کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دوستی دشمنی، دشمنی دوستی

ڈاکٹر سلیم خان


وہ کیا ہے؟ علی نے صدیق سے پوچھا۔

          میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے۔ ہم بچپن سے اسے اسی طرح دیکھ رہے ہیں۔ کبھی کبھی اس پر مشینی پرندے منڈلاتے ہیں بس۔ اندر کیا ہوتا ہے؟ یہ میں نہیں جانتا اور شاید کوئی بھی نہیں جانتا۔

          کیوں ؟علی نے پھر سوال کیا۔

          نہیں جاننے کی کوئی وجہ بھی ہم لوگ نہیں جانتے۔ شاید ہم جاننا ہی نہیں چاہتے۔ اب تم یہ مت پوچھ لینا کہ جاننا کیوں نہیں چاہتے۔ بس یونہی سمجھ لو۔

          علی اور صدیق کی یہ گفتگو الجزیرہ نامی جزیرہ نما کے ساحل سمندر پر چل رہی تھی۔ بحر اوقیانوس کے پیٹ میں پائے جانے والے الجزیرہ کا دارالخلافہ ساحل سمندر پر واقع تھا۔ ہر طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال الجزیرہ کی زمین اس قدر زرخیز تھی کہ موسم بہار میں پورے جزیرے پر ایک سبز قالین بچھ جاتی تھی۔ اس کے ایک حصہ میں تیل تو دوسرے میں معدنیات کے ذخائر تھے۔ برسوں سے زمین کی کوکھ انہیں اُگل رہی تھی لیکن اس کی کمیت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی تھی۔ اس جزیرے پر صدیوں سے فوجیوں کی حکومت رہی ہے جب ایک فوجی بوڑھا ہو جاتا تھا تو اس کا کوئی ساتھی اسے معزول کر کے اپنی حکومت کا اعلان کر دیتا تھا اور پھر پہلے کا حشر نہ کوئی جانتا تھا اور نہ جاننا چاہتا تھا۔ اس لیے کہ عوام کو ان حاکموں میں کوئی دلچسپی نہ تھی وہ اپنے کھانے کمانے اور عیش کرنے میں مگن تھے۔ چونکہ حکومت کی آمدنی بے شمار تھی وہ اس کا چھوٹا سا حصہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کر دیتی تھی جس کے باعث جزیرے کے طول و عرض میں بہترین تعلیم گاہیں اور بہترین ہسپتال پائے جاتے تھے۔ جہاں تعلیم اور معالجہ بالکل مفت تھا۔ سڑکیں، بازار اور دوسری تفریح گاہیں بھی بہترین معیار کے مطابق تھیں۔ یہاں اناج اور پھل پھول یہیں استعمال ہو جاتا۔ کچا تیل اور معدنیات برآمد کر دیا جاتا۔ ضروریات زندگی کا دیگر سامان درآمد کیا جاتا تھا۔ البلد وہ بندرگاہ تھی جہاں سے یہ سب کام ہوتا تھا۔ آبادی بہت زیادہ نہ تھی۔ وسائل کے اعتبار سے ہر شئے کی کثرت تھی۔ گویا کہ یہ بڑا ہی خوشحال علاقہ تھا۔ علی ساحل سمندر سے دور دراز کے علاقے کا رہنے والا تھا جب اس کے والد کا تبادلہ البلد نام کے ساحلی شہر میں ہوا تب اس نے پہلی مرتبہ سمندر کو دیکھا تھا۔ وہ کالج کا طالب علم تھا۔ البلد کا کالج بالکل ساحل پر واقع تھا جہاں شام ہوتے ہی طلباء فٹ بال کھیلنے جمع ہو جاتے۔ یہاں یہ کھیل ریت پر کھیلا جاتا۔ جو نہ کھیلتے تھے وہ کھیل دیکھتے تھے۔ سورج غروب ہونے تک ہنگامہ برپا رہتا اور پھر کھیلنے والے اور تماشائی دونوں تھک کر واپس آتے۔ غسل کر کے تازہ دم ہوتے کھانا کھا کر سو جاتے۔ علی کو فٹ بال کے ہنگاموں میں دلچسپی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود وہ ساحل پر آتا اس لیے کہ اسے سمندر کی لہریں، ہوائیں، ریت اور سورج کے غروب ہونے کا منظر بے حد پسند تھا۔ وہ بھی تمام طلباء کے ساتھ یہاں آتا اور سب سے الگ تھلگ ایک چٹان پر بیٹھ کر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔صدیق بھی اسی مزاج کا حامل تھا لیکن کوئی ساتھ نہ ہونے کے باعث وہ فٹ بال کا تماش بین بن گیا تھا۔ جب اسے پتہ چلا کہ علی نہ کھیلتا ہے اور نہ دیکھتا ہے تو اس کی دوستی علی سے ہو گئی۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ الگ تھلگ مختلف موضوعات پر گفتگو میں مصروف رہتے اور شام ڈھلے لوٹ آتے۔ان دونوں کا یہ رویہ بقیہ طلباء سے یکسر مختلف تھا۔ آج ان کی گفتگو ساحل پر کھڑے بحری بیڑے پر مرکوز تھی۔ دراصل بحری بیڑہ نمبر 911 ایک ایسے مقام پر لنگر انداز تھا کہ موسم بہار میں سورج سمندر کے بجائے اس میں غروب ہوتا دکھائی پڑتا۔سورج جب اس کے پیچھے جاتا تو آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا اور پھر کیا ہوتا پتہ نہ چلتا۔ ایسا لگتا گویا بیڑے نے سورج کو نگل لیا ہے۔

          علی نے اصرار کیا۔ ہمیں پتہ لگانا چاہئے کہ وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور وہاں کیا ہوتا ہے؟

          صدیق نے کہا۔اس کے بارے میں شاید ڈاکٹر احمد ہماری رہنمائی کر سکیں۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ کل ان سے ملاقات کر کے ان سے بات کرتے ہیں۔

          ڈاکٹر احمد کالج کے معمر اساتذہ میں سے ایک تھے۔ ویسے ان کا تعلق الجزیرہ سے نہ تھا۔ وہ دور کسی ملک کے رہنے والے تھے جہاں زبردست اسلامی بیداری رونما ہوئی تھی اور جب انقلابی کوششیں بام عروج پر پہنچ گئیں تو انہیں سختیوں سے آزمایا گیا اور اس ملک کی عوام نے آزمائش کی گھڑی میں تحریک کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اپنے رہنماؤں کی صبر و عزیمت کے واقعات بھی ان کی غفلت کا خاتمہ نہ کر سکے۔ مجاہدین اسلام نے تو بے مثال قربانیاں پیش کیں لیکن عوام گھبرا گئے۔ مشیت نے سزا کے طور پر اس کے عوض اپنوں ہی کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ اسلامی تحریک کی سعید روحیں اس بنجر سرزمین سے دور دراز کے علاقوں کی طرف کوچ کر گئیں۔ ان لوگوں نے دنیا کے بڑے حصہ کو اسلامی بیداری سے سیراب کیا اور اسے ایسے سرسبز و شاداب علاقے دستیاب ہو گئے جن میں بے شمار قوتیں پنہاں تھیں وہ غفلت کی دبیز چادر تلے دبی ہوئی تھیں۔ ان بیدار لوگوں نے اس چادر کو تار تار کیا۔ غفلت کا شکار عوام میں بیداری پیدا کی اور ایسے نوجوان تیار کیے جو اسلام کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے سے پس و پیش نہ کرتے تھے۔ ایک تالاب جسے خشک کرنے کی کوشش کی گئی تھی ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بن گیا تھا جو جغرافیائی حدود و قیود سے آزاد تھا۔

          ڈاکٹر احمد جب اس جزیرے پر آئے تو یہاں کے لوگوں میں دین کا ایک جامد تصور تو تھا تعلیم کا کوئی شعور ہی نہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس جمود کو تحریک میں بدل دیا اور تعلیم کو عام کیا۔ اس علاقے کو تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے پسماندہ سمجھا جاتا تھا لیکن یہاں کے لوگوں کی سادگی، صبر و استقامت، دلیری اور شجاعت اس مفروضہ کو بڑھاتی تھی۔ان کے اخلاقی اقدار کو ایک سمت کی ضرورت تھی جو ڈاکٹر صاحب جیسے لوگوں کی کوششوں سے مل گئی تھی اور پھر کیا تھا کتاب ملت بیضا کی شیرازہ بندی ہونے لگی اور ہوتی چلی گئی۔

          دوسرے دن شام کو علی اور صدیق ساحل پر پہنچنے کے بجائے ڈاکٹر صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب نمازِ عصر سے فارغ ہو کر چائے کا انتظار کر رہے تھے ان مہمانوں کا خیر مقدم کرنے کے بعد انہوں نے دو چائے کا اضافہ کر دیا اور پوچھا۔

          کہو نوجوانو۔ کیا چیز آج تمہیں میرے پاس لائی ہے؟

          صدیق اور علی نے ایک دوسرے کو کنکھیوں میں دیکھا اور صدیق گویا ہوا۔

          جناب یہ ہمارا نیا ساتھی علی ہے۔ ابھی حال ہی میں یہ شمران سے یہاں البلد میں آیا ہے۔ یہ جاننا چاہتا ہے کہ ساحل سمندر پر دور جو ہیولہ نظر آتا ہے وہ کیا ہے؟کیوں ہے؟ اور وہاں کیا ہوتا ہے؟

          ڈاکٹر صاحب مسکرائے انہوں نے صدیق سے پوچھا۔ یہ جاننا چاہتا ہے تم نہیں جاننا چاہتے؟

          میں ؟ ویسے کل سے پہلے تو مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اب میں بھی یہ سب جاننا چاہتا ہوں۔

          لیکن تم لوگ یہ سب کیوں جاننا چاہتے ہو؟ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا۔

          بس یونہی۔ علی بولا۔ کسی چیز کے بارے میں جاننے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ تو درکار نہیں ہے۔

          نہیں نہیں بالکل نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ میں تمہاری حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے تو بس یونہی دریافت کر لیا دراصل یہ 911نمبر کا بحری بیڑہ ہے۔

          کیا؟ بحری بیڑہ؟

          ہاں یہ بحری بیڑہ ہے۔

          لیکن کس کا بحری بیڑہ؟ کیا یہ ہمارے ملک کا ہے؟

          نہیں یہ ایک غیر ملکی بحری بیڑہ ہے۔

          وہ کیا کرتا ہے؟

          لوگ کہتے ہیں کہ وہ نگرانی کرتا ہے۔

          نگرانی کس پر؟

          ہمارے دشمنوں پر تاکہ ہماری حفاظت کر سکے۔

          لیکن ہمیں حفاظت کی کیا ضرورت ہے؟ ہماری کسی سے دشمنی ہے کیا؟

          دیکھو بچو دوستی اور دشمنی تو ہر کسی کی ہوتی ہے۔ ہم جب اس دنیا میں رہتے ہیں تو ہمارے کچھ دوست اور کچھ دشمن بھی ہوں گے۔

          لیکن یہ بحری بیڑہ جس ملک کا ہے وہ ہمارا دوست ہے یا دشمن؟

          اسے لوگ دوست کہتے ہیں۔

          دوست۔ کس بناء پر اسے دوست کہا جاتا ہے۔

          دراصل اس کی دشمنی ہمارے دشمنوں سے ہے۔

          اچھا تو کیا دشمن کا دشمن لازمی طور پر دوست ہوتا ہے؟ علی نے پوچھا۔

          ڈاکٹر صاحب بولے۔ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔

          وہ کیسے؟

          جب تک اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے وہ ہمارا دوست رہے گا لیکن وہ ہمارا دوست ہو جائے تو اس کی دوستی دشمنی میں بدل جائے گی۔

           اور یہ دشمن ہو جائے تو؟ علی نے پوچھا۔

          تب بھی اس کا دشمن دوست بن جائے گا۔

          گویا اصل مسئلہ ان دونوں کا ہے ہم تو بس یونہی … صدیق کچھ کہتے کہتے رک گیا۔

          ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ہاں یہی سمجھ لو تلواریں اوروں کی ہے ہم تو بس ڈھال ہیں جنہیں حملہ روکنے کے لیے آگے کر دیا جاتا ہے یا میزائل ان کے ہیں ہمیں تو صرف گولوں کی طرح داغ دیا جاتا ہے۔

          یہ تو سنگین صورت حال ہے۔ علی نے کہا۔

          ڈاکٹر صاحب نے تائید کی۔

          علی اور صدیق کو اب ایک دوستی اور دشمنی کی گتھی مل گئی تھی جسے وہ ساحل پر بیٹھ کر سلجھایا کرتے تھے۔

          ایک روز شام طعام گاہ سے طلباء لوٹ رہے تھے کہ فاروق نے صدیق کے کندھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگا۔ صدیق جانتے ہو آج میں نے ساحل پر اس ہیولہ میں حرکت دیکھی اور بے شمار طیاروں کو اس میں سے اُڑتے دیکھا۔

          ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ علی کے کان کھڑے ہو گئے۔

          صدیق نے کہا۔کیا مذاق کرتے ہو۔ یہ صرف تمہیں نے دیکھا اور سب نے آنکھیں موند لی تھیں کیا؟

          نہیں صدیق ایسا نہیں تم تو جانتے ہو میں اپنی ٹیم کا کپتان ہوں۔ آج ہماری ٹیم بالکل ہار کے قریب پہنچ چکی تھی لیکن آخری دس منٹ میں ہم لوگوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی اس لیے کہ میں شکست کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ہم مقابلہ تو جیت گئے لیکن میں تھک کر بالکل چور چور ہو گیا۔سب لوگ کھیل کے خاتمہ کے بعد لوٹ آئے لیکن میں وہیں ریت پر دیر تک پڑا رہا اور پھر کچھ آوازیں آنے لگیں۔ میں نے دیکھا یہ آوازیں وہیں سے آ رہی تھیں۔ پھر میں نے دیکھا روشنی کے انگارے ایک کے بعد ایک اُڑ رہے ہیں۔

          علی نے اثبات میں سر ہلایا۔ کمرے میں بھی آوازیں آ رہی تھیں۔

          فاروق بولا۔ ہاں ہاں تم نے بھی سنی ہوں گی۔ لیکن پھر میں نے دیکھا کہ وہ پورا ہیولہ حرکت کر رہا ہے۔ یہ منظر عجیب و غریب تھا۔ میں اسے غور سے دیکھتا رہا۔ وہ واقعی حرکت کر رہا تھا۔

          بات چیت کرتے کرتے تینوں علی کے کمرے تک آ گئے تھے۔ علی نے فاروق اور صدیق کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہنے لگا۔ فاروق تم جانتے ہو وہ کیا ہے؟

          فاروق نے کہا۔ نہیں۔

          علی نے بتلایا۔ وہ ایک بحری بیڑہ ہے اور وہ حرکت کر سکتا ہے لیکن اس کی حرکت بلاوجہ نہیں ہو سکتی۔ وہ یقیناً کسی فوجی مہم پر جا رہا ہو گا۔ ہمیں پتہ لگانا چاہئے کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟

          لیکن یہ ہم کیسے پتہ لگا سکتے ہیں۔ فاروق نے پوچھا۔

          تینوں دوست چپ ہو گئے۔ سوچنے لگے۔ صدیق نے ایک تجویز پیش کی۔ وہ بولا۔ ایک طریقہ ہے۔ ہمارا ایک دوست عثمان ہے اس کے والد ماہی گیری کا کاروبار کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہم اس کے ذریعہ ایک کشتی حاصل کریں اور اس بحری بیڑے کا پیچھا کریں اور دیکھیں کہ وہ کہاں جا رہا ہے اور کیا کرنے والا ہے؟

          صدیق کی اس تجویز کو آناً فاناً قبول کر لیا گیا۔ صدیق عثمان کو بلانے کے لیے اس کے کمرے کی جانب روانہ ہو گیا۔ علی اور فاروق اپنی آگے کی حکمت عملی پر گفتگو کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد عثمان بھی ان کے ساتھ شامل تھا۔

          عثمان نے کہا۔کشتیاں تو ہمارے پاس بہت ساری ہیں اور میں ان میں سے ایک حاصل بھی کر لوں گا لیکن اسے چلائے گا کون؟ کیا تم میں سے کوئی یہ جانتا ہے؟

          تینوں نے نفی میں سرہلایا۔

          عثمان بولا۔ اگر میں اپنے والد سے یہ بتلا دوں کہ کشتی اس بحری بیڑہ کا پیچھا کرنے کے لیے چاہئے تو وہ نہیں دیں گے اگر کشتی چلانے والے کو ساتھ لیا گیا تو راز کھل جائے گا۔

          یہ مسئلہ ٹیڑھا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد فاروق بولا۔

          ویسے تو میں نہیں جانتا لیکن کوشش کر سکتا ہوں۔

          عثمان نے کہا۔ کوشش کر سکتا ہوں، کیا مطلب؟ ہمارے ماہر ماہی گیر کبھی کبھار سمندری طوفانوں میں کھو جاتے ہیں۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔

          جو بھی ہو ہم جائیں گے۔ علی اور فاروق نے ایک ساتھ کہا۔

          عثمان مسکرایا۔ اگر ارادہ پکا ہے تو میں بھی ساتھ چلوں گا۔ میں تو پانی کا بیٹا ہوں میں نے جتنا وقت خشکی میں گذارا شاید اس سے زیادہ وقت پانی میں گذارا ہو گا۔ کل صبح بعد نماز فجر آپ لوگ تیار رہنا ہم چلیں گے۔

          رات میں عثمان نے اپنے والد کو تیار کر لیا اور صبح تڑکے یہ چاروں دوست نکل پڑے۔

          یہ ایک نہایت جدید موٹر بوٹ تھی۔ ان دوستوں نے اچھا خاصا کھانے پینے کا سامان اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ جب یہ لوگ چلے تو بحری بیڑہ کافی آگے نکل چکا تھا۔ وہ دور ایک نقطہ کی مانند دکھائی پڑتا تھا۔ ان کی نظریں اس پر نصب تھیں۔ ننھی سی بوٹ کی رفتار عظیم بیڑے سے کہیں زیادہ تھی اور رفتہ رفتہ ان کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جاتا تھا۔ علی اور فاروق محو گفتگو تھے لیکن فاروق کی تمام تر توجہ عثمان کی طرف تھیں وہ غور سے عثمان کی ہر حرکت کا مشاہدہ کرتا جاتا تھا۔ تین چار گھنٹے کی مسافت کے بعد جب بھوک لگی تو کھانے کا سامان کھولا گیا۔ یہ تینوں تو کھاتے رہے عثمان بوٹ چلاتا رہا۔ فاروق نے کھانے کے بعد عثمان سے کہا۔

          اب تم کھاؤ میں چلاتا ہوں۔

          تم چلاؤ گے عثمان نے تعجب سے پوچھا۔

          کیوں نہیں۔ فاروق بولا۔ میں چلاؤں گا۔

          علی اور صدیق فاروق کو سمجھانے لگے۔ دیکھو فاروق یہ فٹ بال نہیں ہے۔ یہ خطرے کا کھیل ہے سمندر کی لہریں کافی اونچی اٹھ رہی ہیں۔

          فاروق بولا۔ تو کیا ہوا؟ ان لہروں سے بلند ہمارے عزائم ہیں۔ میں چلاؤں گا۔

          عثمان نے کہا۔ ٹھیک ہے اب تم چلاؤ میں ناشتہ کر لوں۔

          فاروق نے جب اسٹیرنگ پکڑا تو اس کے اندر بلا کا اعتماد تھا۔ ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ پہلی بار اس کشتی کو چلا رہا ہے۔ وہ لہروں سے اسی طرح لطف اندوز ہو رہا تھا جیسے مقابل کی ٹیم کے حملہ سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ وہ ان سے اسی طرح کشتی کو بچاتا ہوا چل رہا تھا جیسے مقابل ٹیم کے دفاعی کھلاڑیوں سے بچتا بچاتا بال کو لے کر آگے بڑھتا تھا اور اس کی نظریں بحری بیڑے پر اسی طرح نصب تھیں جیسے مخالف کے گول پوسٹ پر لگی ہوتی تھیں۔

          ناشتہ کے بعد عثمان سستانے لگا۔ اس نے کہا۔ فاروق تم تو مجھ سے بھی ماہر نکلے۔

          فاروق نے کہا۔ کیوں مذاق کرتے ہو۔

          صدیق بولا۔ عثمان سے زیادہ نہیں لیکن برابر ضرور ہو۔

          علی بولا۔ آج پہلے ہی دن برابری ہو گئی۔ کل یقیناً یہ آگے بڑھ جائے گا۔

          چھوڑو یار۔ فاروق نے کہا۔

          شام کے سائے لمبے ہوتے جاتے تھے۔ اب وہ بحری بیڑے کو بالکل قریب سے دیکھ رہے تھے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ بحری بیڑے سے بمبار جہاز اُڑ کر جاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد لوٹ آتے ہیں اس کے بعد پھر تازہ دم ہو کر جاتے ہیں اور بمباری کر کے لوٹ آتے۔ یہ لوگ کہاں جاتے تھے کس پر بم برساتے ؟کیوں ہو رہا تھا یہ سب؟ ان سوالات سے یہ چاروں لوگ ناواقف تھے۔ لیکن اس مشاہدے میں ایسے کھوئے ہوئے تھے کہ وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ اچانک ان لوگوں نے دیکھا کہ تین چار فوجی کشتیوں نے ان کو گھیر لیا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے چند اسلحہ بردار فوجی ان کی کشتی میں کود پڑے اور دیکھتے دیکھتے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی گئی اور پھر وہ نہ جانے کہاں چل پڑے۔

          تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد جب ان لوگوں کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی گئی تو وہ ایک بڑے سے ہال میں پڑے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ کس کی قید میں ہیں اور ان کا کیا حشر ہونے والا ہے؟ وہ چاروں تنہا تنہا ان سوالوں پر غور کر رہے تھے کہ اذان کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ ان کے چہرے کھل اٹھے یہ کوئی مسلمان بستی تھی۔ انہوں نے حمام تلاش کیا۔ ہال کے کونے میں حمام تھا۔ ان لوگوں نے ایک ایک کر کے وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس قید خانے کا چوکیدار انہیں دیکھ رہا تھا۔ اس نے دروازے کو تالا لگایا اور ان کے ساتھ جماعت میں شامل ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپس میں دعا سلام ہوئی۔ چوکیدار نے انہیں بتلایا کہ وہ شام کی فوجی جیل میں ہیں۔ جلد ہی ان کا افسر تفتیش کے لیے آئے گا اور ان سے پتہ لگائے گا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ چونکہ فی الحال شام حالت جنگ میں ہے اس لیے وہ لوگ زیادہ چوکنے ہیں۔ تفتیش کے بعد بے ضرر پائے جانے پر انہیں رہا کر دیا جائے گا ورنہ فوجی قانون کے مطابق مقدمہ چلے گا اور قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

          ویسے یہ جاننے کے بعد کہ وہ ایک مسلم ملک کی قید میں ہیں چاروں کو قدرے اطمینان ہو گیا۔ بلاد شام کی تاریخ علی نے پڑھی تھی۔ یہ ایک وسیع و عریض خطہ ہوا کرتا تھا لیکن اس کے حال سے وہ واقف نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد ان کے لیے کھانا آ گیا۔ چاروں نے کھانا کھانے کے بعد چوکیدار کا شکریہ ادا کیا۔

          دوسری صبح ان کی ملاقات لیفٹیننٹ خالد سے ہوئی۔ یہ ایک نہایت ہی ذہین فوجی افسر تھا اس نے ایک نظر میں اندازہ لگا لیا کہ یہ معصوم لوگ ہیں۔ خالد نے ان سے چند سوالات کیے۔ زیادہ تر جوابات علی نے دیئے۔ اس کے ہر ہر لفظ سے صداقت ٹپک رہی تھی۔ اس کی جرأت اور برجستگی اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ وہ سچ بول رہا ہے۔

          گفتگو کا رخ تھوڑے ہی وقفہ میں بدل گیا اب یہ چاروں لیفٹیننٹ خالد سے سوالات کر رہے تھے اور خالد ان کا جواب دے رہے تھے۔ خالد نے انہیں بتلایا کہ یہ جنگ ان کے اور پڑوسی غاصب ملک کے درمیان ہے جس کا وجود ناجائز ہے جس نے ان کے بھائیوں کو غلام بنا لیا ہے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے۔وہ اپنے پیر پسارتا جاتا ہے اور اپنے مظالم میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ اسے دنیا کی عظیم طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس مرتبہ ہم نے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا ارادہ کیا تھا اور ہم فتح حاصل کرنے ہی والے تھے۔ اس عظیم طاقت کی مداخلت نے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ ہماری فتح کو شکست میں بدل دیا۔وہ جس کے تعاقب میں تم لوگ یہاں آئے ہو یہ اسی استعماری طاقت کا بحری بیڑہ ہے اور اسی کے ذریعہ ان لوگوں نے ہمارے دشمنوں کو کمک فراہم کی۔ ہم لوگ اُن سے تو جیت گئے لیکن اِن سے ہار گئے۔

          یہ عجیب و غریب انکشاف تھا۔ جس بحری بیڑے کو وہ اپنا محافظ سمجھ رہے تھے وہ دشمن کا محافظ تھا۔ وہ جسے اپنا دوست سمجھ رہے تھے وہ دوستوں کا دشمن تھا۔ وہ دشمنوں کا دوست تھا۔ لیفٹیننٹ خالد نے انہیں رہا کر دیا اور کسی بھی قسم کی مدد کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

          واپس لوٹتے ہوئے علی نے مڑ کر خالد کے فوجی جہاز کو دیکھا اس پر بڑے بڑے حرفوں میں 11لکھا ہوا تھا۔

          سارے راستے ان چاروں کا موضوع بحث صرف ایک موضوع تھا۔ بحری بیڑے کی دوستی اور دشمنی۔ عثمان اور فاروق باری باری سے بوٹ چلا رہے تھے اور علی اور صدیق سوچ رہے تھے کیا کیا جائے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات آ گئی تھی کہ یہ فتنہ کی جڑ ہے اور اس کی بیخ کنی ضروری ہے۔

          واپس آنے کے بعد ان لوگوں نے اخبارات کو دیکھا تو وہ ایک نئی کہانی سنا رہے تھے۔ ان کے مطابق شام غاصب تھا اس نے اپنے پڑوسی پر فوج کشی کی تھی اور اس بحری بیڑے نے مداخلت کر کے جنگ بندی کرائی اور امن قائم کروایا تھا۔

          یہ تضاد ان چاروں کے لیے ناقابل فہم تھا۔

          دوسرے دن یہ لوگ ڈاکٹر احمد کی خدمت میں پہنچ گئے اور ان سے استفسار کیا۔ انہوں نے وہی بات بتلائی جو لیفٹیننٹ خالد نے بتلائی تھی۔ علی نے پوچھا۔

          پھر ہمارے دانشور یہ کون سی راگنی سنا رہے ہیں ؟

          ڈاکٹر بولے۔ یہ لوگ دراصل اس عظیم قوت کے ذہنی غلام ہیں یا اس سے خوف کھاتے ہیں اس لیے وہی کہتے ہیں جو وہ کہتا ہے۔ اسی کا نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔

          صدیق نے پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب آپ وہ دوست اور دشمنی والی بات بتلائیں۔ یہ بحری بیڑہ چونکہ ہمارے دشمنوں کا دوست ہے تو کیا ایسے میں یہ ہمارا بھی دوست ہوسکتا ہے؟

          ڈاکٹر نے کہا۔ ہرگز نہیں۔ کبھی بھی یہ ہمارا دوست نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے۔لیکن پہلے کبھی ہمارے دشمن کا دشمن تھا اس لیے ہم نے اسے اپنا دوست سمجھ لیا تھا لیکن اب ہمارے دشمن کی دوستی اور دوستوں سے دشمنی نے اسے ہمارا دشمن بنا دیا ہے۔

          علی نے کہا۔ لیکن ایک اور سوال ہے ہماری حکومت ہماری دوست بھی اور بحری بیڑے کی بھی دوست ہے جب کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ یہ کیسا معمہ ہے؟

          ڈاکٹر احمد نے کہا۔ تمہارے اس سوال کا جواب تو یہی ہے کہ یہ تضاد عملاً ممکن نہیں ہے یا تو یہ حکومت ہمیں دھوکا دے رہی ہے یا انہیں دھوکہ دے رہی ہے۔

          لیکن اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ صدیق نے پوچھا۔

          وقت اور آزمائش ہر راز کا پردہ اٹھا دیتی ہے۔ وقت آنے پر پتہ چل جائے گا جیسا کہ بحری بیڑے کے بارے میں پتہ چل گیا۔

          عثمان اور فاروق گفتگو میں شریک تو تھے لیکن خاموش تماشائی کی حیثیت سے۔ وہ صرف سنتے رہے ان لوگوں نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ باہر نکلنے کے بعد فاروق بولا۔

          ہمیں کچھ کرنا ہو گا۔

          عثمان نے تائید کی۔ ہاں کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہو گا۔

          علی اور صدیق نے بھی ان کی آواز میں آواز ملائی۔ ہم کچھ نہ کچھ کریں گے اور ضرور کریں گے انشاء اﷲ۔ ان چاروں نے ایک عزم تو کر لیا تھا لیکن نہیں جانتے تھے کیا کیا جائے اور کیسے کیا جائے؟

          علی اور فاروق پہلے ہی سے مرین انجینئرنگ کے طالب علم تھے اب صدیق اور عثمان نے بھی اپنے مضامین بدل لیے اور وہ لوگ مرین انجینئرنگ میں آ گئے تھے۔ اب وہ دن رات جہازوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی دھن میں لگے رہتے۔ بیڑوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تفصیلات فراہم کرنا اور آپس میں اس پر بحث کرنا ان کا واحد مشغلہ تھا۔اب فاروق نے فٹ بال کھیلنا چھوڑ دیا تھا۔ عثمان کی دلچسپیاں سیرو سیاحت سے ختم ہو گئی تھیں۔ علی تاریخ کے بجائے حالات حاضرہ کی کتابیں پڑھنے لگا تھا اور صدیق نت نئے منصوبہ بنانے لگا تھا۔ ان چاروں کی گفتگو نہایت راز داری میں ہوتی تھیں۔ کسی کو حتیٰ کہ ڈاکٹر احمد بھی ان کی سرگرمیوں سے واقف نہ تھے۔ کمال راز داری یہ لوگ برت رہے تھے۔

          وقت گذرتا گیا منصوبہ دھیمے دھیمے بنتا گیا۔ بالآخر انہوں نے پھر ایک بار لیفٹیننٹ خالد سے رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ خالد سے ملاقات کے لیے صرف دو لوگوں کے جانے کی بات طے ہوئی۔ یہ عثمان اور فاروق تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو گذشتہ مرتبہ بالکل خاموش تھے۔ ان کے انتخاب کی وجہ یہی تھی کہ کم سے کم الفاظ میں انہیں گفتگو کرنی تھی۔ خالد نے ان سے دوسرے ساتھیوں کے بارے میں پوچھا اور آنے کی غرض دریافت کی۔

          فاروق بولا۔ اس سے پہلے کہ میں بات آگے بڑھاؤں میں آپ سے دو باتوں کا عہد چاہتا ہوں۔

          خالد نے اثبات میں سرہلا یا۔

          فاروق بولا۔ ایک تو یہ کہ آپ ہمارے منصوبے کی تفصیلات نہیں پوچھیں گے اور دوسرے اس پورے معاملہ کو صرف اور صرف اپنے تک محدود رکھیں گے۔

          خالد نے حامی بھری تو عثمان بولا۔ بہت بڑی مقدار میں گولا بارود چاہئے۔ کیا آپ ہمیں وہ فراہم کر سکتے ہیں ؟ ہم اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

          خالد مسکرائے اور بولے۔اس کی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ صرف یہ بتلائیں کہ کب اور کہاں ؟ باقی سب کچھ ہو جائے گا۔

          مقام اور وقت کی تفصیلات طے ہو گئیں۔ اٹھتے ہوئے خالد نے ان دونوں کو سینے سے لگایا اور کہا۔ میں تمہاری کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ مجھے یقین ہے اﷲ کی مدد اور نصرت تمہارے ساتھ ہو گی اور تم ضرور کامیاب ہو گے۔

          صدیق اور علی فاروق اور عثمان نے اپنے منصوبے کی نوک پلک درست کر لی تھیں۔ چار کشتیوں کا انتخاب کر لیا گیا تھا۔ اسلحہ اور گولہ بارودسے انہیں لیس کر دیا گیا تھا۔ بحری بیڑے کے معمول کا اندازہ کر کے حملہ کے لیے اس وقت کا انتخاب کیا تھا جب ایندھن کے ذخیرے سے ایندھن فراہم کیا جاتا تھا۔ عثمان کے ذمہ یہ تھا وہ فراہمی دوران ہی اس مقام سے جا ٹکرائے تاکہ آگ لگنے کی ابتداء وہاں سے ہو جائے۔ فاروق کو بحری بیڑے کے دوسرے سرے پر اسلحہ کے ذخیرے سے جا ٹکرانا تھا۔ صدیق کے ذمہ تھا بحری بیڑے کے ذرائع مواصلات کو بے کار کر دینا اور علی کو بیڑے کے کپتان کا سر قلم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ یہ تمام کام بیک وقت ہونے تھے۔

          جیسے ہی بارود کے ذخائر میں پہلا دھماکہ ہوا ایندھن نے آگ پکڑ لی اور اسی لمحہ بحری بیڑے کا مواصلاتی نظام پوری طرح معطل کر دیا گیا۔ علی نے کپتان کے کمرے میں چھلانگ لگائی۔ لیکن کپتان وہاں موجود نہیں تھا۔ علی جیسے ہی اس کی آرام گاہ میں داخل ہوا۔ کپتان نے گولی چلا دی۔ علی کو گولی کیا لگی کہ زبردست دھماکہ ہوا اور کنٹرول روم کے پرخچے اُڑ گئے۔ کپتان دھماکے سے مرا نہیں لیکن بری طرح زخمی ہو گیا اور اس نے اپنی آنکھوں سے بیڑے کو شعلوں کی نذر ہوتے ہوئے دیکھا اور بالآخر خود بھی اس میں بھسم ہو گیا۔دھماکوں کی آواز سنتے ہی ہوائی بیڑے میں کھلبلی مچ گئی۔ لوگوں نے سوچا یہ حادثاتی دھماکہ ہے۔ لیکن شعلوں کو اٹھتا دیکھ کچھ لوگ اپنے ہوائی جہازوں کے ساتھ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور جاتے جاتے ان لوگوں نے الجزیرہ پر بمباری کی اور سیکڑوں معصوموں کو شہید کر دیا۔ بحری بیڑے کی تباہی نے عظیم طاقت کے پیروں تلے سے زمین ہٹا دی۔ بدحواسی کے عالم میں اس نے بغیر جانے الجزیرہ کے انتہا پسندوں پر اس کا الزام لگا دیا۔ حالانکہ وہ اپنے تئیں جھوٹ بول رہے تھے۔ لیکن اتفاق سے یہ ایک سچ تھا۔ ان کی اس دروغ گوئی سے الجزیرہ پر کی جانے والی بے وجہ بمباری کو بھی وجہ جواز فراہم ہو جاتا تھا۔اس لیے وہ اسے بار بار دہرائے جا رہے تھے۔ بڑے بڑے دعووں اور بڑی بڑی دھمکیوں کا غلغلہ تھا۔

          ادھر الجزیرہ میں معصوم لوگوں کی موت پر صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ عظیم طاقت کے غلاموں نے اسی کا راگ الاپنا شروع کر دیا تھا اور بغیر کسی ثبوت کے وہ سب دہرانے لگے تھے جو انہیں سنایا جا رہا تھا۔ وہ اپنے ملک کے انتہا پسندوں کو اس تباہی کے لیے موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے حالانکہ انہیں اس بات کی کانوں کان خبر نہ تھی کہ یہ کام کس نے کیا ہے؟کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے بیڑے کو تباہ کرنے والے انہیں کے ایجنٹ ہیں وہ لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ بحری بیڑہ خود انہیں لوگوں نے تباہ کیا تاکہ ہم پر بمباری کر سکیں وغیرہ۔

          ڈاکٹر احمد کے گھر کی گھنٹی بجی تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ علی یا صدیق ہیں جو یہ پتہ کرنے کے لیے آئے ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اور کیوں ہو رہا ہے؟ لیکن ان کی اُمیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب اُنہوں نے دیکھا کہ یہ اخبار والے ہیں اور ان کا رد عمل طلب کر رہے ہیں۔ جب ان کی توجہ حکومت کے اس موقف کی جانب کروائی گئی اس الجزیرہ پر ہونے والی بمباری کے لیے یہاں کے انتہا پسند ذمہ دار ہیں تو انہوں نے تردید کی۔

          یہ سراسر غلط بات ہے۔ ہم پر بمباری بحری بیڑے سے اُڑنے والے جہازوں نے کی ہے۔ اس لیے اس کی ذمہ داری بحری بیڑے پر ہی آتی ہے۔ جس نے بے سوچے سمجھے بمباری کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہمارے دشمن ہیں اور اس منطق سے جس نے اس بحری بیڑے کو غرق کیا ہے وہ ہمارا دشمن ٹھہرتا ہے۔ اس لیے حکومت جنہیں اپنا دشمن بتا رہی ہے وہ ہمارے دوست اور جنھیں دوست بتلا رہی ہے وہ ہمارے دشمن ہیں۔ ڈاکٹر احمد کا بیان دوسرے تمام دانشوروں سے مختلف تھا۔ اس لیے اسے تمام اخبارات نے خاص باکس بنا کر شائع کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی حقیقت بیانی نے کھلبلی مچا دی اور حکومت نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے پولس بھیج دی۔

          ڈاکٹر احمد نے اس بیچ صدیق اور علی کا پتہ کرنے کی بھرپور کوشش کی اور جب انہیں پتہ چلا کہ وہ چاروں دھماکے کے وقت سے غائب ہیں تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ انہیں کا کام ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی گرفتاری کی خبر سارے یونیورسٹی کیمپس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

          اس رات کوئی طالب علم بستر پر نہیں سویا۔ وہ لوگ سارے شہر کی دیواروں پر لکھتے رہے۔ ہمارے دشمن کا دوست ہمارا دشمن ہے۔ اور ہمارے دوست کا دشمن بھی ہمارا دشمن ہے۔

          اس روز کوئی طالب علم اسکول یا کالج نہیں گیا۔ اس روز کوئی کاشت کار کھیت میں نہیں گیا۔ کسی ملازم نے اپنے دفتر کا رُخ نہیں کیا۔ سب فوجی سربراہ کی رہائش کی جانب چل پڑے۔ وہاں حفاظتی دستہ مستعد تھا۔ مجمع بڑھتا جا رہا تھا۔ نعرے لگتے جاتے تھے۔

          دشمن کا دوست دشمن ہے۔

          دوست کا دشمن، دشمن ہے۔

          پہلے حفاظتی دستہ نعرہ لگانے والوں کو روک رہا تھا۔ پھر نعروں کا جواب دینے لگا۔ اور بالآخر یہ ہوا کہ حفاظتی دستہ کے لوگ نعرے بلند کرتے تھے اور مجمع جواب دیتا۔ اس تبدیلی کے بعد یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ایوان اقتدار کی جانب بڑھنے لگا اور پھر یہ اقتدار بھی بحری بیڑے کی طرح غرقاب ہو گیا۔جنھوں نے ڈاکٹر احمد کو گرفتار کیا تھا وہ گرفتار کر لیے گئے اور ڈاکٹر صاحب کو مجمع کندھے پر بٹھا کر چھڑا لایا۔اب لوگ ڈاکٹر صاحب سے رہنمائی کی درخواست کر رہے تھے۔ مائکروفون کا انتظام آناً فاناً کر دیا گیا تھا۔

          ڈاکٹر احمد کثیر مجمع کے جذبات کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا آج ہمارے لیے بڑی خوشی کا دن ہے۔ آج ہمیں ہم پر نگرانی کرنے والے بحری بیڑے اور ان سے محبت کرنے والا اقتدار دونوں سے نجات حاصل ہوئی ہے۔ لیکن ہمیں اس وقت ان معصوموں کو یاد کرنا چاہئے جن کی شہادت نے ہمیں بیدار کیا۔ جو خود تو بمباری کا شکار ہو کر موت کی نیند سوگئے لیکن اُمت کے اندر زندگی کی لہر پیدا کر دی۔ اسی کے ساتھ ہمیں ان نوجوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرنا چاہئے جنھوں نے دشمنی کے چہرے پر پڑی دوستی کی نقاب کو نوچ کر پھینک دیا اور اسے ایسا جھٹکا دیا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ان نوجوانوں نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے اور اُمت کو با وقار زندگی گذارنے کا حوصلہ بخشا۔میں اُن نوجوانوں کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کے لیے بلند درجات کی دعا کرتا ہوں۔ آمین!

٭٭٭