھی اس کے سوز کو محسوس کیا۔ وہ جو کسلمندی کے ساتھ آتے تھے آج کشاں کشاں چلے آ رہے تھے۔سعید روحوں کو لگا یہ ان کے اپنے دل کی آواز ہے وہ اس میں اپنے قلب و روح کی تسکین کا سامان پار ہے تھے۔ امام مسجد اذان دینے والے مجتہد کے لیے مصلیٰ خالی کر دیا اور اب لوگ اس کی تلاوت سن رہے تھے۔ اس کے دل کا سوز و گداز مصلیان مسجد کے دلوں کو مسخر کر رہا تھا۔ ہر آیت اپنے معنیٰ و مفہوم کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی تھی۔ نماز سے فراغت کے بعد اس نے ذلت و رسوائی سے نجات اور غلبہ و کامرانی کے حصول کی دعا کی۔ بڑے عرصہ کے بعد کی جانے والی یہ دعا گویا لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ ایک نئی فکر ایک نئی بیداری نے ان میں سے اکثر کو منبر کے قریب کر دیا۔ ان کی آنکھوں میں سوال تھا ’’نمازیں بے اثر کیوں ہیں ؟ دعائیں بے اثر کیوں ہیں ؟‘‘

          مجتہد کے خطاب نے پھر ایک بار قوم کے اندر احساس زیاں پیدا کر دیا تھا۔ وہ اپنی پستی کی وجوہات پر غور کرنے لگے۔ نصف النہار سے قبل خطبہ جمعہ سننے کے لیے جب وہ مسجد میں جمع ہو گئے تو وہی جانی پہچانی آواز ان سے مخاطب تھی۔ وہ ان کی آنکھوں سے ایک ایک کر کے ان دبیز پردوں کو اٹھاتی جاتی تھی جن کے پیچھے سے ان کے خلاف ریشہ دوانیاں ہوتیں۔ اس نے بھیڑیوں کے ان کریہہ چہروں کو بے نقاب کر دیا جو بھیڑ بنے ہوئے تھے۔ احسان مندی کے نام پر پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کی معرفت انہیں حاصل ہو گئی اور پھر یہ بھی پتہ چلا کہ کوہ نور اور بحر ظلمات کے پرے بھی ایک بڑی دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا کے لوگ ان سے اس طرح بے تعلق نہیں ہیں جیسے کہ یہ ہیں۔ ان لوگوں کو اپنا غلام بنائے رکھنے کی کوششوں میں وہ برابر مصروف عمل ہیں۔ اس قوم کی غفلت و بے عملی نے اُن کے کام کو نہایت آسان کر دیا۔ کوہ نور کی دوسری جانب اپنے کھوئے ہوئے موروثی قلعہ کو انہوں نے مجتہد کی دوربین سے دیکھا اور اسے دوبارہ حاصل کر کے پھر ایک بار عزت و کامرانی حاصل کرنے کا عزم کیا۔ دور کے ڈھول انہیں سہانے لگتے تھے اور جن کی تھاپ پر تھرکنا وہ اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے تھے اچانک ظلم و طغیان کے شور و شغف میں تبدیل ہو گئے۔ ان لوگوں نے اجتماعی طور پر کٹھ پتلی کے اس کھیل کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈور کسی اور کی انگلیوں کے اشارے سے ہلتی تھی اور رقص یہ کرتے تھے۔

          اک روز مجتہد اور اس کے ساتھی دشمن کی ریشہ دوانیاں دوربین سے دیکھ رہے تھے کہ ایک نے سوال کیا۔

          ’’کیا صرف طاغوت کی چالوں سے واقفیت ہمیں اس کے خونیں پنجہ سے آزاد کرا دے گی؟‘‘

          جواب تھا۔’’نہیں۔ یہ تو صرف ہماری غفلت کو دور کرنے کا نسخہ ہے۔‘‘

          ’’لیکن غفلت کے بیداری میں بدل جانے کے بعد ہمیں کیا کرنا ہو گا؟‘‘ ایک نے سوال کیا

          دوسرے کا جواب تھا۔’’وہ راستہ ہموار کرنا ہو گا جس پر گامزن ہو کر ہم منزلِ مقصود تک پہنچیں گے۔‘‘

          ’’ لیکن وہ راستہ ہم انفرادی طور پر کیسے بنا سکتے ہیں ؟ اگر کسی نے اکیلے بنا بھی لیا تو اس پر آنے والی مشکلات کا مقابلہ تنہا تنہا کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اور پھر کیا منظم دشمن اجتماعیت کے بغیر زیر بھی ہو سکتا ہے؟‘‘

          ان تمام سوالات کے منفی جوابات کا مثبت حل تنظیم کا قیام تھا سو وہ بھی قائم ہو گئی۔اس لیے کہ مقصد زندگی کے حصول کی خاطر یہ ایک ناگزیر ضرورت تھی۔ تنظیم کے قیام نے تمام افراد کے اندر جدوجہد کی یکساں روح بیدار کر دی تھی۔ منزل کی جانب رخت سفر باندھتے ہی کش مکش اور قربانیوں کے عظیم سلسلے کا آغاز ہو گیا لیکن عز م و حوصلہ سے معمور عشق بلا خیز کا یہ قافلہ سخت جاں غلبہ دین کی منزل کی جانب رواں دواں ہو گیا۔طاغوت بھی چوکنا تھا۔ اس کے علمبرداروں نے اس زبردست بیداری کو محسوس کیا۔انہیں پتہ چل گیا کہ یہ روشنی وادی نور تک محدود رہنے والی نہیں ہے بلکہ سارے عالم کو منور کر دے گا۔ اگر اپنی کھوئی ہوئی میراث ان لوگوں نے حاصل کر لی تو ظلم استحصال کی چکی ہی رک جائے گی اور ہمارے لیے انسانوں کے خون سے اپنی تشنگی کو سیراب کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ عدل و انصاف کے موجزن سیلاب پر باندھ باندھنے کی غرض سے انہوں نے ایک نئی چال چلی۔ ان لوگوں نے فسطائیت کے دیو استبداد کو اپنے کریہہ ترین ہیئت کے ساتھ بے نقاب کر دیا۔ ظلم و جور کی زبردست آندھی نے پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابھی لوگ اس نئے طوفان سے بچنے کے لیے صف بندی کر ہی رہے تھے کہ دیو استبداد کا ڈبل رول آزادی کی نیلم پری بن کر جمہوری قبا اوڑھے مخالف سمت سے نمودار ہو گیا۔ وہ لوگ جو اپنی کھوئی منزل مقصود پر نظریں جمائے ہوئے تھے اچانک اس نیلم پری کی جانب متوجہ ہوئے۔ ایک طرف فسطائیت کے شعلہ اور دوسری جانب جمہوریت کی شبنم۔ فسطائیت کے شعلہ ان کے اور ان کی منزل کے درمیان دیوار بنے ہوئے تھے اور مخالف سمت میں جمہوریت کی نیلم پری انہیں اپنی دل نشیں مسکراہٹ سے سحر زدہ کیے دیتی تھی۔ شعلوں کی تپش دن بدن انہیں اپنی منزل سے دور دھکیلنے لگی۔شبنم کی ٹھنڈک بھی دن بدن انہیں اپنی منزل سے دور ہی لیے جاتی تھی۔ یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا جب فاصلے خوب بڑھ گئے اور منزل آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تو جمہوریت کا طوق انہیں اپنے گلے کا ہار لگنے لگا۔ وہ اس شکنجہ سے نکلنے کے بجائے اس کی حفاظت میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ ایسے میں اگر کوئی ا س نیلم پری کے سحر کو توڑنے کی کوشش کرتا تو اس کی بات ان لوگوں کو بری لگتی رفتہ رفتہ منزل مقصود کی حیثیت اس نیلم پری کے سوتن کی سی ہو گئی۔

          جب یہ منزل کی بات کرتے وہ فسطائیت کے دیو کا ڈر دکھلاتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ منزل کی جگہ تنظیم نے لے لی۔ لوگوں کو مقصود کے بجائے ذریعہ کے جانب بلایا جانے لگا۔ نیلم پری اس نئے طریقہ کار سے خوش تھی اس لیے کہ تنظیم بہرحال اس کی حفاظت پر مامور تھی۔ اسی کے گن گاتی تھی۔ ایک رشتہ جو کبھی وقتی ضرورت کی خاطر قائم کیا گیا تھا اب مستقل حیثیت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ اب اس کے جائز و ناجائز ہونے پر سوال اٹھنے بھی بند ہو گئے تھے۔ جیسے جیسے لوگ اس مغربی جمہوریت کی غلامی میں گرفتار ہوتے گئے آزادی کی اس نیلم پری نے اپنے جلوے دکھانے شروع کیے ابتداء بے اعتنائی سے ہوئی لیکن انتہا استحصال پر ہوئی اب اس نیلم پری کی کشش بھی ختم ہو چکی تھی اور اس کی حفاظت کے لیے تنظیم کی قوت بڑھانا کار دارد لگنے لگا۔ جس کی دو وجوہات تھیں ایک تو وہ اس ضرورت سے بے نیاز ہو چکی اور دوسرے ان لوگوں کے نزدیک بھی اس کی کوئی افادیت نہیں تھی اس لیے تنظیم کی توسیع کا عمل بھی رک گیا۔ لیکن جو لوگ جمع ہو گئے تھے ان کے لیے فارغ اوقات میں اپنے آپ کو مصروف رکھنا ایک مسئلہ ہو گیا۔ اس کا حل بھی نکال لیا گیا۔ کچھ لوگ اپنی پرانی دوربین کی جانب متوجہ ہوئے لیکن اب وہ اس سے اپنی کھوئی میراث کو نہ دیکھتے اس لیے کہ ایسا کرنے پر انہیں ایک فسطائیت کا جن درمیان میں کھڑا دکھلائی دیتا اور دوسرے جمہوریت کی نیلم پری کی ناراضگی بھی مول لینی پڑتی اس لیے وہ اس کی بناوٹ اور سجاوٹ پر اپنی توانائیاں صرف کرنے لگے۔ جن لوگوں کو اس کا ذوق و شوق نہ تھا وہ اپنے مجتہد کی تعریف و توصیف میں جٹ گئے۔ اٹھتے بیٹھتے اس کا بکھان کیا جاتا اسے عظیم سے عظیم تر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی اس پر کتابوں کے لکھے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا رسالوں کے خصوصی شمارے نکالے جانے لگے۔ اس پر بھی دل نہ مانا تو اس کی یادگار قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس کی جائے پیدائش کو خریدا گیا وہاں بڑے تزک و احتشام سے اس کی نمائش اور لائبریری قائم کی گئی۔ یوم پیدائش کے دن شاندار سیمنار منعقد کیا گیا۔ دور دور سے مہمانوں کو بلایا گیا اور ہر سال اس سلسلے کو جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔ اس کے بعد ہر سال ان دنوں میں دور دور سے اس کے معتقد وہاں جمع ہوتے۔ کم ہی لوگ سیمنار میں جاتے زیادہ تر ایک دوسرے سے ملتے جلتے۔ دُکانیں لگنے لگی تھیں میلے کا سا ماحول ہوتا تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کرتا اور خوش ہوتا تھا۔ کتابیں خوب چھپتیں اور بکتی تھیں لیکن انہیں پڑھنے اور سمجھنے کا رواج کم ہو چلا تھا۔ کیسٹ بھی بنائی جاتیں لیکن اسے لوگ سنتے کم اور بانٹتے زیادہ تھے۔ سی ڈی بھی بننے لگی تھیں لیکن انہیں دیکھنے کی فرصت اور توفیق کم ہی لوگوں کو ہوتی تھی۔

          دوربین کو مرکز کے قریب نصب کر نے کی خاطر ماہر انجینئرس کا تعاون حاصل کیا گیا تھا۔ چبوترے کے کئی نقشہ بنائے گئے اور مسترد کیے گئے۔ بالآخر ایک کی توثیق ہوئی بڑے خوبصورت نقش و نگار والے اس چبوترے پر بڑے شان سے دوربین نصب کر دی گئی تھی ایک ملازم کا کام دوربین کی دیکھ بھال اور صاف صفائی تھی۔ آنے والے مہمانوں کو لائبریری دکھلائی جاتی۔ کیسٹ اور سی ڈی تحفہ میں دی جاتی اور دوربین کا معائنہ بھی کروایا جاتا۔ ہر کوئی چبوترے کو دوربین کی بناوٹ کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتا۔ صفائی کرنے والا ملازم ہر روز بلا ناغہ کئی گھنٹہ اسے سجانے سنوارنے پر صرف کرتا۔

          ایک دن اس کے دل میں آیا کہ اگر یہ دوربین ہے تو کیوں نہ اس کے اندر جھانک کر دیکھا جائے۔ پہلے تو اسے ڈر لگا اس لیے کہ جب سے اسے ملازم رکھا گیا تھا اس نے کسی کو ایسا کرتے نہ دیکھا تھا۔ پھر بھی اس نے ہمت کی۔ آس پاس نظر دوڑائی سوچا اس کے اندر جھانکنے سے یہ ٹوٹ تھوڑے ہی جائے گی اور پھر اپنی آنکھیں دوربین کے اندر جھانکنے والے شیشے پر لگا دیں۔ جب اس نے ایسا کیا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اس لیے کہ اندر تو اندھیرا تھا گہرا اندھیرا۔ وہ دیر تک ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اس کی آنکھیں اسے دھوکا نہیں دے رہی ہیں تو اس نے اپنی نظریں ہٹائیں۔ اچانک یہ بے جان دوربین اس کی نظروں سے گر گئی۔ اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا کہ کس چیز کو چمکانے پر اپنی توانائیاں صرف کر رہا ہے۔ یہ سوچ کر وہ واپس آیا اور اس نے کہا

          ’’صاحب میں اپنا کام چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ ‘‘

          اس کے ذمہ دار نے پوچھا۔’’کیوں ؟ تنخواہ بڑھوانی ہے تو ایسا کہہ بڑھا دیں گے۔‘‘

          اس نے کہا۔’’نہیں مجھے تنخواہ نہیں چاہئے مجھے یہ محمل کام نہیں کرنا ہے۔‘‘

          ’’آخر کیا تکلیف ہے تجھے۔ برسوں سے تو اس کام کو کر رہا ہے آج اچانک تجھے کیا ہو گیا۔‘‘

          ’’کچھ نہیں صاحب آج میں نے دوربین میں جھانک کر دیکھا بس۔‘‘

          ’’اندر جھانک کر دیکھا۔ تجھے کس نے کہا کس نے تجھے اس کی اجازت دی؟‘‘

          ’’صاحب مجھے نہ کسی نے کہا نہ اجازت دی۔ میں نے اپنے من سے یہ کیا اور جب میں نے اندر جھانکا تو صرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیا۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا۔ میں اب اس کام کو نہیں کروں گا۔ میں جا رہا ہوں۔ ‘‘

          ’’اچھا جاتا ہے تو جا لیکن اپنا حساب کتاب تو لیتا جا۔‘‘

          ’’نہیں مجھے کچھ نہیں چاہئے میں جا رہا ہوں میں جا رہا ہوں۔ ‘‘

          جب یہ بات اعلیٰ ذمہ داروں تک پہنچی تو ان لوگوں کو یقین نہ آیا۔ بوڑھا آدمی تھا نظر کمزور ہو گئی ہے اس لیے کچھ دکھائی نہ دیا۔ دماغ خراب ہو گیا اس لیے ملازمت چھوڑ کر چلا گیا۔ لیکن پھر بھی دیکھ لیا جائے اس میں کیا حرج ہے۔ تین چار لوگ دوربین کے قریب آئے اس کی صفائی اور ستھرائی ملازم کے محنت کی شہادت دے رہی تھی سب نے باری باری جھانک کر دیکھا اور سب کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ واقعی اندر اندھیرا تھا۔ یہ کیا ہو گیا پہلے تو ایسا نہیں تھا۔ پہلے کبھی۔ لوگ اپنے دماغ پر زور دینے لگے کب انہوں نے اس کے اندر جھانک کر دیکھا۔ برسوں پرانی بات تھی کسی کو صحیح اندازہ نہیں ہو رہا تھا لیکن سب اس بات پر متفق تھے کہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ سب لوگ واپس آ کر بیٹھ گئے نہایت اداس اور مایوس۔ دوربین کے اندھا ہو جانے کاسبھی کو افسوس تھا لیکن جس دوربین میں برسوں سے جھانکا نہ گیا تھا اور آگے بھی ایسا ارادہ نہ ہو اس کے اندھیرے اور اجالے سے کوئی فرق تو پڑنے والا نہ تھا لیکن ان میں ایک کے ذہن میں اچانک نیا خیال آیا۔ کتابوں کی الماری بھی برسوں سے بند تھی۔ اس کی باہر سے صاف صفائی تو کی جاتی تھی لیکن کتابوں کو برسوں سے کھول کر دیکھا نہ گیا  تھا وہ دوڑا دوڑا کتب خانہ میں گیا الماری کو کھول کر کتاب نکالی تو وہ بھی صاف۔ اس کے تمام کاغذ بالکل کورے تھے۔ ان میں ایک حرف بھی لکھا ہوا نہیں تھا ایسے جیسے ان پر کبھی کچھ لکھا ہی نہ گیا ہو۔ ہائے اﷲ یہ کیا ہوا؟ یہ کب ہوا؟ یہ کیسے ہو گیا؟ یہ اور اس طرح کے سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سب لوگ چوکنا ہو چکے تھے۔ان میں کچھ لوگ کیسٹ کی الماری کے پاس گئے۔ کچھ نے سی ڈی نکالی ان کا بھی یہی حال تھا۔ کیسٹ آواز سے خالی اور سی ڈی تصویروں سے بے بہرہ۔ یہ کیا ہو گیا؟ باہر سے سب کچھ ٹھیک ٹھاک اور اندر سے سب کام تمام۔ انہیں لگا کہ سارا سرمایہ لٹ گیا لیکن جس سرمائے کا استعمال بند ہو جائے اس کا رہنا اور لٹنا یکساں ہی تھا۔خیر مجلس عاملہ کی نشست بلائی گئی اور سب کے سامنے اس مسئلہ کو رکھا گیا۔ لوگوں نے پہلے ذمہ داروں پر کوتاہی کا الزام لگایا ذمہ داروں نے دشمنوں کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ ذمہ داروں کی بات لوگوں نے مان لی۔ اکثریت سے فیصلہ ہوا جو کچھ رہ گیا ہے اس کی حفاظت کے لیے جدید ترین آلات کو نصب کیا جائے۔ افراد کی تعداد بڑھا دی گئی۔

           لیکن اس تشخیص اور حل سے ایک ننھا گروہ متفق نہ تھا۔ اس کا کہنا یہ تھا جب اندر کچھ نہیں ہے۔ خالی خولی خول کی حفاظت سے کیا حاصل اور پھر اس کی دلیل یہ بھی تھی کہ ہم اس قدر بے ضرر ہو چکے ہیں کہ ہمارے دشمنوں کو ہم سے کوئی خطرہ ہی نہ رہا۔ ایسے میں وہ ہمارے خلاف سازش کرنے کی حماقت کیوں کرے گا اور ہم پر اپنی توانائیاں کیوں صرف کرے گا؟ وہ کہہ رہے تھے اس مسئلہ کی وجہ کچھ اور ہے اور ہمیں اس کا پتہ لگانا چاہئے لیکن پتہ کیسے لگایا جائے؟ایک مشورہ سامنے آیا۔ ہماری گاڑی سے ایک شخص درمیان میں اتر گیا تھا اور کسی ویرانے کی نذر ہو گیا تھا کیوں نہ اس کا پتہ لگا کر اس سے پوچھا جائے۔ اس لیے کہ وہ اس طرح کے اندیشوں کا اظہار کیا کرتا تھا۔ یہ ننھا سا گروہ اس بزرگ کی تلاش میں نکل پڑا۔ کافی تگ و دو کے بعد ایک ویران سنسان کٹیا میں اس گمنام سے ملاقات ہو گئی۔ ان لوگوں نے اس کے سامنے صورت حال کو رکھا تو وہ مسکرائے۔

          ’’یہ تو ہونا ہی تھا جب کوئی چیز اپنا مصرف کھو دیتی ہے تو اس کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ یہ قدرت کا اصول ہے۔ ان چیزوں کا جو استعمال ہو رہا ہے وہ استعمال کے لائق موجود ہیں لیکن جس کا استعمال بند ہو گیا وہ مٹا دی گئیں۔ ‘‘

          جواب معقول تھا۔ ’’لیکن یہ ہوا کیسے؟‘‘

          ’’یہ تو ایک گھُن ہے یا وائرس۔ سمجھ لو جس کا نام جامد تقلید ہے۔ یہ وائرس ظاہر پرستوں کو لگتا ہے۔ یہ ان کے ظاہر کو بالکل بھی متاثر نہیں کرتا۔ ہاں باطن کو بالکل صفا چٹ کر دیتا ہے۔‘‘

          پوچھنے والے بالکل قائل ہو چکے تھے۔ انہوں نے پوچھا۔’’لیکن اس کا حل کیا ہے؟‘‘

          ’’اس کا اینٹی وائرس نہیں ہے۔‘‘

          ’’کیوں نہیں۔ ‘‘

          ’’اس کا اینٹی وائرس وہی اجتہاد ہے جس کی جانب مجتہد نے ہماری توجہ مبذول کروائی تھی لیکن ہم نے اجتہاد کو چھوڑ کر مجتہد کو پکڑ لیا۔ جس کے نتیجہ میں یہ سب ہو گیا۔‘‘

          ’’ٹھیک ہے ہم اجتہاد کریں گے جو علم اٹھ گیا ہے ہم اسے واپس لائیں گے الفاظ و مفہوم بخشیں گے۔ دوربین کو روشن کریں گے۔ ‘‘

           اس عزم مصمم کو دیکھ کر بزرگ کا چہرہ کھل اٹھا انہوں نے کہا۔’’بیٹو! تمہارا یہ ارادہ قابل تحسین ہے میں تمہاری کامیابی کی دعا کرتا ہوں لیکن اس بوڑھے کی ایک نصیحت یاد رکھنا اجتہاد اور بدعت میں ایک نہایت لطیف فرق ہوتا ہے اس نازک سے فرق کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا۔

          جواب ملا۔’’انشاء اﷲ!‘‘

٭٭٭