کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سفید حویلی

محمد حمید شاہد


قہر آباد  نامی یہ چھوٹاساگاؤں تو گویا اس دنیا میں ہی نہ تھا۔سب سے الگ تھلگ اس بستی میں صدیوں سے مرزائی خاندان کی حکومت تھی۔ اس خاندان کا سربراہ گاؤں کا بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا۔گاؤں اور اس کے آس پاس کی ساری زمینیں انھیں کی ملکیت تھیں اور گاؤں میں رہنے والے تمام لوگ ان کے ملازم تھے۔ زمینوں کی طرح ملازم بھی وراثت میں تقسیم ہو جایا کرتے تھے۔ لوگ الگ الگ کام کرتے لیکن تمام کام اسی خاندان کی خاطر کئے جاتے تھے۔ زیادہ تر لوگ تو کھیتوں میں مزدور تھے جنھیں اس قدر اناج دے دیا جاتا تھا کہ وہ زندہ رہیں اور خدمت بجا لائیں کچھ لوگ کوٹھی کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ پورے علاقے کے بے شمار جھگیوں جھونپڑیوں میں صرف ایک کوٹھی تھی جو مرزائی خاندان کی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ پھیلتی جاتی تھی اس کے علاوہ اس گاؤں میں ایک یتیم خانہ بھی تھا جو مرزائی خاندان کا انسانی چہرہ تھا۔ جب بھی کوئی سرکاری مہمان گاؤں میں آتا پہلے تو اسے کوٹھی دکھلائی جاتی پھر اسے کھیتوں کی سیر کروائی جاتی اور پھر بالآخر اس یتیم خانے کا دورہ کروایا جاتا اور اسے بتلایا جاتا کہ مرزائی خاندان کس قدر رحم دل ہے اسے گاؤں کے یتیموں کا کس قدر خیال ہے۔ کوٹھی کی دیکھ بھال تو سال بھر ہو تی ہی رہتی تھی لیکن یتیم خانہ کا رنگ و روغن صرف مہمان کی آمد پر ہوتا تھا۔ صدیوں سے یہ معمول تھا نہ جانے کتنے حکمراں بدلے اور نظام ہائے حکومت تبدیل ہوئے لیکن قہر آباد پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

          اس بار پھر جب تحصیل دار کے دورے کی خبر آئی تو خالد مرزائی نے اپنے مصاحبین سے اس کا ذکر چھیڑا اور حقہ کا کش لگاتے ہوئے پوچھا۔تمام تیاریاں تو ہو گئیں۔ کوٹھی، مہمان خانہ، باغوں میں آرام گاہ اور ہاں اپنا یتیم خانہ بڑے دنوں بعد کوئی سرکاری مہمان آ رہا ہے اس لیے یتیم خانہ کا نہ جانے کیا حال ہو گا؟

          جی ہاں۔ غلام حسین چنگرو نے اثبات میں زور زور سے سرہلایا اور کہا۔آپ صحیح کہہ رہے ہیں سب کچھ ٹھیک ہے لیکن یتیم خانہ؟

          کیا ہو گیا یتیم خانہ کو؟ خالد نے زور سے پوچھا۔

          صاحب کچھ ہوا نہیں رنگ و روغن تو کر دیا لیکن اس میں کوئی یتیم نہیں ہے۔

          کیا بکتے ہو۔ گذشتہ مرتبہ جب گورنر صاحب آئے تھے تو اس وقت تو کئی بچے تھے بلکہ گورنر صاحب ہماری کوٹھی سے زیادہ یتیم خانہ کی تعریف کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اچھی کوٹھیاں تو انہوں نے بہت ساری دیکھی ہیں لیکن اتنا اچھا یتیم خانہ کبھی نہیں دیکھا۔

          بجا فرمایا آپ نے۔ غلام حسین بولا۔ لیکن یہ تو کئی سال پرانی بات ہے۔ اس وقت جو بچے تھے ان میں سے کئی جوان ہو گئے اور انہیں اپنے کھیتوں پر مزدوری کے لیے بھیج دیا گیا۔ کچھ خراب انتظام کے باعث بھاگ گئے۔

          بھاگ گئے؟ خالد مرزائی نے جملہ دہرایا۔ یہ کیسے ہو گیا؟ ان کی مجال کہ ہمارے چنگل سے نکل بھاگے؟ اور تم نے ہمیں بتلایا بھی نہیں۔ یہ تو بہت بری بات ہے۔ آج یتیم بھاگے ہیں کل مزدور بھی بھاگ جائیں گے اور پھر ہمارا کیا ہو گا؟ یہ بہت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے۔دیکھو کوئی بھی بھاگنے والا ہماری حدود کے باہر نکل نہ پائے۔ اسے پکڑ کر لاؤ اور گاؤں کے چوراہے پر اس کی لاش کو لٹکا دو تاکہ لوگوں کے دلوں میں خوف و دہشت بیٹھ جائے اور کوئی بھاگنے کی ہمت نہ کرے۔ ہمارے کھیت اور ہمارے مزدور، یہی تو ہمارا سرمایہ ہیں۔ اسی کی حفاظت کرنے کی خاطر تم لوگوں کو رکھا گیا ہے۔

          وہ تو ٹھیک ہے سرکار لیکن فی الحال یتیم خانہ کا کیا کریں ؟ وہاں کوئی یتیم نہیں ہے اور گورنر صاحب تین دن بعد آنے والے ہیں۔

          یتیم نہیں ہیں تو یتیم بناؤ۔خالد مرزائی نے غصہ سے کہا۔

          یتیم بناؤ؟ غلام حسین چونک پڑا۔ یتیم کیسے بنے گا سرکار؟

          ارے یہ بھی تمہیں سمجھانا پڑے گا۔ اگر میں تمہیں گولیوں سے بھون دوں تو تمہارے بچے یتیم ہو جائیں گے۔ یہ تو نہایت ہی آسان کام ہے اس میں کیا مشکل ہے؟

          سمجھ گیا، سمجھ گیا۔ وہ تو ہے لیکن کون گولی مارے گا اور کسے گولی مارے گا؟

          غلام حسین تم تو بے وقوف کے بے وقوف ہی ہو۔ تمہارے والد غلام علی کو تو کبھی یہ سب بتلانا نہ پڑا۔ خیر سنو۔ ڈاکو گولی ماریں گے اور ہمارے مزدوروں کو ماریں گے۔

           ہمارے مزدوروں کو ڈاکو کیوں ماریں گے صاحب؟ان کے پاس کچھ ہے ہی نہیں جسے لوٹنے ڈاکو ان پر حملہ کریں۔

          بھئی غلام حسین اگر یہ سب مجھے ہی بتلانا پڑے گا تو آخر تم کس بات کی تنخواہ لیتے ہو۔ ڈاکوؤں کو یہ ڈکیتی کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ جن کے گھروں پر انہوں نے ڈاکہ ڈالا ہے وہاں کچھ لوٹنے کے لیے نہیں ہے۔ہاں کوئی خوبصورت……

          سمجھ گیا سرکار سمجھ گیا۔ لیکن ڈاکو آئیں گے کہاں سے؟

          ڈاکو کہیں سے نہیں آئیں گے بلکہ یہاں سے جائیں گے۔

          لیکن اگر کسی نے انہیں پہچان لیا تو؟

          نقاب پوش ڈاکوؤں کو کون پہچانتا ہے اور پھر گھوڑوں کی ٹاپ سن کر ہی اس قدر گھبرا جاتے ہیں کہ کسی کو پہچان نہیں پاتے اور اگر پہچان بھی لیا تو یہ ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟

          رات کے آخری پہر بندوقوں سے لیس چند گھوڑ سوار حویلی سے نکلے۔ گھوڑوں کی ٹاپ سنتے ہی خالد مرزائی کے حواریوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ڈاکو آئے، ڈاکو آئے۔ دیکھتے دیکھتے افراتفری پھیل گئی۔ گولیوں کے چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کئی لاشیں گر گئیں۔ نام نہاد ڈاکو واپس جاتے ہوئے گل شیرہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ گل شیرہ چند منٹوں بعد باغ کی ایک آرام گاہ میں تھی۔ وہاں پہنچنے کے بعد گل شیرہ نے شور مچانا شروع کر دیا۔

          تم لوگ قاتل ہو تم نے میرے خاوند کا قتل کیا ہے۔ میرے بچہ کو یتیم کیا ہے۔ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔

          اچھا تو کیا کرو گی؟

          میں گاؤں کے چودھری سے تمہاری شکایت کروں گی اور اس سے تمہیں سزا دلواؤں گی۔

          گاؤں کے چودھری خالد مرزا ہے وہ ہمیں سزا نہیں انعام دیں گا۔ اس لیے کہ وہی تو ہمارا آقا ہے۔ ہم اس کی خدمت میں تمہیں تحفہ کے طور پر پیش کریں گے اور وہ خوش ہو کر ہمیں انعام و اکرام سے نوازے گا۔

          کیا بکتے ہو تم لوگ؟

          ہم تمہیں وہی بتلا رہے ہیں جو ہونے والا ہے۔ خیر تم اپنا بچہ ہمیں دے دو۔

          کیوں ؟ گل شیرہ نے پوچھا۔

          ہم اسے یتیم خانہ میں بھرتی کر دیں گے۔ دو دن بعد گورنر صاحب آنے والے ہیں۔ یتیم خانہ بالکل خالی پڑا ہوا تھا۔ ابھی تک دوسرے بچے جو ہمارے حملہ سے یتیم ہوئے تھے وہاں پہنچ گئے ہوں گے۔ لاؤ ہم اسے بھی وہاں پہنچا دیتے ہیں۔

          نہیں۔ گل شیرہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخنے لگی۔ میرا بچہ کہیں نہیں جائے گا۔ یہ میرے ہی ساتھ رہے گا میرا شیرو۔

          چل ہٹ لا اس لڑکے کو ہمیں دے۔

          اس چھینا جھپٹی کے دوران ایک اور گھوڑ سوار وہاں آ پہنچا۔ اس نے نقاب اتارنے کے بعد پوچھا۔ کیا ہنگامہ ہے؟

          کچھ نہیں صاحب۔ یہ گل شیرہ اپنے بچہ کو ہمارے حوالے نہیں کر رہی تاکہ ہم اسے یتیم خانہ میں بھرتی کر سکیں۔

          گھوڑ سوار نے گل شیرہ کو آنکھیں بھر کر دیکھا اور کہا۔

          چھوڑ دو اسے۔ وہاں کافی بچے پہنچ چکے ہیں۔ ایسا کرو اسے میری کوٹھی میں پہنچا دو۔

          آپ کی۔ سرکار ہم تو اسے۔

          ہاں میں جانتا ہوں تم اسے بڑے سرکار کی خدمت میں پہنچانا چاہتے تھے تاکہ انعام و اکرام حاصل کر سکو تو انعام و اکرام تو میں بھی تمہیں دوں گا اور پھر سردار بوڑھا ہو چکا ہے۔ گل شیرہ اس کے کسی کام نہ آئے گی۔ تم اسے میرے حوالے کر دو خوش رہے گی۔

          گل شیرہ نے کہا۔ تم میرے خصم کے قاتل ہو۔ نہ میں تمہارے پاس خوش رہوں گی اور نہ تمہیں خوش رہنے دوں گی۔

          خاموش بدتمیز زبان چلاتی ہے۔اسے تلوے سے اکھاڑ کر چیل کوؤں کے آگے ڈال دیں گے۔

          ڈال دو میں نہیں ڈرتی۔ میرے شوہر کو مار کر تم نے چیل کوؤں کے آگے ڈال دیا تو میری زبان کا کیا؟ میرے وجود کا کیا؟ یہ کہہ کر گل شیرہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ننھا شیرو یہ منظر غور سے دیکھ رہا تھا۔ چھوٹے سرکار نے شعلہ بار نظروں سے گل شیرہ کی جانب دیکھا۔ گل شیرہ کی آنکھیں نفرت کی آگ اُگل رہی تھیں۔ اس نے کہا۔

          اسے کال کوٹھری میں ڈال دو اور دو چار دن بھوکا پیاسا رکھو۔ اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گی۔

          شیرو یتیم خانہ میں بیٹھا رو رہا تھا۔ یتیم خانے کے منتظم نے پہلے اسے ڈرایا دھمکایا۔ مارا پیٹا اور پھر اسے لالی پاپ تھما دیا لیکن وہ تو بس ایک رٹ لگائے ہوئے تھا ممّی ممّی۔ مجھے اپنی امی کے پاس لے چلو۔ یتیم خانہ کے سامنے سے گذرتے ہوئے امام صاحب نے جب شیرو کی آواز سنی تو وہ اندر آئے۔ انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے قریب بٹھا کر پچکارنے لگے۔ کئی دنوں بعد شفقت کے نرم ہاتھ نے اسے چھوا تھا۔ شیرو بولا۔

          آپ کون ہیں ؟

          وہ بولے۔ میں اس مسجد کا امام ہوں۔

          شیرو نے پوچھا۔ آپ کا گھوڑا نہیں ہے۔

          وہ بولے۔ نہیں یہاں گھوڑے صرف حویلی والوں کے پاس ہیں۔ میں پیدل چلتا ہوں تمہاری طرح۔

          ہاں میرے ابو بھی پیدل چلتے تھے آپ ہی کی طرح۔

          ہاں بیٹے یہاں سبھی پیدل چلتے ہیں ہماری طرح۔

          شیرو بولا۔ اچھا تو آپ مجھے پیدل پیدل اپنی امی کے پاس پہنچا سکتے ہیں۔ میں یہاں رہنا نہیں چاہتا۔

          امام صاحب نے کہا۔ میں تو نہیں جانتا تمہاری امی کہاں ہے اور شاید تم بھی نہیں جانتے۔ اس لیے میں تمہیں اس تک نہیں پہنچا سکتا لیکن اگر تم یہاں نہیں رہنا چاہتے تو رات عشاء کی نماز کے بعد جب میں یہاں سے گذروں تو تم بھی پیدل پیدل میرے پیچھے چل پڑنا۔

          یہ سن کر شیرو بہت خوش ہوا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ امام اسے کہاں لے جائیں گے لیکن اس کا دل کہتا تھا کہ وہ جہاں بھی لے جائیں اسے جانا چاہئے۔ یقیناً وہ جگہ اس یتیم خانہ سے اچھی ہی ہو گی جہاں جھڑکیوں اور ڈانٹ پھٹکار کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا۔ وہ رات ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

          بہت دور تک پیدل کئی ویرانوں سے گذرنے کے بعد یہ دونوں آگے پیچھے ایک بڑے سے میں جا پہنچے۔ جیسے ہی امام صاحب اندر داخل ہوئے تمام لوگ ان سے ملاقات کے لیے صف بستہ کھڑے ہو گئے۔ یہاں کا ماحول کوٹھی اور یتیم خانہ بلکہ گاؤں سے بھی مختلف تھا۔ وہ سبھی لوگ جو کھیتوں سے یا یتیم خانے سے بھاگے تھے یہاں جمع تھے۔ یہ سب مرزائی خاندان کے ستائے ہوئے لوگ تھے اور مرزائیوں سے بدلہ لینے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے اپنا منصوبہ بنا لیا تھا۔ سب سے پہلے انہیں گھوڑوں کے ایک اصطبل پر قبضہ کرنا تھا۔ وہاں سے گھوڑے اور ہتھیاروں کے ساتھ حویلی پر حملہ کرنا تھا۔ ساری تیاریاں ہو چکی تھیں۔ امام صاحب کے ساتھ ان لوگوں نے پھر ایک بار اپنے منصوبے کا جائزہ لیا اور امام صاحب واپس چلے گئے۔

          دوسرے دن جب گاؤں والوں نے گھوڑے کی ٹاپ سنی تو حسب معمول مرزائی خاندان کے خاص غلاموں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ڈاکو آئے ڈاکو آئے۔ یہ ان کا معمول تھا کہ وہ لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے اس طرح کا شور مچاتے اور ان دہشت زدہ لوگوں کو انہیں کے ساتھی لوٹ لیتے لیکن اس سے پہلے کہ افراتفری مچتی مسجد کے مینار سے اعلان ہوا یہ ڈاکو نہیں ہیں جو انہیں ڈاکو کہہ رہے ہیں وہ ڈاکو ہیں۔ گاؤں والوں کے لیے یہ سب نیا تھا۔ مسجد کے مینار سے صرف اذان کی آواز بلند ہوتی تھی۔آج پہلی مرتبہ ڈاکوؤں کے بارے میں بتلایا جا رہا تھا۔ انہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا لیکن امام صاحب کی بات پر یقین نہ کرنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ کسی نے انہیں کبھی جھوٹ بولتے نہ سنا تھا۔ گھوڑے کے ٹاپ گاؤں سے گذر کر حویلی کی جانب بڑھنے لگیں یہ بھی گاؤں والوں کے لیے نئی بات تھی۔ اس لیے کہ اس سے پہلے ڈاکوؤں نے کبھی بھی حویلی کا رخ نہیں کیا تھا۔یہ دیکھ کر مرزائی خاندان کے خاص غلاموں نے زور زور سے شور مچانا شروع کر دیا۔ ڈاکو آ گئے ڈاکو آ گئے انہوں نے حویلی پر حملہ کر دیا ہے۔ چلو نکلو حویلی کو بچاؤ۔ بچاؤ۔ بچاؤ۔

          گاؤں والوں نے سوچا۔ ٹھیک ہے حویلی پر حملہ ہوا ہے ہمیں اسے بچانے کے لیے نکلنا چاہئے لیکن جیسے ہی وہ گاؤں سے باہر نکل کر حویلی کی جانب بڑھے امام صاحب کو سامنے کھڑا پایا۔ انہوں نے بلند آواز سے مجمع کو مخاطب کیا۔

          کہاں جا رہے ہو؟

          لوگوں نے کہا۔ حویلی کی طرف۔ اس کی حفاظت کرنے۔ حویلی پر ڈاکوؤں نے حملہ کیا ہے۔

          اما م صاحب نے کہا۔ رک جاؤ اس سے پہلے جب ڈاکو گاؤں پر حملہ کرتے تھے کیا کوئی حویلی سے تمہاری حفاظت کے لیے آتا تھا۔ حالاں کہ ان کے پاس گھوڑے بھی تھے اور بندوقیں بھی تھیں۔

          گاؤں والوں نے سوچنا شروع کر دیا۔ وہاں سے تو کوئی ہماری حفاظت کے لیے کبھی نہیں آیا۔ امام صاحب نے کہا۔کیسے آتا؟وہی تو تمہیں لوٹنے آتے تھے۔ ڈاکو وہ نہیں ہیں جو حویلی کی طرف گئے ہیں بلکہ ڈاکو وہ ہیں جن کی طرف وہ گئے ہیں۔

           اور یہ جو انہیں ڈاکو کہہ رہے ہیں ؟ مجمع میں سے ایک نے سوال کیا۔

          یہ ان کے دلال ہیں۔ امام صاحب نے جواب دیا۔

          مجمع بپھر گیا۔ اپنے درمیان پائی جانے والی کالی بھیڑوں پر پل پڑا۔

          ادھر حویلی والے اس طرح کے حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھے۔ وہ تو ہمیشہ لوگوں پر حملے کرتے تھے انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کوئی ان پر حملہ کر سکتا ہے۔ سارے گھوڑے اور گولے بارود ان کے اپنے قبضہ میں تھے۔ لوگوں کو انہوں نے نہتا اور مجبور کر کے رکھا ہوا تھا۔ یہ بات ان کے خواب و خیال میں نہ تھی کہ کبھی یہی نہتے اور مجبور لوگ خود انہیں کے گھوڑوں پر سوار ہو کر حویلی پر دھاوا بول سکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ سب ان کی سمجھ میں آتا کھیل ختم ہو چکا تھا۔مرزائی خاندان کے تمام مردوں کو قید کر لیا گیا تھا۔ گھوڑوں پر آنے والے مجاہدین اپنی ماؤں، بہنوں اور بیویوں سے مل رہے تھے جنھیں ان سے چھین کر لونڈی بنا دیا گیا تھا لیکن ان میں سے چند لوگ کوٹھی کی دیواریں گرا رہے تھے اس کے برجوں کومسمار کر رہے تھے۔ ایسے میں چند گھوڑ سوار وہاں آ گئے۔ ان لوگوں نے پوچھا۔ آپ لوگ یہ کیا کر رہے ہیں ؟

          ہم اس غلامی کی نشانی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔

          لیکن ایسا تم کیوں کر رہے ہو۔ یہ غلامی ہی کی نہیں بلکہ اقتدار کی علامت ہے۔

          ہمیں سرکار تو چاہئے نہیں مرزائی سرکار ہم نے ختم کر دی اب کوئی سرکار یہاں نہیں رہے گی۔ ہم اسے نیست و نابود کر دیں گے۔ غصہ سے بپھرے ہوئے ان لوگوں کے ہاتھ نہ رکتے تھے۔ لیکن ایک گھوڑ سوار نے کہا۔

          جاؤ امام صاحب کو بلاؤ اور پھر ان جوشیلے جوانوں کو سمجھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حکومت لازمی ہے۔ مرزائی ختم ہو گئے تو کیا ہوا اب ہمارے رہنما امام صاحب یہاں رہیں گے اور یہاں سے اپنی حکومت چلائیں گے۔

          مسمار کرنے والوں نے کہا نہیں ہمیں یہ سب نہیں چاہئے۔ ہمیں حکومت نہیں چاہئے۔ ہم نے ظلم کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔ اب ہم اسے پوری طرح مٹا کر دم لیں گے۔

          اس بحث و مباحثہ کے درمیان امام صاحب وہاں پہنچ گئے۔ مجاہدین کے درمیان موجود دانشوروں نے امام صاحب سے کہا۔یہ احمق اس حویلی کو برباد کر رہے ہیں حالانکہ ہمارا جھگڑا حویلی سے نہیں حویلی والوں سے ہے۔ جنہیں ہم نے قید کر لیا ہے۔ اب آپ کو یہاں بیٹھ کر قہر آباد کی زمام کار سنبھالنی ہے اور یہ اسے زمین بوس کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

          امام صاحب مسکرائے اور انہوں نے کہا۔ انہیں اپنا کام کرنے دو یہ جو کچھ کر رہے ہیں ٹھیک ہی کر رہے ہیں۔ میں جس کام کو کرنا چاہتا ہوں وہ اس حویلی سے نہیں ہو سکتا اور پھر میں اس خونی حویلی میں رہ بھی نہیں سکتا۔

          اچھا تو آپ کہاں رہیں گے؟

          مسجد کے پاس والے اپنے اسی حجرے میں جہاں رہتا ہوں۔

          اور کہاں سے حکومت چلائیں گے؟

          اسی مسجد سے اس لیے کہ جیسے ظلم و نا انصافی کا خاتمہ وہاں سے ہوا ہے اسی طرح عدل و انصاف کا قیام بھی وہیں سے ہو گا۔

٭٭٭