کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

Peaceful Co-existence

سید اسد علی


اگر سکون ایک خو بصورت ست رنگے پھول کا نام ہے تو یہ پھول اس گاؤں کے ہر کھیت میں اگے تھے ،ہر درخت ان کی خوشبوؤں سے مہکتا تھا اور گاؤں کی ہر لڑکی انہیں اپنے جوڑے میں لگائے پھرتی تھی۔ یہ گاؤں ، یہ زندگی،ریحان کے لئے بڑا مختلف تجربہ تھی۔ یہاں آ کر اسے محسوس ہوا کہ اس نے ساری عمر جھک ماری ہے ۔ زندگی جیسے کوئی شاہکار فلم تھی اور وہ اسے Fast forwardمیں دیکھتا رہا تھا۔ وقت جو شہر میں ایک چھلاوہ تھا یہاں سیڑھیاں چڑھتے بوڑھے میں بدل گیا تھا جو ہر سیڑھی پر کئی لمحے سستا کر اپنی سانس درست کرتا تھا۔ یہاں چیزیں بہت سیدھی سادھی تھیں لیکن ان کے پیچھے عقل دنگ کر دینے والی ماورائیت تھی۔

اندھیرا رخصت ہونے سے پہلے چچا قربان علی اٹھ بیٹھتے ۔ نماز پڑھتے ،نہا دھو کر تیار ہوتے تو چچی چائے کے ساتھ پراٹھے تیار کر کے بیٹھی ہوتیں ۔ وہ دونوں وہیں صحن میں چچی کے پاس بیٹھ کر ناشتہ کرتے ۔ چچا خاموشی اور آہستگی سے کھانا کھاتے اور اس بیچ کوئی باتیں بھی نہیں کرتے تھے ۔ چچی بس انہیں پیار بھری نظروں سے دیکھتی رہتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظریں جن سے کبھی اس نے اپنی ماں کو دیکھتے نہیں پایا تھا۔ نظریں جن سے اس کی ماں کبھی دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔

ناشتے کے بعد چچا قربان علی اپنے بیلوں کی طرف چلے جاتے ۔ وہ ان بیلوں کے آگے چارہ ڈالتے ،انہیں تھپتھپاتے اور ہل میں جوتے جانے تک ان سے باتیں کرتے جاتے ۔ مگر یہ باتیں سرگوشیوں میں ہوتیں ۔ اتنا کہ ریحان بہت قریب جانے پر بھی انہیں سن نہیں پاتا۔ باتوں کے بیچ بیل ایسے سر ہلاتے رہتے جیسے سب سمجھ رہے ہوں ۔

ایک دن ریحان نے پوچھ ہی لیا کہ وہ بیلوں سے کیا باتیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے مسکرا کر دیکھا مگر خاموش رہے ۔ پر ان کی خاموشی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ ایسے لایعنی سوال کا فائدہ؟اب کوئی بھلا ہر روز ایک بات تو کرنے سے رہا۔ باتیں تو بہت سی ہو سکتی ہیں جیسے

’’گئی رات ہوا میں ایسی پردیسی خوشبو تھی جیسے کوئی فرشتہ کائنات کے لامتناہی فاصلے طے کرتا ہوا پل بھر کو یہاں آ ٹھہرا ہو۔

صبح سے پہلے جھینگر تھک کر خاموش ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لگتا ہے بوڑھا ہو گیا ہے ۔

ایک ستارا جو پہلے نہیں تھا اور اب ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟‘‘

تو اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں تھا۔ اور جب ہم کوئی جواب نہیں ڈھونڈ پاتے تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صحیح جواب پانے کے لئے صحیح سوال کرنا بڑا ضروری ہوتا ہے ۔

قربان علی بیلوں کی جوڑی کو لے کر باہر نکلتے تو کتا کبھی ان کے ساتھ نہ ہوتا۔ وہ جو ساری رات جاگا تھا اب دوپہر تک اپنے کونے میں اونگھے گا اور دوپہر کو جب چچی کھانا لے کر جائے گی تو یہ بھی دم ہلاتا ان کے ساتھ آئے گا۔

چچا گھر سے نکلتے تو خنک ہوا تیزی سے ان کے جسم سے آ ٹکراتی۔ ان کا جسم ہلکی سی جھرجھری لیتا اور ساتھ ہی جیسے ان کی ساری کسلمندی دور ہو جاتی۔ وہ آہستگی سے کوئی صوفیانہ کلام پڑھنے لگتے ۔ پنجابی کی وجہ سے ریحان اس سب کا مطلب تو نہ سمجھ پاتا مگر وہ لے اسے بہت اچھی لگتی۔ وہ کلام پڑھتے رہتے اور جیسے بیل بڑی متوازن رفتار سے چلنے لگتے ۔ ان کے گلے کی گھنٹیاں بڑی خوبی سے کلام سے مل جاتیں اور پھر ایک پرندہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیوں مگر ریحان کو یقین تھا کہ وہی ایک پرندہ روز چچا کے ساتھ اڑتا تھا اور اپنی خوبصورت آواز سے کلام کے بیچ بولتا رہتا۔

پگڈنڈی ناہموار تھی۔ اونچے نیچے اور کٹے پھٹے راستوں پر چلنے میں ریحان کو بڑی دقت ہوتی مگر چچا جیسے آنکھیں بند کئے وہاں چلتے رہتے ۔ ایسے میں پگڈنڈی پر نیچے اترتے ہوئے ان کی آواز تیز ہو جاتی اور واپس چڑھتے ہوئے تھوڑی آہستہ۔ لیکن کلام پڑھنے کا سلسلہ نہ رکتا اور وہ کھیت پر پہنچ جاتے ۔ ریحان بھی ان کے ساتھ ہل پر کھڑا ہو جاتا اور وہ دونوں باتیں کرتے کرتے ہل چلاتے رہتے ۔

جب وہ کھیت کا پہلا چکر لگا کر لوٹتے تو دور درختوں کی اوٹ سے سورج کے زرد گولے کی پہلی جھلک دکھائی دیتی۔ پرندوں کے غول کے غول نظر آتے جو درختوں کے جھنڈ سے گاؤں کی طرف اور دوسری بستیوں کی طرف جا رہے ہوتے ۔

ریحان کچھ چکر لگانے کے بعد کھیت سے باہر آ جاتا اور ایک پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا۔ یہاں اس کے سامنے ایک چھوٹا جوہڑ تھا جس کی سطح پر اتنی کائی جمی تھی کہ وہ سبز دکھائی دیتی تھی۔ اس میں نرسل کے پودے تھے اور کبھی کبھار کچھ مرغابیاں بھی بیٹھی نظر آتیں ۔ جوہڑ کے کنارے سے لمبی ٹانگوں والے مینڈک ایک تواتر سے چھلانگیں مارتے نظر آتے اور اس وقت اتنے ہی مینڈک رینگتے ہوئے کناروں سے نکلتے بھی دکھائی دیتے ۔ اس جھیل کے مینڈکوں میں بھی ایک توازن تھا۔

اور پھر کبھی کبھار جوہڑ کے عین بیچ میں ہلچل ہوتی اور کوئی شئے اپنا سر ہلکا سا باہر نکالتی۔ وہ کوئی مچھلی ہوتی،مینڈک یا سانپ ریحان کبھی نہ جان پاتا۔ وہ بس خاموشی سے جوہڑ، اس کے پیچھے پھیلے کھیتوں اور افق کو گھیرے درختوں کو دیکھتا رہتا۔

ایک درخت البتہ ہر مرتبہ اس کی توجہ حاصل کر لیتا۔ یہ بوہڑ کا ایک بڑا درخت تھا۔ اتنا بڑا کہ اس کے نیچے ایک پورا خاندان رہ سکتا تھا۔ سورج ذرا اوپر اٹھتا تو سینکڑوں پرندے اس درخت پر پہنچ جاتے ۔ اور پھر سارا دن ننھی ننھی چڑیاں ایک شاخ سے دوسری شاخ تک پھدکتی پھرتیں ،چھوٹی گلہریاں بڑی سرعت سے درخت پر چڑھے جاتیں ،کوے جو بڑے تجسس سے اسے دیکھتے رہتے اور پھر ایک بڑا سانپ نمودار ہوتا جو درخت کی باہر کو نکلی ہوئی ایک موٹی شاخ پر گھنٹوں دھوپ سینکا کرتا۔ ہر شئے ایک خوبصورت توازن میں تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب کچھ ایک peaceful co-existenceکے افسوں میں ٹھہرا تھا۔

ریحان ہر لمحہ یہ سوچتا کہ چچا کتنے خوش نصیب ہیں ۔ اس زندگی کے سامنے اسے اپنے باپ کی بڑی نوکری،شہر کا بنگلہ،نوکر چاکر سب ہیچ لگتے ۔ اسے لگتا جیسے ابھی کل کی بات ہو کہ انہی پگڈنڈیوں پر دو بچے بھاگتے ہوئے سکول کو جاتے تھے ۔ ایک اپنی جماعت کا سب سے لائق لڑکا تھا اور دوسرا نہایت کند ذہن۔ وہ دونوں بھائی تھے مگر ایک دوسرے سے اتنے مختلف کہ ہر دیکھنے والا حیران رہ جاتا تھا۔ حیران نہیں تھے تو ان کے ماں باپ۔ وہ بڑی مطمئن لوگ تھے ۔ اس مٹی کی سچی پیداوار تھے ۔ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہر روح اپنی قسمت لے کر آتی ہے ۔

وہ دونوں اپنی اپنی زندگی میں خوش تھے پر ذہین لڑکا دوسرے کو ایسی نگاہوں سے دیکھتا جیسے وہ کمتر ہو۔ وہ اسے علم کی بڑی بڑی باتیں بتاتا(جن پر دوسرا نہ مرعوبیت کا اظہار کرتا اور نہ تجسس کا کہ وہ سمجھتا تھا کہ خوش رہنے کے لئے سب کچھ جاننا ضروری نہیں ہے ۔ وہ بلہے شاہ کی کافیاں پڑھتا اور اسے جیسے سب کچھ مل جاتا)۔ اور وہ علم کی باتیں اسے ایسے نہیں بتاتا جیسے پہاڑ سے اترنے پر زرتشترا نے بتائی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محبت اور خلوص میں گندھی باتیں ۔ نہیں وہ تو ایسے بولتا جیسے اپنے علم کی خیرات نکالتا ہو۔ ایسا کرتے ہوئے اس کے دل میں اپنے بھائی کے لئے وہی تحقیر ہوتی جس سے لوگ سڑک کنارے کھڑے فقیروں کو دیکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں وہ انہیں بھیک دے دیتے ہیں ۔ مانا کہ ان کی دریا دلی کی بدولت ان غریبوں کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں ۔ پر یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کھانا کھاؤ تو چند ذرے زمین پر گر جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذرے جنہیں گرنے سے روکنا شاید آپ کے اختیار میں بھی نہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ گر جائیں اور اردگرد رینگتے کیڑے انہیں کھانے کو لپکیں ۔ اب آپ کو مکمل آزادی ہے کہ انہیں اپنے جوتے سے مسل دیا جائے یا پھر چھوڑ دیا جائے ۔ آپ آزاد ہو۔ چاہو تو کچھ بھی کر سکتے ہو۔ آپ چاہو تو ہر بار انہیں کچل سکتے ہو لیکن آپ ایسا کرو گے نہیں کیونکہ پھرتو یہ ایک میکانکی عمل بن جائے گا۔ آزادی رخصت ہوئی تو یہ پر لطف pastimeایک مشقت میں ڈھل جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں قسمت کے کھیل کا اپنا مزا ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں اپنا آپ بہت طاقتور محسوس ہوتا ہے ۔ فرعون کی طرح وہ سمجھتے ہیں کہ گویا زندگی دینے اور لینے پر قادر ہو چلے ہیں ۔

اور آزادی تو کیڑے مکوڑوں کے لئے بھی ہے ۔ وہ چاہیں تو خوراک پر لپکیں اور قسمت کی بازی کھیل لیں اور چاہیں تو اپنے کونے میں بھوک سے سسک سسک کر دم توڑ دیں ۔ آزادی ان کم مایہ ہستیوں پر بھیانک عفریت کی صورت وارد ہوتی ہے اور وہ شکریے کے ساتھ اسے واپس لوٹا دیتے ہیں ۔ وہ ہر بار خوراک پر لپکتے ہیں ۔ انہیں مسل دیا گیا تو گویا قصہ ختم ہوا اور بچ گئے تو جینے کے لئے اگلی بازی تک مہلت مل جاتی ہے ۔

تو وہ لڑکا بھی اپنے بھائی کو تحقیر سے دیکھتا رہا اور یہی حقارت وہ اپنے ساتھ شہر بھی لے گیا۔ جیسے جیسے وہ ترقی کی منازل طے کرتا رہا ویسے ویسے اسے اپنا بھائی چھوٹا نظر آنے لگا اور پھر ایک وقت آیا جب اس نے گاؤں میں آنا ہی چھوڑ دیا۔ آج برسوں کے بعد اس نے اپنے بیٹے کو مجبوراً یہاں آنے کی اجازت دی تو محض اس لئے کہ وہ اپنے باپ کی کامیابی کو سمجھ سکے کہ کیسے چھوٹے سے گاؤں کا ایک لڑکا اتنا بڑا افسر بن گیا۔ مگر لڑکا باپ سے مختلف تھا۔ وہ جو Development Economicsکو ٹھنڈے ائرکنڈیشنڈ کانفرنس رومز کی بجائے گاؤں کے کسان کے ساتھ ہل پر کھڑا ہو کر سمجھنا چاہتا تھا وہ اپنے باپ کی نظر سے بھلا کیسے دیکھ پاتا۔ وہ اپنے چچا کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ بچپن میں وہ لوگ اپنے دادا،دادی کو ملنے گاؤں آتے تو وہ ان کے بیٹے رحمت کے ساتھ بہت کھیلتا تھا۔ مگر دادا، دادی کے مرنے کے بعد وہ لوگ یہاں بہت کم آئے تھے اور رحمت کی موت کے بعد تو کبھی بھی نہ آئے تھے ۔ پر اب جو اس نے چچا کی زندگی کو قریب سے دیکھا تو اسے لگا کہ یہ زندگی اس کے بابا کی زندگی سے بہت بڑی تھی۔

دوپہر کو کتا بھاگتا ہوا آتا اور چچا قربان علی کے گرد گھومنے لگتا۔ ریحان کی نظریں پگڈنڈی کی طرف اٹھ جاتیں جہاں چچی کھانا لے کر آ رہی ہوتیں ۔ وہ دونوں بڑی رغبت سے کھانا کھاتے اور پھر وہیں درخت کے نیچے سستانے کو لیٹ جاتے ۔ چچا ہلکی سی غنودگی میں چلے جاتے جبکہ وہ آسمان پر اڑتے دو باز دیکھتا رہتا جو ہوا میں نا سمجھ میں آنے والے patternsمیں اڑتے تھے ۔ کبھی کبھار ان میں سے کوئی گولی کی طرح زمین پر لپکتا اور اپنی خوراک(جو اکثر جنگلی چوہا یا چڑیا ہوتی)کو جھپٹ کر کسی اونچے درخت کی گنجی شاخ پر بیٹھ جاتے ۔ ریحان یہ منظر دیکھتا سو جاتا اور اس کی آنکھ کھلتی تو تب جب کتا کسی جنگلی جانور پر بر ی طرح بھونکتا۔

شام کو کھانے کے بعد وہ ایک بیٹھک میں بیٹھ جاتے ۔ حقہ پیتے (کش لگاتے ہوئے ریحان کو اکثر کھانسی آ جاتی) اور پھر کوئی بوڑھا پرانی کہانی لے بیٹھتا۔ رات ذرا گہری ہوتی تو سب گھروں کو چلے جاتے ۔ اور ریحان چھت پر ہزاروں ستاروں کے بیچ شبیہیں ڈھونڈتا سو جاتا۔ وہاں ہر دن اتنا ہی خوبصورت اور پرسکون تھا۔

ایک دن صبح ناشتہ کرتے ہوئے اس نے چچا کو کہا۔

’’میں یہیں رہوں گا۔ میں واپس اس مشینی زندگی میں نہیں جاؤں گا۔ ‘‘چچی کا چہر ہ ایک دم چمک اٹھا۔ پانچ سال پہلے ان کا اکلوتا بیٹا رحمت گذر گیا تو وہ بہت اکیلے ہو گئے تھے ۔ لیکن چچا کا ردِ عمل بڑا غیر متوقع تھا۔

’’تو جب تک مرضی ہے یہاں رہ۔ پر گاؤں میں مستقل نہیں رہا جا سکتا۔ ‘‘

’’کیوں چچا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سمجھ لے کہ میں رحمت ہوں ۔ تیرا بیٹا۔ تیرے ساتھ ہل چلاؤں گا۔ کیوں نہیں رہ سکتا؟تیرا خیال ہے میں محنت نہیں کر سکتا؟‘‘

’’نہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسی بات نہیں ہے ۔ محنت تو تم شہر والے ہم سے بہت زیادہ کرتے ہو۔ پر گاؤں کی زندگی بڑی مختلف ہے ۔ تو یہ خیال چھوڑ دے ۔ ‘‘

’’چچی تو سمجھا نہ‘‘ اس نے چچی کی طرف دیکھا۔

وہ کچھ نہیں بولیں اور چچا بیلوں کو لے کر زمین کی طرف چل پڑے ۔ وہ خاموشی سے ان کے پیچھے چلتا رہا۔ کھیت پر پہنچے تو اس نے ایک مرتبہ پھر کوشش کا ارادہ کیا۔

’’چچا میں اپنی زمین لے لوں گا۔ تجھ سے کچھ نہیں لوں گا پر مجھے ساتھ تو رہنے دو۔ یہاں آ کر میں نے پہلی بار جانا ہے کہ زندگی کیا ہوتی ہے ۔ ‘‘

’’ایک تو تم لوگ بڑے ضدی ہو۔ بات سمجھتے نہیں ہو‘‘۔

’’تو سمجھاؤ نہ‘‘۔

چچا نے گہری سانس لی اور ہل چھوڑ کر برگد کے درخت کی طرف گئے ۔ ریحان بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ درخت کے قریب پہنچ کر وہ ایک شاخ پر چڑھے اور ریحان کو بھی وہاں آنے کو کہا۔ پھر انہوں نے اشارہ کر کر کہا۔

’’یہ دیکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ گہری کھوہ۔ جب میں بہت چھوٹا تھا تو تمہارے دادا کے ساتھ یہاں آیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اس کھوہ سے دور رہنا کہ اس میں ایک زہریلا سانپ رہتا ہے ۔ میں تب ڈر گیا اور بہت دن تک اس کے قریب بھی نہیں گیا۔ پر ایک تجسس جو ہمیشہ دل میں رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک سوال جو قطرہ قطرہ جسم میں اکٹھا ہوتا رہا اور پھر میرے بیٹے کی صورت مجسم ہو گیا۔ یہ اولاد بڑی عجیب شئے ہوتی ہے ۔ یہ آپ کی روح کا حصہ ہوتی ہے مگر کونسا حصہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ فیصلہ تقدیر کرتی ہے ۔ میرے بیٹے کو میرا تجسس والا حصہ ملا تھا۔ وہ پیدا ہوتے ہی ہر شئے کی کھوج میں رہتا،سوال پر سوال کرتا۔ ذرا بڑا ہوا تو میں اسے اپنے ساتھ کھیت میں لانے لگا اور ایک دن میں اسے یہاں لایا اور بتایا کہ اس کھوہ سے دور رہنا کہ یہاں ایک زہریلا سانپ رہتا ہے ۔

پر رحمت کے جسم میں کوئی اور ہی روح تھی۔ میں نے کئی بار اسے کھوہ میں چھوٹے پتھر پھینکتے دیکھا۔ سانپ گھبرا کر باہر نکلتا تو وہ تالیاں بجاتا۔ وہ چھوٹی چھوٹی ٹارچیں لے کر کھوہ میں جھانکتا رہتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ایک دن میں کھیتوں میں کا م کر رہا تھا تو مجھے اس کی چیخ سنائی دی۔ میں بھاگا بھاگا آیا۔ بزرگوں سے جو کچھ سنا تھا وہ سب کر ڈالا مگر رحمت تو نیلا ہوا جا رہا تھا۔ وہ میری آنکھوں کے سامنے دم توڑ گیا اور میں کچھ نہ کر سکا۔ آج اس بات کو پانچ سال گذر چکے ہیں اور میں یہاں گیت گاتے ہوئے ہل چلاتا ہوں اور وہ سانپ یہاں اس تنے پر دھوپ سینکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے اصل گاؤں ۔ یہ ہے یہاں کے سکون کی اصل حقیقت۔ ‘‘

’’پر آپ اسے مار کیوں نہیں دیتے ؟‘‘ریحان بولا۔

’’کس کس کو ماروں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں تک ماروں گا۔ یہاں وہ پرانا کنواں ہے جس کی کچی منڈیر ٹوٹنے سے تیرا دادا کنویں میں گر گیا تھا۔ دو دن تک ہم اسے جنگل میں ڈھونڈتے رہے اور ملا تو اس طرح کہ اس کی لاش پھول گئی تھی۔ اب کیا کروں ؟ وہ کنواں بھروا دوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں زندگی ایسی ہی ہے ۔ ایک جگہ ہے جہاں لوگ اپنے دشمنوں سے انتقام لے لیتے ہیں اسے شہر کہتے ہیں اور ایک جگہ ہے جہاں کوئی دشمن نہیں ہے ۔ آپ اپنے بیٹے کے قاتل کے ساتھ بھی ایک نہ سمجھ میں آنے والی رواداری کے ساتھ رہتے ہو۔ صرف ایسے ہی گاؤں میں وہ سکون اترتا ہے جو تمہیں اتنا دلکش نظر آ رہا ہے ۔ اب یہ فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تمہیں کہاں رہنا ہے ؟‘‘

چچا اس کے بعد رکے نہیں اور بیلوں کو ہانکتے واپس لے گئے ۔ آج وہ کام نہیں کرنا چاہ رہے تھے ۔ بیل بھی واپسی کے راستے کو عجیب نظروں سے دیکھتے تھے ۔

اس دن انہوں نے شام تک انتظار کیا مگر ریحان نہیں آیا۔ شام کو کھیتوں کی طرف نکلے تو کسی نے بتایا کہ اس نے ریحان کو ریل گاڑی پر بیٹھتے دیکھا ہے ۔ ایک چھوٹی سی اداسی کی لہر ان کے دل میں اٹھی پر شاید یہی ہونا چاہیے تھا۔

وہ کھیت پر پہنچے تو دیکھا کہ بڑا سانپ درخت کے نیچے زمین پر پڑا ہے اور کسی نے اس کا سر بری طرح کچل ڈالا ہے ۔ انہوں نے لمبی سانس لی اور کدال سے زمین کھود کر سانپ کو دفن کر دیا۔ مٹی برابر کرنے کے بعد انہوں نے ایک نظر اپنے اردگرد ڈالی اور تھکے تھکے قدموں گھر کی طرف چل پڑے ۔

٭٭٭