کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک کہانی سچی سی

ڈاکٹر سلیم خان


ویران و سنسان سڑک پر ایک خوبصورت سی منی بس فراٹے مارتی ہوئی بھاگ رہی تھی۔ اس بس پر ہر عمر کا اور ہر بھانت کا مسافر سوار تھا۔ کوئی نوجوان تھا کوئی بزرگ کوئی سنجیدہ تو کوئی رنجیدہ۔ کوئی خوش مزاج تو کوئی تلخ مزاج۔ کوئی قنوطیت کا شکار تو کوئی رجائیت پسند گویا قوس و قزح کی مانند یہ سب رنگی قافلہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔

          کسی نے کہا مجاہدین اب اہل باطل کو چین سے بیٹھنے نہ دیں گے۔

          دوسری آواز تھی۔ ’’ اس دہشت گردی کا بھلا جہاد سے کیا تعلق؟‘‘

          تیسرے نے کہا۔ ’’بھئی کیوں بلاوجہ آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ یہ تو باطل کا اپنا ہتھکنڈا ہے۔ وہ ہمیں بدنام کرنے کی غرض سے اس طرح کے دھماکے خود ہی کرواتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ ساری دنیا کو احمق بناتا ہے۔

          پہلی آواز دوبارہ آئی۔ ’’آپ لوگوں پر تو وہ بلاوجہ اپنی توانائی اور وسائل صرف کرتا ہے وہ اگر کہیں اور توجہ دے تو اس میں اس کی بھلائی ہے۔

          اس گفتگو کو کاٹتے ہوئے اچانک ایک صاحب نے سوال کیا۔ ’’بھئی کیا بات ہے بس بھلا ایک جانب کو کیوں لڑھکتی جا رہی ہے۔‘‘

          دوسرے نے تائید فرمائی۔ ’’اور ہاں اب تو جھٹکے بھی لگنے لگے ہیں۔

          تیسرے نے رفتار میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔

          یہ سب سن کر آنکھیں موند کر بیٹھے ایک مفکر اعظم نے لب کشائی کی۔’’ہماری منزل کٹھن ہے اور راستہ دشوار۔ ساتھ ہی باطل کے علمبردار لگاتار ہمارے راستہ میں روڑے اٹکاتے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر جھٹکے لگیں، رفتار کم ہو اور بس ادھر ادھر لڑھکے تو مایوس ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ’’وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری۔‘‘

          اس تمام گفتگو کو سن کر ایک نوجوان مسکرایا اور اس نے جواب دیا۔ ’’جناب سوال زندگی کا نہیں پہیہ کا ہے جو ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا ہے اور ہم بس روک کر اسے بدلنے کے بجائے فضول کی بحثوں میں اپنا وقت اور پہیہ برباد کر رہے ہیں۔

          یہ سنتے ہی ایک دم سے تخیل کی اونچی پرواز بھی پنچر ہو گئی اور تمام لوگ حقیقت کی سخت زمین پر آ گئے۔ بس ٹھہر گئی لوگ اتر گئے۔ان میں کچھ لوگ سائے میں جا کر اداس بیٹھ گئے اور یہ سوچنے لگے کہ ایسا ہمارے ہی ساتھ کیوں ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ فطری عمل تو ان سب کے ساتھ کبھی نہ کبھی ہوتا ہے جو حقائق کی دنیا میں محو سفر ہوتے ہیں۔ ایک اور گروہ چائے پان کی تلاش میں قریب کی بستی کی جانب نکل گیا۔ کچھ نے بس کا پہیہ بدلنے کی ذمہ داری سنبھالی اور اس کام میں لگ گئے لیکن ان تینوں سے الگ مشاورتی کاونسل کا ایک اہم اجلاس بھی شروع ہو گی۔ اس اجلاس کا ایجنڈا تھا پہیہ کے پھٹنے کی وجوہات کا پتہ لگانا اور آئندہ اس طرح کے حادثے کی روک تھام کے لیے تدابیر تجویز کرنا۔

          پہیہ بدلنے والوں نے اپنا کام تمام کر دیا۔ لیکن ابھی تک نہ ہی کاؤنسل کا اجلاس ختم ہوا تھا اور نہ چائے والے واپس لوٹے تھے۔ نوجوانوں نے سوچا کہ وقت کا استعمال کرتے ہوئے کیوں نہ قریب کے پٹرول پمپ پر ٹائر بنوا لیا جائے تاکہ آئندہ کام آئے۔ یہ سوچ کر وہ پہیہ کو اس طرف ٹھیلتے ہوئے چل دیئے۔ وہاں پہیہ درست ہو گیا وہ اسے واپس لے آئے، اپنی جگہ رکھ دیا لیکن کاؤنسل کا اجلاس تھا کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتا تھا۔

          ایک نے جھلا کر کہا۔ ’’یہ اجلاس ہے یا شیطان کی آنت؟‘‘

          دوسرے نے ڈانٹا۔’’بھئی اگر یہ ختم ہو جائے تو ان پان سپاری والوں کا کیا جو ابھی تک نہیں لوٹے آخر ہم انہیں چھوڑ کر تھوڑے ہی جا سکتے ہیں۔ ‘‘

          پہلا بولا۔’’ان کا کیا۔ ان کی خاطر ہم سفر نہیں روکیں گے بس کو اس بستی کے قریب لے جا کر انہیں سوار کر لیں گے مسئلہ تو اجلاس کی طوالت کا ہے۔

          اس جملہ کے ختم ہوتے ہی آواز آئی۔’’بہت بہت شکریہ جناب آپ کو وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہم خود ہی آ پہنچے ہیں۔ ویسے ہمیں اندازہ تھا کہ تاخیر ہو گئی ہے اس لیے ہم بھی وہیں بیٹھے رہ گئے۔ ویسے اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ اجلاس اس قدر لمبا چلنے والا ہے تو کچھ وقت اور ٹھہر جاتے۔ میچ نہایت دلچسپ مرحلہ میں داخل ہو گیا تھا ابھی تو فیصلہ بھی ہو گیا ہو گا۔ یہ تو ہماری حماقت تھی جو ہم جلدی لوٹ آئے۔

          ’’اچھا تو یہ جلدی تھی۔‘‘ ایک صاحب نے جھلّا کر کہا۔ پورے چار گھنٹہ آپ لوگوں نے لہو لعب میں صرف کر دیئے اور پھر افسوس ہے جلدی آنے کا۔ نہ جانے کیا ہو گا اس کارواں کا؟‘‘

          اس افسوس ناک صورت حال پر ایک صاحب مسکرائے اور کہا۔’’ارے بھئی ہمارے ہنسی کھیل کا ماتم چھوڑو اوراس اجلاس کو ختم کراؤ اس چھوٹے سے دھابے کا سارا سامان تو ہم لوگ ناشتہ ہی میں چٹ کر گئے۔ اب اگر یہیں رات کے کھانے کا بھی وقت ہو جاتا ہے تو کھائیں گے کیا؟

          ’’ابھی ناشتہ ہضم نہیں ہوا کہ کھانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ حضرات جینے کے لیے کھاتے ہیں کھانے کے لیے جیتے ہیں ؟‘‘

          جواب فوراً حاضر تھا۔ ’’دونوں کے لیے دونوں ہیں۔ اگر کھائیں گے نہیں تو جئیں گے کیسے اور اگر جئیں گے نہیں تو کھائیں گے کیا؟‘‘

          اس دوران سنجیدہ افراد میں سے ایک نے جا کر مجلس کے افراد کو یاد دلایا کہ اندھیرا ہونے کو ہے اس ویران جنگل میں مزید رکنا خطرے سے خالی نہیں۔ اس لیے مشورے میں اختصار فرمائیں تو احسان و کرم ہو گا۔

          جواب ملا۔’’مشورہ اختتام پذیر ہو چکا ہے دو افراد روداد اور دو قرار داد لکھنے میں مصروف ہیں جیسے ہی وہ فارغ ہوتے ہیں آپ لوگوں کو فیصلہ سے آگاہ کر دیا جائے گا اور ہم لوگ چل پڑیں گے۔‘‘

          بھئی قرارداد اور روداد تو کل صبح بھی لکھی جا سکتی ہیں اور آپ لوگ دوران سفر ہمیں فیصلوں سے آگاہ فرما دیں اس کے لیے مزید تاخیر مناسب نہیں۔ ‘‘ یہ ایک نوجوان کی صدائے احتجاج تھی لیکن یہ احتجاج بھی بے اثر ہو گئی۔ نوجوان کو بتلا دیا گیا کہ نظم کا تقاضہ یہ ہے کہ اجلاس کے خاتمہ سے قبل تمام شرکاء کی روداد پر دستخط ہونا ضروری ہے اور یہ ہماری قدیم روایات میں سے ہے کہ اجلاس کے خاتمہ پر قرار دادیں مکمل کر کے سنا دی جائیں اس لیے انتظار لازمی ہے۔

          مجلس کے اس جامد رویہ پر کسی نے آہستہ سے تبصرہ کیا۔ ’’اگر روایت پسندی کا پاس و لحاظ اسی طرح سے کیا جاتا رہا تو ہماری منزل ایک حکایت بن کر رہ جائے گی اور ہم لوگ دروان سفر ہی ڈھیر ہو جائیں گے۔ نقار خانے کی طوطی کی اس آواز پر کان دھرنے والا کوئی نہ تھا۔

          آپسی چہ مہ گوئیوں کے درمیان اجلاس کے خاتمہ کی خوشخبری آئی۔ سبھی مسافر مجلس کی روداد جاننے کے لیے ہم تن گوش ہو کر بیٹھ گئے۔ روداد کی پیش کش سے قبل اس مبارک سفر کی ضرورت اور اہمیت پر ایک پُر مغز تقریر ہوئی۔ اس کے دوران سفر میں پیش آنے والے مراحل کا نقشہ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد اجلاس نے موجودہ مسئلہ کی تحقیق و تفتیش کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا تھا اس کی حقانیت سے حاضرین کو روشناس کرایا گیا اور جو وجوہات دریافت کی گئیں ان کے ذیل میں یہ بتلایا گیا کہ پہیہ کے پھٹنے کی بنیادی وجہ اس کا زمین پر گھومنا ہے لیکن اسے گھومنے سے روکا نہیں جا سکتا اس لیے کہ ایسا کرنے پر سفر رک جائے گا۔ دوسری وجہ سڑک پر کیل کانٹوں کی موجودگی ہے ان سب کو صاف کرنا عملاً محال ہے۔ اس لیے حل یہ تجویز کیا گیا کہ سڑک اور زمین کو ایک دوسرے سے دور کر دیا جائے ان کے درمیان ایک فاصلہ پیدا کر دیا جائے۔ اس فاصلے کے باعث سڑک پر موجود کیل کانٹے پہیہ میں نہ دھنسیں گے اور نہ اسے پنکچر کر سکیں گے۔ اس طرح سفر کے آئندہ مراحل کو تمام رخنوں سے پاک کر دیا گیا اور پہیہ کے دوبارہ پھٹنے کا اندیشہ ختم ہو گیا۔

          حاضرین اس فیصلہ کو سن مجلس کی حکمت و مصلحت پر عش عش کر اٹھے لیکن سوال یہ تھا اس نادر نسخہ پر عمل درآمد کیسے ہو؟ اس بابت بھی مجلس کی رہنمائی موجود تھی۔ پہیہ بدلتے وقت جس جیک پر بس کو چڑھایا گیا تھا اسے پھر سے لگا دیا جائے ا س سے بس زمین کی سطح سے اونچی ہو جائے گی اور فاصلہ پیدا ہو جائے گا۔ نوجوان پھر کام میں لگ گئے اور انھوں نے تعمیل حکم میں دوبارہ جیک لگا دیا۔ اس کے بعد جیسے ہی بس اسٹارٹ ہوئی وہ فوراً جیک سے اتر گئی۔ اس نئے مسئلہ پر دوبارہ مجلس نے غور و خوض کیا اور یہ بتلایا کہ توازن کا قائم رکھنا نہایت ضروری ہے محض ایک جانب جیک کے ہونے اور دوسری جانب نہ ہونے سے بس کا توازن بگڑ گیا تھا اس لیے اب اسے قائم رکھنے کی غرض سے دونوں جانب جیک لگا دیئے جائیں اور دونوں اس طرح جانچ تول کر جمایا جائے کہ نہ کوئی اونچا ہو اور نہ کوئی نیچا۔ اس لیے مساوات کے بغیر کامیابی ممکن نہیں پرانے فیصلہ کے اس نئے ضمیمہ نے تمام مسافروں کو باغ باغ کر دیا۔ دونوں پہیوں کے نیچے جیک لگا کر گویا آئندہ کے تمام اندیشوں سے چھٹکارہ حاصل کر لیا گیا تھا۔

          نہایت شرح صدر کے ساتھ جب تمام سواریوں نے اپنی اپنی نشست سنبھال لی تو دو تین بار انہیں گن کر اطمینان کر لیا گیا کہ کہیں کوئی چھوٹا تو نہیں۔ اب بس اسٹارٹ ہوئی انجن کی گڑگڑاہٹ اور گیئر کی چرچراہٹ کے ساتھ پہیہ گھومنے لگے۔ رفتار بتلانے والا کانٹا آسمان کی جانب اٹھتا جاتا تھا اور ایندھن کی سوئی زمین میں دھنسی جاتی تھی۔ بتی جلا دی گئی۔ اے سی چلا دیا گیا اور نہایت ہی آرام دہ سفر کا پھر سے آغاز ہو گیا۔ لیکن اس بات سڑک کے اتار چڑھاؤ، کنکر پتھر، گڈھے جھٹکے سب غائب تھے۔ بس کے روح پرور پرسکون ماحول میں ’’اسلام اور دور جدید کا چیلنج‘‘ اس عنوان پر تقریر جاری تھی۔ اس کیسٹ سے مجلس کے سنجیدہ افراد اور رنجیدہ کارکنان استفادہ فرما رہے تھے۔ پہیہ بدلنے کی محنت کرنے والے نوجوان اپنی تھکن کے باعث سستا رہے تھے اور جن لوگوں نے جم کر ناشتہ کیا تھا وہ بھی اونگھنے لگے تھے۔

          کافی دیر بعد جب کیسٹ بند ہوئی تو اعلان ہوا جو حضرات اس تقریر سے متعلق سوالات کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں انشاء اﷲ تشفی بخش جواب دیا جائے گا۔

          ایک نوجوان جو تقریر کے دوران غنودگی کا شکار تھا گویا ہوا۔ ’’ارے بھئی تقریر میں باطل کی جن رکاوٹوں کا ذکر تھا انہیں اچانک کیا ہو گیا۔ ہمارا راستہ اس قدر ہموار کیوں کر ہو گیا۔ وہ نشیب و فراز جن سے خطاب کے دوران آگاہ کیا گیا تھا کہاں غائب ہو گئے کہیں خدانخواستہ ہم راستہ تو نہیں بھٹک گئے۔‘‘

          اتنے سارے سوالات کا ایک مختصر سا جواب دے دیا گیا۔’’یہ تو ہماری مجلس کی ذہانت و ذکاوت ہے کہ اس نے ایسی نادر حکمت عملی اختیار کی جس سے سفر کی تمام دشواریاں جھٹکے گڈھے سب غائب ہو گئے۔‘‘

          کسی نے آہستہ سے تبصرہ کیا۔’’یہ چمتکار ہو گیا ہم تو کل تک اس کے منکر تھے آج اچانک یہ انقلابِ فکر کیونکر واقع ہو گئی۔‘‘

          سوال پر سوال کی اجازت نہ تھی اس لیے نئے سوال کا اعلان کیا گیا۔ اب ایک اور نوجوان جو جواب کے دوران باہر دیکھ رہا تھا گویا ہوا اس نے کہا۔ ’’ہم کئی گھنٹوں سے سفر کر رہے ہیں تقریر پر تقریر سماء فرما رہے ہیں لیکن باہر کا منظر کیوں نہیں بدلتا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم آگے ہی نہ بڑھ رہے ہوں ؟ ہمارے قدم ایک ہی مقام پر منجمد ہو گئے ہوں۔ ‘‘

          یہ سوال اور زیادہ پریشان کن تھا لیکن اس کا بھی جواب موجود تھا۔ بس کے محو سفرہونے پر کئی داخلی شواہد پیش کیے گئے رفتار بتلانے والی اور ایندھن کی مقدار دکھلانے والی سوئیوں کی حرکت، پہیوں کا گھومنا، انجن کی آواز اور دھواں وغیرہ۔

          لیکن ان شواہد سے نوجوان مطمئن نہ ہوئے تو ایک بزرگ نے سمجھایا۔ ’’یہ سفر طویل ہے۔ آپ لوگ ابھی سے مایوس ہونے لگے۔ شکوک و شبہات کا شکار ہو کر جلدی مچانے لگے۔ باہر کے مناظر ایک جیسے ہیں بس کی رفتار بہت زیادہ ہے اس وجہ سے آپ لوگ تبدیلی کو محسوس نہیں کر پا رہے ہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ منظر بدل ہی نہیں رہا۔

          جواب کے خاتمہ میں جھنجھلاہٹ اور تلخی نمایاں تھی۔ ان جوابات سے جب نوجوانوں کے ذہن مطمئن نہ ہوئے تو انہوں نے خود سوچنا شروع کر دیا اور چند ہی لمحات کے بعد وہ نوجوان جس نے جیک لگایا تھا چلّا اٹھا۔ ’’عجیب حماقت ہے۔ بس اگر جیک پر ہو تو آگے کیسے بڑھے گی؟ اور اگر آگے نہ بڑھے تو کہاں سے آئیں گے نشیب و فراز کیونکر لگیں گے جھٹکے کیسے بدلے گا منظر۔

          پردے اٹھنے لگے اسرار کھلنے لگے اور نوجوانوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا بس کو روک دیا جائے۔جواب ملا اس سنسان مقام پر رات کے درمیانی حصہ میں بس کو روکنا خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ اس لیے بس کو روکا نہیں جا سکتا۔

          یہ سنتے ہی ایک پر جوش نوجوان بگڑ گیا۔’’کیسے نہیں رکے گی بس۔ اسے روکنا ہی پڑے گا۔

          ’’یہ دیکھو۔‘‘ قریب بیٹھا ہوا نوجوان مسکرایا اور اس نے اپنے ساتھی کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’یہ صحیح کہتے ہیں۔ بس کو روکا نہیں جا سکتا۔ جو چیز چل رہی ہو اسے تو روکا جا سکتا ہے لیکن جو چیز پہلے ہی سے رکی ہوئی ہو اسے کیونکر روکا جا سکتا ہے؟

          اس سوال میں جواب تھا جس سے تمام نوجوانوں نے اتفاق کیا اور اعلان کیا چلو نیچے اترو اور بس کو جیک کی بیساکھیوں سے نیچے اتارو۔ ورنہ ہمارے تمام وسائل ایندھن پر صرف ہو جائیں گے تمام عمر سفر میں صرف ہو جائے گی لیکن منزل ایک قدم بھی قریب نہ آئے گی۔

          اس اعلان بغاوت نے بس کے اندر ایک کہرام برپا کر دیا اور اس پر صدائے احتجاج ابھری۔ ’’یہ کون ہوتے ہیں جیکس ہٹانے والے۔ مجلس کے فیصلے کو مجلس ہی بدل سکتی ہے۔ ہم نظم ضبط کے پابند لوگ ہیں۔ ہم یہ دھاندلی برداشت نہیں کریں گے۔

          جواباً یہ دلیل آئی کہ اگر آپ برداشت نہیں کرتے تو جو من میں آئے کریں لیکن اب مزید ہم لوگ بیساکھیوں کے سہارے وقت برباد نہیں کر سکتے۔اس ہنگامہ سے راستہ نکالنے کی مجلس کے چند بزرگ آگے بڑھے انہوں نے نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا۔

          ’’ اگر آپ یہی چاہتے ہیں کہ جیک کو ہٹا دیا جائے تو یہ مجلس کے فیصلہ کے مطابق بھی تو ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو ہمارا اتحاد بھی باقی رہے گا۔‘‘

          نوجوانوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور یہ جاننے کی خاطر کہ منظر کیوں بدلتا نہیں آیا بس ٹھہری ہوئی ہے یا چل رہی ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو دوبارہ مجلس کے اجلاس کا آغاز ہو گیا۔ بس کے ٹھہرے ہونے کو تو معمولی رد و کد کے بعد تسلیم کر لیا گیا اور اب جیک کو ہٹانے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورت حال اس کے مثبت و منفی نتائج پر بحث شروع ہو گئی۔ یہ بحث کسی نتیجہ پر پہنچنے کا نام نہ لیتی تھی۔ دونوں جانب سے یکے بعد دیگرے دلائل پیش ہوتے جاتے تھے۔ بند کمرے کے باہر نوجوانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوتا جاتا تھا۔ جب اتفاق رائے سے کسی فیصلے کی تمام امیدیں ختم ہو گئیں تو کثرت رائے سے فیصلہ کرنے پر رضا مندی ہو گئی لیکن رائے شماری کے بعد پتہ چلا رائیں آدھی آدھی تقسیم ہو گئی ہیں۔ دونوں موقف میں افراد میں اسی طرح کا توازن ہے جس طرح دونوں جیک کے درمیان ہے اور بس کی طرح مجلس کا اجلاس بھی چل رہا تھا اور ٹھہرا ہوا تھا۔ نہ کوئی پیش رفت ہوتی تھی اور نہ کوئی فیصلہ۔ بالآخر مجلس نے طے کیا کہ اجلاس اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کم از کم ایک آدمی کی رائے نہیں بدل جاتی لیکن ایسا ہونا محال تھا۔ یہ منظر دیکھ کر نوجوان آگے بڑھے انہوں نے مجلس سے کہا۔

          آپ لوگ اپنا اجلاس جاری رکھیں نظم و ضبط کے پابند رہیں۔ رنجیدہ ہستیوں سے درخواست کی کہ وہ ان کی خدمت و حفاظت پر مامور رہیں اور خود آگے بڑھے جیک ہٹایا اور بس کو لے اُڑے۔

          ایک طرف اجلاس جاری تھی اور دوسری جانب بس تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ ان دونوں کے درمیان کا فاصلہ بڑھتا جاتا تھا لیکن منزل قریب سے قریب تر ہوتی جاتی تھی۔

          یہ ایک حقیقت کا فسانہ ہے اور اس فسانے کی حقیقت سے وہ لوگ اچھی طرح واقف ہیں جو حقیقت پسند ہیں۔

٭٭٭