کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کتھا کنج کا راج پاٹ

محمد حمید شاہد


سمندر کی عمیق لہروں کے پیچھے سے ایڑیاں اچکا کر جیسے ہی سورج نے کتھاکنج گاؤں میں جھانکا پرکاش سُکھ سوریہ ونشی نے پہلی کرن کے پہنچنے سے قبل کشتی کا لنگر کھول دیا۔ اکادشی کی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ سمندر کا سفر بہترین شگون سمجھا جاتا ہے لیکن شاذونادر ہی یہ لمحہ کسی کو نصیب ہوتا۔اس لئے کہ اکا دشی پورنیما کی رات سال میں ایک بار آتی اس رات یہ لوگ سورج دیوتا کی بیٹی چندا رانی کی عبادت کرتے رات بھر ناچ رنگ کی محفلیں سجتیں اور آخری پہر تھک ہار کر اپنے بستروں کا رخ کرتے۔ اب اس کے بعد صبح تڑکے اس شبھ مہورت کو پانا تقریباً نا ممکن ہوتا تھا۔

           لیکن رمیش سوریہ نے اس بار اس کا خاص اہتمام کیا تھا۔ ایک ہفتہ قبل اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ اس مہورت پر سمندر میں داخل ہو گیا اور اس کے جال میں مچھلیوں کی بجائے ایک سونے کا ناریل آ گیا۔ اس نے جب اس ناریل کو توڑا تو اس میں سے بطخ کے انڈے کی جسامت کا موتی نکل آیاجس سے اس کا گھر جگمگا نے لگا۔ گاؤں والوں نے یہ چمتکار دیکھ کر اسے اپنا راجہ بنا لیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ تخت پر بیٹھتا اور تاج اپنے سر پر سجاتا اس کی آنکھ کھل گئی، خواب نے دم توڑ دیا لیکن اس کے تکمیل کی خواہش نے جنم لے لیا پورنیما کی رات اس نے صرف اپنے اس خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے کی منت باندھی وہ رقص و سرور کی محفلوں سے بچتا بچاتا گھر آیا اور بستر پر لیٹ گیا اسے علی الصبح اٹھنا تھا،شبھ مہورت کشتی کھولنا تھی،لیکن آنکھوں میں نیند کہاں ؟ اب وہ جاگتے ہوئے خواب دیکھ رہا تھا۔ اپنا محل اپنا تخت اپنا تاج اپنی فوج اور میدان جنگ یہ سب دیکھتے دیکھتے اسے نیند آ گئی۔

           صبح منہ اندھیرے جب وہ سمندر کی جانب جا رہا تھا اسے جھاڑیوں میں سرسراہٹ محسوس ہوئی وہ چونک پڑا یہ کون ہے جو اپنا سپنا ساکار کرنے میں اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ وہ سوچنے لگا کیا ایک ساتھ دو کشتیاں کھلیں گی اور ان میں مسابقت شروع ہو جائے گی اور پھر وہ دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گی اور پھر اس کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔ نہیں ! اس کے اندیشے غلط ثابت ہوئے وہ کوئی جانور تھاجس نے اپنا رخ بدل دیا اور سمندر سے بستی کی جانب چل پڑا۔رمیش سوریہ کو قدرے اطمینان ہوا۔ انسان کو اپنے اقتدار میں کسی کی شرکت برداشت نہیں کرنا چاہئے۔وہ اقتدار خواب کے پردے میں چھپا ہوا کیوں نہ ہو۔ اقتدار حقیقی ہو یا مجازی وہ مزاج شرک سے پاک ہے۔ اپنی کشتی میں پہنچ کر رمیش نے دائیں بائیں تا حد نگاہ نظر دوڑائی، موت کی سی خاموشی دیکھ کر وہ خوش ہو گیا اور سورج دیوتا کا انتظار کرنے لگا۔ لنگر کی رسی اس کے ہاتھ میں تھی اور پیروں میں پتوار پڑی تھی، آنکھیں افق پر گڑی ہوئی تھیں۔ سب کچھ عین منصوبے کے مطابق ہوا۔ اس کی کشتی سمندر کا سینہ چیر کر آگے بڑھنے لگی کہ اس نے لہروں پر تیرتی ایک نہایت حسین و جمیل ٹوکری دیکھی، اسے دیکھنے کے بعد وہ اپنا جال، ناریل اور خواب سب کچھ بھول گیا ایک مقناطیسی کشش اسے ٹوکری کی جانب لئے جا رہی تھی۔ چند لمحات کے اندر اس نے ٹوکری کو لپک لیا اور جیسے ہی اسے کھولا اس کی آنکھیں پھیل گئیں اس کے اندر ایک نہایت حسین و جمیل بچّہ مسکرا رہا تھا۔یہ قدرت کا تحفہ ہے، یہ اس کی دعاؤں کا ثمر ہے، یہ اس کی قسمت کا ستارہ ہے اس کا سورج ہے، اس کا چاند ہے، اس کا سب کچھ ہے۔ یہ سب سوچتے ہوئے اس نے کب اپنی کشتی کا رخ دوبارہ ساحل کی جانب کیا، کب اسے لنگر انداز کیا اور کیسے گھر پہنچا اسے کچھ بھی پتہ نہ چلا۔ اس کی جھونپڑی میں وہ اور اس کی بیوی چندا رہتے تھے۔ چندا کے سوا اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ایک کشتی کے حادثے میں اس کے سارے خاندان کو سمندر نے نگل لیا تھا۔ وہ معجزاتی طور پر بچا لیا گیا۔ اور جوانی میں اسے چندا نے اپنا لیا اور اس کی اپنی ہو گئی۔

          چندا گہری نیند میں سو رہی تھی اس نے سوچا کہ چندا کو نہ جگائے لیکن صبر نہ کر سکا۔ اس نے چندا کو جھنجھوڑنا شروع کر دیا۔

          اٹھو بھاگیہ وان دیکھو آج پورنیما کی شبھ مہورت پر سوریہ دیوتا نے ہمیں کون سا انعام دیا ہے۔

          چندا یہ سن کر چونک پڑی اور ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کیا ناریل مل گیا؟ اس نے سوال کیا۔

          نہیں پگلی ناریل کے پیٹ سے مردہ موتی نہیں بلکہ ٹوکری کے اندر سے زندہ چہچہاتا ہوا لال۔

          یہ کون ہے؟ چندا نے پوچھا۔ کس کا بچہ اٹھا لائے صبح صبح۔

          کیا بکتی ہو؟ پرکاش بولا۔ ایسا خوبصورت بچہ کسی کے پاس ہے ہماری بستی میں یا آس پاس کی بستی یا ساری دنیا میں۔ ایسا خوبصورت کسی کا نہیں ہے کسی کا نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ ہمارا چشم و چراغ ہے۔ یہ ہے ہمارا راجہ۔ میرا اور تمہارا راجہ۔ یہ سب کا راجہ ہے کتھا کنج کا راجہ ہے۔

          بحر ہند کی ساحلی پٹی پر کئی ماہی گیری بستیاں آباد تھیں لیکن ان سب کا راجہ فقط ایک تھا راج گڈھ کا کٹھور سنگھ چند ر سینی نہ جانے کس منحوس گھڑی میں یہ روایت پڑی تھی کہ راجہ صرف چندر سینوں کے راج پریوار کا فرد ہو گا اور یہ روایت ایسی چلی کہ لوگوں نے سوچنا ہی چھوڑ دیا کہ راجہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے سارے علاقے کی عوام نے محکومی کو اپنا مقدر مان لیا اور ہمیشہ کے لیے چند رسینی راجاؤں کو اپنا حاکم۔ اسی لیے پرکاش سنگھ سوریہ ونشی کی بات لوگوں کو عجیب و غریب لگنے لگی۔ جب گاؤں بھر میں چرچے عام ہو گئے تو پرکاش کا لنگوٹیہ یاررمیش اس سے ملنے آیا۔ دعا سلام کھان پان کے بعد اس نے کہا۔

          پرکاش تم جانتے ہو آج کل لوگ تمہارے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں ؟

          پرکاش نے حیرت سے پوچھا۔ کیا؟

          جواب ملا۔ لوگ کہتے ہیں تمہارا دو ست پرکاش باؤلا ہو گیا ہے۔

          وہ کیوں ؟ پرکاش نے پوچھا۔

          اس لیے کہ تم کہتے ہو تمہارا بیٹا کتھا کنج کا راجہ ہونے والا ہے۔

          اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ پرکاش بولا۔یہاں سے پانچ سو کوس دور راج گڈھ کا کٹھور سنگھ ہمارا راجہ ہو سکتا ہے تو میرا لال بھنور سنگھ سوریہ ونشی راجہ کیوں نہیں ہو سکتا؟

          نہیں ہو سکتا۔ رمیش بولا۔ اس لیے کہ ایسا کبھی ہوا نہیں ہے۔

          لیکن اگر ہوا نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ کبھی ہو گا بھی نہیں۔

          لیکن ایسی انہونی کے لیے کوئی کارن بھی تو ہونا چاہئے۔ رمیش نے اصرار کے ساتھ سوال کیا

          پرکاش بولا۔ کارن، کارن کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر ہے بھی تو یہ کیا کم ہے کہ اس سے پہلے کبھی بھی سوریہ دیوتا نے ہمیں ایسا کوئی وردان نہیں دیا۔ بھنور ایکا دشی پورنیما کی صبح سوریہ دیوتا کا دیا ہوا وردان ہے۔ بھنور میں پھنسا ہوا یہ بچہ ہمیں کٹھور سنگھ کے کرور راجیہ بھنور سے مُکتی دلانے والا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے آواز دی۔ چندا ذرا اپنے راجہ کو باہر تو لاؤ۔

          چندا فوراً لال ریشمی چادر میں لپیٹ کر بھنور سنگھ کو رمیش کے سامنے لے آئی۔ رمیش نے جب بچے کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ اتنا خوبصورت بچہ اس نے کبھی بھی نہ دیکھا تھا۔ وہ پرکاش سے ہونے والی ساری بحث کو یکسر بھول گیا۔ اس نے بھنور سنگھ کو اپنی گود میں لے لیا۔ اس کو چومنے لگا۔ اس سے کھیلنے لگا۔ اس سے باتیں کرنے لگا۔ بھنور سنگھ بھی کلکاریاں لے رہا تھا۔ دونوں ایک دوسری کی زبان نہ سمجھتے تھے لیکن ایک دوسرے سے بولے جاتے تھے۔ پرکاش اور چندا اس منظر کو دیکھ کر مسکراتے جاتے تھے۔

          بھنور کے چرچے جب زبان زد عام ہو گئے تو ایک دن گاؤں پروہت دھرمیش سوریہ ونشی نے پرکاش کو اپنے پاس بلوایا۔ مندر میں پہنچ کر پرکاش نے پہلے پوجا ارچنا کی اور پھر پرساد لینے پروہت کے پاس جا پہنچا۔ پروہت نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔ دھرمیش نے چائے پان پیش کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پروہت جِیج مانی (میزبانی) کر رہا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے تو وہ مہمانی ہی کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ دعا سلام کے بعد دھرمیش نے پوچھا۔

          پرکاش آج کل تم کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو؟

          کیسی بات؟پرکاش نے پوچھا۔

          یہی کہ تمہارا بیٹا بھنور سنگھ کتھا کنج کا راجہ بنے گا؟

          لیکن اس میں تعجب کی کیا بات ہے گرو دیو؟ پرکاش بولا۔ بھنور سنگھ راجہ کیوں نہیں بن سکتا؟

          پھر وہی بات۔ ارے بدھو راج گڈھ کے راج پریوار کا دھرم راج دھرم ہے اور ہمارا کرم پرجا دھرم۔ وہ اپنا دھرم پالن کرتے ہیں اور ہم اپنا دھرم پالن کرتے ہیں جس سے ہمارے اور ان کے درمیان سنتولن (توازن) بنا ہوا ہے۔جب یہ سنتولن بگڑ جائے گا پرلیہ (قیامت) ہو جائے گا۔

          پرکاش نے کہا۔ گرودیو آپ کا یہ پروچن اور آپ کی یہ بھویشہ وانی کیا کسی گرنتھ میں لکھی ہے؟ یا یہ آپ کے من کا سنکوچ ہے؟

          یہ تو ایک ناگزیر حقیقت ہے بالک۔ اس کا کسی گرنتھ میں لکھا ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ تو پتھر کی لکیر ہے۔ ایسا ہو گا اور ایسا ہی ہو گا۔

          پروہت نے جیسے ہی اپنی بات پوری کی پرکاش بولا۔ گرودیو ایسا آپ سوچتے ہیں یا چاہتے ہیں ؟

          اس سوال پر دھرمیش سوریہ ونشی خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر بعد وہ بولے۔ میں یہ نہیں چاہتا۔ میں ہرگز یہ نہیں چاہتا۔ لیکن چونکہ یہی ہو گا اس لیے تمہیں سمجھاتا ہوں کہ یہ خیال اپنے ذہن سے نکال دو۔

          پرکاش بولا۔ گرودیو آپ راج دھرم کی بات کر رہے تھے۔ کیا راج دھرم کا ارتھ نیائے استھاپنا نہیں ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ کٹھور سنگھ انیائے اور اتیاچار کرتا ہے۔ اپنی پرجا کا سوشن کرتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو کیا اپنے راج دھرم کا پالن کرتا ہے؟

          نہیں۔ وہ اپنے راج دھرم کا پالن نہیں کرتا۔ پروہت نے جواب دیا۔

          اگر وہ اپنے دھرم کا پالن نہیں کرتا تو ہم اس کے تئیں اپنے دھرم کا پالن کیوں کریں ؟ بلکہ کیا انیائے اور اتیا چار کے وِرُدھ سنگھرش کرنا ہمارا دھرم نہیں ہے؟

          پروہت دھرمیش سوریہ ونشی پرکاش کے آگے چاروں شانے چت ہو گیا۔ اس نے کہا۔ دیکھو ششیہ میں تم سے بحث نہیں کر سکتا۔ میں تمہارے سارے پرشنوں کا اُتّر نہیں دے سکتا۔ میں تو صرف تمہیں سمجھانا چاہتا تھا کہ تم آگ سے کھیل رہے ہو اور یہ ایسی آگ ہے جو نہ صرف تمہیں بلکہ ساری کتھا کنج کو بھسم کر دے گی۔

          پرکاش نے کہا۔ دھنیہ واد گرو دیو۔ آپ کی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اگر یہ آگ ہمارے ساتھ ساتھ غلامی کی ان زنجیروں کو بھی پگھلا دے جس نے صدیوں سے ہمیں جکڑ رکھا ہے تو میں اس آگ کو بھی سوریہ دیوتا کا وردان سمجھوں گا۔

          پروہت نے کہا۔ کاش کہ ایسا ہو۔

          ایسا ہی ہو گا۔ یہ کہہ کر پرکاش نے دھرمیش کے چرنوں کو چھو کر وداع لیا۔

          کتھا کنج گاؤں کا مکھیا نشچئے سنگھ سوریہ ونشی ایک نہایت ملنسار بزرگ تھے۔ سارا گاؤں ان کا بے حد احترام کرتا تھا۔ ہر گاؤں والے کے دکھ سکھ میں وہ برابر کے شریک رہتے تھے۔ ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے اور اسے حل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے۔ لوگ ان کو بہت مانتے تھے اور ان کی ہر بات مانتے تھے۔ انہوں نے ہی دھرمیش پروہت سے کہا تھا کہ وہ پرکاش کو بلا کر سمجھائیں منائیں۔ لیکن ہوا یہ کہ پروہت خود پرکاش کی بات مان گئے۔ پرکاش کے جانے کے بعد پروہت بھی اپنے کمرے سے نکلے اور نشچئے کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ انہوں نے ساری بات من و عن سنا دی۔

          پروہت کی بات سننے کے بعد نشچئے نے پوچھا۔ پرکاش کی چھوڑو تم اپنی بتاؤ۔ تمہارا کیا خیال ہے؟

          پرکاش کی بات حق ہے۔ پروہت نے کہا۔ میرا من تو یہی کہتا ہے۔

          نشچئے نے پوچھا۔ پھر سنکٹ کیا ہے؟

          سنکٹ یہ ہے کہ پرینام (انجام) سے ڈر لگتا ہے۔

          یہ ڈر تمہیں لگتا ہے یا پرکاش کو بھی لگتا ہے؟

          پروہت نے کہا۔ مجھے تو لگتا ہے۔ شاید پرکاش کو نہیں لگتا۔

          نشچئے نے کہا۔ ٹھیک ہے میں اس سے بات کروں گا۔

          پرکاش جس وقت نشچئے سنگھ کے گھر پہنچا دربار لگا ہوا تھا۔لوگ اپنی اپنی سناتے رہے اور نشچئے کی سن کر جاتے رہے۔ بہت سے لوگ پرکاش کے بعد آئے ان سے بھی نشچئے نے بات کی لیکن پرکاش کو نظرانداز کر دیا۔ پرکاش نے سوچا۔ یہ عجیب بات ہے مجھے بلا کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ شاید مکھیا جی ناراض ہیں۔ سب لوگ چلے گئے تو مکھیا نے پرکاش کو اپنے پاس بلایا اور کہا۔

          پرکاش تم سوچ رہے ہو گے تمہیں اتنا انتظار کیوں کروایا گیا؟

          نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ پرکاش بولا۔

          نشچئے نے کہا۔ کیوں نہیں ؟ بات ہے سو ہے۔اور بات دراصل یہ ہے میں تم سے ایکانت میں بات کرنا چاہتا تھا اور یہ طویل بات ہے۔ اس لیے باقی سب کو جلدی جلدی نمٹا دیا۔ تمہیں برا تو نہیں لگا؟

          نہیں پردھان جی۔ آپ کی کسی بات کا ہمیں برا نہیں لگتا۔ اس لیے کہ آپ ہمارے خیرخواہ ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ہم سے زیادہ ہمارے بہی خواہ ہیں۔

          چھوڑو یہ سب باتیں۔ تم راجہ کا مطلب جانتے ہو؟

          ہاں ہاں۔ بالکل جانتا ہوں۔

          تو کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں ہو سکتیں اسی طرح ایک بستی میں کئی راجہ نہیں ہو سکتے۔

          ہاں یہ بھی جانتا ہوں۔ لیکن پردھان جی اگر ایک بستی کے کئی راجہ نہیں ہو سکتے تو کئی بستیوں کا ایک راجہ کیوں کر ہو سکتا ہے؟

          نشچئے سنگھ پرکاش کے اس جواب سے چونک پڑے۔ پرکاش نے بات آگے بڑھائی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بھنور سنگھ کتھا کنج کے ساتھ ساتھ راج گڈھ اور آس پاس کی تمام بستیوں کا بھی راجہ بنے گا میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ بھنور سنگھ کتھا کنج کا راجہ ہو گا۔

          لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے کہ اس صورت میں کٹھور سنگھ کتھا کنج کا راجہ نہیں ہو گا۔

          بے شک اس کا یہ مطلب ہوتا ہے۔ پرکاش بولا۔

          تو پھر کیا کٹھور سنگھ ہمارے اس فیصلے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لے گا؟

          پرکاش نے کہا۔ نہیں۔

          اور اگر اس نے آس پاس کی تمام بستی والوں کے ساتھ ہم پر حملہ کر دیا تو ہمارا کیا ہو گا؟

          لیکن دوسری بستی کے لوگ اس کا ساتھ کیوں دیں گے؟ جب کہ اس نے انہیں بھی غلام بنا رکھا ہے۔

          نشچئے نے کہا۔ تمہاری بات صحیح ہے۔ غلاموں کو چاہئے کہ وہ غلاموں کا ساتھ دیں۔ لیکن ہوتا یہ نہیں ہے۔ غلام اکثر دوسرے غلاموں کے خلاف اپنے آقا کا ساتھ دیتے ہیں۔

          پرکاش نے پوچھا۔ پردھان جی آپ نے دنیا دیکھی ہے۔آپ بتائیں وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

          وہ ایسا اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے کرتے ہیں یا ڈر سے کرتے ہیں۔

          لیکن ان کا ڈر کون ختم کرے گا؟وہ جو خود ڈرا ہوا ہو یا خود نڈر ہو؟پرکاش نے سوال کیا۔

          نشچئے نے کہا۔ جو نڈر ہو۔

          تو ہمیں نڈر بننا ہو گا۔

          نشچئے بولے۔ تم تو پہلے سے نڈر ہو پرکاش۔ یہ کہو کہ تمہیں نڈر بنانا ہو گا۔

          لیکن ایک سمسّیا پھر بھی ہے۔ اگر دوسری بستیوں کے لوگ کٹھور سنگھ کے ساتھ نہ بھی آئے تب بھی راج گڈھ کے لوگ ہی ہماری اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے کافی ہیں۔

          لیکن پردھان جی کیا کٹھور سنگھ راج گڈھ کی جنتا کا سوشن نہیں کرتا؟ ان پر انیائے اور اتیا چار نہیں کرتا؟

          کرتا ہے۔

          تب کیا ان کے من میں بھی کٹھور سنگھ کے خلاف آ کروش نہیں ہے۔

          ہے۔ لیکن وہ ان کا اپنا آدمی ہے۔

          انیائے تو انیائے ہوتا ہے چاہے وہ اپنے دوارا ہو یا پرائے دوارا۔بلکہ اپنے کا اتیا چار زیادہ کھلنا چاہئے۔

          تمہاری بات تو صحیح ہے لیکن اس کو چھوڑ کر وہ تمہارا ساتھ کیسے دے سکتے ہیں ؟ وہ ان کا اپنا آدمی ہے اور تم پرائے ہو۔

          آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں ہم اپنی حفاظت آپ کر سکتے ہیں ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس کا ساتھ نہ دیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو کٹھور سنگھ ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے گا بلکہ جب وہ یہاں سے پراجت ہو کر لوٹے گا تو اپنا سنہاسن بھی غائب پائے گا۔

          پرکاش اور نشچئے سنگھ کی بات چیت چل ہی رہی تھی کہ پنچایت کے کچھ معمر سدسیہ دھرمیش پروہت کے ساتھ اجازت لے کر نشچئے سنگھ کی سیوا میں حاضر ہوئے اور ایکانت میں کچھ کہنے کی اجازت چاہی۔

          پرکاش کھڑا ہو گیا لیکن نشچئے نے کہا۔ پرکاش بیٹے بیٹھ جاؤ اور پنچایت کے لوگوں کی جانب مڑ کر کہا۔نسنکوچ ہو کر کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟

          دھرمیش بولا۔ پردھان جی کٹھور سنگھ کتھا کنج کے باسیوں پر آگ بگولہ ہو گیا ہے اور اپنی فوج کے ساتھ ہماری جانب کوچ کر چکا ہے۔ اب تُرنت کچھ کریں ورنہ پرلیہ ہو جائے گا۔

          نشچئے نے کہا۔ مصلحت اور مصالحت کی چنداں ضرورت نہیں۔ جاؤ مندر کے ڈھنڈورچی سے اعلان کروا دو ہم مقابلہ کریں گے۔پرکاش سنگھ سوریہ ونشی ہمارا سینا پتی ہو گا۔

          سینا پتی نہیں بلکہ ہمارا راجہ… راجہ پرکاش سنگھ سوریہ ونشی!

٭٭٭