کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کریڈٹ کارڈ

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

کھلونا دے کے بہلایا گیا ہوں

                                                          (شاد عظیم آبادی)

         

 

          گزرے زمانے میں سود خور مہاجن کس طرح قرض داروں کا خون چوستے تھے اور کس طرح قرض دارسود دیتے دیتے اپنی زندگی ختم کر دیتے تھے یہ قصے کتابوں میں بھرے پڑے ہیں۔ اب جب کہ ہم جمہوریت اور آزادی کی بات کرتے ہوئے خوش ہوتے ہیں تو کیا وہ زمانہ بیت گیا ہے۔ کیا واقعی اب کوئی کسان سود کی وجہ سے خودکشی نہیں کرتا؟لیکن نظام میں تو بہت تبدیلی آ چکی ہے۔مہاجنوں پر شکنجہ کسنے کے لیے بینک نظام کو مستحکم کیا گیا۔ اب تو زمانہ اے ٹی ایم، ڈیبٹ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ زندگی کو تابناک بنانے کا ہے۔ لیکن کیا واقعی اب سب کچھ اتنا ہی آسان اور اتنا ہی اچھا ہو گیا ہے۔

رشید کی عمر ۵۰کو تجاوز کر گئی تھی۔زندگی کے ان پچاس سالوں میں دنیا کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اب اس کی کمر بھی دہری ہو چکی تھی۔ تیس سال پہلے جب نوکری نہ ملنے کی امید کے بعد بوجھا اٹھانے کا کام شروع کیا تھا تو اسے زندگی کی رعنائیوں کا زیادہ پتہ بھی نہ تھا۔اس کی تمام تر کمائی گھر کے اخراجات اور ماں باپ کی دوا میں ہی صرف ہو جاتی جو کچھ جوڑتا اس سے بہنوں کی شادی کرنے کی خواہش ہلورے لینے لگتی۔ جیسے تیسے اس نے اپنی تین بہنوں کی شادیاں کیں۔ اپنی شادی کا خیال جب تک آیا تو اسے احساس ہوا کہ گنگا میں کافی پانی بہہ چکا ہے۔

بہر حال ایک غریب گھرانے کی بیٹی اس کی قسمت میں لکھی ہی تھی سو ا س کی شادی بھی ہو گئی اور اولاد سے بھی جھولی بھر گئی۔ لیکن عمر کا بڑا حصہ تو پہلے ہی گزر چکا تھا۔ باقی مشکلات میں بیوی کی روز بہ روز خراب ہوتی طبیعت نے خاصہ اضافہ کر دیا تھا۔ قرض لیتے لیتے اس کی پوزیشن اتنی خراب ہو چکی تھی کہ اب اسے کوئی قرض تک دینے کو تیار نہ تھا۔

بیوی کا علاج کیسے کرائے اسی پریشانی میں گُم وہ چارپائی پر لیٹا ہوا تھا کہ اچانک دروازہ پر دستک ہوئی۔ وہ چونک اٹھا۔ آج اس کے دروازہ پر کون آگیا۔ بچے تھے نہیں سو  خود ہی اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔

’’سر کیا آپ کو روپئے کی ضرورت ہے ؟‘‘

رشید نے دیکھا کہ ایک سوٹیڈ بوٹیڈ نوجوان چمڑے کا بیگ سنبھالے اس کے دروازہ پر کھڑا اس سے سوال کر رہا ہے۔

’’آپ کون‘‘ رشید نے پوچھا۔

’’سر آپ کو رقم کی ضرورت ہے ‘‘ نوجوان نے پھر اپنا سوال دہرایا۔ رشید کو اچھا لگا کہ آج اسے اتنی عزت سے کوئی سر کہہ کر پکا ر رہا ہے۔اس نے بشاش لہجے میں کہا ’’رقم کی ضرورت کسے نہیں ہوتی‘‘ ۔’’تو آپ کو روپئے چاہیے‘‘ ۔ نوجوان چہکا۔

اچانک رشید کو لگا کہ نوجوان کوئی چھلاوا ہے اس کے دل میں آیا کہ منع کر دے لیکن اس کے منھ سے بے اختیار نکلا ’’ہاں ‘‘

’’گڈ-تو آ پ مجھے اندر آنے دیں۔‘‘

نوجوان سدھے قدموں سے چلتا بے جھجھک رشید کے گھر میں داخل ہو گیا اور اس کی کھاٹ پر براجمان ہو گیا۔اس نے اپنے بیگ کو گھٹنے پر ٹکایا اور اس میں سے کچھ کاغذ نکال کر رشید کی طرف بڑھائے۔ ’’اس پر دستخط کر دیں۔‘‘

’’آپ مجھے واقعی روپئے دیں گے؟‘‘ رشید نے پر تجسس لہجے میں پوچھا اور جلدی سے دستخط کر کے کاغذ لوٹا دیئے۔

’’کیوں نہیں ‘‘ نوجوان نے جواب دیا۔ اور اس کی طرف ایک چھوٹے سائز کا چمکدار کارڈ بڑھا دیا۔’’یہ کریڈٹ کارڈ ہے۔ اسے رکھ لیں۔ جہاں بھی خریداری کرنی ہو اسے استعمال کریں یہ کھرے نوٹ کی طرح چلے گا۔‘‘  نوجوان نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ رشید کو کریڈٹ کارڈ پکڑا دیا۔

رشید کو خیال آیا کہ بیوی کو ڈاکٹر کو دکھانے کے لیے اسے رقم چاہیے تھی۔اس نے معصومیت کے ساتھ نوجوان سے پوچھا۔

’’کیا ڈاکٹر بھی اسے لے گا۔‘‘

’’اگر نہ بھی لے تو اے ٹی ایم سے جا کر رقم نکال لینا اور ڈاکٹر کے منھ پر مار دینا۔‘‘

’’لیکن میرا تو بینک کھاتہ خالی پڑا ہے روپئے کیسے نکالوں گا۔‘‘ رشید ایک بارگی پھر مایوس ہو گیا۔

’’فکر نہ کریں جناب آپ ہر من اسپتال میں ڈاکٹر کو دکھائیں۔ وہاں آپ کو ڈاکٹر کو دکھانے سے لے کر دوائیاں لینے تک تمام کام اسی کریڈٹ کار ڈ سے نبٹ جائیں گے۔اور ہاں آپ ٹینشن بالکل نہ لیں۔آ پ کی بیوی کے صحت یاب ہوتے ہی ہم آپ سے خود آ کر رقم وصول کر لیں گے۔ ‘‘ کہتے کہتے دونوں کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔

رشید کو تو کریڈٹ کارڈ کے روپ میں رقم کا بندوبست ہو گیا تھا اس لیے اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی تھی لیکن نوجوان کی آنکھیں کیوں اس قدر چمکیں یہ وہ نہیں سمجھ پایا۔

کریڈٹ کارڈ نے تو واقعی کمال کر دکھایا تھا۔اسپتال میں ہر جگہ اسی کے ذریعہ رشید نے بلوں کی ادائیگی کی۔ کچھ ماہ کے علاج کے بعد اس کی بیوی ٹھیک ہونے لگی۔ ایک دن گھر بیٹھے وہ بیوی سے کریڈٹ کارڈ کے بارے میں باتیں کرنے میں مشغول تھا کہ تبھی دروازہ پر ہوئی دستک نے اسے چونکا دیا۔

اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو اس کے چہرے کی مسکراہٹ تیز ہو گئی۔

دروازہ پر وہی فرشتہ صفت نوجوان کھڑا تھا۔ لیکن آج وہ بشاش نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے اندر آتے ہی مطلب کی بات شروع کر دی۔’’آپ کے کریڈٹ کارڈ کا بل دو ہزار روپئے آیا ہے۔ اسے ادا کر کے قرض سے فراغت حاصل کر لیں۔‘‘ اتنا سنتے ہی رشید کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

’’لیکن میرے پاس تو اتنے روپئے نہیں ہیں۔‘‘

’’کوئی بات نہیں اس ماہ اس کا سود چکا دیں۔ باقی آگے وصول کر لیے جائیں گے۔‘‘

’’سود کی رقم کتنی دینی ہو گی ‘‘ ۔ ’’محض بیس روپئے۔‘‘  اس نے رشید کو بتایا۔

’’رشید نے خوشی کے ساتھ بیس روپئے نوجوان کودے دیئے۔

’’کیا یہ کارڈ بھی واپس کرنا ہو گا۔‘‘  رشید کا دل پھر اداس ہونے لگا تھا کیونکہ کارڈ نے تو ا س کے لیے جادو جیسا کام کیا تھا۔

’’نہیں -نہیں -آپ اس کا استعمال جاری رکھیں۔ ہم ہیں نہ۔‘‘

نوجوان کی بات نے رشید کو بڑی ہمت بندھائی تھی۔

یہ ایک منحوس دن تھا کہ بیوی کی بیماری ٹھیک ہوتے ہی وہ ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگا بیٹھا تھا۔ ایک مسافر کا بوجھ اٹھاتے ہوئے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آ گئی تھی۔ وہ نہ صرف بستر پر پڑ گیا تھا بلکہ درد کی شدت سے اس کا برا حال تھا۔ اسے کسی بھی طرح سکون نہیں مل رہا تھا۔ اس نے بیوی کو ہرمن اسپتال چلنے کی ہدایت کی۔

جنرل وارڈ میں لیٹے ہوئے اسے جسم کے درد سے زیادہ ذہن کے درد نے پریشان کر رکھا تھا۔ ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کر کے آپریشن کرانے کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ آپریشن کے لیے دو لاکھ روپئے جتنی بڑی رقم کہاں سے لائے گا۔ یہی سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہوا جا رہا تھا۔

اچانک اس کی بیوی نے کہا ’’کریڈٹ کارڈ سے زیادہ روپئے نکالنے کی ترکیب اس نوجوان سے کیوں پتہ نہیں کر لیتے۔‘‘ رشید کی آنکھیں بھی اچانک چمک اٹھیں۔ اس نے بیوی کو نوجوان کا فون نمبر دیتے ہوئے اسے بلانے کی ہدایت دی۔

محض آدھے گھنٹے میں ہی نوجوان اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اسپتال میں حاضر تھا۔’’رقم نکالنے کی لمٹ تو بڑ ھ جائے گی لیکن آپ کو سود کی رقم کچھ زیادہ دینی ہو گی۔‘‘ نوجوان نے رشید کو آگاہ کیا۔ لیکن جیسے رشید یہ باتیں سن ہی نہ سکا۔ اس نے فوری طور پر نوجوان کی تمام تر شرائط قبول کرنے پر رضامندی کا اظہار کر دیا تھا۔

صحت مند ہو کر رشید گھر آچکا تھا اور اب وہ کوئی ایسا کام کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اسے بوجھا نہ اٹھانا پڑے۔ دراصل اسے خوف ستا رہا تھا کہ کہیں دوبارہ اسے چوٹ نہ لگ جائے۔اسی ادھیڑ بن میں وہ کھاٹ پر لیٹا ہوا تھا کہ دروازہ پر دستک سن کر وہ اٹھا اور سامنے فرشتہ صفت نوجوان کو دیکھ کر وہ مسکرا دیا۔لیکن نوجوان نے رقم کا مطالبہ کر کے اس کے سکون میں کنکری ماردی۔

’’جناب آ پ کو صحت یاب ہونے پر مبارک باد‘‘ نوجوان نے رشید کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’اب آپ ۵۔۲لاکھ روپئے کی رقم چکا کر قرض سے فراغت حاصل کر لیں تو بہتر رہے گا۔‘‘

’’لیکن میرے پاس تو اتنے روپئے نہیں ہیں۔‘‘

’’کوئی بات نہیں آپ پانچ ہزار روپئے سود کے ہی جمع کر دیں۔‘‘

’’لیکن یہ تو بہت زیادہ ہیں۔‘‘ رشید گھٹی گھٹی آوا ز میں بولا۔

’’تو آپ پوری رقم ایک بار میں چُکتا کر کے فارغ کیوں نہیں ہو جاتے۔‘‘  نوجوان کا لہجہ تلخ ہو گیا تھا۔’’دیکھئے ضرورت کے وقت تو کوئی نہیں سوچتا کہ سود زیادہ ہے لیکن جب دینے کا وقت آتا ہے تو سبھی یہی کہتے ہیں۔‘‘

رشید نے کسی طرح بیوی سے جھاڑ پونچھ کر ’’پانچ ہزار ‘‘ روپئے تو چکا دیئے لیکن اسے اب سمجھ آگیا تھا کہ وہ کسی جال میں بری طرح پھنس گیا ہے اور اب محض پھڑ پھڑانے کے کچھ نہیں کر سکتا۔

رشید ابھی اس جھٹکے سے ٹھیک طرح سے اُبرا بھی نہیں تھا کہ اچانک اس کی بیوی اس کا ساتھ چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملی۔ رشید غم سے نڈھال ہو گیا۔ اس کے بچے اس سے لپٹ کر رو رہے تھے اور وہ اس فکر میں مبتلا تھا کہ اب کیسے وہ آگے کی زندگی کو گزارے گا۔

گھر کے باہر بیٹھا رشید ابھی تک بیوی کے غم سے نڈھال مستقبل کی فکر میں ہی غوطہ زن تھا تبھی کسی نے اس کو آواز دی۔ اس نے سراٹھایا تو وہی نوجوان بنا کسی مسکراہٹ کے اس کے پاس بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر تو رشید کی جان ہی  نکل گئی۔

نوجوان نے اسے دلاسہ دیا۔’’مجھے آپ کی بیوی کی موت کا بے حد افسوس ہے ‘‘ ۔’’لیکن ہونی کو تو کوئی نہیں ٹال سکتا۔‘‘

جلد ہی وہ اپنے اصل مطلب پر آگیا ’’ویسے میں وصولی کے لیے آیا تھا اگر آپ رقم جمع کرا دیتے تو …‘‘

’’لیکن میرے پاس تو اب اتنے روپئے نہیں ہیں ‘‘

’’کوئی بات نہیں آپ سود ہی جمع کر دیجئے۔‘‘

’’سچ کہتا ہوں میرے پاس سود لائق بھی رقم نہیں ہے۔‘‘

’’دیکھئے سود کی ادائیگی کے بغیر تو چھٹکارا ممکن نہیں۔ ‘‘  …’’بیوی  کا تو کچھ زیور وغیرہ ہو گا۔ اسی کو فروخت کر دیں۔ ویسے بھی وہ اب آپ کے کس کام کا ہے۔‘‘ نوجوان نے بے حد سخت لیکن سمجھانے والے انداز میں کہا۔

رشید کو اب سمجھ آ چکا تھا کہ کریڈ ٹ کار ڈ نامی ماڈرن مہاجن نے اسے بڑے شائستہ انداز میں لوٹ لیا ہے۔ انگریزوں نے بھی تو ہندوستانیوں کو چائے مفت پلا کر ہی  چائے کا شوقین بنایا تھا۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا جب چڑیا چگ گئی کھیت۔

اور اس طرح وقت گزرتا گیا۔ رشید گھر کی کوئی نہ کوئی چیز فروخت کر کے کریڈٹ کارڈ کا سود چکا تا رہا۔ سود چکاتے چکاتے اس کی اولاد بھی اب بڑی ہو چکی تھی لیکن قرض تھا کہ سُرسا کی ناک کی طرح ختم ہی نہیں ہوتا تھا۔

سود چکاتے چکاتے ایک دن رشید بھی دنیا ے فانی سے کوچ کر گیا۔ گھر کے تمام سامان کو وہ فروخت کر چکا تھا۔ لیکن اس کی موت کے غم کے ساتھ ساتھ اس کے بچوں کو ایک سکون ضرور تھا۔کہ ان کا دو کمروں کا چھوٹا سا مکان ابھی بچ گیا تھا۔ رشید جلدی ہی موت کے آغوش میں چلا گیا تھا ورنہ تو سود کی ادائیگی میں اس کا مکان بھی فروخت ہوہی جانا تھا۔ پھر بھلا بچوں کو کیا ملتا۔

٭٭٭