کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

حصار

ڈاکٹر سلیم خان


ناسا کی خلائی مشین ’’انکشاف ۱۰۱‘‘ نہایت تیزی سے مشتری کی جانب رواں دواں تھی۔ آج عالمی تعطیل کا دن تھا۔ تمام اسکول اور کاروبار بند تھے۔ روئے زمین کا بچہ جوان بوڑھے اور خواتین سب ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ابن آدم کی اس عظیم کامیابی کو اپنی آنکھوں میں سجا لینا چاہتے تھے۔ اس مہم میں لوگوں کی غیر معمولی دلچسپی ایک خاص وجہ سے تھی۔ چند سال قبل مشتری سے ایک اُڑن طشتری زمین پر پہنچی اس میں سے چند لوگ اترے انہوں نے اپنا جھنڈا نصب کیا اور ایک خودکار لیب یہاں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ یہ لیباریٹری نہایت ہی جدید اور ایک سائنسی شاہکار تھی زمین کے سائنسدانوں کو اسے کھولنے میں کئی دن لگے اور جب اس میں کامیاب ہو گئے تو ایک عظیم دھماکہ رونما ہوا جو اس لیب کے ساتھ ساتھ اس کے کھولنے والوں کو بھی نگل گیا۔ زمین کے سائنسدانوں کے لیے یہ ایک عظیم چیلنج تھا۔ عالمی سائنسی برادری نے اسے قبول کیا اور خلائی تحقیق کا رُخ مشتری کی تسخیر کی جانب مڑ گیا۔ اس واقعہ نے پہلی مرتبہ زمین والوں کو احساس دلایا تھا کہ ان سے بہتر مخلوق بھی کائنات میں موجود ہے۔ اس دنیا کے سائنسدانوں نے اسے اپنی توہین گردانا اور ’’ہم کسی سے ہم نہیں ‘‘ کی جدوجہد میں لگ گئے۔ لیکن یہ مہم آسان نہ تھی۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد اس بار یقین کامل تھا کہ خلائی طیارہ ’’انکشاف ۱۰۱‘‘ ضرور مشتری پر اترے گا۔ وہاں اہل زمین کا جھنڈا نصب کرے گا اور اپنی حزیمت کا بدلا چکا دے گا۔ ساری دنیا کے انسانی جذبات اس مہم سے وابستہ کر دیئے گئے تھے ہر شخص یہ محسوس کر رہا تھا گویا وہ خود اس مہم میں شریک ہے بلکہ اکثر ایسا محسوس کر رہے تھے گویا وہ خلائی طیارے کے اندر ہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے طیارے کے اندر کے احوال سے واقف ہو رہے تھے۔طیارے میں موجود خلا باز بھی بہت خوش تھے وہ اپنے کو ساری دنیا کے لوگوں کا نمائندہ محسوس کر رہے تھے وہ اپنے ٹیلی ویژن اسکرین پر دنیا کے مختلف چینل دیکھ سکتے تھے آج ہر چینل چاہے و ہ سائنسی ہو یا تفریحی، خبریں نشر کرنے والا ہو کھیل دکھلانے والا ہر کوئی خلائی سفر نشر کر رہا تھا۔ ہر ایک کے اپنے اناؤنسر ان تصویروں کے پیچھے اپنی کمنٹری دے رہے تھے۔ ہر ایک کا اپنا منفرد انداز تھا۔ اپنا لہجہ اور اپنی سوچ تھی جو ایک دوسرے سے مختلف تھی لیکن اسکرین پر دکھلائی جانے والی تصویریں یکساں تھیں وہ لوگ یہ بتلا رہے تھے کہ ابھی چند لمحہ میں ہمارا انکشاف مشتری کی تسخیر کرے گا۔

          اچانک پردے سے انکشاف غائب ہو گیا اس کے اندر اور باہر کے مناظر سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ اب صرف مشتری دکھلائی دیتا تھا لیکن انکشاف کا کہیں اتا پتہ نہیں تھا۔ سبھی نے اپنے اپنے انداز سے رابطہ کے ٹوٹ جانے کا اعتراف کیا اور جلد ہی اس کے قائم ہو جانے کی امید دلا کر ناظرین کو اشتہارات سے بہلانے لگے۔ اشتہارات کو کئی بار دکھلانے کے باوجود جب رابطہ قائم نہ ہوسکا تو انکشاف کی تیاری پر مبنی ڈاکو مینٹری سے ناظرین کو بہلایا جانے لگا لیکن لوگ ماضی میں نہیں مستقبل میں دلچسپی رکھتے تھے۔ انہیں ناکامی نہیں بلکہ کامیابی سے غرض تھی اس لیے لوگوں نے ٹیلی ویژن بند کرنے شروع کر دیئے۔ ناشرین بھی اپنے گھسے پٹے پروگراموں پر آ گئے کہیں فلم تو کہیں میچ دکھلائی جانے لگی۔ خبروں کے چینلس نے ناسا کے سائنسدانوں کی رائے حاصل کرنا شروع کر دی۔ ابتداء میں تو وہ پُر اُمید تھے لیکن آہستہ آہستہ ان لوگوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔ اب خبروں والے خلا بازوں کی جانب متوجہ ہوئے۔ ان کے نمائندے خلا بازوں کے اہل خانہ اور رشتہ داروں تک پہنچ گئے ان کی تعریف و توصیف افسوس اور ماتم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

          ادھر خلائی جہاز میں کیفیت بالکل مختلف تھی۔ گو کہ زمین کا رابطہ ان سے ٹوٹ چکا تھا لیکن ان کا رابطہ زمین سے قائم تھا۔ وہ لوگ مختلف چینلس پر اپنی بربادی کا ماتم دیکھ رہے تھے دنیا بھر کے لوگوں کے تعزیتی پیغامات جو خود ان کے اپنے لیے تھے وصول کر رہے تھے۔ یہ عجیب و غریب صورت حال تھی اور اس لیے پیدا ہوئی تھی کہ ساری دنیا جنہیں مردہ سمجھ رہی تھی وہ زندہ تھے۔ دراصل ظاہر پرستی کا یہ المیہ ہے کہ جو چیز ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اسے تو وہ موجود تسلیم کر لیتے ہیں لیکن جو چیز آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے اس پر قیاس آرائی کرنے لگتے ہیں۔ یہ قیاس آرائی اکثر و بیشتر غلط ہوتی ہے لیکن اسے بڑے اعتماد کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اس لیے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ ’’انکشاف ۱۰۱‘‘ کے خلا بازوں پر یہ انکشاف اس وقت ہوا جب انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے اپنا ماتم دیکھا اور خود اپنے کانوں سے اپنا مرثیہ سنا۔ اپنے ٹیلی ویژن اسکرین پر نشر ہونے والے مناظر میں وہ اس قدر کھو گئے کہ انہیں سمت سفر کا احساس تک نہ رہا۔

          یہ ایک حقیقت تھی کہ مشتری کی راہ ان سے گم ہو گئی ہے اور چونکہ زمین والے اسی کے آس پاس انہیں تلاش کر رہے ہیں اس لیے پریشان بلکہ مایوس ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ سوال اہم تھا کہ آخر وہ جا کہاں رہے ہیں ؟ اس خلائی طیارے کا مکمل کنٹرول ناسا کی زمینی لیب سے ہوتا تھا۔ اب چونکہ یہ لوگ ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکے تھے اس لیے انہیں خود آگے کا سفر کرنا تھا۔ اس موقع پر خلا بازوں پر ایک اور انکشاف ہوا کہ خلائی طیارے کے اندر دروازہ کھولنے یا بند کرنے کے علاوہ اور کوئی بھی سہولت موجود نہیں ہے۔ انہیں اچانک محسوس ہوا کہ ان کی تعریف و توصیف میں کہے جانے والے تمام الفاظ صرف اور صرف جھوٹ اور لغو کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی حیثیت تو تجرباتی چوہوں کی ہے جن کو تجربات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا۔ وہ محض کٹھ پتلی ہیں جو اپنی مرضی سے نہ ہاتھ ہلا سکتے ہیں اور نہ ناچ دکھا سکتے ہیں لیکن جب تک ان کے دھاگے محفوظ تھے اور ہلانے والوں کے اشارے پر وہ پھدک رہے تھے انہیں اس حقیقت کا احساس نہ ہوا تھا۔ اب صورت حال مختلف تھی۔ دھاگے ٹوٹ چکے تھے اور ان کے ہلانے والوں نے دھاگوں کے ٹوٹنے کو گڈوں کی موت کا شاخسانہ سمجھ لیا تھا۔ کچھ دیر ان آقاؤں نے دھاگوں کو جوڑنے کی کوشش کی لیکن مایوس ہونے کے بعد اب وہ سلسلہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔ خلا بازوں کو یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ اب ان کا کیا انجام ہو گا؟ ان کی بقاء کیونکر ممکن ہو سکے گی؟ خوف سے ان کے دل کانپ اٹھے۔ اگر یہ خلائی جہاز کسی چٹان سے جا کر ٹکرائے اور پاش پاش ہو جائے تو وہ موت کی آغوش میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن پھر ایک اور خیال ان کے ذہن میں آیا کہ وہ جن پر انحصار کیے ہوئے تھے ان لوگوں نے تو ویسے ہی ان کی موت کا اعلان کر دیا ہے خلا باز ان کے لیے مر چکے ہیں اس موقع پر خلا بازوں نے سوچا ’’سہارا دینے والے بھی کمزور اور سہارا لینے والے بھی کمزور۔‘‘ وہ تو ایک مکڑی کا جال تھا جسے انہوں نے مضبوط قلعہ سمجھ رکھا تھا اور اب اس کے بکھر جانے کو اپنے لیے باعث تباہی و بربادی سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ صحیح و سلامت تھے۔ انہوں نے اپنے آپ سے پوچھا۔

          ’’اگر مجازی خداؤں کی مدد کے بغیر وہ زندہ ہیں تو کون ہے جو انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے؟‘‘

          جب اس سوال نے سر اُبھارا تو ان کی نگاہیں نادانستہ آسمان کی طرف اُٹھ گئیں۔ آسمان سے آسمان کی طرف دیکھنے کا یہ ان کا پہلا موقع تھا۔ ابھی تک وہ آسمان میں ہونے کے باوجود زمین کی جانب ہی دیکھا کرتے تھے لیکن اب جب کہ ان کی نگاہیں اوپر کی جانب اٹھیں تو ہاتھ بھی اپنے آپ اُٹھ گئے اور دل جھک گئے۔ پیشانی بھی جھک گئی اس اوپر والے سہارے کے سامنے جو اس وقت بھی موجود تھا جب کوئی زمینی سہارا نہ تھا اور اس وقت بھی موجود ہے جب کوئی زمینی سہارا نہیں ہے اور اس وقت بھی ہو گا جب کوئی سہارا موجود نہ ہو گا اس لیے کہ تمام مجازی سہاروں کے درمیان وہی تو ایک حقیقی سہارا ہے۔ جب سجدے سے انہوں نے اپنے سر کو اٹھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا خلائی جہاز پلوٹو کی سرزمین پر سجدہ ریز ہے۔

          پلوٹو نظام شمسی کا سب سے دور دراز اور سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ زمین کے لوگوں کو کبھی اس سیارے کی تسخیر کا خیال تک نہ آیا تھا لیکن آج ’’انکشاف ۱۰۱‘‘ پلوٹو کی سرزمین پر جا پہنچا تھا۔ حق کی معرفت نے خلا بازوں کے دل کو تکبر و غرور اور بغض و حسد سے پاک کر دیا تھا۔ وہ ساری کائنات کو اپنے خالق کی مخلوق سمجھنے لگے تھے۔ مشتری والوں کو مغلوب و مقہور کرنے کا خیال محو ہو چکا تھا۔ وہ محسوس کر رہے تھے کہ اس نئی دنیا میں انہیں ایک نئی زندگی عطا ہوئی ہے۔ وہ اپنی اس زندگی کو اپنے خالق کی نذر کرنا چاہتے تھے۔ اسی کے بھروسے وہ آگے بڑھے اور انہوں نے خلائی طیارے کا دروازہ کھول دیا۔ باہر ایک نیا جہاں آباد تھا۔ تا حد نظر سرسبز و شاداب کھیت و باغات دکھائی پڑتے تھے۔ ہوا کی اپنی تازگی تھی۔ کئی دنوں تک بند رہنے کے بعد وہ کھلی فضا میں سانس لیتے ہوئے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، خوشیاں منا رہے تھے کہ اچانک ہیلی کاپٹر جیسی کوئی چیز ان کے قریب نمودار ہوئی اور اس میں سے چند لوگ اترے۔ یہ لوگ چہرے سے نہایت مہذب نظر آ رہے تھے۔ ان لوگوں نے قریب آ کر اپنی زبان میں خلا بازوں سے کچھ کہا۔ یہ لوگ زبان تو نہ سمجھ سکے لیکن اندازہ لگا لیا کہ ان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ نو واردوں نے اشارے سے خلا بازوں کو اپنے ہیلی کاپٹر کی جانب بلایا، بڑے احترام سے انہیں بٹھایا اور پھر ایک بار یہ ہیلی کاپٹر برسر پرواز ہو گیا۔ چند گھنٹوں کے بعد وہ ایک شہر میں اترا۔ یہ ایک نہایت جدید اور ترقی یافتہ شہر