کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فاقہ مست حریت !

ڈاکٹر سلیم خان


اک جہان کو سونا کر کے سونامی کی لہریں تھم چکی تھیں۔ حکومت ہند کی جانب سے آسمانی آفات سے نبٹنے کی خاطر بنائے گئے اعلیٰ اختیاری کمیشن کی نشست شروع ہونے جا رہی تھی۔ لاتور میں آنے والے زَلزلے کے بعد اس کمیٹی کے قیام کا اعلان ہوا۔ گجرات کے زلزلوں کے بعد اس کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا اور سونامی کے بعد اس کی اولین رسمی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ فوجی و غیر فوجی اعلیٰ افسران، سائنسداں اور نامور سیاستدانوں پر مشتمل اس میٹنگ میں پہلے تو افسر آئے سونامی کی سی سرعت کے ساتھ اور پھر سیاست دانوں کی آمد ہوئی بعد میں آنے والی تباہ کاریوں کی طرح۔

          سب سے پہلے لوگوں نے مرنے والوں کی موت پر اپنے دکھ کا اظہار کرنے کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی لیکن یہ دراصل ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ چند لمحات کے اندر تمام سیاست دان ایک دوسرے پر اس طرح الزام تراش رہے تھے گویا سونامی کے لیے ان کے مخالف کے علاوہ کوئی اور ذمہ دار نہیں ہے۔ حزب اختلاف کے لوگ حکومت پر الزام لگا رہے تھے کہ سب ان کی نا اہلی اور ناکامی کا بین ثبوت ہے اور حزب اقتدار نے گجرات زلزلوں کی باز آبادکاری میں ہونے والی بدعنوانی کے نام پر حزب اختلاف پر پلٹ کر وار کرنا شروع کر دیا تھا۔ کمرے میں کہرام برپا تھا۔ سونامی کو لوگ بھول گئے تھے ایک سنیئر اعلیٰ افسر نے مداخلت کی۔ یہ اتنی بڑی آفت کے بعد ہم لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے آپ لوگوں نے اس سے بھی کوئی عبرت نہیں پکڑی۔ دراصل ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ مصیبت زدگان کی مدد کے لیے کیا کرنا چاہئے اور کیسے کرنا چاہئے؟ سیاست دانوں نے جب دیکھا کہ وہ خود طوفانی لہروں کی زد میں آ گئے ہیں تو وہ جھٹ سنبھل گئے اور انہوں نے کہا۔ یہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم عوام کے نمائندے ہیں ان کے آگے جوابدہ ہیں۔ وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ لوگوں نے ہمیں اس تباہ کاری سے بچانے کے لیے کیا کیا؟ ہمیں پہلے سے اطلاع کیوں نہیں دی گئی تاکہ ہم اپنا بچاؤ کر سکیں۔ یہ سن کر سرکاری افسر گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا۔ بھئی یہ تو ایسے آناً فاناً میں آ گیا کہ خود ہمیں بھی پتہ نہ چلا تو ہم دوسروں کو کیسے اطلاع دیتے۔ اس پر ایک اور سیاست دان بول پڑے۔ آپ جھوٹ کہتے ہیں یا علم نہیں رکھتے۔ دنیا کے ۲۶ ممالک کو اس کی اطلاع مل چکی تھی۔ انہیں کیسے پتہ چل گیا اور ہمارے سائنسداں کیوں سوئے رہے۔

          ایک سرکاری سائنس داں نے کہا یہ تو زیادتی ہے کہ صرف ہمیں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ہم کیا سارا ملک سویا رہا۔

          ایک فوجی افسر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا۔ یہ بات غلط ہے کہ اطلاع نہیں ملی۔ انڈمان نکوبار میں موجود ہمارے فوجی اڈے کی تباہی کی اطلاع ہم نے خود محکمہ موسمیات کو دی لیکن اس کے باوجود وہ اس کا کوئی استعمال نہ کر سکے۔

          ایک سیاست دان بولے۔ لیکن محکمہ موسمیات کے لوگ تو بڑی ڈینگیں مارتے ہیں وہ تو کہتے ہیں ہمارے پاس اس کام کے لیے سیٹیلائیٹ ہے۔ بڑے با صلاحیت لوگ ہیں تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ لوگ فوجی اڈے کو مطلع کرتے لیکن ہوا اس کے برعکس اور اس کے باوجود انہوں نے اس اطلاع کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

          محکمہ موسمیات کے سائنس دان پھر غصہ ہو گئے۔ وہ کہنے لگے۔ دیکھئے ہمارا سٹیلائیٹ بہت پرانا ہو گیا ہے۔ نئے کے لیے گرانٹ مانگے ہوئے دو سال گذر گئے ہیں لیکن اس پر صرف وعدہ ہی ہاتھ آیا۔ وزیر اعظم نے نئی لیباریٹری کا سنگ بنیاد تو رکھ دیا لیکن بجٹ پر دستخط نہیں کیے۔ اب ہم کیا کریں۔

          دوسرا سیاست دان بولا۔ اگر پرانی سبھی مشینیں کسی کام کی نہیں ر ہیں تو انہیں پھینکو اور آپ لوگ بھی اپنے گھر جاؤ اور جب بجٹ پاس ہو جائے تو تنخواہ لینے کے لیے آ جانا۔

          اب تو افسران بے حد بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا۔ آپ اپنی زبان کو لگام دیں۔ ہماری تنخواہ عوام کے ٹیکس سے آتی ہے کوئی آپ کی جیب سے نہیں آتی اور پھر آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ یہ طوفان رات کے آخری پہر میں آیا اور تباہ کاری صبح صبح شروع ہوئی۔ ہمارے افسران کے دفتر آنے تک سب کچھ ہو چکا تھا۔

          یہ بات سن کر ایک بہت زبردست قہقہہ بلند ہوا اور ایک صاحب کہنے لگے۔ ہاں ہاں ایسا کرتے ہیں آج کی نشست میں ایک قرار داد پاس کر کے آسمان والے کو بھیج دیتے ہیں کہ آئندہ آسمانی آفت دفتری اوقات کے درمیان ہی آئے۔ اس کے علاوہ نہ آئے۔

          دوسرے نے کہا۔ ارے یہ لوگ دفتر کے اوقات میں بھی مشکل ہی سے دفتر میں پائے جاتے ہیں۔ ایک تو گھر سے آتے نہیں اور آتے ہیں تو چائے خانہ کی رونق بڑھاتے رہتے ہیں۔

          پھر ایک سرکاری ملازم غصہ ہو گیا اس نے کہا۔ آخر آپ لوگوں نے اپنے آپ کو سمجھ کیا رکھا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیارات تو ہیں نہیں کہ ہم اطلاعات کو براہ راست عوام تک پہنچا سکیں۔ ہم نے وزیر سائنس ٹکنالوجی کو اطلاع دی جس کے تحت ہمارا محکمہ آتا ہے۔ اس نے محکمہ مواصلات و اطلاعات سے رابطہ قائم کیا اور اس نے پھر سرکاری ٹیلی ویژن کو بتلایا۔ اب اس سب میں وقت تو لگتا ہی ہے۔

          وہ تو ٹھیک ہے۔ فوجی افسر بولا۔ لیکن آپ نے اطلاع سابق وزیر کو بھجوا دی۔ آپ اتنا بھی نہیں جانتے کہ نئی حکومت آ چکی ہے اور ایک نئے صاحب کو یہ وزارت دے دی گئی ہے۔

          جی ہاں ہم یہ جانتے ہیں۔ سرکاری ملازم نے ڈھٹائی سے کہا۔ لیکن سابق وزیر کم از کم طبیعات کے پروفیسر تھے ان کی سمجھ میں تو تھوڑی بہت بات آتی بھی تھی اب نئے صاحب تو وکیل ہیں ان کے لیے تو یہ سب کالا اکشر بھینس برابر تھا۔

          تو کیا اب آپ تمام اطلاعات سابق وزراء کو ہی دیتے رہیں گے؟

          وزیر سائنس ٹکنالوجی نے کہا۔ نہیں ایسی بات نہیں۔ یہ بات تو برسبیل تذکرہ آ گئی۔ خیر اب جو ہو چکا سو چکا۔ تباہی کی اطلاع حاصل کرنے اور تقسیم کرنے سے زیادہ ہمارے اختیار میں اور ہے ہی کیا؟ اور ایسا کرنے سے تباہ کاری رک تو نہ سکتی تھی؟

          فوجی بولا۔ جی ہاں رک تو نہ سکتی تھی لیکن اگر متاثرین کو پتہ چل جاتا تو وہ حفظ ماتقدم کے طور پر اپنے آپ کو بچانے کے لیے کچھ تو کرتے۔

          خیر اب آگے کی سوچیں۔

          اس بیچ چپراسی نے آ کر اطلاع دی کہ ناشتہ لگ گیا ہے اور سب لوگ ناشتہ کی جانب بڑھے بات آگے بڑھی اور کھانے پینے میں اس قدر گھل مل گئے گویا ابھی کچھ دیر قبل سونامی کی قہر ناکی آئی ہی نہ تھی۔

          ناشتہ سے لوٹنے کے بعد کمیٹی کے چیرمن نے بتلایا کہ امریکی حکومت کی جانب سے امداد کی پیش کش کی گئی اور وزیر اعظم کا یہ پیغام ہے اس پیش کش پر کہ مثبت و منفی اثرات پر بھی ہمیں غور و فکر کر کے اپنی تجاویز ان تک پہنچانی ہے اور اس کام کو ترجیحی طور پر کرنا ہو گا۔ اس لیے کہ انہیں امریکہ کو جواب دینا ہے۔

          اب ایک نئے ایجنڈا کا اضافہ ہو گیا تھا۔ سب لوگ آپس کے اختلافات بھلا کر اس پر سنجیدہ ہو گئے۔ سرکاری افسر نے کہا۔

          اس میں ایسی کون سی نئی بات ہے۔ دنیا بھر کے ممالک سونامی کے مصیبت زدگان کی مدد کے لیے