کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

واپسی

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن

وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے

                                                                   (حفیظ میرٹھی)

حسن میاں بیس سال سے روڈویز محکمہ میں بس کنڈکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ حسن میاں جیسا ایماندار کنڈکٹر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا یہ ان کے اعلیٰ افسران بھی خوب جانتے تھے۔یہ شاید ان کی ایمانداری کی شہرت ہی تھی جس نے انھیں بیس سال نوکری کرنے کے باوجود بس کنڈکٹر ہی بنائے رکھا تھا اور ان کا پروموشن نہیں ہوا تھا۔

حسن میاں کی عمر تقریباً ۴۰سال ہو گی۔ عام قد کاٹھی کے باوجود چہرے پر بڑی کشش تھی۔ چوڑی پیشانی، قدر لمبی ناک، چھوٹی چھوٹی آنکھیں کھچڑی بال اور شرعی داڑھی ان کے چہرے کو پرکشش بناتے تھے۔ حسن میاں کے والد روڈویز میں ملازم تھے۔ ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں آن ڈیوٹی وہ ہلاک ہو گئے تھے ان کی جگہ حسن میاں کو بہت کم عمر میں ہی نوکری مل گئی تھی۔وہ ابھی بی۔اے کی تعلیم مکمل کر پائے تھے۔ماں اور دو بہنوں کی ذمہ داری نوکری ملتے ہی ان کے کاندھوں پر آن پڑی تھی۔انھوں نے ماں کے مشورے پر جلدی جلدی دونوں بہنوں کی شادی کر کے جنت مستحکم کر لی تھی۔ لیکن ان شادیوں کی وجہ سے وہ مقروض ہو گئے تو اپنی شادی طویل مدت کے لیے ٹال دی تھی۔

حسن میاں نے جب سے کنڈکٹری شروع کی تھی کبھی ایک ٹکٹ کی بھی ہیر پھیر نہیں کی تھی کبھی ان کے خلاف کوئی شکایت بھی درج نہیں ہوئی تھی۔ ان کے ساتھی کنڈکٹر انھیں کئی مرتبہ سمجھاتے بھی۔

’’ حسن بھائی کبھی کبھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیا کرو۔‘‘

’’نہیں بھائی مجھے تنخواہ ہی کافی ہے ‘‘

’’مگر شادی ہو گی۔بیوی بچے ہوں گے تو اس تنخواہ میں کیسے گزارہ کرو گے۔‘‘

’’اللہ بہت بڑا ہے۔‘‘ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر ہمیشہ یہی کہتے تھے۔

اللہ اللہ کر کے ان کا قرض ادا ہوا تو ماں کو شادی کی فکر لاحق ہوئی اور ایک روز بڑی سادگی کے ساتھ ان کا نکاح سلمیٰ بیگم سے ہو گیا۔

سلمیٰ بیگم بھی ان کے مزاج میں ایسی رنگی کہ دوستوں کی باتیں انھیں مذاق ہی لگیں۔ کیونکہ ان کی تنخواہ کے مطابق ہی گھر کا نظام سلمیٰ بیگم نے ڈھال لیا تھا۔ اور اگلے سال ان کے گھر میں ننھی معصوم سی گڑیا ’’ثنا‘‘ نے قدم رکھے تو حسن میاں کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہ رہا۔ لیکن جب وہ چار سال میں ہی تین بچوں کے باپ بن گئے تو انھیں پہلی بار تنخواہ کے کم ہونے کا احساس ہوا۔ ظاہر ہے تین بچوں کی پرورش اور گھر کے دیگر مسائل کے چلتے اخراجات بڑھ گئے تھے۔

اصغر بھی حسن میاں کے ساتھ ہی روڈویز میں ملازم ہوا تھا۔ اس نے جب حسن میاں کو پریشان دیکھا تو پوچھنے لگا۔’’کیا ہوا حسن ،کیوں پریشان ہو۔‘‘

’’کچھ نہیں ،بس ذرا مہینہ تنگ چل رہا ہے۔‘‘

’’کتنی بار سمجھایا تمہیں ،موقع دیکھ کر کچھ آمدنی کر لیا کرو۔اس زمانے میں سب ایسے ہی چلتا ہے دوست۔‘‘ اصغر نے کہا۔

’’لیکن یہ گناہ ہے۔‘‘ حسن میاں ابھی دین پر قائم تھے۔

’’ارے یار اگر تم دس ٹکٹ کی رقم بچا لو گے تو کون سا روڈویز کنگال ہو جائے گا۔‘‘

’’لیکن میرا ایمان تو ضائع ہو جائے گا۔‘‘

’’اف۔حسن تم کس مٹی کے بنے ہو۔ اس دنیا میں تم کہاں سے پیدا ہو گئے جہاں لوگوں کے ہر دن ایمان بکتے ہیں۔‘‘ اصغر اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔

حسن میاں کو کبھی لمبے روٹ کی گاڑی پر کنڈکٹر نہیں بنایا گیا۔شاید اس کی وجہ بھی ان کی ایمانداری ہی تھی افسران کو پتہ تھا کہ یہ تو خود کچھ نہیں کماتے تو بھلا انھیں کیا دیں گے۔ اس لیے وہ محض سنبھل -مرادآباد روٹ پر ہی چلتے تھے۔

حسن میاں کی تنخواہ مہینے کی ۲۵تاریخ آتے آتے آخری سانسیں لینے لگتی تھی۔ پھر اس مرتبہ تو عید کا تہوار بھی پڑ گیا تھا اس لیے ہاتھ کچھ زیادہ ہی تنگ ہو گیا تھا۔

’’ابا کل مجھے اپنی فیس جمع کرنی ہے ورنہ میرانام اسکول سے کاٹ دیا جائے گا۔‘‘

حسن میاں کی بیٹی ثنا نے کہا تو حسن میاں کو بڑی تکلیف ہوئی۔ وہ نم آنکھوں سے ثنا کو تسلی دینے لگے۔ ’’نہیں بیٹا تمہاری فیس کا انتظام ہو جائے گا۔‘‘ حسن میاں نے سوچا کہ انچارج آفیسر سے کچھ ایڈوانس کا مطالبہ کریں گے۔ لیکن جب وہ روڈویز پر پہنچے تو پتہ لگا کہ انچارج چھٹی پر تھے۔

اب وہ کیا کریں۔ انھوں نے سوچا چلو اصغر سے ہی کچھ اُدھار لے لیں۔ لیکن ان کی خوددار طبیعت نے گوارہ نہ کیا کہ وہ کسی سے ادھار مانگیں۔ پھر وہ فیس کا انتظام کیسے کریں۔ اسی سوچ میں گُم وہ ڈیوٹی جوائن کر کے بس میں سوار ہو گئے۔

انھوں نے ٹکٹ بنانے شروع کیے ہی تھے کہ ان کے تھیلے میں کل کے کئی ٹکٹ پڑے ہوئے مل گئے۔ جو کہ رقم واپسی کرنے کے بعد کوئی مسافر ان کے ہی پاس چھوڑ گیا تھا۔

’’اگر میں ان ٹکٹوں کو فروخت کر دوں تو ثنا کی فیس کا انتظام ہو سکتا ہے۔‘‘

حسن میاں نے پہلی بار غلط بات سوچی تو ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک اٹھیں۔

’’نہیں نہیں …یہ گناہ مجھ سے نہیں ہو گا۔‘‘  حسن میاں کے اندر سے آواز آئی۔

’’لیکن پھر ثنا کی فیس کا انتظام کیسے ہو گا۔‘‘ ان کے اندر سے پھر آواز آئی۔

حسن میاں تذبذب کا شکار ہو گئے تھے وہ کیا کریں۔چند روپئے کے لیے کیا وہ اپنا ایمان فروخت کر دیں۔ اگر وہ پکڑے گئے تو کتنی بدنامی ہو گی۔ ارے نہیں تمام لوگ کتنی کتنی بے ایمانی کرتے ہیں دہ کہاں پکڑے جاتے ہیں۔ وہ تو محض ایک بار ثنا کی فیس کے لیے ہی جرم کر رہے ہیں۔آئندہ کے لیے توبہ کر لیں گے۔

حسن میاں کے اندر بھیانک جنگ جاری تھی۔ انسان اور شیطان کے درمیان ہوئی اس جنگ میں آخرکار شیطان ہی جیت گیا۔

حسن میاں نے جلدی جلدی ٹکٹ فروخت کیے اور گاڑی سنبھل کے لیے روانہ ہو گئی۔راستے میں حسن میاں کادل دھڑ دھڑ کر رہا تھا کہ کہیں گاڑی چیک نہ ہو جائے۔ ایک ایک کر کے تمام اسٹیشن چھوٹ گئے اور اب وہ سرسی کے قریب تھے کہ اچانک ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔

’’کنڈکٹر صاحب …اے آر ایم صاحب گاڑی چیک کریں گے۔ ‘‘

ڈرائیور کی آواز حسن میاں کے کانوں میں پگھلے شیشے کی مانند داخل ہوئی۔ حسن میاں کا دل دھک سے رہ گیا۔ ان کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چھلک آئیں۔ وہ بے حرکت اپنی سیٹ پر بیٹھے ہی رہ گئے۔

’’ارے یہ تو حسن میاں کی گاڑی ہے۔‘‘  اے آر ایم جیسے ہی بس میں چڑھے تو ان کی نظر دروازے کے قریب ہی بیٹھے حسن میاں پر پڑ گئی۔

اے آر ایم نے مسافروں کی گنتی کرتے ماتحت کو آواز لگائی۔

’’ارے سنو چلو نیچے آ جاؤ اور دوسری گاڑی روکو۔ یہ حسن میاں کی گاڑی ہے۔ بیس سال میں ان کی گاڑی میں کبھی بے ایمانی نہیں ملی تو اب کیا ملے گی۔بے کار وقت ضائع کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ اے آر ایم صاحب نے کہا تو ان کے ماتحت نے مسافروں کی گنتی کرنا ترک کر دیا۔ اور وہ نیچے اتر کر دوسری گاڑی روکنے کے لیے الرٹ ہو گیا۔

بس سے اترتے ہوئے اے آر ایم کی نگاہ حسن میاں کے چہرے پر پڑی تو وہ پریشان ہو کر بولے۔ ’’لگتا ہے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔دیکھو حسن اگر صحت ٹھیک نہیں رکھو گے تو روڈویز کی خدمت کیسے کر پاؤ گے۔ اس لیے ابھی جا کر ڈاکٹر کو دکھانا۔‘‘  اے آرایم صاحب ہدایت دے کر نیچے اتر گئے۔ حسن میاں کو کاٹو تو خون نہیں۔ وہ تو بیہوش ہوتے ہوتے بچے تھے۔

جب ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھائی اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جسم سے ٹکرائے تو وہ ہوش میں آئے۔

ہوش میں آتے ہی انھیں تمام باتیں یاد ہو آئیں۔

’’اف…ان کی برسوں کی ایمانداری پر آ ج داغ لگتے لگتے رہ گیا۔‘‘ انھوں نے دل میں سوچا۔ اور یہ ان کی ایمانداری کا ہی بھروسہ تھا کہ ان کی عزت بچ گئی تھی۔ لیکن انھوں نے جو کچھ کیا تھا کیا وہ ٹھیک تھا۔

’’نہیں …ان کے دل نے کہا۔ تو انھیں لگا کہ ان کا ایمان ان میں سما گیا ہے۔ وہ شیطان کی قید سے رہا ہو گئے تھے۔ اب وہ خود کو بے حد ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے۔

حسن میاں جیسے ہی سنبھل بس اڈہ پر اترے انھوں نے تمام ٹکٹوں کا کیش جمع کرایا۔

’’یہ تو دس ٹکٹوں کے فالتو روپئے جمع کر دیئے حسن صاحب آپ نے۔‘‘  کلرک نے پوچھا۔’’نہیں جناب، دراصل مجھ سے غلطی سے دس ٹکٹ کل کے واپسی والے بھی فروخت ہو گئے تھے۔ جنھیں کیش کے ساتھ جمع کر لیجئے۔ ‘‘ حسن میاں کے جواب پر کلرک اور کیشیئر حسن میاں کا چہرہ تکتے رہ گئے۔

حسن میاں نے کمرے سے باہر نکل کر اپنی گیلی ہوئی آنکھیں رومال سے پونچھیں اور گھر کی طرف بڑھ چلے۔ ان کے قدم جیوں جیوں گھر کی طرف بڑھ رہے تھے وہ سوچتے جا رہے تھے کہ ثنا کی فیس کا انتظام کیسے ہو گا؟ لیکن وہ مطمئن تھے کہ ان کے دل میں بیٹھا شیطان نکل گیا تھا اور وہ ایمان پر واپس لوٹ آئے تھے۔           ٭٭٭