کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دھوپ چھاؤں

ڈاکٹر سلیم خان


حکم ہوا۔’’اے زمین اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان رُک جا۔‘‘

          چنانچہ تنور کے اُبلنے سے شروع ہونے والا طوفان تھم گیا۔ موسلا دھار بارش کے لیے کھلا آسمان بند ہو گیا۔ چشمہ چشمہ پھٹی زمین جُڑ گئی۔

          لیکن اس سے پہلے وہ کام پورا کر دیا گیا جو مقدر کیا جا چکا تھا۔ تختوں اور کیلوں والی نوح کی کشتی کوہ جودی پر ٹک گئی اور دور ہوئی ظالموں کی قوم۔اُن ظالموں کی جنہوں نے از خود یہ مطالبہ کیا تھا کہ ’’بس اب تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔ جنہوں نے نوح کی تکذیب کی انہیں مجنون قرار دیا۔ نوح اور اس کے ساتھیوں کو حقیر جانا اور کشتی کا مذاق اُڑایا۔ جو یہ سمجھتے تھے طوفان نہیں آئے گا اور اگر آیا بھی تو پہاڑوں کی بلندیاں ان کی حفاظت کریں گی۔ لیکن طوفان کی موجیں پہاڑوں جیسی تھیں۔ جو حق و باطل کے درمیان دیوا ربن گئیں۔ ان ظالموں میں ابن نوح بھی شامل تھا۔زقزوق کشتی میں بیٹھا اپنے دوست کی غرقابی کو دیکھ رہا تھا۔ ابن نوح کا اٹھنا بیٹھنا سرداروں کے درمیان تھا جو زقزوق کا شمار معاشرے میں کیا کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ نوح بھی انہیں دھتکار دیں لیکن وقت کا نبی کہہ رہا تھا۔ ’’میں انہیں دھکے دینے سے رہا جو ایمان لائے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہاری آنکھیں جنہیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اﷲ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔‘‘ان کے یقین کا حال وہی بہتر جانتا ہے۔ دھتکارنے والے دھتکار دیئے گئے اور دھتکارے جانے والے بچا لیے گئے۔ طوفان کے تھم جانے پر حکم ہوا۔’’اے نوح اُتر جا ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں۔ ‘‘

          اس کشتی میں سے جسے عبرت بنا دیا گیا تھا لو گ خوشی خوشی اُترنے لگے۔ اس لیے کہ انہیں کچھ اور مدت کے لیے زیست سے نوازا گیا تھا۔ زمین پر اُترتے ہی یہ لوگ سجدے میں گر گئے۔ سجدۂ شکر ابن آدم کی وہ شان ہے جو اُسے فرشتوں اور جنوں پر امتیاز عطا کرتی ہے۔ حضرت آدمؑ نے غلطی کے سرزد ہوتے ہی سجدۂ استغفارکیا اور ابلیس اس سے محروم رہ گیا۔ اس سے روز اول ہی انسان کا جنوں پر فوقیت ثابت ہو گئی اور اس کے مسجود ہونے کی دلیل آ گئی۔ فرشتوں نے دراصل سجدۂ اطاعت کیا تھا آدم ؑ نے سجدۂ استغفار اور نوحؑ کے ساتھیوں نے سجدۂ تشکر۔ حضرت آدمؑ کو دنیا میں آنے پر خلافت اﷲ کا مقام حاصل ہونے کی خوشی ضرور تھی لیکن حوّا اور جنت کے بچھڑ جانے کا افسوس بھی تھا۔ انہیں پہلے تو حوّا کو تلاش کرنا تھا اور پھر ان کے ساتھ شیطانی وساوس پر قابو پاتے ہوئے دوبارہ کھوئی ہوئی جنت حاصل کرنی تھی لیکن نوحؑ کے ساتھیوں نے اپنی آنکھوں سے اﷲ کے غضب کو دیکھا تھا انہیں خوشی تھی کہ خالق و مالک نے اُن کا شمار پانی کے عذاب سے بچنے والوں میں کیا تھا۔اب وہ آگ کے عذاب سے ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے آپ کو بچا لینا چاہتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ جو مالکِ کائنات دنیا کے کٹھن وقت میں ان کے ساتھ تھا وہی روزِ قیامت ان کا رفیق و دم ساز ہو گا۔ سبھی کے ساتھ زقزوق بھی سجدے میں تھا سب نے سر اٹھا لیا لیکن وہ اسی حالت میں گرا رہا۔ یہاں تک کہ نوحؑ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ سر اٹھاتے ہی وہ اپنے دوست ابن نوح کے بارے میں پوچھنے لگا۔ حضرت نوحؑ کے پاس اس کے لیے دو آنسوؤں سے زیادہ کچھ اور نہ تھا۔ پھر اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا اور دوبارہ اُسے ہونٹوں کے بجائے آنکھوں سے جواب ملا۔ آنسو تھے کہ نہ تھمتے تھے ایک کو اپنے بیٹے کے ڈوب جانے کا غم تھا اور دوسرے کو اپنی ماں کے بچھڑ جانے کا افسوس۔ ان دونوں کے درمیان ایک نیا رشتہ قائم ہو گیا ’’رشتۂ زیاں ‘‘ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور دیر تک لپٹے رہے۔ جب جدا ہوئے تو ایک کو باپ اور دوسرے کو بیٹا مل گیا تھا۔زقزوق نے اس وقت نوحؑ کی انگلی تھامی لیکن آگے چل کر ہاتھ تھام لیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ نوحؑ ضعیف ہو گئے زقزوق جوان ہو گیا اور اب وہ ان کے ہاتھوں کی لاٹھی تھا۔ نوحؑ نے اپنی آخری سانس تک اپنے مشن کو جاری رکھا۔ لیکن بالآخر ان کی مدت عمل اختتام کو پہنچی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ نوحؑ کے داغِ مفارقت سے زقزوق جیسے ہی سنبھلا وہ پھر اس کام میں لگ گیا۔ نوحؑ کے ہونٹ خاموش ہو چکے تھے لیکن ان کے الفاظ زقزوق کے کانوں میں ثبت تھے۔’’کام ابھی باقی ہے، کام ابھی باقی ہے۔‘‘ وہ اس کام میں اسی طرح لگ گیا جیسے نوحؑ اسے کیا کرتے تھے۔ دن رات ہانکے، پکارے لوگوں کو دینِ حنیف کی دعوت دیتا۔ نہ مایوس ہوتا اور نہ تھکتا۔ اپنے روحانی باپ کی وراثت کی حفاظت میں لگا رہتا۔

          کشتی جیسے جیسے پرانی ہوتی گئی طوفانِ نوحؑ کے اثرات زائل ہوتے گئے اور لوگ آہستہ آہستہ پھر اسی طغیانی کی جانب بڑھنے لگے جس نے انہیں غرقاب کیا تھا۔ وقت کے ساتھ وہ لوگ تو مر کھپ گئے جو طوفانِ نوحؑ کے چشم دید گواہ تھے جو نئی نسل جوان ہوئی تو ان میں کئی ایسے تھے جنہیں اس طوفان پر یقین تک نہ تھا۔ وہ اسے گزرے ماضی کے کہانی قصوں سے زیادہ کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ زقزوق ایسے لوگوں کے لیے زیادہ فکر مند ہوتا۔ اس لیے کہ جانتا تھا کہ یہ اگر پانی کے عذاب سے بچ بھی گئے تو آگ کے دریا کا پل پار نہیں کر سکیں گے۔

          زقزوق نے دیکھا لوگ مختلف گروہوں میں رختِ سفر باندھ رہے ہیں۔ پتہ لگانے پر معلوم ہوا یہ لوگ کسی دور دراز کی بستی کا قصد کر رہے ہیں۔ جہاں ایک بہت ہی خوش حال اور طاقت ور قوم آباد ہے۔ لیکن اس کی صفت امتیاز انصاف پسندی ہے۔ اس بستی میں ایک عجیب و غریب مقدمہ زیر سماعت ہے۔ جس کا فیصلہ ایک مہینے بعد ہونے والا ہے۔ یہ لوگ اس فیصلے کے چشم دید گواہ بننا چاہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ وہاں آ رہے ان سب کوبستی والوں نے سرکاری مہمان کے اعزاز سے نوازا ہے اور ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ واپس جا کر ان کی تعریف و توصیف بیان کریں۔ لوگ مختلف مقاصد کے لیے رخت سفر باندھ رہے تھے۔کسی کے پیش نظر سیرو سیاحت تھی تو کوئی سرکاری مہمانی کی خاطر مدارت سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔

          لیکن زقزوق کو ان سب سے قطع نظر مقدمے کے فیصلے میں دلچسپی تھی۔راستے میں مختلف قافلوں سے اس کا سابقہ پیش آتا رہا اور وہ ان سے معلومات حاصل کرتا ہے۔ بستی میں پہنچنے کے قبل اسے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ خاتون کا مقدمہ تھا جس نے بادشاہِ وقت کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا اور اس کا الزام تھا بادشاہ نے اس کا جنسی استحصال کیا ہے۔ ایک معمولی عورت کے الزام پر بادشاہ پر مقدمہ، یہ بات لوگوں کے لیے کچھ عجیب سی تھی۔ جب زقزوق اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچا تو مقدمہ کی سماعت ختم ہو چکی تھی اور لوگ فیصلے کے منتظر تھے۔

          فیصلے کے دن دنیا بھر کے مشاہدین وہاں موجود تھے اور دلچسپی سے اس ڈرامے کا ڈراپ سین دیکھ رہے تھے۔ قاضی وقت نے سب سے پہلے بادشاہِ وقت کے قصیدے پڑھے پھر خاتون کی کردار کشی کی۔ بادشاہ کی غلطی کا اعتراف کیا لیکن اس کے باوجود اسے بری بھی کر دیا۔ لوگ جوش و خروش میں زندہ باد، پائندہ باد کے نعرے لگانے لگے۔ پھلجھڑیاں چھوٹنے لگیں۔ نگاڑے بجنے لگے۔ زقزوق کے لیے یہ سب تماشہ بے معنی تھا۔ مجمع کو چیرتا ہوا وہ آگے بڑھا اور اس نے جج کے قریب جا کر اپنی بات کہنے کی اجازت مانگی۔ فیصلہ ہو جانے کے بعد کسی فرد کی یہ حرکت توہین عدالت تھی۔ اس کے باوجود جج صاحب نے مسکرا کر اسے اجازت دے دی۔ سب لوگ دم بخود اسے دیکھنے لگے۔ وہ گویا ہوا۔

          ’’یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ تو انصاف کا مذاق ہے۔ آپ اگر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملزم نے غلطی کی ہے تو اسے سزا دیجئے۔ اور اگر اُسے بَری کرتے ہیں تو بے قصور قرار دیجئے۔ آپ نے دوہری بات کی ہے۔ جو انصاف نہیں ظلم ہے۔‘‘

           درباری زقزوق کی بات سن کر دم بخود رہ گئے۔ان کے دل گواہی دے رہے تھے کہ یہ سچ کہہ رہا ہے۔ لیکن اَنا آڑے آ گئی۔ ایک نے پوچھا۔

          ’’یہ کون ہے؟‘‘

          دوسرے نے کہا۔’’یہ دشمن کا آدمی ہے۔‘‘

          تیسرے نے کہا۔’’اس نے ہمارے قانون کا مذاق اُڑایا ہے۔‘‘

          چوتھے نے کہا۔ ’’اس نے ہمارے بادشاہ کی توہین کی ہے۔‘‘

          پانچواں بولا۔’’یہ تو ہماری قوم کا دشمن ہے۔‘‘اور پھرسزا دو سزا دو

          بادشاہ نے مداخلت کی اور پوچھا۔

          ’’تم کون ہو؟اور کیا چاہتے ہو؟‘‘

          زقزوق نے اپنا تعارف کرایا۔’’میں اﷲ کا بندہ ہوں۔ میں تمہیں بھی اسی کی اطاعت کی دعوت دیتا ہوں اور ظلم و نا انصافی سے روکتا ہوں۔ ‘‘

          ’’اچھا لیکن اگر ہم نے تمہاری بات کا انکار کر دیا تو تم ہمارا کیا بگاڑ لو گے؟‘‘

          زقزوق بولا۔’’میں تم سے اپنی بات منوانے نہیں آیا ہوں۔ لیکن اگر تم نے اپنے رب کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو وہ تمہیں ضرور سزا دے گا۔‘‘

          ’’مجھے سزا دے گا؟‘‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا۔’’کس کی مجال ہے جو مجھے سزا دے۔ میں کسی رب کو نہیں جانتا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں خود اس کا رب عظیم ہوں۔ ‘‘

          زقزوق نے نہایت دل سوزی سے کہا۔’’یہ بغاوت ہے۔ یہ طغیان ہے۔ یہ جھوٹ ہے اور یہی سب سے بڑا ظلم ہے۔‘‘

          بادشاہ نے کہا۔’’بغاوت تو خود تم نے کی ہے۔ جھوٹ تم خود گھڑ رہے ہو۔ اب ہم تمہیں بتلاتے ہیں ظلم کیا ہوتا ہے۔‘‘بادشاہ نے حکم دیا ایک الاؤ تیار کیا جائے۔ جس کی لپٹیں آسمان کو چھوتی ہوں اور اسے اس میں اُچھال دیا جائے۔

          قاضی نے کہا۔ ’’جان کی امان پاؤں تو میں بھی کچھ عرض کروں۔ ‘‘

          بادشاہ نے کہا۔’’بولو تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘

          ’’حضور آج ساری دنیا کے نمائندے یہاں موجود ہیں جو ہماری جانب رشک کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور جا کر اپنی اپنی بستیوں میں ہمارے عدل و انصاف کے گن گانے والے ہیں لیکن اگر ہم نے اس موقع پر زقزوق کو آگ میں پھینک دیا تو وہ ہمیں چھوڑ کر اس کے واقعات سنانے لگیں گے اور ہوسکتا ہے اس کی تعریف و توصیف یہاں کرنے لگیں۔ اگر ایسا ہوا تو ہماری نیک نامی کا نقاب تار تار ہو جائے گا۔‘‘

          بادشاہ نے کہا۔ ’’بات تو معقول معلوم ہوتی ہے۔ پھر کیا کیا جائے؟‘‘

          قاضی نے کہا۔ ’’اس کو معاف کر دیا جائے۔ اس سے ہماری رحم دلی اور رواداری کے چرچے ہونے لگیں گے۔‘‘

          بادشاہ نے قاضی کو شاباشی دی اور قاصی نے اعلان کیا۔’’بادشاہِ وقت نے اس نا خلف کو معاف کر دیا اور سزائے موت سے بَری کر دیا لیکن چونکہ اس نے رعایا کو رنج پہنچایا ہے وہ اس کی سزا دینے کے لیے آزاد ہے۔‘‘

          پھر ایک بار بادشاہ زندہ باد، انصاف پائندہ باد کے نعرے بلند ہوئے۔ زقزوق عدالت سے باہر آیا تو بادشاہ کے اوباش مصاحب اس کے پیچھے لگ گئے اور اس پر پتھر برسانے لگے۔ زقزوق لہو لہان ہو گیا۔ اس کی جوتیاں خون سے بھر گئیں اور بستی سے باہر دریا کے کنارے وہ بے ہوش ہو گیا۔ جب اسے ہوش آیا تو ایک فرشتہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے پوچھا۔

          ’’تم کیا چاہتے ہو؟ اس بستی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟‘‘

          زقزوق بولا۔’’میں تھک گیا ہوں میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے موت کی نیند سلا دیا جائے۔‘‘ پہلی مرتبہ زقزوق سے مایوسی کا اظہار ہوا تھا۔

          فرشتے نے کہا۔ ’’بستی والوں کے بارے میں اگر تم کوئی حکم دیتے تو میں اﷲ کے اِذن سے اس پر عمل درآمد کرتا لیکن تم نے خود اپنے ہی بارے میں فیصلہ کر دیا لیکن ابھی تمہاری مدتِ عمل باقی ہے۔ اس لیے تمہیں زندہ رہنا ہو گا۔‘‘