کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

جمودی تغیر

سید اسد علی


میرے بند کمرے میں ایک دروازہ ہے ۔ دروازہ جسے میں کمرے سے باہر نکلنے کے لئے استعمال کرتی ہوں ۔ کبھی تنہائی چاہتی ہوں تو ہینڈل پر لگا بٹن دبا کر اسے لاک کر دیتی ہوں ۔ چور ڈاکوؤں سے لے کر خواہ مخواہ وقت ضائع کرنے والے دوستوں تک،بہنوں کے شرارتی بچوں سے لے کر بے پرواہ پینٹ کرنے والے مزدوروں تک سب یہی دروازہ استعمال کرتے ہیں ۔ دروازہ جو میرے اور باقی ساری دنیا کے بیچ ایک Time outہے ۔ ہم کچھ دیر کے لئے جیسے وہ سارا کھیل روک دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محبت ،نفرت،عزت،شہرت کا کھیل اور بس دبک جاتے ہیں اپنے اپنے کونے میں ۔ ہماری انائیں باکسنگ کے Trainersکی طرح ہماری دیکھ بھال کرتی ہیں اور ہمیں پھر سے ایک دوسرے کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہیں ۔ پھر سے گھنٹی بجتی ہے اور پھر سے لڑکھڑاتے قدموں اور مضمحل جسموں کے ساتھ ہم دوسروں کے مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں ۔

کچھ ایسے ہے جیسے میں اور زمانہ کسی قدیم رومن اکھاڑے میں کھڑے دو Gladiatorsہیں ۔ ہم جو جانتے ہیں کہ اس اکھاڑے سے دونوں کا زندہ سلامت جانا ناممکن ہے ۔ ہم جو اپنے مدِ مقابل سے نفرت نہیں کرتے مگر ہماری محبت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی ذات سے محبت ہمیں اس کے مقابل کھڑا رکھتی ہے ۔

تو ہم دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں ۔ اور زمانہ تو وہ Gladiatorہے جو برسوں سے اس اکھاڑے میں کھڑا ہے ۔ لوگ آتے ہیں ۔ شمشیر زنی کرتے ہیں اور وہ جسے اپنی فتح کی امید نہیں یقین ہوتا ہے بڑی بے نیازی سے تلوار گھماتا ہے ۔ لاکھوں برس کی اس لڑائی نے اسے بتا دیا ہے کہ وہ invincibleہے ۔ اسے شکست نہیں دی جا سکتی مگر پھر بھی وہ اکھاڑے میں کھڑا رہنے پر مجبور ہے ۔ کمزور ، سہمے ہوئے ، بیوقوفی کی حد تک پر جوش لوگوں کے خون سے ہولی کھیلتا ہے ۔ یہی اس کی Curseہے ۔ وہ جیت کر بھی ہار جاتا ہے اور ہم ہار کر بھی اس اکھاڑے سے رہائی پا جاتے ہیں ۔

یہ دروازہ لاکھ دلچسپ سہی، یہ حقیقت لاکھ حیران کن سہی کہ کیسے اس سے باہر نکالا گیا ایک قدم مجھے ایک مختلف انسان بنا دیتا ہے مگر آج مجھے کچھ اور بات کرنا ہے ۔ مجھے آپ کو ایک راز میں شریک کرنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے کمرے میں ایک اور دروازہ بھی ہے ۔ دروازہ جو صرف بند کمرے میں ظاہر ہوتا ہے ۔ دروازہ جو کہیں ٹھہرا ہوا نہیں ہے بلکہ کسی پتنگے کی طرح کمرے کی دیواروں اور چھت پر متحرک رہتا ہے ۔

یہ عجیب دروازہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے کوئی نوخیز رقاصہ بہت سی اکتا دینے والی مشقتوں کے بعد اچانک یہ محسوس کرنے لگی ہو کہ گویا وہ ہوا میں تیر سکتی ہو ، تیزی سے گھومتے ہوئے کمر کو ناقابلِ یقین انداز سے موڑنے پر قادر ہو۔ جیسے زمین اب اس کے پیروں کو روک نہیں پاتی ہو اور کششِ ثقل کی زنجیروں کو توڑ کر وہ ایک سرشاری کے عالم میں اٹھلاتی پھرتی ہو۔ یہ دروازہ بھی بالکل ویسے ہی کمرے کی دیواروں پہ لہراتا ہے ،سرسراتا ہے ،خم کھاتے ہوئے پیچھے کو ہٹ جاتا ہے ،بے مشقت تیرتا ہے ،خود سے ٹکرا کر بیسیوں دروازوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور پھر نجانے کس لے پر پھر سے ایک دروازے میں ڈھل جاتا ہے ۔

یہ محتاط ہے ،یہ مشاق ہے اور تحیر تب اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے جب یہ کمرے کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک چھلانگ لگاتا ہے اور کبھی کبھی تو ایسی بے احتیاطی سے جیسے رستے میں آنے والی ہر چیز کو اپنے بیچ سمو لے گا۔

مجھے اب اس دروازے کے ساتھ رہتے اتنی دیر ہو گئی ہے کہ میں اب اسے جاننے لگی ہوں ۔ اس کی شرارتوں کو پہچاننے لگی ہوں ۔ جیسے کہ جانتی ہوں کہ وہ لاکھ میرے قریب سے گذر جائے مگر وہ کبھی مجھے اپنی دوسری سمت نہیں لے جائے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ایسا کر نہیں سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھلا دروازوں کا اور مقصد کیا ہوتا ہے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر وہ ایسا کرے گا نہیں ۔ اسے یہی کرنا ہوتا تو وہ دروازے کا روپ ہی کیوں دھارتا؟بس دیوار میں ایک رستہ بنتا اور کمرے میں موجود ساری حقیقت اس سمت میں کھچی چلی جاتی۔

پر دروازہ ایک مختلف چیز ہے ۔ یہ آپ کو انتخاب کی آزادی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انتخاب کا عذاب اور آپ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ جو بس آنکھیں بند کئے زندگی کے ساتھ بہنا چاہتے ہو اس دروازے کے سامنے ایسا نہیں کر پاتے ۔

میں بھی بہت بار اپنی جگہ سے اٹھی ،بڑے پر اعتماد قدموں سے وہاں تک پہنچی بھی،ہاتھ ہینڈل پر رکھا بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر اسے کھولنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں میں یہ نہیں کر پائی۔

ہم عجیب لوگ ہیں ۔ آپ ہمیں اٹھا کر نارتھ پول پر پھینک دوتو ہم وہیں iglooبنا کر رہنے لگیں گے ۔ لیکن ہمیں دروازہ کھول کر باہر جھانکنے کی آزادی دو تو لاہور کی سردی سے بھی ڈر لگے گا۔

ہم سب دریا کی مچھلیاں ہیں جو بس بہنا چاہتی ہیں ۔ ہمیں choicesنہیں چاہیں ۔ ہمیں خدارا سوچنے پر مجبور نہ کرو کہ ہماری سوچ پاتال سے گہری ہے اور ایسی پاتال گہرائیوں سے واپسی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔

دروازہ کھولنے کی منطق ڈھونڈنا کارِ لاحاصل ہے ۔ وجہ کہیں نہیں ہے ۔ یہ دنیا آپ کو لاکھ منظم نظر آئے مگر منطقی ہرگز نہیں ہے ۔ اگر آپ کائنات کا کوئی گوشہ ڈھونڈ نہیں پاتے جہان سائنسی قوانین اپنی پوری قوت سے کارفرما نہ ہوں تو قصور آپ کا ہے ۔ آپ کے پیمانے چھوٹے اور غیر منطقی ہیں ۔ آپ مان لیتے ہو کہ روشنی کی رفتار کائنات میں ہر جگہ یکساں ہے لیکن ایسا کیوں ہے ؟اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا کیونکہ اسے سائنس کی حدود سے ہی باہر پھینک دیا گیا ہے ۔

تو دنیا کی کوئی منطق نہیں ہے کیونکہ منطق تو حقیقی چیزوں کی ہوتی ہے اور دنیا تو محض ایک دھوکا ہے ،مایا ہے

And what is the life

of this world, but

Goods and chattels

of deception?

 Hadid: 20)

یہاں فریب دنیا کو کہا گیا ہے ہمیں نہیں ۔ کہا گیا ہے کہ یہ دنیا کی رنگینیاں ،دنیا کی آسائیشات،دنیا کی محبتیں ،دنیا کی نفرتیں کہیں تم کو فریب میں مبتلا نہ کر دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ یہ سب تو مٹ جانے والی چیزیں ہیں ۔ رہے گا تو بس خدا کا چہرہ۔

Everything (that exists) will perish except his Own face

Qasas : 88)

یہاں یاد رہے کہ پروردگار نے اس خاک کے پتلے میں اپنی روح پھونکی تھی۔ تو یہاں تم اپنے علاوہ کوئی منطقی چیز نہیں ڈھونڈ پاؤ گے ۔

تمہیں لوگ محبت کرتے ملیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ جو محبت کا مطلب تلک نہیں سمجھتے ۔

تم لوگوں کو ایسے اصولوں کے لئے جانیں قربان کرتے دیکھو گے جن کی حقانیت کو خود ان کا دل تسلیم نہیں کرتا۔

تمہارے سامنے ان دہانوں سے قہقہے پھوٹیں گے جن کی کوکھ میں پہاڑ سے غم سسکتے ہوں گے ۔

تو جان لو کہ تم اس سب کو کبھی سمجھ نہیں پاؤ گے ۔ یہاں تم دنیا کا جتنا علم حاصل کرو گے اتنا ہی بھٹکتے جاؤ گے ۔

دروازہ کھولنے کی منطق اگر کوئی ہے تو وہ تمہارے اندر سے اٹھے گی۔ تمہارے اندر ایک ایسی روشنی ہے جو اپنی سچائی کا ثبوت اپنے ساتھ لے کر اٹھتی ہے ۔ تم اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہو تاکہ کھانا کھا سکو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھوک تمہارے نزدیک ایک سطحی اور سفلی جذبہ ہے ۔ ایک ایسی عامیت جس سے اوپر اٹھے بنا تم گویا انسانیت کا مرتبہ ہی نہیں سمجھ سکتے ۔ اسی لئے پادریوں اور رشی منیوں نے اپنی عمریں اس پتھر کو ہٹانے میں صرف کر دیں ۔ پر بھوک اگر ایسی ہی بے حقیقت شئے تھی تو بھلا کیوں تمہارے ایسے حق پرست کی زندگی کے کئی سال کھا گئی۔ سانس بھی ایسی ہی ایک سطحی ضرورت ہے اس سے بھی گذر جاؤ تو مانیں ۔

سچ صرف اتنا ہے کہ خود شناسی کے بغیر خدا شناسی بیکار ہے ۔ اگر تم ایک کمزور انسا ن ہو جسکے گرد متعین عمر اور متعین صلاحیتوں کے ساتھ ایک دائرہ کھینچ دیا گیا ہے تو پہلے اس حقیقت کو تسلیم کر لو۔ مان لو کہ عظیم ہونے کے لئے بے نیاز ہونا ضروری نہیں ۔ بڑے بڑے نبی پیغمبر کھانا بھی کھاتے تھے اور آرام بھی کرتے تھے ۔ تو بھلا ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں ۔

اور بے نیاز تو محض خدا کی ذات ہے ۔

تم دروازہ کھولتے ہو کہ کام پر جا سکو۔ اپنی محبتوں کو پا سکو،کسی کھیل کو کھیل سکو۔ یہ ساری منطق تمہارے اندر سے جنم لیتی ہے اور تم دنیا میں بکھرے دروازے کھولتے چلے جاتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ دوسرا دروازہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مجھے آج اس کے بارے میں بات کرنا ہے جو میرے کمرے کی ،میرے دفتر کی ،میری لائبریری کی،میرے اردگرد اٹھی ہر دیوار کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ اسے کھولنا بالکل بھی مشکل نہیں ہو گا بس میں ہاتھ بڑھاؤں گی اور اس کے دوسری طرف پہنچ جاؤں گی۔

اس دوسری طرف بہت کچھ ہے ۔ جب آپ دیکھنا چاہو تو یہ دروازہ شیشے کا بن جاتا ہے ۔ بالکل شفاف شیشے کا۔ اتنا کہ میں اس کے دوسری طرف سب کچھ دیکھ سکتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں نے دیکھے ہیں وہ خوبصورت باغ جن میں اناروں کے درخت تھے اور خوش رنگ پرندے اڑتے پھرتے تھے ۔ میں نے انجان لوگوں کو نہ سمجھ میں آنے والی آوازوں میں گفتگو کرتے دیکھا،میں نے لمبے لمبے جبوں میں ملبوس پادری دیکھے ،خوبصورت بھاگتے ہوئے بچے دیکھے ،ویران درختوں سے چمٹے ہوئے بھوت دیکھے ،اپنی دم کی سمت رینگتا ہوا وقت دیکھا،اندھیری شام میں ایسے ستارے دیکھے جن کی ٹھنڈی روشنی روح میں گھلنے لگتی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دروازہ اپنے آپ میں ایک دنیا تھا۔ ہماری دنیا کے جیسی نہ سمجھ میں آنے والی ایک پیچیدہ دنیا۔

لیکن بات صرف پیچیدگی کی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ صحیح سمجھ رہے ہو۔ میں خوفزدہ ہوں ۔ بہت ڈری ہوئی ہوں ۔ جانتی ہوں کہ اس دنیا میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے چھوڑا نہ جا سکے مگر پھر بھی اسے چھوڑنا ایک وحشت ناک خیال ہے ۔ اتنا کہ اس تصور سے ہی میرے جسم میں بہتا خون برف بننے لگتا ہے ۔

مجھ میں کوئی ہے جو اس سمت دیکھنا چاہتا ہے مگر میں ڈرتی ہوں ۔ میں ایک عام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت عام سی لڑکی ہوں ۔ اور عام لڑکیاں کبھی ایسے دروازے نہیں کھولتیں ۔ وہ اپنی حدوں میں رہنا جانتی ہیں ۔

میں اپنی حدوں کو جانتی ہوں مگر کبھی کبھار یہ دروازے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت intimidatingہو جاتے ہیں ۔ یہ مجھے غصہ دلاتے ہیں ،یہ میری بزدلی پہ میرا مذاق اڑاتے ہیں ۔ مجھے ناکام اور بیوقوف سمجھ کر چڑاتے ہیں ۔ ایسی محبت سے پکارتے ہیں جس کی حدت مجھے وہ دھواں بنا دیتی ہے کہ جسے درزیں بھی روشندان نظر آتی ہیں ۔ مجھ سے مایوس ہو جاتے ہیں ۔ میرے مدد کو شیشے کے revolving doorsمیں ڈھل جاتے ہیں جیسے اچک اچک کر میرا ہاتھ تھام لینا چاہتے ہوں ۔

اور ہر بار مجھے لگتا ہے جیسے کوئی مجھے ان کی سمت دھکیل رہا ہو۔ بہت بار ایسا ہوا کہ میں گویا بے خود ی میں چلتی ہوئی ان کے بہت قریب چلی گئی۔ اتنا کہ میرا چہرہ ان کی ٹھنڈک سے برفاب ہوا جاتا تھا۔ لیکن پھر کچھ نہ کچھ ہو گیا۔ کوئی دوست،کوئی خوشبو،کوئی یاد دھڑلے سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی اور میرے میسمیرائیزڈ جسم کو گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئی۔

میں اپنی دنیا میں خوش ہوں (کم از کم میں سوچنا تو یہی چاہتی ہوں )۔ میری زندگی ایسی بری بھی نہیں کہ میں دوسری دنیاؤں کی تمنا پالوں ۔ مگر یہ دروازہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کم علم مولویوں کی طرح بیتا ب ہو جاتا ہے کہ مجھ پر چیزوں کی حقیقت(یا بے حقیقتی)واضح کر دی جائے ۔ سچائی کا وہ رخ کسی بڑی چادر کی طرح میرے گرد لپیٹ دیا جائے جسے بس وہ صحیح سمجھتے ہیں ۔ وہ مجھے قدامت پسند اور کم فہم سمجھنے لگے ہیں ۔ انہیں لگتا ہے جیسے میں سیدھے راستے پر اپنی مرضی سے چلنے کی طاقت نہیں رکھتی اور اس لئے ان کا مجھ پر طاقت استعمال کرنا جائز ہو جاتا ہے (انہیں کون سمجھائے کہ سیدھے راستے پر قدموں سے نہیں دل سے چلا جاتا ہے ۔ اگر دل میں کفر بیٹھا ہے تو خدا کعبے میں بھی نہیں مل سکتا)۔

تو کبھی کبھی میں خوفزدہ ہو جاتی ہوں ۔ جیسے وہ مجھے اناج کی بوریوں کی طرح گھسیٹتے ہوئے اس دروازے سے باہر کھینچ لیں گے ۔ لیکن یہ میری بھول ہوتی ہے کیونکہ وہ کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے ۔ میں جانتی ہوں مگر پھر بھی میں خوفزدہ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں خوفزدہ ہوں کیونکہ کبھی کبھی میں خود اتنی کمزور ہو جاتی ہوں کہ مجھے لگتا ہے جیسے میں اس دروازے سے باہر جا گروں گی۔ جیسے میں کچھ بھی کر گذروں گی۔

بچپن سے آج تک میں نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے لگے کہ میں ایسا کچھ کر سکتی ہوں ۔ اب تک تو میں بس زندگی کے ساتھ بہتی رہی ہوں ۔ شاید میری بات کو منطقی انداز میں سمجھنا ممکن نہ ہو کہ ہم لوگ ہر ساعت فیصلے کر رہے ہوتے ہیں تو پھر بہنا کیسا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ لوگ میری بات سمجھ لیں گے جنہوں نے زندگی گذرتے دیکھی ہے ۔

وقت ایک تیز رفتار دریا ہے جس میں لوگ،شہر،چاند تارے ،ہوائیں ،کرسمس کے دن،لڑکیاں ،چمگادڑیں سب بہے جا رہے ہیں ۔ پانی میں جگہ جگہ منجھدار ہیں ۔ جگہ جگہ آبشار ہیں ۔ حرکت یہاں کا واحد اور واضح ترین قانون ہے ۔ اگر کہیں پانی ساکت بھی ہو جاتا ہے اتنا کہ اس کی سطح پر برف جمنے لگے تو بھی اس برف کی پتلی تہہ کے نیچے روئیں چلتی ہیں ۔ منجمد برف بھی کہیں تیرے جاتی ہے ۔

ہم سب بہے جا رہے ہیں ۔ پانی پر قریب آتے تختوں پر ادھر سے ادھر چھلانگیں لگانا ہمارے آزادی کی آخری حد ہے ۔ مگر ایسے میں کوئی کہے کہ وہ بہاؤ کی مخالف سمت تیر سکتا ہے ۔ یا پھر برف کے کسی ایسے کنارے کا خواب جو بہتا نہ ہو۔ یا کوئی دروازہ جو کائنات کی کسی نئی جہت لے جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایسے خواب ہیں جو مجھ ایسے سہمے اور خوفزدہ لوگوں کو سزاوار نہیں ۔

تو ہم پوری زندگی بہتے ہیں ،قریبی تختوں پر چھلانگیں لگاتے ہیں (تختے جو سب ایک ہی سمت بہے جاتے ہیں )اور ایک آگ جو ہمارے اندر کہیں دبی رہتی ہے ۔ ہمارے اندر کوئی ہے جسے ہم پہچان نہیں پاتے ۔ ایک سویا ہوا شیر جو کبھی بھی بیدار ہو سکتا ہے ۔ ہماری زندگیوں کے اس جمودی تغیر کو روک سکتا ہے ۔

یقین کیجیے کہ یہ کوئی خوشگوار لمحہ نہیں ہو گا۔ یقین کیجئے کہ کوئی دروازہ ہمیں اپنے آپ سے بڑی حقیقت سے روشناس نہیں کروا سکتا۔ خدا نے بس انسان کو تخلیق کیا اور باقی جو ہے وہ مایا کا جال ہے ۔ لیکن اگر یہ مصنوعی تغیر ختم ہوا تو ہم پہلے سے زیادہ قابلِ رحم ہو جائیں گے ۔ کہ ہم پھر سے جان جائیں گے کہ ہم کہیں نہیں جا رہے ۔ ہم تو ازل سے اسی نکتے پر کھڑے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس بچے کی طرح جس کے کھلونے پر تصویریں حرکت کرتی ہیں اور اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دوسری دنیا کی سیر کو جاتا ہو۔ ہم اپنے اندر کے اس وحشی شیر سے ڈرتے ہیں جو جھوٹ کے اس خوبصورت پردے کو پھاڑ ڈالے گا۔ جو دھاڑتا ہوا اس دروازے سے پار نکل جائے گا یہ جانے بنا کہ اس طرح دنیا کتنی بے رنگ ہو جائے گی۔

نہیں بہتر وہی ہے جسے مقدر کی صورت ہماری پیشانیوں پر لکھ دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم یہیں کھڑے رہ کر دروازے کو حسرت سے دیکھا کریں اور سوچتے رہیں کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔ اِک آس ہمیں رکنے نہ دے اور اِک خوف آگے بڑھنے نہ دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور قیامت کا صور پھونک دیا جائے اور ایک ہیبت ناک آواز بلند ہو

’’تمہیں کس نے غلام بنایا جبکہ تمہاری ماؤں نے تمہیں آزاد جنا تھا۔ ‘‘

٭٭٭