کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کبوتر خانہ

ڈاکٹر سلیم خان


کبوترخانہ نامی گاؤں یہاں بسنے والے لوگوں کے بجائے یہاں پائے جانے والے کبوتروں کے باعث مشہور تھا گو کہ یہ ایک مضحکہ خیز نام تھا لیکن اس گاؤں کے لوگوں کو اپنے کبوتروں پر اس قدر فخر و ناز تھا کہ یہ اس نام کو اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتے تھے۔ یہ کاشتکاروں کی بستی تھی۔ یہاں کے لوگوں کا پیشہ زراعت اور مشغلہ کبوتر بازی تھا۔ صبح سویرے یہ لوگ اپنے کھیتوں کی جانب نکل جاتے اور شام میں واپس آ کر کبوتر بازی میں غرق ہو جاتے۔ گاؤں میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی جو ویران و پشیمان رہتی اس لیے کہ نماز فجر کی اذان ان کے دور دراز کھتیوں تک نہ پہنچ پاتی۔ نماز عصر کا وقت یہ لوگ راستہ میں گذارتے۔ مغرب اور عشاء کبوتروں کی غٹر غوں میں نذر ہو جاتی۔ برسوں سے یہی معمول تھا یہ لو گ اس نظام الاوقات پر اس قدر راضی رضا ہو گئے تھے کہ انہیں اس میں کچھ بھی عجیب دکھائی نہ دیتا تھا۔

          چودھری عنایت حسین نہایت وضعدار شخصیت کے حامل گاؤں کے سرپنچ تھے۔ ان کے کھیت نہایت وسیع و عریض اور ان کے باڑے میں کبوتروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ انہیں کے قریب اسلم کا گھر تھا۔ اسلم بھی کبوتروں کا بڑا شوقین تھا۔ کھیتی کے کام سے جیسے ہی فرصت پاتا جنگلوں کی جانب نکل جاتا اور وہاں نئے کبوتر پکڑنے میں لگ جاتا۔ جنگلی کبوتروں کو پھانسنے اور انہیں سدھانے کے فن میں وہ بڑی مہارت رکھتا تھا۔

          ایک دن اس نے دیکھا جنگل میں ایک سرخ کبوتروں کا جوڑا دانا چگ رہا ہے۔ گاؤں میں لوگوں کے پاس بھانت بھانت کے کبوتر تھے لیکن سرخ کبوتر کسی کے پاس نہیں تھے۔ جب اسلم نے ان کبوتروں کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ اُڑ گئے لیکن دور افق پر اُڑتے ہوئے یہ کبوتر اسلم کے ذہن و دل میں بس گئے تھے۔ اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ ہر صورت انہیں حاصل کر کے رہے گا۔ اب دوسرے کبوتروں سے اسلم کی دلچسپی کم ہو گئی تھی۔ اس کی نظریں صرف اس سرخ کبوتر کے جوڑے کو تلاش کرتی رہتیں لیکن وہ تھے کہ کبھی نظر ہی نہ آتے۔

          ایک عرصہ گذر جانے کے بعد پھر ایک بار پہلے والے مقام پر اسلم نے انہیں دیکھ لیا اس کی مایوسی امید میں بدل گئی۔بڑی چالاکی سے اس بار کبوتروں پر اپنا دام ڈالا اور انہیں پھانسنے میں کامیاب ہو گیا۔ اپنی اس کامیابی پر اسلم کا دل بلّیوں اچھل رہا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے قارون کا خزانہ اس کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ دنیا کی ہر نعمت کی کمیت تقابل سے طے ہوتی ہے۔ جو چیز جس قدر کم لوگوں کو حاصل ہو اس کی قدر و قیمت اسی قدر زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ کبوتر خانہ گاؤں میں جہاں انسانوں کا تشخص کبوتروں سے وابستہ تھا سرخ کبوتر صرف اور صرف اسلم کے پاس تھے اس لیے وہ اپنے آپ کو اپنی بستی کا بے تاج بادشاہ سمجھنے لگا تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر سرخ کبوتروں کے چرچے زبان زد عام ہو گئے۔ لوگ آ آ کر ان کبوتروں کو دیکھتے اور رشک و حسد کے جذبات لیے واپس لوٹتے۔ اسلم بہت جلد انہیں سدھانے میں کامیاب ہو گیا۔ اب وہ انہیں فضاؤں میں کھلا چھوڑ دیتا اور یہ سرخ کبوتر آسمان میں اسلم کی عظمت و شہرت کا جھنڈا بلند کرتے پھرتے تھے۔

          بوڑھے دادا عمرو کے علاوہ ان سرخ کبوتروں کے باعث اسلم کے سارے گھر والے بہت خوش تھے۔ انہوں نے اسلم سے کہا۔

          دیکھ اسلم یہ سرخ کبوتر وفا شعار نہیں ہوتے۔ ان کو نہ سدھا۔ ان سے اپنا دل نہ لگا یہ کسی بھی وقت اُڑ جائیں گے۔

          اسلم نے کہا۔ کوئی بات نہیں جب اُڑ جائیں گے تب اُڑ جائیں گے لیکن اس وقت تک تو ہماری شان بڑھائیں گے۔

          دادا عمرو نے سمجھایا۔ نہیں بیٹے یہ اس قدر آسان نہیں ہے۔ اگر یہ کسی اور کے باڑے میں چلے جائیں تو؟

          اسلم نے کہا۔ کوئی بات نہیں ان کی مرضی اور اس کا مقدر۔

          دادا عمرو نے پھر کہا۔ بیٹے اسلم یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

          اسلم نے کندھے اچکائے اور دادا عمر و کو سمجھانے لگا۔ آ پ بلاوجہ کے اندیشوں میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ ایک تو یہ جائیں گے نہیں ہمارے باڑے سے آج تک کوئی کبوتر کہیں نہیں گیا۔ ہماری شفقت اور محبت کا بندھن انہیں کبھی ایسا کرنے نہیں دیتا اور پھر اگر چلے بھی گئے تو … یہ کہہ کر اسلم رک گیا۔

          عمرو دادا بولے۔ اسلم آگے بولو رک کیوں گئے؟

          اسلم نے بات آگے بڑھائی۔ جی ہاں اگر چلے بھی گئے تو ان کی مرضی۔

          اسلم دوسرے کبوتروں کی بات اور ہے میں تو ان سرخ کبوتروں کی بات کر رہا ہوں جو صرف تمہارے پاس ہیں۔

          اسلم سوال کی اس وضاحت سے کچھ پریشان سا ہو گیا۔ لیکن پھر کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔ ان کی مرضی اور اس کا مقدر۔

          عمرو دادا نے پھر کہا۔ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

          وقت کا پنچھی گردش لیل و نہار سے بے پرواہ مسلسل اُڑا جا رہا تھا۔ وہ نہ تھکتا تھا اور نہ رکتا تھا۔ ایک روز اسلم حسب معمول شام میں اپنے کبوتروں کو دانہ ڈال رہا تھا۔ ایک ایک کر کے کبوتر واپس آتے وہ ان میں سے ہر ایک کو پیار سے ہاتھوں میں اٹھا لیتا پچکارتا اور پھر ڈربے میں بند کر دیتا۔ رات کے سائے لمبے ہو گئے۔ کبوتروں کی آمد کا سلسلہ بند ہو گیا لیکن اسلم ہنوز انتظار میں تھا۔سرخ کبوتروں کا جوڑا واپس نہ لوٹا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اتنی رات گئے کبوتر نہیں لوٹتے لیکن اس کا دل مانتا نہ تھا۔ ذہن و دل کی اس کشمکش میں بار بار عمرو دادا کے الفاظ ’یہ اتنا آسان نہیں ہے، اس کے کانوں میں گونجتے رہے۔ وہ یوں ہی بیٹھا رہا۔ ان سرخ کبوتروں کے بارے میں سوچتا رہا۔ رات آنکھوں آنکھوں میں کٹ گئی۔ نیند کا ایک قطرہ بھی نہ ٹوٹا۔ صبح سویرے اپنا غم غلط کرنے وہ بغیر ناشتہ کیے کھیتوں کی جانب نکل گیا۔ کھیت میں بھی اس کا دل نہ لگا تو وہ جنگل چلا گیا۔ اس کے قدم اپنے آپ اسی مقام پر پہنچ گئے جہاں اس نے پہلی بار ان سرخ کبوتروں کو دیکھا تھا اور دوسری بار ان کو پکڑا تھا۔ وہ اس امید میں وہاں پہنچا کہ آج پھر وہ انہیں دیکھے گا۔ آج انہیں پکڑنے کے لیے اسے جال ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے گی۔وہ بس پچکارے گا اور دونوں کبوتر آہستہ آہستہ اس کی جانب آ جائیں گے بلکہ چونکہ اس نے کل سے انہیں نہیں دیکھا اُڑ کر اس تک پہنچ جائیں اور اس کی آغوش میں سما جائیں گے لیکن یہ سب اسلم کی خام خیالی تھی۔ فی الحال اس کے پاس سرخ کبوتروں کی آرزو تھی اور ان کے کھو جانے کا ملال تھا۔ کبوتر نہ تھے وہ دیر تک وہاں بیٹھا رہا، سوچتا رہا کہاں چلے گئے اس کے کبوتر؟ اسے ایسا لگ رہا تھا اس کا جہان چھن گیا ہے۔ اسلم نے اپنے آپ کو بہلایا کہ شاید راستہ بھول گئے ہوں گے۔ آج شام لوٹ آئیں گے یا ہو سکتا ہے دن میں لوٹ آئے ہوں۔ وہ کسی طرح اپنے آپ کو یہ بات سمجھانہ پا رہا تھا کہ اس نے کبوتر گنوا دیئے ہیں اور وہ اب اس کے پاس کبھی لوٹ کے نہ آئیں گے۔کبوتروں کے لوٹ آنے کا خیال اسے شام سے پہلے گھر لے آیا۔ ابھی دوسرے کبوتر اُڑنے کی تیاری میں تھے لیکن اس کی نظریں سرخ کبوتروں کو ڈھونڈ رہی تھیں جو کل سے لوٹے نہ تھے۔ اس نے سوچا شاید شام ڈھلے دوسرے کبوتروں کے ساتھ وہ لوٹ آئیں گے لیکن اس شام بھی وہ نہ لوٹے۔

          اسلم کو اس کے دوست اکرم نے یہ خبر سنائی کہ اس کے سرخ کبوتر چودھری عنایت حسین کے کبوتروں میں شامل ہو گئے ہیں۔ اسلم کو یقین نہ آیا لیکن جب اکرم نے کہا کہ اس نے خود اپنی آنکھوں سے آج ان سرخ کبوتروں کو چودھری عنایت حسین کے یہاں دیکھا ہے تو اسلم کے لیے اس پر یقین کرنے سوا کوئی اور چارہ کار نہ رہا۔

          دوسرے دن اسلم چودھری صاحب کی حویلی میں جا پہنچا۔ سلام دعا کے بعد اس نے چودھری صاحب سے کہا۔ میں اپنے سرخ کبوتر لینے آیا ہوں۔

          اسلم کی بات سن کر چودھری صاحب مسکرائے انہوں نے کہا۔ اسلم یہ کبوتر اپنی مرضی سے آئے ہیں ہمارے گاؤں کی یہ روایت ہے کہ ہم کبوتروں پر اپنی مرضی نہیں تھوپتے۔

          اسلم نے کہا۔ جی ہاں چودھری صاحب آپ بجا فرماتے ہیں لیکن یہ بات عام کبوتروں کے بارے میں ہے۔ میں ان سرخ کبوتروں کی بات کر رہا ہوں جو صرف میرے پاس ہیں۔

          چودھری صاحب نے کہا۔ دیکھو بیٹے کبوتر تو کبوتر ہے اس میں عام و خاص کی تفریق کیسی؟ ویسے یہ کبوتر تمہارے پاس ہیں نہیں، تھے۔ اب یہ تمہارے بجائے میرے پاس ہیں کیا سمجھے؟

          اسلم نے کہا۔ چودھری صاحب یہ میرے کبوتر ہیں اور انہیں میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔

          دیکھو اسلم بچے نہ بنو یہ کبوتر نہ میرے ہیں اور نہ تمہارے۔ یہ تو بس اپنی مرضی سے ہمارے پاس آ کر رہتے ہیں۔ اب کسی کے پاس رہنے بسنے سے کوئی کسی کا تھوڑے ہی ہو جاتا ہے۔

          ہاں دل میں بسنے سے ہو جاتا ہے لیکن بسنے والا نہیں بلکہ بسانے والا۔

          جب تک ان کی مرضی تھی یہ تمہارے ساتھ تھے اور جب تک ان کی مرضی ہو گی یہ ہمارے ساتھ رہیں گے یہ اپنی مرضی کے مختار ہیں۔

          لیکن چودھری صاحب آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا اس لیے انہیں ہر قیمت پر اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔

          کیا زور زبردستی کر کے لے جاؤ گے؟ چودھری نے پوچھا۔

          ہاں زور زبردستی کر کے لے جاؤں گا۔ اسلم نے زور دے کر کہا۔

          چودھری صاحب بولے۔ تم بلاوجہ جذباتی ہو رہے ہو۔ میں نہ تو خود زور زبردستی کرنے کا قائل ہوں اور نہ زور زبردستی برداشت کرتا ہوں یا ہونے دیتا ہوں اور یہ بات چونکہ ہمارے گاؤں کی روایت کے مطابق ہے اس لیے کوئی بھی تمہارا ساتھ نہ دے گا۔ تم چاہو تو پنچایت بلوا لو۔ میں اس مقدمہ میں سرپنچ کے عہدہ سے دستبردار ہو کر صرف مدعا الیہ بن جاؤں گا۔ مجھے یقین ہے کہ فیصلہ اتفاق رائے سے میرے ہی حق میں ہو گا بلکہ میرے کیا ان سرخ کبوتروں کے حق میں ہو گا جنہوں نے میرے باڑے میں آ کر رہنا پسند کر لیا ہے۔

          اسلم غصہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور یہ کہہ کر نکل گیا کہ اب فیصلہ پنچایت میں ہو گا۔ لیکن بعد میں اسے لوگوں نے سمجھایا کہ ایسا مقدمہ قائم کرنے سے کوئی فائدہ نہیں جس کا فیصلہ یقیناً اس کے خلاف ہو گا۔ بالآخر پنچایت سے ایک روز قبل اسلم نے مقدمہ واپس لے لیا۔ دادا عمرو کی بات سچ ثابت ہو گئی وفا شعاری اعتماد و محبت بڑھاتی ہے اور بے وفائی بدامنی اور انتشار کو جنم دیتی ہے سرخ کبوتروں نے یہی کیا تھا۔ چودھری عنایت اور اسلم کے درمیان برسوں پرانی دوستی کو دشمنی میں بدل ڈالا تھا۔

          وقت کا مرہم ہر زخم کو بھر دیتا ہے۔آہستہ آہستہ اسلم کے زخم بھی بھر گئے وہ بھول گیا کہ اس نے کبھی سرخ کبوتروں کا شکار کیا تھا وہ کبھی اس کے صحن میں رہتے بستے تھے۔ ان کے باعث سارا گاؤں اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ ان سب باتوں کو بھول کر وہ اپنے معمول کے کاموں میں لگ گیا تھا کہ ایک دن اچانک کیا دیکھتا ہے شام میں اس کے کبوتروں سے قبل وہی سرخ کبوتر اس کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر تک اسلم کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اسے اس بات پر غصہ آ گیا کہ وہ اسے چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے لیکن کبوتروں کی آنکھوں میں ندامت اور احساس جرم کو دیکھ کر اس کا دل پسیج گیا۔ اس نے دوڑ کر دونوں کبوتروں کو ہاتھوں میں کے لیا اور انہیں چومنے لگا ایک لمحہ میں سارے گلے شکوے دور ہو چکے تھے۔ وہ پھر ایک بار کبوتر خانہ گاؤں کا بادشاہ بن گیا تھا۔ ان کبوتروں نے پھر اس کا سر فخر و ناز سے بلند کر دیا تھا۔ آج اس کی خوشی کا عالم اس رو ز سے بھی زیادہ تھا جب پہلی بار وہ اس کبوتر کے جوڑے کو اپنے گھر لایا تھا۔ کسی چیز کی قدر و قیمت کا احساس اسے گنوانے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ انسان کسی شئے کو گنوائے اور پھر پالے۔ لیکن اسلم کے ساتھ یہی ہوا تھا اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

          چودھری عنایت حسین کو پتہ چل گیا۔ سرخ کبوتر دوبارہ اسلم کے پاس لوٹ چکے ہیں۔ اس بات کا انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ وہ اس تقریر کو بھول گئے جو انہوں نے کبھی اسلم کو سمجھانے کے لیے کی تھی۔دوسرے دن انہوں نے اسلم کو اپنی حویلی بلا بھیجا۔اسلم سمجھ گیا اسے کیوں بلایا جا رہا ہے لیکن وہ نہایت اعتماد کے ساتھ وہاں پہنچا۔ دیر تک دونوں خاموشی سے چائے پیتے رہے۔ اس کے بعد چودھری عنایت حسین نے اپنے پر وقار انداز میں کہا۔

          اسلم تم تو جانتے ہی ہو کہ میں نے تمہیں کیوں بلایا ہے۔

          اسلم نے کہا۔ جی ہاں چودھری صاحب۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں لیکن اس سلسلے میں آپ کو اپنی ہی ایک بات یاد دلانا چاہتا ہوں اور ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔

          چودھری نے کہا۔ بولو۔

          اسلم نے کہا۔ پہلے آپ کی بات کہ آپ نہ زور زبردستی کرتے ہیں نہ برداشت کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں اور میری گذارش کہ آپ پنچایت بلوا لیں۔ سرپنچ کے عہدے پر قائم رہیں مجھے یقین ہے کہ ایک رائے کے علم الرحم اکثریت کی رائے سے فیصلہ میرے حق میں ہو جائے گا۔ اس لیے کہ یہ ہمارے گاؤں کی روایت ہے اور کوئی بھی آپ کا ساتھ نہیں دے گا۔

          چودھری عنایت حسین عرصہ دراز سے سرپنچ کے عہدے پر فائز تھے انہوں نے بے شمار تنازعات سلجھائے تھے لیکن ان کا اپنا مقدمہ آج تک پنچوں کے سامنے پیش نہ ہوا تھا اور اب اگر ہوتا بھی تو ان کی شکست یقینی تھی۔ اس احساس سے ان کا دل ڈوبنے لگا۔ حالانکہ اس مسئلہ کا آسان سا حل یہ تھا کہ وہ ان کبوتروں کی محبت اپنے دل سے نکال دیتے۔ وہ ایسا نہ کر سکے یہاں تک کہ ان کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی۔یکبارگی اسلم کو ایسا لگا کہ اس نے کبوتروں کی خاطر اپنے دیرینہ دوست کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے لیکن سرخ کبوتر کو پا لینے کی خوشی اس احساس جرم پر غالب آ گئی۔

          چودھری عنایت حسین کی موت کے بعد ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا کہ آخر سر پنچ کسے بنایا جائے۔ باقی ماندہ پنچوں میں سے ہر ایک اس عہدہ کا دعویدار تھا۔ وہ پنچایت جو لوگوں کے جھگڑے چکاتی تھی خود اپنے جھگڑے میں اُلجھ گئی تھی۔ کافی دن اس معاملہ میں تعطل رہا بالآخر یہ طے ہوا کہ کبوتر خانہ گاؤں کے سرپنچ کا تعین کبوتروں کی تعداد پر ہو گا۔ گویا معیار حق کبوتروں کی تعداد ٹھہری۔ جس کے پاس سب سے زیادہ کبوتر ہوں گے وہی سرپنچ ہو گا۔ چاہے وہ سابقہ پنچایت کا رکن ہو یا نہ ہو۔دو ہفتہ بعد کی ایک تاریخ طے کی گئی جس دن سب لوگوں کو پنچایت میں اپنے کبوتروں کے ساتھ آنا تھا اور تعداد کی گنتی ہونی تھی۔

          اسلم نے کہا۔ کیا میرے سرخ کبوتروں کا شمار بھی عام کبوتروں جیسا ہو گا؟ اس سوال سے سب سناٹے میں آ گئے لیکن چونکہ اسلم کے علاوہ تمام فیصلہ کرنے والے سرخ کبوتروں سے محروم تھے اس لیے فیصلہ ہوا کہ کبوتر کبوتر ہے سرخ ہو یا سفید ہر کبوتر کا شمار ایک کبوتر ہو گا۔

          اس فیصلہ کے بعد گاؤں میں ایک کہرام مچ گیا۔ ہر کوئی اپنے کبوتروں کی تعداد بڑھانے میں لگ گیا۔ ہر ایک دوسرے کے کبوتروں کو رجھانے میں مصروف تھا۔ کھیتی باڑی کا کام تقریباً ٹھپ ہو گیا تھا۔ دوسروں کے کبوتر اپنے باڑے میں شامل کرنے کی کوششیں جب نقطۂ عروج پر پہنچ کے بے اثر ہونے لگیں تو دوسرے کے کبوتروں کو بھگانے کی کوششیں ہونے لگیں۔ اس لیے کہ اوپر جانے کے لیے خود اوپر جانا ضروری نہیں ہے۔اگر دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر اسے نیچے لے آیا جائے تب بھی کام ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے کبوتروں میں غلطاں لوگ خود اپنے کبوتروں سے غافل ہو گئے جس سے دوسروں کو ان پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل گیا۔ بہرحال جنون کا پندھرواڑہ بھی گذر گیا۔ ان پندرہ دنوں میں کبوتر خانہ گاؤں میں وہ سب ہو گیا جو پچھلے پندرہ سالوں میں بھی نہ ہوا تھا لیکن ابھی اصل کھیل باقی تھا۔

          پنچایت کی رات ہوا کے جھونکے ایک خاص آواز کے ساتھ تیز تیز چلنے لگے۔ صبح جیسے ہی گاؤں والوں نے اپنے کبوتروں کو پنچایت لے جانے کے لیے کھولا وہ اُڑ اُڑ کر ہوا ہونے لگے۔ گویا وہ اسی کے انتظار میں تھے۔ کبوتروں کا یہ رویہ ان کے معمول کے خلاف تھا اس لیے کہ وہ عام طور سے ڈربہ سے باہر نکلنے کے بعد کچھ سستاتے پر جھاڑتے پھر دانہ چگتے اور اس کے بعد پرواز بھرتے لیکن آج وہ نہ سستائے نہ انہوں نے دانوں کی جانب دیکھا۔ دیکھتے دیکھتے کبوتر خانہ گاؤں کے سارے کبوتر رفو چکر ہو چکے تھے۔ گاؤں والے پریشان تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کو کبوتروں کی اس قدر فکر تھی کہ وہ تیز تیزسے تیز تر چلنے والے ہوا کے تھپیڑوں سے یکسر غافل ہو گئے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ گھروں کی چھت بھی آندھی اُڑائے لیے جا رہی ہے اور پیڑ اُکھڑنے لگے، دیواریں گرنے لگیں تو انہیں ہوش آیا۔ہوا کے جھکڑ اس قدر تیز تھے کہ گاؤں والے بھی تنکوں کی طرح ہواؤں کے دوش پر اُڑے جا رہے تھے۔وہ کبوتروں کی طرح پروں سے محروم تھے اس لیے ہوا میں تیرنے یا اپنا توازن قائم رکھنے سے قاصر تھے۔ خالق کائنات نے انہیں دور دراز کی مٹی سے بنایا تھا ہوا انہیں ان دور دراز کے مقام تک اُڑا کر لے جاتی، ان کی اپنی مٹی کے پاس لے جا کر پٹخ دیتی وہ اس پر گرتے اور وہاں جذب ہو جاتے۔جب آندھی رکی تو کبوتر خانہ گاؤں میں نہ کبوتر تھے نہ کبوتر والے!

٭٭٭