کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بندیا

ڈاکٹر سلیم خان


گجرات اور مدھیہ پردیش کا سرحدی علاقہ قبائلی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ آج بھی شہری زندگی سے الگ تھلگ اپنے طریقے سے زندگی گذار رہے ہیں۔ یہ نہ ہندو ہیں نہ مسلم نہ سکھ نہ عیسائی۔ ان کے اپنے رسوم رواج ہیں جن کی بنیاد پر ان کا معاشرتی نظام قائم ہے۔ یہاں شادی کا طریقہ بھی دوسرے طور طریقوں کی طرح بالکل اچھوتا ہے۔ ہر سال ساون کے مہینہ میں ایک میلہ لگتا ہے جسے شادی کا میلہ کہا جاتا ہے۔ دور دراز سے شادی کے خواہش مند لڑکے لڑکیاں اس میلے میں آتے ہیں اور اپنا جوڑا پسند کر کے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرتے ہیں لیکن عجیب و غریب طریقہ سے۔ شادی شدہ عورتیں اس میلے میں بندیا لگا کر آتی ہیں۔ ان کی طرف کوئی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ جس کنواری لڑکی کو شادی نہیں کرنی ہوتی وہ اس میلے میں نہیں آتی۔ اس لیے جو لڑکیاں میلے میں بغیر بندیا کے ہوتی ہیں ان کے بارے میں یہ بات مان لی جاتی ہے کہ یہ شادی کی خواہش مند ہیں۔ اب جس کسی لڑکے کو ان میں سے کوئی پسند آ جائے وہ اسے بھرے مجمع سے اٹھا کر لے جاتا ہے۔ یہ گویا اس بات کا اعلان ہو گیا کہ ان کی شادی ہو گئی۔ قبیلہ والے انہیں میاں بیوی کے طور پر تسلیم کر لیتے ہیں۔

          اس طرح ہر سال سیکڑوں شادیاں ایک ہی وقت میں ہو جاتیں۔ اس سال جمنا بائی بھی میلے میں آئی تھی وہ چونکہ کنواری تھی اس لیے اس کے ماتھے پر بندیا نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اس کا چہرہ چاند سا جگمگا رہا تھا۔ کئی نوجوانوں نے اس کے قریب آنے کی کوشش کی لیکن اس نے منہ پھیر لیا جو اس بات کا اظہار تھا گویا اسے رشتہ منظور نہیں ہے۔ لیکن جب درجن کو اس نے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ درجن کو بھی گویا اپنی منزل مل گئی اور وہ اسے اٹھا کر میلے سے لے گیا۔ درجن سنگھ اور جمنا بائی جب اپنے خاندان میں پہنچے تو سب لوگ بہت خوش ہوئے۔درجن میلے سے چاند کا ٹکڑا جو اٹھا لایا تھا۔ درجن اور جمنا کی پسند ناپسند ایک دوسرے سے بالکل موافق تھی۔ دونوں مزاجاً ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھے اور آپس میں بہت محبت کرتے تھے۔ قبیلہ کے دوسرے لوگ اس جوڑے کو رشک و حسد سے دیکھتے تھے۔

          اگلے سال جمنا بائی پھر شادی کے میلے میں گئی لیکن اس بار اس کے ماتھے پر بندیا سجی ہوئی تھی۔ وہ اپنی ضرورت اور اپنے شوہر کی پسند کا سامان خرید رہی تھی لیکن گنگا سنگھ کی نگاہیں مسلسل اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔ میلے میں بہت ساری خوبصورت کنواری لڑکیاں تھیں لیکن گنگا سنگھ نے کسی طرف نہ دیکھا تھا اور دیکھ اسے رہا تھا جسے نہ دیکھنا چاہئے تھا۔ وہ جہاں بھی جاتی وہ اس کے آس پاس ہوتا۔ دراصل وہ جمنا بائی کو اٹھا کر لے جانے کا موقع تلاش کر رہا تھا لیکن جمنا اس سے بے خبر تھی۔ میلے کا تیسرا اور آخری دن تھا بھیڑ بھاڑ چھٹ چکی تھی۔ اکثر شادیاں ہو چکی تھیں۔ دُکانوں کا زیادہ تر مال بک چکا تھا بلکہ دوپہر کے بعد چل چلاؤ کا ماحول تھا۔ جمنا اور درجن بھی واپسی کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک گھوڑوں کی ٹاپوں سے میدان گونج اٹھا۔ دُکان والے ڈر گئے۔ اس بار ڈاکو ایسے موقع پر آئے کہ ان کے پاس خوب جمع پونجی تھی جو انہوں نے پچھلے دو دنوں میں کمائی تھی۔ وہ تو نہ صرف مال اور منافع بلکہ اپنی محنت کے بھی لٹ جانے کا انتظار کر رہے تھے لیکن ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب کوئی ڈاکو ان کی دوکان کے قریب نہ آیا بس ایک نقاب پوش جمنا بائی کے پاس آیا اسے اٹھا کر اپنے گھوڑے پر بٹھایا۔ ہوا میں ایک ساتھ کئی فائر ہوئے۔ فضا میں ایک نعرہ بلند ہوا۔ سردار گنگا سنگھ کی جئے اور یہ جا وہ جا۔ دیکھتے دیکھتے ڈاکو ہوا ہو گئے۔ پولس کے پہنچنے تک گرد بیٹھ چکی تھی۔

          دُکان والے خوشی منا رہے تھے اور درجن سنگھ اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایک قبائلی بزرگ آگے بڑھا اس نے درجن کو پانی پلایا اور کہا۔

          درجن جو کچھ تیرے ساتھ ہوا اس کا ہمیں دکھ ہے اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہم اپنی پنچایت میں اسے سزا دیتے لیکن ڈاکو گنگا سنگھ پر کس کا زور چلے ہے۔ اس سے تو پولس اور حکومت بھی کانپتی ہے۔خیر اب تو جمنا کو بھول جا۔ اب بھی میلے میں کچھ لڑکیاں باقی ہیں ان میں سے کسی کے ساتھ بیاہ رچا لے اور نئی زندگی شروع کر۔

          درجن بولا۔ یہ مجھ سے نہیں ہو گا میں جمنا کے بغیر جی نہیں سکتا۔ میں اس کے سوا کسی کے ساتھ زندگی نہیں گذار سکتا۔

          بیٹے تیری بات ٹھیک ہے۔ وہ تیری دھرم پتنی تھی لیکن اب نا ہے۔ سمجھ لے کہ وہ پرلوک سدھار گئی اب اسے بھولنے کے سوا تیرے پاس کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ سمجھ لے کہ وہ مر گئی۔

          بابا اگر ایسا ہے تو سمجھ لو کے میں بھی مر گیا۔ کر دو میرا انتم سنسکار۔ میں جمنا کے بغیر جی نہیں سکتا۔ خاندان والوں کے ساتھ ماتم زدہ درجن جمنا کا غم لیے واپس آ گیا۔

 

          جمنا گھوڑے پر گنگا سنگھ سے چھپٹتی الجھتی رہی لیکن اس کی گرفت سے آزاد نہ ہو سکی۔ طویل گھاٹیوں سے گذر کر جب گنگا سنگھ اور اس کا ٹولہ اپنے اڈے پر پہنچا تبھی اسے آزادی نصیب ہوئی۔گنگا سنگھ نے جیسے ہی اسے نیچے اتارا وہ برس پڑی۔ گنگا سنگھ کو کوسنے لگی۔ برا بھلا کہنے لگی۔

          گنگا کے نائب گوگا سنگھ نے جمنا کو ڈانٹا۔بدتمیز لڑکی سردار کو گالیاں دیتی ہے۔ چپ نہیں تو تیری زبان کھینچ لوں گا۔

          وہ تڑک کر بولی۔ زبان کیوں پران (جان) کھینچ لو مجھے مار ڈالو اس ذلت کی زندگی سے مرنا بہتر ہے۔

          گوگا غصہ سے جمنا کی طرف بڑھا لیکن گنگا نے منع کر دیا۔ وہ بولا۔ سنو میرے ساتھیو۔ جمنا ہماری مہمان ہے یہ جو چاہے کرے ہم اس کا جواب نہیں دیں گے۔ ہم اس کا بھرپور خیال رکھیں گے یہ میرا حکم ہے۔

          جمنا بولی۔ اتنا ہی خیال ہے تو مجھے لایا کیوں ؟ مجھے اپنے درجن کے پاس چھوڑ آ۔

          نہیں جمنا یہ نہ ہو گا۔ اس کے سوا تو جو چاہے مانگ تیرے سامنے حاضر کر دیا جائے گا۔

          مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ جمنا نے چلّا کر کہا۔ مجھے تو صرف اور صرف درجن چاہئے۔

          ساتھیواسے چھوڑ دو۔ یہ غصہ میں ہے اس کی نگرانی کرو اور اس کی خدمت بجا لاؤ۔ جاؤ تم سب آرام کر سکتے ہو۔ گنگا سنگھ کا ٹولہ اپنی اپنی آرام گاہ کی طرف چلا گیا۔

          دوسرے دن گنگا اور جمنا تنہا ساتھ تھے۔ گنگا نے جمنا سے کہا۔ دیکھو جمنا اس طرح پچھلے سال شادی کے میلے سے درجن تمہیں اٹھا کر لے گیا تھا۔اسی طرح اس سال میں تمہیں اٹھا کر لے آیا ہوں اس لیے جس طرح تم اس کی بیوی بن گئی تھیں اسی طرح اب میری بیوی بن گئی ہو۔

          جمنا نے کہا۔ نہیں گنگا ایسا نہیں ہے۔ گذشتہ سال میں کسی کی بیوی نہیں تھی۔ اس لیے میں درجن کی بیوی بن گئی۔ لیکن اس سال میں درجن کی بیوی تھی اور اس کی بیوی ہوتے ہوئے میں کسی اور سے کیسے بیاہ کر سکتی ہوں۔

          کیوں نہیں کر سکتی۔ سمجھ لو کہ اس سے تمہارا بیاہ ٹوٹ گیا۔

          نہیں گنگا نہیں۔ بیاہ اس نے میرے ساتھ کیا تھا اس لیے بیاہ وہی توڑ سکتا ہے۔میں کیسے توڑ سکتی ہوں۔ جب تک وہ مجھے اس بندھن سے آزاد نہ کر دے میں آزاد نہیں ہو سکتی۔

          میں توڑ دوں گا اس بندھن کو۔ گنگا سنگھ نے زور دے کر کہا۔

          گنگا جس بندھن کو تم نے باندھا نہیں اس بندھن کو تم کیسے توڑ سکتے ہو۔ اسے تو وہی توڑ سکتا ہے اور تم جانتے ہو وہ کبھی نہ توڑے گا۔

          کیوں ؟ گنگا نے پوچھا۔

          اس لیے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔

          یہ تمہیں کیسے معلوم؟گنگا نے پوچھا۔

          جمنا بولی۔ مجھے معلوم ہے کیوں کہ میں بھی اس سے بہت محبت کرتی ہوں۔

          لیکن جمنا میں بھی تو تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ تم میرے بارے میں نہیں سوچتیں۔

          نہیں تم مجھ سے محبت نہیں کرتے تم مجھے زبردستی اٹھا لائے ہو۔ میں تم سے محبت نہیں کرتی میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔ یہ کہہ کر جمنا اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔

          ایک ہفتہ کے بعد ایک مرتبہ پھر گنگا اور جمنا ایک ساتھ بیٹھے تو گنگا نے پوچھا۔ جمنا کیا اب بھی تم درجن سے محبت کرتی ہو۔

          جمنا بولی۔ ہاں کیوں نہیں بلکہ جب سے تم نے ہمیں جدا کر دیا ہے میں پہلے سے زیادہ اس سے محبت کرتی ہوں۔

          اور کیا تم اب بھی مجھ سے نفرت کرتی ہو؟

          میں اب تم سے نفرت… یہاں آ کر جمنا رک گئی پھر اس نے کہا۔ نہیں کرتی۔

          جمنا تم رک کیوں گئی تھیں۔

          دراصل میں سوچ رہی تھی۔

          مطلب یہ تمہارا سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔

          یہی سمجھ لو۔

          ٹھیک ہے تمہیں یہاں کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔

          نہیں۔

          کسی چیز کی کمی تو نہیں محسوس ہوتی؟

          ہوتی ہے۔

          میں سمجھ گیا لیکن میں نہیں پوچھوں گا اس لیے کہ وہ چیز میں لا کر دے نہیں سکتا۔

          جمنا نے ہنس کر کہا۔ سمجھدار آدمی ہو۔

          گنگا بولا۔ شکریہ!

          ایک مہینہ کے بعد گنگا اور جمنا پھر ایک بار ساتھ ملے۔ گوگا سنگھ یہ دیکھ کر خوش ہوا اور فوراً شراب کی نئی بوتل کھول کر وہاں لے آیا۔

          گنگا نے اسے دیکھا اور کہا۔ یہ کیا لے جاؤ۔ دیکھ نہیں رہے ہو کون بیٹھا ہے؟

          معاف کرنا سرکار۔ گوگا بولا۔ میں چائے لے کر آتا ہوں۔

          جمنا نے پوچھا۔ گنگا تم میرا اتنا خیال کیوں کرتے ہو؟

          کیونکہ… کیونکہ تم جانتی ہو جمنا پھر بھی پوچھ رہی ہو۔

          جمنا بولی۔ خیر تم سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔

          گنگا نے کہا۔ پوچھو۔

          تمہیں تو معلوم ہے اس سال شادی کے میلے میں بہت ساری خوبصورت کنواری لڑکیاں آئیں تھیں۔

          نہیں میں نہیں جانتا۔ گنگا نے جواب دیا۔

          ہاں دراصل تم سے تاخیر ہو گئی۔ تم تیسرے دن آئے جب وہ سب بیاہی جا چکی تھیں۔

          نہیں جمنا میں تیسرے دن نہیں آیا میں تو پہلے دن سے وہاں تھا۔

          اچھا تم پہلے دن سے وہاں تھے اور تم نے کسی کو نہیں دیکھا۔

          نہیں جمنا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ میں تو بس تمہیں دیکھتا رہا۔ میلے میں پہلے دن سے تم کب کب کہاں کہاں گئیں یہ مجھ سے پوچھ لو میں ہر جگہ تمہارے آس پاس تھا۔

          اچھا مجھے تو پتہ ہی نہ چلا۔

          تمہیں کیسے پتہ چلتا تم تو اپنے آپ میں اور درجن میں کھوئی ہوئی تھیں۔

          لیکن تم میرے آس پاس کیا کرتے رہے؟

          میں دراصل موقع کی تلاش میں تھا۔

          موقع کی تلاش میں ؟ کیسا موقع؟

          تمہیں اپنے ساتھ یہاں لے آنے کا موقع تلاش کر رہا تھا۔

          لیکن تم نے میرے ماتھے پر بندیا نہیں دیکھی۔

          دیکھی تھی۔

          پھر بھی؟

          ہاں پھر بھی۔

          کیوں ؟

          کیوں کا جواب تم جانتی ہو؟

          لیکن یہ سب ہوا کیسے؟

          جمنا میں تمہیں بتلانا چاہتا تھا لیکن پھر اس لیے نہیں بتایا کہ شاید تم یقین نہ کرو یا کان ہی نہ دھرو۔ لیکن اب جب تم نے خود ہی پوچھا ہے تو شاید ہو سکتا ہے اب بھی وشواس نہ کرو لیکن سنو گی تو سہی۔

          جی ہاں سنوں گی اور ہوسکتا ہے وشواس بھی کر لوں۔

          خیر اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اس کہانی کی شروعات گذشتہ سال ہوئی۔ ہم لوگ میلے میں لوٹ پاٹ کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے وہاں میری نظر تم پر پڑ گئی۔ تمہارے ماتھے پر اس وقت بندیا نہیں تھی۔ تمہیں دیکھنے کے بعد میں نے ارادہ کر لیا کہ تمہارے ماتھے پر میں بندیا سجاؤں گا۔ میں وہاں سے گہنوں کی دوکان پر گیا اور بندیا خریدی جب میں بندیا لے کر واپس آیا اس وقت درجن تمہیں اپنے ساتھ لے جا چکا تھا۔میں تمہارے بغیر تمہاری بندیا کو اپنے ساتھ لیے واپس آ گیا اور میلہ کا انتظار کرنے لگا۔ یہ ایک سال ایک صدی سے زیادہ طویل تھا لیکن وہ گذر گیا۔ ساون کی چندرماسی میں میں نے بندیا کو اپنی جیب میں رکھا اور میلے چلا گیا وہاں میرا مقصد صرف تمہیں تلاش کرنا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ تم میلے میں آؤ گی یا نہیں لیکن خوش قسمتی سے پہلے ہی دن شام میں میں نے تمہیں دیکھ لیا اور اس کے بعد میں اس تاک میں رہا کہ موقع پاتے ہی تمہیں اغوا کر لوں۔ آخری دن تک جب چپکے سے تمہیں اٹھا کر لانے کا موقع نہ ملا تو بالآخر کھلے عام اٹھا کر لانا پڑا۔ پہلے تو میں نے سوچا زبردستی تمہارے ماتھے سے درجن کی بندیا نکال کر پھینک دوں اور اپنی بندیا سجادوں لیکن مجھے لگا ایسا کرنے پر تم ناراض ہو جاؤ گی۔ میں تمہیں ناراض نہ کر سکتا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔

          اب کیا ارادہ ہے؟ جمنا نے پوچھا۔

          اب تمنا یہی ہے کہ تم خود درجن کی بندیا اپنے ماتھے سے نکال کر پھینک دو تب میں اپنی بندیا تمہارے ماتھے پر سجادوں گا۔

          جمنا نے پوچھا۔ ورنہ؟

          ورنہ اپنی بندیا کو چمبل ندی میں پھینک دوں گا اور خود بھی اس میں کود جاؤں گا۔

          جمنا گنگا کے اس جملے سے کانپ اٹھی۔اسے نہیں پتہ تھا کہ ڈاکو گنگا سنگھ جس کے نام سے سارا علاقہ کانپتا ہے اپنے اندر اس قدر لطیف جذبات رکھتا ہے۔ وہ اس ایک ماہ میں اس کے اخلاق سے کافی متاثر ہوئی تھی۔گنگا ہمیشہ ہی جمنا سے دور رہا۔ اس نے کبھی بھی اس کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی۔

          تین ماہ بعد گنگا اور جمنا ایک ساتھ بیٹھے تھے کہ جمنا نے پوچھا۔ گنگا تم ایک روز بندیا کا ذکر کر رہے تھے جو تم نے میرے لیے خریدی تھی۔

          ہاں جمنا ہم ڈاکو لوگ چیزیں خریدتے نہیں چھین لیتے ہیں لیکن وہ بندیا میں نے اپنی عادت کے خلاف خریدی تھی۔

          وہ تو میں جانتی ہوں جیسے تم نے مجھے درجن سے چھین لیا۔ خیر کیا تم مجھے وہ بندیا نہیں دکھاؤ گے؟

          ضرور دکھاؤں گا۔ جب خریدی تمہارے لیے ہے تو کیوں نہیں دکھاؤں گا۔ گنگا نے اپنے بٹوے میں ہاتھ ڈالا تو وہ کارتوس سے بھرا ہوا تھا۔

          جمنا نے کہا۔ یہ کارتوس تو میرے لیے نہیں خریدے؟ اگر اس کو میرے ماتھے پر سجا دیا تو ہو گیا سمجھو کام۔

          نہیں جمنا بات دراصل یہ ہے کارتوس کئی ہیں اور بندیا صرف ایک ہے۔ اس لیے ملنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ یہ کہتے ہوئے گنگا نے بندیا نکال لی۔

          جمنا بندیا کو دیکھ کر دنگ رہ گئی بولی۔ یہ تو بہت ہی قیمتی ہیروں سے جڑی بندیا ہے۔

          ہاں ہاں جس کے لیے خریدی تھی وہ بھی تو قیمتی ہے۔

          لیکن اس کی کیا قیمت ادا کی تم نے؟

          گنگا بولا۔ میں نے یہ بندیا دوسوروپیہ میں خریدی ہے۔

          کیا بات کرتے ہو۔ درجن نے معمولی سی بندیا پانچ سو میں خریدی اور تمہیں یہ بندیا دوسو میں مل گئی۔

          گنگا بولا۔ یہی تو فرق ہے درجن میں اور ہم میں۔ دراصل بات یہ ہے کہ ہم تو گہنے اونے پونے دام میں بیچتے ہیں اسی لیے ہمیں اس کی وہی قیمت معلوم ہوتی ہے میں نے اس بندیا کی ویسی ہی قیمت لگائی جیسی مہاجن ہم سے خریدتے ہوئے لگاتے ہیں۔ جب مہاجن نے ڈانٹ کر کہا تھا۔ دماغ خراب ہے کیا تو گوگا آہستہ سے بولا۔ گنگا سنگھ کی جئے ہو۔ مہاجن ہم دونوں کو پہچان گیا۔ اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ اس نے کہا۔ یونہی لے لیجئے سرکار۔ میں نے کہا۔ نہیں صحیح قیمت بتاؤ۔ اس نے کہا دوسو روپئے۔ میں نے ادا کئے اور بندیا میری ہو گئی۔

          تو یہ کہو کہ ڈرا دھمکا کر لے لی تم نے یہ بندیا۔

          نہیں جمنا دراصل ہمارا اور مہاجن کا خاص رشتہ ہے۔ وہ بھی ہم سے کم دام میں مال لیتا ہے اور ہم بھی اس سے اسی دام میں۔

          جمنا نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ اسی دام میں۔

          نہیں۔ گنگا بولا۔ اسی دام میں نہیں مفت میں۔ لیکن مفت میں بھی نہیں اپنی جان کی بازی لگا کر لیتے ہیں۔

          جمنا بولی۔ لیکن یہ غلط کام ہے۔

          گنگا نے جواب دیا۔ ہاں جمنا تمہیں تو ہماری ہر چیز غلط لگتی ہے۔ دراصل مجھ سے بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ میں بندیا کے چکر میں پڑ گیا۔ نہ میں بندیا خریدنے جاتا اور نہ درجن تمہیں اپنی بندیا پہنا کر ساتھ لے جاتا۔

          لیکن قسمت کے لکھے کو کون بدل سکتا ہے۔ جمنا بولی۔

          گنگا نے کہا۔ تم بدل سکتی ہو۔ تم ہماری قسمت بدل سکتی ہو جمنا۔

          جمنا نے کہا۔ نہیں گنگا میں تمہاری قسمت کیسے بدل سکتی ہوں جب کہ میرے ماتھے پر درجن کی بندیا ہے اب وہ میرا مقدر ہے۔ وہ بدل سکتا ہے میں نہیں بدل سکتی۔

          گنگا بولا۔ کون بدلے گا یہ تو وقت ہی بتلائے گا۔ میں انتظار کروں گا۔ وقت کے بدلنے کا؟

          کب تک انتظار کرو گے گنگا؟

          میں اس سال شادی کے میلے تک انتظار کروں گا۔ اگر اس وقت تک تم نے اپنے ماتھے سے درجن کی بندیا نکال پھینکی تو ٹھیک ہے۔

          اور اگر نہیں تو؟ جمنا نے پوچھا۔

          اگر نہیں تو میں اپنی شکست تسلیم کر لوں گا۔ تمہیں اس میلے میں درجن کے پاس چھوڑ آؤں گا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ وقت نہیں آئے گا۔

          جمنا نے سوچا ٹھیک ہے جس طرح ایک سال گنگا نے انتظار کیا وہ بھی انتظار کرے گی اور درجن بھی انتظار کرے اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی گھر گرہستی ساتھ چلائیں گے۔

          چھ ماہ کے بعد ایک دن گنگا اور جمنا ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ جمنا نے پوچھا۔

          گنگا ایک بات بتاؤ تم مزاجاً ڈاکو نہیں لگتے۔ پھر تم نے ڈکیتی کا پیشہ کیسے اپنا لیا۔

          گنگا نے کہا۔ تم نے بہت پرانی کہانی چھیڑ دی۔ تم تو جانتی ہی ہو ہمارے علاقے میں لوٹ مار کا عام رواج ہے۔ اسی لیے رات کے وقت اس علاقے سے سواریاں اکیلے اکیلے نہیں بلکہ کارواں کی شکل میں جاتی ہیں اور اس کے باوجود انہیں لوٹ لیا جاتا ہے۔

          ہاں ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن سب لوٹ مار کرنے والے ڈاکو تو نہیں بن جاتے؟ جمنا نے پوچھا۔

          تم نے صحیح کہا جمنا۔ میں بھی ڈاکو نہیں تھا لیکن لوٹ مار کیا کرتا تھا اور تم یہ بھی جانتی ہو کہ ہم لوگ لوٹنے کے بعد لٹنے والوں کی پٹائی بھی کرتے ہیں۔

          ہاں ہاں جانتی ہوں۔ جمنا بولی۔ تاکہ تمہیں ایسا لگے گویا بڑی محنت کر کے یہ کمائی حاصل کی ہے۔

          گنگا بولا۔ بالکل صحیح۔ میں بھی اسی طرح ایک بار ایک لٹنے والے کو پیٹ رہا تھا کہ اچانک وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کا دیہانت ہو گیا۔

          کیا؟ جمنا سے تعجب سے پوچھا۔ تم نے اسے مار ڈالا؟

          نہیں جمنا میرا ارادہ اسے جان سے مارنے کا ہرگز نہیں تھا۔ اب تم تو جانتی ہو ہر ایک کی موت کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ اتفاق اس آدمی کی موت کا وقت اس وقت آ گیا جب وہ مجھ سے مار کھا رہا تھا۔

          پھر؟ جمنا نے پوچھا۔

          پھر کیا تھا جیسے ہی ہم لوگوں کو پتہ چلا وہ مر چکا ہے ہم لوگ گھبرا گئے اور لوٹ کا مال چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔ میں اپنے دور کے رشتہ دار کے یہاں جا کر چھپ گیا لیکن وہ شاید کوئی بہت بڑا آدمی تھا۔ پولس نے سارے علاقہ کی زبردست چھان بین شروع کر دی اور مجھے یقین ہو گیا کہ جلد ہی مجھے پھانسی ہو جائے گی۔ ہماری طرف سے کوئی وکیل بھی تو نہیں کھڑا ہوتا جو سیاہ کو سفید بنا کر ہمیں چھڑا لے۔

          پھر؟جمنا کی دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔

          پھر کیا۔ میں بھاگ کر چنبل کی گھاٹی میں آ گیا جہاں میری ملاقات گوگا سنگھ کے باپ جگا ڈاکو سے ہو گئی۔ اس نے مجھے اپنے یہاں پناہ دی۔ میں اس کی ٹولی میں شامل ہو گیا اور ڈکیتیوں میں حصہ لینے لگا۔ اپنی دلیری اور نشانے بازی کے باعث میں بہت جلد اپنے گروہ میں معروف ہو گیا۔ ایک مرتبہ پولس مڈبھیڑ میں جگا کو گولی لگی اور وہ مارا گیا۔ اس کے بعد گروہ کا سردار کون بنے اس پر اختلاف ہو گیا۔ کچھ لوگ گوگا سنگھ کو سردار بنانا چاہتے تھے تاکہ اس کی آڑ میں اپنی سرداری چلا سکیں لیکن گوگا سنگھ اس وقت بہت چھوٹا تھا اس کی عمر تقریباً گیارہ سال تھی۔ اس کی ماں نے اعلان کر دیا گوگا سنگھ ابھی سرداری کا بوجھ نہیں سنبھال سکتا اور اپنی رائے میرے حق میں دے دی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی میرے حامیوں نے فضا میں گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ چاروں طرف گنگا سنگھ زندہ باد کے نعرے لگنے لگے اور میں سردار بن گیا۔

          لیکن اب تو گوگا سنگھ جوان ہو گیا ہے۔ اب تو وہ سردار بن سکتا ہے۔ جمنا نے پوچھا۔

          ہاں جمنا تم صحیح کہتی ہو۔ لیکن ڈاکوؤں کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں۔ یہاں غداری نہیں ہوتی۔ سردار معزول نہیں کئے جاتے یا تو وہ مارے جاتے ہیں یا خود اپنی مرضی سے کسی کے حق میں دستبردار ہو جاتے ہیں اور جس کے حق میں دستبردار ہوتے ہیں وہ سردار ہوتا ہے۔ گوگا مجھے باپ کی طرح مانتا ہے میرا بے حد احترام کرتا ہے۔

          اچھا! جمنا نے پوچھا۔ تو کیوں نہیں تم اس کے حق میں دستبردار ہو جاتے اور اسے سردار بنا دیتے۔ جمنا نے مشورہ دیا۔

          جمنا کے منہ سے یہ بات سن کر گنگا کو تعجب ہوا تھا۔ اس لیے کہ اس سے پہلے اس سے ایسا کسی نے نہ کہا تھا۔

          گنگا بولا۔ مشورہ تو اچھا ہے لیکن اس کے حق میں دستبردار ہو کر میں کیا کروں گا؟ چنبل کی گھاٹی سے باہر موت کا پھندا میرا انتظار کر رہا ہے۔ اب مجھے یہیں جینا ہے اور یہیں مرنا ہے۔

          لیکن میں … میں۔ جمنا نے کہا۔

          گنگا نے پوچھا۔ کیا؟

          جمنا نے کہا۔ کچھ نہیں۔ دراصل اس کی زبان سے یہ جملہ ادا ہوا چاہتا تھا کہ ’’میں یہاں نہیں رہ سکتی اوراسے وہاں کیوں رہنا تھا۔‘‘ وہ تو ساون کی پورنیما کا انتظار کر رہی تھی۔ جب اپنے وعدہ کے مطابق گنگا اسے شادی کے میلے میں لے جا کر چھوڑ دے گا اور وہ اپنے درجن کے ساتھ واپس اپنے گھر چلی جائے گی۔ اسے اس بات کا یقین تھا کہ گنگا اپنا وچن ضرور نبھائے گا اور اسے اس بات پر بھی اعتماد تھا کہ درجن اسے پھر اپنا لے گا اور چوروں کی طرح گھاٹیوں میں نہیں بلکہ ساہوکاروں کی طرح کھیتوں اور کھلیانوں میں اپنی زندگی گذارے گی۔

          گھڑی کی سوئیاں اپنے محور میں ہفتوں اور مہینوں کا سفر طے کرتی رہیں۔ لیکن گھڑی جہاں تہاں تھمی رہی۔ ساون کا مہینہ اور پورنیما کی رات آ گئی۔ اس دن جمنا نے بڑے اہتمام سے اپنی بندیا کو دھو دھا کر اپنے ماتھے پر سجایا۔ آج اسے اپنے درجن سے ملنا تھا۔ ایک سال کا عرصہ گنگا سنگھ کے ساتھ گذارنے کے بعد اسے یقین ہو گیا تھا کہ یہ آدمی اپنی زبان کا پکا ہے۔ یہ اپنا وچن ضرور نبھائے گا۔ گنگا کو امید تھی کہ آج جب وہ جمنا کے پاس آئے گا تو اس کی پیشانی پر درجن کی بندیا نہ ہو گی اور وہ اپنی بندیا سے اسے سجائے گا۔

          لیکن ایسا نہ ہوا اس کا دو سال کا انتظار ضائع ہو گیا۔اس کی تپسّیا بے کار ہو گئی اس نے جمنا کو بڑے احترام سے گھوڑے پر بٹھایا اور میلے کی جانب چل دیا۔ راستہ بھر دونوں نے کوئی بات نہ کی۔ سوچتے رہے کہ آخر یہ راستہ اتنا طویل کیوں ہے؟

          میلہ میں پہنچنے کے بعد گنگا نے کہا۔ جمنا اب تم آزاد ہو۔

          جمنا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی زبان گنگ ہو گئی۔ یہ انسان نہیں فرشتہ تھا۔ تھوڑی دیر میلے میں گھومنے کے بعد جمنا نے درجن کو دیکھا وہ گہنوں کی دوکان سے بندیا خرید کر باہر آ رہا تھا۔ سامنے جمنا کو دیکھ کر وہ چونک پڑا۔ جمنا درجن سے لپٹ گئی اور دیر تک روتی رہی۔ یہ خوشی کے آنسو تھے۔ درجن کو ایسا لگا جیسے وہ چوری کرتا ہوا پکڑا گیا ہے۔

          درجن اور جمنا میلے سے دور تنہائی میں جا بیٹھے۔ جمنا نے پوچھا۔ درجن کیسے ہو؟

          درجن بولا۔ اچھا ہوں، تم کیسی ہو؟

          میں میں بھی ٹھیک ہی ہوں۔ میں بہت خوش ہوں آج ایک سال بعد دوبارہ ہماری ملاقات ہو گئی۔

          ہاں ہاں میں بھی خوش ہوں بہت خوش مگر…

          مگر کیا؟ جمنا نے پوچھا۔

          مگر یہ کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔

          ڈر؟ کیسا ڈر؟ تمہیں کس سے ڈر لگتا ہے؟

          مجھے گنگا سنگھ سے ڈر لگتا ہے۔

          گنگا سنگھ سے ؟ گنگا سنگھ سے کیوں ؟

     &nb