کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

انتخاب و آزادی

ڈاکٹر سلیم خان


شیخ جواد المسعودی اپنی نئی نویلی دلہن مرجانہ کے ساتھ دیوان خانے میں بیٹھے قہوہ نوش فرما رہے تھے وہ بڑی محبت سے ننھے ننھے فنجان بھر کے انہیں پیش کرتی اور شیخ صاحب خود اپنے باغ کی تازہ رس بھری کھجوروں کے ساتھ قہوہ کی ہلکی ہلکی چسکیاں لیتے جاتے۔ ٹھنڈے کھجوروں کی مٹھاس اور گرم قہوہ کی تلخی نے ماحول کو نہایت خوشگوار بنا دیا تھا کہ ننھا ریحان روتا ہوا وہاں آ پہنچا۔ اس کی نئی ماں مرجانہ نے لپک کر اسے گود میں بٹھا لیا۔ اس کے بعد وہ اور زور زور سے رونے لگا۔ مرجانہ نے بڑے پیار سے پوچھا۔

          ’’کیا ہوا کیوں رو رہے ہو؟ ‘‘

          ’’آج پھر صفوان نے مارا۔‘‘ریحان بولا۔

          ’’اچھا۔ ‘‘ مرجانہ نے کہا۔ ’’کیسے مارا اس نے آپ کو؟ ‘‘

          ’’لاٹھی سے۔‘‘

          ’’اسی لاٹھی سے جس سے وہ بکریاں ہانکتا ہے۔‘‘

          مرجانہ نے ریحان کو پیار سے ڈانٹا ’’بیٹے کتنی بار سمجھایا ہے کہ اس کے پاس نہ جایا کرو پھر  آپ اس کے پاس کیوں گئے؟‘‘

          ’’میں اس کے پاس کب گیا۔‘‘ ریحان نے جواب دیا۔ ’’حقیقت تو یہ ہے کہ میں اپنی بکریوں کے پاس گیا تھا وہی وہاں آ پہنچا۔‘‘

          شیخ صاحب بولے۔’’بیٹے وہ تو وہاں آئے گا ہی۔ اس کا تو کام ہی بکریوں کی دیکھ بھال کرنا ہے۔‘‘

          مرجانہ نے اب شیخ صاحب کا رُخ کیا اور بولی۔’’آپ چپ کریں آپ کے لاڈ پیار نے ہی صفوان کو بگاڑ دیا ہے۔ اس کا کام بھیڑ بکریوں کی دیکھ ریکھ کرنا ہے یا بچوں کو مارپیٹ کرنا۔ کل اس نے اپنی بہن صفیہ کا سر پھوڑ دیا تھا آج اس نے ریحان کی پٹائی کر دی۔ اگر یہی سلسلہ دراز رہا تو ایک دن اس کی لاٹھی کی زد میں ہم لوگ بھی آ جائیں گے۔‘‘

          شیخ صاحب کو مرجانہ کی بچکانہ بات پر ہنسی آ گئی۔ انہوں نے کہا۔’’کیا اناپ شناپ بک رہی ہو تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔‘‘

          مرجانہ نے جھٹ کہا۔ ’’میرا دماغ تو ٹھیک ہے لیکن صفوان کا دماغ درست کرنا ہی ہو گا۔ ایسا کرو اس کی لاٹھی اس سے چھین لو۔‘‘

          شیخ جواد بولے۔’’لاٹھی سے اسے کیونکر محروم کیا جا سکتا ہے اس لیے کہ بکریاں چرانے کے لیے لاٹھی کا استعمال لازمی ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو صفوان کو بکریاں چرانے کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش کرنا ہو گا۔‘‘

          مرجانہ چونک پڑی اس نے کہا۔’’نانا بابا نا۔ اگر ایسا ہو گیا تو ہماری ان بکریوں کون چرائے گا؟ ‘‘

          ریحان بیچ میں بول پڑا۔ ’’میں چراؤں گا۔ مجھے یہ بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘

          ’’نہیں بیٹے نہیں۔ ‘‘ مرجانہ بولی۔’’یہ تمہارا کام نہیں ہے۔ تم کہاں دشت و صحرا میں بکریاں چراتے پھرو گے۔‘‘

          ’’تو کیا میں صفوان کی لاٹھی سے مار کھاتا ہی رہوں گا۔ ‘‘ننھے ریحان نے معصومیت سے پوچھا۔

          ’’نہیں۔ ‘‘ مرجانہ نے کہا ’’جاؤ صفوان کو یہاں بلاؤ میں اسی کی لاٹھی سے اس کی کھال ادھیڑتی ہوں۔ ‘‘

          یہ سن کر ریحان کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ دوڑتا ہوا صفوان کے پاس جا پہنچا اور کہا۔ ’’چلو جلدی چلو۔ تمہیں نئی امّی بلا رہی ہیں۔ ‘‘

          ’’کیوں ؟‘‘ صفوان کا سوال تھا۔

          ریحان سکتہ میں آ گیا حقیقت بتانے کی ہمت اس کے اندر نہیں تھی۔ صفوان نے غرا کر پھر پوچھا۔ ’’بول کیوں بلا رہی ہیں ؟بولتا کیوں نہیں ؟ چپ کیوں ہے؟‘‘

          اب ریحان کانپ رہا تھا۔ صفوان نے کہا۔’’میں سمجھ گیا تم نے جا کر میری چغلی کی ہے۔ جاؤ ان سے کہو میں نہیں آتا۔‘‘

          ریحان زور دے کر بولا۔’’کیسے نہیں چلو گے تمہیں چلنا ہی ہو گا۔‘‘

          ’’اچھا۔‘‘ صفوان چراغ پا ہو گیا اور اس نے ایک لاٹھی ریحان کی پیٹھ پر جمادی۔ ریحان روتا بلبلاتا پھر مرجانہ کے پاس آ گیا۔ ’’امّی اس نے مجھے پھر مارا وہ کہتا ہے کہ وہ نہیں آئے گا۔‘‘

          ’’اچھا اب تو پانی سر سے اوپر ہو گیا۔ ‘‘مرجانہ بولی۔’’اور کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے کھڑی ہو گئی اور صفوان کی جانب جیسے ہی قدم بڑھایا سامنے اس کی سوتن اور ریحان کی سگی ماں سلطانہ کھڑی تھی۔ اس نے پوچھا۔

          ’’اتنے غصہ سے کہاں جا رہی ہو دلہن؟‘‘

          مرجانہ بولی۔’’آپ بیٹھیں میں ابھی آئی۔‘‘

          سلطانہ نے کہا ’’تم بھی بیٹھو۔ غصہ نہ کرو۔ بچوں کے جھگڑے میں بڑوں کو نہ پڑنا چاہئے۔ مار پیٹ سے بچے سدھرتے نہیں بگڑ جاتے ہیں۔ صفوان کو میں سمجھاؤں گی۔ ریحان بیٹے جاؤ صفوان کو بلا لاؤ اس سے کہو میں اسے بلا رہی ہوں اور میرے پاس اس کے لیے مٹھائی ہے۔‘‘

          ریحان دوبارہ دروازے کی جانب دوڑ پڑا۔ مرجانہ نے کہا۔’’باجی یہ جھوٹ ہے۔‘‘

          ’’نہیں دلہن یہ جھوٹ نہیں ہے۔‘‘ سلطانہ بولی۔’’اچھی نصیحت کی مٹھاس تمام مٹھائیوں سے زیادہ ہوتی ہے۔‘‘

          مرجانہ زچ ہو گئی۔ اس نے کہا ’’باجی آپ کی باتیں ان کھجوروں سے زیادہ مٹھاس اپنے اندر رکھتی ہیں پھر بھی لیجئے انہیں نوش فرمائیے۔ میں آپ کے لیے قہوہ نکالتی ہوں۔ ‘‘

          سلطانہ نے شکریہ ادا کیا ہی تھا کہ ریحان واپس آ پہنچا۔ سلطانہ نے پوچھا۔ ’’صفوان کہاں ہے؟‘‘

          ریحان بولا۔ ’’وہ کہتا ہے میں نہیں آتا۔ بڑی امی جھوٹ بولتی ہیں ان کے پاس مٹھائی نہیں ہے اور میں ان کی نصیحتوں سے اوب چکا ہوں۔ ‘‘

          مرجانہ نے کہا۔’’دیکھا باجی سنا آپ نے صفوان کا جواب۔‘‘

          سلطانہ نے جواب دیا۔ ’’کوئی بات نہیں ذہین بچہ ہے ہماری چال سمجھ گیا میں اسے بعد میں سمجھا دوں گی۔ ‘‘

          مرجانہ بولی۔’’لیکن اس نے ریحان کے ساتھ جو پے در پے زیادتیاں کی ہیں اس کا کیا؟‘‘

          دیر سے خاموش تماشائی بنے ہوئے شیخ جواد بیچ میں بول پڑے۔ ’’میں اس کی سزا صفوان کو دوں گا۔‘‘ انہوں نے ریحان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’بیٹے ریحان جاؤ صفوان کو بلاؤ اس سے کہنا ’’ہم بلا رہے ہیں۔ ‘‘

          ریحان پھر دوڑتا ہوا صفوان کے پاس پہنچا اور کہا۔’’بابا بلا رہے ہیں فوراً چلو ورنہ …‘‘

          صفوان نے بیچ ہی میں لپک لیا۔ ’’ورنہ کیا میری کھال کھینچ لیں گے جا اور ان سے کہہ میں نہیں ڈرتا جو مرضی آئے کر لیں میں نہیں آتا۔‘‘

          ریحان جب یہ بات اپنے بابا کو بتلا رہا تھا اذان شروع ہو گئی۔ شیخ جواد شکست خوردگی کا احساس لیے اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے وضو خانے کی جانب بوجھل قدموں کے ساتھ ہو لیے۔ جب وہ وضو سے فارغ ہو کر نکلے تو دیکھا مرجانہ اور سلطانہ خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور بچوں کی فلپائنی دایا نینسی بڑے پیار سے ریحان کی پیٹھ سہلا رہی ہے اور ریحان اس کی گود میں آنکھیں موندے لیٹا ہوا ہے۔ جواد سوچنے لگے مرجانہ صفوان کو سزا دینے کی فکر میں ریحان کی پیٹھ سہلانا بھول گئی اور بالآخر یہ کام نینسی کے حصہ میں آیا۔ قدرے اطمینان کے ساتھ وہ مسجد کے لیے روانہ ہو گئے۔ نماز سے فارغ ہو کر جب وہ لوٹے تو کیا دیکھتے ہیں لان میں نینسی بیٹھی ہے۔ صفوان اور ریحان دونوں اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر شیخ جواد کا دل باغ باغ ہو گیا۔ وہ دیوان خانے میں داخل ہوئے تو دیکھا سلطانہ ان کے لیے کھانا پروس رہی ہے۔

          شیخ جواد مرنجان مرنج شخصیت کے حامل تھے ایک نہایت متمول اور دیندار گھرانے میں انہوں نے آنکھیں کھولیں۔ والدین نے حصول تعلیم کے لیے انہیں یوروپ بھیجا وہاں سے فلسفہ کی تعلیم حاصل کر کے واپس لوٹے تو ان کا اپنی روایات سے رشتہ مزید گہرا ہو چکا تھا۔ مغرب کے نمائشی کھوکھلے پن نے انہیں اپنی اقدار کا گرویدہ بنا دیا تھا۔ کچھ عرصہ انہوں نے تعلیم تدریس کا پیشہ اپنایا لیکن وہ ان کے مزاج سے میل نہ کھاتا تھا اس لیے خاندانی تجارت کی جانب متوجہ ہوئے اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ان کا کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ ابھی ان کے آبائی گاؤں آبھا میں ان کی شاندار کوٹھی تھی جس میں وہ اپنی دو بیویوں سلطانہ اور مرجانہ کے ساتھ رہتے تھے۔ یہاں ان کے پاس بھیڑ بکریاں اونٹ اور مرغیاں کھیت کھلیان سب کچھ تھا۔ان کی شرافت اور صاف گوئی کے باعث گاؤں والے ان کا بڑا احترام کرتے تھے۔ شیخ صاحب کی سخاوت کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ آبھا سے قریب ہی خمیس مشیط نام کا ایک صحت افزا مقام تھا جہاں سال بھر موسم خوشگوار ہوتا۔ سردیوں میں تو برف باری بھی ہوتی۔ خمیس مشیط کی وادی میں شیخ صاحب کا ایک مزرع (فارم ہاؤس) تھا۔ جس میں کھجوروں کا بہترین باغ تھا اور اعلیٰ نسل کے عربی گھوڑوں کا اصطبل۔ اس مزرع میں ان کی بیوی نذرانہ اپنے سوتیلے بیٹے عرفان کے ساتھ رہتی تھی۔ نذرانہ کی دونوں بیٹیاں دردانہ اور افسانہ بیاہی جا چکی تھیں۔ شیخ صاحب کا کاروبار قریب کے شہر جیزان میں جما ہوا تھا وہاں ان کی آڑہت تھی۔ پٹرول پمپ تھا۔ ہوٹل تھی اور نہ جانے کیا کیا۔ جیزان میں شیخ صاحب کی سب سے تیز طرار بیوی رخسانہ اپنے بیٹے رضوان کے ساتھ رہتی تھی صفوان دراصل رضوان کا سگا بھائی تھا لیکن وہ جیزان کے بجائے خمیس میں رہتا تھا۔ بازار میں شیخ صاحب ایک اچھے تاجر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے اس لیے کہ اس طویل عرصہ میں ایک بھی بد عہدی یا بددیانتی کا کلنک ان کے کاروبار پر نہ لگا تھا۔ شیخ صاحب کا معمول یہ تھا کہ وہ ہر مہینہ کے دو ہفتہ اپنے آبائی گاؤں آبھا میں گذارتے نیز ایک ہفتہ خمیس اور ایک ہفتہ جیزان میں حالانکہ مصروفیات کا تقاضا تو یہ تھا زیادہ وقت جیزان میں گذارا جاتا لیکن اپنی بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کو وہ کاروباری ضرورتوں پر ترجیح دیتے تھے۔ ریحان سلطانہ سے تھا صفوان کی ماں شبانہ کو انہوں نے چند ماہ قبل طلاق دے دی تھی اور بڑے مال و اسباب کے ساتھ روانہ کیا تھا تاکہ مرجانہ سے نکاح کیا جا سکے۔ اس واقعہ نے صفوان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب کیے تھے اسے ایسا لگتا تھا جیسے مرجانہ نے اسے اپنی حقیقی ماں سے محروم کر دیا ہے۔ سلطانہ کو اس حقیقت کا احساس تھا اس لیے وہ صفوان کا خاص خیال رکھتی تھی۔ لیکن اس کا گھاؤ بھرنے کا نام نہ لیتا تھا۔ نینسی کی کوششوں سے وہ وقتی طور پر بہل جاتا لیکن تنہائی میں وہ پھر غصہ سے بھر جاتا۔ ایسے میں اس کے پاس بکریاں ہوتیں یا ریحان۔ بکریوں کو وہ اپنی طرح مظلوم سمجھتا تھا اس لیے ان کے تئیں انسیت محسوس کرتا تھا لیکن ریحان کے ساتھ ایسی کوئی بات نہ تھی اس لیے وہ گاہے بگاہے صفوان کے غم و غصہ کا شکار ہوتا رہتا تھا۔

          حسب معمول مہینہ کے دوسرے ہفتہ جمعہ کے دن جب شیخ جواد جیزان اپنی حویلی میں پہنچے تو دیکھا ان کا بیٹا رضوان گھر پر موجود ہے۔ والد کی آہٹ سن کر وہ دوڑا دوڑا دروازے تک آیا۔ شیخ جواد نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے بڑے احترام سے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ شیخ صاحب نے آگے بڑھ کر بیٹے کی پیشانی پر بوسہ دیا اور پوچھا۔’’بیٹے کب آئے؟‘‘

          اس سے پہلے کہ رضوان کچھ بولتا اس کی ماں رخسانہ بول پڑی۔ ’’کل رات آیا ہے اور صبح تک بیسیوں مرتبہ آپ کے بارے میں پوچھ چکا ہے۔ بابا آئیں گے نا؟ بابا کب آئیں گے؟ بابا ابھی تک کیوں نہیں آئے؟ میں انہیں کے ساتھ ناشتہ کروں گا۔ یہی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ آپ ایسا کریں جلدی سے ہاتھ منہ دھولیں میں ناشتہ لگاتی ہوں۔ ‘‘

          شیخ جواد نے جھلاتے ہوئے کہا۔ ’’ٹھیک ہے ذرا دم تو لے لینے دو ابھی تو ہم نے ایک دوسرے کی خیریت بھی دریافت نہیں کی اور تم کھانے کھلانے میں لگ گئیں۔ تم عورتوں کو تو بس۔‘‘

          ’’بس۔‘‘ رخسانہ نے درمیان میں جملہ اُچک لیا۔ ’’خیریت ناشتہ کے دوران بھی پوچھی جا سکتی ہے۔ چلو جلدی سے دسترخوان پر آؤ۔‘‘شیخ جواد نے ناشتہ کے دوران عطا کردہ آزادی پر شکریہ ادا کیا اور نہایت سعادت مندی سے حمام کی جانب چل دیئے۔

          رضوان نے کہا۔’’امی آپ تو…‘‘

          رخسانہ نے اس کی بات بھی کاٹ دی۔’’ہاں میں جانتی ہوں تم دونوں باپ بیٹے ایک دوسرے کے بڑے ہمدرد غم خوار ہو۔ لیکن میں بھی تمہاری دشمن نہیں ہوں۔ چلو تم بھی جلدی کرو اور دسترخوان پر چلو۔ اب یہ تینوں ناشتہ کر رہے تھے کہ شیخ جواد نے پوچھا۔’’بیٹے امتحانات کب سے ہیں ؟‘‘

          رخسانہ رضوان سے پہلے بول پڑی۔’’یہ لو۔ ان شفیق باپ کو دیکھو جنھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ امتحانات ختم ہو چکے ہیں اور شاید آپ کو یہ بھی یاد نہ ہو گا کہ یہ اس کے آخری سال کے امتحانات تھے۔ ان میں کامیابی کے بعد انشاء اﷲ میرا بیٹا انجینئر بن جائے گا۔ المسعودی خاندان کا پہلا مہندس (انجینئر)۔‘‘

          ’’ہاں ہاں میں جانتا ہوں۔ ‘‘ شیخ جواد بولے۔’’اچھا تو بیٹے آپ کے نتائج کب تک ظاہر ہو جائیں گے؟‘‘

          رخسانہ نے پھر ٹوکا۔’’تعجب ہے آپ اتنا بھی نہیں جانتے کہ ایک مہینہ کے اندر نتائج ظاہر کر دیئے جاتے ہیں آئندہ ماہ جب آپ تشریف لائیں تو مٹھائی کا ٹوکرا اپنے ساتھ ضرور لانا۔میں اپنے کے انجینئر بن جانے کی خوشی میں سارے محلے کو مٹھائی کھلاؤں گی۔‘‘

          ’’ہاں ہاں ضرور کھلانا۔ ‘‘ شیخ صاحب بولے۔’’سارے محلے کو کیوں سارے شہر کو مٹھائی کھلانا،ننگارے بجوانا کہ تمہارا بیٹا انجینئر ہو گیا۔ گویا انجینئر ہونے والا یہ دنیا میں پہلا فرد ہے۔‘‘

          رخسانہ نے جل بھن کر کہا۔ ’’آپ کیوں جلی کٹی سنانے لگے ساری دنیا میں نہ سہی تو کیا…‘‘

          شیخ جواد نے جملے کاٹ دیا۔ ’’المسعودی خاندان میں …‘‘

          فوراً رخسانہ نے پھر جملہ لپک لیا۔ ’’نہ صرف المسعودی خاندان بلکہ میرے جنیدی خاندان میں بھی یہ پہلا مہندس ہے۔‘‘

          شیخ جواد جھلا کر بیچ میں بول پڑے۔’’بس کرو اپنے چشم و چراغ کی تعریف و توصیف میں خوب جانتا ہوں المسعودی اور جنیدی خاندان کو۔‘‘

          ’’کیوں بس کروں۔ ‘‘ رخسانہ بولی۔ ’’میرا بیٹا لاکھوں میں ایک ہے۔ میں اس کی تعریف نہ کروں گی تو کون کرے گا؟‘‘

          رضوان بڑی دلچسپی سے اپنے ماں باپ کی نوک جھونک دیکھ رہا تھا۔ ہاسٹل کی زندگی میں وہ ان لمحات کو ترس جاتا تھا وہ خوش تھا کہ اسے اقامت گاہ کی بے لطف زندگی سے نجات حاصل ہو گئی تھی۔ ناشتہ کے بعد شیخ جواد بازار کی طرف نکل گئے اپنے کاروباری معاملات میں وہ نہایت سنجیدہ طبیعت کے حامل تھے۔ ہر کام میں خود دلچسپی لیتے اور ہر کام کا تن دہی اور خوش اسلوبی سے حق ادا کرتے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ تعلیم ختم کرنے کے بعد ان کا بڑا بیٹا رضوان کاروبار کی ذمہ داریاں سنبھال لے لیکن رضوان کو اس خرید و فروخت کے کام میں دلچسپی نہ تھی وہ صنعت کار بننا چاہتا تھا۔ صنعت قائم کرنے کے لیے شیخ جواد کے پاس ذرائع و وسائل کی کمی نہیں تھی لیکن جس طرح کی صنعت رضوان قائم کرنا چاہتا تھا اس کے لیے جیزان شہر موزوں نہ تھا۔ اپنی پسند کی صنعت کے لیے اس کا چبیل، ینبع، جدہ یا ریاض مستقل ہونا ضروری تھا۔

          ہفتہ کے خاتمہ پر جب شیخ جواد نے خمیس مشیط میں واقع مزرع کی جانب کے لیے رخت سفر باندھا تو رضوان کو بھی اپنے ساتھ چلنے کے لیے تیار کر لیا۔ ان کی خواہش تھی کہ رضوان چند روز مزرع میں گذارے۔ آب و ہوا بھی تبدیل ہو جائے اور بھائی عرفان سے ملاقات بھی ہو جائے۔ رخسانہ کو جیسے ہی اس منصوبے کا پتہ چلا وہ خود بھی تیار ہو گئی۔ رضوان کو اگر اپنے بھائی سے ملنا تھا تو اسے بھی اپنے بیٹے سے ملنے کی خواہش ستا رہی تھی۔ شیخ جواد نے رخسانہ کی فرمائش قبول تو کر لی لیکن اسے سمجھایا کہ دیکھو ذرا اپنی زبان پر لگام رکھنا اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرنا ورنہ اس بے چارے کی چھٹیاں خراب ہو جائیں گی۔

          ’’دیکھو جی۔ ‘‘ رخسانہ بولی۔ ’’ویسے یہ اب چھٹی پر نہیں آیا ہے بلکہ کالج کی چھٹی کر کے آیا ہے اور پھر میں غلط بات برداشت نہیں کر سکتی۔ چاہے وہ غلط بات آپ کہیں یا آپ کی چہیتی نذرانہ کہے۔ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا۔‘‘

          شیخ جواد بولے۔’’میں کب کہتا ہوں کہ تم غلط بات کو برداشت کرو لیکن تمہارا مسئلہ یہ کہ تم صحیح اور غلط کا فیصلہ اپنی پسند اور ناپسند پر کرتی ہو اور اس کسوٹی کے مطابق جو بات تمہیں اپنی دانست میں غلط معلوم ہوتی ہے اس پر غلط انداز میں گرفت کرتی ہو اسی سے بات بگڑ جاتی ہے۔‘‘

          رخسانہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں میں جانتی ہوں کہ میری پسند بھی غلط ہے اور گرفت بھی۔ اسی لیے میں نے آپ کو پسند کر لیا اور آپ کی گرفت میں آ گئی۔‘‘

          شیخ جواد مسکرائے انہوں نے کہا۔ ’’تم میری گرفت میں ہو یا…‘‘ وہ رک گئے۔

          رخسانہ نے کہا۔ یا کیا؟ آپ میری گرفت میں ہیں یہی نا؟ دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ایک ہی بات ہے۔ رخسانہ کی اس بات پر تینوں ہنسنے لگے۔

          جمعہ کی نماز سے قبل جب یہ قافلہ مزرع میں پہنچا سبھی لوگ شاد کام ہو گئے۔ رضوان اور عرفان ایک دوسرے سے مل کر بے حد خوش ہوئے اور بات چیت میں مصروف ہو گئے۔ نذرانہ اور رخسانہ کا بھی یہی حال تھا وہ دونوں بھی گفت و شنید میں محو ہو گئیں۔ شیخ جواد اپنی دو بیویوں اور دو بیٹوں کے باوجود بالکل تنہا ہو گئے۔ کچھ دیر دالان میں خاموش بیٹھنے کے بعد وہ باہر باغ میں آ گئے۔ کھجور کے دراز قد پیڑوں نے ان کی تنہائی دور کر دی۔ ان سے شیخ صاحب کو بے حد انسیت تھی۔ ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کے درمیان انہوں نے اپنا لڑکپن گذارا تھا اور کچھ ایسے تھے جنہیں خود شیخ جواد نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا اور نہایت محنت سے سینچ کر بڑا کیا تھا۔وہ ان درختوں میں آتے تو انہیں ایسا لگتا گویا وہ ان کے اپنوں میں آ گئے ہیں۔ وہ اس بے زبان مخلوق سے گھنٹوں باتیں کرتے ان کو اپنی سناتے اور ان کی سنتے۔ ان کی یہ بات چیت کوئی اور نہ سنتا۔ دیر تک پیڑوں سے محو گفتگو رہنے کے بعد جب وہ کسی آواز کی جانب متوجہ ہوئے تو وہ اذان کی آواز تھی۔ مؤذن نماز جمعہ کے لیے مصلیان کو مسجد آنے کی دعوت دے رہا تھا۔

          نماز جمعہ کے بعد پانچوں ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھے تھے۔ پہلا نوالہ منہ میں رکھتے ہی رضوان نے نذرانہ سے کہا۔ ’’امّی میں تو دعا کرتا ہوں کہ جنت میں بھی مجھے آپ کے ہاتھ کا کھانا نصیب ہو۔‘‘

          عرفان نے کہا۔’’لیکن بھائی کیا جنت میں بھی بڑی امی کو کھانا بنانے کی مشقت سے نجات نہیں ملے گی؟‘‘

          شیخ جواد بولے۔’’جنت میں انہیں زحمت اٹھانے کی کیا ضرورت وہاں تو فرشتے جیسا چاہیں گے کھانا بنا کر تیار کر دیں گے۔‘‘

          رخسانہ نے کہا۔ ’’فرشتے یا حوریں ؟‘‘

          شیخ جواد نے کہا۔ فرشتے یا حوریں ایک ہی بات ہے۔ تم بال کی کھال نہ نکالو۔‘‘

          رضوان بولا۔ ’’ لیکن بابا کیا فرشتے بڑی امی جیسا ذائقہ دار کھانا بنا سکیں گے؟‘‘

          یہ سن کر سب چپ ہو گئے تو نذرانہ نے کہا۔ ’’آپ لوگ بلا وجہ فرشتوں اور حوروں تک پہنچ گئے ان دونوں کے لیے دو اچھی اچھی بیویاں لے آؤ میں ان کو ایسا کھانا بنانا سکھلا دوں گی کہ یہ میرے ہاتھ کا ذائقہ بھول جائیں گے۔‘‘

          شیخ جواد نے تائید کی۔ ’’ہاں جیسے میں بھول گیا۔‘‘

          کھانے کے بعد نذرانہ اور رخسانہ باورچی خانے میں مصروف ہو گئے۔ جواد آرام کے لیے چلے گئے اور رضوان اپنے بھائی عرفان کے ساتھ باغ میں آ کر بیٹھ گیا۔ وہ ابھی ایک دوسرے کی خیریت ہی معلوم کر رہے تھے کہ نذرانہ ایک خوبصورت سی طشتری میں تازہ کھجوریں اور قہوہ کا تھرماس لے آئی اور ان کے درمیان رکھ کر خود رخسانہ کے پاس آرام کرنے چلی گئی۔ رضوان نے کھجور کھاتے ہوئے پوچھا۔

          ’’بھیا ہمارے باغ کی کھجوریں اتنی زیادہ میٹھی کیوں ہوتی ہیں ؟‘‘

          عرفان بولا۔ ’’کھجوریں تو سبھی باغات کی میٹھی ہوتی ہیں لیکن ہمیں اپنے باغ کی کھجوریں اچھی لگتی ہیں اس لیے کہ وہ ہماری اپنی ہوتی ہیں۔ ‘‘

          ’’میں ایک بات بتاؤں آپ تو واقعی فلسفی ہیں آپ کی اکثر باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔ ‘‘

          ’’کیا مذاق کرتے ہو۔‘‘ عرفان بولا۔ ’’تم نے ملک کے سب سے نامور تعلیم گاہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ مجھ جیسے گنوار کی بات تمہاری سمجھ میں نہ آتی ہو۔‘‘

          رضوان نے نفی میں سرہلایا اور کہا۔ ’’نہیں ایسی بات نہیں۔ ہم نے انجینئرنگ کی تعلیم ضرور حاصل کی لیکن وہاں ہمیں فلسفہ کی تعلیم نہیں دی گئی اور علم کلام کی جن کتابوں کا آپ مطالعہ کرتے ہیں انہیں سمجھنا تو درکنار ان کا مطالعہ بھی میرے لیے محال ہے۔‘‘

          ’’سچ؟‘‘

          ’’ بے شک لیکن والد محترم اس حقیقت کا ادراک نہیں کرتے وہ چاہتے ہیں کہ میں شہر میں جا کر کاروبار کروں میں نے انہیں بہتیرا سمجھایا کہ میں شہر نہیں جانا چاہتا میں یہیں رہ کر باغات کی دیکھ ریکھ کرنا چاہتا ہوں اور اپنا مطالعہ جاری رکھنا چاہتا ہوں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ میں جیزان جا کر پٹرول پمپ کا کاروبار سنبھالوں بلکہ انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ آئندہ ماہ اس کرایہ دار کی میعاد ختم ہونے والی ہے جس کو پٹرول پمپ چلانے کے لیے دیا گیا تھا ایسا ہوتے ہی میں اس کام کاج کو سنبھال لوں اور ابتدائی مرحلہ میں آپ کا تعاون حاصل کروں لیکن میں یہ نہیں چاہتا۔ اب تمہیں بتاؤ میں کیا کروں ؟‘‘

          رضوان نے جواب دیا۔’’میرے بھائی اس معاملے میں میری حالت تم سے مختلف نہیں۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ میں آگے چل کر ایک بڑا صنعت کار بنوں گا لیکن والد صاحب چاہتے ہیں میں جیزان میں ہوٹل کا کاروبار کروں۔ یہ تو اَن پڑھ لوگوں کا کاروبار ہے اس میں میری پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا کوئی استعمال نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر مجھ سے یہی کرانا تھا تو مجھے اتنی دور تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیوں بھیجا گیا۔ یہ کام تو میں بغیر انجینئرنگ کی مشقت طلب تعلیم کے ہی کر سکتا تھا۔‘‘

          عرفان نے پوچھا۔ ’’لیکن آپ جیزان کے ہوٹل کے بجائے صنعت کیوں قائم نہیں کرتے۔؟‘‘

          رضوان بولا۔ ’’میں جس طرح کی صنعت قائم کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے جیزان موزوں مقام نہیں ہے جو شہر اس کاروبار کے لیے مناسب ہیں وہاں امی بابا مجھے بھیجنا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا ہے بہت ہو چکی گھر سے دوری اب وہیں جیزان میں رہ کر کاروبار دیکھو۔‘‘

           دونوں بھائی فکر مند ہو گئے۔دیر تک خاموش رہے پھر رضوان بولا۔ ’’بھائی میں نے سوچ لیا کہ میں اپنی زندگی اپنے طریقے سے گذاروں گا۔

          ’’ لیکن امی بابا ؟‘‘ عرفان نے پوچھا۔

          ’’میں انہیں سمجھاؤں گا‘‘ رضوان بولا۔ ’’کہ وہ ہمیں اپنی زندگی جینے دیں اپنی مرضی ہم پر تھوپ کر ہماری خوشیاں نہ چھینیں۔ ‘‘

          عرفان نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’اس گفتگو کے بعد دونوں بھائی والدین کے مقابلے اپنے آپ کو زیادہ طاقتور محسوس کر رہے تھے۔ ایک ہفتہ دیکھتے دیکھتے گذر گیا۔ شیخ جواد کو اب اپنے آبائی وطن آبھا روانہ ہونا تھا نیز رضوان اور رخسانہ کو جیزان۔ نکلنے سے پہلے شیخ جواد نے عرفان کو پاس بلایا اور جلد از جلد پٹرول پمپ کا کاروبار ہاتھ میں لے لینے کی تلقین کی۔ رضوان کو ہوٹل کی تیاری کا مشورہ دیا اور دونوں کو ایک دوسرے کا تعاون کرنے کی نصیحت کی اور اپنی راہ لی۔ دونوں بھائیوں میں سے ایک نے بھی ایک لفظ تک نہ کہا۔ سبھی خاموش رہے اور ان کی خاموشی کو ہاں سمجھ لیا گیا۔

          شیخ جواد کے جانے کے بعد دونوں بھائی اپنی امی رخسانہ کے ساتھ جیزان تو آ گئے لیکن کاروبار کی طرف جھانک کر بھی نہ دیکھا۔ درمیان میں ایک دن جواد نے عرفان کو فون پر سخت سست کہا اور اسے کاہلی چھوڑ کر جلد از جلد پٹرول پمپ چلانے والے سے ملنے کا حکم دیا۔ دوسرے دن دونوں بھائی با دلِ ناخواستہ حکم کی تعمیل میں پٹرول پمپ جا پہنچے۔ کرایہ دار نہایت خلیق انسان تھا۔ اس نے بڑی گرم جوشی سے دونوں بھائیوں کا خیر مقدم کیا اور انہیں اپنا دکھڑا کہہ سنایا۔ اس نے کہا ’’آج سے دو سال قبل یہ پٹرول پمپ قائم کیا گیا اور اسی وقت اس نے اسے کرایہ پر حاصل کیا تقریباً ڈیڑھ سال تو یہ کاروبار گھاٹے میں چلتا رہا اس لے کہ لوگوں کو پتہ چلنے میں اور گاہکوں کے آنے میں تھوڑا بہت وقت لگتا ہی ہے ابھی گذشتہ چھ ماہ سے کچھ آمدنی شروع ہوئی ہے لیکن پرانے نقصان کی پوری طرح بھرپائی بھی نہ ہو سکی کہ معاہدہ کی میعاد پوری ہو گئی اس نے شیخ جواد کو لاکھ سمجھایا کہ اس کے معاہدے کی توسیع کر دی جائے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔ اب اس کرایہ دار نے اپنی درخواست عرفان اور رضوان کے سامنے رکھ دی۔ عرفان کا دل پسیج گیا اس نے کرایہ میں معمولی اضافہ کے ساتھ معاہدہ کی مدت مزید دوسال کے لیے بڑھا دی۔ کرایہ دار خوشی سے جھوم اٹھا۔ عرفان بھی خوش تھا وہ واپس خمیس مشیط اپنے مزرع پر آ گیا۔ شیخ جواد کو جب عرفان کی اس حرکت کا پتہ تلا تو وہ بہت ناراض ہوئے چونکہ وہ پٹرول پمپ چلانے کے اختیارات عرفان کو دے چکے تھے اس لیے انہوں نے اس میں مداخلت سے کسی طرح اپنے آ پ کو روک لیا لیکن اپنی ناراضگی نہ چھپا سکے ان کے خاندان میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ اولاد نے والدین کی نافرمانی کی ہو اور پھر عرفان جیسی متقی و پرہیز گار اولاد جس پر شیخ جواد اپنی جان چھڑکتے تھے جس پر وہ ناز کرتے تھے۔ اس نے ان کی نافرمانی کی تھی اس بات نے شیخ جواد کو غم گین کر دیا تھا۔

          شیخ جواد اپنے آبائی مکان میں بیٹھے سلطانہ کے ساتھ قہوہ پی رہے تھے کہ اچانک سلطانہ کو کوئی بات یاد آئی وہ اٹھی اور دوسرے کمرے کی جانب چلی گئی۔جب واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ریحان کے ششماہی نتائج تھے۔ سلطانہ نے بتلایا کہ ریحان ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گیا ہے نیز استانی کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو اسے تیسرا سال بھی اسی درجہ میں گذارنا ہو گا۔

          شیخ جواد نے متفکرانہ انداز میں پوچھا۔’’آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا تم اس کی تعلیم کی جانب توجہ نہیں دیتیں ؟‘‘

          ’’نہیں ایسی بات نہیں میں تو میں مرجانہ بھی اس کی تعلیم کی جانب پوری طرح متوجہ ہیں۔ لیکن کیا کریں اس کا دل ہی نہیں لگتا۔‘‘

          ’’اچھا۔‘‘ جواد نے کہا۔’’تو آخر کس کام میں اس کا دل لگتا ہے؟‘‘

          سلطانہ چند لمحہ خاموش رہی اور پھر اس نے کہا۔’’حقیقت تو یہ ہے کہ مویشیوں میں اس کا دل خوب لگتا ہے ان کو چرانا ان کی دیکھ ریکھ کرنا اسی میں وہ لگا رہتا ہے۔جب ہم زبردستی اسے کتاب پکڑاتے ہیں تو وہ رونے لگتا ہے یا سو جاتا ہے۔‘‘

          ’’اگر ایسا ہے تو کیوں نہ ہم اسے اسی کام میں لگا دیں۔ ‘‘

          یہ سنتے ہی سلطانہ کا پارہ چڑھ گیا وہ بولی۔’’کیا بات کرتے ہیں آپ اگر میں ہاں کہہ دوں تو آپ کل سے ریحان کو مویشیوں کے حوالے کر کے صفوان کو اسکول روانہ کر دیں گے۔‘‘

          شیخ جواد مسکرائے اور کہا۔’’ریحان کو مویشیوں کے حوالے کرنے والا بھلا میں کون ہوتا ہوں وہ تو خود ہی ان میں مست رہتا ہے اور جو دوسری بات تم نے کہی وہ بھی ٹھیک ہی ہے صفوان جب اسکول جاتا تھا اس وقت کبھی بھی فیل نہیں ہوا۔ کچھ مضامین میں تو وہ امتیازی نمبر حاصل کرتا تھا اور اس تبدیلی کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ صفوان اور ریحان کے درمیان ہونے والے لڑائی جھگڑے کا سلسلہ بھی بند ہو جائے گا۔‘‘

          شیخ جواد کی تجاویز سے سلطانہ چراغ پا ہو گئی اور بولی۔ ’’آپ ان کی لڑائی ختم کرا کے مجھ سے لڑنا چاہتے ہیں۔ میں سب جانتی ہوں آج بھی آپ شبانہ اور اس کے بیٹے صفوان کو مجھ سے اور ریحان سے زیادہ چاہتے ہیں۔ اسے گھر سے نکالنے کے لیے میں نے کیا کیا پاپڑ بیلے مرجانہ کو اس کی جگہ اپنے گھر لائی لیکن افسوس کہ اس سب کے باوجود اس منہ جلی کو آپ کے دل سے نہ نکال سکی۔ اب تو آپ اس کے بیٹے کو اسکول میں تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ نیز میرے بیٹے ریحان سے بکریاں چروانا چاہتے ہیں یہ تو حد ہو گئی۔‘‘

          بات بگڑتی دیکھ شیخ جواد نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی اور بولے۔ ’’دیکھو سلطانہ بات کا بتنگڑ نہ بناؤ۔ ریحان کی ناکامی پر فکر مندی کا اظہار تم نے کیا۔ اسے مویشیوں سے انسیت ہے یہ بات تم نے بتلائی۔ صفوان پڑھنے لکھنے میں اچھا ہے اس حقیقت سے تم خوب واقف ہو۔ ان دونوں کو ساتھ ساتھ مویشیوں کی دیکھ ریکھ پر نہیں لگایا جا سکتا اس لیے کہ ان میں آپس میں بنتی نہیں ہے اب ان تمام مسائل کا کیا حل ہے؟ تمہیں بتاؤ میں مان لوں گا۔‘‘

          سلطانہ بولی۔ ’’یہ دونوں نہیں لڑتے صفوان لڑتا ہے۔ جس طرح آپ مجھ سے لڑ رہے ہیں میں تو صفوان اور اس کے باپ دونوں سے پریشان ہوں۔ ‘‘

          ’’نہیں سلطانہ نہیں۔ تمہاری پریشانی کی وجہ نہ تو صفوان ہے اور نہ میں ہوں بلکہ ریحان اور اس کی ناکامی ہے لیکن تم اصل مسئلہ سے نظریں ہٹا کر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہو۔ اگر ریحان بار بار ناکام نہ ہوتا تو یہ بکھیڑا ہی کھڑا نہ ہوتا۔ لیکن تم ان حقائق سے آنکھیں چرانا چاہتی ہو اس لیے کہ ریحان تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔‘‘

          سلطانہ نے لپک کر کہا۔ ’’ہاں ضرور ہے کیوں نہ ہو؟ آپ کو بچوں سے کوئی سروکار ہے ہی نہیں۔ اور میرے ریحان سے تو خدا واسطے کا بیر ہے۔بس صفوان کو اسکول بھیجنے کی فکر ستاتی رہتی ہے تو ٹھیک ہے کل سے یہی ہو گا صفوان کو اسکول روانہ کیا جائے گا اور ریحان کو جانوروں کے ساتھ ان کے باڑے میں جھونک دیا جائے گا۔ اگر آپ اسی سے خوش ہیں تو ایسا ہی ہو گا۔‘‘

          شیخ جواد نے بالآخر سپر ڈال دی اور کہنے لگے ’’دیکھو سلطانہ بلاوجہ غصہ نہ کرو ریحان کو مویشیوں میں رکھنا یہ میری نہیں اس کی اپنی خواہش ہے۔ لیکن پھر بھی تم ایک اور کوشش کرو کہ اس کا دل پڑھائی میں لگ جائے۔میں نے کب منع کیا ہے بلکہ میں تو ہر طرح سے اپنا تعاون پیش کرتا ہوں۔ مجھے بتاؤ اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں۔ ‘‘

          سلطانہ بھی نرم پڑی اور بولی۔ ’’ریحان بچہ ہے وہ اپنے مستقبل کا فائدہ نقصان نہیں جانتا لیکن ہم تو جانتے ہیں وہ سوچ نہیں سکتا تو کیا ہوا ہم تو سو چ سکتے ہیں۔ ایسے میں ہم اسے مویشیوں کے حوالے کیسے کر سکتے ہیں ؟‘‘

          ’’جی ہاں سلطانہ تم سچ کہتی ہو۔‘‘ شیخ جواد نے تائید کی اور بولے۔’’لیکن یاد رکھو ریحان ہی کی طرح صفوان بھی بچہ ہے وہ بھی ہماری اولاد ہے اور اس کا بھی مستقبل ہے۔‘‘سلطانہ کے پاس شیخ جواد کی اس بے بسی کا کوئی جواب نہ تھا۔

          اگلی مرتبہ جب شیخ جواد نے جیزان کی جانب رختِ سفر باندھا تو مرجانہ بھی تیار ہو گئی۔ کئی دنوں سے رخسانہ سے ملاقات نہ ہوئی تھی رضوان گھر آیا ہے اس سے بھی ملنا تھا۔ شیخ جواد نے مرجانہ کو ساتھ لے لیا۔ مرجانہ اور رخسانہ ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ رضوان کے ساتھ مرجانہ کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ مرجانہ نے تعلیم کے بارے میں پوچھا اور یہ پتہ چلنے پر کہ آخری سال کا امتحان ہو چکا مستقبل کا منصوبہ دریافت کیا۔ اس سوال نے رضوان کو افسردہ کر دیا وہ بولا۔’’چھوٹی امّی تعلیم ختم کرنے کے بعد میں صنعت کار بننا چاہتا ہوں جیزان شہر میں اس کے امکانات ناپید ہیں۔ میں اس کے لیے ینبع جانا چاہتا ہوں لیکن امی منع کرتی ہیں وہ کہتی ہیں گھر سے دوری بہت ہو چکی اب یہیں رہو کاروبار کرو اور گھر بساؤ۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتا۔ ‘‘

          مرجانہ نے پوچھا۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس بارے میں آپ کے بابا کیا کہتے ہیں ؟‘‘

          ’’بابا کیا کہیں گے آپ تو میری امی سے واقف ہیں ان کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ بابا کی بھی نہیں۔ انہوں نے امی کی تائید کرتے ہوئے مجھے ہوٹل کا کاروبار کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

          ’’ہوٹل؟‘‘ مرجانہ نے تعجب کا اظہار کیا۔

          ’’ہاں امی ہوٹل۔ ‘‘ رضوان نے کہا۔’’جیزان میں سیر و تفریح کے لیے دنیا بھر سے سیلانی آتے ہیں بابا کو لگتا ہے یہاں ہوٹل کا کاروبار خوب چل سکتا ہے اگر قاعدے سے کیا جائے۔‘‘

          ’’لیکن تمہاری انجینئرنگ؟‘‘ مرجانہ نے پوچھا۔

          ’’وہی تو میں کہتا ہوں اگر یہی جاہلوں والا کام کرنا تھا تو مجھے پڑھایا لکھایا کیوں گیا۔ کیوں انجینئر بنایا گیا۔ امی آپ نہیں جانتیں میں نے ہر سال امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی ہے میں کالج میں ایک ہونہار طالب علم کی حیثیت سے جانا جاتا ہوں۔ ‘‘

          ’’کیا تمہاری امی اس بات سے واقف نہیں ؟‘‘ مرجانہ نے پوچھا۔

          ’’وہ خوب جانتی ہیں۔ ‘‘رضوان بولا۔ ’’لیکن ان کے لیے وہ کامیابی محض خاندان والوں اور محلے والوں پر فخر جتانے کی شئے ہے اور وہ اس کا بھرپور استعمال کرتی ہیں۔ لیکن میرے مستقبل میری پسند اور ناپسند کے بارے میں نہیں سوچتیں۔ ‘‘

          مرجانہ خود جدید تعلیم سے آراستہ خاتون تھیں۔ اس کا تعلق بھی رضوان کی نسل سے تھا۔اس لیے وہ رضوان کے کرب کو محسوس کرتی تھی۔ مرجانہ نے رضوان کو یقین دلایا کہ وہ اس بارے میں شیخ جواد سے بات چیت کرے گی اور انہیں رضوان کا موقف سمجھانے کی کوشش کرے گی۔ ‘‘

          مرجانہ کی اس یقین دہانی سے رضوان وقتی طور پر خوش ہو گیا۔ لیکن اس کا دل کہتا تھا کہ مرجانہ بے چاری کیا کر لے گی؟ جہاں رخسانہ جیسی دبنگ شخصیت موجود ہو اور بڑوں کی بات نہ ماننا گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا ہے مرجانہ بے چاری کر بھی کیا سکتی ہے؟ لیکن پھر بھی اُمید کا ایک ٹمٹماتا چراغ ضرور روشن ہوا تھا۔

          دیکھتے دیکھتے ہفتہ گذر گیا۔ مرجانہ کو رضوان کے بارے میں گفتگو کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ جیزان سے خمیس مشیط کے راستے ہی میں مرجانہ کا میکہ تھا۔ اس نے درخواست کی کہ اگر مناسب سمجھیں تو مجھے ایک ہفتے کے لیے اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ دیں اور واپسی میں اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ ‘‘

          شیخ جواد نے مرجانہ کی تائید کی اور دوپہر تک اس کے میکے جا پہنچے۔ کھانے کے بعد مرجانہ کو رضوان کے بارے میں بات کرنے کا موقع مل گیا۔ مرجانہ بولی۔

     &nbs