کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

لوک پرلوک

محمد حمید شاہد


ملنگ بابا کے آستانے پر ہمیشہ کی طرح میلہ لگا ہوا تھا۔ بڑے بڑے بزرگوں کی مزار پر سالانہ عرس ہوتا۔ سال میں ایک مرتبہ ہفتہ دس دن کے لیے جھولے سجتے ہوٹلیں سجتیں، سیرو تفریح کا سامان ہوتا اور لوگ وہاں موج مستی کے لیے جاتے۔ لیکن ملنگ بابا کا معاملہ ان سے مختلف تھا۔ یہاں لوگ اپنے دکھ درد لے کر آتے۔ یہاں ان کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا۔ اس لیے یہاں ہر شام اژدہام لگ جاتا اور رات گئے تک یہ محفل سجی رہتی۔ دنیا کے سارے دکھیارے ایک قوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ملنگ بابا کے دربار میں آنے والوں کے درمیان کوئی تفریق کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ کوئی ہندو ہوتا تو کوئی مسلم۔ سکھ اور عیسائی بھی جب غم میں ستائے جاتے تو یہاں حاضر ہو جاتے۔ بچہ بوڑھا جوان مرد عورت امیر غریب ہر طرح کے لوگ یہاں دکھائی دیتے تھے۔ اس لیے کہ گردش ایام کا شکار سبھی تھے۔

          اس بھیڑ میں اشوک چندر بھی اپنی بیوی شکنتلا اور بیٹے آکاش چندر کے ساتھ بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ آکاش کی پیدائش کے بعد یہ دونوں پہلی بار یہاں آئے تھے۔ اس لیے کہ اس بیچ انہیں ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ کئی مرتبہ اشوک نے شکنتلا سے کہا کہ بابا کے چرنوں میں ایک بار آکاش کو ڈال کر ان کا آشیرواد لے لیا جائے۔ ہر بار شکنتلا نے اس رائے سے اتفاق کیا اور اگلے دن جانے کا فیصلہ بھی کیا لیکن وہ کل نہ آیا۔ یہاں تک کہ آکاش پانچ برس کا ہو گیا۔

          لیکن اب یہ تینوں ایک ایسی مصیبت میں پھنس گئے کہ چاروناچار ملنگ بابا کی خدمت میں حاضر ہونا ہی پڑا۔ یہ لوگ اپنی باری کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ اچانک ہٹو بچو کا شور اٹھا اور زائرین آنے والوں کو راستہ دینے لگے۔یہ چار پانچ لوگ تھے جنھوں نے ایک نوجوان کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔ نوجوان بالکل ہڈی کا پنجر تھا۔ گالوں پچکنے سے چہرے کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں۔ آنکھیں ایسی نکلی ہوئی تھیں گویا ابل پڑیں گی۔ داڑھی بڑھی ہوئی بال بکھرے ہوئے۔ اس خستہ حال  انسان کی حالت زندہ بدست مردہ کی سی تھی۔ وہ چند لوگ جن میں عورت اور مرد دونوں شامل تھے بھیڑ کو چیرتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔ کسی نے ان سے یہ نہیں کہا کہ ان کی باری نہیں ہے۔ سب دکھیارے تھے اس لیے دوسروں کا دکھ درد محسوس کرتے تھے۔

          شکنتلا نے پوچھا۔ یہ کیسے دیوانے ہیں انہیں تو چاہئے تھا کہ اُسے کسی اسپتال میں لے جاتے۔ یہ لوگ یہاں لے آئے۔

          اشوک نے کہا۔ اری پگلی یہ لوگ اسے کسی اسپتال ہی سے لا رہے ہیں اور تم چاہتی ہو کہ وہ اسے دوبارہ وہیں لے جائیں۔ دراصل ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہو گا لیکن دل کہاں مانتا ہے۔ ملنگ بابا کا دربار امید کا ایسا دیا ہے جو کبھی نہیں بجھتا۔ مصیبت کے مارے جب اندھیروں سے گھبراتے ہیں تو یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔

          لیکن اب یہاں آنے سے کیا فائدہ؟ شکنتلا بولی۔

          اشوک نے جواب دیا۔ یہ دنیا محض دوکانداری نہیں ہے جہاں صرف فائدے اور نقصان کی بنیاد پر کاروبار چلتا ہو۔ یہاں تو بغیر کسی فائدے کے نقصان اٹھا کر بھی بہت کچھ کیا جاتا ہے۔

          اشوک اور شکنتلا کی بات چل رہی تھی کہ وہ لوگ واپس ہو رہے تھے۔ نوجوان کی جسمانی حالت میں کوئی فرق واقع نہ ہوا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں ایک چمک ضرور پیدا ہو گئی تھی۔ زندگی کی چمک۔ ساتھ والوں کی آنکھیں بھی پرنم نہ تھیں کچھ ایک کے چہرے پر تبسم بھی تھا۔

          ارے یہ کیا؟ شکنتلا نے حیرت سے پوچھا؟

          اشوک بولا۔ یہ چمتکار ہے۔ اسی کے لیے لوگ یہاں آتے ہیں۔ میں بھی ایک مرتبہ اسی طرح یہاں لایا گیا تھا اور تم جانتی ہو ملنگ بابا نے مجھ سے کیا کہا تھا۔

          شکنتلا نے کہا۔ میں کیسے جان سکتی ہوں۔ نہ میں تمہارے ساتھ تھی اور نہ تم نے مجھے بتایا۔

          ہاں میں نے تمہیں نہیں بتایا لیکن مجھے آج بھی ان کے الفاظ حرف بہ حرف یاد ہیں۔ انہوں نے کہا تھا بیٹے اشوک موت اور اس کا وقت طے ہے نہ وہ اپنے وقت سے پہلے آئے گی اور نہ وہ اپنے وقت سے ٹلے گی۔ اس لیے موت کا خوف اپنے دل سے نکال دو۔ زندگی اور موت لازم و ملزوم ہیں۔ موت سے ڈر کر جینے والا زندہ لاش ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ نے میرا علاج کر دیا اور میں صحت یاب ہو گیا۔

          لیکن تمہیں ہوا کیا تھا؟ شکنتلا نے حیرت و استعجاب سے پوچھا۔

          بہت پرانی بات ہے۔ اشوک بولا۔ اس وقت میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔میں اچانک بیمار ہوا۔ بخار ایسا کہ آلہ تپش ٹوٹ جائے ہر طرح کا علاج کیا جاتا رہا لیکن بخار میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ اچانک میں بے ہوش ہو گیا۔ اور میں نے ایک نہایت بھیانک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے بدن سے میری آتما باہر آ گئی ہے اور وہ میرے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہے۔ اسے دیکھ کر میری آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔ میرے عزیز و اقارب میرے آس پاس دہاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ وہ میری آنکھیں بند کرتے ہیں اور میں انہیں پھر کھول دیتا ہوں۔ وہ پھر انہیں بند کرتے ہیں لیکن میں اپنی آتما کو دیکھنا چاہتا ہوں اور پھر اسے کھول دیتا ہوں۔ وہ گھبرا جاتے ہیں اور ہمت کر کے پھر پلکوں کو گرا دیتے ہیں۔

          اب میں چیخنے لگتا ہوں۔ تم لوگ میری آنکھیں کیوں بند کر رہے ہو؟ یہ دیکھو میری آتما میرے سامنے کھڑی ہے۔ میں مرا نہیں ہوں۔

          تمام رشتہ دار خوف سے تھر تھر کانپنے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے۔

           اس کا کریا کرم جلدی کرو اس کے اندر کوئی پریت آتما نے گھر کر لیا ہے۔

          یہ سن کر میرا پارہ چڑھ جاتا اور میں زور زور سے چیخنے لگتا ہوں۔ کیا بکتے ہو؟ کیسی پریت آتما؟ کسی اور کی نہیں یہ تو میری اپنی آتما ہے۔ دیکھو یہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔

          یہ سن کر وہ ایک کرم کانڈ کے ماہر کو بلا لاتے ہیں۔ وہ پجاری اس آتما کو بھگانے کے لیے الٹے سیدھے منتر پڑھنے لگتا ہے۔ قریب میں ایک بڑا سا ہون روشن کر دیا جاتا ہے۔ میں اپنے اعزہ سے کہتا ہوں اس پاگل کو یہاں سے لے جاؤ۔ یہ میری آتما کو مجھ سے دور کرنا چاہتا ہے۔ یہ میرا دشمن ہے لیکن میری بات کوئی نہیں سنتا۔ وہ لوگ میری ارتھی لے آتے ہیں۔ مجھے اس سے باندھ دیا جاتا ہے اور میری انتم یاترا شمسان گھاٹ کی جانب چل پڑتی ہے۔

          میں زور زور سے چلّانے لگتا ہوں۔ آپ لوگ مجھے کہاں لیے جا رہے ہیں۔ میں مرا نہیں ہوں میں زندہ ہوں۔

          وہ لوگ مجھے لکڑیوں کے ڈھیر پر لٹا دیتے ہیں اور پھر لکڑیوں سے مجھے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ میرا باپ جیسے ہی اس ڈھیر کو آگ لگانے کی خاطر آگے بڑھتا ہے میں زور زور سے چیخنے لگتا ہوں۔ میں مرا نہیں ہوں۔ آپ لوگ مجھے کیوں جلا رہے ہیں ؟ آپ لوگ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں۔ میں مرنا نہیں چاہتا میں مرنا نہیں چاہتا۔ اسی چیخ و پکار میں میری آنکھ کھل جاتی ہے اور میں اپنے آپ کو ملنگ بابا کے آستانے پر پاتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے وہ عزیز و اقارب جنہیں میں خواب میں اپنی ارتھی کے پاس کھڑا دیکھ رہا تھا میرے آس پاس کھڑے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ میں نے کیا خواب دیکھا۔ وہ تو بس یہ سمجھ رہے تھے کہ میں بخار کی شدت سے ہذیانی شور و غل کر رہا ہوں اور میرا آخری وقت قریب آ گیا ہے۔ ایسے میں جب تمام دوائیں بے اثر ہو گئیں اور تمام ڈاکٹر بے بس ہو گئے تو وہ مجھے ملنگ بابا کے پاس لے آئے۔ جیسے ہی میں نے آنکھ کھولی ملنگ بابا نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھا اور کہا تم مرتیو نہیں چاہتے اور ہم بھی نہیں چاہتے کہ تم مرو بلکہ ہم میں سے کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا۔ لیکن بیٹے ہمارے چاہنے اور نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ ہم سب کی موت کا وقت طے ہے اوراس وقت ہمیں اپنے پرماتما کے شرن میں جانا ہی ہو گا۔ اس تیتھی کو کوئی بھی ٹال نہیں سکتا۔ موت کو زندگی اسی نے دی ہے جو زندگی کو موت دیتا ہے۔ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ موت کو موت دے دے گا۔ پرنتو اس دن سے پہلے ہر زندگی کو موت سے گلے ملنا ہی ہو گا۔ ملنگ بابا کا ہر ہر شبد بخار پراکسیر ثابت ہو رہا تھا۔ جب میں (اشوک) یہاں سے لوٹا تو بخار کی کمزوری ضرور باقی تھی لیکن حدت ندارد تھی۔

          اشوک کا فسانہ شکنتلا کے لیے ناقابل یقین تھا اس نے بات بدلنے کے لیے کہا۔ وہ دیکھو کرنل گوسوامی بھی اپنی بیوی اور بچہ کے ساتھ آئے ہیں۔ میں ان سے خیریت پوچھ کر آتی ہوں۔

          نمسکار بھائی صاحب۔ شکنتلا نے پرنام کیا اور پوچھا۔ آپ لوگ یہاں کیسے؟ سب کچھ ٹھیک تو ہے؟

          کرنل صاحب بولے۔ ویسے تو سب ٹھیک ہے۔ آج منگیش نے انجینئرنگ کا انٹرنس ٹسٹ دیا ہے ہم نے سوچا چلو بابا کے درشن کر لیں اور ان سے پرارتھنا کرنے کی پرارتھنا کریں۔

          کیوں پیپر اچھے نہیں گئے کیا؟ شکنتلا نے جھٹ پوچھا۔

          نہیں ایسی بات نہیں۔ مسز گوسوامی بولیں۔ یہ تو کہتا ہے اچھے گئے ہیں لیکن پھر بھی سب کچھ ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اس کا انجینئرنگ میں داخلہ بہت ضروری ہے ورنہ انرتھ ہو جائے گا۔

          کیسا انرتھ؟ شکنتلا نے سوال کیا۔

          اگر انجینئر نہ بھی بن سکا تو فوجی بن ہی جائے گا۔

          سمسّیا کیا ہے؟

          فوجی تو اسے بننا ہی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ انجینئرنگ کے بعد فوج میں جائے تاکہ خطرہ بھی کم اور تنخواہ بھی زیادہ ملے۔

          کیا مطلب؟ شکنتلا نے پوچھا۔ وہ کیسے؟

          شکنتلا اور کرنل کی باتیں سنتے ہوئے اشوک ایک مرتبہ پھر ماضی کے دھندلکے میں کھو گیا۔ جب وہ انجینئرنگ میں زبردست کامیابی کے بعد ملازمت کے لیے در در کی خاک چھان رہا تھا۔ بڑے دنوں میں نوکری کی ایک آدھ کال آتی اور اس میں بھی ناکامی و نامرادی ہاتھ لگتی۔ یہ سلسلہ اس قدر دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا کہ اسے لگنے لگا اب وہ زندگی بھر بے روزگار ہی رہے گا۔اس وقت اسے ملنگ بابا کی یا آ گئی۔ وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی مایوسی کی جھولی پھیلا دی۔ ملنگ بابا نے اس کی کتھا سنی اور کہا۔

          اشوک اس دنیا میں کوئی ہمیشہ کے لیے بے روزگار نہیں رہتا اِلّا یہ کہ وہ خود ایسا چاہے۔ لیکن یاد رکھو سمے سے پہلے اور بھاگیہ سے زیادہ کسی کو نہیں ملتا ہے اور جب سمے آ جاتا ہے تو کسی کو کوئی اس کے بھاگیہ سے ونچت نہیں کر سکتا۔ بابا نے اسے آشیرواد دیا اور ایک نئے حوصلہ اور امنگ کے ساتھ وہ دوبارہ ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔ جلد ہی اسے سرکاری نوکری مل گئی اور اس کی ماں نے اس کے بیاہ کی تیاری شروع کر دی۔ اشوک کلکٹر کے دفتر میں ملازم کیا ہوا کہ اس کی ماں نے اپنے آپ کو کلکٹر کی ماں سمجھنا شروع کر دیا۔ وہ اس کے لیے لڑکی کی تلاش میں اس طرح لگ گئی گویا کلکٹر کے لیے کنیا کا سوئمبر ہو رہا ہے۔ کوئی لڑکی اسے جچتی ہی نہ تھی۔ اسی بیچ اس نے شکنتلا کے گھر رشتہ بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ شکنتلا کو مسترد کرتی شکنتلا کے گھر والوں نے رشتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اشوک کی ماں کے لیے یہ بڑا عظیم صدمہ تھا اس کی انا کو ٹھیس پہنچی اور اب اس نے ٹھان لی کہ ہر قیمت پر شکنتلا ہی کو اپنی بہو بنائے گی۔ لیکن مسئلہ ناک کا تھا۔ وہ لڑکے کی ماں تھی۔ وہ اپنے مقام سے گرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے پریشان ہو کر ملنگ بابا کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ملنگ بابا آئے دن اس طرح کے مسائل سنتے تھے انہوں نے مشورہ دیا۔ تمہاری سمسّیا کا ایک ماتر سمادھان یہ ہے کہ تم اس معاملے کو اشوک کے حوالے کر دووہ شکنتلا کو راضی کر لے گا اور شکنتلا اپنے ماں باپ کو تیار کر لے گی اور اگر وہ بھی نہ مانے تو کیا فرق پڑتا ہے میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔

          اس کی ماں نے کہا۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں یہ اپنے بیٹے سے کیسے کہہ سکتی ہوں ؟

          اس مسئلہ کا بھی حل ہے۔ بابا بولے۔ تم اشوک کو میرے پاس بھیج دو میں اسے سمجھا دوں گا۔

          اشوک کی ماں خوشی خو شی واپس آ گئی۔ بابا کا اُپائے کارگر ثابت ہوا۔ اشوک بڑی آسانی سے شکنتلا کو شادی کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس کے ماں باپ اپنی بیٹی کی مرضی کے آگے مجبور ہو گئے۔

          شادی کے بعد اشوک شکنتلا اور اس کی ماں سب ملنگ بابا کو بھول گئے لیکن جب تین سال گذر جانے کے بعد اولاد سے محرومی رہی تو پہلی بار شکنتلا اشوک کے ساتھ یہاں آئی۔ بابا نے اشوک کو دیکھا تو مسکرائے۔ اشوک تم موت اور زندگی دونوں کو اپنے بس میں کرنا چاہتے ہو۔ تم اپنی مرضی سے مرنا چاہتے ہو اور اپنی مرضی سے اپنے وارث کو جنم دینا چاہتے ہو۔حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ جنم کی تیتھی بھی مرن کے سمے کی بھانتی نردھارت ہے۔ دھیرج رکھو۔ اگر تمہارے کل کو باقی رہنا ہے تو تمہیں سنتان ضرور ہو گی۔

          شکنتلا نے کہا۔ لیکن سوامی جی ایسا کب ہو گا؟

          بابا نے کہا۔ بیٹی یہ بات تو میں بھی اسی طرح نہیں جانتا جیسے تم نہیں جانتے؟

          شکنتلا بولی۔لیکن سوامی آپ ہمارے لیے پرارتھنا تو کر سکتے ہیں۔

          کیوں نہیں۔ بابا بولے۔ میں ضرور تمہارے لیے پرارتھنا کروں گا۔ ملنگ بابا کی یقین دہانی اس قدر پراعتماد تھی کہ شکنتلا کو محسوس ہوا وہ گربھ وتی ہو گئی ہے۔ تین ماہ بعد وہ واقعی حاملہ ہو گئی تھی اور ایک سال کے بعد اس نے آکاش کو جنم دیا۔

          اس بات کو پانچ سال کا طویل عرصہ گذر گیا۔ اس بیچ ان لوگوں نے کئی مرتبہ ملنگ بابا سے ملنے کا ارادہ کیا لیکن کبھی اسے عملی جامہ نہیں پہنایا۔کسی نہ کسی بہانے ٹالتے رہے لیکن اب جب کہ انہیں ایسا لگا گویا آکاش باؤلا ہو گیا ہے وہ بے اختیار ملنگ بابا کی سیوا میں حاضر ہو گئے۔

          آکاش کا مسئلہ بڑا گمبھیر تھا۔ اس نے ایک مرتبہ آسمان میں ایک ہوائی جہاز دیکھا اور اپنی بچپن کی جگیا سا میں پوچھا۔ پپّا وہ کیا ہے؟

          اشوک نے کہا بیٹے وہ ہوائی جہاز ہے۔

          اچھا۔ ہوائی جہاز کیا ہوتا ہے؟

          اشوک نے جھنجھلا کر کہا۔ اپنی ممی سے پوچھو۔

          آکاش نے جھٹ شکنتلا سے پوچھا۔ ممی یہ ہوائی جہاز کیا ہوتا ہے؟

          شکنتلا بولی۔ بیٹے یہ سواری ہوتی ہے جو ہوا میں اُڑتی ہے۔ لوگ اس میں بیٹھ کر آسمان کی سیر کرتے ہیں۔

          آکاش نے یہ سنا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے کہا۔ اچھا ایسا ہے تو مجھے بھی ہوائی جہاز چاہئے۔ میں بھی ہوا میں تیروں گا۔

          شکنتلا پریشان ہو گئی۔ اس لیے کہ آکاش نے ضد پکڑ لی تھی۔ اس نے اشوک سے پوچھا۔کیا کیا جائے؟

          اشوک نے کہا۔ اس میں کیا مشکل ہے شام میں اسے بازار لے جائیں گے اور ہوائی جہاز نما غبارہ دلا دیں گے۔ بچہ ہے بہل جائے گا۔

          شکنتلا خوش ہو گئی وہ بولی۔ بھئی انجینئر صاحب کا دماغ ماننا پڑے گا۔

          اشوک بولا۔ زہے نصیب۔ شام میں وہ لوگ بازار گئے اور ہوائی جہاز نما غبارہ آکاش کو دلا دیا۔ آکاش اسے لے کر بہت خوش ہوا۔ لیکن اس کی خوشی دیرپا نہ تھی۔ اس کھلونے کو تھوڑی دیر الٹنے پلٹنے کے بعد اس نے کہا ممی اب میں اس میں بیٹھوں گا اور آکاش کی سیر کروں گا۔

          شکنتلا ہنسی اور کہا۔ ٹھیک ہے بیٹے اب یہ تمہارا ہوائی جہاز ہے تم جو چاہو کرو۔

          شکنتلا نے تو مذاق کیا لیکن آکاش سنجیدہ تھا اس نے کہا۔ ممی مجھے اس میں بٹھاؤ مجھے آسمان کی سیر کرنا ہے۔شکنتلا آکاش کے اصرار سے گھبرا گئی۔ اب تک وہ لوگ گھر آ چکے تھے۔ شکنتلا نے آکاش کو لاکھ بہلایا پھسلایا۔ مٹھائی کھلائی، کہانی سنائی، کیا کیا نہ کیا لیکن آکاش مانتا نہ تھا۔ وہ ہر تھوڑی دیر بعد بضد ہو جاتا۔ مجھے اس میں بٹھاؤ میں آکاش کی سیر کروں گا۔ شکنتلا اور اشوک دونوں پریشان ہو گئے۔ آکاش نے کھیل کود بند کر دیا۔ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ وہ بس اپنے ہوائی جہاز کو سینے سے لگائے رہتا اور یہی بات دوہرائے جاتا۔ مجھے اپنے جہاز میں بٹھاؤ میں نے آسمان کی سیر کرنی ہے۔ یہ سنتے سنتے اشوک کے کان پک گئے۔ اس نے غصہ سے اس غبارہ نما کھلونے کی ہوا نکال دی۔ اب وہ پچک گیا۔

          یہ دیکھتے ہی آکاش دہاڑیں مار مار کر رونے لگا۔میرا جہاز میرا ہوائی جہاز۔ پاپا آپ نے اسے کیا کیا۔ مجھے اپنا جہاز چاہئے۔ مجھے میرا جہاز دے دو۔ اب ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اشوک نے غصہ میں آ کر آکاش کے ایک تھپڑ جڑ دیا۔ اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر شکنتلا مچل گئی۔ و ہ اشوک سے لڑ پڑی۔آپ نے بچہ کو کیوں مارا؟ آخر بچہ ہے۔ وہ ضد نہ کرے گا تو کیا آپ کریں گے؟ اگر آپ اسے بہلا نہیں سکتے تو چھوڑ دیجئے لیکن اپنا ہاتھ نہ چھوڑئیے وہ آکاش کے آنسو پوچھنے لگی۔ اسے سینے سے لگا لیا۔ آکاش رو رو کر یہی کہتا جاتا تھا۔ میرا ہوائی جہاز میرا ہوائی جہاز مجھے چاہئے۔

          شکنتلا نے کہا۔بیٹے رومت میں تجھے تیرا ہوائی جہاز دیتی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے غبارے میں ہوا بھرنی شروع کی جیسے جیسے وہ پھولتا جاتا تھا آکاش کے چہرے پر مسکان پھیلتی جاتی تھی۔وہ خوشی سے تالی بجانے لگا اور اپنی ماں کے ہاتھ سے کھلونا لے کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ دیر تک وہ اسے اپنے آپ سے چمٹائے رہا۔ خوش ہوتا رہا اور کھیلتا رہا۔ اشوک اور شکنتلا بھی خوش تھے کہ آکاش بہل گیا لیکن ان کی خوشی بھی دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد پھر آکاش کو آسمان میں اُڑنے کا خیال آیا اور اس نے پھر ضد شروع کر دی۔

          وہی پرانی کہانی پھر دوہرائی گئی۔ کھلونے کا پھولنا پچکنا اب معمول بن گیا تھا۔ جب آکاش کی ضد آکاش کو چھونے لگتی تو اس کے ماں باپ کھلونے کی ہوا نکال دیتے جب وہ زار و قطار رونے لگتا تو وہ اس میں ہوا بھر دیتے۔ اس سے وہ کچھ دیر کے لیے بہل جاتا لیکن پھر وہی ضد اور پھر وہی سب کچھ۔ آکاش کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔ اس کی صحت متاثر ہو رہی تھی۔ اشوک اور شکنتلا اکلوتے بیٹے کی اس حالت سے فکر مند تھے کہ اچانک شکنتلا کو ملنگ بابا کا خیال آیا اور اشوک کو اپنے آپ پر تاخیر کے لیے غصہ آیا۔

          ملنگ بابا کو اپنے بیٹے کی کیفیت سنانے کے بعد اشوک بولا۔ بابا میں تو اسے سمجھا نہ سکا۔ اب آپ ہی اسے سمجھائیں۔

          ملنگ بابا آئے دن اس طرح کے نت نئے مسائل سے الجھتے تھے اور انہیں سلجھاتے بھی تھے۔ آکاش کے بارے میں سن کر انہوں نے اشوک سے کہا۔ تم اسے کس طرح سمجھانے میں کامیاب ہو سکتے تھے جب کہ تم خود ابھی تک اس بات کو سمجھے نہیں ہو۔

          اشوک بابا کے اس رد عمل سے چونک پڑا اس نے کہا۔آپ کیسی بات کرتے ہیں کیا آکاش میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔

          بابا بولے۔ ہاں میں تو یہی سمجھتا ہوں۔ یہ سنسار اس کھلونے کی طرح کھیلنے کی چیز ہے۔مایا ہے بس مایا اس کی واستو کتا حقیقت یہی ہے۔تم اسی کو سب کچھ سمجھتے ہو تم اسی کے سہارے پرلوک کی سیر کرنا چاہتے ہو حالانکہ یہ اسمبھو ہے۔ جب تمہاری ضد بہت بڑھ جاتی ہے تو اس کی ہوا نکل جاتی اور تم مایوس ہو جاتے ہو لیکن پھر اس میں ہوا بھرنے لگتی ہے اور تم بھی پھولے نہیں سماتے۔ وقتی طور سے اس میں ہوا کا بھرنا تمہیں مسرور کر دیتا ہے لیکن پھر جب تم اس کے ذریعہ سے سورگ کا آنند پراپت کرنے کی ضد پکڑتے ہو تو اداس ہو جاتے ہو اور تمہاری ہٹ دھرمی کے باعث اس کی ہوا پھر نکال دی جاتی ہے۔ تمہاری اداسی کو دور کرنے کی خاطر اس میں ہوا بھر دی جاتی ہے۔ اسی طرح تم اپنا جیون ویتیت کر رہے ہو۔ چند لمحوں کے لیے خوش ہوتے ہو اور اکثر اداس رہتے ہو۔ تم نے اس لوک کو حقیقت سمجھ لیا اور اس کے ذریعہ پرلوک کا سنتوش چاہتے ہو جو ایسا ہی ہے جیسے کھلونے سے بچہ کا آسمان کی سیر کرنا چاہنا۔

          اشوک نے کہا۔ آپ نے صحیح فرمایا۔ اب میں کیا کروں ؟

          تم اس لوک اور پرلوک میں فرق کرو۔ اس لوک سے کھیلو لیکن اسے اپنے جیون کا ادیشہ نہ بناؤ۔ اگر تم نے ایسانہ کیا تو آکاش کی طرح روتے رہو گے۔ جیون کا ادیشہ تو پرلوک کی موکش ہے وہی اصلی واہن ہے جس میں بیٹھ کر منوشیہ اپنے جیون کو سپھل بنا سکتا ہے۔

          میں سمجھ گیا سوامی جی لیکن اب آکاش کا کیا جائے؟

          آکاش کے لیے یہ کرو کہ اس کے غبارے میں اس قدر ہوا بھرو کہ وہ پھٹ جائے۔

          اس سے کیا ہو گا؟ وہ اور روئے گا۔

          ہاں روئے گا تو ضرور لیکن یہ جان جائے گا کہ غبارہ کی اصلیت کیا ہے؟ یہ پھٹ تو سکتا ہے لیکن آسمان کی سیر نہیں کرا سکتا۔پہلے غبارے کے پھوٹ جانے کے بعد اسے دوسرا غبارے والا ہوائی جہاز دلا دو۔ اب وہ اس سے اُڑنے کی ضد نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ وہ جان جائے گا اس ضد کے نتیجہ میں غبارہ پھٹ جاتا ہے۔ اب وہ اس سے کھیلے گا اور خوش رہے گا۔ اس دنیا میں انسان کی خوشی یا ناراضگی اس کی اپنی توقعات پر منحصر ہوتی ہیں۔ جب بھی وہ کسی شئے سے بے جا توقع وابستہ کر لے تو وہ توقع اسے غم زدہ کر دیتی ہے۔ اس لیے اگر تم اور آکاش خوش رہنا چاہتے ہو تو سنسار اور غبارے سے ان کی حسبِ حیثیت اپیکشا کرو ورنہ تم دونوں ہمیشہ روتے ہی رہو گے۔

٭٭٭